🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
36. يَبْعَثُ اللَّهُ رِيحًا طَيِّبًا، فَيُتَوَفَّى مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِنْ خَيْرٍ
اللہ تعالیٰ ایک پاکیزہ ہوا بھیجے گا جو ہر اس شخص کی روح قبض کر لے گی جس کے دل میں ذرہ برابر خیر ہوگی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8587
أخبرنا أبو عبد الله الصَّفّار، حدثنا محمد بن إبراهيم الأصفهاني، حدثنا الحسين بن حفص، عن سفيان، عن يونس بن عُبَيد، عن حميد بن هلال، عن عبد الله ابن الصامت قال: وددتُ أنَّ أهلي حين تعشوا عشاءَهم، واغْتَبَقُوا غَبوقهم، أصبحوا مَوْتى على فُرُشِهم، قيل: يا أبا فلان، ألستَ على غِنًى؟ قال: بلى، ولكني سمعت أبا ذر يقول: يوشك يا ابن أخي إنْ عِشتَ إلى قريبٍ أن ترى الرجل يُغْبَطُ بِخِفَّة الحالِ كما يُغبَط اليومَ [أبو العَشَرةِ الرِّجال، ويوشك إن عشت إلى قريبٍ أن ترى الرجل] (1) الذي لا يعرفه السلطان ولا يُدْنيه ولا يُكرمه، يُغبَطُ كما يُغبَطُ اليوم الذي يعرفه السلطانُ ويُدْنيه ويكرمه، ويوشك يا ابن أخي إن عشت إلى قريبٍ أن يُمَرَّ بالجنازة في السوق فيرفعُ الرجل رأسه فيقول: يا ليتني على أعوادها، قال: قلت: تدري ما بهم؟ قال: على ما كان قلت: إنَّ ذلك بين يَدَيْ أمرٍ عظيم [قال: أجل، عظيمٌ عظيمٌ عظيمٌ] (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8382 - على شرط البخاري ومسلم
عبداللہ بن صامت رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میری یہ خواہش ہے کہ جب میرے گھر والے رات کا کھانا کھا لیں اور اپنا مشروب پی لیں تو وہ اپنے بستروں پر مردہ حالت میں صبح کریں، ان سے کہا گیا: اے ابوفلاں! کیا آپ مالی طور پر خوش حال نہیں ہیں؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، لیکن میں نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: اے میرے بھتیجے! عنقریب اگر تم زندہ رہے تو ایسے شخص پر اس کے ہلکے حال (یعنی کم عیال اور کم مال) کی وجہ سے رشک کیا جائے گا جیسے آج دس بیٹوں والے پر رشک کیا جاتا ہے، اور عنقریب اگر تم جیتے رہے تو تم ایسے شخص کو دیکھو گے جسے نہ بادشاہ پہچانتا ہو، نہ اپنے قریب کرتا ہو اور نہ ہی اسے عزت دیتا ہو، مگر اس پر ایسے ہی رشک کیا جائے گا جیسے آج اس شخص پر رشک کیا جاتا ہے جسے بادشاہ جانتا ہو اور اسے قرب و عزت عطا کرتا ہو، اور اے میرے بھتیجے! عنقریب ایسا وقت آئے گا کہ جب بازار سے جنازہ گزرے گا تو آدمی اپنا سر اٹھا کر (حسرت سے) کہے گا: کاش! میں اس کی جگہ ان لکڑیوں (جنازے) پر ہوتا، میں نے پوچھا: آپ جانتے ہیں کہ انہیں کیا (تکلیف) پہنچی ہوگی؟ انہوں نے کہا: جو کچھ بھی ہوا ہو، میں نے عرض کیا: یقیناً یہ کسی بڑے معاملے سے پہلے ہوگا؟ انہوں نے کہا: ہاں، بہت بڑے، بہت بڑے، بہت بڑے معاملے سے پہلے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8587]
تخریج الحدیث: «والخبر صحيح، وهذا إسناد فيه محمد بن إبراهيم الأصفهاني» [ترقيم الرساله 8587] [ترقيم الشركة 8484] [ترقيم العلميه 8382]

الحكم على الحديث: والخبر صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8588
حدثنا أبو جعفر محمد بن صالح بن هانئ (3) ، حدثنا محمد بن إسماعيل بن مهران، حدثنا صفوان بن صالح الدمشقي ومحمد بن المُصفّى الحمصي قالا: حدثنا مبشِّر بن إسماعيل الحلبي، حدثنا أَرْطأة بن المنذر قال: سمعت ضَمْرة بن حبيب يقول: سمعتُ سَلَمة بن نُفيل السَّكُوني يقول - وكان من أصحاب النبي ﷺ: بينا نحن جلوسٌ عند النبي ﷺ فجاء رجل فقال: يا نبي الله، هل أُتيتَ بطعام من السماء؟ فقال:"أُتِيت بطعام مسخنة" قال: فهل كان فيه فَضْل عنك؟ قال:"نعم"، قال: فما فُعِلَ به؟ قال:"رُفِعَ إلى السماء. وهو يُوحَى إليَّ أني غير لابثٍ فيكم إلا قليلًا، ولستم لابثين بعدي إلا قليلًا، بل تَلْبَثُون حتى تقولوا: مَتَى مَتَى (1) ؟ ثم تأتون أفنادًا ويُفْني بعضكم بعضًا، وبين يدي الساعة موتانٌ شديدٌ وسنواتُ الزلازل" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8383 - الخبر من غرائب الصحاح
سیدنا سلمہ بن نفیل السکونی رضی اللہ عنہ -جو کہ اصحابِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میں سے تھے- سے روایت ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے کہ ایک شخص آیا اور عرض کیا: اے اللہ کے نبی! کیا آپ کے پاس آسمان سے کھانا لایا گیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، میرے پاس گرم کیا ہوا کھانا لایا گیا، اس نے پوچھا: کیا اس میں سے کچھ بچا تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، اس نے پوچھا: اس کا کیا کیا گیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے آسمان کی طرف اٹھا لیا گیا، اور مجھ پر یہ وحی کی جا رہی ہے کہ میں تمہارے درمیان بس تھوڑا عرصہ ہی رہوں گا، اور تم بھی میرے بعد تھوڑی دیر ہی ٹھہرو گے، بلکہ تم اتنا ٹھہرو گے کہ (تنگ آ کر) کہو گے: کب ہوگا؟ کب ہوگا؟ پھر تم مختلف گروہ بن کر آؤ گے اور ایک دوسرے کو ہلاک کرو گے، اور قیامت سے پہلے شدید موت (وبائیں) اور زلزلوں کے سال ہوں گے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے اپنی کتب میں روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8588]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8588] [ترقيم الشركة 8485] [ترقيم العلميه 8383]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8589
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الزاهد، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا رَيْحان بن سعيد، حدثنا عباد بن منصور، عن أيوب، عن أبي قلابة، حدثني أبو أسماء، عن ثَوْبان، أنه سمع رسول الله ﷺ يقول:"لن تقوم الساعة على أمتي حتى تَلحَقَ قبائل منها بالمشركين، وحتى تَعبُدَ قبائل منها الأوثان" (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8384 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: میری امت پر اس وقت تک قیامت قائم نہیں ہوگی جب تک اس کے کچھ قبائل مشرکوں سے نہ جا ملیں اور یہاں تک کہ میری امت کے قبائل بتوں کی پوجا نہ کرنے لگیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8589]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عباد بن منصور، وريحان بن سعيد حسن الحديث في المتابعات والشواهد» [ترقيم الرساله 8589] [ترقيم الشركة 8486] [ترقيم العلميه 8384]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
37. إِيَّاكَ وَالْفِتَنَ لَا يَشْخَصْ لَهَا أَحَدٌ
فتنوں سے بچو، ان کے سامنے کوئی ٹھہر نہیں سکے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8590
أخبرني محمد بن علي الصنعاني بمكة حرسها الله، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا معمر، عن أبي إسحاق، عن عُمارة بن عَبْدٍ، عن حذيفة قال: إياك والفتن، لا يَشخَص لها أحدٌ، فوالله ما شَخَصَ لها أحدٌ إِلَّا نَسَفته كما يَنسِفُ السَّيلُ الدَّمْنَ، إنها مُشبِّهَةٌ مُقبلة، حتى يقول الجاهل: هذه تُشبه (1) ، وتبين مدبرةً، فإذا رأيتموها فاحتموا في بيوتكم، واكسروا سيوفكم، وقَطِّعوا أَوتاركم، وغَطُّوا وجوهكم (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8385 - صحيح
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: فتنوں سے بچو! کوئی بھی ان کے سامنے سینہ تان کر نہ کھڑا ہو، کیونکہ اللہ کی قسم، جو بھی ان کے سامنے کھڑا ہوگا یہ اسے ایسے بہا لے جائیں گے جیسے سیلاب گوبر (یا کوڑے کے ڈھیر) کو بہا لے جاتا ہے، یہ فتنے آتے وقت مشتبہ ہوتے ہیں یہاں تک کہ جاہل پکار اٹھتا ہے: یہ تو (حق سے) مشابہ ہے، اور جاتے وقت حقیقت واضح کر دیتے ہیں، پس جب تم انہیں دیکھو تو اپنے گھروں میں دبک جاؤ، اپنی تلواریں توڑ ڈالو، اپنی کمانوں کے تانت کاٹ دو اور اپنے چہرے ڈھانپ لو۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8590]
تخریج الحدیث: «إسناده محتمل للتحسين، عمارة بن عبدٍ لم يرو عنه غير أبي إسحاق» [ترقيم الرساله 8590] [ترقيم الشركة 8487] [ترقيم العلميه 8385]

الحكم على الحديث: إسناده محتمل للتحسين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8591
وأخبرني أبو عبد الله الصَّنعاني، حدثنا إسحاق، أخبرنا عبد الرزاق، عن معمر، عن يحيى بن سعيد، عن سعيد بن المسيب قال: ثارت الفتنة الأولى فلم يبقَ ممَّن شَهِدَ بدرًا أَحدٌ، ثم كانت الفتنةُ الثانية فلم يبق ممَّن شهد الحديبية أحدٌ، وأظنُّ لو كانت فتنة ثالثةٌ لم ترتفع وفي الناس طَبَاخٌ (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8386 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: پہلا فتنہ (سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت) برپا ہوا تو اس نے بدر میں شریک ہونے والوں میں سے کسی کو باقی نہ چھوڑا، پھر دوسرا فتنہ (واقعہ حرہ) پیش آیا تو اس نے حدیبیہ میں شریک ہونے والوں میں سے کسی کو (زندہ) نہ چھوڑا، اور میرا گمان یہ ہے کہ اگر تیسرا فتنہ برپا ہوا تو وہ اس حال میں ختم ہوگا کہ لوگوں میں کوئی طاقت اور سمجھ بوجھ باقی نہیں رہے گی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8591]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8591] [ترقيم الشركة 8488] [ترقيم العلميه 8386]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8592
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحْر بن نَصْر، حدثنا عبد الله بن وَهْب، حدثني أبو شُريح، عن عَمِيرة (1) بن عبد الله المَعافِري، عن أبيه، عن عمرو بن الحَمِق، عن رسول الله ﷺ أنه قال:"ستكون فتنةٌ أسلم الناس فيها - أو قال: خيرُ الناس فيها - الجُنْدُ الغَربي"؛ فلذلك قَدِمتُ مصر (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8387 - صحيح
سیدنا عمرو بن حمق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عنقریب ایک ایسا فتنہ برپا ہوگا جس میں سب سے زیادہ سلامت رہنے والے لوگ - یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سب سے بہتر لوگ - اہل مغرب کا لشکر ہوگا؛ (راوی کہتے ہیں) اسی وجہ سے میں مصر آ گیا ہوں۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8592]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لجهالة عميرة بن عبد الله ووالده» [ترقيم الرساله 8592] [ترقيم الشركة 8489] [ترقيم العلميه 8387]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
38. لَا يَزَالُ هَذَا الدِّينُ قَائِمًا يُقَاتِلُ عَلَيْهِ الْمُسْلِمُونَ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ
یہ دین ہمیشہ قائم رہے گا اور مسلمان اس کے لیے لڑتے رہیں گے یہاں تک کہ قیامت قائم ہو جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8593
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا عبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيل والحسن بن صالح، عن سماك بن حَرْب، عن جابر بن سَمُرةَ قال: قال رسول الله ﷺ:"لا يزال هذا الدين قائمًا يقاتل عليه المسلمون حتى تقوم الساعة" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8388 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ دین ہمیشہ قائم رہے گا اور مسلمان اس کی سربلندی کے لیے قتال کرتے رہیں گے یہاں تک کہ قیامت قائم ہو جائے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8593]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن من أجل سماك بن حرب» [ترقيم الرساله 8593] [ترقيم الشركة 8490] [ترقيم العلميه 8388]

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8594
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا أبو الوليد، حدثنا همام، عن قتادة، عن ابن بُريدة، عن سليمان (2) بن الربيع، عن عمر بن الخطاب قال: قال رسول الله:"لا تزال طائفة من أمتي ظاهرين على الحق حتى تقوم الساعة" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه. وقد رواه ثَوْبانُ وعِمران بن حصين عن رسول الله ﷺ. أما حديث ثوبان:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8389 - صحيح
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر غالب رہے گا یہاں تک کہ قیامت قائم ہو جائے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اور اسے سیدنا ثوبان اور سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ جہاں تک سیدنا ثوبان کی حدیث کا تعلق ہے تو: [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8594]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره كسابقه، وهذا إسناد ليِّن، سليمان بن الربيع لم يرو عنه غير ابن بريدة "» [ترقيم الرساله 8594] [ترقيم الشركة 8491] [ترقيم العلميه 8389]

الحكم على الحديث: صحيح لغيره كسابقه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
39. إِذَا وُضِعَ السَّيْفُ فِي أُمَّتِي لَمْ يُرْفَعْ عَنْهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ
جب میری امت میں تلوار رکھ دی گئی تو وہ قیامت تک نہیں اٹھائی جائے گی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8595
فحدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن سنان القزاز، حدثنا إسحاق بن إدريس، حدثنا أبان بن يزيد، حدثنا يحيى بن أبي كثير، حدثنا أبو قلابة عبد الله بن زيد الجرمي، حدثني أبو أسماء الرَّحَبي، أن ثوبان حدثه، أنه سمع رسول الله ﷺ يقول:"إنَّ رَبِّي زَوَى لي الأرضَ حتى رأيتُ مشارقها ومغاربها، وأعطاني الكنزين: الأحمر والأبيضَ، وإن أمتي سيبلغ ملكها ما زُوِيَ لي منها. وإني سألت ربي لأمتي أن لا يُهلِكَها بسَنَةٍ عامة (1) فأعطانيها، وسألته أن لا يُسلّط عليهم عدوًّا من غيرهم فأعطانيها، وسألته أن لا يُذِيقَ بعضهم بأسَ بعض فَمَنَعَنِيها، وقال لي ربي: يا محمد، إني إذا قضيتُ قضاءً لم يُرَدَّ، إني أعطيتُك لأمَّتِك أن لا أُهلِكَها بسَنَةٍ عامة، ولا أُظْهِرَ عليهم عدُوًّا من غيرهم فيستبيحهم بعامَّةٍ ولو اجْتَمَعَ مَن بأقطارها، حتى يكون بعضهم هو يُهلك بعضًا، وبعضُهم هو يسبي بعضًا. وإني لا أخافُ على أمتي إلَّا الأئمة المضلين. ولن تقوم الساعة حتى تَلحَقَ قبائل من أمتي بالمشركين، وحتى تَعبُدَ قبائل من أمتي الأوثان. وإذا وُضِعَ السيفُ في أمتي لم يُرفع عنها إلى يوم القيامة". وأنه قال:"كل ما يوجد في مئة سنة (1) . وسيخرج في أمتي كذَّابون ثلاثون كلُّهم يَزْعُمُ أَنه نبيٌّ، وأنا خاتَمُ الأنبياء لا نبي بعدي. ولن يزال في أمتي طائفة يقاتلون على الحقِّ ظاهرين، لا يضرهم من خَذَلَهم، حتى يأتي أمر الله". قال: وزعم أنه [قال] :"لا يَنزِعُ رجلٌ من أهل الجنة من ثمرِها شيئًا إِلَّا أَخلَفَ اللهُ مكانها مثلها". وأنه قال:"ليس دينارٌ يُنفِقُه رجلٌ بأعظم أجرًا من دينارٍ يُنفِقُه على عياله، ثم دينارٍ يُنفِقُه على فرسه في سبيل الله، ثم دينارٍ يُنفِقُه على أصحابه في سبيل الله". قال: وزعم: أنَّ نبي الله ﷺ عظَمَ شأن المسألة. و"أنه إذا كان يوم القيامة جاء أهل الجاهلية يحملون أوثانهم على ظهورهم، فيسألهم ربهم: ما كنتم تعبدون؟ فيقولون: ربَّنا لم تُرسل إلينا رسولًا، ولم يأتِنا آمِرٌ، ولو أرسلت إلينا رسولًا لكنا أطوع عبادك لك، فيقول لهم ربهم: أرأيتم إن أمرتكم بأمر، أتطيعوني؟ قال: فيقولون: نعم، قال: فيأخذُ مَواثِيقَهم على ذلك، فيأمرهم أن يعمدوا لجهنَّم فيدخلوها، قال: فينطلقون، حتى إذا جاؤوها رأَوْا لها تغيُّظًا وزفيرًا فهابُوا، فرجعوا إلى ربهم فقالوا: ربَّنا فَرِقْنا منها، فيقول: ألم تُعطوني مواثيقكم لتطيعوني؟ اعمدوا لها، فينطلقون، حتى إذا رأوها فَرِقُوا فرجعوا، فقالوا: ربَّنا لا نستطيع أن ندخلها، قال: فيقول: ادخُلوها داخِرينَ"، قال: فقال نبي الله ﷺ:"لو دخلوها أول مرة، كانت عليهم بردًا وسلامًا" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السياقة، إنما أخرج مسلم (1) حديث معاذ بن هشام عن قتادة عن أبي قلابة عن أبي أسماء الرَّحَبي عن ثوبان مختصرًا. [وأما حديث عِمران بن حُصَين] :
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8390 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: بے شک میرے رب نے میرے لیے زمین کو سمیٹ دیا یہاں تک کہ میں نے اس کے مشرقوں اور مغربوں کو دیکھ لیا، اور مجھے دو خزانے عطا کیے گئے: سرخ (سونا) اور سفید (چاندی)، اور یقیناً میری امت کی حکومت وہاں تک پہنچے گی جہاں تک زمین کو میرے لیے سمیٹا گیا ہے، اور میں نے اپنے رب سے اپنی امت کے لیے یہ سوال کیا کہ وہ اسے عام قحط «بِسَنَةٍ عامَّةٍ» کے ذریعے ہلاک نہ کرے تو اللہ نے یہ دعا قبول فرما لی، اور میں نے سوال کیا کہ ان پر ان کے علاوہ (غیر مسلم) دشمن کو مسلط نہ کرے جو ان کی بیخ کنی کر دے تو اللہ نے یہ بھی عطا فرما دیا، اور میں نے سوال کیا کہ وہ انہیں آپس میں ایک دوسرے کی لڑائی کا مزہ نہ چکھائے تو اللہ نے مجھے اس سے روک دیا، اور میرے رب نے مجھ سے فرمایا: اے محمد! میں جب کوئی فیصلہ کر دیتا ہوں تو اسے بدلا نہیں جا سکتا، میں نے آپ کی امت کے لیے آپ کو یہ (عہد) دے دیا ہے کہ میں انہیں عام قحط سے ہلاک نہیں کروں گا، اور نہ ہی ان پر ان کے علاوہ کسی ایسے دشمن کو مسلط کروں گا جو ان سب کو تباہ و برباد کر دے اگرچہ زمین کے تمام اطراف سے دشمن ان کے خلاف اکٹھے ہو جائیں، یہاں تک کہ وہ خود ہی ایک دوسرے کو ہلاک کریں گے اور ایک دوسرے کو قیدی بنائیں گے، اور مجھے اپنی امت پر گمراہ کن ائمہ (پیشواؤں) کے سوا کسی کا ڈر نہیں، اور قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک میری امت کے کچھ قبائل مشرکین سے نہ جا ملیں اور بتوں کی عبادت نہ کرنے لگیں، اور جب میری امت میں تلوار چل پڑے گی تو وہ قیامت تک نہیں اٹھائی جائے گی۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کچھ بھی (ہونا) ہے وہ سو سال کے اندر ہے، اور میری امت میں تیس کذاب (جھوٹے دعویدار) نکلیں گے جن میں سے ہر ایک یہ گمان کرے گا کہ وہ نبی ہے حالانکہ میں خاتم الانبیاء ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہیں، اور میری امت میں ایک گروہ ہمیشہ حق پر قتال کرتا رہے گا اور وہ (مخالفین پر) غالب رہیں گے، انہیں چھوڑ کر الگ ہو جانے والے انہیں کوئی نقصان نہ پہنچا سکیں گے یہاں تک کہ اللہ کا حکم (قیامت) آ جائے۔ راوی کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا: اہل جنت کا کوئی شخص جنت کے پھلوں میں سے کوئی چیز نہیں توڑے گا مگر اللہ تعالیٰ اس کی جگہ ویسا ہی دوسرا پھل پیدا فرما دے گا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی شخص کے خرچ کیے ہوئے دیناروں میں سب سے عظیم اجر والا وہ دینار ہے جسے وہ اپنے اہل و عیال پر خرچ کرے، پھر وہ دینار جو اللہ کی راہ میں اپنے گھوڑے پر خرچ کرے، پھر وہ دینار جو اللہ کی راہ میں اپنے ساتھیوں پر خرچ کرے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مانگنے (سوال کرنے) کے معاملے کو نہایت سنگین قرار دیا۔ نیز فرمایا: جب قیامت کا دن ہوگا تو دورِ جاہلیت کے لوگ اپنے بتوں کو اپنی پیٹھوں پر اٹھائے ہوئے آئیں گے، ان کا رب ان سے پوچھے گا: تم کس کی عبادت کرتے تھے؟ وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! تو نے ہماری طرف کوئی رسول نہیں بھیجا اور نہ ہی ہمارے پاس کوئی حکم دینے والا آیا، اگر تو ہماری طرف کوئی رسول بھیجتا تو ہم تیرے سب سے زیادہ فرمانبردار بندے ہوتے، تب ان کا رب ان سے فرمائے گا: اگر میں تمہیں کوئی حکم دوں تو کیا تم میری اطاعت کرو گے؟ وہ کہیں گے: جی ہاں، تو اللہ اس پر ان سے پختہ عہد لے گا، پھر انہیں حکم دے گا کہ وہ جہنم کا رخ کریں اور اس میں داخل ہو جائیں، پس وہ روانہ ہوں گے یہاں تک کہ جب اس کے پاس پہنچیں گے تو اس کا جوش مارنا اور چنگھاڑنا دیکھ کر ڈر جائیں گے اور اپنے رب کی طرف واپس آ کر کہیں گے: اے ہمارے رب! ہم اس سے ڈر گئے ہیں، اللہ فرمائے گا: کیا تم نے مجھ سے میری اطاعت کا عہد نہیں کیا تھا؟ اس کا رخ کرو، وہ پھر جائیں گے اور اسے دیکھ کر ڈر جائیں گے اور واپس آ کر کہیں گے: اے ہمارے رب! ہم اس میں داخل ہونے کی طاقت نہیں رکھتے، اللہ فرمائے گا: تم اس میں ذلیل و خوار ہو کر داخل ہو جاؤ، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر وہ پہلی بار ہی اس میں داخل ہو جاتے تو وہ ان پر ٹھنڈی اور سلامتی والی بن جاتی۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا، امام مسلم نے معاذ بن ہشام کی قتادہ سے روایت کردہ حدیث کو ابوقلابہ کے واسطے سے سیدنا ثوبان سے مختصر روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8595]
تخریج الحدیث: «إسناده تالف من أجل إسحاق بن إدريس، فإنه متروك واتهمه ابن معين بالكذب. والراوي عنه محمد بن سنان القزاز ليس بذاك القوي إلا أنه ليس بعلته، فقد توبع، تابعه يحيى بن محمد بن السكن» [ترقيم الرساله 8595] [ترقيم الشركة 8492] [ترقيم العلميه 8390]

الحكم على الحديث: إسناده تالف من أجل إسحاق بن إدريس
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8596
فحدثناه (2) أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن دينار العَدْل، حدثنا السَّرِيُّ بن خزيمة، حدثنا موسى بن إسماعيل وحجاج بن منهال قالا: حدثنا حماد بن سَلَمة، حدثنا قتادة، عن مطرف، عن عِمران بن حصين، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"لا تزالُ طائفةٌ من أمتي يقاتلون على الحقِّ، ظاهرين على من ناوَأَهم، حتى يقاتل آخرهم الدجال" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8391 - على شرط مسلم
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق کی خاطر قتال کرتا رہے گا، وہ اپنے مخالفین پر غالب رہیں گے، یہاں تک کہ ان کا آخری حصہ دجال سے قتال کرے گا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8596]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8596] [ترقيم الشركة 8493] [ترقيم العلميه 8391]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں