🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
43. لَيَعُودَنَّ الْأَمْرُ كَمَا بَدَأَ حَتَّى يَكُونَ كُلُّ إِيمَانٍ بِالْمَدِينَةِ
دین کا معاملہ ویسے ہی لوٹ آئے گا جیسے شروع ہوا تھا، یہاں تک کہ سارا ایمان مدینہ میں سمٹ آئے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8607
فقد حدَّثَناه علي بن عيسى، حدثنا الحسين بن محمد بن زياد، حدثنا أبو موسى ومحمد بن بشار قالا: حدثنا عبد الوهاب بن عبد المجيد (3) ، حدثنا داود بن أبي هند، عن أبي نضرة، عن جابر أو أبي سعيد (4) ، أنَّ نبي الله ﷺ قال:"يكون في آخر هذه الأمة خليفةٌ يَقسِمُ المالَ لا يَعُدُّه عدًّا" (5) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8401 - رواه مسلم
سیدنا جابر یا سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس امت کے آخری دور میں ایک خلیفہ ایسا ہوگا جو مال تقسیم کرے گا اور اسے شمار نہیں کرے گا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8607]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8607] [ترقيم الشركة 8503] [ترقيم العلميه 8401]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8608
أخبرنا أبو عبد الله الصَّفّار، حدثنا محمد بن إبراهيم بن أُورمة، حدثنا الحسين بن حفص، حدثنا سفيان، عن الأعمش، عن إبراهيم؛ وسلمة بن كهيل، عن أبي الزَّعْراء، عن ابن مسعود قال: يأتي على الناس زمانٌ يأتي الرجلُ القبر فيضطجع عليه فيقول: يا ليتني مكان صاحبه؛ ما به حبُّ لقاء الله، إِلَّا لِمَا يرى من شدة البلاء (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8402 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ ایک آدمی قبر کے پاس آئے گا اور اس پر لیٹ کر کہے گا: کاش! میں اس قبر والے کی جگہ ہوتا؛ وہ یہ بات اللہ سے ملاقات کے شوق میں نہیں کہے گا، بلکہ ان آزمائشوں اور بلاؤں کی سختی کی وجہ سے کہے گا جو وہ (دنیا میں) دیکھ رہا ہوگا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8608]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهو موقوف، محمد بن إبراهيم بن أورمة مجهول، لكنه لم ينفرد به، وله في هذا الخبر إسنادان، الأول: من رواية سفيان» [ترقيم الرساله 8608] [ترقيم الشركة 8504] [ترقيم العلميه 8402]

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8609
أخبرني محمد بن علي الصنعاني بمكة حرسها الله، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا معمر، عن الزهري، عن عُروة بن الزبير، عن كُرْز بن علقمة الخُزاعي قال: قال أعرابي: يا رسول الله، هل للإسلام منتهى؟ قال:"نعم، أيُّما أهل بيتٍ من العرب والعجم أراد الله بهم خيرًا، أدخل عليهم الإسلام" قالوا: ثم ماذا يا رسول الله؟ قال:"ثم تقعُ فتنٌ كأنها الظُّلل" قال: فقال أعرابي: كلَّا يا رسول الله! فقال النبي ﷺ:"والذي نفسي بيده، لَتَعودُنَّ فيها أَساوِدَ صُبًّا، يَضربُ بعضكم رقاب بعض" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه (2) .
سیدنا کرز بن علقمہ خزاعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا اسلام کی کوئی انتہا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، عرب و عجم کا جو بھی گھرانہ ایسا ہو جس کے ساتھ اللہ بھلائی کا ارادہ فرمائے، ان میں اسلام داخل کر دیتا ہے، صحابہ نے پوچھا: پھر کیا ہوگا یا رسول اللہ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر ایسے فتنے برپا ہوں گے گویا وہ سیاہ بادلوں کے سائے ہوں، اس اعرابی نے (حیرت سے) کہا: ہرگز نہیں یا رسول اللہ! تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! تم ان فتنوں میں ایک دوسرے پر ٹوٹ پڑنے والے ان سیاہ سانپوں کی طرح ہو جاؤ گے جو سر اٹھا کر حملہ کرتے ہیں، کہ تم میں سے بعض بعض کی گردنیں ماریں گے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8609]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8609] [ترقيم الشركة 8505]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8610
أخبرنا علي بن عبد الرحمن بن عيسى السبيعي بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم الغفاري، حدثنا إسماعيل بن أبان، حدثنا أبو أُوَيس، حدثني ثَوْر بن زَيْد الكناني وموسى بن ميسرة، عن عكرمة، عن ابن عباس قال: قال رسول الله ﷺ:"لتركبُنَّ سَنَنَ مَن كان قبلكم، شِبرًا بشبرٍ، وذراعًا بذراع، حتى إنَّ أحدهم لو دَخَل جُحْرَ ضَبٍّ لدخلتُم، وحتى لو أنَّ أحدهم جامع امرأته بالطريق لفعلتُموه" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه بهذه السياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8404 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے سے پہلے لوگوں کے طریقوں کی بالشت برابر بالشت اور ہاتھ برابر ہاتھ ایسی مکمل پیروی کرو گے کہ اگر ان میں سے کوئی گوہ کے سوراخ میں داخل ہوا ہوگا تو تم بھی اس میں داخل ہو گے، یہاں تک کہ اگر ان میں سے کسی نے اپنی بیوی کے ساتھ سرِ راہ جماع کیا ہوگا تو تم بھی ویسا ہی کرو گے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8610]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن في المتابعات والشواهد من أجل أبي أُويس» [ترقيم الرساله 8610] [ترقيم الشركة 8506] [ترقيم العلميه 8404]

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
44. تَكُونُ أَمْوَاتُ الْمُتَّقِينَ رِيحًا طَيِّبَةً عِنْدَ قُرْبِ السَّاعَةِ
قیامت کے قریب متقیوں کی موت کے وقت پاکیزہ ہوا چلے گی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8611
أخبرنا محمد بن علي بن عبد الحميد الصَّنعاني، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا معمر، عن أيوب، عن نافع، عن عياش بن أبي ربيعة قال: سمعت النبي ﷺ يقول:"تَجيءُ رِيحٌ بين يَدَي الساعة يُقبَضُ فيها روحُ كلّ مؤمن" (1) . إن كان نافع سمع من عيّاشٍ المخزومي، فإنه صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8405 - فيه انقطاع
سیدنا عیاش بن ابی ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: قیامت سے پہلے ایک ایسی ہوا چلے گی جس میں ہر مؤمن کی روح قبض کر لی جائے گی۔
اگر نافع کا سماع عیاش مخزومی سے ثابت ہو تو یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن ان دونوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8611]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد» [ترقيم الرساله 8611] [ترقيم الشركة 8507] [ترقيم العلميه 8405]

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8612
أخبرني إسماعيل بن الفضل بن محمد الشَّعراني، حدثنا جدِّي، حدثنا إبراهيم بن المنذر الحِزامي، حدثنا عبد العزيز بن محمد وأبو عَلْقمة الفَرْوي قالا: حدثنا صفوان بن سُلَيم، عن عبد الله بن سلمان الأغرِّ، عن أبيه، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"إِنَّ الله يَبْعَثُ ريحًا من اليمن أليَن من الحرير، فلا تَدَعُ أحدًا في قلبه مثقال حبة من إيمانِ إِلَّا قَبَضَته" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه! وله شاهدٌ موقوف على عبد الله بن عَمْرو:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8406 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقیناً اللہ تعالیٰ یمن کی طرف سے ایک ایسی ہوا بھیجے گا جو ریشم سے زیادہ نرم ہوگی، وہ کسی ایسے شخص کو نہیں چھوڑے گی جس کے دل میں رائی کے دانے برابر بھی ایمان ہوگا مگر اس کی روح قبض کر لے گی۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اس کی ایک شاہد حدیث سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے موقوفاً مروی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8612]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل عبد الله بن سلمان الأغر» [ترقيم الرساله 8612] [ترقيم الشركة 8508] [ترقيم العلميه 8406]

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
45. التَّنَاكُحُ فِي الطُّرُقِ مِنْ عَلَامَاتِ السَّاعَةِ
راستوں میں اعلانیہ بدکاری کا ہونا قیامت کی نشانیوں میں سے ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8613
حدَّثَناه علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا هشام بن علي، حدثنا سليمان بن حَرْب، حدثنا عِمران القَطَّان، عن قتادة، عن عبد الرحمن بن آدم، عن عبد الله بن عمرو (2) قال: لا تقوم الساعة حتى يبعث الله ريحًا لا تدعُ أحدًا في قلبه مثقالُ ذَرَّةٍ من تُقًى أو نُهًى إلَّا قَبَضَتْه، ويلحقُ كلُّ قوم بما كان يعبد آباؤُهم في الجاهلية، ويبقى عَجَاجٌ من الناس، لا يأمرون بمعروفٍ ولا يَنهَوْنَ عَن مُنكَر، يتناكحون في الطُّرُق كما تتناكحُ البهائم، فإذا كان ذلك اشتدَّ غضب الله على أهل الأرض فأقامَ الساعة (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8407 - موقوف
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، انہوں نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک اللہ تعالیٰ ایسی ہوا نہ بھیجے جو کسی ایسے شخص کو نہیں چھوڑے گی جس کے دل میں ذرہ برابر بھی تقویٰ یا سمجھ بوجھ ہوگی مگر اس کی روح قبض کر لے گی، پھر ہر قوم اپنے ان آباؤ اجداد کے دین سے جا ملے گی جن کی وہ جاہلیت میں عبادت کرتے تھے، اور لوگوں میں سے صرف اوباش اور گھٹیا لوگ باقی رہ جائیں گے جو نہ نیکی کا حکم دیں گے اور نہ برائی سے روکیں گے، وہ راستوں میں اس طرح جفتی کریں گے جیسے چوپائے کرتے ہیں، پس جب یہ حال ہو جائے گا تو اہل زمین پر اللہ کا غضب شدید ہو جائے گا اور وہ قیامت قائم فرما دے گا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8613]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل عمران القطان» [ترقيم الرساله 8613] [ترقيم الشركة 8509] [ترقيم العلميه 8407]

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8614
أخبرني محمد بن المؤمَّل بن الحسن، حدثنا الفضل بن محمد البيهقي، حدثنا نُعيم بن حمّاد، أخبرنا عبد الله بن وهب، أخبرني معاوية بن صالح، عن عيسى بن عاصم، عن زر بن حبيش، عن أنس بن مالك قال: بينما النبي ﷺ يصلِّي ذاتَ ليلةٍ صلاةً مدَّ يدَه ثم أخرها، فقلنا: يا رسول الله، رأيناك صنعت في هذه الصلاة شيئًا لم تكن تصنعه فيما قبله! قال:"أجَلْ، إنه عُرضَت على الجنة، فرأيت فيها داليةً قطوفُها دانيةٌ، فأردت أن أتناول منها شيئًا، فأوحيَ إليَّ: أن استأخِرْ، فاستأخرتُ، وعُرِضَت علي النار فيما بيني وبينكم حتى رأيت ظِلِّي وظلكم فيها، فأومأتُ إليكم: أن استأخروا، فأُوحي إليّ: أنْ أَقِرَّهم، فإنك أسلمت وأسلموا، وهاجرت وهاجروا، وجاهدت وجاهدوا، فلم أرَ لك فَضْلًا عليهم إلَّا بالنبوة، فأوَّلتُ ذلك ما تلقى أمتي بعدي من الفتن" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8408 - صحيح
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے کہ اچانک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا اور پھر اسے پیچھے ہٹا لیا، ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم نے آپ کو اس نماز میں ایسا عمل کرتے دیکھا جو آپ پہلے نہیں کرتے تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، مجھ پر جنت پیش کی گئی تو میں نے اس میں انگوروں کی ایک ایسی بیل دیکھی جس کے خوشے جھکے ہوئے تھے، میں نے چاہا کہ ان میں سے کچھ توڑ لوں، مگر میری طرف وحی کی گئی کہ پیچھے ہٹ جاؤ تو میں پیچھے ہٹ گیا؛ پھر مجھ پر میرے اور تمہارے درمیان آگ (جہنم) پیش کی گئی یہاں تک کہ میں نے اس میں اپنا اور تمہارا سایہ دیکھا، تو میں نے تمہاری طرف اشارہ کیا کہ پیچھے ہٹ جاؤ، پھر میری طرف وحی کی گئی کہ انہیں ان کے حال پر رہنے دیں، کیونکہ آپ نے اسلام قبول کیا انہوں نے بھی کیا، آپ نے ہجرت کی انہوں نے بھی کیا، اور آپ نے جہاد کیا انہوں نے بھی کیا، پس مجھے نبوت کے سوا ان پر آپ کی کوئی فضیلت نظر نہیں آئی؛ تو میں نے اس واقعے سے وہ فتنے مراد لیے جو میرے بعد میری امت کو پہنچیں گے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8614]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 8614] [ترقيم الشركة 8510] [ترقيم العلميه 8408]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8615
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحْر بن نَصْر الخَوْلاني، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني عمرو بن الحارث، أنَّ يزيد بن أبي حَبِيب حدثه، عبد الرحمن بن شُمَاسةَ حدَّثه: أنه كان عند مسلمة بن مخلد وعنده عبد الله بن عمرو بن العاص، فقال عبد الله: لا تقوم الساعة إلا على شرار الخلق، هم شرٌّ من أهل الجاهلية، لا يَدْعُون الله بشيءٍ إِلَّا ردَّه عليهم. فبينما هم على ذلك أقبل عُقْبةُ بن عامر، فقال مَسلَمة: يا عقبةُ، اسمع ما يقول عبد الله، فقال عقبة: هو أعلم، أما أنا فسمعت رسول الله ﷺ يقول:"لا تزالُ عِصابةٌ من أمتي يقاتلون على أمر الله، قاهرين على العدو، لا يَضُرُّهم مَن خالَفَهم، حتى تأتيهم الساعة وهم على ذلك". فقال عبد الله: أجل، ثم يبعَثُ الله ريحًا ريحُها المسك، ومسُّها مسُّ الحرير، فلا تترك نفسًا في قلبه مثقال حبّةٍ من الإيمان إلَّا قَبَضَته، ثم يبقى شرار الناس عليهم تقوم الساعة (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8409 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ مسلمہ بن مخلد کے پاس تھے کہ انہوں نے فرمایا: قیامت صرف بدترین مخلوق پر قائم ہوگی، وہ جاہلیت والوں سے بھی بدتر ہوں گے، وہ اللہ سے جس چیز کی بھی دعا کریں گے وہ ان پر رد کر دی جائے گی۔ وہ اسی گفتگو میں تھے کہ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو مسلمہ نے کہا: اے عقبہ! سنئے عبداللہ کیا کہہ رہے ہیں، عقبہ نے فرمایا: وہ زیادہ جانتے ہیں، البتہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: میری امت کی ایک جماعت ہمیشہ اللہ کے حکم پر قتال کرتی رہے گی، وہ اپنے دشمنوں پر غالب ہوں گے، ان کی مخالفت کرنے والے انہیں نقصان نہیں پہنچا سکیں گے، یہاں تک کہ قیامت آ جائے گی اور وہ اسی حال پر ہوں گے۔ تو عبداللہ نے فرمایا: ہاں (ایسا ہی ہے)، پھر اللہ تعالیٰ ایک ایسی ہوا بھیجے گا جس کی خوشبو مشک جیسی اور لمس ریشم جیسا ہوگا، وہ کسی ایسی جان کو نہیں چھوڑے گی جس کے دل میں رائی کے دانے برابر بھی ایمان ہوگا مگر اسے قبض کر لے گی، پھر صرف بدترین لوگ ہی باقی بچیں گے جن پر قیامت قائم ہوگی۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8615]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8615] [ترقيم الشركة 8511] [ترقيم العلميه 8409]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8616
حدثنا أبو زكريا يحيى بن محمد العنبري، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا معاذ بن هشام: وحدثنى أبي، عن قتادة، عن أبي مِجلَز، عن قيس بن عُبَادٍ، عن عبد الله بن عمرو قال: من آخر أمر الكعبة أَنَّ الحَبَشَ يَغزُون البيت، فيتوجَّه المسلمون نحوهم، فيبعث الله عليهم ريحًا إثْرَها شرقيةً، فلا يدعُ الله عبدًا في قلبه مثقال ذرّةٍ من تُقًى إِلَّا قَبَضَته، حتى إذا فُرِّغوا من خيارِهم بقيَ عَجَاجٌ من الناس، لا يأمرون بمعروف ولا ينهون عن منكر، وعَمَدَ كلُّ حيٍّ إلى ما كان يعبدُ آباؤُهم من الأوثان فيَعبُده، حتى يتسافَدوا في الطرق كما تتسافدُ البهائم، فتقوم عليهم الساعةُ، فمن أنبأكَ عن شيء بعد هذا فلا علم له (1) . صحيح الإسناد على شرطهما موقوفٌ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8410 - على شرط البخاري ومسلم موقوف
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، انہوں نے فرمایا: کعبہ کے آخری معاملے میں سے یہ ہے کہ حبشی بیت اللہ پر حملہ کریں گے، مسلمان ان کا رخ کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان پر مشرقی سمت سے ایک ہوا بھیجے گا، اللہ تعالیٰ کسی ایسے بندے کو نہیں چھوڑے گا جس کے دل میں ذرہ برابر بھی تقویٰ ہوگا مگر اس کی روح قبض کر لے گا، یہاں تک کہ جب وہ نیک لوگوں سے خالی ہو جائیں گے تو صرف اوباش لوگ باقی رہ جائیں گے جو نہ نیکی کا حکم دیں گے اور نہ برائی سے روکیں گے، اور ہر قبیلہ اپنے ان بتوں کی طرف لوٹ جائے گا جن کی ان کے آباؤ اجداد پوجا کرتے تھے اور ان کی عبادت کرنے لگے گا، یہاں تک کہ وہ راستوں میں اس طرح جفتی کریں گے جیسے چوپائے کرتے ہیں، پس انہی پر قیامت قائم ہوگی؛ لہٰذا جو شخص تمہیں اس کے بعد کی کسی چیز کی خبر دے تو اسے اس کا کوئی علم نہیں ہوگا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح الاسناد ہے مگر موقوف ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8616]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل معاذ بن هشام الدستوائي» [ترقيم الرساله 8616] [ترقيم الشركة 8512] [ترقيم العلميه 8410]

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں