🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
23. اعْتَمُّوا تَزْدَادُوا حِلْمًا
پگڑی باندھا کرو، اس سے تمہارے حلم (بردباری) میں اضافہ ہوگا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7600
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحْر بن نصر بن سابق الخَوْلاني، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني عبد الله بن عمر، عن عبد الرحمن بن القاسم، عن أبيه، عن عائشة أنها قالت: رأيتُ رجلًا يوم الخندق على صورة دِحْية ابن خَليفة الكَلْبي على دابَّةٍ يُناجي رسولَ الله ﷺ، وعلى رأسه عِمامةٌ قد أسدَلَها عليه، فسألت رسولَ الله ﷺ قال:"فإنَّ ذلك جبريلُ ﵇ أمَرَني أن أَخرجَ إلى بني قُريَظةَ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7412 - صحيح
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے غزوہ خندق کے دن ایک شخص کو دِحیہ بن خلیفہ کلبی کی مشابہت میں ایک سواری پر سوار دیکھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سرگوشی کر رہا تھا، اور اس کے سر پر عمامہ تھا جس کا ایک پلو اس نے اپنے چہرے یا کندھوں پر لٹکایا ہوا تھا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ جبرائیل علیہ السلام تھے، انہوں نے مجھے بنو قریظہ کی طرف کوچ کرنے کا حکم دیا ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب اللباس/حدیث: 7600]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل عبد الله بن عمر: وهو ابن حفص العُمري، عبد الرحمن بن القاسم: هو ابن محمد بن أبي بكر الصديق» [ترقيم الرساله 7600] [ترقيم الشركة 7508] [ترقيم العلميه 7412]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7601
وقد حدَّثَناه أحمد بن سَلْمان (1) الفقيه، حدثنا أحمد بن عبيد الله النَّرْسي، حدثنا رَوْح بن عُبادة، حدثنا عبد الله بن عمر، عن أخيه، عن القاسم بن محمد، عن عائشة: أنَّ رجلًا أتى النبيَّ ﷺ على بِرْذَون عليه عِمامةٌ قد أَرْخَى طرفها بين كَتِفَيه، فسألتُ النبيَّ ﷺ، فقال:"رأيته؟ ذاكِ جبريلُ ﵇" (2) .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک ترکی گھوڑے پر سوار ہو کر حاضر ہوا، اس نے عمامہ باندھ رکھا تھا جس کا ایک پلو اس نے اپنے دونوں کندھوں کے درمیان لٹکایا ہوا تھا، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نے اسے دیکھا؟ وہ جبرائیل علیہ السلام تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب اللباس/حدیث: 7601]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد كسابقه» [ترقيم الرساله 7601] [ترقيم الشركة 7509]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7602
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي، حدثنا سعيد بن مسعود، أخبرنا عبيد الله بن موسى، أخبرنا شَيْبان بن عبد الرحمن، عن الأعمش، عن جامع ابن شدَّاد، عن كُلْثوم الخُزَاعي، عن أسامة بن زيد قال: دَخَلْنا على رسول الله ﷺ نعودُه وهو مريض، فوجدناه نائمًا قد غطَّى وجهَه ببُرْدٍ عَدَني، فكشف عن وجهِه ثم قال:"لَعَنَ اللهُ اليهودَ يُحرِّمون شُحومَ الغنم، ويأكلون أثمانَها" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7414 - صحيح
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عیادت کے لیے آپ کے پاس حاضر ہوئے جبکہ آپ علیل تھے، ہم نے آپ کو استراحت فرماتے ہوئے پایا اور آپ نے اپنے چہرہ مبارک کو عدنی چادر سے ڈھانپا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چہرے سے چادر ہٹائی پھر فرمایا: اللہ تعالیٰ یہودیوں پر لعنت فرمائے، وہ بھیڑوں کی چربی کو (خود پر) حرام قرار دیتے ہیں اور (اسے فروخت کر کے) اس کی قیمت کھاتے ہیں۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب اللباس/حدیث: 7602]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن من أجل كلثوم الخزاعي، فقد روى عنه جمع، وذكره ابن حبان في "الثقات"، وقد اختلف في اسم أبيه وفي كونه رجلًا واحدًا أو اثنين، وذكره بعضهم في الصحابة، ووثقه ابن حجر في "التقريب"» [ترقيم الرساله 7602] [ترقيم الشركة 7510] [ترقيم العلميه 7414]

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
24. لَعَنَ النَّبِيُّ الْمَرْأَةَ تَلْبَسُ لُبْسَةَ الرَّجُلِ، وَالرَّجُلَ يَلْبَسُ لُبْسَةَ الْمَرْأَةِ
نبی کریم ﷺ نے اس عورت پر لعنت فرمائی جو مردوں والا لباس پہنے اور اس مرد پر جو عورتوں والا لباس پہنے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7603
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عيسى بن زيد (1) اللَّخْمي بتِنّيس، حدثنا عمرو بن أبي سَلَمة، عن زُهير بن محمد، أخبرني سُهيل بن أبي صالح، عن أبيه، عن أبي هريرة أنَّ رسول الله ﷺ لعنَ المرأةَ تَلْبَسُ لِبْسةَ الرَّجل، والرجلَ يَلْبَسُ لِبْسةَ المرأة (2)
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7415 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت پر لعنت فرمائی جو مردوں والا لباس پہنے، اور اس مرد پر (لعنت فرمائی) جو عورتوں والا لباس پہنے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب اللباس/حدیث: 7603]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف أحمد بن عيسى اللخمي، وقد توبع، وعمرو ابن أبي سلمة» [ترقيم الرساله 7603] [ترقيم الشركة 7511] [ترقيم العلميه 7415]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7604
أخبرنا محمد بن علي الشَّيباني بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم الغِفاري، حدثنا أبو نُعيم، حدثنا إبراهيم بن نافع عن الحسن بن مسلم، عن صَفيَّة بنتِ شَيْبة: أَنَّ عائشة كانت تقول: لمّا نزلت هذه الآية: ﴿وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَى جُيُوبِهِنَّ﴾ [النور: 31] ، أخذْنَ النِّسَاءُ أُذُرَهُنَّ فَشَقَقْنَها من قِبَل الحَوَاشِي، فَاحْتَمَرْن بها (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7416 - على شرط البخاري ومسلم
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَى جُيُوبِهِنَّ﴾ [سورة النور: 31] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے کہا: جب یہ آیت نازل ہوئی تو عورتوں نے اپنے تہبند (نیچے کے کپڑے) لیے اور انہیں کناروں کی جانب سے پھاڑ کر ان کی اوڑھنیاں بنا لیں۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب اللباس/حدیث: 7604]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،أبو نعيم: هو الفضل بن دُكين المُلائي» [ترقيم الرساله 7604] [ترقيم الشركة 7512] [ترقيم العلميه 7416]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7605
أخبرنا بكر بن محمد الصَّيرَفي بمَرُو، حدثنا عبد الصمد بن الفضل حدثنا قَبيصة بن عُقبة، حدثنا سفيان، عن حَبيب بن أبي ثابت عن وهب مولى أبي أحمد، عن أم سلمة: أنَّ النبيَّ ﷺ الا الله دخل عليها وهي تختمِرُ، فقال:"لَيَّةً (1) لا لَيَّتَينِ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7417 - صحيح
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے جبکہ وہ اوڑھنی (دوپٹہ) اوڑھ رہی تھیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اسے) ایک ہی بار لپیٹو، دو بار نہ لپیٹو۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب اللباس/حدیث: 7605]
تخریج الحدیث: «إسناده ليّن لجهالة وهب مولى أبي أحمد، فقد تفرد بالرواية عنه حبيب بن أبي ثابت، ولم يؤثر توثيقه عن غير ابن حبان» [ترقيم الرساله 7605] [ترقيم الشركة 7513] [ترقيم العلميه 7417]

الحكم على الحديث: إسناده ليّن لجهالة وهب مولى أبي أحمد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
25. كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ يَكْرَهُ عَشَرَةَ خِصَالٍ
اللہ کے نبی ﷺ دس عادتوں کو ناپسند فرماتے تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7606
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا مُعتمِر بن سليمان، قال: سمعتُ الرُّكَين بن الربيع يُحدِّث عن القاسم بن حسان، عن عمِّه عبد الرحمن بن حَرْملة، عن ابن مسعود: أنَّ نبيَّ الله ﷺ كان يكرَهُ عشرَ خِصال: الصُّفْرة - يعني الخَلوق - وتغييرَ الشَّيب، وجرَّ الإزار، والتختُّمَ بالذهب، وعقدَ التَّمائم، والرُّقَى إِلَّا بِالمُعوِّذات (3) ، والضَّرْب بالكِعَاب، والتبرُّجَ بالزِّينة لغير مَحِلَّها، وعَزَّلَ الماء لغير حِلَّه، وفسادَ الصبي غيرَ مُحرِّمهِ (4) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7418 - صحيح
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم دس خصلتوں کو ناپسند فرماتے تھے: زرد رنگ (یعنی خوشبو والا خلوق)، بڑھاپے (سفید بالوں) کے رنگ کو بدلنا، تہبند لٹکانا، سونے کی انگوٹھی پہننا، تعویذ لٹکانا، معوذات (قرآنی سورتوں) کے علاوہ دم کرنا، پانسے (کعب) پھینکنا، غیر محل میں زینت کا اظہار کرنا (نامحرموں کے سامنے زیب و زینت دکھانا)، غیر حلال طریقے سے عزل کرنا، اور بچے کو (دودھ پلائی کے دوران حمل کے ذریعے) نقصان پہنچانا بغیر اسے حرام قرار دیے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب اللباس/حدیث: 7606]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، عبد الرحمن بن حرملة» [ترقيم الرساله 7606] [ترقيم الشركة 7514] [ترقيم العلميه 7418]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7607
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني (1) ، حدثنا أبو الجَوَّاب، حدثنا عمَّار بن رُزيق، عن أبي إسحاق، عن شمر بن عطية، عن خُرَيم بن فاتك، أنَّ النبيَّ ﷺ قال:"يا خُرَيمُ، لولا خَلَّتانِ فِيكَ كُنتَ أنتَ الرَّجُلَ" فقال: ما هما يا رسول الله؟ قال:"إسبالُك إزارَك، وإرخاؤُكَ شَعْرَك" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7419 - صحيح
سیدنا خریم بن فاتک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے خریم! اگر تم میں دو خصلتیں نہ ہوتیں تو تم کامل مرد ہوتے۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا اپنا تہبند (ٹخنوں سے نیچے) لٹکانا اور اپنے بالوں کو لمبا چھوڑنا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب اللباس/حدیث: 7607]
تخریج الحدیث: «حديث حسن بطرقه، وهذا إسناد ضعيف، شمر بن عطية» [ترقيم الرساله 7607] [ترقيم الشركة 7515] [ترقيم العلميه 7419]

الحكم على الحديث: حديث حسن بطرقه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7608
أخبرني أحمد بن سهل الفقيه ببُخارى، حدثنا صالح بن محمد بن حبيب الحافظ، حدثنا إبراهيم بن زيادٍ سَبَلانُ، حدثنا المُعافَى بن عمران، عن علي بن صالح ابن حَيّ، عن مسلم المُلَائي، عن مجاهد، عن ابن عباس: أنَّ النبيَّ ﷺ لَبِسَ قميصًا وكان فوقَ الكعبَين، وكان كُمُّه من الأصابع (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7420 - مسلم الملائي تالف
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قمیص پہنی جو ٹخنوں سے اوپر تھی اور اس کی آستین انگلیوں تک تھی۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب اللباس/حدیث: 7608]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًا، من أجل مسلم» [ترقيم الرساله 7608] [ترقيم الشركة 7516] [ترقيم العلميه 7420]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف جدًا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7609
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الرّبيع بن سليمان، حدثنا أسَد بن موسى، حدثنا أبو عَقيل يحيى بن المتوكِّل، حدثنا أبو سلمة بن عُبيد الله ابن عبد الله بن عمر، عن أبيه، عن جدِّه عبد الله بن عمر قال: لَبِسَ عمر قميصًا جديدًا، ثم قال: مُدَّ كُمِّي يا بُنيَّ، وألزِقَ يدَك بأطرافِ أصابعي، واقطَعْ ما فَضَلَ عنها، قال: فقطعتُ من الكُمَّين، فصار فمُ (1) الكمَّين مُتعاديًا بعضُه فوق بعض، فقلتُ: لو سوَّيتَه بالمِقَص؟ قال: دَعْه يا بني، هكذا رأيتُ رسول الله ﷺ يفعل. قال ابنُ عمر: فما زال القميصُ على أبي حتى تقطَّعَ، وما كُنَّا نُصلِّي حتى رأيتُ بعض الخيوط تتساقطُ على قَدَميه (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7421 - أبو عقيل ضعفوه
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک نئی قمیص پہنی، پھر فرمایا: اے میرے بیٹے! میری آستین کھینچو اور اپنا ہاتھ میری انگلیوں کے پوروں سے ملا دو، پھر جو اس سے زیادہ ہو اسے کاٹ دو، انہوں نے کہا: چنانچہ میں نے دونوں آستینوں سے (زائد حصہ) کاٹ دیا، تو آستینوں کے سرے ناہموار ہو گئے، میں نے عرض کیا: کیا میں اسے قینچی سے برابر کر دوں؟ انہوں نے فرمایا: اے میرے بیٹے! اسے رہنے دو، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے، ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: پھر وہ قمیص میرے والد کے پاس رہی یہاں تک کہ وہ پھٹ گئی، اور جب ہم نماز پڑھتے تو میں دیکھتا کہ اس کے کچھ دھاگے ان کے قدموں پر گر رہے ہوتے تھے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب اللباس/حدیث: 7609]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف من أجل يحيى بن المتوكل» [ترقيم الرساله 7609] [ترقيم الشركة 7517] [ترقيم العلميه 7421]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں