🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
96. مَنْ قَرَأَ سُورَةُ الْكَهْفَ لَمْ يُسَلَّطْ عَلَيْهِ الدَّجَّالُ
جس نے سورہ کہف کی تلاوت کی، دجال اس پر غالب نہیں آ سکے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8775
أخبرني عَبْدانُ بن يزيد الدَّقّاق بهَمَذان، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا عفّان، حدثنا حمّاد بن سَلَمة، عن يونس بن عُبيد، عن الحسن، عن سَمُرةَ بن جُندُب، عن النبي ﷺ قال:"تُوشِكون أن يَملأَ اللهُ أيَديكم من العَجَم، فيكونون أُسْدًا لا (2) يَفِرُّون، ويقتلون مُقاتلتَكم، ويأكلون فَيْئَكم (3) " (4) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8563 - صحيح
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عنقریب ایسا وقت آئے گا کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ہاتھوں کو عجمیوں سے بھر دے گا، پھر وہ (میدانِ جنگ میں) ایسے شیر ثابت ہوں گے جو فرار نہیں ہوں گے، وہ تمہارے جنگجوؤں کو قتل کریں گے اور تمہارے اموالِ غنیمت کو کھائیں گے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8775]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وسماع الحسن» [ترقيم الرساله 8775] [ترقيم الشركة 8666] [ترقيم العلميه 8563]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8776
حدثنا أبو بكر إسماعيل بن محمد بن إسماعيل الفقيه بالرَّيّ، حدثنا أبو بكر بن الفَرَج الأزرق، حدثنا حَجّاج بن محمد، حدثنا عبد الملك بن قُدَامة الجُمَحي، عن إسحاق بن بكر، عن سعيد بن أبي سعيد، عن أبيه، عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ أنه قال:"سيأتي على الناس سِنُونَ يُصدَّقُ فيها الكاذبُ، ويُكذَّب فيها الصادق، ويُخوَّن فيها الأَمين (1) ، ويَنطِقُ فيها الرُّوَيبِضةُ" قال: قيل: يا رسول الله، وما الرُّويبضة؟ قال:"السَّفيهُ يتكلَّم في أمرِ العامَّةِ" (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8564 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں پر ایسے دھوکے والے سال آئیں گے جن میں جھوٹے کی تصدیق کی جائے گی اور سچے کو جھٹلایا جائے گا، امانت دار کو خائن قرار دیا جائے گا اور ان میں رویبضہ کلام کرے گا۔ عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول! یہ رویبضہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ بے وقوف اور کم ظرف شخص جو عوام کے (سیاسی و سماجی) معاملات میں گفتگو کرے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8776]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبد الملك بن قدامة وجهالة إسحاق بن بكر» [ترقيم الرساله 8776] [ترقيم الشركة 8667] [ترقيم العلميه 8564]

الحكم على الحديث: حديث حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8777
قال ابن قُدَامة: وحدثني يحيى بنُ سعيد الأنصاري، عن المَقبُري (3) قال:"وتَشِيعُ فيها الفاحشةُ".
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، وهو من حديث يحيى بن سعيد الأنصاريِّ عن المَقبُري غريبٌ جدًّا.
ابن قدامہ یحییٰ بن سعید انصاری کے واسطے سے مقبری سے روایت کرتے ہیں کہ: اور اس دور میں بے حیائی و فحاشی عام ہو جائے گی۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور یحییٰ بن سعید انصاری کی مقبری سے یہ روایت انتہائی غریب ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8777]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 8777] [ترقيم الشركة 8667]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8778
أخبرني عبد الله بن محمد بن زياد العَدْل، حدثنا محمد بن إسحاق الإمام، حدثنا محمد بن محمد بن مرزُوق، حدثنا صالح بن عمر بن شعيب قال: سمعت جدِّي شعيب بن عُمر الأزرق قال: حَجَجْنا فمررنا بطريق المُنكدِر، وكان الناسُ إذ ذاك يأخذون فيه، فضَلَلْنا الطريقَ، قال: فبَيْنا نحن كذلك، إذا نحن بأعرابيٍّ كأنما نَبَعَ علينا من الأرض، فقال: يا شيخُ، تدري أين أنت؟ قلت: لا، قال: أنت بالرَّبائب، وهذا التلُّ الأبيض الذي تراه عِظامُ بكرِ بن وائل وتَغلِبَ، وهذا قبر كُلَيب وأخيه مُهلهِل (1) ، قال: فدلَّنا على الطريق، ثم قال: هاهنا رجلٌ له من النبي ﷺ، صُحْبةٌ، هل لكم فيه؟ قال: فقلت: نعم، قال: فذَهَبَ بنا إلى شيخ معصوب الحاجبَين بعِصابةٍ في قُبَّةِ أَدَم، فقلنا له: من أنت؟ قال: أنا العَدَّاءُ بن خالد [ابن] (2) فارسِ الضَّحْياءِ في الجاهلية، قال: فقلنا له: حدِّثْنا رَحِمَك اللهُ عن النبي ﷺ بحديث، قال: كنا عند النبي ﷺ إذ قام قَومةً له كأنه مُفزَّع ثم رَجَعَ، فقال:"أُحذَّرُكم الدَّجّالين الثلاثَ"، فقال ابن مسعود: بأبي أنت وأمِّي يا رسول الله، قد أخبرتَنا عن الدجال الأعوَر، وعن أكذب الكذّابين، فمن الثالث؟ فقال:"رجلٌ يخرجُ في قوم أوّلُهم مَثبورٌ وآخرُهم مَثبور، عليهم اللعنةُ دائبةً، في فتنةِ الجارفة، وهو الدجّال الأكْيَس، يأكلُ عِبادَ الله بآلِ محمدٍ، وهو أبعدُ الناس من سُنَّتِه" (3) . من شرط الإمام أبي بكر محمد بن إسحاق ﵁ إذا رَوَى حديثًا لا يصحِّحُه أن يقول في راويه (1) : قد روي عن فلان وفلان، وأنا لا أعرفُه بعدالةٍ كذى وكذى، وقد خرَّج هذا الحديثَ على شرط الصحيح، وهو القُدْوة في هذا العِلْم (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8565 - الحديث منكر بمرة
صالح بن عمر بن شعیب اپنے دادا شعیب بن عمر الازرق سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: ہم حج کے لیے نکلے اور مقامِ منکدر والے راستے سے گزرے، ان دنوں لوگ اسی راستے سے جایا کرتے تھے، پس ہم راستہ بھٹک گئے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم اسی کیفیت میں تھے کہ اچانک ایک دیہاتی ہمارے سامنے نمودار ہوا گویا وہ زمین سے نکل آیا ہو، اس نے پوچھا: اے شیخ! کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ کہاں ہیں؟ میں نے کہا: نہیں، اس نے کہا: آپ مقامِ ربائب میں ہیں، اور یہ سفید ٹیلا جو آپ دیکھ رہے ہیں یہ (قبائل) بکر بن وائل اور تغلب کی ہڈیاں ہیں، اور یہ کلیب اور اس کے بھائی مہلہل کی قبر ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ پھر اس نے ہمیں راستہ بتایا اور کہا: یہاں ایک صاحب موجود ہیں جنہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کا شرف حاصل ہے، کیا آپ ان سے ملنا چاہیں گے؟ میں نے کہا: جی ہاں، پس وہ ہمیں ایک بزرگ کے پاس لے گیا جن کی پیشانی پر پٹی بندھی ہوئی تھی اور وہ چمڑے کے ایک خیمے میں مقیم تھے، ہم نے ان سے پوچھا: آپ کون ہیں؟ انہوں نے کہا: میں زمانہ جاہلیت میں «فارس الضَّحْياءِ» کے لقب سے مشہور العداء بن خالد ہوں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے ان سے عرض کیا: اللہ آپ پر رحم فرمائے، ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث سنائیں، انہوں نے کہا: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ اچانک آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح اٹھ کھڑے ہوئے جیسے سخت گھبرا گئے ہوں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے اور فرمایا: میں تمہیں تین دجالوں سے ڈراتا ہوں۔ اس پر سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کانے دجال اور سب سے بڑے جھوٹے کذاب کے بارے میں تو بتا دیا ہے، یہ تیسرا کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ شخص جو ایسی قوم میں ظاہر ہوگا جس کے اول و آخر سب ہلاک و برباد ہونے والے ہیں، ان پر دائمی لعنت ہوگی، وہ فتنہ «الجارفة» (تباہ کن فتنے) کے دور میں ہوگا، وہ سب سے زیادہ چالاک اور مکار دجال ہوگا جو آلِ محمد کے نام پر اللہ کے بندوں کا استحصال کرے گا، حالانکہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے سب سے زیادہ دور ہوگا۔
امام ابوبکر محمد بن اسحاق کا یہ قاعدہ ہے کہ جب وہ ایسی حدیث روایت کریں جسے وہ صحیح نہ سمجھتے ہوں تو اس کے راوی کے بارے میں کہہ دیتے ہیں کہ اس سے فلاں فلاں نے روایت کی ہے اور میں اس کی عدالت و دیانت سے واقف نہیں ہوں، جبکہ انہوں نے اس حدیث کو شرطِ صحیح پر روایت کیا ہے اور وہ اس علمِ حدیث میں مقتدیٰ اور پیشوا ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8778]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف بمرّة لجهالة صالح بن عمر بن شعيب وجدِّه، وصالح بن عمر لم نقف له على ترجمة، وأما جده فذكره البخاري في "التاريخ الكبير" 4/ 224 وابن أبي حاتم في "الجرح والتعديل" 4/ 350» [ترقيم الرساله 8778] [ترقيم الشركة 8668] [ترقيم العلميه 8565]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف بمرّة لجهالة صالح بن عمر بن شعيب وجدِّه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
97. لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَظْهَرَ الْفُحْشُ وَالتَّفَحُّشُ
قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک بے حیائی اور فحش گوئی عام نہ ہو جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8779
أخبرنا أحمد بن عثمان بن يحيى المقرئ ببغداد، حدثنا أحمد بن محمد بن عيسى القاضي، حدثنا عبد الله بن رجاءٍ، حدثنا هَمَّام، حدثنا قَتَادة، ابن بُرَيدة، عن أبي سَبْرة الهُذَلي قال: لَقِيتُ عبدَ الله بن عمرو، فحدَّثني حديثًا عن النبي ﷺ، ففهِمتُه وكتبتُه بيدي: بسم الله الرحمن الرحيم، هذا ما حدَّثَ عبدُ الله بن عمرو عن محمدٍ رسول الله ﷺ، قال:"إنَّ الله لا يحبُّ الفاحشَ ولا المتفحِّشَ". ثم قال:"والذي نفسُ محمدٍ بيده، لا تقومُ الساعةُ حتى يَظهرَ الفُحْشُ والتفحُّشُ، وسوءُ الجِوار، وقَطيعةُ الأرحام، وحتى يُخوَّنَ الأمينُ ويُؤتَمنَ الخائن". ثم قال:"إنما مَثلُ المؤمن كمَثلِ النَّحلة، وَقَعَت فأَكَلَت طيِّبًا، ثم سَقَطَت ولم تُفسِدْ ولم تَكسِرُ، ومَثلُ المؤمن كمَثلِ القِطْعة [من] الذهب الأحمر أُدخِلَت النارَ فنُفِخَ عليها، فلم تَغيَّرْ، ووُزِنَت فلم تَنقُصْ" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8566 - صحيح
ابوسبرہ ہذلی بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے ملا، تو انہوں نے مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث بیان کی، میں نے اسے بخوبی سمجھا اور اپنے ہاتھ سے لکھا: «بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ» یہ وہ (فرمان) ہے جو عبداللہ بن عمرو نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلاشبہ اللہ تعالیٰ فحش بکنے والے اور بے حیائی کی باتیں کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک کہ فحش گوئی، بے حیائی، برا پڑوس اور رشتوں کو توڑنا عام نہ ہو جائے، اور یہاں تک کہ امانت دار کو خائن اور خائن کو امانت دار نہ قرار دیا جانے لگے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن کی مثال شہد کی مکھی جیسی ہے، جو بیٹھتی ہے تو پاکیزہ چیز کھاتی ہے، پھر (کسی ٹہنی یا پھول پر) اترتی ہے تو اسے خراب نہیں کرتی اور نہ ہی اسے توڑتی ہے، اور مومن کی مثال سرخ سونے کے اس ٹکڑے کی سی ہے جسے آگ میں ڈالا جائے اور اس پر پھونک ماری جائے تو وہ نہ تبدیل ہوتا ہے اور نہ ہی وزن کرنے پر اس میں کوئی کمی آتی ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8779]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وإسناده قابل للتحسين» [ترقيم الرساله 8779] [ترقيم الشركة 8669] [ترقيم العلميه 8566]

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
98. يَأْتِي زَمَانٌ تُمْطِرُ السَّمَاءُ وَلَا تُنْبِتُ الْأَرْضُ
ایسا زمانہ آئے گا کہ آسمان سے بارش تو ہوگی مگر زمین سے نباتات نہیں اگیں گی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8780
حدثنا الحسن بن يعقوب بن يوسف العَدْل: قال يحيى بن أبي طالب: حدثنا زيد بن الحُبَاب، حدثنا حسين بن واقد قال: معاذُ بن حَرمَلة الأزديُّ قال: سمعتُ أنسَ بنَ مالك يقول: قال رسول الله ﷺ:"يأتي على الناس زمانٌ تُمطِرُ السماءُ مطرًا (1) ، ولا تُنبِتُ الأرضُ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8567 - صحيح
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ آسمان سے خوب بارش برسا کرے گی لیکن زمین کچھ نہیں اگائے گی۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8780]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد محتمل للتحسين من أجل معاذ بن حرملة، فهو تابعي لم يذكر بجرح أو تعديل، وقد تفرَّد بالرواية عنه حسين بن واقد، وذكره ابن حبان في "الثقات" 5/ 423، وقد توبع على حديثه، وباقي رجال الإسناد لا بأس بهم» [ترقيم الرساله 8780] [ترقيم الشركة 8670] [ترقيم العلميه 8567]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
99. ذِكْرُ السَّفَّاحِ وَالْمُنْذِرِ وَالْمَنْصُورِ
سفاح، منذر اور منصور (نامی حکمرانوں) کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8781
أخبرنا أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه إملاءً ببغداد، قال: قُرئَ على يحيى بن جعفر (3) بن الزِّبرِقان وأنا أسمعُ، حدثنا خَلَف بن تَميم أبو عبد الرحمن الكوفي، حدثنا إسماعيل بن إبراهيم بن المهاجِر، عن أبيه، عن مجاهد قال: قال لي عبد الله بن عباس: لو لم أسمَعْ (4) أنك مثلُ أهل البيت ما حدَّثتُك بهذا الحديث، قال: فقال مجاهد: فإنه في سِتْر لا أذكرُه لمن تَكرَه، قال: فقال ابن عباس: منَّا أهلَ البيت أربعةٌ: منّا السَّفّاح، ومنّا المُنذِر، ومنّا المنصور، ومنّا المَهْدي، قال: فقال له مجاهد: فبيِّنْ لي هؤلاءِ الأربعةَ، فقال: أما السَّفّاحُ فربما قَتَل أنصارَه وعَفَا عن عدوِّه، وأما المنذِر قال: فإنه يُعطي المالَ الكثير لا يَتعاظمُ في نفسه، ويُمسِك القليلَ من حقِّه، وأما المنصور فإنه يُعطَى النَّصرَ على عدوّه الشَّطرَ مما كان يُعطَى رسولُ الله ﷺ، يُرعَب منه عدوُّه على مَسِيرة شهرين، والمنصور يُرعَب عدوُّه منه على مَسِيرة شهر، وأما المَهْديُّ الذي يملأُ الأرضَ عدلًا كما مُلِئَت جَوْرًا، وتَأمَنُ البهائمُ السَّباعَ، وتُلقي الأرضُ أفلاذَ كَبِدِها قال: قلت: وما أفلاذُ كبدِها؟ قال: أمثالُ الأُسطوانة من الذهب والفضة (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8568 - أين منه الصحة وإسماعيل مجمع على ضعفه وأبوه ليس بذاك
مجاہد بیان کرتے ہیں کہ مجھ سے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اگر میں نے یہ نہ سنا ہوتا کہ تم ہمارے اہل بیت کی طرح ہو تو میں تمہیں یہ حدیث بیان نہ کرتا۔ مجاہد نے کہا: یہ بات راز میں رہے گی، میں اسے کسی ایسے شخص کو نہیں بتاؤں گا جسے آپ ناپسند کرتے ہوں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ہم اہل بیت میں سے چار (خاص شخصیات) ہوں گی: ہم میں سے سفاح، ہم میں سے منذر، ہم میں سے منصور اور ہم میں سے مہدی ہوں گے۔ مجاہد کہتے ہیں کہ میں نے ان سے کہا: میرے لیے ان چاروں کی وضاحت فرمائیں۔ انہوں نے فرمایا: رہا سفاح، تو بسا اوقات وہ اپنے مددگاروں کو قتل کر دے گا اور اپنے دشمن کو معاف کر دے گا۔ اور رہا منذر، تو وہ اس قدر کثیر مال دے گا کہ اسے اپنے دل میں کچھ بڑا نہیں سمجھے گا، اور اپنے حق میں سے معمولی سا حصہ روکے گا۔ اور رہا منصور، تو اسے اپنے دشمن پر اس قدر غلبہ اور نصرت عطا کی جائے گی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دی گئی نصرت کا نصف ہو گی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن پر دو ماہ کی مسافت سے رعب طاری کر دیا جاتا تھا، جبکہ منصور کے دشمن پر ایک ماہ کی مسافت سے رعب طاری کیا جائے گا۔ اور رہے مہدی، تو وہ زمین کو اسی طرح عدل و انصاف سے بھر دیں گے جس طرح وہ ظلم و زیادتی سے بھری ہو گی، چرندے درندوں سے محفوظ ہو جائیں گے، اور زمین اپنے جگر کے ٹکڑے اگل دے گی۔ مجاہد کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا: اس کے جگر کے ٹکڑوں سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے فرمایا: سونے اور چاندی کے ستونوں کی مانند (خزانے)۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8781]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًّا، إسماعيل بن إبراهيم بن المهاجر الجمهور على تضعيفه، ويأتي بعجائب ومناكير، وأبوه ليِّن الحفظ» [ترقيم الرساله 8781] [ترقيم الشركة 8671] [ترقيم العلميه 8568]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف جدًّا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8782
حدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا محمد بن أحمد بن النَّضر، حدثنا معاوية بن عمرو، حدثنا زائدةُ، عن عبد الله بن عثمان بن خُثَيم، عن نافع بن سَرجِسَ، عن أبي هريرة قال: قال النبي ﷺ:"غَشِيَتكم الفتنُ كَقِطَع الليل المُظلِم، أَنجى الناس فيها رجلٌ صاحبُ شاهقةٍ يأكل من رِسْلِ غنمِه، أو رجلٌ آخدٌ بعِنَان فرسِه من وراءِ الدُّروب يأكل من سيفِه" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8569 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم پر فتنے اندھیری رات کے ٹکڑوں کی طرح چھا جائیں گے، ان (فتنوں کے دور) میں لوگوں میں سب سے زیادہ محفوظ وہ شخص ہوگا جو کسی پہاڑ کی چوٹی پر مقیم ہو اور اپنی بکریوں کا دودھ پی کر گزارا کرے، یا وہ شخص جو سرحدوں کے پیچھے اپنے گھوڑے کی لگام تھامے ہوئے ہو اور اپنی تلوار کی کمائی سے کھائے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8782]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن كما سلف بيانه برقم (2491) زائدة: هو ابن قُدامة» [ترقيم الرساله 8782] [ترقيم الشركة 8672] [ترقيم العلميه 8569]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
100. ذِكْرُ فِتْنَةٍ يَهْرَمُ فِيهَا الْكَبِيرُ، وَيَرْبُو فِيهَا الصَّغِيرُ
ایک ایسے فتنے کا تذکرہ جس میں بوڑھا ضعیف ہو جائے گا اور بچہ جوان ہو جائے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8783
حدثنا أبو الطيِّب محمد بن الحسن الحِيرِي، حدثنا محمد بن عبد الوهاب، حدثنا يَعلَى بن عُبيد، حدثنا الأعمش، عن شَقِيق قال: قال عبد الله: كيف أنتم إذا لَبِسَتكم (1) فتنةٌ يَهرَمُ فيها الكبير، ويَربُو فيها الصغير، ويتخذها الناسُ سُنّةً، فإذا غُيِّرَت قالوا: غُيِّرَت السُّنة، قيل: متى ذلك يا أبا عبد الرحمن (2) ؟ قال: إذا كَثُرَت قرّاؤُكم [وقلَّتْ فقهاؤُكم، وكَثُرَت أُمراؤُكم، وقلَّتْ أُمناؤُكم] (3) والتُمِسَت الدنيا بعمل الآخرة (4) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8570 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: تمہارا کیا حال ہوگا جب تمہیں وہ فتنہ اپنی لپیٹ میں لے لے گا جس میں بڑا بوڑھا ہو جائے گا اور بچہ جوان ہو جائے گا، اور لوگ اس (فتنے) کو سنت (باقاعدہ طریقہ کار) بنا لیں گے، پس جب اس میں کبھی کوئی تبدیلی کی جائے گی تو لوگ کہیں گے کہ سنت بدل دی گئی ہے۔ عرض کیا گیا: اے ابو عبدالرحمن! یہ کب ہوگا؟ انہوں نے فرمایا: جب تمہارے قراء (قرآن پڑھنے والے) کثرت سے ہوں گے مگر فقہاء (دین کی گہری سمجھ رکھنے والے) کم ہو جائیں گے، تمہارے حکمران بہت ہوں گے لیکن امانت دار لوگ کم رہ جائیں گے، اور جب آخرت کے اعمال کے ذریعے دنیا طلب کی جائے گی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8783]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 8783] [ترقيم الشركة 8673] [ترقيم العلميه 8570]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
101. ابْكُوا عَلَى الدِّينِ إِذَا وَلِيَهُ غَيْرُ أَهْلِهِ
دین پر اس وقت آنسو بہاؤ جب اس کے حکمران نااہل لوگ بن جائیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8784
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا العباس بن محمد بن حاتم الدُّوري، حدثنا أبو عامر عبد الملك بن عَمْرو العَقَدي، حدثنا كَثير بن زيد، عن داود بن أبي صالح قال: أَقبل مروانُ يومًا، فوَجَدَ رجلًا واضعًا وجهَه على القبر، فأَخذ برَقَبتِه، وقال: أتدري ما تصنعُ؟ قال: نعم فأقبل عليه، فإذا هو أبو أيوب الأنصاريُّ، فقال: جئتُ رسولَ الله ﷺ ولم آتِ الحَجَر، سمعت رسول الله ﷺ يقول:"لا تَبكُوا على الدِّين إذا وَلِيَه أهلُه، ولكن ابكُوا عليه إذا وَلِيَه غيرُ أهلِه" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8571 - صحيح
داود بن ابی صالح سے روایت ہے کہ ایک دن مروان آیا تو اس نے ایک شخص کو اپنا چہرہ (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی) قبر مبارک پر رکھے ہوئے پایا، مروان نے اس شخص کو گردن سے پکڑا اور کہا: کیا تم جانتے ہو کہ تم کیا کر رہے ہو؟ جب وہ شخص مروان کی طرف متوجہ ہوا تو وہ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ تھے، انہوں نے (مروان کے جواب میں) فرمایا: ہاں (مجھے بخوبی علم ہے)، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا ہوں، میں کسی پتھر کے پاس نہیں آیا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: دین پر اس وقت آنسو نہ بہاؤ جب اس کے ذمہ دار اس کے اہل (صالح اور حق دار) لوگ ہوں، بلکہ اس وقت دین پر گریہ و زاری کرو جب اس کے والی و وارث وہ لوگ بن جائیں جو اس کے اہل نہ ہوں۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8784]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8784] [ترقيم الشركة 8674] [ترقيم العلميه 8571]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں