المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
104. لَيَأْتِيَنَّ عَلَى الْعُلَمَاءِ زَمَانٌ الْمَوْتُ أَحَبُّ إِلَى أَحَدِهِمْ مِنَ الذَّهَبِ
علماء پر ایسا وقت آئے گا کہ ان کے نزدیک موت سونے (دولت) سے زیادہ محبوب ہوگی
حدیث نمبر: 8795
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا موسى بن الحسن بن عبَّاد، حدثنا عبد الله بن بكر السَّهمي (3) ، حدثنا هشام بن حسَّان، عن محمد بن سِيرِين، عن أبي عُبيدة قال: كنت أسألُ الناسَ عن حديث عَدِيِّ بن حاتم وهو إلى جنبي بالكوفة، فأتيتُه، فقلت: حديثٌ حُدِّثتُه عنك، فحدِّثني به، قال: لما بُعِثَ النبيُّ ﷺ كرهتُه أشدَّ ما كرهتُ شيئًا قطُّ، فأتيتُ أقصى أرض العرب فكرهتُه، ثم أتيتُ أرضَ الرُّوم وكنت أكرهَ له من كراهيَتي لما قبلُ أو أشدَّ، فقلت: لآتيَنَّ هذا الرجلَ، فإن كان صادقًا فلأَسمعنَّ منه، وإن كان كاذبًا فما هو بضارِّي، فأتيتُه فسألته فقال:"إنك لَتسألُ عن شيءٍ لا يَحِلُّ لك في دِينَك" فكأني رأيت لها عليَّ غَضَاضةً، فقال:"يا عَدِيَّ بنَ حاتم، أسلِمْ تَسلَمٍ" مرتين، فقال:"قد أُراني - أو قد أظنُّ" أو كما قال رسول الله ﷺ (4) ، فقال رسول الله ﷺ:"فلعلَّه إنما يمنعُك عن الإسلام أنك تَرى بمن حَوْلي خَصَاصةً، وأنك ترى الناسَ علينا أَلْبًا" ثم قال:"هل رأيتَ الحِيرةَ؟ قلت: لم أرها، وقد عرفتُ مكانها، قال:"فَلَيُوشِكنَّ أنَّ الظَّعينةَ تَرحَلُ من الحِيرةِ بغير جوَارٍ حتى تطوفَ بالبيت، ولتُفتحَنَّ علينا كنوزُ كِسرى بن هُرمُز" قلت: كِسرى بنُ هُرمُز؟! قال:"كِسرى بنُ هُرمُز، ويوشكُ أن لا يجدَ الرجلُ صدقةً" (1) . [قال] : فرأيتُ الظَّعينةَ ترحلُ، وأَحلِفُ لتُفتحَنَّ الثالثةُ لقول رسول الله ﷺ، وهو الحقُّ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8582 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8582 - على شرط البخاري ومسلم
ابو عبیدہ سے روایت ہے کہ میں لوگوں سے سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کی حدیث کے بارے میں پوچھتا تھا جبکہ وہ کوفہ میں میرے پہلو ہی میں تھے، پھر میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ مجھے آپ کے حوالے سے ایک حدیث پہنچی ہے، آپ وہ مجھے خود سنائیں، انہوں نے کہا: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے تو میں آپ سے اس قدر نفرت کرتا تھا کہ کسی چیز سے نہ کی ہوگی، چنانچہ میں عرب کی دور دراز زمین کی طرف چلا گیا لیکن وہاں بھی مجھے کراہت ہی رہی، پھر میں ملکِ روم چلا گیا اور وہاں مجھے پہلے سے بھی زیادہ یا اس سے بھی شدید نفرت محسوس ہوئی، پھر میں نے (دل میں) کہا کہ میں ضرور اس شخص کے پاس جاؤں گا، اگر وہ سچا ہوا تو میں اس کی بات سن لوں گا اور اگر وہ جھوٹا ہوا تو وہ میرا کچھ بگاڑ نہ سکے گا، چنانچہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ایک ایسی چیز کے متعلق سوال کر رہے ہو جو تمہارے دین میں تمہارے لیے حلال نہیں ہے“، مجھے ایسا لگا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری کسی بات پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ فرمایا: ”اے عدی بن حاتم! اسلام لے آؤ، سلامتی پا جاؤ گے“، عدی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شاید تمہیں اسلام قبول کرنے سے یہ بات روک رہی ہے کہ تم میرے اردگرد موجود لوگوں میں فقر و فاقہ دیکھ رہے ہو اور یہ دیکھ رہے ہو کہ لوگ ہمارے خلاف ایک ہو چکے ہیں“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تم نے حیرہ دیکھا ہے؟“ میں نے عرض کیا: میں نے اسے دیکھا تو نہیں لیکن مجھے اس کے مقام و جگہ کا علم ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عنقریب ایک ہودج نشین عورت حیرہ سے کسی محافظ کے بغیر اکیلے چلے گی یہاں تک کہ وہ بیت اللہ کا طواف کرے گی، اور عنقریب ہم پر کسریٰ بن ہرمز کے خزانے کھول دیے جائیں گے“، میں نے (تعجب سے) پوچھا: کسریٰ بن ہرمز؟! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں! کسریٰ بن ہرمز، اور وہ وقت بھی قریب ہے کہ آدمی اپنا صدقہ لے کر نکلے گا مگر اسے کوئی قبول کرنے والا نہیں ملے گا“، عدی کہتے ہیں: میں نے ہودج نشین عورت کو تنہا سفر کرتے دیکھ لیا ہے، اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کی سچائی کی وجہ سے قسم کھاتا ہوں کہ تیسری بات بھی ضرور پوری ہو کر رہے گی کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات برحق ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8795]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8795]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، من أجل أبي عبيدة: وهو ابن حذيفة بن اليمان، وقد توبع على أكثر حديثه هذا، فأصل الحديث صحيح» [ترقيم الرساله 8795] [ترقيم الشركة 8685] [ترقيم العلميه 8582]
الحكم على الحديث: إسناده حسن
حدیث نمبر: 8796
أخبرنا أبو بكر إسماعيل بن محمد الفقيه بالرَّيّ، حدثنا أبو حاتم محمد بن إدريس، حدثنا محمد بن يزيد بن سِنَان، حدثنا أبي، حدثنا سليمان الأعمَش، عن شَقِيق، عن حُذَيفة بن اليَمَان قال: قال رسول الله ﷺ:"يوشكُ الله أن يَملأَ أيديَكم من العجم، ويجعلَهم أُسْدًا لا يَفِرُّون، فيضربون رقابَكم ويأكلون فَيئَكم" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8583 - بل محمد بن زيد بن سنان واه كأبيه
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8583 - بل محمد بن زيد بن سنان واه كأبيه
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عنقریب اللہ تعالیٰ تمہارے ہاتھوں کو عجمیوں سے بھر دے گا، اور انہیں ایسے شیر بنا دے گا جو (میدانِ جنگ سے) بھاگیں گے نہیں، پس وہ تمہاری گردنیں ماریں گے اور تمہارے اموالِ فئے کھائیں گے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8796]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8796]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، بمرّة لضعف محمد بن يزيد بن سنان وأبيه، وأبوه أشدُّهما ضعفًا، وبهما أعلَّه الذهبي في "تلخيصه"» [ترقيم الرساله 8796] [ترقيم الشركة 8686] [ترقيم العلميه 8583]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
105. يَكُونُ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ يَتْرُكُونَ مِنَ السُّنَّةِ
تم پر ایسے حکمران ہوں گے جو سنت کو ترک کر دیں گے
حدیث نمبر: 8797
حدثنا أبو حفص أحمد بن أَحيَد (1) الفقيه ببُخارَى، حدثنا صالح بن محمد بن حَبيب الحافظ، حدثنا أبو بكر بن أبي شَيْبة، حدثنا أبو أسامة قال: سمعت سفيان بن سعيد يقول: أخبرنا الأعمش، أخبرنا أبو عمّار، عن صِلَةَ بن زُفَر، عن عبد الله بن مسعود قال: يكون عليكم أمراءُ يتركون من السُّنة مثلَ هذا. وأشار إلى أصل إصبَعه. وإن تركتموهم جاؤوا بالطامَّةِ الكُبرى، وإنها لم تكن أُمَّةٌ إلَّا كان أولَ ما يتركون من دينهم السُّنّةُ، وآخرَ ما يَدَعُون الصلاةُ، ولولا أنهم يَستَحيُون ما صَلَّوْا (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8584 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8584 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”تم پر ایسے حکمران مسلط ہوں گے جو سنت کو اتنا چھوڑ دیں گے“ اور انہوں نے اپنی انگلی کے پورے کی طرف اشارہ کیا۔ ”اور اگر تم نے انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیا تو وہ بڑی مصیبت لے آئیں گے، اور حقیقت یہ ہے کہ جس امت نے بھی اپنے دین کو چھوڑا اس کی ابتدا سنت کو ترک کرنے سے ہوئی اور سب سے آخری چیز جسے وہ چھوڑیں گے وہ نماز ہوگی، اور اگر انہیں لوگوں سے حیا نہ آتی تو وہ نماز بھی نہ پڑھتے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8797]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8797]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8797] [ترقيم الشركة 8687] [ترقيم العلميه 8584]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8798
أخبرنا علي بن محمد بن عُقْبة الشَّيباني بالكوفة، حدثنا محمد بن علي بن عفان العامري، حدثنا محمد بن عُبيد الطَّنافِسي، حدثنا يوسف بن صُهيب، حدثني موسى بن أبي المختار، عن بلال بن يحيى العَبْسي، عن حُذَيفة قال: بَعَثَ رسولُ الله ﷺ بعثًا إلى دُومةِ الجَندَل فقال:"انطلِقوا، فإنكم تَجِدُون أُكَيدِرَ دُومةَ خارجًا يقتنصُ الصيدَ، فخذوه أخْذًا"، فانطلَقوا فوجدوه كما قال لهم،، فأَخَذوه. وتحصَّنَ أهلُ المدينة وأَشرَفوا على المسلمين يكلِّمونهم، قال: يقول رجلٌ من المسلمين لبعض مَن أشرَفَ: أذكِّرُك الله، هل تجدون محمدًا في كتابِكم؟ قال: لا، قال آخرُ إلى جنبِه: نجدُه في كتابنا يُشبِه قريشيات (1) ، يَخطِرُه قلمٌ من الشيطان، فقال الرجل: يا أبا بكر، أليس قد كَفَرَ هؤلاء؟ قال: بلى، وأنتم ستَكفُرون. فلما رجع الجيشُ وخرج مُسيلِمةُ يتنبَّأ، قال الرجل لأبي بكر: أمَا تَذكُر قولَك ونحن بدُومةِ جَندلٍ: وأنتم سوف تكفرون؟ ذاك أمرُ مُسيلِمةَ؟ قال: لا، ذاك في آخرِ الزمان (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8585 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8585 - صحيح
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دومۃ الجندل کی طرف ایک لشکر روانہ فرمایا اور ہدایت دی: ”تم جاؤ، تم دومہ کے حاکم اکیدر کو بستی سے باہر شکار کھیلتے ہوئے پاؤ گے، پس اسے گرفتار کر لینا“، چنانچہ وہ گئے اور اسے اسی حال میں پایا جیسا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا، پھر انہوں نے اسے پکڑ لیا۔ اس دوران شہر والے قلعہ بند ہو گئے اور مسلمانوں کو اوپر سے جھانک کر ان سے باتیں کرنے لگے، ایک مسلمان نے کسی قلعہ والے سے کہا: میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں، کیا تم اپنی کتاب میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر پاتے ہو؟ اس نے کہا: نہیں، تب اس کے برابر کھڑے ایک دوسرے شخص نے کہا: ہم اپنی کتاب میں انہیں پاتے ہیں جو قریش جیسی صفات کے حامل ہیں (مگر ساتھ ہی کچھ نازیبا کلمات کہے)۔ اس مسلمان نے پوچھا: اے ابوبکر! کیا یہ لوگ کافر نہیں ہو گئے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں، اور تم بھی عنقریب کفر کرو گے۔ پھر جب لشکر واپس آگیا اور مسیلمہ کذاب نے نبوت کا دعویٰ کیا تو اس شخص نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا آپ کو اپنا وہ قول یاد ہے جو آپ نے دومۃ الجندل میں کہا تھا کہ تم بھی کفر کرو گے؟ کیا اس سے مراد مسیلمہ کا یہ معاملہ تھا؟ انہوں نے فرمایا: نہیں، بلکہ وہ آخری زمانے میں ہوگا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8798]
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8798]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لجهالة موسى بن أبي المختار، فقد تفرد بالرواية عنه يوسف بن صهيب، ولم يؤثر توثيقه عن غير ابن حبان، وبلال بن يحيى لم يسمع من حذيفة، فهو منقطع» [ترقيم الرساله 8798] [ترقيم الشركة 8688] [ترقيم العلميه 8585]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لجهالة موسى بن أبي المختار
106. ذِكْرُ خُرُوجِ السُّفْيَانِيِّ مِنْ دِمَشْقَ وَهَلَاكِهِ
دمشق سے سفیانی کے خروج اور اس کی ہلاکت کا تذکرہ
حدیث نمبر: 8799
حدثنا أبو محمد أحمد بن عبد الله المُزَني، حدثنا زكريا بن يحيى السَّاجِي، حدثنا محمد بن إسماعيل بن أبي سَمِينة، حدثنا الوليد بن مُسلِم، حدثنا الأوزاعي، عن يحيى بن أبي كَثير، عن أبي سَلَمة، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"يخرج رجلٌ يقال له: السُّفْياني، في عُمْق دمشقَ، وعامَّةُ من يَتبَعُه من كَلْب، فيَقتُل حتى يَبقُرَ بطونَ النساءِ ويَقتُلَ الصِّبيان، فتَجمَعُ لهم قيسٌ فيقتلُها حتى لا تَمنَعَ ذَنَبَ تَلْعةٍ، ويخرج رجلٌ من أهل بيتي في الحَرَم فيَبلُغُ السُّفيانيَّ، فيبعثُ إليه جُندًا من جنده (1) ، فيَهزِمُهم، فيسير إليه السُّفيانيُّ بمن معه، حتى إذا صار ببَيداءَ من الأرض خُسِفَ بهم، فلا يَنجُو منهم إلَّا المُخبِرُ عنهم" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8586 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8586 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دمشق کے کسی دور افتادہ مقام سے ایک شخص نکلے گا جسے سفیانی کہا جائے گا، اس کے اکثر پیروکار قبیلہ بنو کلب سے ہوں گے، وہ اس قدر قتل و غارت کرے گا کہ عورتوں کے پیٹ چاک کر دے گا اور بچوں کو قتل کر دے گا، ان کے مقابلے کے لیے قبیلہ قیس جمع ہوگا مگر وہ انہیں اس طرح مٹا دے گا کہ کوئی بچانے والا نہ رہے گا، پھر میرے اہل بیت میں سے ایک شخص حرم (مکہ) میں ظاہر ہوگا، سفیانی اس کی طرف اپنا ایک لشکر بھیجے گا مگر وہ لشکر شکست کھا جائے گا، پھر سفیانی خود اپنے لاؤ لشکر سمیت اس کی طرف بڑھے گا، یہاں تک کہ جب وہ زمین کے ایک چٹیل میدان (بیداء) میں پہنچیں گے تو انہیں زمین میں دھنسا دیا جائے گا اور ان میں سے سوائے اس شخص کے کوئی نہ بچے گا جو ان کی خبر دے گا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8799]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8799]
تخریج الحدیث: «غريب منكر، رجال إسناده ثقات إلّا أنَّ الوليد بن مسلم كان معروفًا بتدليس التسوية، وهو أن يسقط من الإسناد شيخَ شيخه أو مَن فوقه، وقد فعل هذا بالأوزاعي، ففي ترجمته من "تاريخ دمشق" لابن عساكر 63/ 291 أنَّ الهيثم بن خارجة قال له: قد أفسدتَ حديث الأوزاعي؛ وذكر له أنَّ ...» [ترقيم الرساله 8799] [ترقيم الشركة 8689] [ترقيم العلميه 8586]
الحكم على الحديث: غريب منكر
حدیث نمبر: 8800
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مسدَّد، حدثنا المعتمِر بن سليمان قال: سمعت حُميدًا، حدثنا الحسن، حدثني حِطَّانُ بن عبد الله الرَّقَاشي: أنهم أَقبلوا مع أبي موسى من غزاةٍ، فلما نزلوا مَنزلًا قال: كنا نتحدَّث أنَّ بين يدي الساعةِ هَرْجًا، قالوا: وما الهَرْجُ أيها الأمير؟ قال: القتلُ، قلنا: أكثرَ مما نَقتلُ؟! إنا نقتلُ في السَّنة إن شاء الله أكثرَ من مئة ألف، قال: ليس قتلَكم المشركين، ولكنْ قتلُ بعضِكم بعضًا، قال: قلنا: ومعنا عقولُنا يومئذٍ؟! قال أبو موسى: تُنزَعُ عقولُ أكثر ذلك الزمان، ويَخلُفُ هَباءٌ من الناس، يَحسَبُ أكثرُهم أنهم على شيءٍ، والله ما أَجِدُ لي ولكم إنْ هي أدرَكَتْني وإياكم فيما نَقرأُ من كتاب ربِّنا وفيما عَهِدَ إلينا نبُّينا، إلّا أن نَخرُجَ منها كما دَخَلْنا فيها (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8587 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8587 - على شرط البخاري ومسلم
حطان بن عبداللہ رقاشی سے روایت ہے کہ وہ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک غزوے سے واپس آ رہے تھے، جب انہوں نے ایک مقام پر پڑاؤ کیا تو انہوں نے فرمایا: ہم یہ تذکرہ کیا کرتے تھے کہ قیامت سے پہلے ”ہرج“ ہوگا، لوگوں نے دریافت کیا: اے امیر! ہرج سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے فرمایا: ”قتل“، ہم نے عرض کیا: کیا اس سے بھی زیادہ جتنا ہم اب قتل کرتے ہیں؟ ہم تو سال بھر میں اللہ کے حکم سے ایک لاکھ سے زائد (دشمنوں کو) قتل کر دیتے ہیں، انہوں نے فرمایا: ”وہ مشرکین کا قتل نہیں ہوگا بلکہ تمہارا ایک دوسرے کو قتل کرنا ہوگا“، ہم نے عرض کیا: کیا اس وقت ہمارے ہوش و حواس قائم ہوں گے؟ سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اس زمانے کے اکثر لوگوں کی عقلیں سلب کر لی جائیں گی اور پیچھے ایسے لوگ بچیں گے جن کی حیثیت گرد و غبار جیسی ہوگی، ان میں سے اکثر یہ گمان کریں گے کہ وہ کسی حق بات پر ہیں، اللہ کی قسم! اپنے اور تمہارے لیے میں اس صورتحال میں کوئی بچاؤ کی راہ نہیں پاتا جس کا ذکر ہم اللہ کی کتاب اور اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات میں پڑھتے ہیں، سوائے اس کے کہ ہم اس دنیا سے ویسے ہی بے گناہ نکل جائیں جیسے اس میں داخل ہوئے تھے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8800]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8800]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8800] [ترقيم الشركة 8690] [ترقيم العلميه 8587]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
107. ذِكْرُ شَيْطَانِ الرَّدْهَةِ
شيطان الردهہ (ایک فتنے یا بد روح) کا تذکرہ
حدیث نمبر: 8801
حدثنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا بِشْر بن موسى، حدثنا الحُمَيدي [عن سفيان] (1) عن العلاء بن أبي العبَّاس - وكان شيعيًّا - عن أبي الطُّفيل، عن بكر بن قِرْواش، سمع سعدَ بن أبي وقَّاص يقول: قال رسول الله ﷺ:"شيطانُ الرَّدْهة يَحتدِرُه (2) رجلٌ من بَجِيلةَ يقال له: الأشهب - أو ابن الأشهب - راعي الخيل - أو راعي للخيل (3) - عَلَامةٌ في القوم الظَّلَمة" (4) .
هذا حديث صحيح الإسناد (1) ، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8588 - ما أبعده من الصحة وأنكره
هذا حديث صحيح الإسناد (1) ، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8588 - ما أبعده من الصحة وأنكره
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ردہہ (نامی گڑھے یا مقام) کے شیطان کو قبیلہ بجیلہ کا ایک شخص زیر کرے گا جسے اشہب — یا ابن اشہب — کہا جاتا ہوگا، وہ گھوڑوں کا چرواہا ہوگا، وہ (اس وقت کے) ظالم لوگوں کے درمیان ایک (نمایاں) علامت ہوگا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8801]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8801]
تخریج الحدیث: «إسناده محتمل للتحسين، رجاله ثقات معروفون غير بكر بن قرواش، فقد تفرَّد بالرواية عنه أبو الطفيل عامر بن واثلة، الذي هو معدود في صغار الصحابة، فهذا يدل على أنَّ بكر بن قرواش هذا من كبار التابعين إذ لم تثبت له صحبة، ورواية مثل أبي الطفيل عنه تقوية لأمره، وذكره ابن ...» [ترقيم الرساله 8801] [ترقيم الشركة 8691] [ترقيم العلميه 8588]
الحكم على الحديث: إسناده محتمل للتحسين
حدیث نمبر: 8802
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بكَّار بن قُتيبة القاضي، حدثنا أبو داود الطَّيالِسي، حدثنا شَيْبان بن عبد الرحمن، عن منصور، عن رِبْعيِّ بن حِرَاش، عن البراء بن ناجيَة الكاهِلي، عن عبد الله بن مسعود، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"تدورُ رَحَا الإسلام لخمسٍ وثلاثين، أو ستٍّ وثلاثين، فإن يَهلِكوا فسبيلُ مَن هَلَك، وإن يَقُمْ لهم دينُهم يَقُمْ لهم سبعين عامًا" فقال عمر: يا رسول الله، بما مَضَى أو بما بقيَ؟ قال:"بما بَقِيَ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. حديثٌ إسنادُه خارجَ شرط الكتب الثلاث (1) ، أخرجتُه تعجُّبًا، إذ هو قريبٌ ممَّا نحن فيه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8589 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. حديثٌ إسنادُه خارجَ شرط الكتب الثلاث (1) ، أخرجتُه تعجُّبًا، إذ هو قريبٌ ممَّا نحن فيه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8589 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام کی چکی پینتیس یا چھتیس (سال) تک گردش کرتی رہے گی، پس اگر وہ (اہلِ اسلام) ہلاک ہو گئے تو یہ ان لوگوں کی راہ ہوگی جو (پہلے) ہلاک ہو چکے، اور اگر ان کا دین ان کے لیے برقرار رہا تو وہ ستر سال تک قائم رہے گا۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! (ستر سال کی اس مدت میں) وہ وقت بھی شامل ہے جو گزر چکا ہے یا اس سے مراد وہ وقت ہے جو ابھی باقی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ وقت جو ابھی باقی ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اس حدیث کی سند کتبِ ثلاثہ کی شرط سے خارج ہے، میں نے اسے اس باب سے علمی مناسبت کی بنا پر ذکر کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8802]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اس حدیث کی سند کتبِ ثلاثہ کی شرط سے خارج ہے، میں نے اسے اس باب سے علمی مناسبت کی بنا پر ذکر کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8802]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد محتمل للتحسين من أجل البراء بن ناجية كما سبق بيانه برقم (4599)» [ترقيم الرساله 8802] [ترقيم الشركة 8692] [ترقيم العلميه 8589]
الحكم على الحديث: حديث صحيح
108. يَلِدُ الْمُؤْمِنُ فَلَا يَمُوتُ إِلَى أَرْبَعِينَ سَنَةً بَعْدَ خُرُوجِ الدَّابَّةِ
دابۃ الارض کے خروج کے بعد مومن کے ہاں بچہ پیدا ہوگا اور وہ چالیس سال تک نہیں مرے گا
حدیث نمبر: 8803
أخبرني أبو بكر محمد بن المؤمَّل، حدثنا الفضل بن محمد بن المسيَّب، حدثنا نُعيم بن حمّاد، حدثنا ابن لَهِيعة، عن عبد الوهاب بن حسين (2) ، عن محمد بن ثابت البُنَاني، عن أبيه، عن الحارث، عن عبد الله بن مسعود، عن النبي ﷺ قال:"خروجُ الدابَّةِ بعد طلوع الشمس من مَغربِها [فإذا خَرَجَت] قَتَلَت (3) إبليسَ وهو ساجدٌ، ويَتمتَّع المؤمنون في الأرض بعد ذلك أربعين سنةً، لا يَتمنَّونَ شيئًا إلَّا أُعطُوه ووَجَدُوه، ولا جَوْرَ ولا ظُلَم، وقد أسلَمَ الأشياءُ لرب العالمين طَوْعًا وكَرْهًا، والسَّبُعُ والطيرُ كَرْهًا، حتى إنَّ السَّبُع لا يؤذي دابةً ولا طيرًا، ويلدُ المؤمنُ فلا يموت حتى يُتِمَّ أربعين سنةً بعد خروج دابَّةِ الأرض، ثم يعودُ فيهم الموتُ فيمكُثون كذلك ما شاءَ اللهُ، ثم يُسرِعُ الموتُ في المؤمنين فلا يبقى مؤمنٌ، فيقول الكافر: قد كنَّا مَرعُوبِين من المؤمنين، فلم يبقَ منهم أحدٌ، وليس تُقبَل منا توبةٌ، فما لنا لا نَتهارجُ؟! فيتهارَجُون في الطريق تَهارُجَ البهائمِ، ثم يقوم أحدُهم بأمِّه وأختِه وابنتِه فتُنكَحُ وسطَ الطريق، يقومُ عنها واحدٌ ويَنزُو عليها آخرُ، لا يُنكِرُ ولا يغيِّرُ، فأفضلُهم يومئذٍ من يقول: لو تَنحَّيتم عن الطريق كان أحسنَ، فيكونون بذلك حتى لا يبقى أحدٌ من أولاد النِّكاح، ويكون أهلُ الأرض أولادَ السِّفَاح فيَمكثُون بذلك ما شاء الله، ثم يُعقِرُ اللهُ أرحامَ النساء ثلاثين سنةً، لا تَلِدُ امرأةٌ، ولا يكون في الأرض طفلٌ، ويكون كلُّهم أولادَ الزنى شِرارَ الناس، وعليهم تقومُ الساعةُ" (1) . محمد بن ثابت بن أسلمَ البُناني من أعزِّ البصريين وأولادِ التابعين حديثًا، إلَّا أنَّ عبد الوهاب بن الحسين مجهولٌ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8590 - ذا موضوع والسلام
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8590 - ذا موضوع والسلام
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دابة الارض کا خروج سورج کے مغرب سے طلوع ہونے کے بعد ہوگا، پس جب وہ نکلے گا تو ابلیس کو اس حال میں قتل کر دے گا کہ وہ سجدے میں ہوگا، اور اس کے بعد چالیس سال تک اہل ایمان زمین پر عیش و آرام سے رہیں گے، وہ جس چیز کی تمنا کریں گے انہیں عطا کر دی جائے گی اور وہ اسے پا لیں گے، وہاں نہ کوئی ظلم ہوگا نہ زیادتی، اور تمام اشیاء رب العالمین کے سامنے خوشی یا ناخوشی سے سرِ تسلیم خم کر چکی ہوں گی، یہاں تک کہ درندے اور پرندے بھی (ناخوشی سے ہی سہی) تابع ہوں گے، یہاں تک کہ کوئی درندہ کسی جانور یا پرندے کو ایذا نہیں پہنچائے گا، اور مومن کے ہاں بچہ پیدا ہوگا تو وہ دابة الارض کے نکلنے کے بعد چالیس سال پورے کیے بغیر فوت نہیں ہوگا، پھر ان میں دوبارہ موت کا سلسلہ شروع ہو جائے گا اور وہ جب تک اللہ چاہے گا اسی حال میں رہیں گے، پھر اہل ایمان میں تیزی سے اموات ہوں گی یہاں تک کہ کوئی مومن باقی نہیں رہے گا، تب کافر کہیں گے: ہم مومنوں سے مرعوب تھے اب ان میں سے کوئی باقی نہیں رہا اور اب ہماری توبہ بھی قبول نہیں کی جائے گی، تو پھر ہمیں کیا ہوا کہ ہم جانوروں کی طرح ایک دوسرے کے ساتھ بدکاری نہ کریں؟! چنانچہ وہ راستوں میں چوپایوں کی طرح ایک دوسرے پر گریں گے (بدکاری کریں گے)، پھر ان میں سے کوئی اپنی ماں، بہن اور بیٹی کے ساتھ راستے کے بیچ میں بدکاری کرے گا، ایک فارغ ہو کر اٹھے گا تو دوسرا اس پر چڑھ جائے گا، کوئی اس پر نہ تو اعتراض کرے گا اور نہ اسے روکے گا، اس دن ان میں سے بہترین وہ شخص ہوگا جو یہ کہے گا: اگر تم راستے سے ہٹ کر یہ کام کرتے تو زیادہ اچھا ہوتا، وہ اسی حال میں رہیں گے یہاں تک کہ نکاح سے پیدا ہونے والی اولاد میں سے کوئی باقی نہیں رہے گا اور تمام روئے زمین پر صرف حرام زادے (ناجائز اولاد) باقی رہ جائیں گے، پس وہ جب تک اللہ چاہے گا اسی حال میں رہیں گے، پھر اللہ تعالیٰ تیس سال تک عورتوں کے رحم بانجھ کر دے گا، کوئی عورت بچہ نہیں جنے گی اور زمین پر کوئی بچہ نہیں ہوگا، وہ سب کے سب بدترین لوگ اور زنا کی اولاد ہوں گے اور انہی پر قیامت قائم ہوگی۔“
محمد بن ثابت بن اسلم بنانی کی حدیث اہل بصرہ اور اولادِ تابعین کی روایات میں بہت قیمتی ہے، البتہ عبد الوہاب بن حسین مجہول ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8803]
محمد بن ثابت بن اسلم بنانی کی حدیث اہل بصرہ اور اولادِ تابعین کی روایات میں بہت قیمتی ہے، البتہ عبد الوہاب بن حسین مجہول ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8803]
تخریج الحدیث: «إسناده واهٍ، ابن لهيعة سيئ الحفظ، وعبد الوهاب بن حسين لا يُعرف وهو مجهولٌ كما قال المصنف، ومحمد بن ثابت» [ترقيم الرساله 8803] [ترقيم الشركة 8693] [ترقيم العلميه 8590]
الحكم على الحديث: إسناده واهٍ
حدیث نمبر: 8804
أخبرني الحسين بن حَليم (2) المروَزي، أخبرنا أبو الموجِّه، أخبرنا عَبْدانُ (3) ، أخبرنا عبد الله، أخبرنا سفيان، عن المغيرة بن النُّعمان، حدثنا عبد الله بن يزيد الباهِليّ، حدثنا الأحنَف بن قيس قال: كنتُ بالمدينة فإذا أنا برجل يَفِرُّ الناسُ منه حين يَرَونَه، فقلت: ما أنت؟ قال: أنا أبو ذرٍّ، صاحبُ رسول الله ﷺ، قلت: ما يُفِرُّ الناسَ منك؟ قال: أنهاهم عن الكُنوز بالذي كان يَنهاهم رسولُ الله ﷺ، قال: قلت: فإنَّ أُعطِياتِنا قد ارتفَعَت اليومَ وبَلَغَت، هل تخافُ علينا شيئًا؟ قال: أمَّا اليومَ فلا، ولكنها تُوشِكُ أن تكون أثمانَ دِينِكم، فإذا كانت أثمانَ دينِكم فدَعُوها وإيَّاكم (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8591 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8591 - صحيح
احنف بن قیس سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں مدینہ منورہ میں تھا کہ اچانک میری نظر ایک ایسے شخص پر پڑی جسے دیکھتے ہی لوگ بھاگ کھڑے ہوتے تھے، میں نے پوچھا: آپ کون ہیں؟ انہوں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا صحابی ابوذر ہوں، میں نے عرض کیا: لوگ آپ سے کیوں بھاگ رہے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: میں انہیں خزانے جمع کرنے سے اس طرح منع کرتا ہوں جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں منع فرمایا کرتے تھے، میں نے عرض کیا: آج تو ہمارے وظائف اور آمدنی بہت بڑھ چکی ہے، کیا آپ کو ہمارے بارے میں کسی چیز کا خوف ہے؟ انہوں نے فرمایا: ”آج کے دن تو نہیں، لیکن عنقریب یہ وظائف تمہارے دین کی قیمت بن جائیں گے، پس جب یہ تمہارے دین کی قیمت بن جائیں تو انہیں چھوڑ دینا اور ان سے بچ کر رہنا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8804]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8804]
تخریج الحدیث: «صحيح، وهذا إسناد محتمل للتحسين من أجل عبد الله بن يزيد الباهلي» [ترقيم الرساله 8804] [ترقيم الشركة 8694] [ترقيم العلميه 8591]
الحكم على الحديث: صحيح