🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
91. ذِكْرُ طَبَقَاتٍ شَتَّى لِبَنِي آدَمَ
بنی آدم کے مختلف طبقات اور درجات کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8755
حدثنا علي بن عيسى بن إبراهيم، حدثنا مسدَّد بن قَطَن، حدثنا عثمان بن أبي شَيْبة، حدثنا محمد بن فُضَيل، حدثنا أبو مالك الأشجَعي، عن أبي حازم، عن أبي هريرة قال: يُسرَى على كتاب الله فيُرفَعُ إلى السماء، فلا يصبحُ في الأرض آيةٌ من القرآن ولا من التوراة والإنجيل ولا الزَّبور، ويُنتزَعُ من قلوب الرِّجال فيصبحون ولا يَدرُون ما هو (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8544 - على شرط مسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ کی کتاب پر ایک ایسی رات آئے گی کہ اسے (زمین سے) آسمان کی طرف اٹھا لیا جائے گا، پس صبح کے وقت زمین پر نہ قرآن کی کوئی آیت باقی رہے گی اور نہ ہی تورات، انجیل یا زبور کی کوئی آیت بچے گی، اور اسے لوگوں کے سینوں سے بھی کھینچ لیا جائے گا، تو وہ اس حال میں صبح کریں گے کہ وہ کچھ نہیں جانتے ہوں گے کہ یہ (قرآن) کیا تھا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8755]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح. أبو مالك الأشجعي: هو سعد بن طارق، وأبو حازم: هو سلمان الأشجعي. وروي نحوه مرفوعًا من طريق علي بن مسهر عن سعد بن طارق» [ترقيم الرساله 8755] [ترقيم الشركة 8647] [ترقيم العلميه 8544]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح. أبو مالك الأشجعي: هو سعد بن طارق
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
92. إِنَّ اللَّهَ لَنْ يَجْمَعَ جَمَاعَةَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى ضَلَالَةٍ
بے شک اللہ تعالیٰ محمد ﷺ کی امت (کی جماعت) کو کبھی گمراہی پر جمع نہیں کرے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8756
حدثنا أبو محمد المُزَني، حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي، حدثنا واصل بن عبد الأعلى، حدثنا محمد بن فُضَيل، حدثنا أبو مالك الأشجعي، عن أبي الشَّعثاء قال: خَرَجْنا مع أبي مسعود الأنصاري، فقلنا له: اعهَدْ إلينا، فقال: عليكم بتقوى الله ولزومِ جماعةِ محمدٍ ﷺ، فإنَّ الله تعالى لن يجمعَ جماعةَ محمدٍ على ضلالة، وإنَّ دينَ الله واحدٌ، وإياكم والتلوُّنَ في دينِ الله، وعليكم بتقوى الله، واصبِروا حتى يستريحَ بَرٌّ أو يُستراحَ من فاجر (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وقد كتبناه مسنَدًا من وجهٍ لا يصح على شرط هذا الكتاب:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8545 - على شرط مسلم
سیدنا ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ابو الشعثاء کہتے ہیں کہ ہم ان کے ساتھ نکلے تو ہم نے ان سے عرض کیا: ہمیں کوئی وصیت کیجیے، تو انہوں نے فرمایا: تم پر اللہ کا تقویٰ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جماعت کے ساتھ وابستگی لازم ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جماعت کو کبھی گمراہی پر جمع نہیں کرے گا، اور بے شک اللہ کا دین ایک ہی ہے، اور دینِ الہی میں رنگ بدلنے (تلوّن مزاجی) سے بچو، اور تقویٰ اختیار کرو، اور اس وقت تک صبر کرو جب تک کہ کوئی نیک آدمی (موت کے ذریعے) راحت نہ پا لے یا کسی بدکار سے (اس کی ہلاکت کے ذریعے) راحت نہ مل جائے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8756]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8756] [ترقيم الشركة 8648] [ترقيم العلميه 8545]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8757
حدثنا أبو جعفر محمد بن أحمد بن سعيد المذكِّر، حدثنا الحسين بن داود بن معاذ، حدثنا مَكّيُّ بن إبراهيم، حدثنا أيمن بن نابِلٍ، عن قُدَامة بن عبد الله بن عمّار الكِلَابي قال: سمعت رسول الله ﷺ يقول:"عليكم باتَّقاء اللهِ والجماعةِ، فإنَّ الله لا يجمعُ هذه الأُمةَ على الضَّلالة، وعليكم بالصبر حتى يَستريحَ بَرٌّ أو يُستراحَ من فاجر" (1) .
هذا حديث لم نَكتُبْه بهذا الإسناد إلَّا عن هذا الشيخ، والحملُ فيه على الحسين بن داود، فإنه لم يصحَّ عندنا (2) بهذا الإسناد إلّا حديث واحدٌ:
سیدنا قدامہ بن عبداللہ بن عمار کلابی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: تم پر اللہ کا تقویٰ اور جماعت کی وابستگی لازم ہے، کیونکہ اللہ اس امت کو گمراہی پر جمع نہیں کرے گا، اور تم صبر سے کام لو یہاں تک کہ کوئی نیک بندہ (دنیا سے رخصت ہو کر) راحت پا لے یا کسی بدکار سے (اس کے شر کے خاتمے سے) راحت مل جائے۔
اس حدیث کو ہم نے اسی سند کے ساتھ صرف اسی شیخ سے لکھا ہے، اور اس کا بوجھ حسین بن داؤد پر ہے، کیونکہ ہمارے نزدیک اس سند کے ساتھ صرف ایک ہی حدیث صحیح ثابت ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8757]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًّا، الحسين بن داود بن معاذ أحد المتروكين كما قال الذهبي في ترجمته من "تاريخ الإسلام" 6/ 740، وشيخ المصنف ليس بذاك القوي، وإنما يعتبر به في المتابعات والشواهد» [ترقيم الرساله 8757] [ترقيم الشركة 8649]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف جدًّا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8758
حدَّثَناه أبو أحمد بكر بن محمد بن حمدانَ المروَزي، حدثنا عبد الصمد بن الفضل البَلْخي، حدثنا مَكِّي بن إبراهيم، حدثنا أيمن بن نابِلٍ، عن قُدَامة بن عبد الله بن عمَّار الكِلابي: قال رأيت رسولَ الله ﷺ يرمي الجَمْرةَ يومَ النَّحْر، لا ضربَ، ولا طَرْدَ، ولا إليكَ إليكَ (3) .
هذا حديث له طُرقٌ عن أيمن بن نابل، وقد احتَجَّ الإمام محمد بن إسماعيل البخاريُّ بأيمنَ بن نابلٍ في"الجامع الصحيح".
سیدنا قدامہ بن عبداللہ بن عمار کلابی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یوم النحر (عید الاضحیٰ کے دن) جمرہ کی رمی کرتے ہوئے دیکھا، وہاں نہ کسی کو مارا پیٹا جا رہا تھا، نہ کسی کو دھکا دے کر ہٹایا جا رہا تھا اور نہ ہی راستے سے ہٹ جاؤ، ہٹ جاؤ کا شور تھا۔
اس حدیث کے ایمن بن نابل سے کئی طرق منقول ہیں، اور امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی الجامع الصحیح میں ایمن بن نابل سے احتجاج کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8758]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل أيمن بن نابل» [ترقيم الرساله 8758] [ترقيم الشركة 8650]

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
93. لَنْ تَنْفَكُّوا بِخَيْرٍ مَا اسْتَغْنَى أَهْلُ بَدْوِكُمْ عَنْ أَهْلِ حَضَرِكُمْ .
تم اس وقت تک خیر پر رہو گے جب تک تمہارے دیہاتی تمہارے شہریوں سے بے نیاز رہیں گے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8759
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحْر بن نصر، حدثنا بشر بن بكر، حدثنا أبو المَهْدي سعيد بن سِنان، عن أبي الزاهريَّة، عن أبي شَجَرة كَثير بن مُرَّة، عن عبد الله بن عمرو، عن النبي ﷺ أنه كان يقول:"لن تَنفَكُّوا (4) بخيرٍ ما استَغنَى أهلُ بَدْوِكم عن أهل حَضَرِكم" قال:"ولَتَسُوقنَّهم السِّنينُ والسِّناتُ حتى يكونوا معكم في الدِّيار، ولا تُمنَعوا منهم لكثرة من يسيرُ (1) عليكم منهم" قال:"يقولون: طالما جُعْنا وشبعتُم، وطالما شَقِينا وتنعَّمتُم، فواسُونا اليومَ. ولتَستصعِبَنَّ بكم الأرضُ حتى يَعْبِطَ أهلُ حضرِكم [أهلَ بدوِكم] (2) من استصعاب الأرض". قال:"ولتَمِيلَنَّ بكم الأرضُ مَيلةً يَهْلِكُ منها مَن هلك، ويبقى من بقي، حتى تُعتَقَ الرِّقابُ، ثم تَهدأُ بكم الأرضُ بعد ذلك حتى يَندَمَ المُعتِقون" قال:"ثم تميلُ بكم الأرضُ من بعد ذلك مَيلةً أخرى، فيَهلِكُ فيها مَن هلك، ويبقى من بقي يقولون: ربَّنا نُعتِقُ، ربَّنا نُعتِقُ، فيكذِّبُهم اللهُ: كَذَبتُم كَذَبتُم، أنا أُعتِق. وليُبتلَيَنَّ أُخرَياتُ هذه الأُمَّة بالرَّجْف فإن تابوا تابَ الله عليهم" قال:"وإن عادوا أعادَ الله عليهم بالرَّجْف والقَذْف والخَسْف والمَسْخ والصواعق، فإذا قيل: هَلَكَ الناسُ هَلَكَ الناسُ، هَلَكَ الناسُ، فقد هَلَكوا، ولن يعذِّبَ اللهُ تعالى أمّةً حتى تَعْدِرَ" قالوا: وما غَدْرُها؟ قال:"يعترفون بالذُّنوب ولا يتوبون. ولَتطمئِنَّ القلوبُ بما فيها من بِرِّها وفجورِها كما تطمئنُّ الشجرةُ بما فيها، حتى لا يستطيعَ محسنٌ أن يزدادَ إحسانًا، ولا يستطيعَ مسيءٌ استِعتابًا، وذلك بأنَّ الله ﷿ قال: ﴿كَلَّا بَلْ رَانَ عَلَى قُلُوبِهِمْ مَا كَانُوا يَكْسِبُونَ﴾ [المطففين: 14] " (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8548 - سعيد متهم ساقط
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: تم اس وقت تک خیر و بھلائی کے ساتھ رہو گے جب تک تمہارے دیہاتی لوگ تمہارے شہری لوگوں سے بے نیاز رہیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور (ایک وقت آئے گا کہ) سالہا سال کے قحط انہیں ہانک کر تمہارے ساتھ بستیوں میں لا بسائیں گے، اور تم ان کی کثرت کی وجہ سے انہیں (اپنے پاس آنے سے) روک نہیں سکو گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ کہیں گے: ہم مدتوں بھوکے رہے جبکہ تم سیر ہو کر کھاتے رہے، اور ہم نے طویل مشقتیں جھیلیں جبکہ تم نے عیش و آرام پایا، پس آج تم ہمیں بھی اپنا شریک بناؤ۔ اور زمین تمہارے لیے بوجھل ہو جائے گی یہاں تک کہ تمہارے شہری لوگ زمین کی تنگی کی وجہ سے دیہاتیوں کو (غصے سے) مارنے لگیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور زمین تمہارے ساتھ ایک طرف اس طرح جھکے گی کہ اس سے ہلاک ہونے والے ہلاک ہو جائیں گے اور بچنے والے بچ جائیں گے، یہاں تک کہ غلام آزاد کیے جائیں گے، پھر اس کے بعد زمین تمہارے لیے سکون اختیار کر لے گی یہاں تک کہ آزاد کرنے والے (اپنی آزادی پر) نادم ہوں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر زمین دوبارہ تمہارے ساتھ ایک طرف جھکے گی، جس میں ہلاک ہونے والے ہلاک ہو جائیں گے اور جو بچ جائیں گے وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! ہم غلاموں کو آزاد کرتے ہیں، اے ہمارے رب! ہم غلاموں کو آزاد کرتے ہیں، تو اللہ انہیں جھٹلا دے گا: تم نے جھوٹ بولا، تم نے جھوٹ بولا، میں (انہیں) آزاد کر رہا ہوں۔ اور اس امت کے آخری لوگوں کو زلزلوں کے ذریعے آزمایا جائے گا، پس اگر وہ توبہ کر لیں گے تو اللہ ان کی توبہ قبول فرمائے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور اگر وہ دوبارہ (گناہوں کی طرف) لوٹے تو اللہ دوبارہ ان پر زلزلے، پتھراؤ، زمین میں دھنسنا، شکلوں کا مسخ ہونا اور بجلی کڑکنے جیسے عذاب بھیجے گا، پس جب یہ کہا جانے لگے کہ لوگ ہلاک ہو گئے، لوگ ہلاک ہو گئے، لوگ ہلاک ہو گئے، تو یقیناً وہ ہلاک ہو چکے ہوں گے، اور اللہ تعالیٰ کسی امت کو اس وقت تک عذاب نہیں دیتا جب تک وہ عذر ختم نہ کر دے (یعنی گناہوں کی حد پار نہ کر دے)، صحابہ نے عرض کیا: اس کے عذر ختم کرنے سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یعنی وہ اپنے گناہوں کا اعتراف تو کریں گے مگر توبہ نہیں کریں گے۔ اور دل اپنی نیکی اور برائی کے ساتھ اسی طرح جم جائیں گے جس طرح درخت (اپنی جڑوں پر) جم جاتا ہے، یہاں تک کہ نہ کوئی نیک آدمی اپنی نیکی میں اضافہ کر سکے گا اور نہ ہی کوئی برا آدمی معذرت کر کے توبہ کر سکے گا، اور یہ اس لیے ہوگا کہ اللہ عزوجل نے فرمایا ہے: ﴿كَلَّا بَلْ رَانَ عَلَى قُلُوبِهِمْ مَا كَانُوا يَكْسِبُونَ﴾ ہرگز نہیں، بلکہ ان کے اعمال کی وجہ سے ان کے دلوں پر زنگ چڑھ گیا ہے۔ [سورة المطففين: 14] ۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8759]
تخریج الحدیث: «إسناده واهٍ، أبو مهدي سعيد بن سنان الشامي متروك، ورماه الدارقطني وغيره بالوضع، وقال الذهبي في "تلخيصه": متهم ساقط» [ترقيم الرساله 8759] [ترقيم الشركة 8651] [ترقيم العلميه 8548]

الحكم على الحديث: إسناده واهٍ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8760
أخبرني محمد بن علي الصَّنعاني بمكة حَرَسَها الله، حدثنا إسحاق ابن إبراهيم بن عَبَّاد، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن الزُّهْري، عن عُرْوة، عن أسامة بن زيد قال: أشرَفَ رسولُ الله ﷺ على أُطْمٍ من آطام المدينة فقال:"هل تَرَونَ ما أَرى؟" قالوا: لا، قال:"فإني لأَرى الفتنَ تقعُ خِلالَ بيوتِكم كمَواقِعِ القَطْر" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8549 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ کے قلعوں میں سے ایک اونچے قلعے پر چڑھے اور فرمایا: کیا تم وہ دیکھ رہے ہو جو میں دیکھ رہا ہوں؟ صحابہ نے عرض کیا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک میں دیکھ رہا ہوں کہ فتنے تمہارے گھروں کے درمیان اس طرح گر رہے ہیں جیسے بارش کے قطرات گرتے ہیں۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8760]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8760] [ترقيم الشركة 8652] [ترقيم العلميه 8549]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8761
أخبرني محمد بن المؤمَّل، حدثنا الفضل بن محمد الشَّعْراني، حدثنا نُعيم بن حمّاد، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني يحيى بن أيوب، عن أبي قَبِيل، سمع عبدَ الله بن عمرو يقول: كنا عند رسول الله ﷺ، فسُئِلَ: أيُّ المدينتين تُفتَحُ أولًا؟ يعني القُسطنطِينيّةَ، والرُّومِيةَ، فقال النبي ﷺ:"مدينةُ هِرَقلَ تُفتَحُ أولًا"؛ يعني القُسطَنطِينيّة (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8550 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ (روم کے) ان دو شہروں میں سے کون سا پہلے فتح ہوگا؟ یعنی قسطنطنیہ یا رومیہ، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہرقل کا شہر پہلے فتح ہوگا یعنی قسطنطنیہ۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8761]
تخریج الحدیث: «إسناده ليِّن كما سبق بيانه عند الرواية السالفة برقم (8506)» [ترقيم الرساله 8761] [ترقيم الشركة 8653] [ترقيم العلميه 8550]

الحكم على الحديث: إسناده ليِّن كما سبق بيانه عند الرواية السالفة برقم (8506)
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8762
أخبرني أبو عبد الله محمد بن علي الصَّنعاني بمكة حَرَسها الله، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن أيوب، عن أبي قِلابة، عن هشام بن عامر الأنصاري قال: قال رسول الله ﷺ:"إنَّ رأس الدَّجَّال من ورائِه حُبُكٌ حُبُكٌ، وإنه سيقول: أنا ربُّكم، فمن قال: أنت ربِّي افتُتِنَ، ومن قال: كذبتَ، ربِّيَ اللهُ وعليه توكَّلتُ وإليه أُنيب، فلا يَضرُّه" أو قال:"فلا فتنةَ عليه" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8551 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ہشام بن عامر انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دجال کے سر کے بال پیچھے سے تہہ در تہہ (گھنگھریالے) ہوں گے، اور وہ عنقریب دعویٰ کرے گا کہ میں تمہارا رب ہوں، تو جس نے کہا کہ تو میرا رب ہے وہ فتنے میں مبتلا ہو گیا، اور جس نے کہا: تو نے جھوٹ بولا، میرا رب اللہ ہے، اسی پر میں نے بھروسہ کیا اور اسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں، تو اسے کوئی نقصان نہیں پہنچے گا یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس پر کوئی فتنہ اثر انداز نہیں ہوگا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8762]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه إن كان معمر حفظه، فأبو قلابة» [ترقيم الرساله 8762] [ترقيم الشركة 8654] [ترقيم العلميه 8551]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8763
حدثني علي بن حَمْشاذَ العَدْل، حدثنا بِشر بن موسى، حدثنا الحُمَيدي، حدثنا سفيان، عن عمرو بن دينار ويحيى بن سعيد ومَعمَر، عن ابن شِهاب، عن هند بنت الحارث، عن أم سَلَمة، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"ماذا نَزَلَ الليلةَ من الفتن؟! وماذا فُتِحَ من الخزائن؟! أَيقِظوا صواحباتِ الحُجُرات"؛ نساءَه (2) (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8552 - على شرط البخاري ومسلم
ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آج کی رات کتنے ہی فتنے نازل ہوئے ہیں؟! اور کتنے ہی خزانے کھول دیے گئے ہیں؟! ان حجروں والیوں کو بیدار کر دو یعنی اپنی ازواج مطہرات کو۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8763]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8763] [ترقيم الشركة 8655] [ترقيم العلميه 8552]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8764
أخبرني محمد بن عبد الله بن أحمد الشَّعِيري، حدثنا أحمد بن معاذ السُّلَمي، حدثنا حفص بن عبد الله، حدثني إبراهيم بن طَهْمان، عن الحَجّاج بن الحجّاج، عن قَتَادة، عن أبي الخَليل، عن عبد الله بن الصامت، عن أبي ذرٍّ قال: تذاكَرْنا ونحن عندَ رسول الله ﷺ: أيُّهما أفضلُ: مسجدُ رسول الله ﷺ، أو مسجدُ بيت المَقدِس؟ فقال رسول الله ﷺ:"صلاةٌ في مسجدي هذا أفضلُ من أربعِ صَلَواتٍ فيه، ولَنِعمَ المصلَّى، وليُوشِكَنَّ أن يكونَ (1) للرجل مثلُ سِيَةِ قوسِه (2) من الأرض حيث يَرى منه بيتَ المَقدِس، خيرٌ له من الدنيا جميعًا" أو قال:"خيرٌ من الدنيا وما فيها" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8553 - صحيح
سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں اس بات کا تذکرہ کر رہے تھے کہ ان دونوں میں سے کون سی مسجد افضل ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد یا مسجد بیت المقدس؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری اس مسجد میں ایک نماز وہاں کی چار نمازوں سے افضل ہے، اور وہ کیا ہی بہترین جائے نماز ہے، اور عنقریب ایسا وقت آئے گا کہ کسی شخص کے پاس اس کی کمان کی تانت کے برابر زمین کا ایسا ٹکڑا ہو جہاں سے اسے بیت المقدس نظر آتا ہو، تو وہ اس کے لیے پوری دنیا سے بہتر ہوگا یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دنیا اور جو کچھ اس میں ہے اس سے بہتر ہوگا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8764]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل شيخ المصنف وشيخه، وقد توبعا، ومَن فوقهما ثقات» [ترقيم الرساله 8764] [ترقيم الشركة 8656] [ترقيم العلميه 8553]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں