🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
48. ذِكْرُ عَلَامَاتِ خُرُوجِ الدَّجَّالِ
دجال کے خروج کی علامات کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8627
أخبرنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا عُبيد بن شَريك البزّار، حدثنا أبو الجُماهر، حدثنا سعيد بن بَشير، عن قَتَادة، عن عُقبة بن عمرو بن أوس السَّدُوسي قال: أَتينا عبد الله بن عمرو بن العاص وعليه بُرْدانِ قِطْريَّانِ وعليه عمامةٌ، وليس عليه سِرْبال - يعني القميص - فقلنا له: إنك قد رَوَيتَ عن رسول الله ﷺ ورَوَيتَ الكتب، فقال: ممَّن أنتم؟ قال: فقلنا: من أهل العراق، فقال: إنكم يا أهل العراق تكذبون وتُكذِّبون وتَسخَرون، قال: فقلت: لا والله لا نُكذِّبُك ولا نكذبُ عليك ولا نسخرُ منك، قال: فإنَّ بني قنطُوراء وكركرى (1) لا يخرجون حتى يربطوا خيولهم بنخل الأُبُلّة، كم بينها وبين البصرة؟ قال: فقلنا: أربعةُ فراسخ، قال: فيبعثون أن خلُّوا بيننا وبينها، قال: فيَلحَقُ ثلثٌ بهم، وثلثٌ بالكوفة، وثلثٌ بالأعراب، ثم يبعثون إلى أهل الكوفة: أن خلُّوا بيننا وبينها، فيلحقُ بهم ثلثٌ، وثلثٌ بالأعراب، وثلثٌ بالشام، قال: فقلنا: ما أَمَارَةُ ذلك؟ قال: إِذا طَبَّقَتِ الأرضَ إمارةُ الصِّبيان (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8421 - صحيح
عقبہ بن عمرو بن اوس سدوسی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ہم سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کے پاس آئے، وہ دو دھاری دار چادریں اوڑھے ہوئے تھے اور ان کے سر پر عمامہ تھا لیکن انہوں نے قمیص نہیں پہنی تھی، ہم نے ان سے عرض کیا: آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے احادیث روایت کی ہیں اور سابقہ کتابوں کا علم بھی رکھتے ہیں، انہوں نے پوچھا: تم کہاں سے ہو؟ ہم نے کہا: اہل عراق سے، انہوں نے فرمایا: اے اہل عراق! تم جھوٹ بولتے ہو، جھٹلاتے ہو اور تمسخر کرتے ہو، میں نے کہا: نہیں اللہ کی قسم! ہم نہ آپ کو جھٹلاتے ہیں، نہ آپ پر جھوٹ باندھتے ہیں اور نہ آپ کا مذاق اڑاتے ہیں، انہوں نے فرمایا: یقیناً بنو قنطوراء اور کرکری اس وقت تک خروج نہیں کریں گے جب تک وہ اپنے گھوڑے مقامِ ابلہ کے کھجور کے درختوں سے نہ باندھ دیں، پھر پوچھا: ابلہ اور بصرہ کے درمیان کتنا فاصلہ ہے؟ ہم نے کہا: چار فرسخ، انہوں نے فرمایا: پھر وہ دشمن مطالبہ کریں گے کہ ہمارے اور بصرہ کے درمیان سے ہٹ جاؤ، تو ایک تہائی لوگ ان سے جا ملیں گے، ایک تہائی کوفہ چلے جائیں گے اور ایک تہائی دیہاتیوں سے جا ملیں گے، پھر وہ دشمن اہل کوفہ کو پیغام بھیجیں گے کہ ہمارے اور کوفہ کے درمیان سے ہٹ جاؤ، تو ایک تہائی ان سے جا ملیں گے، ایک تہائی دیہاتیوں سے جا ملیں گے اور ایک تہائی شام چلے جائیں گے، ہم نے پوچھا: اس کی علامت کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: جب روئے زمین پر بچوں کی حکمرانی چھا جائے گی۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8627]
تخریج الحدیث: «صحيح عن عبد الله بن عمرو بن العاص، وهذا إسناد ضعيف لضعف سعيد بن بشير، وقد خولف فيه عن قتادة، حيث جعله من روايته عن عقبة بن عمرو بن أوس، وكذا وقع مسمّى هنا في رواية أبي الجماهر» [ترقيم الرساله 8627] [ترقيم الشركة 8523] [ترقيم العلميه 8421]

الحكم على الحديث: صحيح عن عبد الله بن عمرو بن العاص
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8628
أخبرني محمد بن علي بن عبد الحميد الصَّنعاني بمكة حرسها الله، حدثنا إسحاق بن إبراهيم بن عبّاد، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا معمر، عن الزُّهري، عن أبي إدريس الخَولاني، قال: أدركتُ أبا الدرداء ووَعَيتُ عنه، وأدركتُ عُبادة بن الصامت ووَعَيتُ عنه، وفاتني معاذُ بن جبل، فأخبرني يزيدُ بن عَمِيرة: أنه كان يقول في كل مجلس يجلسُه: اللهُ حَكَمٌ قِسط تبارك اسمُه، هَلَكَ المُرتابون، إنَّ من ورائكم فتنًا يَكثُر فيها المال، ويُفتح فيها القرآنُ حتى يأخذه الرجلُ والمرأة، والحرُّ والعبد، والصغيرُ والكبير، فيوشكُ الرجل أن يقرأ القرآن [فيقول: قد قرأتُ القرآن، فما للناس لا يتَّبعوني وقد قرأتُ القرآن؟!] (1) ثم يقول: ما هم مُتَّبِعيَّ حتى أبتدع لهم غيره، فإياكم وما ابتدعتُم، فإنَّ ما ابتدعَ ضلالةٌ. اتقوا زَلَّةَ الحكيم، فإنَّ الشيطان يُلقي على فمِ الحَكيم الضلالةَ، ويُلقي للمنافق كلمةَ الحق، قال: قلنا: وما يدريك - يرحمُك الله - أنَّ المنافق يُلقَّى كلمة الحق، وأنَّ الشيطان يُلقي على فم الحكيم كلمة الضلالة؟ قال: اجتنبوا من كلام الحكيم كلَّ متشابهٍ، الذي إذا سمعته قلت: ما هذا؟ ولا يُثنيك [ذلك] عنه، فإنه لعله أن يراجع ويُلقَّى الحقَّ، فاسمعه فإنه على الحق نورٌ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8422 - على شرط البخاري ومسلم
ابو ادریس خولانی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کو پایا اور ان سے علمی فیض حاصل کیا، اور میں نے سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کو بھی پایا اور ان سے احادیث یاد کیں، البتہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے میری ملاقات نہ ہو سکی، چنانچہ یزید بن عمیرہ نے مجھے بتایا کہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ جس مجلس میں بھی بیٹھتے تھے تو یہ ضرور کہتے تھے: «اللَّهُ حَكَمٌ قِسْطٌ، تَبَارَكَ اسْمُهُ، هَلَكَ الْمُرْتَابُونَ» اللہ تعالیٰ انصاف کرنے والا عادل حاکم ہے، اس کا نام بڑی برکت والا ہے، اور شک کرنے والے ہلاک ہو گئے، (وہ مزید کہتے کہ) بے شک تمہارے بعد ایسے فتنے آنے والے ہیں جن میں مال کی کثرت ہوگی، اور قرآن کو (پڑھنا اتنا عام اور) کھول دیا جائے گا کہ اسے مرد، عورت، آزاد، غلام، چھوٹا اور بڑا سبھی حاصل کر لیں گے، تو عنقریب ایک آدمی قرآن پڑھے گا تو وہ (اپنے جی میں) کہے گا: میں نے قرآن پڑھ لیا ہے، مگر کیا بات ہے کہ لوگ میری پیروی نہیں کر رہے حالانکہ میں قرآن پڑھ چکا ہوں؟! پھر وہ کہے گا: لوگ اس وقت تک میری پیروی نہیں کریں گے جب تک میں ان کے لیے قرآن کے علاوہ کوئی نئی چیز (بدعت) ایجاد نہ کر لوں، پس تم اپنے خود ساختہ نئے کاموں (بدعات) سے بچو، کیونکہ ہر ایجاد کردہ نئی بات گمراہی ہے۔ اور دانا (حکیم) کی لغزش سے بچو، کیونکہ شیطان دانا شخص کی زبان پر گمراہی کی بات ڈال دیتا ہے، جبکہ کبھی منافق کی زبان پر حق کی بات جاری کر دیتا ہے، (یزید بن عمیرہ کہتے ہیں کہ) ہم نے عرض کیا: (اے معاذ!) اللہ آپ پر رحم فرمائے، آپ کو یہ کیسے معلوم ہوگا کہ منافق حق بات کہہ رہا ہے اور شیطان نے دانا شخص کی زبان پر گمراہی کی بات ڈال دی ہے؟ انہوں نے فرمایا: دانا شخص کی کلام میں سے ہر اس مشتبہ (الجھن والی) بات سے بچو جسے سن کر تم پکار اٹھو کہ یہ کیسی بات ہے؟ لیکن (صرف اس لغزش کی وجہ سے) تم اس دانا شخص سے بالکل منہ نہ موڑو، کیونکہ بہت ممکن ہے کہ وہ اپنی اس بات سے رجوع کر لے اور اسے دوبارہ حق کی توفیق مل جائے، پس تم حق بات کو سنو کیونکہ حق پر ایک نور ہوتا ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8628]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8628] [ترقيم الشركة 8524] [ترقيم العلميه 8422]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
49. ذُو الْعُرْفِ يَجْمَعُ مِنْ قَبَائِلِ الشِّرْكِ جَمْعًا عَظِيمًا
ذو العرف مشرک قبائل کا ایک عظیم لشکر اکٹھا کرے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8629
أخبرنا أبو منصور محمد بن القاسم بن عبد الرحمن العتكي، حدثنا أبو سهل بشر بن سهل اللَّبّاد، حدثنا عبد الله بن صالح، حدثني الليث بن سعد، حدثني أبو قَبيل، عن عبد الله بن عمرو بن العاص: أنَّ رجلًا من أعداء المسلمين بالأندلس يقال له: ذو العرف، يَجمَع من قبائل الشِّرك جمعًا عظيمًا يعرف مَن بالأندلس أن لا طاقة لهم، فيهرب أهلُ القوَّة من المسلمين في السفن، فيُجيزون إلى طنجة (2) ، ويبقى ضَعَفةُ الناس وجماعتُهم ليس لهم سفنٌ يُجيزون عليها، فيبعثُ الله ﷿ وَعِلًا ويُيبِّس (3) لهم في البحر، فيُجيز الوَعِلُ لا يغطِّي الماء أظلافه، فيراه الناس فيقولون: الوعل الوعلَ اتَّبعوه، فيُجِيزُ الناسُ على إثره كلُّهم، ثم يصير البحرُ على ما كان عليه، ويُجيز العدوُّ في المراكب، فإذا حسَّهم أهل إفريقيَّة هربوا كلُّهم حتى يدخلوا الفُسطاط، ويُقبلُ ذلك العدوُّ حتى ينزلوا فيما بين ترنوط إلى الأهرام مسيرة خمسة بُرُد، فيملؤون ما هنالك شرًّا، فتخرج إليهم رايةُ المسلمين على الجسر، فينصرهم الله عليهم، فيهزمونهم ويقتلونهم إلى لُوبِيَّةَ مسيرةَ عشر ليال، ويستوقدُ أهل الفُسطاط لعِجْلهم وأداتهم سبع سنين، ويَنفلتُ ذو العرف من القتل ومعه كتابٌ لا ينظرُ فيه إلَّا وهو منهزمٌ، فيَجِدُ فيه ذِكرَ الإسلام، وأنه يُؤمَر فيه بالدخول في السِّلْم، فيسأل الأمان على نفسه وعلى من أجابه إلى الإسلام من أصحابه الذين أقبلوا معه، فيُسلمُ فيصير من المسلمين، ثم يأتي العام الثاني رجلٌ من الحبشة يقال له: اسبس، وقد جمع جمعًا عظيمًا، فيهرب المسلمون منهم من أُسوان حتى لا يبقى بها ولا فيما دونَها أحدٌ من المسلمين إلا دخل الفُسطاط، فينزل اسبس بجيشه مَنْفَ، وهو على رأس بَريدٍ الفُسطاط، فتخرج إليهم رايةُ المسلمين على الجسر، فينصرُهم الله عليهم، فيقتلونهم ويأسرونهم، حتى يُباع الأسوَدُ بعباءةٍ (1) .
هذا حديث صحيح موقوف الإسناد على شرط الشيخين (2) ، وهو أصل في معرفة وقوع الفتن بمصر، ولم يُخرجاه. ومَنْفُ: هو الذي يقول منصورٌ الفقيه ﵀ فيه: سألتُ أمس قُصورًا … بعَينِ شمسٍ ومَنْفِ عن أهلها أين حَلُّوا … فلم تُجِبْني بحَرفِ
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8423 - ليس على شرطهما
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اندلس میں مسلمانوں کے دشمنوں میں سے ایک شخص نمودار ہوگا جسے ذوالعرف کہا جائے گا، وہ مشرک قبائل کا ایک ایسا عظیم لشکر جمع کرے گا جس کے متعلق اہلِ اندلس کو یہ یقین ہو جائے گا کہ ان میں اس کے مقابلے کی کوئی طاقت نہیں ہے، چنانچہ مسلمانوں میں سے صاحبِ استطاعت لوگ کشتیوں میں سوار ہو کر وہاں سے نکل کھڑے ہوں گے اور طنجہ کی طرف عبور کر جائیں گے، جبکہ کمزور لوگ اور عوامی طبقہ پیچھے رہ جائے گا جن کے پاس عبور کے لیے کشتیاں میسر نہیں ہوں گی، تب اللہ عزوجل ایک پہاڑی بکرا «وَعِلًا» بھیجے گا اور ان کے لیے سمندر کو خشک (پایاب) کر دے گا، وہ پہاڑی بکرا اس طرح سمندر پار کرے گا کہ پانی اس کے کھروں کو بھی نہیں ڈھانپے گا، لوگ اسے دیکھ کر پکاریں گے: وہ دیکھو پہاڑی بکرا! اس کے پیچھے چلو، چنانچہ تمام لوگ اس کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے سمندر پار کر جائیں گے، پھر سمندر اپنی اصل حالت پر واپس آ جائے گا اور دشمن بحری جہازوں میں سوار ہو کر عبور کرے گا، جب اہلِ افریقہ کو ان دشمنوں کی آہٹ محسوس ہوگی تو وہ سب بھاگ کر فسطاط (مصر) میں پناہ لیں گے، اور وہ دشمن آگے بڑھے گا یہاں تک کہ ترنوط سے لے کر اہرامِ مصر تک کے علاقے میں ڈیرے ڈال دے گا جو کہ پانچ ڈاک چوکیوں (مراحل) کی مسافت ہے، وہ وہاں بہت شر انگیزی کریں گے، پھر پل پر ان کے مقابلے کے لیے مسلمانوں کا لشکر پرچم بلند کر کے نکلے گا اور اللہ ان کے خلاف مسلمانوں کی مدد فرمائے گا، مسلمان انہیں شکستِ فاش دیں گے اور لوبیہ تک دس راتوں کی مسافت تک انہیں قتل کرتے چلے جائیں گے، اہلِ فسطاط ان کے چھکڑوں اور جنگی ساز و سامان کو سات سال تک بطور ایندھن استعمال کریں گے، ذوالعرف قتل ہونے سے بچ نکلے گا اور اس کے پاس ایک کتاب ہوگی جسے وہ صرف اسی وقت دیکھے گا جب اسے شکست ہوگی، اس میں وہ اسلام کا ذکر پائے گا اور یہ کہ اس میں اسے صلح و سلامتی میں داخل ہونے کا حکم دیا گیا ہے، چنانچہ وہ اپنے لیے اور اپنے ان ساتھیوں کے لیے جو اس کے ہمراہ آئے تھے اور اسلام لانے پر تیار تھے امان طلب کرے گا، پھر وہ اسلام قبول کر کے مسلمانوں میں شامل ہو جائے گا، پھر اگلے سال حبشہ کا ایک آدمی آئے گا جسے اسبس کہا جائے گا جس نے ایک لشکرِ جرار جمع کیا ہوگا، مسلمان اس کے ڈر سے اسوان سے بھاگیں گے یہاں تک کہ اسوان یا اس کے قریبی علاقوں میں کوئی مسلمان باقی نہیں رہے گا اور سب فسطاط میں پناہ گزین ہو جائیں گے، اسبس اپنے لشکر کے ساتھ منف (ممفس) میں آ اترے گا جو فسطاط سے ایک ڈاک چوکی (برید) کے فاصلے پر ہے، پھر پل پر ان کے مقابلے کے لیے مسلمانوں کا علم بلند ہوگا اور اللہ ان کے خلاف مسلمانوں کی نصرت فرمائے گا، مسلمان انہیں قتل کریں گے اور قیدی بنائیں گے یہاں تک کہ ایک حبشی قیدی ایک معمولی چادر کے عوض فروخت کیا جائے گا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر موقوفاً صحیح ہے، اور یہ مصر میں پیش آنے والے فتنوں کی معرفت کے لیے ایک اصل کی حیثیت رکھتی ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ اور منف وہی جگہ ہے جس کے بارے میں منصور فقیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے گزشتہ کل عینِ شمس اور منف کے محلات سے ان کے رہنے والوں کے بارے میں پوچھا کہ وہ کہاں کوچ کر گئے؟ تو انہوں نے مجھے ایک حرف سے بھی جواب نہ دیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8629]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 8629] [ترقيم الشركة 8525] [ترقيم العلميه 8423]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8630
أخبرنا أبو عبد الله الصَّفّار، حدثنا محمد بن إبراهيم الأصبهاني، حدثنا الحسين بن حفص، عن سفيان، عن أبي حصين، عن عبد الرحمن بن بِشْر (1) الأنصاري قال: أتى رجلٌ بادِي (2) ابن مسعود، فأكبَّ عليه، فقال: يا أبا عبد الرحمن، متي أَضِلُّ وأنا أعلم؟ قال: إذا كان عليك أمراء إذا أطعتهم أدخلوك النار، وإذا عصيتهم قتلوك (3) . وهذا موقوفٌ صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. قال الحاكم ﵀: هذه أحاديث ذكرها عبد الله بن وَهْب في الملاحم، وعَلَوتُ فيها فأخرجتها، وإن كانت غير مسانيد:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8424 - صحيح
سیدنا عبدالرحمن بن بشر انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوا اور ان کی طرف متوجہ ہو کر عرض کیا: اے ابو عبدالرحمن! میں علم رکھنے کے باوجود کب گمراہ ہو جاؤں گا؟ انہوں نے جواب دیا: جب تمہارے اوپر ایسے حکمران مسلط ہوں گے کہ اگر تم ان کی اطاعت کرو گے تو وہ تمہیں جہنم میں داخل کر دیں گے، اور اگر تم ان کی نافرمانی کرو گے تو وہ تمہیں قتل کر دیں گے۔
یہ روایت موقوف ہے اور اس کی سند صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8630]
تخریج الحدیث: «خبر حسن، ومحمد بن إبراهيم الأصبهاني» [ترقيم الرساله 8630] [ترقيم الشركة 8526] [ترقيم العلميه 8424]

الحكم على الحديث: خبر حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8631
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحْر بن نَصْر، حدثنا عبد الله بن وهب أخبرني معاوية بن صالح، عن عبد الرحمن بن جُبَير، عن أبيه، عن أبي ثَعلبة الخُشَني، قال: إذا رأيت الشام مائدة رجلٍ (4) واحد وأهل بيته، فعند ذلك فتحُ القُسطَنطينيّة (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8425 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: جب تم شام کو ایک ہی شخص اور اس کے گھر والوں کا دسترخوان دیکھو (یعنی شام کے وسائل پر ایک ہی خاندان کا تسلط ہو جائے)، تو اس وقت قسطنطنیہ کی فتح ہو گی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8631]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات» [ترقيم الرساله 8631] [ترقيم الشركة 8527] [ترقيم العلميه 8425]

الحكم على الحديث: رجاله ثقات
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
50. إِنَّ الْمَعَاقِلَ ثَلَاثَةٌ
(فتنوں سے بچاؤ کے لیے) تین محفوظ پناہ گاہوں کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8632
حدثنا محمد، حدثنا بحر، حدثنا ابن وهب، أخبرني معاوية، عن الحسن بن جابر وأبي الزاهرية، عن كعب قال: إِنَّ المَعاقِلَ ثلاثةٌ: فَمَعقِلُ الناس يومَ المَلاحم بدمشق، ومَعقِلُ الناس يومَ الدَّجال نهرُ أبي فُطْرُس - يَمرُقُ من الناس من يقول: بيت المقدِس - ومَعقِلُهم يومَ يأجوج ومأجوجَ بِطُورِ سَيْنا (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8426 - منقطع
کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: بلاشبہ پناہ گاہیں تین ہیں: بڑی جنگوں «الملاحم» کے دن لوگوں کی پناہ گاہ دمشق ہو گی، دجال کے دن لوگوں کی پناہ گاہ دریائے ابوفطرس ہو گی — لوگوں میں سے کچھ وہ بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ اس سے مراد بیت المقدس ہے — اور یاجوج و ماجوج کے دن ان کی پناہ گاہ طورِ سینا ہو گی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8632]
تخریج الحدیث: «خبر صحيح عن كعب: وهو كعب الأحبار، كان يهوديًا فأسلم في خلافة أبي بكر، وكان يحدثهم عن الكتب الإسرائيلية ويحفظ عجائب كما قال الذهبي في "سير أعلام النبلاء" 3/ 489، وأعلَّ هذا الخبر في "تلخيصه" بالانقطاع؛ يعني بين الحسن بن جابر وأبي الزاهرية وهو حُدير بن كريب» [ترقيم الرساله 8632] [ترقيم الشركة 8528] [ترقيم العلميه 8426]

الحكم على الحديث: خبر صحيح عن كعب: وهو كعب الأحبار
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8633
حدثنا محمد، حدثنا بحر، حدثنا ابن وهب، أخبرني معاوية بن صالح، عن أبي الزاهرية، عن جُبير بن نُفَير، عن أبي الدرداء قال: إذا خُيِّرتُم بين الأَرَضِينَ فلا تختاروا إرمينية، فإنَّ فيها قطعةً من عذاب الله (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8427 - صحيح
سیدنا جبیر بن نفیر رضی اللہ عنہ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: اگر تمہیں مختلف زمینوں کے درمیان اختیار دیا جائے (کہ کہاں رہائش اختیار کرنی ہے) تو ارمینیہ کو منتخب نہ کرنا، کیونکہ اس میں اللہ کے عذاب کا ایک حصہ ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8633]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8633] [ترقيم الشركة 8529] [ترقيم العلميه 8427]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8634
حدثنا محمد، حدثنا بَحْر، حدثنا ابن وهب قال: وأخبرني معاوية، عن صفوان بن عمرو، عن عبد الرحمن بن جُبَير بن نُفير، عن كعب قال: الجزيرةٌ آمنةٌ من الخراب حتى تَخرَبَ إرمينِيَةُ، ومصر آمنةٌ من الخراب حتى تَخرَبَ الجزيرةُ، والكوفةُ آمنةٌ من الخراب حتى تَخرَبَ مصرُ، ولا تكون المَلحَمةُ حتى تَخرَبَ الكوفةُ، ولا تُفتَحُ مدينةُ الكُفر حتى تكونَ المَلحمةُ، ولا يخرج الدجالُ حتى تُفتَحَ مدينةُ الكفر (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8428 - منقطع واه
کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: جزیرہ (عراق و شام کا درمیانی علاقہ) اس وقت تک تباہی سے محفوظ ہے جب تک ارمینیہ تباہ نہ ہو جائے، اور مصر اس وقت تک تباہی سے محفوظ ہے جب تک جزیرہ تباہ نہ ہو جائے، اور کوفہ اس وقت تک تباہی سے محفوظ ہے جب تک مصر تباہ نہ ہو جائے، اور بڑی جنگ «المَلحَمة» اس وقت تک نہیں ہوگی جب تک کوفہ تباہ نہ ہو جائے، اور کفر کا شہر اس وقت تک فتح نہیں ہوگا جب تک بڑی جنگ نہ ہو جائے، اور دجال اس وقت تک ظاہر نہیں ہوگا جب تک کفر کا شہر فتح نہ ہو جائے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8634]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لانقطاعه عبد الرحمن بن جبير لم يدرك كعب الأحبار، وكعب كان يأتي بالعجائب كما سبق قريبًا» [ترقيم الرساله 8634] [ترقيم الشركة 8530] [ترقيم العلميه 8428]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لانقطاعه عبد الرحمن بن جبير لم يدرك كعب الأحبار
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8635
حدثنا أبو العباس، حدثنا بحر، حدثنا ابن وهب، حدثنا معاوية بن صالح، عن يحيى بن سعيد، عن سعيد بن المسيّب أنه كان يقول: ولدُ نوحٍ ثلاثةٌ: سامٌ وحامٌ ويافِتُ، فوَلَدَ سامٌ: العرب وفارس والروم، وفي كلِّ هؤلاء خيرٌ، وولد حامٌ: السُّودان والبرير والقبط، وولد يافثُ: التُّركَ والصَّقالبة ويأجوج ومأجوج (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8429 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ وہ فرمایا کرتے تھے: نوح علیہ السلام کے تین بیٹے تھے: سام، حام اور یافث؛ پس سام کی اولاد سے عرب، فارس اور روم ہیں اور ان سب میں خیر و بھلائی ہے، اور حام کی اولاد سے سوڈان (سیاہ فام)، بربر اور قبطی ہیں، اور یافث کی اولاد سے ترک، صقالبہ (سلاو) اور یاجوج و ماجوج ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8635]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات. وهو في "جامع ابن وهب" (25» [ترقيم الرساله 8635] [ترقيم الشركة 8531] [ترقيم العلميه 8429]

الحكم على الحديث: رجاله ثقات.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
51. لَا تَكُونُ الْمَلَاحِمُ إِلَّا عَلَى يَدَيْ رَجُلٍ مِنْ آلِ هِرَقْلَ
بڑی جنگیں آلِ ہرقل (رومیوں) کے ایک شخص کے ہاتھوں ہوں گی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8636
حدثنا محمد، حدثنا بَحْر بن نصر، حدثنا ابن وهب، حدثنا معاوية بن صالح، عن أبي الزاهريَّة، عن كعب قال: لا تكون الملاحمُ إلَّا على يدي رجلٍ من آل هِرَقلَ، الرابعِ أو الخامسِ يقال له: طبارة (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8430 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: بڑی جنگیں «الملاحم» ہرقل کی آل میں سے چوتھے یا پانچویں شخص کے ہاتھوں ہی وقوع پذیر ہوں گی، جسے «طبارة» کہا جائے گا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8636]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لانقطاعه بين أبي الزاهرية» [ترقيم الرساله 8636] [ترقيم الشركة 8532] [ترقيم العلميه 8430]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں