🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
130. السَّاعَةُ كَالْحَامِلِ الْمُتِمِّ لَا يَدْرِي أَهْلُهَا مَتَى تَفْجَأُهُمْ
قیامت اس حاملہ عورت کی طرح ہے جس کے دن پورے ہو چکے ہوں، اس کے گھر والوں کو نہیں پتہ کہ وہ کب اچانک ظاہر ہو جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8854
أخبرني أبو الطيّب محمد بن الحسن الحِيري، حدثنا محمد بن عبد الوهاب، حدثنا يعلى بن عُبيد، حدثنا إسماعيل بن أبي خالد، عن قيس بن أبي حازم قال: خرج حُذَيفةُ بظَهْر الكوفة ومعه رجلٌ، فالْتفَتَ إلى جانب الفُرات، فقال لصاحبه: كيف أنتم يومَ تراهم يَخرُجون أو يُخرَجون منها لا يَذُوقون منها قطْرةً؟! قال رجل: وتظنُّ ذاك يا أبا عبد الله؟! قال: ما أظنُّه، ولكن أَعلمُه (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8640 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ کوفہ کے باہر نکلے اور ان کے ساتھ ایک شخص تھا، انہوں نے فرات کی جانب دیکھا اور اپنے ساتھی سے فرمایا: تمہارا اس وقت کیا حال ہوگا جب تم انہیں دیکھو گے کہ وہ وہاں سے نکل رہے ہوں گے یا نکالے جا رہے ہوں گے اور اس (فرات) کے پانی کا ایک قطرہ تک نہیں چکیں گے؟ ایک شخص نے پوچھا: اے ابو عبداللہ! کیا آپ کا ایسا خیال ہے؟ انہوں نے فرمایا: میرا خیال نہیں بلکہ میں یہ بات (یقین سے) جانتا ہوں۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8854]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8854] [ترقيم الشركة 8744] [ترقيم العلميه 8640]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8855
حدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا محمد بن غالب، حدثنا عفَّان بن مسلم ومسلم بن إبراهيم قالا: حدثنا شُعْبة، عن عمرو بن مُرَّة قال: سمعت أبا البَخْتَري يحدِّث عن أبي ثَوْر قال: كنت جالسًا مع حُذيفة وأبي مسعود حيث ردَّ أهلُ الكوفة سعيدَ بن العاص يومَ الجَرَعة، فقال أبو مسعود: ما كنت أظنُّ أن يَرجِعَ ولم يُهرِقُ فيها دمًا، فقال حذيفة: لكني والله علمتُ أنا سنرجعُ على عَقِبها ولم يُهرَقْ فيها محِجمةُ دم، وما علمتُ من ذاك شيئًا إلَّا شيئًا (2) علمتُه ومحمدٌ ﷺ حيٌّ، أنَّ الرجل يصبحُ مؤمنًا ويُمسي كافرًا ما معه من دينه شيءٌ، ويمسي مؤمنًا ويصبح وما معه من دينه شيءٌ، يقاتل في فتنة اليوم ويقتلُه الله ﷿ غدًا، يُنكَّس قلبَه وتَعلُوه اسْتُه، قلت: أسفلُه؟ قال: استُه (3) (4) .
ابو ثور سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں سیدنا حذیفہ اور سیدنا ابو مسعود رضی اللہ عنہما کے ساتھ اس وقت بیٹھا ہوا تھا جب اہل کوفہ نے یومِ جرعہ کے موقع پر سعید بن عاص کو واپس لوٹا دیا تھا، تب ابو مسعود نے کہا: میرا خیال نہیں تھا کہ وہ (سعید) خون بہائے بغیر واپس چلا جائے گا، اس پر حذیفہ نے فرمایا: لیکن اللہ کی قسم! میں جانتا تھا کہ ہم اسی طرح واپس ہو جائیں گے اور اس معاملے میں ایک پچھنے کے برابر بھی خون نہیں بہایا جائے گا، اور مجھے اس بارے میں کسی چیز کا علم نہیں تھا سوائے اس کے جو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں سیکھا تھا کہ: آدمی صبح کے وقت مومن ہوگا اور شام کو اس حال میں کرے گا کہ وہ کافر ہو چکا ہوگا اور اس کے پاس اس کے دین میں سے کچھ نہیں ہوگا، اور وہ شام کو مومن ہوگا اور صبح اس حال میں کرے گا کہ اس کے پاس اس کے دین میں سے کچھ نہ ہوگا، وہ آج کے فتنے میں لڑے گا اور اللہ عزوجل اسے کل ہلاک کر دے گا، اس کا دل الٹ دیا جائے گا اور اس کا نچلا حصہ اوپر آ جائے گا، میں نے پوچھا: کیا اس کا نچلا حصہ؟ انہوں نے فرمایا: ہاں اس کی پیٹھ (یعنی وہ ذلیل و خوار ہو جائے گا)۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8855]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن» [ترقيم الرساله 8855] [ترقيم الشركة 8745]

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8856
حدثنا أبو الحسين علي بن عبد الرحمن السَّبِيعي بالكوفة، حدثنا أحمد ابن حازم بن (1) أبي غَرَزة، حدثنا عُبيد الله بن موسى، أخبرنا سفيان الثَّوْري، عن عمرو بن قيس المُلَائي، عن عطيَّة، عن ابن عمر في هذه الآية: ﴿وَإِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَيْهِمْ أَخْرَجْنَا لَهُمْ دَابَّةً مِنَ الْأَرْضِ تُكَلِّمُهُمْ﴾ [النمل: 82] قال: إذا لم يَأمُروا بالمعروف، ولم يَنهَوْا عن المنكَر (2) .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے اس آیت ﴿وَإِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَيْهِمْ أَخْرَجْنَا لَهُمْ دَابَّةً مِنَ الْأَرْضِ تُكَلِّمُهُمْ﴾ [سورة النمل: 82] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: (یہ اس وقت ہوگا) جب لوگ نیکی کا حکم نہیں دیں گے اور برائی سے نہیں روکیں گے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8856]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف عطية: وهو ابن سعد العَوْفي» [ترقيم الرساله 8856] [ترقيم الشركة 8746]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
131. يَقْرَأُ الْقُرْآنَ ثَلَاثَةٌ: مُؤْمِنٌ وَمُنَافِقٌ وَفَاجِرٌ
قرآن پڑھنے والے تین طرح کے ہیں: مومن، منافق اور فاجر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8857
أخبرنا الحسين بن الحسن بن أيوب، حدثنا عبد الله بن أحمد بن زكريا بن أبي مَسَرّة، حدثنا عبد الله بن يزيد المقرئ، حدثنا حَيوة بن شُريح، حدثني بَشِير بن أبي عمرو الخَوْلاني، أنَّ الوليد بن قيس التُّجِيبي حدَّثه، أنه سمع أبا سعيد الخُدْري يقول: سمعت رسول الله ﷺ يقول: يكون خَلْفٌ من بعدِ ستينَ سنةً أضاعوا الصلاة واتَّبَعوا الشَّهَواتِ، فسوف يلقون غَيًّا، ثم يكون خَلْفٌ من بعدِ ستينَ سنةً يقرؤُون القرآنَ لا يَعدُو تَراقِيهَم، ويقرأُ القرآنَ ثلاثةٌ: مؤمنٌ، ومنافقٌ، وفاجرٌ". قال بشير: فقلتُ للوليد: ما هؤلاءِ الثلاثةُ؟ قال: المنافق كافرٌ به، والفاجر يتأكَّلُ به، والمؤمن يؤمنُ به (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8643 - صحيح
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ساٹھ سال کے بعد ایسے نااہل لوگ پیدا ہوں گے جو نماز کو ضائع کر دیں گے اور اپنی خواہشات کی پیروی کریں گے، پس وہ عنقریب تباہی (غی) سے دوچار ہوں گے، پھر ساٹھ سال کے بعد ایسے نااہل لوگ ہوں گے جو قرآن تو پڑھیں گے مگر وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، اور قرآن تین طرح کے لوگ پڑھیں گے: مومن، منافق اور بدکار۔ بشیر کہتے ہیں کہ میں نے ولید سے پوچھا: ان تینوں سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے کہا: منافق اس کا انکار کرنے والا ہے، بدکار اس کے ذریعے (دنیا) کھانے والا ہے اور مومن اس پر ایمان لانے والا ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8857]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن» [ترقيم الرساله 8857] [ترقيم الشركة 8747] [ترقيم العلميه 8643]

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8858
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى الشَّهيد والفضل بن محمد بن المسيَّب الشَّعْراني قالا: حدثنا إسماعيل بن أبي أُويس، حدثني زُفَر بن عبد الرحمن بن أردَكَ، عن محمد بن سليمان بن والبةَ، عن سعيد بن جُبير، عن أبي هريرة، عن رسول الله ﷺ أنه قال:"والذي نفسُ محمدٍ بيدِه، لا تقومُ الساعةُ حتى يظهرَ الفُحْشُ والبخلُ، ويُخوَّنَ الأمينُ ويُؤتَمَنَ الخائنُ، وَيهلِكَ الوُعولُ ويظهرَ التُّحوتُ" فقالوا: يا رسول الله، وما الوعولُ، وما التُّحوت؟ قال:"الوعولُ وجوهُ الناسِ وأشرافُهم، والتُّحوتُ الذين كانوا تحتَ أقدام الناسِ لا يُعلَمُ بهم" (1) .
هذا حديث رواتُه كلهم مدنيُّون ممَّن لم يُنسَبوا إلى نوعٍ من الجَرْح.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے! قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک کہ بے حیائی اور بخل ظاہر نہ ہو جائے، امانت دار کو خائن اور خائن کو امانت دار سمجھا جانے لگے، اور وعول ہلاک ہو جائیں جبکہ تحوت غالب آ جائیں۔ صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! وعول اور تحوت کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وعول سے مراد لوگوں کے معزز اور شریف طبقے کے لوگ ہیں، اور تحوت سے مراد وہ لوگ ہیں جو لوگوں کے پیروں تلے (گمنام اور پست) تھے جن کا کوئی ذکر نہیں ہوتا تھا۔
اس حدیث کے تمام راوی مدنی ہیں اور ان میں سے کوئی بھی جرح کا شکار نہیں ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8858]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، وهذا إسناد فيه ضعف إسماعيل بن أبي أويس ليس بذاك القوي إلّا أنه يعتبر به في المتابعات والشواهد، وهو قد توبع على حديثه هذا لكن من غير هذا الوجه عن أبي هريرة، ومحمد بن سليمان بن والبة قد انفرد بالرواية عنه زفر بن عبد الرحمن، وهذا بدوره انفرد ...» [ترقيم الرساله 8858] [ترقيم الشركة 8748]

الحكم على الحديث: حديث حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8859
حدثنا أبو الفضل الحسن بن يعقوب بن يوسف العَدْل، حدثنا محمد بن عبد الوهاب بن حَبيب العَبْدي، حدثنا جعفر بن عَوْن العَمْري، أخبرنا أبو حيَّان التَّيْمي، عن أبي زُرْعة بن عمرو بن جَرِير قال: جلس إلى مروانَ ثلاثةُ نَفَرٍ بالمدينة، فسمعوه يحدِّثُ عن الآيات: أوّلُها خروجُ الدجال، فقام النَّفَرُ من عند مروان فجلسوا إلى عبد الله بن عمرو، فحدَّثوه بما قال مروان، فقال عبد الله: لم يقل مروانُ شيئًا، سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"إنَّ أول الآيات خُروجًا طلوع الشمس من مَغرِبها والدابَّةُ، أيُّها كانت فالأُخرى على أَثرِها قريبًا". ثم أنشأَ يحدِّث، قال:"وذلك أنَّ الشمس إذا غَرَبَت أتَت تحت العَرْشِ فَسَجَدَت، واستأذَنَت في الرجوع، فيُؤذَن لها، حتى إذا أراد الله أن تَطلُعَ من مغربها أتت تحت العرش فسجدت، واستأذَنَت في الرجوع، فلم يُرَدَّ عليها شيءٌ، قال: ثم تعودُ تستأذنُ في الرجوع، فلم يُرَدَّ عليها شيءٌ، قال: ثم تعودُ تستأذنُ في الرجوع، فلا يُرَدُّ عليها، وعَلِمَت أَنْ لو أُذِنَ لها لم تُدرِكِ الشرقَ، قالت: يا ربِّ، ما أبعدَ المَشْرِقَ! مَن لي بالناس؟ حتى إذا كان الليلُ أنت فاستأذَنَت، فقال لها: اطلُعِي من مكانِك". قال: وكان عبد الله يقرأ الكتبَ، فقرأ وذلك يومَ ﴿لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا﴾ [الأنعام: 158] (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
ابو زرعہ بن عمرو بن جریر سے روایت ہے کہ مدینہ منورہ میں تین افراد مروان کے پاس بیٹھے، انہوں نے اسے قیامت کی نشانیوں کے متعلق گفتگو کرتے ہوئے سنا کہ ان میں سے پہلی نشانی دجال کا خروج ہے، وہ لوگ مروان کے پاس سے اٹھ کر سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے پاس آئے اور انہیں مروان کی کہی ہوئی بات بتائی، تو سیدنا عبداللہ نے فرمایا: مروان نے کچھ نہیں کہا (یعنی اس کی بات صحیح نہیں ہے)، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: خروج کے اعتبار سے پہلی بڑی نشانیاں سورج کا اپنے مغرب سے طلوع ہونا اور دابة الارض کا نکلنا ہیں، ان میں سے جو بھی پہلے ظاہر ہوگی، دوسری اس کے فوراً بعد ہوگی۔ پھر انہوں نے تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا: اور یہ اس طرح ہوگا کہ سورج جب غروب ہوتا ہے تو عرش کے نیچے آکر سجدہ کرتا ہے اور واپس جانے کی اجازت مانگتا ہے، تو اسے اجازت دے دی جاتی ہے، یہاں تک کہ جب اللہ تعالیٰ اسے مغرب سے طلوع کرنا چاہے گا تو وہ عرش کے نیچے آکر سجدہ کرے گا اور واپسی کی اجازت مانگے گا، مگر اسے کوئی جواب نہیں دیا جائے گا، پھر وہ دوبارہ اجازت مانگے گا مگر اسے کوئی جواب نہیں دیا جائے گا، پھر وہ تیسری بار اجازت مانگے گا تو اسے کوئی جواب نہیں دیا جائے گا، تب وہ جان لے گا کہ اگر اسے اجازت مل بھی گئی تو وہ مشرق تک نہیں پہنچ پائے گا، وہ عرض کرے گا: اے میرے رب! مشرق کتنا دور ہے! لوگوں تک مجھے کون پہنچائے گا؟ یہاں تک کہ جب رات طویل ہوجائے گی تو وہ اجازت مانگے گا، تو اس سے کہا جائے گا: اپنے مقام (مغرب) ہی سے طلوع ہوجاؤ۔ سیدنا عبداللہ چونکہ پرانی کتابیں پڑھا کرتے تھے، پس انہوں نے اس موقع کے متعلق یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا﴾ کسی ایسے شخص کو اس کا ایمان نفع نہیں دے گا جو اس سے پہلے ایمان نہ لایا ہو یا اس نے اپنے ایمان میں کوئی بھلائی نہ کمائی ہو۔ [سورة الأنعام: 158]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8859]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8859] [ترقيم الشركة 8749]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
132. إِذَا وَقَعَتِ الْمَلَاحِمُ خَرَجَ بَعْثٌ مِنَ الْمَوَالِي، هُمْ أَكْرَمُ الْعَرَبِ
جب عظیم جنگیں (ملاحم) چھڑیں گی تو موالی (آزاد کردہ غلاموں) کا ایک لشکر نکلے گا جو عربوں میں سب سے معزز ہوگا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8860
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا عبد الله بن يوسف التِّنِّيسي، حدثنا أبو حفصٍ القاصُّ عثمانُ بن أبي العاتكة، حدثنا سليمان بن حَبيب المُحارِبي، عن أبي هريرة قال: سمعت رسول الله ﷺ يقول:"إذا وَقَعَت الملاحمُ، خرج بَعْثٌ من المَوالي من دمشقَ، هم أكرمُ العرب فَرَسًا، وأجودُه سلاحًا، يؤيِّد اللهُ بهم الدِّين" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8646 - على شرط مسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جب بڑی جنگیں (ملاحم) واقع ہوں گی، تو دمشق سے غیر عرب مسلمانوں (موالی) کا ایک لشکر نکلے گا، وہ گھڑ سواری میں عربوں میں سب سے زیادہ معزز اور اسلحہ کے اعتبار سے سب سے عمدہ ہوں گے، اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے دینِ اسلام کی تائید و نصرت فرمائے گا۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8860]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف من أجل عثمان بن أبي العاتكة، فقد اختُلف فيه والراجح ضعفه فيما انفرد به، ففي أفراده مناكير، وقد انفرد بهذا الحديث» [ترقيم الرساله 8860] [ترقيم الشركة 8750] [ترقيم العلميه 8646]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف من أجل عثمان بن أبي العاتكة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8861
أخبرني [علي بن] (1) الفضل بن محمد بن عَقِيل بن خُوَيلد الخُزَاعي، حدثنا أَبي، عن أبيه، أخبرنا حفص بن عبد الله، حدثني إبراهيم بن طَهْمان، عن الحجَّاج بن الحجَّاج، عن قَتَادة، عن المهلَّب بن أبي صُفْرة، عن عبد الله بن عمرو بن العاص قال: قال رسول الله ﷺ:"تُبعَثُ نارٌ على أهل المشرق فتَحشرُهم إلى المغرب، تبِيتُ معهم حيث باتُوا، وتَقِيلُ معهم حيث قالُوا، يكون لها ما سَقَطَ منهم وتَخلَّف، تَسوقُهم سَوْقَ الجملِ الكَسِير" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8647 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اہلِ مشرق پر ایک آگ بھیجی جائے گی جو انہیں ہنکا کر مغرب کی طرف لے جائے گی، وہ آگ وہیں رات گزارے گی جہاں وہ لوگ رات گزاریں گے اور وہیں دوپہر کا آرام (قیلولہ) کرے گی جہاں وہ آرام کریں گے، جو ان میں سے گرے گا یا پیچھے رہ جائے گا وہ آگ اسے اپنی لپیٹ میں لے لے گی، وہ انہیں اس طرح ہنکائے گی جیسے کسی زخمی یا تھکے ہوئے اونٹ کو ہنکایا جاتا ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8861]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، فإنَّ المحفوظ فيه: قتادة عن عمر بن سيف عن المهلَّب، هكذا وقع في "مشيخة ابن طهمان" (61) برواية أحمد بن حفص بن عبد الله السَّلمي عن أبيه» [ترقيم الرساله 8861] [ترقيم الشركة 8751] [ترقيم العلميه 8647]

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8862
أخبرنا أبو بكر محمد بن عبد الله بن أحمد بن عَتَّابِ العَبْدي (1) ، حدثنا يحيى بن جعفر بن أبي طالب، حدثنا علي بن عاصم، عن داود بن أبي هِند، عن أبي حَرْب بن أبي الأسود، حدثني طَلْحة النَّصْري (2) ، قال: كان الرجلُ منا إذا قَدِمَ المدينة فكان له بها عَريفٌ نزل على عريفه، وإن لم يكن له بها عريفٌ نزل الصُّفّةَ، فقدمتُ المدينةَ ولم يكن لي بها عريفٌ، فنزلتُ الصُّفّةَ، وكان يجيءُ علينا من رسول الله ﷺ كلَّ يومٍ مُدٌّ من تمرٍ بين اثنين، ويَكسُونا الخُنُفَ، فصلَّى بنا رسول الله ﷺ بعضَ صلوات النهار، فلما سلَّم ناداه أهلُ الصفة يمينًا وشِمالًا: يا رسولَ الله، أحرَقَ بطونَنا التمرُ، وتخرَّقَت عنا الخُنُفُ، فقام رسول الله ﷺ إلى منبره فصَعِدَ فَحَمِدَ الله وأثنى عليه، ثم ذكر شدَّةَ ما لقي من قومه، حتى قال:"ولقد أَتى عليَّ وعلى صاحبِي بضعَ عشرةَ ما لي وله طعامٌ إلَّا البَرِيرُ" - قال: فقلت لأبي حربٍ: وأيُّ شيءٍ البريرُ؟ قال: طعامُ سَوءٍ؛ ثمرُ الأَراك - فقَدِمْنا على إخواننا هؤلاءِ من الأنصار وعظيمُ طعامِهم التمرُ، فواسَوْنا فيه، ووالله لو أَجِدُ لكم الخبزَ واللحمَ لأَشبعتُكم منه، ولكن عسى أن تُدرِكوا زمانًا - أو من أدركه منكم - يُغدَى ويُراحُ عليكم بالجِفَان، وتَلبَسون مثلَ أستار الكعبة". قال داود قال لي أبو حَرْب: يا داود، وهل تدري ما كان أستارُ الكعبة يومئذٍ؟ قلت: لا، قال: ثيابٌ بِيضٌ كان يُؤتَى بها من اليمن. قال: داود: فحدَّثتُ بهذا الحديث الحسنَ بن [أبي] (1) الحسن، فقال: وقال رسول الله ﷺ:"أنتم اليومَ خيرٌ منكم يومئذٍ، أنتم اليومَ إخوانٌ بنِعْمة الله، وأنتم يومئذٍ أعداءٌ يضربُ بعضُكم رقابَ بعض" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8648 - صحيح
طلحہ نصری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم میں سے جب کوئی شخص مدینہ آتا اور اس کا وہاں کوئی جان پہچان والا (نقیب) ہوتا تو وہ اس کے پاس ٹھہرتا، اور اگر کوئی جان پہچان والا نہ ہوتا تو وہ صفہ میں قیام کرتا؛ چنانچہ میں مدینہ آیا اور وہاں میرا کوئی جان پہچان والا نہ تھا، اس لیے میں صفہ میں ٹھہر گیا؛ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے روزانہ دو آدمیوں کے درمیان ایک مد کھجوریں ملتی تھیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں باریک سوتی کپڑا (خنف) پہناتے تھے، ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دن کی کوئی نماز پڑھائی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو اہل صفہ نے دائیں بائیں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پکارا: اے اللہ کے رسول! کھجوروں نے ہمارے پیٹ جلا دیے ہیں اور ہمارے کپڑے تار تار ہو چکے ہیں؛ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے منبر کی طرف بڑھے، اس پر جلوہ افروز ہوئے، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور پھر ان تکالیف کا ذکر فرمایا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قوم سے اٹھائی تھیں، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے اور میرے ساتھی پر دس سے زیادہ دن ایسے گزرے کہ ہمارے پاس پیلو کے پھل «البَرِيرُ» کے علاوہ کھانے کو کچھ نہ تھا — راوی کہتے ہیں کہ میں نے ابو حرب سے پوچھا: بریر کیا ہے؟ انہوں نے کہا: وہ معمولی درجے کی خوراک ہے یعنی درختِ اراک کا پھل — پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر ہم اپنے ان انصاری بھائیوں کے پاس آئے جن کی بڑی خوراک کھجوریں تھیں، انہوں نے اس میں ہماری غمخواری کی؛ اللہ کی قسم! اگر میں تمہارے لیے روٹی اور گوشت پاتا تو تمہیں ضرور سیر ہو کر کھلاتا، لیکن ممکن ہے کہ تم اس زمانے کو پا لو — یا تم میں سے جو اسے پائے گا — کہ تمہارے پاس صبح و شام کھانے کے بڑے پیالے لائے جائیں گے اور تم کعبہ کے پردوں جیسے لباس پہنو گے۔ داود کہتے ہیں کہ مجھ سے ابو حرب نے پوچھا: اے داود! کیا تمہیں معلوم ہے کہ اس زمانے میں کعبہ کے پردے کیسے ہوتے تھے؟ میں نے کہا: نہیں، تو انہوں نے کہا: وہ سفید کپڑے تھے جو یمن سے لائے جاتے تھے؛ داود کہتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث حسن بصری کو سنائی تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا تھا: تم آج کے دن اس مستقبل کے دن سے بہتر ہو، تم آج اللہ کی نعمت سے بھائی بھائی ہو، جبکہ اس دن تم ایک دوسرے کے دشمن ہو گے اور ایک دوسرے کی گردنیں مارو گے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8862]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل علي بن عاصم، ففيه ضعف إلّا أنه يعتبر به» [ترقيم الرساله 8862] [ترقيم الشركة 8752] [ترقيم العلميه 8648]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
133. لَا يَذْهَبُ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ حَتَّى تُعْبَدَ اللَّاتُ وَالْعُزَّى
دن اور رات اس وقت تک ختم نہیں ہوں گے جب تک (دوبارہ) لات اور عزیٰ کی پوجا نہ ہونے لگے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8863
أخبرنا أبو الحسين محمد بن أحمد بن تَمِيم الأصمّ بقَنطَرَةِ بَرَدَان (3) ، حدثنا أبو قِلَابة، حدثنا أبو عاصم، حدثنا عبد الحميد بن جعفر، حدثنا سُوَيد بن العلاء. وإنما هو الأسود بن العلاء؛ قد أخرج مسلمٌ عن الأسود بن العلاء. حدَّثَنيهِ محمدُ بن عبد الله الفقيه ﵀، حدثنا أبو حامد بن الشَّرْقي، حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا أبو عاصم، حدثنا عبد الحميد بن جعفر (4) ، حدثنا الأسود بن العلاء، عن أبي سَلَمة، فذكره بنحوه. وقد حدَّثَناه أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيْباني، حدثنا إبراهيم بن عبد الله السَّعْدي، حدثنا أبو عاصم الضَّحّاك بن مخلَد، حدثنا عبد الحميد بن جعفر، حدثنا الأسود بن العلاء، عن أبي سَلَمة بن عبد الرحمن بن عَوْف، عن عائشة قالت: سمعت رسول الله ﷺ يقول:"لا يذهبُ الليلُ والنهارُ حتى تُعبَدَ اللَّاتُ والعُزَّى، ويبعثَ الله ريحًا طيِّبًا (5) ، فيَتوفَّى مَن كان في قلبِه مثقالُ حبّةٍ من خَردَلٍ من خيرٍ، فيبقى مَن لا خيرَ فيه، فيرجعون إلى دين آبائهم" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: لیل و نہار اس وقت تک ختم نہیں ہوں گے جب تک (دوبارہ) لات اور عزیٰ کی عبادت نہ کی جائے، پھر اللہ تعالیٰ ایک پاکیزہ ہوا بھیجے گا جو ہر اس شخص کی روح قبض کر لے گی جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی خیر (ایمان) ہوگا، پھر وہی لوگ باقی رہ جائیں گے جن میں کوئی خیر نہیں ہوگی، پس وہ اپنے آباء و اجداد کے (شرکیہ) دین کی طرف لوٹ جائیں گے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8863]
تخریج الحدیث: «إسناده قوي» [ترقيم الرساله 8863] [ترقيم الشركة 8753]

الحكم على الحديث: إسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں