🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. كَانَ النَّبِيُّ يَجْعَلُ يَمِينَهُ لِطَعَامِهِ وَشَرَابِهِ وَثِيَابِهِ
نبی کریم ﷺ کھانے، پینے اور لباس (پہننے) کے لیے دائیں ہاتھ کا استعمال فرماتے تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7268
حدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيِه، حدثنا محمد بن شاذان الجوهري، حدثنا مُعلَّى بن منصور، حدثنا ابن أبي زائدة، أخبرنا أبو أيوب الإفريقي، عن عاصم، عن (2) المسيَّب بن رافع، عن حارثة بن وهب الخُزاعي، حدثتني حفصة: أنَّ رسول الله ﷺ كان يجعلُ يمينَه لطعامِه وشرابِه وثيابِه، ويجعلُ يسارَه لما سوى ذلك (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7091 - في سنده مجهول
ام المومنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دایاں ہاتھ کھانے، پینے اور کپڑے پہننے کے لئے مقرر کیا ہوا تھا اور دیگر کاموں کے لئے بایاں ہاتھ۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأطعمة/حدیث: 7268]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبي أيوب الإفريقي - وهو عبد الله بن علي الأزرق - ولاضطراب عاصم - وهو ابن أبي النجود - في إسناده كما قال الحافظ ابن حجر في "نتائج الأفكار" 1/ 146. ابن أبي زائدة: هو يحيى بن زكريا.»

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7269
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن دينار العدل، حدثنا السَّرِي بن خُزيمة والحسين بن الفضل، قالا: حدثنا عفّان بن مسلم، حدثنا حمّاد بن سَلَمة، عن حُميد، عن أبي المتوكِّل، عن جابر بن عبد الله قال: كُنَّا إِذا أكَلْنا مع رسول الله ﷺ طعامًا لا نبدأُ حتى يكونَ رسولُ الله ﷺ هو يبدأُ (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7092 - صحيح
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کھانا کھاتے تو جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شروع نہ کرتے، ہم کھانے کا آغاز نہ کرتے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأطعمة/حدیث: 7269]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،حميد: هو الطويل، وأبو المتوكل: هو علي بن داود الناجي.»

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
7. ذِكْرُ وَفْدِ بَنِي الْمُنْتَفِقِ
بنو منتفق کے وفد کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7270
حدثنا علي بن حَمْشاذَ العدل، حدثنا عُبيد بن شَريك، حدثنا محمد بن عبد العزيز الرملي، حدثنا الوليد بن مسلم، عن محمد بن حمزة بن عبد الله بن سَلَام، عن أبيه، عن جدِّه: أنَّ النبيَّ ﷺ كان في بعض أصحابه إذ أقبل عثمانُ يقودُ بعيرًا عليه غِرارتان مُحتجِزٌ (1) بعِقال ناقته، فقال له النبيُّ ﷺ:"ما معك؟" قال: دَقيقٌ وسَمْن وعسَل، فقال له النبي ﷺ:"أنِخْ" فأناخ، فدعا النبيُّ ﷺ ببُرْمة عظيمة، فجعل فيها من ذلك الدقيق والسَّمن والعسل، ثم أنضجَه، فأكل النبيُّ ﷺ، وأكلُوا ثم قال لهم:"كُلُوا، فإنَّ هذا يُشبه خَبِيصَ أهلِ فارس" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7093 - صحيح
محمد بن حمزہ بن عبداللہ بن سلام اپنے والد سے، وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام میں موجود تھے، کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اونٹ چلاتے ہوئے وہاں پہنچے، ان پر دو بورے ڈالے ہوئے تھے، اونٹ کی لگام کو اپنی کمر سے باندھے ہوئے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: تمہارے پاس کیا ہے؟ انہوں نے کہا: آٹا، گھی اور شہد ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اونٹ کو بٹھاؤ، انہوں نے اونٹ کو بٹھایا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑا سا تھال منگوایا، اس میں کچھ آٹا، گھی اور شہد ڈالا، پھر ان کو پکا لیا، اس میں سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کھایا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی کھایا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو کہا: کھاؤ، کیونکہ یہ اہل فارس کے خبیص (کھانے سے ملتا جلتا ہے)۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأطعمة/حدیث: 7270]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، حمزة بن عبد الله بن سلام: هو حمزة بن يوسف بن عبد الله بن سلام، وجاء على الصواب في مصادر التخريج، والمقصود بجدِّه هنا هو عبد الله بن سلام الإسرائيلي صاحب النبي ﷺ كما جاء صريحًا في رواية الطبراني في "معجمه الكبير"، وحمزة هذا في عداد مجهولي الحال، فقد تفرَّد بالرواية عنه ولده محمد، ولم يؤثر توثيقه عن غير ابن حبان. الوليد بن مسلم: هو الدمشقي، وعبيد بن شريك: هو ابن عبد الواحد بن شريك.»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
8. رَغْبَتُهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ - إِلَى اللَّحْمِ
نبی کریم ﷺ کی گوشت کی طرف رغبت و پسندیدگی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7271
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مسدَّد، حدثنا يحيى بن سُليم المكي، حدثنا إسماعيل بن كثير، عن عاصم بن لَقِيط بن صَبِرة، عن أبيه، قال: كنتُ وافدَ بني المُنتِفق إلى رسول الله ﷺ، فقدِمْنا على رسول الله ﷺ فلم نصادِفْه في منزله وصادفنا عائشةَ أمَّ المؤمنين، فأمرت لنا بخَزِيرة فصُنعت لنا، وأتتنا بقِناع - والقِناعُ الطَّبَقُ فيه تمرٌ - ثم جاء رسولُ الله ﷺ فقال:"هل أصبتُم شيئًا، أو أُمِرَ لكم بشيء؟" فقلنا: نعم يا رسولَ الله. قال: فبينما نحن معَ رسولِ الله ﷺ جلوسٌ، قال: فرفع الراعي غنمَه إلى المُرَاح ومعه سَخْلةٌ تَيْعرُ، فقال رسول الله ﷺ:"ما وَلَّدْتَ يا فلانُ؟" قال: بَهْمةً، قال:"فاذبَحْ لنا مكانَها شاةً" ثم مالَ (1) عليَّ فقال:"لا تَحْسِبَنَّ - ولم يقل: لا تَحْسَبَنَّ - أنَّا من أجلِكم ذبحناها، لنا غَنَمٌ مئةٌ، ولا نريدُ أن تزيدَ، فإذا ولَّد الراعي بَهْمةً ذبَحْنا مكانَها شاةً". قال: قلتُ: يا رسولَ الله، إنَّ لي امرأَةً؛ [فذَكَرَ من طُول لسانِها وبَذَائِها، فقال:"طَلِّقها" فقلت] (2) : إنَّ لي منها ولدًا، قال:"فمُرْها - يقول: عِظُها - فإِنْ يَكُ فيها خيرٌ، فستفعلُ، ولا تَضرِبْ ظَعِينتَك كضربِك أَمَتَك". قال: قلتُ: يا رسولَ الله، أخبِرْني عن الوضوء، قال:"أَسبِغِ الوضوءَ، وخلِّلِ الأصابعَ، وبالغ في الاستنشاقِ إلَّا أن تكون صائمًا" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7094 - صحيح
لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں بنی منتفق کے وفد کے ہمراہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں گھر میں نہ ملے، البتہ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا موجود تھیں، آپ نے ہمارے لئے حریرہ (دودھ گھی اور آٹے سے بنا ہوا کھانا) بنوایا، اور کھجوروں والے تھال میں ڈال کر ہمیں عطا کیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے پوچھا: تمہیں (کھانے کے لئے) کوئی چیز مل گئی ہے یا میں تمہارے لئے کچھ تیار کرواؤں؟ ہم نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں مل گیا ہے۔ (لقیط بن صبرہ) فرماتے ہیں: ہم لوگ ابھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک چرواہا اپنی بکریوں کو غلہ کی جانب لے جا رہا تھا، اس کے پاس ایک بکری کا بچہ بھی تھا جو کہ ادھر ادھر اچھل رہا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: اے فلاں، اس نے کیا جنا؟ اس نے کہا: بچہ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ہمارے لئے اس کی بجائے کوئی بکری ذبح کر لو، پھر وہ شخص ہمارے پاس آیا اور اس نے کہا: لا تحسبن۔ (اس نے لا یحسبن نہیں کہا) یہ نہ سمجھنا کہ میں نے خاص طور پر یہ آپ کے لئے ذبح کی ہے۔ بلکہ اصل بات یہ ہے کہ ہمارے پاس 100 بکریاں ہیں اور ہم اس سے بڑھانا نہیں چاہتے۔ (اس لئے جو زائد ہے وہ میں نے ذبح کر کے آپ کو پیش کر دی ہے) چرواہا بھیڑ کے بچے کو پالنے کے لئے لے گیا، اور ہم نے اس کی بجائے بکری ذبح کر لی۔ آپ فرماتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، میری ایک بیوی ہے، پھر اس کی زبان درازی، اور بدخلقی کا ذکر کیا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو طلاق دے دے۔ میں نے کہا: اس سے میری اولاد بھی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو کہو: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: اس کو نصیحت کرو، اگر اس میں کوئی بھلائی ہوئی تو وہ سدھر جائے گی اور تم اپنی بیوی کو لونڈی کی طرح مت مارا کرو۔ آپ فرماتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ مجھے وضو کے بارے میں کچھ بتایئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وضو اچھے طریقے سے کرو، انگلیوں کے درمیان خلال کرو، ناک جھاڑنے میں مبالغہ کرو، سوائے اس کے کہ تم روزے سے ہو (یعنی اگر روزہ رکھا ہوا ہو تو ناک میں پانی چڑھانے میں مبالغہ نہ کرو۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأطعمة/حدیث: 7271]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل يحيى بن سليم.»

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7272
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الربيع بن سليمان، حدثنا أسد بن موسى، حدثنا أبو هلال محمد بن سُليم، حدثنا إسحاق بن عبد الله بن أبي طلحة، عن جابر قال: جعَلْنا للنبيِّ ﷺ فَخّارةً، فأتيتُه بها، فاطَّلع في جوفها فقال:"حَسِبتُه لحمًا" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد إن كان إسحاق بن أبي طلحة سمع من جابر، ولم يخرجاه. وفيه البيانُ الواضح لمحبَّة رسولِ الله ﷺ اللحمَ. وشاهدُه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7095 - صحيح
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مٹی کی ہنڈیا میں کھانا بنایا، پھر میں وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے درمیان جھانک کر دیکھا، پھر فرمایا: اس گوشت کے لئے میں کافی ہوں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ (لیکن یہ حکم اس صورت میں ہے کہ) اگر اسحاق بن ابی طلحہ کا جابر سے سماع ثابت ہو جائے۔ اور اس میں واضح بیان موجود ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گوشت پسند کرتے تھے۔ اس کی شاہد حدیث درج ذیل ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأطعمة/حدیث: 7272]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل أبي هلال محمد بن سليم: وهو الراسبي.»

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
9. أَطْيَبُ اللَّحْمِ لَحْمُ الظَّهْرِ
بہترین گوشت پیٹھ (پشت) کا گوشت ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7273
ما حدَّثَنيهِ أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا إسحاق بن الحسن بن ميمون و محمد بن غالب بن حرب، قالا: حدثنا عفّان بن مسلم، حدثنا أبو عَوَانة، عن الأسود بن قيس، عن نُبيح العَنَزي، عن جابر بن عبد الله قال: لما قُتل أبي ترك عليَّ دينًا، فذكر الحديثَ بطوله، وقال فيه: قلتُ لامرأتي: إنَّ رسول الله ﷺ يَجيئُنا اليومَ نصفَ النهار، فلا تؤذي رسولَ الله ﷺ ولا تُكلِّميه، قال: فدخل وفرشتُ له فراشًا ووسادة، فوضع رأسَه ونامَ (2) ، فقلتُ لمولًى لي: اذبَحْ هذه العَنَاق - وهي داجنٌ سمينة - والوَحَا والعَجَلَ، افرُغْ قبل أن يستيقظَ رسولُ الله ﷺ وأنا معك. فلم نَزَلْ فيها حتى فَرَغْنا منها وهو نائم، فقلتُ له: إنَّ رسول الله ﷺ إذا استيقظ يدعو بالطَّهور، وإني أخافُ إذا فَرَغَ أن يقومَ، فلا يَفرُغَنَّ من وُضوئه حتى تضع العَنَاقَ بين يديه. فلما قام قال:"يا جابرُ، ائتني بطَهور" فلم يَفرُغ من طُهوره حتى وضعتُ العَنَاقَ بين يديه، فنظر إليَّ فقال:"كأنَّك علمتَ حُبَّنا اللحمَ، ادعُ لي أبا بكر"، ثم دعا حواريِّيهِ الذينَ معه فدخَلُوا، فضربَ رسولُ الله ﷺ بيدِه، وقال:"باسمِ الله، كُلُوا" فأكلوا حتى شَبِعُوا، وفَضَلَ منها لحمٌ كثيرٌ، وذكر باقي الحديث (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7096 - صحيح
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جب میرے والد محترم شہید ہوئے تو انہوں نے مجھ پر بہت سارا قرضہ چھوڑا، اس کے بعد انہوں نے طویل حدیث بیان کی، اس میں یہ بھی ذکر کیا کہ میں نے اپنی بیوی سے کہا: آج دوپہر کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے غریب خانہ پر تشریف لا رہے ہیں، تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف نہ دینا اور نہ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ باتیں کرنا۔ ان کی زوجہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بستر بچھا دیا اور تکیہ بھی رکھ دیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور تکیے پر سر رکھ کر سو گئے۔ میں نے اپنے غلام سے کہا: اس عناق (بکری کا بچہ جو ابھی ایک سال کا نہیں ہوا) کو ذبح کر لو، یہ موٹی تازی بکری تھی۔ اور یہ سب کام انتہائی تیزی کے ساتھ کرو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیدار ہونے سے پہلے سب کاموں سے فارغ ہو جاؤ، میں بھی تمہارے ساتھ کام کرواتا ہوں۔ ہم مسلسل کام کرتے رہے، اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بیدار ہونے سے پہلے فارغ ہو گئے، میں نے اس سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بیدار ہوتے ہیں تو پانی طلب فرماتے ہیں، اور مجھے خدشہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم وضو سے فارغ ہو کر تشریف نہ لے جائیں۔ اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو سے فارغ ہونے سے پہلے ہمیں تھال دسترخوان پر رکھ دینا چاہیے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو آواز دی: اے جابر! پانی لاؤ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابھی وضو سے فارغ نہیں ہوئے تھے کہ میں نے وہ تھال پیش کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری جانب دیکھا اور فرمایا: لگتا ہے تم نے گوشت میں حیس (خاص قسم کا کھانا) بنایا ہے۔ ابوبکر کو بلا کر لاؤ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ان ساتھیوں کو بھی بلا لیا اور اکثر ان کے ہمراہ ہوتے ہیں۔ یہ سب لوگ آ گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ بڑھایا اور فرمایا: بسم اللہ پڑھ کر کھانا شروع کرو۔ ان سب لوگوں نے پیٹ بھر کر کھایا (اس کے باوجود) بہت سارا گوشت بچ گیا تھا۔ اس کے بعد پوری حدیث بیان کی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأطعمة/حدیث: 7273]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،أبو عوانة: هو الوضاح بن عبد الله اليشكري.»

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7274
أخبرنا محمد بن يعقوب الشَّيباني، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مسدَّد، حدثنا يحيى بن سعيد، حدثنا مِسعَر، عن رجل من فَهُم، أُرى اسمه محمد بن عبد الرحمن، عن عبد الله بن جعفر، عن النبيِّ ﷺ قال:"أطيبُ اللحمِ لحمُ الظَّهر" (2) . وقد رواه رَقَبَة بن مَسقَلة (1) ، عن هذا الفَهميِّ، ولم يَنسُبه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7097 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: پشت کا گوشت سب سے اچھا ہوتا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث کو رقبہ بن مصقلہ نے بھی اس فہمی آدمی سے روایت کیا ہے اور اس کی جانب منسوب نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأطعمة/حدیث: 7274]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، الرجل الفهمي»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7275
أخبرَناه أبو القاسم الحسن بن محمد السَّكوني بالكوفة، حدثنا محمد ابن عبد الله الحضرمي والحسين بن مصعب النَّخَعي، قالا: حدثنا يحيى بن عبد الحميد، حدثنا جَرير، عن رَقَبة بن مَسْقَلة، عن رجل من فَهْمٍ، عن عبد الله بن جعفر، أنَّ النبيَّ ﷺ قال:"أطيبُ اللَّحم لحمُ الظَّهر" (2) . قد صحَّ الخبر بالإسنادين، ولم يُخرجاه.
رقبہ بن مصقلہ بنی فہم کے ایک آدمی کے واسطے سے عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سب سے اچھا گوشت پشت کا ہوتا ہے۔ ٭٭ مذکورہ حدیث دونوں سندوں کے ہمراہ صحیح ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأطعمة/حدیث: 7275]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لجهالة الرجل الفهمي كما بيناه في الحديث السابق، ويحيى بن عبد الحميد.»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لجهالة الرجل الفهمي كما بيناه في الحديث السابق
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
10. قَبُولُ النَّبِيِّ عَجُزَ أَرْنَبٍ مَشْوِيٍّ
نبی کریم ﷺ کا بھنے ہوئے خرگوش کی ران قبول فرمانا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7276
أخبرني أبو علي الحسين بن علي الحافظ، أخبرنا أبو عبد الرحمن أحمد بن شعيب النَّسائي (3) وعبد الله بن محمد بن ناجيَة، قالا: حدثنا إسحاق بن إبراهيم بن حبيب بن الشَّهيد، حدثنا أبي [عن أبيه] (4) عن عمرو بن دينار، عن جابر بن عبد الله بن عمرو بن حَرَام، قال: أمر أبي بخَزيرة، فصُنعت، ثم أمرني فحملتُها إلى رسول الله ﷺ فإذا هو في منزله، فقال:"ما هذا يا جابرُ؟ ألحمٌ هذا؟" قلتُ: لا يا رسول الله، ولكنها خَزيرة أمر بها أبي فصُنعت، ثم أمرني فحملتُها إليك، ثم رجعتُ إلى أبي فقال: هل رأيتَ رسول الله ﷺ؟ قلتُ: نعم، قال: فما قال لك؟ قلت: قال:"ألحمٌ هذا يا جابر؟" قال أبي: عسى أن يكونَ رسولُ الله ﷺ اشتهَى اللحمَ، فقام إلى داجنٍ له فذبحَها وشواها، ثم أمرني بحملها إليه، فقال رسول الله ﷺ:"جَزَى الله الأنصارَ عنَّا خيرًا، ولا سيَّما عبدِ الله بن عمرو بن حَرَام وسعدِ بن عُبادة" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7099 - صحيح
سیدنا جابر بن عبداللہ بن عمرو بن حرام بیان کرتے ہیں کہ میرے والد نے مجھے حریرہ تیار کرنے کا حکم دیا، میں نے حریرہ بنا دیا۔ پھر اپنے والد کے حکم کے مطابق میں وہ حریرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں لے گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت گھر میں ہی تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے جابر، یہ کیا ہے؟ کیا یہ گوشت ہے؟ میں نے کہا: جی نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، یہ حریرہ ہے، والد صاحب کے حکم سے میں نے یہ بنایا ہے، پھر انہوں نے حکم دیا تو میں یہ آپ کی خدمت میں لے آیا ہوں۔ (میں وہ حریرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کرنے کے بعد) وہاں سے اپنے والد کے پاس واپس آ گیا، میرے والد نے پوچھا: کیا تمہاری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہو گئی؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ والد صاحب نے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں کیا کہا؟ میں نے بتایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: اے جابر کیا یہ گوشت ہے؟ میرے والد نے یہ سن کر کہا: لگتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گوشت کی خواہش ہو رہی ہے۔ والد صاحب نے بکری ذبح کی، اس کو بھونا اور مجھے حکم دیا کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں پیش کر آؤ، آپ فرماتے ہیں: میں نے وہ بکری اٹھائی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (بکری قبول کرنے کے بعد) فرمایا: اللہ تعالیٰ ہماری طرف سے انصار کو جزائے خیر عطا فرمائے، بالخصوص عبداللہ بن عمرو بن حرام کو اور سعد بن عبادہ کو۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأطعمة/حدیث: 7276]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح.»

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7277
أخبرنا عبد الله بن إسحاق الخُرَاساني العَدْل ببغداد، حدثنا يحيى بن جعفر بن الزِّبْرقان، حدثنا علي بن عاصم، حدثنا عبيد الله بن أبي بكر بن أنس، قال: سمعت أنسًا يقول: انتفجتُ أرنبًا بالبَقيع، فاشتُدَّ في أثرها، فكنتُ فيمن اشتدَّ، فسبقتُهم إليها فأخذتها، فأتيتُ بها أبا طلحةَ، فأمر بها فذُبحت ثم شُوِيَت، فأخذ عَجُزَها فأرسلَ به معي إلى النبيِّ ﷺ، فقال النبيُّ ﷺ:"ما هذا؟" قلتُ: عَجُزُ أرنب بعث بها أبو طلحةَ إليك، فقَبِلَه مني (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7100 - صحيح
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے بقیع میں ایک خرگوش کو دیکھا اس کو بھڑکا کر باہر نکالا، اور اس کے پیچھے تیزی سے دوڑ پڑا، اس کے پیچھے بھاگنے والوں میں، میں بھی تھا۔ میں نے سب سے آگے بڑھ کر اس کو پکڑ لیا، اس کو لے کر ابوطلحہ کے پاس آ گیا، انہوں نے حکم دیا تو اس کو ذبح کر کے بھونا گیا، اس کی عجز کاٹ دی گئی۔ پھر وہ مجھے دے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں بھیجا گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ میں نے کہا: خرگوش کی پشت کا گوشت ہے۔ ابوطلحہ نے آپ کے لئے بھیجی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ مجھ سے قبول کر لی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأطعمة/حدیث: 7277]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف علي بن عاصم: وهو الواسطي.»

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں