المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
122. ذِكْرُ الْمُؤْمِنِ قَوِيِّ الْإِيمَانِ يَقْتُلُهُ الدَّجَّالُ ثُمَّ يُحْيِيهِ
ایک قوی الایمان مومن کا تذکرہ جسے دجال قتل کر کے دوبارہ زندہ کرے گا
حدیث نمبر: 8835
أخبرنا أبو محمد عبد الله بن إسحاق البَغَوي العدل ببغداد، حدثنا جعفر بن محمد بن شاكر، حدثنا محمد بن سابق، حدثنا أبو معاوية شَيْبان بن عبد الرحمن، عن فِراس، عن عطيَّة العَوْفِي، عن أبي سعيد الخُدْري، أنه سمع رسول الله ﷺ يقول:"أَلَا كلُّ نبيٍّ قد أَنذَرَ أمَّتَه الدجالَ، وإنه يومَه هذا قد أكل الطعامَ، وإني عاهدٌ عهدًا لم يَعهَذه نبيٌّ لأمّتِه قبلي، ألا إنَّ عينَه اليمنى ممسوحة، الحَدَقةُ [جاحظةٌ] فلا تَخفَى (2) ، كأنها نُخاعةٌ في جنب حائط، ألا وإنَّ عينه اليسرى كأنها كوكبٌ دُرِّيٌّ، معه مثلُ الجنة ومثلُ النار، فالنارُ روضةٌ خضراءُ والجنةُ غَبراءُ ذاتُ دخان، ألا وإنَّ بين يديه رَجُلين (3) يُنذِران أهلَ القرى، كلَّما دخلا قريةً أُنذِرَ أهلُها، فإذا خرجا منها دخلها أولُ أصحاب الدَّجّال، ويدخل القرى كلَّها غيرَ مكةَ والمدينةِ، حُرِّما عليه. والمؤمنون متفرِّقون في الأرض، فيَجمَعُهم اللهُ له، فيقول رجل من المؤمنين لأصحابه: واللهِ لأَنطلقنَّ إلى هذا الرجل فلأَنظُرَنَّ: هو الذي أَنذَرَنا رسولُ الله ﷺ أم لا، ثم ولَّى، فقال له أصحابه: والله لا نَدعُك، ولو أنَّا نعلمُ أنه يقتلُك إذا أتيتَه خلَّينا سبيلَك، ولكنا نخاف أن يَفتِنَك، فأَبَى عليهم الرجلُ المؤمن إلَّا أن يأتيَه، فانطلق يمشي حتى أَتى مسلَحةً من مَسالحِه، فأخذوه فسألوه: ما شأنُك وما تريد؟ قال لهم: أريد الدجالَ الكذابَ، قالوا: إنك تقول ذلك؟! قال: نعم، فأَرسَلوا إلى الدجال: أنّا قد أخَذْنا [مَن] يقول: كذا وكذا، فنقتلُه أو نرسلُه إليك؟ قال: أَرسِلوه إليَّ، فانطُلِقَ به حتى أُتِيَ به الدجالُ، فلما رآه عَرَفَه لنَعْتِ رسولِ الله ﷺ، فقال له الدجال: ما شأنُك؟ فقال له العبدُ المؤمن: أنت الدجالُ الكذابُ الذي أَنذَرَناك رسولُ الله ﷺ، قال له الدجال: أنت تقولُ هذا؟ قال: نعم، قال له الدجال: أتُطِيعُني فيما أمرتُك أو لأَشُقَّنَّكَ شِقَّينِ؟ فنادى العبدُ المؤمن فقال: أيها الناس، هذا المسيحُ الكذَّابُ، فمَن عصاه فهو في الجنة، ومَن أطاعه فهو في النار، فقال له الدجال: والذي أَحلِفُ به لتُطِيعَنِّي أو لأشُقَّنَّكَ شِقَّين، فنادى العبدُ المؤمن فقال: أيها الناس، هذا المسيحُ الكذَّابُ، فمَن عصاه فهو في الجنة، ومن أطاعه فهو في النار. فمَدَّ برجله فوَضَعَ حديدةً على عَجْبِ ذَنَبِه فشقَّه شِقَّينِ، فلما فُعِلَ به ذلك، قال الدجالُ لأوليائه: أرأيتم إن أحييتُ هذا لكم، ألستم تعلمون أني ربُّكم؟ قالوا: بلى". قال عطيّة: فحدَّثنَي أبو سعيد الخُدْري، أنَّ نبيَّ الله ﷺ قال:"فضرب أحدَ شِقَّيه أو الصعيدَ عنده فاستوى قائمًا، فلما رآه أولياؤُه صدَّقوه وأيقَنوا أنه ربُّهم، وأجابوه واتَّبعوه، قال الدجال للعبد المؤمن: ألا تؤمنُ بي؟ قال له المؤمن: لأنا أشدُّ الآنَ فيك بصيرةً من قبلُ، ثم نادى في الناس: ألا إنَّ هذا المسيحُ الكذَّابُ، فمن أطاعه فهو في النار، ومن عَصَاه فهو في الجنة، فقال الدجال: والذي أَحلِفُ به لَتُطِيعَنِّي أو لأذبحنَّك، أو لأُلقينَّك في النار، فقال له المؤمن: والله لا أُطيعُك أبدًا، فأَمر به فأُضجِعَ"، قال: فقال لي أبو سعيد: إنَّ نبي الله ﷺ قال:"جعل [اللهُ] (1) صفحتين من نُحاسٍ بين تَراقِيهِ ورقبته - قال: وقال أبو سعيد: ما كنت أدري ما النحاسُ قبلَ يومئذٍ - فذهب ليذبحَه فلم يستطع، ولم يُسلَّطْ عليه بعد قتلِه إياه" قال: فإِنَّ نبيَّ الله ﷺ قال:"فأَخذ بيديه ورِجْليه فألقاه في الجنة، وهي غبراءُ ذات دخانٍ يَحْسَبُها النارَ". قال: فقال أبو سعيد: سمعت رسول الله ﷺ يقول:"ذاك الرجلُ أقربُ أمتي مني إذا رُفع إلى درجةٍ يومَ القيامة" (1) . قال: فقال أبو سعيد: ما كان أصحابُ محمدٍ ﷺ يَحسَبون ذلك الرجلَ إِلَّا عمرَ بنَ الخطّاب، حتى سَلَكَ عمرُ سبيلَه. قال: ثم قلت له: فكيف يَهلِكُ؟ قال: الله أعلمُ، قال: فقلت: أخبِرتُ أنَّ عيسى ابن مريم ﵇ هو يهلكُه، فقال: اللهُ أعلمُ، غيرَ أنه يهلكُه اللهُ ومن تَبِعَه، قال: قلت: فمن يكون بعدَه، قال: حدثني نبيُّ الله ﷺ: أنهم يَغرِسون بعدُ الغُروسَ، ويَتَّخِذون من بعدِه الأموال؟! قال: قلت: سبحانَ الله، أبعدَ الدَّجالِ يَغرِسون الغروسَ، ويتخذون من بعدِه الأموال؟! قال: نعم، حدَّثَني بذلك رسولُ الله ﷺ (2) . هذا أعجبُ حديثٍ في ذكر الدجال، تفرَّد به عطيةُ بن سعد عن أبي سعيد الخُدْري، ولم يحتجَّ الشيخان بعطيّة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8621 - عطية ضعيف
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8621 - عطية ضعيف
عطیہ عوفی سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”سن لو! ہر نبی نے اپنی امت کو دجال سے ڈرایا ہے۔ اور وہ آج کے دن کھانا کھا چکا ہے (یعنی پیدا ہو چکا ہے)۔ اور میں تمہیں ایک ایسی پختہ خبر دے رہا ہوں جو مجھ سے پہلے کسی نبی نے اپنی امت کو نہیں دی۔ سن لو! اس کی دائیں آنکھ ممسوح (کانی) ہوگی، اس کی پتلی ابھری ہوئی ہوگی جو چھپی نہیں رہے گی، گویا وہ دیوار کے پہلو میں لگا ہوا بلغم ہو۔ سن لو! اس کی بائیں آنکھ چمکتے ہوئے ستارے کی طرح ہوگی۔ اس کے ساتھ جنت اور جہنم جیسی چیزیں ہوں گی، پس (اس کی) جہنم دراصل ایک سرسبز باغ ہوگا، اور (اس کی) جنت ایک غبار آلود اور دھوئیں والی جگہ ہوگی۔ سن لو! اس کے آگے دو آدمی ہوں گے جو بستیوں والوں کو خبردار کریں گے، وہ جس بستی میں بھی داخل ہوں گے وہاں کے لوگوں کو ڈرائیں گے، پھر جب وہ وہاں سے نکلیں گے تو دجال کے ساتھیوں کا ہراول دستہ اس بستی میں داخل ہو جائے گا۔ اور وہ مکہ اور مدینہ کے سوا تمام بستیوں میں داخل ہوگا، ان دونوں کو اس پر حرام کر دیا گیا ہے۔ اور مومن زمین میں بکھرے ہوئے ہوں گے، پس اللہ انہیں اس کے لیے جمع فرمائے گا۔ تو مومنوں میں سے ایک شخص اپنے ساتھیوں سے کہے گا: اللہ کی قسم! میں اس شخص کے پاس ضرور جاؤں گا اور دیکھوں گا کہ آیا یہ وہی ہے جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ڈرایا تھا یا نہیں، پھر وہ مڑے گا۔ اس کے ساتھی اس سے کہیں گے: اللہ کی قسم ہم تمہیں نہیں چھوڑیں گے (جانے نہیں دیں گے)، اگر ہمیں یہ معلوم ہوتا کہ جب تم اس کے پاس جاؤ گے تو وہ تمہیں قتل کر دے گا تو ہم تمہیں جانے دیتے، لیکن ہمیں ڈر ہے کہ کہیں وہ تمہیں فتنے میں نہ ڈال دے۔ لیکن اس مومن شخص نے ان کی بات ماننے سے انکار کر دیا اور اس کے پاس جانے کی ٹھان لی۔ چنانچہ وہ چل پڑا یہاں تک کہ دجال کی ایک چوکی (محافظوں کے دستے) کے پاس پہنچا۔ انہوں نے اسے پکڑ لیا اور اس سے پوچھا: تمہارا کیا ارادہ ہے اور تم کیا چاہتے ہو؟ اس نے ان سے کہا: میں اس جھوٹے دجال کے پاس جانا چاہتا ہوں۔ انہوں نے کہا: کیا تم یہ بات کہتے ہو؟ اس نے کہا: ہاں۔ تو انہوں نے دجال کی طرف پیغام بھیجا: ہم نے ایک ایسے شخص کو پکڑا ہے جو اس اس طرح کی باتیں کر رہا ہے، کیا ہم اسے قتل کر دیں یا آپ کے پاس بھیجیں؟ اس نے کہا: اسے میرے پاس بھیج دو۔ چنانچہ اسے لے جایا گیا یہاں تک کہ دجال کے سامنے پیش کر دیا گیا۔ جب اس نے اسے دیکھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے اوصاف سے اسے پہچان لیا۔ دجال نے اس سے پوچھا: تمہارا کیا معاملہ ہے؟ اس مومن بندے نے اس سے کہا: تو وہ جھوٹا دجال ہے جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ڈرایا تھا۔ دجال نے اس سے کہا: کیا تو یہ بات کہتا ہے؟ اس نے کہا: ہاں۔ دجال نے اس سے کہا: کیا تو میرے احکامات کی اطاعت کرے گا یا پھر میں تجھے چیر کر دو ٹکڑے کر دوں؟ تو اس مومن بندے نے پکار کر کہا: اے لوگو! یہ جھوٹا مسیح (دجال) ہے، جس نے اس کی نافرمانی کی وہ جنت میں جائے گا، اور جس نے اس کی اطاعت کی وہ جہنم میں جائے گا۔ دجال نے اس سے کہا: اس ذات کی قسم جس کی میں قسم کھاتا ہوں! تو میری اطاعت کر ورنہ میں تجھے چیر کر دو ٹکڑے کر دوں گا۔ مومن بندے نے پھر پکار کر کہا: اے لوگو! یہ جھوٹا مسیح ہے، جس نے اس کی نافرمانی کی وہ جنت میں جائے گا، اور جس نے اس کی اطاعت کی وہ جہنم میں جائے گا۔ پس دجال نے اپنی ٹانگ پھیلائی اور اس کی ریڑھ کی ہڈی کے نچلے حصے پر لوہا رکھ کر اسے چیر کر دو ٹکڑے کر دیا۔ جب اس کے ساتھ یہ سلوک کر لیا گیا تو دجال نے اپنے پیروکاروں سے کہا: تمہارا کیا خیال ہے، اگر میں اسے تمہارے لیے زندہ کر دوں، تو کیا تم یہ نہیں جان لو گے کہ میں تمہارا رب ہوں؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں۔“ عطیہ کہتے ہیں: تو مجھے ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر اس (دجال) نے اس کے دو ٹکڑوں میں سے ایک کو، یا اپنے پاس موجود مٹی کو مارا تو وہ سیدھا کھڑا ہو گیا۔ جب اس کے پیروکاروں نے اسے دیکھا تو اس کی تصدیق کی اور انہیں یقین ہو گیا کہ وہ ان کا رب ہے، اور انہوں نے اسے قبول کر لیا اور اس کی پیروی کی۔ دجال نے اس مومن بندے سے کہا: کیا تم مجھ پر ایمان نہیں لاتے؟ مومن نے اس سے کہا: اب تو میں تیرے بارے میں پہلے سے بھی زیادہ بصیرت (یقین) رکھتا ہوں۔ پھر اس نے لوگوں میں پکار کر کہا: سن لو! یہ جھوٹا مسیح ہے، جس نے اس کی اطاعت کی وہ جہنم میں جائے گا، اور جس نے اس کی نافرمانی کی وہ جنت میں جائے گا۔ دجال نے کہا: اس ذات کی قسم جس کی میں قسم کھاتا ہوں! تو میری اطاعت کر ورنہ میں تجھے ذبح کر دوں گا، یا تجھے آگ میں ڈال دوں گا۔ مومن نے اس سے کہا: اللہ کی قسم! میں کبھی تیری اطاعت نہیں کروں گا۔ پس دجال نے حکم دیا تو اسے لٹا دیا گیا۔“ راوی کہتے ہیں: تو ابوسعید رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے اس کی ہنسلی کی ہڈیوں اور اس کی گردن کے درمیان تانبے کی دو تختیاں رکھ دیں (ابوسعید نے فرمایا: اس دن سے پہلے میں نہیں جانتا تھا کہ تانبا کیا ہوتا ہے)، تو دجال اسے ذبح کرنے لگا لیکن وہ ایسا کرنے کی طاقت نہ پا سکا، اور اسے ایک بار قتل کرنے کے بعد دوبارہ اس پر غلبہ نہیں دیا گیا۔“ راوی کہتے ہیں: پھر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چنانچہ اس نے اس (مومن) کے ہاتھ پاؤں پکڑے اور اسے (اپنی) جنت میں پھینک دیا، حالانکہ وہ غبار آلود دھوئیں والی جگہ تھی جسے وہ شخص جہنم سمجھ رہا تھا۔“ راوی کہتے ہیں: پھر سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”وہ شخص قیامت کے دن درجات کی بلندی کے اعتبار سے میری امت میں میرے سب سے زیادہ قریب ہوگا۔“ راوی کہتے ہیں: پھر سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ اس شخص کے بارے میں یہی گمان کرتے تھے کہ وہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ہوں گے، یہاں تک کہ عمر رضی اللہ عنہ اپنے راستے پر چلے گئے (یعنی وفات پا گئے)۔ راوی عطیہ کہتے ہیں: پھر میں نے ان (ابوسعید رضی اللہ عنہ) سے پوچھا: تو وہ (دجال) کیسے ہلاک ہوگا؟ انہوں نے فرمایا: اللہ بہتر جانتا ہے۔ میں نے کہا: مجھے تو یہ خبر ملی ہے کہ عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام اسے ہلاک کریں گے۔ تو انہوں نے فرمایا: اللہ بہتر جانتا ہے، البتہ اسے اور اس کے پیروکاروں کو اللہ ہی ہلاک کرے گا۔ میں نے کہا: تو اس کے بعد کیا ہوگا؟ انہوں نے فرمایا: مجھے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث بیان کی ہے کہ: ”لوگ اس کے بعد بھی پودے لگائیں گے اور اس کے بعد بھی مال و اسباب بنائیں گے!“ میں نے کہا: سبحان اللہ! کیا دجال کے بعد بھی لوگ درخت لگائیں گے اور اس کے بعد بھی مال و اسباب بنائیں گے؟! انہوں نے فرمایا: ہاں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہی حدیث بیان فرمائی ہے۔
دجال کے تذکرے میں یہ سب سے عجیب حدیث ہے، جسے روایت کرنے میں عطیہ بن سعد نے ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے تفرد اختیار کیا ہے، اور شیخین (امام بخاری و مسلم) نے عطیہ کی روایات سے حجت نہیں پکڑی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8835]
دجال کے تذکرے میں یہ سب سے عجیب حدیث ہے، جسے روایت کرنے میں عطیہ بن سعد نے ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے تفرد اختیار کیا ہے، اور شیخین (امام بخاری و مسلم) نے عطیہ کی روایات سے حجت نہیں پکڑی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8835]
تخریج الحدیث: «أصل الحديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عطية بن سعد العوفي، وبه أعلّه الذهبي في "التلخيص"، وقد توبع على أبعاضه» [ترقيم الرساله 8835] [ترقيم الشركة 8724] [ترقيم العلميه 8621]
الحكم على الحديث: أصل الحديث صحيح
123. قَبْلَ السَّاعَةِ يُنَادِي مُنَادٍ مِنْ سَحَابَةٍ سَوْدَاءَ
قیامت سے پہلے ایک منادی سیاہ بادل سے ندا لگائے گا
حدیث نمبر: 8836
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الحسن بن علي بن عفّان العامري، حدثنا يحيى بن آدم حدثنا أبو بكر بن عيَّاش، عن محمد بن عبد الله مولى المغيرة بن شُعْبة، عن كعب بن علقمة [عن] (1) ابن حُجَيرة، عن عُقْبة بن عامر قال: قال رسول الله ﷺ:"تَطلُعُ عليكم قبل الساعة سحابةٌ سوداءُ من قِبَل المغرب مثلُ التُّرْس، فما تزالُ ترتفعُ في السماء حتى تملأ السماءَ، ثم ينادي منادٍ: يا أيها الناس، فيُقبِلُ الناسُ بعضُهم على بعض: هل سمعتُم؟ فمنهم من يقول: نعم، ومنهم من يشكُّ، ثم ينادي الثانيةَ: يا أيها الناس، فيقول الناس: هل سمعتم؟ فيقولون: نعم، ثم ينادي: أيها الناس، أتى أمرُ الله فلا تَستعجِلوه"، قال رسول الله ﷺ:"فوالذي نَفْسي بيدِه، إنَّ الرَّجُلين ليَنشُرانِ الثوبَ فما يَطويانِه أو يتبايعانِه أبدًا، وإنَّ الرجلَ ليَمدُرُ حوضَه فما يسقي فيه شيئًا، وإنَّ الرجل ليحلُبُ ناقتَه فما يشربُه أبدًا، وشُغِلَ الناسُ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8622 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8622 - على شرط مسلم
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت سے پہلے مغرب کی جانب سے ڈھال کی طرح ایک کالی بدلی نمودار ہوگی، وہ آسمان میں بلند ہوتی جائے گی یہاں تک کہ پورے آسمان پر چھا جائے گی۔ پھر ایک پکارنے والا پکارے گا: اے لوگو! تو لوگ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر پوچھیں گے: کیا تم نے سنا؟ ان میں سے بعض کہیں گے: ہاں، اور بعض شک میں ہوں گے۔ پھر وہ دوسری مرتبہ پکارے گا: اے لوگو! تو لوگ کہیں گے: کیا تم نے سنا؟ وہ کہیں گے: ہاں۔ پھر وہ پکارے گا: اے لوگو! اللہ کا حکم آ پہنچا ہے، پس اس کی جلدی نہ مچاؤ۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پس اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! دو آدمی کپڑا پھیلا رہے ہوں گے کہ وہ اسے لپیٹ نہیں پائیں گے اور نہ ہی اسے کبھی بیچ سکیں گے، اور ایک شخص اپنے حوض کو مٹی سے لیپ رہا ہوگا لیکن وہ اس میں سے کوئی چیز نہیں پلا سکے گا، اور ایک شخص اپنی اونٹنی کا دودھ دوہ رہا ہوگا لیکن وہ اسے کبھی پی نہیں سکے گا، اور لوگ (اپنے اپنے کاموں میں) مشغول ہوں گے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8836]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8836]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لجهالة محمد بن عبد الله مولى المغيرة، فقد تفرَّد بالرواية عنه أبو بكر بن عياش، وذكره ابن حبان في "الثقات" 7/ 433 وسمّاه محمدَ بن عبيد الثقفي مولى المغيرة، وتساهل الهيثمي في "مجمع الزوائد" 10/ 331 فوثقه ابن حجيرة: هو عبد الرحمن» [ترقيم الرساله 8836] [ترقيم الشركة 8725] [ترقيم العلميه 8622]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لجهالة محمد بن عبد الله مولى المغيرة
124. ذِكْرُ خَمْسِ بَلَاءٍ أَعَاذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا لِلْمُسْلِمِينَ
ان پانچ بلاؤں کا تذکرہ جن سے نبی کریم ﷺ نے مسلمانوں کے لیے پناہ مانگی
حدیث نمبر: 8837
حدثنا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا أبو الجُماهِر محمد بن عثمان الدِّمشقي، حدثني الهيثم بن حُميد، أخبرني أبو مُعَيد حفص بن غَيْلان، عن عطاء بن أبي رَبَاح قال: كنت مع عبد الله بن عمر، أَتاه فتًى يسألُه عن إسدال العِمامة، فقال ابن عمر: سأخبرُك عن ذلك بعلمٍ إن شاء الله، كنتُ عاشرَ عَشَرةٍ في مسجد رسول الله ﷺ؛ أبو بكر وعمرُ وعثمانُ وعليٌّ وابنُ مسعود وحذيفةُ وابنُ عَوْف وأبو سعيدٍ الخُدْري، فجاء فتًى من الأنصار فسلَّم على رسول الله ﷺ ثم جلس، فقال: يا رسول الله، أيُّ المؤمنين أفضلُ؟ قال:"أحسنُهم خُلُقًا" قال: فأيُّ المؤمنين أكيَسُ؟ قال:"أكثرُهم للموت ذِكرًا، وأحسنُهم له استعدادًا قبل أن يَنزِلَ بهم، أولئك من الأَكْياس". ثم سَكَتَ الفتى، وأقبل عليه (1) النبيُّ ﷺ فقال:"يا معشرَ المهاجرين، خمسٌ إن ابتُلِيتم بهن، ونَزَل (2) فيكم أعوذُ بالله أن تُدركوهنَّ: لم تَظهَرِ الفاحشةُ في قوم قطُّ حتى يَعمَلوها (3) إلَّا ظهر فيهم الطاعونُ والأوجاعُ التي لم تكن مَضَت في أسلافِكم، ولم يَنقُصوا المِكيالَ والميزانَ إِلَّا أُخِذوا بالسِّنين وشدَّة المَؤونة وجَوْر السلطان عليهم، ولم يَمنَعوا زكاة أموالهم إلَّا مُنِعوا القَطْرَ من السماء، ولولا البهائمُ لم يُمطَروا، ولم يَنقُضوا عهدَ الله وعهدَ رسوله إلَّا سُلِّط عليهم عدوُّهم من غيرِهم وأَخَذوا بعضَ ما كان في أيديهم، وما لم يَحكُمْ أئمَّتُهم بكتاب الله إِلَّا أَلقى (4) الله بأسَهم بينهم". ثم أَمَرَ عبد الرحمن بن عوفٍ يتجهَّزُ لسَرِيَّة بَعَثَه عليها، وأصبح عبدُ الرحمن قد اعتَمَّ بعمامةٍ من كَرَابيسَ سوداءَ، فأدناه النبيُّ ﷺ ثم نَقضَه وعمَّمه بعمامةٍ بيضاءَ، وأرسلَ من خلفِه أربعَ أصابعَ ونحوَ ذلك، وقال:"هكذا يا ابنَ عوفٍ اعتَمَّ، فإنه أعرَبُ وأحسنُ"، ثم أمر النبيُّ ﷺ بلالًا أن يدفع إليه اللِّواءَ، فَحَمِدَ الله وصلَّى على النبي ﷺ ثم قال:"خُذِ ابنَ عوفٍ، فاغزُوا جميعًا في سبيل الله، فقاتِلُوا مَن كَفَر بالله، ولا تَغلُّوا ولا تَغدِروا ولا تُمثِّلوا ولا تَقتُلوا وَليدًا، فهذا عهدُ اللهِ وسيرةُ نبيِّه" ﷺ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8623 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8623 - صحيح
عطاء بن ابی رباح بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا، ان کے پاس ایک نوجوان آیا اور ان سے عمامہ لٹکانے (شملہ چھوڑنے) کے بارے میں پوچھنے لگا۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”ان شاء اللہ! میں تمہیں علم کی روشنی میں اس کے متعلق بتاؤں گا۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں دس آدمیوں میں دسواں تھا؛ ابوبکر، عمر، عثمان، علی، ابن مسعود، حذیفہ، ابن عوف اور ابوسعید خدری رضی اللہ عنہم اجمعین موجود تھے۔ اتنے میں انصار کا ایک نوجوان آیا، اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا اور بیٹھ گیا، پھر پوچھا: یا رسول اللہ! کون سا مومن سب سے افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں۔“ اس نے پوچھا: تو کون سا مومن سب سے زیادہ عقلمند ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو موت کو سب سے زیادہ یاد کرنے والا ہو، اور موت کے آنے سے پہلے اس کے لیے سب سے اچھی تیاری کرنے والا ہو، یہی لوگ سب سے زیادہ عقلمند ہیں۔“ پھر وہ نوجوان خاموش ہو گیا، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”اے مہاجرین کی جماعت! پانچ خصلتیں ایسی ہیں کہ اگر تم ان میں مبتلا ہو جاؤ، اور وہ تم میں نازل ہو جائیں، اور میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ تم ان کا زمانہ پاؤ: کسی قوم میں کبھی بے حیائی ظاہر نہیں ہوتی یہاں تک کہ وہ اسے کھلم کھلا کرنے لگیں، مگر ان میں طاعون اور ایسی بیماریاں پھیل جاتی ہیں جو ان کے آباؤ اجداد میں نہیں گزری تھیں۔ اور وہ ناپ تول میں کبھی کمی نہیں کرتے مگر انہیں قحط سالی، رزق کی تنگی اور بادشاہ کے ظلم کے ذریعے پکڑ لیا جاتا ہے۔ اور وہ کبھی اپنے مالوں کی زکوٰۃ ادا کرنے سے نہیں رکتے مگر ان سے آسمان کی بارش روک لی جاتی ہے، اور اگر جانور نہ ہوں تو ان پر کبھی بارش نہ برسے۔ اور وہ کبھی اللہ اور اس کے رسول کا عہد نہیں توڑتے مگر ان پر ان کے علاوہ (دیگر قوموں سے) ان کا دشمن مسلط کر دیا جاتا ہے جو ان کے زیرِ قبضہ بعض چیزیں چھین لیتا ہے۔ اور جب تک ان کے حکمران اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے، اللہ ان کے درمیان باہمی لڑائی ڈال دیتا ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ ایک فوجی مہم کے لیے تیاری کریں جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھیجنا تھا۔ صبح کے وقت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے کالے سوتی کپڑے کا عمامہ باندھ رکھا تھا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے قریب کیا، پھر اسے کھولا اور انہیں سفید عمامہ پہنایا، اور ان کی پشت پر چار انگلیوں کے برابر یا اس کے لگ بھگ (شملہ) لٹکا دیا، اور فرمایا: ”اے ابن عوف! اس طرح عمامہ باندھا کرو، کیونکہ یہ زیادہ خوبصورت اور بہتر ہے۔“ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ انہیں جھنڈا دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجا، پھر فرمایا: ”اے ابن عوف! اسے پکڑو، پس تم سب اللہ کے راستے میں جہاد کرو، اور جو اللہ کے ساتھ کفر کرے اس سے لڑو، اور مالِ غنیمت میں خیانت نہ کرو، نہ غداری کرو، نہ کسی کا مثلہ (اعضاء کاٹنا) کرو، اور نہ کسی بچے کو قتل کرو۔ یہی اللہ کا عہد اور اس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8837]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8837]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل حفص بن غيلان» [ترقيم الرساله 8837] [ترقيم الشركة 8726] [ترقيم العلميه 8623]
الحكم على الحديث: إسناده حسن
125. ذِكْرُ مُسَيْلِمَةَ الْكَذَّابِ
مسیلمہ کذاب کا تذکرہ
حدیث نمبر: 8838
أخبرنا أبو سهل أحمد بن محمد بن زياد النَّحْوي ببغداد، حدثنا عبد الكريم بن الهيثم. وأخبرني أبو محمد المُزَني - واللفظ له - حدثنا علي بن محمد بن عيسى؛ قالا: حدثنا أبو اليَمَان، أخبرني شعيب، عن الزُّهْري قال: أخبرني طلحةُ بن عبد الله بن عَوْف، عن أبي بَكْرة أخي زيادٍ لأمِّه. وأخبرني محمد بن علي بن عبد الحميد الصَّنعاني بمكة حَرَسَها الله، حدثنا إسحاق بن إبراهيم بن عبَّاد، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا معمر، عن الزُّهري، عن طلحة بن عبد الله بن عَوف، عن أبي بَكْرة أخي زيادٍ لأمِّه، قال: أكثرَ الناسُ في شأن مُسيلِمةَ الكذّابِ قبل أن يقول فيه رسول الله ﷺ، ثم قامَ رسولُ الله ﷺ فَأَثنى على الله بما هو أهلُه، ثم قال:"أما بعدُ، في شأنِ هذا الرجل، فقد أكثرتُم في شأنه، فإنه كذّابٌ من ثلاثين كذّابًا يخرجون قبلَ الدَّجال، وإنه ليس بلدٌ إِلَّا يَدخُلُه رُعْبُ المسيح إلَّا المدينةَ، على كلِّ نَقْبٍ من نِقَابِها يومَئِذٍ مَلَكَانِ يَذُبَّانِ عنها رعبَ المسيح" (1) . قد احتجَّ مسلمٌ بطلحة بن عبد الله بن عَوْف (2) . وقد أَعضَلَ معمرٌ وشعيبُ بن أبي حمزة هذا الإسناد عن الزُّهْري، فإنَّ طلحة بن عبد الله لم يَسمَعه من أبي بَكْرة، إنما سمعه من عِيَاض بن مُسافِع عن أبي بكرة، هكذا رواه يونسُ بن يزيد وعُقَيلُ بن خالد عن الزُّهري. أما حديثُ يونس:
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ (جو ماں کی طرف سے زیاد کے بھائی ہیں) بیان کرتے ہیں کہ لوگوں نے مسیلمہ کذاب کے معاملے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ فرمانے سے پہلے ہی بہت سی باتیں شروع کر دیں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی اس کی شان کے لائق حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: ”اما بعد! اس شخص کے معاملے میں، تو تم لوگوں نے اس کے متعلق بہت سی باتیں کی ہیں، یقیناً وہ دجال سے پہلے ظاہر ہونے والے تیس کذابوں میں سے ایک کذاب ہے۔ اور کوئی ایسا شہر نہیں ہوگا جس میں مسیح (دجال) کا رعب و دبدبہ داخل نہ ہو، سوائے مدینہ منورہ کے، کیونکہ اس دن اس کے ہر راستے پر دو فرشتے ہوں گے جو اس سے مسیح کا رعب دور کر رہے ہوں گے۔“
امام مسلم نے طلحہ بن عبداللہ بن عوف سے استدلال کیا ہے۔ اور معمر اور شعیب بن ابی حمزہ نے زہری سے اس سند کو معضل بیان کیا ہے، کیونکہ طلحہ بن عبداللہ نے اسے ابوبکرہ سے نہیں سنا، بلکہ انہوں نے اسے عیاض بن مسافع سے اور انہوں نے ابوبکرہ سے سنا ہے۔ یونس بن یزید اور عقیل بن خالد نے زہری سے اسے اسی طرح روایت کیا ہے۔ بہرحال یونس کی حدیث (آگے آ رہی ہے): [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8838]
امام مسلم نے طلحہ بن عبداللہ بن عوف سے استدلال کیا ہے۔ اور معمر اور شعیب بن ابی حمزہ نے زہری سے اس سند کو معضل بیان کیا ہے، کیونکہ طلحہ بن عبداللہ نے اسے ابوبکرہ سے نہیں سنا، بلکہ انہوں نے اسے عیاض بن مسافع سے اور انہوں نے ابوبکرہ سے سنا ہے۔ یونس بن یزید اور عقیل بن خالد نے زہری سے اسے اسی طرح روایت کیا ہے۔ بہرحال یونس کی حدیث (آگے آ رہی ہے): [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8838]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذان الإسنادان على ثقة رجالهما منقطعان كما سيبيّن المصنف» [ترقيم الرساله 8838] [ترقيم الشركة 8727]
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 8838N
من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8624 - لم يسمعه طلحة من أبي بكرة"
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8624 - لم يسمعه طلحة من أبي بكرة"
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8624 - لم يسمعه طلحة من أبي بكرة"
طلحہ نے اسے ابوبکرہ سے نہیں سنا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8838N]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 8838N] [ترقيم الشركة 8728] [ترقيم العلميه 8624]
حدیث نمبر: 8839
فحدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحر بن نَصْر، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني يونس، عن الزُّهري، أنَّ طلحة بن عبد الله بن عوف حدَّثَه عن عِياض بن مُسافِع، عن أبي بَكْرةَ أخي زيادٍ لأمِّه، قال: لما أكثرَ الناسُ في شأن مُسلِمةَ الكذَّاب قبل أن يقولَ رسول الله ﷺ فيه ما قال، قام رسول الله ﷺ فَأَثْنَى على الله بما هو أهلُه، ثم قال:"أما بعدُ، فقد أكثرتُم في شأنِ هذا الرجل، وإنه كذَّابٌ من ثلاثينَ كذابًا يخرجون قبلَ الدَّجال، وإنه ليس بلدٌ إِلَّا سَيَدخلُه رُعْبُ المسيحِ إِلَّا المدينةَ على كل نَقْبٍ من نِقَابِها (1) يومئذٍ مَلَكان يَذُبَّانِ عنها رُعْبَ المسيح" (2) . وأما حديث عُقَيل بن خالد:
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب لوگوں نے مسیلمہ کذاب کے بارے میں بہت زیادہ تذکرہ کیا اس سے قبل کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے متعلق اپنا قول بیان فرماتے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور اللہ کی ویسی ہی حمد و ثنا کی جو اس کے شایانِ شان ہے، پھر فرمایا: ”اما بعد! تم نے اس شخص کے بارے میں بہت باتیں کی ہیں، بے شک وہ ان تیس کذابوں میں سے ایک ہے جو دجال سے پہلے نکلیں گے، اور کوئی شہر ایسا نہیں ہوگا جہاں مسیح (دجال) کی دہشت داخل نہ ہو سوائے مدینہ کے، اس دن اس کے ہر داخلی راستے پر دو فرشتے ہوں گے جو اس سے مسیح کی دہشت کو دور کر رہے ہوں گے۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8839]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد محتمل للتحسين من أجل عياض بن مسافع، فقد انفرد بالرواية عنه أحد التابعين الثقات، وهو طلحة بن عبد الله قاضي المدينة، ولم يوثقه غير ابن حبان، ولا يعرف لعياض بن مسافع غير هذا الحديث، وهو متابع عليه» [ترقيم الرساله 8839] [ترقيم الشركة 8729]
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 8840
فحدَّثَناه أبو النَّضر الفقيه وأبو الحسن العَنَزي قالا: حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا عبد الله بن صالح المِصري، حدثني الليث، حدثني عُقَيل، عن ابن شِهاب، أخبرني طلحة بن عبد الله بن عوف، أنَّ عِياضَ بن مُسافِع أخبره، أَنَّ أبا بَكْرة أخا زيادٍ لأمِّه أخبره: أنَّ رسول الله ﷺ قام فخَطَبَ فَأَثنى على الله بما هو أهلُه، ثم قال:"أما بعدُ، فقد أكثرتُم في شأنِ مُسيلِمة، وإنه كذَّابٌ من جُمْلة ثلاثينَ كذّابًا يخرجون قبلَ الدَّجال" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وقد رواه سعدُ بن إبراهيم الزُّهْري عن أبيه عن أبي بَكْرة مختصرًا:
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وقد رواه سعدُ بن إبراهيم الزُّهْري عن أبيه عن أبي بَكْرة مختصرًا:
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور خطبہ ارشاد فرمایا جس میں اللہ تعالیٰ کی کما حقہ ثنا بیان کی، پھر فرمایا: ”اما بعد! تم نے مسیلمہ کے بارے میں بہت زیادہ باتیں کی ہیں، یقیناً وہ ان تیس کذابوں میں سے ایک ہے جو دجال کے خروج سے پہلے ظاہر ہوں گے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8840]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8840]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره كسابقه» [ترقيم الرساله 8840] [ترقيم الشركة 8730]
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
126. لَا يَدْخُلُ الْمَدِينَةَ رُعْبُ الدَّجَّالِ وَلَا الطَّاعُونُ
مدینہ منورہ میں دجال کا رعب اور طاعون داخل نہیں ہو سکے گا
حدیث نمبر: 8841
حدَّثناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا العباس بن محمد الدُّورِي، حدثنا يعقوب بن إبراهيم بن سعد، حدثنا أَبي، عن أبيه، عن جدِّه، عن أبي بَكْرة، عن النبي ﷺ قال:"لا يدخلُ المدينةَ رعبُ المسيحِ الدَّجال، لها يومئذٍ سبعةُ أبواب، لكلِّ بابٍ منها مَلَكانٍ" (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8627 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8627 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مدینہ منورہ میں مسیح دجال کی دہشت داخل نہیں ہوگی، اس دن مدینہ کے سات دروازے ہوں گے اور ہر دروازے پر دو فرشتے (نگہبان) مقرر ہوں گے۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8841]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8841] [ترقيم الشركة 8731] [ترقيم العلميه 8627]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8842
أخبرني أحمد بن محمد بن سَلَمة العنزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارِمي، حدثنا أبو بكر بن أبي شَيْبة، حدثنا أبو أسامة، عن أسامة بن زيد، عن أبي عبد الله القرّاظ قال: سمعت سعدَ بنَ مالك وأبا هريرة يقولان: قال رسول الله ﷺ:"اللهمَّ بارِكْ لأهل المدينة في مُدِّهم وفي صاعِهم، وباركْ لهم في مدينتِهم، اللهمَّ إِنَّ إبراهيم ﵇ عبدُك وخَليلُك، وأنا عبدُك ورسولُك، فإنَّ إبراهيمَ سألك لمكَّةَ، وإني أسألُك للمدينةِ مثلَ ما سألك إبراهيمُ لمكَّةَ ومثلَه معه. ألَا إِنَّ المدينة مُشتبِكةٌ بالملائكة، على كل نَقْبٍ مِنها مَلَكانِ يَحرُسانِها، لا يدخلُها الطاعونُ والدجالُ. مَن أراد أهلَها بسوءٍ، أذابه الله كما يذوبُ المِلحُ في الماء" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8628 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8628 - على شرط مسلم
سیدنا سعد بن مالک اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! اہل مدینہ کے لیے ان کے مد اور ان کے صاع (پیمانوں) میں برکت عطا فرما، اور ان کے لیے ان کے شہر میں برکت عطا فرما، اے اللہ! بے شک ابراہیم علیہ السلام تیرے بندے اور تیرے خلیل تھے، اور میں تیرا بندہ اور تیرا رسول ہوں، ابراہیم علیہ السلام نے تجھ سے مکہ کے لیے دعا کی تھی، اور میں تجھ سے مدینہ کے لیے وہی سوال کرتا ہوں جو ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کے لیے کیا تھا اور اس کے ساتھ اتنی ہی مزید برکت کا بھی سوال کرتا ہوں۔ آگاہ رہو! مدینہ فرشتوں کے حصار میں ہے، اس کے ہر راستے پر دو فرشتے اس کی حفاظت کر رہے ہیں، اس میں طاعون اور دجال داخل نہیں ہو سکتے۔ جو شخص اہل مدینہ کے ساتھ برائی کا ارادہ کرے گا، اللہ اسے اس طرح پگھلا دے گا جیسے نمک پانی میں پگھل جاتا ہے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8842]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8842]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل أسامة بن زيد: وهو اللَّيثي» [ترقيم الرساله 8842] [ترقيم الشركة 8732] [ترقيم العلميه 8628]
الحكم على الحديث: حديث صحيح
حدیث نمبر: 8843
أخبرنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري وعلي بن عيسى الحِيري قالا: حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا محمد بن المثنَّى، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شُعبة، عن خالدٍ الحذّاء، عن عبد الله بن شَقيق، عن عبد الله بن سُراقة، عن أبي عُبيدة بن الجرَّاح، عن النبي ﷺ: أنه ذَكَر الدجالَ، فحَلَّاه بحِلْيةٍ لا أَحفظُها، قالوا: يا رسول الله، قلوبُنا يومئذٍ كاليومِ؟ قال:"أو خيرٌ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد رواه حماد بن سَلَمة عن خالد الحذّاء، وساقه أتمَّ من حديث شُعبة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8629 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد رواه حماد بن سَلَمة عن خالد الحذّاء، وساقه أتمَّ من حديث شُعبة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8629 - صحيح
سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کا تذکرہ فرمایا اور اس کا ایسا حلیہ بیان کیا جو مجھے (راوی کو) یاد نہیں رہا، صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا اس دن ہمارے دلوں کی کیفیت ویسی ہی ہوگی جیسی آج ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلکہ اس سے بھی بہتر ہوگی۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8843]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8843]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، لتفرد عبد الله بن سراقة به ومخالفة معناه لغيره من الأحاديث كما سيأتي، وعبد الله بن سراقة هذا جعله بعضهم واحدًا، وهو العدوي الصحابي، كابن أبي عاصم في "الآحاد والمثاني" (233) ويعقوب بن شيبة وابن عساكر في "تاريخ دمشق" 29/ 12» [ترقيم الرساله 8843] [ترقيم الشركة 8733] [ترقيم العلميه 8629]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف