🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
115. فِتْنَةُ الْجَارِفَةِ تَأْتِي عَلَى صَرِيحِ الْعَرَبِ وَالْمَوَالِي
فتنۂ جارفہ (جڑ سے اکھاڑنے والا فتنہ) خالص عربوں اور موالی (آزاد کردہ غلاموں) سب کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8825
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن سِنان القَزَّاز، حدثنا عُمر بن يونس بن القاسم اليَمَامي، حدثنا جَهضَم بن عبد الله القَيْسي، عن عبد الأعلى ابن عامر، عن مُطرِّف بن عبد الله بن الشِّخّير، عن ابن عمر قال: كنت في الحَطِيم مع حُذَيفة، فذكر حديثًا، ثم قال:"لَتُنقضَنَّ عُرَى الإسلام عُروةً عُروةً، وليكونَنَّ أئمةٌ مُضِلُّون، ولَيَخرُجَنَّ على أثر ذلك الدَّجّالون الثلاثةُ". قلت: يا أبا عبد الله، قد سمعتَ هذا الذي تقول من رسول الله ﷺ؟ قال: نعم، سمعتُه. وسمعتُه يقول:"يخرجُ الدَّجالُ من يهوديَّةِ أصبهانَ، عينُه اليمنى ممسوخة والأُخرى كأنها زَهْرَةٌ تشقُّ الشمس شقًّا، ويتناول الطيرَ من الجوِّ، له ثلاثُ صَيحاتٍ يسمعهنَّ أهلُ المشرِق وأهلُ المغرِب، ومعه جَبَلانِ: جبلٌ من دُخانٍ ونارٍ، وجبلٌ من شجرٍ، وأنهار، ويقول: هذه الجنّة وهذه النار". وسمعتُه يقول:"يخرجُ من قَبلِهِ كذَّابٌ". قال: قلت: فما الثالث؟ قال: إنه أكذبُ الكذَّابين، إنه يخرج من قِبَل المشرق، يَتبَعُه خُشَارةُ العرب وسَفِلةُ المَوالي، أوَّلُهم منصور وآخرُهم مَثْبور، هلاكُهم على قَدْر سلطانهم، عليهم اللعنةُ الله دائمةً. قال: فقلت: العجبُ كلُّ العجبِ! قال: وأعجبُ من ذلك سيكون، فإذا سمعتَ به فالهربَ الهربَ، قال: قلت: كيف أصنعُ بمن خلَّفتُ؟ قال: مُرْهم فليَلحَقوا برؤوس الجبال، قال: قلت: فإن لم يُترَكوا وذلك؟ قال: مُرْهم أن يكونوا أحلاسًا من أحلاسِ بيوتِهم، قال: قلت: فإن لم يُترَكوا وذلك، قال: يا ابنَ عمر، زمانُ خوفٍ وهَرْجٍ وسَلْبٍ، قال: فقلت: يا أبا عبد الله، ما لهذا الهَرْج من فَرَج؟ قال: بلى، إنه ليس من هَرْج إلَّا وله فَرَجٌ، ولكن أين ما يبقى لها، إنها فتنةٌ يقال لها: الحارقة (1) ، تأتي على صَرِيح العرب وصَريح الموالي وذوي الكُنوز وبقيَّةِ الناس، ثم تَنجَلي عن أقلَّ من القليل (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8611 - بل منكر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں حطیم میں سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ موجود تھا، انہوں نے ایک حدیث بیان کی اور پھر فرمایا: اسلام کی کڑیاں ایک ایک کر کے ٹوٹ جائیں گی، اور گمراہ کن ائمہ (حکمران) پیدا ہوں گے، اور اس کے بعد تین دجال نکلیں گے۔ میں نے پوچھا: اے ابو عبداللہ! کیا آپ نے یہ سب جو آپ فرما رہے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں، میں نے سنا ہے، اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بھی فرماتے ہوئے سنا ہے: دجال اصفہان کے یہودی محلے سے نکلے گا، اس کی دائیں آنکھ ممسوخ (بے نور) ہوگی اور دوسری آنکھ اس چمکتے ستارے کی مانند ہوگی جو سورج کی روشنی کو چیرتا ہوا محسوس ہو، وہ فضا سے پرندوں کو پکڑ لے گا، وہ تین ایسی چنگھاڑیں مارے گا جنہیں اہل مشرق اور اہل مغرب (سب) سنیں گے، اس کے ساتھ دو پہاڑ ہوں گے: ایک دھویں اور آگ کا پہاڑ اور دوسرا درختوں اور نہروں کا پہاڑ، وہ (دھوکا دینے کے لیے) کہے گا: یہ جنت ہے اور یہ جہنم ہے۔ اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اس (دجال) سے پہلے ایک کذاب (بڑا جھوٹا) نکلے گا۔ میں نے پوچھا: تو پھر تیسرا کون ہے؟ انہوں نے فرمایا: وہ کذابوں میں سب سے بڑا جھوٹا ہے، وہ مشرق کی جانب سے نکلے گا، عرب کا کوڑا کرکٹ (گھٹیا لوگ) اور عجمیوں کے نچلے درجے کے لوگ اس کی پیروی کریں گے، ان میں سے پہلا منصور (ظاہری فتح پانے والا) اور آخری مثبور (ہلاک ہونے والا) ہوگا، ان کی ہلاکت ان کی حکومت کی طاقت کے برابر ہوگی، ان پر اللہ کی دائمی لعنت ہو۔ میں نے عرض کیا: یہ تو نہایت ہی عجیب بات ہے! انہوں نے فرمایا: اس سے بھی زیادہ عجیب باتیں ہوں گی، پس جب تم اس (فتنے) کے بارے میں سنو تو بھاگنا، خوب بھاگنا۔ میں نے عرض کیا: میں اپنے پیچھے رہ جانے والوں کے لیے کیا کروں؟ انہوں نے فرمایا: انہیں حکم دو کہ وہ پہاڑوں کی چوٹیوں سے جا ملیں (وہاں پناہ لیں)۔ میں نے پوچھا: اگر انہیں ایسا نہ کرنے دیا جائے تو؟ فرمایا: انہیں حکم دو کہ وہ اپنے گھروں کے ٹاٹ (احلاس) بن جائیں (یعنی گھروں تک محدود رہیں)۔ میں نے عرض کیا: اگر اس کی بھی اجازت نہ دی جائے؟ انہوں نے فرمایا: اے ابن عمر! وہ ایسا زمانہ ہوگا جو خوف، قتل و غارت اور لوٹ مار سے بھرا ہوگا۔ میں نے عرض کیا: اے ابو عبداللہ! کیا اس قتل و غارت سے نجات کی کوئی راہ ہوگی؟ انہوں نے فرمایا: کیوں نہیں، ہر قتل و غارت کے بعد کشادگی ہوتی ہے، لیکن اس وقت بچنے والے کہاں رہ جائیں گے، وہ ایک ایسا فتنہ ہوگا جسے الحارقہ (بھسم کر دینے والی آگ) کہا جائے گا، وہ اصلی عربوں، خالص عجمیوں، خزانے والوں اور باقی ماندہ سبھی لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا، پھر وہ فتنہ اس حال میں ختم ہوگا کہ بہت ہی کم لوگ باقی بچیں گے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8825]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف بمرّة، واستنكره الذهبي في "تلخيصه"، فعبد الأعلى بن عامر» [ترقيم الرساله 8825] [ترقيم الشركة 8714] [ترقيم العلميه 8611]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف بمرّة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
116. ذِكْرُ الْعَلَامَاتِ الْخَاصَّةِ لِلدَّجَّالِ
دجال کی مخصوص علامات کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8826
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ ﵀، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مسدَّد، حدثنا معاذ بن هشام، حدثني أَبي، عن قَتَادة، عن أبي الطُّفَيل، عن حُذيفة بن أَسِيد؛ قال (1) : كنت بالكوفة فقيل: خرج الدَّجّالُ، قال: فأتَينا على حذيفة بن أَسيد وهو يحدِّث، فقلت: هذا الدجالُ قد خرج، فقال: اجلِسْ، فجلستُ، فأَتى علينا العَريفُ (2) فقال: هذا الدجالُ قد خرج وأهل الكوفة يُطاعِنونَه، قال: اجلِسْ، فجلس، فنودِيَ: إنها كَذْبةُ صَبَّاغ (3) . قال: فقلنا: يا أبا سَريحةَ، ما أجلستَنا إلَّا لأمرٍ، فحدِّثنا، قال: إنَّ الدجال لو خرج في زمانِكم، لرَمَتْه الصِّبيانُ بالخَزَف (4) ، ولكن الدجال يخرج في نقص من الناس وخِفَّة من الدِّين وسوءِ ذاتِ بَينٍ، فيَرِدُ كلَّ مَنْهَلٍ، فتُطَوى له الأرضُ طيَّ فَرْوةِ الكَبْش، حتى يأتيَ المدينة، فيغلبُ على خارجِها ويمنع داخلَها، ثم جبلَ إيلِياءَ (5) فيحاصرُ عِصابةً من المسلمين، فيقول لهم الذين عليهم: ما تنتظرون بهذا الطاغيةِ أن تقاتلوه حتى تَلحَقوا بالله أو يُفتَحَ لكم؟! فيأتمِرون أن يقاتلوه إذا أصبحوا، فيُصبِحون ومعهم عيسى ابن مريمَ، فيَقتُل الدَّجالَ ويَهزِمُ أصحابَه، حتى إنَّ الشجر والحجر والمَدَر يقول: يا مؤمنُ، هذا يهوديٌّ عندي فاقتُلْه، قال: وفيه ثلاثُ علامات: هو أعورُ، وربُّكم ليس بأعورَ، ومكتوبٌ بين عينيه: كافر، يقرؤُه كلُّ مؤمنٍ أُمِّيٍّ وكاتب، ولا تُسخَّرُ له المَطايا إِلَّا الحمارُ، فهو رِجسٌ على رجس. ثم قال: أنا لغيرِ الدجال أخوفُ عليَّ وعليكم، قال: فقلنا: ما هو يا أبا سَرِيحة؟ قال: فتنٌ كأنها قِطَعُ الليل المظلِم، قال: فقلنا: أيُّ الناس فيها شرٌّ؟ قال: كلُّ خطيبٍ مِصقَع، وكلُّ راكبٍ مُوضِع (1) ، قال: فقلنا: أيُّ الناس خيرٌ؟ قال: كلُّ غنيٍّ خفيّ، قال: فقلت: ما أنا بالغنيِّ ولا بالخفيِّ، قال: فكن كابنِ اللَّبُون، لا ظهر فيُركَبَ، ولا ضَرْعَ فيُحلَبَ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8612 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں کوفہ میں تھا کہ یہ خبر پھیلی کہ دجال نکل آیا ہے، پس ہم حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ کے پاس آئے جبکہ وہ گفتگو کر رہے تھے، میں نے کہا: یہ دجال نکل آیا ہے، انہوں نے فرمایا: بیٹھ جاؤ، تو میں بیٹھ گیا، پھر ہمارے پاس عریف (علاقے کا نقیب) آیا اور اس نے بھی یہی کہا کہ دجال نکل آیا ہے اور اہل کوفہ اس سے لڑ رہے ہیں، انہوں نے اسے بھی کہا: بیٹھ جاؤ، تو وہ بھی بیٹھ گیا، پھر اعلان ہوا کہ یہ تو ایک صباغ (جھوٹے شخص) کا پھیلایا ہوا جھوٹ ہے، ہم نے عرض کیا: اے ابو سریحہ! آپ نے ہمیں کسی خاص مقصد سے بٹھایا ہے، اب ہمیں حدیث سنائیے، انہوں نے فرمایا: اگر دجال تمہارے اس زمانے میں نکل آتا تو بچے اسے ٹھیکریوں سے مار بھگاتے، لیکن دجال اس وقت نکلے گا جب لوگوں کی تعداد کم ہوگی، دین میں کمزوری ہوگی اور باہمی تعلقات خراب ہوں گے، وہ ہر گھاٹ پر پہنچے گا اور اس کے لیے زمین ایسے لپیٹ دی جائے گی جیسے مینڈھے کی کھال لپیٹی جاتی ہے، یہاں تک کہ وہ مدینہ آئے گا تو اس کے بیرونی حصوں پر غالب آ جائے گا مگر اسے شہر کے اندر داخل ہونے سے روک دیا جائے گا، پھر وہ جبل ایلیاء (بیت المقدس کے پہاڑ) کا رخ کرے گا اور مسلمانوں کی ایک جماعت کا محاصرہ کر لے گا، پس ان کے امیر ان سے کہیں گے: تم اس سرکش سے لڑنے کے لیے کس چیز کا انتظار کر رہے ہو؟ یہاں تک کہ تم اللہ سے جا ملو یا تمہیں فتح حاصل ہو جائے! پس وہ فیصلہ کریں گے کہ جب صبح ہوگی تو اس سے قتال کریں گے، پھر جب صبح ہوگی تو عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام ان کے ساتھ ہوں گے، پس وہ دجال کو قتل کریں گے اور اس کے ساتھیوں کو شکست دیں گے، یہاں تک کہ درخت، پتھر اور مٹی کا ڈھیلا پکارے گا: اے مومن! یہ یہودی میرے پیچھے چھپا ہے، اسے قتل کر دو، انہوں نے مزید فرمایا: اور دجال میں تین علامتیں ہوں گی: وہ کانا ہوگا جبکہ تمہارا رب کانا نہیں ہے، اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوگا جسے ہر مومن پڑھ لے گا خواہ وہ ان پڑھ ہو یا لکھنا جانتا ہو، اور اس کے لیے سواریوں میں سے صرف گدھا مسخر کیا جائے گا جو کہ سراپا نحوست ہوگا، پھر انہوں نے فرمایا: میں دجال کے علاوہ ایک اور چیز سے اپنے اور تمہارے حق میں زیادہ ڈرتا ہوں، ہم نے عرض کیا: اے ابو سریحہ! وہ کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ایسے فتنے جو تاریک رات کے ٹکڑوں کی طرح ہوں گے، ہم نے عرض کیا: ان فتنوں میں سب سے بدتر لوگ کون ہوں گے؟ انہوں نے فرمایا: ہر وہ خطیب جو اپنی لفاظی سے لوگوں کو متاثر کرے اور ہر وہ شخص جو فتنے کی طرف تیزی سے دوڑنے والا ہو، ہم نے عرض کیا: سب سے بہتر لوگ کون ہوں گے؟ فرمایا: ہر وہ غنی جو لوگوں سے بے نیاز اور گمنامی اختیار کرنے والا ہو، میں نے عرض کیا: میں نہ تو غنی ہوں اور نہ ہی گمنام، تو انہوں نے فرمایا: پھر تم ابن لبون (اونٹ کے اس چھوٹے بچے) کی طرح بن جاؤ جس کی نہ پیٹھ ہو کہ سواری کی جا سکے اور نہ تھن ہوں کہ دودھ نکالا جا سکے (یعنی اپنے آپ کو فتنوں سے اس طرح دور رکھو کہ کوئی تمہیں استعمال نہ کر سکے)۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8826]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهو في حكم المرفوع، فما ذكر فيه لا يقال من قبل الرأي، وهذا إسناد حسن من أجل معاذ بن هشام الدستوائي، وهو متابع» [ترقيم الرساله 8826] [ترقيم الشركة 8715] [ترقيم العلميه 8612]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
117. عَرْضُ مَا بَيْنَ أُذُنَي حِمَارِ الدَّجَّالِ أَرْبَعُونَ ذِرَاعًا
دجال کے گدھے کے دونوں کانوں کا درمیانی فاصلہ چالیس ہاتھ ہوگا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8827
حدثنا محمد بن محمد بن عبد الله الرَّمْجاريُّ، حدثنا أحمد بن معاذ السُّلَمي ومَحمِش (3) بن عِصام قالا: حدثنا حفص بن عبد الله السَّلَمي، حدثنا إبراهيم بن طَهْمان عن أبي الزُّبير عن جابر، عن النبي ﷺ قال:"يخرج الدَّجالُ في خِفَّةٍ من الدِّين وإدبارٍ من العلم، وله أربعون يومًا يَسِيحُها، اليومُ منها كالسَّنة، واليومُ كالشهر، واليوم كالجُمعة، ثم سائرُ أيامه مثلُ أيامكم، وله حمار يَركَبُه، عَرْضُ ما بين أُذُنيه أربعون ذراعًا، يأتي الناسَ فيقول: أنا ربُّكم! وإنَّ ربَّكم ليس بأعورَ، مكتوبٌ بين عينيه: ك ف ر، يقرؤه كلُّ مؤمنٍ كاتبٍ وغيرِ كاتب، يمرُّ بكل ماءٍ ومَنهَل إِلَّا المدينةَ ومكةَ، حرَّمهما اللهُ عليه وقامت الملائكةُ بأبوابها". (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8613 - على شرط مسلم
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دجال اس وقت نکلے گا جب دین میں کمزوری ہوگی اور علم پیٹھ پھیر چکا ہوگا، اسے زمین کی سیر کے لیے چالیس دن ملیں گے، ان میں سے ایک دن ایک سال کے برابر ہوگا، ایک دن ایک مہینے کے برابر، ایک دن ایک ہفتے کے برابر اور باقی ایام تمہارے عام دنوں کی طرح ہوں گے، اس کا ایک گدھا ہوگا جس پر وہ سواری کرے گا، اس کے دونوں کانوں کے درمیان کی چوڑائی چالیس ہاتھ ہوگی، وہ لوگوں کے پاس آ کر کہے گا: میں تمہارا رب ہوں! حالانکہ تمہارا رب کانا نہیں ہے، اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان ک ف ر لکھا ہوگا جسے ہر مومن پڑھ لے گا خواہ وہ لکھنا جانتا ہو یا نہ جانتا ہو، وہ ہر پانی اور گھاٹ پر گزرے گا سوائے مدینہ اور مکہ کے، اللہ تعالیٰ نے یہ دونوں شہر اس پر حرام کر دیے ہیں اور فرشتے ان کے دروازوں پر پہرہ دے رہے ہوں گے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8827]
تخریج الحدیث: «إسناده قوي من أجل أبي الزبير: وهو محمد بن مسلم بن تَدرُس المكي» [ترقيم الرساله 8827] [ترقيم الشركة 8716] [ترقيم العلميه 8613]

الحكم على الحديث: إسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8828
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بحر بن نصر بن سابق الخَوْلاني، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني معاوية بن صالح، عن عبد الرحمن بن جُبَير بن نُفَير، عن أبيه، عن جدِّه: أن رسول الله ﷺ ذكر الدَّجال فقال:"إنْ يَخرج وأنا فيكم، فأنا حَجيجُكم، وإن يَخرجْ ولست فيكم، فكلُّ امْرِيءٍ حَجِيجُ نفسِه، واللهُ خليفتي على كلِّ مسلم، ألا وإنه مطموسُ العين كأنها عينُ عبدِ العُزَّى بن قَطَن الخُزاعي، ألا فإنه مكتوبٌ بين عينيه: كافر، يقرؤُه كلُّ مسلم، فمن لَقِيَه منكم فليَقرأْ بفاتحة الكهف، يخرجُ من بين الشام والعراق، فعاثَ يمينًا وعاثَ شِمالًا، يا عبادَ الله اثْبُتوا" ثلاثًا، فقيل: يا رسول الله، فما مُكْثُه في الأرض؟ قال:"أربعون يومًا: يومٌ كالسَّنة، ويومٌ كالشهر، ويومٌ كالجُمعة، وسائرُها كأيامِكم" قالوا يا رسول الله، فكيف نصنعُ بالصلاة يومئذٍ، صلاةُ يومٍ أو نَقدُرُ؟ قال:"بل تَقدُرون (1) " (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8614 - صحيح
سیدنا جبیر بن نفیر اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کا ذکر فرمایا اور ارشاد فرمایا: اگر وہ (دجال) میری موجودگی میں نکلا تو میں تمہاری طرف سے اس کا مقابلہ کرنے والا ہوں، اور اگر وہ میرے بعد نکلا تو ہر شخص خود اپنا دفاع کرنے والا ہوگا، اور اللہ ہر مسلمان پر میرا خلیفہ (نگہبان) ہے، خبردار! وہ کانی آنکھ والا ہے گویا کہ اس کی آنکھ عبد العزیٰ بن قطن خزاعی کی آنکھ کی طرح ہے، آگاہ رہو! اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوگا جسے ہر مسلمان پڑھ لے گا، پس تم میں سے جو اسے پائے اسے چاہیے کہ سورہ کہف کی ابتدائی آیات پڑھے، وہ شام اور عراق کے درمیانی راستے سے نکلے گا اور دائیں بائیں خوب فساد مچائے گا، اے اللہ کے بندو! ثابت قدم رہنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تین بار فرمایا، عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول! وہ زمین میں کتنا عرصہ قیام کرے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چالیس دن: ایک دن ایک سال کے برابر، ایک دن ایک مہینے کے برابر، ایک دن ایک ہفتے کے برابر اور باقی دن تمہارے عام دنوں کی طرح ہوں گے صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اس (طویل) دن میں ہم نماز کیسے پڑھیں گے، کیا ایک ہی دن کی نمازیں کافی ہوں گی یا ہم وقت کا اندازہ کریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ تم (وقت کا) اندازہ لگانا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8828]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، لكن من حديث جبير بن نفير عن النواس بن سِمعان عن النبي ﷺ، فقد خولف فيه معاوية بن صالح كما سيأتي» [ترقيم الرساله 8828] [ترقيم الشركة 8717] [ترقيم العلميه 8614]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
118. مَنْ سَمِعَ مِنْكُمْ بِخُرُوجِ الدَّجَّالِ فَلْيَنْأَ عَنْهُ
تم میں سے جو دجال کے خروج کے بارے میں سنے، وہ اس سے دور رہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8829
أخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حَنبَل، حدثني أَبي، حدثنا يحيى بن سعيد (1) ، حدثنا هشام بن هشام بن حسَّان، حدثني حُميد بن هلال، عن أبي الدَّهْماء، عن عِمران بن حُصين الخُزاعي قال: قال رسول الله ﷺ:"مَن سَمِعَ منكم بخروج الدَّجّالِ فليَنأَ عنه، فإنَّ الرجل يأتيه فيَحسَبُ أنه مؤمنٌ، فما يزالُ يَتبَعُه مما يَرى من الشُّبُهات" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. ولا أعلمُ أحدًا ذكر عن هشام بن حسان في إسناده [أبا الدهماء] (3) غير يحيى بن سعيد:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8615 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جو شخص دجال کے نکلنے کی خبر سنے وہ اس سے دور رہے، کیونکہ آدمی اس کے پاس جائے گا اور یہ سمجھے گا کہ وہ مومن ہے، لیکن وہ ان شبہات کی وجہ سے جو وہ (دجال) پیدا کرے گا مسلسل اس کی پیروی کرنے لگے گا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور میں نہیں جانتا کہ یحییٰ بن سعید کے علاوہ کسی اور نے ہشام بن حسان کی سند میں ابو الدہماء کا ذکر کیا ہو۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8829]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8829] [ترقيم الشركة 8718] [ترقيم العلميه 8615]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8830
فقد أخبرَناه أبو العباس محمد بن أحمد المحبُوبي، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا هشام بن حسّان، عن حُميد بن هلال، عن عِمران بن حُصين قال: قال رسول الله ﷺ:"من سمع بالدَّجال فليَنْأَ عنه - يقولها ثلاثًا - فإنَّ الرجل يأتيِه فيَتبَعُه فيَحسَبُ أنه صادقٌ، لِما بُعِثَ به من الشُّبهات" (4) .
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص دجال کے بارے میں سنے وہ اس سے دور رہے — آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تین بار فرمایا — کیونکہ آدمی اس کے پاس جائے گا اور ان شبہات کی وجہ سے جو اس کے ساتھ بھیجے گئے ہوں گے وہ اسے سچا سمجھ کر اس کی پیروی کرنے لگے گا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8830]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وقد سقط من إسناده هنا أبو الدهماء في رواية المصنف» [ترقيم الرساله 8830] [ترقيم الشركة 8719]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
119. قِصَّةُ رَجُلٍ مُخْدَجِ الْيَدِ عَلَى حَلَمَةِ ثَدْيِهِ شُعَيْرَاتٌ
ایک ایسے شخص کا قصہ جس کا ہاتھ ناقص تھا اور اس کے پستان کی گھنڈی پر چھوٹے بال تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8831
أخبرنا أبو الحسين أحمد بن عثمان بن يحيى المقرئ ببغداد وأبو أحمد بكر (1) بن محمد بن حَمْدان الصَّيرَفي بمَرْو قالا: حدثنا أبو قِلابةَ الرَّقَاشي، حدثنا عبد الصمد بن عبد الوارث بن سعيد، حدثني أَبي، حدثنا يزيد بن صالح، أنَّ أبا الوَضِيء عبَّاد بن نُسَيب حدَّثه، أنه قال: كنا في مَسيرٍ عامدِينَ إلى الكوفة مع أمير المؤمنين علي بن أبي طالب، فلما بَلَغْنا مسيرَ ليلتين أو ثلاثٍ من حَرُوراءَ شذَّ منا ناس، فذكرنا ذلك لعليٍّ، فقال: لا يَهُولنَّكم أمرُهم، فإنهم سَيرجِعون، فنَظَرْنا، فلما كان من الغد شذَّ مِثلا مَن شذَّ، فذكرنا ذلك لعليٍّ، فقال: لا يَهُولَنَّكم أَمرُهم، فإِنَّ أَمرَهم يسير، وقال علي: لا تَبدَؤُوهم بقتالٍ حتى يكونوا هم الذين يبدؤُونكم، فجَثَوْا على رُكَبِهم واتَّقَينا بتُرُسِنا، فجعلوا يَنالُونا بالنُّشّاب والسِّهام، ثم إنهم دَنَوْا منا فأَسنَدوا لنا الرِّماح، ثم تناوَلونا بالسيوف حتى همُّوا أن يَضَعُوا السيوف فينا، فخرج إليهم رجلٌ من عبدِ القَيْس يقال له: صَعصعة بن صُوحان، فنادى ثلاثًا، فقالوا: ما تشاءُ؟ فقال: أُذكِّرُكم الله أن تَخرُجوا بأرضٍ تكون مَسبَّةً على أهل الأرض، وأذكِّرُكم الله أَن تَمرُقوا من الدِّين مروقَ السَّهم من الرَّمِيَّة. فلما رأيناهم قد وَضَعوا فينا السيوفَ، قال علي: انهَضُوا على بَرَكة الله، فما كان إِلَّا فُوَاقٌ من نهارٍ حتى ضَجَّعْنا مَن ضَجَّعْنا، وهربَ مَن هربَ، فَحَمِدَ الله عليٌّ، فقال: إنَّ خليلي ﷺ أخبرني أن قائدَ هؤلاءِ رجلٌ مُخدَجُ اليدِ، على حَلَمَة ثَدْيِهِ شُعَيرات كأنهن ذَنَبُ يَربُوع، فالتَمَسُوه فلم يجدوه، فأَتيناه فقلنا: إنا لم نَجِدْه، فقال: التَمِسُوه، فواللهِ ما كَذَبتُ ولا كُذِبتُ، فما زِلْنا نلتمسُه حتى جاء عليٌّ بنفسه إلى آخر المعركة التي كانت لهم، فما زالَ يقول: اقلِبُوا ذا، اقلِبُوا ذا، حتى جاء رجلٌ من أهل الكوفة فقال: ها هو ذا، فقال علي: الله أكبر، واللهِ لا يأتيكم أحدٌ يخبِرُكم من أبوه؛ مالك! فجعل الناس يقولون: هذا مالك، هذا مالك، يقول علي: ابن مَنْ؟ فيقولون: لا ندري. فجاء رجلٌ من أهل الكوفة فقال: أنا أعلمُ الناس بهذا، كنت أَرُوضُ مُهرةً لفلان ابن فلان، شيخٍ من بني فلان، وأضعُ على ظهرها جَوَالقَ سهلةً له، أُقبِلُ بها وأُدبِرُ، إذ نَفَرَت المُهْرة، فناداني فقال: يا غلامُ، انظُرْ فإنَّ المهرةَ قد نَفَرَت، فقلت: إني لأرى خَيَالًا كأنه غُراب أو شاة، إذ أشرفَ هذا علينا، فقال: من الرجلُ؟ فقال: رجلٌ من أهل اليَمامة، قال: وما جاءَ بك شَعِثًا شاحبًا؟ قال: جئتُ أعبدُ الله في مصلَّى الكوفة، فأَخذ بيدِه ما لنا رابعٌ إِلَّا اللهُ، حتى انطَلَقَ به إلى البيت، فقال لامرأته: إنَّ الله تعالى قد ساق إليكِ خيرًا، قالت: واللهِ إني إليه لفقيرةٌ، فما ذاك؟ قال: هذا رجلٌ شَعِثٌ شاحبٌ كما تَرَين [جاء] من اليَمامةِ ليعبدَ الله في مصلَّى الكوفة، فكان يعبدُ الله فيه ويدعو الناسَ حتى اجتمع الناسُ إليه، فقال علي: أمَا إِنَّ خَليلي ﷺ أخبرني أنهم ثلاثةُ إخوةٍ من الجنِّ، هذا أكبرُهم، والثاني له جمعٌ كبير، والثالث فيه ضعفٌ (1) . قد أخرج مسلمٌ ﵀ حديثَ المُخدَج على سبيل الاختصار في"المسند الصحيح" (1) ، ولم يخرجاه بهذه السِّياقة، وهو صحيح الإسناد والسند.
ابو الوضی عباد بن نسیب سے روایت ہے کہ ہم امیر المومنین علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ کوفہ کی طرف سفر کر رہے تھے، جب ہم حروراء سے دو یا تین راتوں کی مسافت پر پہنچے تو کچھ لوگ ہم سے جدا ہو گئے، ہم نے اس کا ذکر سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کیا تو انہوں نے فرمایا: ان کا معاملہ تمہیں پریشان نہ کرے، وہ عنقریب واپس آ جائیں گے، ہم نے دیکھا کہ اگلے دن پہلے سے دگنے لوگ الگ ہو گئے، ہم نے دوبارہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے تذکرہ کیا تو انہوں نے فرمایا: ان کی بات تمہیں خوفزدہ نہ کرے، ان کا معاملہ معمولی ہے، اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے (لشکر کو) ہدایت کی: تم ان سے لڑائی میں پہل نہ کرنا جب تک کہ وہ تم سے لڑائی شروع نہ کر دیں، پس وہ (خوارج) اپنے گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے اور ہم نے اپنی ڈھالوں کے ذریعے بچاؤ کیا، وہ ہم پر تیر برسانے لگے، پھر وہ ہمارے قریب آ گئے اور نیزوں سے حملے کیے، پھر تلواریں چلائیں یہاں تک کہ انہوں نے ہم پر تلواروں سے ٹوٹ پڑنے کا ارادہ کر لیا، تب بنو عبد القیس کا ایک شخص جس کا نام صعصعہ بن صوحان تھا ان کی طرف نکلا اور تین بار پکارا، انہوں نے پوچھا: تم کیا چاہتے ہو؟ صعصعہ نے کہا: میں تمہیں اللہ کی یاد دلاتا ہوں کہ تم ایسی سرزمین پر نہ نکلو جو اہل زمین کے لیے ملامت بن جائے، اور میں تمہیں اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کہ تم دین سے اس طرح نہ نکل جاؤ جیسے تیر شکار سے پار نکل جاتا ہے، جب ہم نے دیکھا کہ انہوں نے ہم پر تلواریں چلا دی ہیں تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی برکت پر (دفاع کے لیے) اٹھ کھڑے ہو، پس دن کا تھوڑا سا حصہ ہی گزرا تھا کہ ہم نے جنہیں گرانا تھا گرا دیا اور جو بھاگنے والے تھے وہ بھاگ گئے، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اللہ کی حمد بیان کی اور فرمایا: میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے خبر دی تھی کہ ان کا قائد ایک ایسا شخص ہوگا جس کا ہاتھ «مُخدَجُ اليدِ» (پیدائشی طور پر کٹا ہوا یا چھوٹا) ہوگا، اس کے چھاتی کے سرے پر چند بال ہوں گے «كأنهن ذَنَبُ يَربُوع» جو گویا کہ جربوع (صحرائی چوہے) کی دم کی طرح ہوں گے، تم اسے تلاش کرو، لوگوں نے اسے تلاش کیا مگر وہ نہ ملا، ہم نے آ کر عرض کیا: ہمیں وہ نہیں ملا، انہوں نے فرمایا: اس اسے ڈھونڈو، اللہ کی قسم! نہ میں نے جھوٹ بولا ہے اور نہ مجھے جھوٹی خبر دی گئی ہے، ہم اسے تلاش کرتے رہے یہاں تک کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ خود میدان جنگ کے آخری حصے تک پہنچ گئے، وہ مسلسل فرما رہے تھے: اسے پلٹ کر دیکھو، اسے الٹ کر دیکھو، یہاں تک کہ کوفہ کا ایک شخص آیا اور اس نے کہا: وہ یہ رہا! تب سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ اکبر! اللہ کی قسم، تمہارے پاس کوئی ایسا شخص نہیں آئے گا جو تمہیں یہ بتا سکے کہ اس کا باپ کون ہے؛ یہ تو مالک ہے! لوگ کہنے لگے: یہ مالک ہے، یہ مالک ہے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کس کا بیٹا؟ لوگوں نے کہا: ہمیں معلوم نہیں، پھر کوفہ کا ایک شخص آیا اور کہنے لگا: میں اس کے بارے میں سب سے زیادہ جانتا ہوں، میں فلاں شخص کے ایک بچھیرے کو سدھا رہا تھا، میں اس کی پیٹھ پر ہلکی سی بوریاں لاد کر اسے ادھر ادھر چلا رہا تھا کہ اچانک بچھیرہ بدک گیا، اس بزرگ نے مجھے پکار کر کہا: اے لڑکے! دیکھو بچھیرہ بدک گیا ہے، میں نے کہا: میں ایک سایہ سا دیکھ رہا ہوں جو گویا کہ کوا یا بکری ہے، اتنے میں یہ شخص ہمارے سامنے ظاہر ہوا، اس بزرگ نے پوچھا: تم کون ہو؟ اس نے کہا: اہل یمامہ کا ایک شخص ہوں، بزرگ نے پوچھا: تم اس پراگندہ حالی کے ساتھ یہاں کیسے آئے؟ اس نے کہا: میں کوفہ کے مصلیٰ میں اللہ کی عبادت کرنے آیا ہوں، پھر اس نے بزرگ کا ہاتھ پکڑا اور اللہ گواہ ہے کہ ہمارے علاوہ وہاں چوتھا کوئی نہ تھا، یہاں تک کہ وہ اسے گھر لے گیا اور اپنی بیوی سے کہا: اللہ نے تمہاری طرف خیر بھیجی ہے، بیوی نے کہا: اللہ کی قسم! میں تو اس کی محتاج ہوں، وہ کیا ہے؟ اس نے کہا: یہ ایک پراگندہ حال شخص ہے جیسا کہ تم دیکھ رہی ہو، یہ یمامہ سے کوفہ میں عبادت کے لیے آیا ہے، چنانچہ وہ وہاں عبادت کرتا اور لوگوں کو دعوت دیتا رہا یہاں تک کہ لوگ اس کے گرد جمع ہو گئے، تب سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آگاہ رہو! میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے خبر دی تھی کہ یہ جنات میں سے تین بھائی ہیں، یہ ان میں سب سے بڑا ہے، دوسرے کے پاس ایک بڑی جماعت ہوگی اور تیسرے میں کمزوری ہوگی۔
امام مسلم نے ناقص ہاتھ والے شخص کی حدیث کو اختصار کے ساتھ روایت کیا ہے، لیکن شیخین نے اس سیاق کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا، اور یہ حدیث صحیح الاسناد ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8831]
تخریج الحدیث: «متنه غريب وفي بعض ألفاظه نكارة، والمتهم فيه عندنا هو يزيد بن صالح، ووقع في رواية عبد الله بن أحمد يزيد بن أبي صالح، وعدّهما الخطيب البغدادي في كتابه "غنية الملتمس" (683) واحدًا، وذكر أنه روى عن أنس وأبي الوضيء، مع أنَّ من تقدمه ممن ترجم ليزيد بن أبي صالح ...» [ترقيم الرساله 8831] [ترقيم الشركة 8720]

الحكم على الحديث: متنه غريب وفي بعض ألفاظه نكارة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
120. مُكَالَمَةُ ابْنِ عَمْرٍو مَعَ أَهْلِ الْعِرَاقِ فِي التَّحْدِيثِ
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کی اہل عراق سے حدیث بیان کرنے کے متعلق گفتگو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8832
أخبرنا أحمد بن عثمان المقرئ وبكر بن محمد المروَزي قالا: حدثنا أبو قِلابة، حدثنا عبد الصمد بن عبد الوارث، حدثنا أَبي، حدثنا حسين بن ذَكْوان، حدثنا عبد الله (2) بن بُرَيدة الأَسلمي، أن سليمان بن رَبِيعة الغبري (3) حدثه: أنه حجَّ مرةً في إمرة معاوية ومعه المنتصرُ بن الحارث الضَّبِّي في عصابةٍ من قُرّاء أهل البصرة، قال: فلما قَضَوْا نُسُكَهم قالوا: والله لا نَرجِعُ إلى البصرة حتى نلقى رجلًا من أصحاب محمدٍ ﷺ مَرْضيًّا، يحدِّثُنا بحديثٍ يُستَطرَفُ نحدِّثُ به أصحابَنا إذا رجعنا إليهم، قال: فلم نَزَل نسألُ حتى حُدِّثنا أنَّ عبد الله بن عمرو بن العاص نازلٌ بأسفل مكة، فعُدْنا إليه، فإذا نحن بثَقَلٍ عظيم (4) يرتحلون ثلاث مئة راحلة، منها مئةُ راحلةٍ ومئتا زاملةٍ، فقلنا: لمن هذا الثَّقَل؟ قالوا: لعبد الله بن عمرو، فقلنا: أكلُّ هذا له، وكنا نُحدَّث أنه من أشدِّ الناس تواضعًا؟ قال: فقالوا: ممَّن أنتم؟ فقلنا: من أهل العراق، قال: فقالوا: العَيبُ منكم حقٌّ يا أهل العراق، أمّا هذه المئةُ راحلةٍ، فلإخوانه يَحمِلُهم عليها، وأما المئتا زاملةٍ، فلمن نَزَلَ عليه من الناس، قال: فقلنا: دُلُّونا عليه، فقالوا: إنه في المسجد الحرام. قال: فانطلَقْنا نطلبُه حتى وَجَدْناه في دُبُر الكعبة جالسًا، فإذا هو قصيرٌ أَرمَصُ (1) أصلعُ بين بُردَين وعمامةٍ ليس عليه قميص، قد علَّق نعليه في شِماله، قال: فقلنا: يا عبد الله، إنك رجلٌ من أصحاب محمد ﷺ، فحدِّثنا حديثًا ينفعنا الله تعالى به بعد اليوم، قال: فقال لنا: ومن أنتم؟ قال: فقلنا له: لا تسألْ من نحن، حدِّثنا غفرَ الله لك، قال: فقال: ما أنا محدِّثَكم شيئًا حتى تُخبروني مَن أنتم، قلنا: وَدِدْنا أنك لم تَنقُدْنا وأعفَيتَنا وحدَّثتنا بعضَ الذي نسألك عنه، قال: فقال: والله لا أحدِّثُكم حتى تُخبروني من أيِّ الأمصار أنتم، قال: فلما رأَيناه حلفَ ولَجَّ، قلنا: فإنا ناسٌ من العراق، قال: فقال: أفٍّ لكم كلِّكم يا أهلَ العراق، إنكم تَكذِبون وتُكذِّبون وتَسخَرون، قال: فلما بلغ السُّخرِيَّ (2) ، وَجَدْنا من ذلك وَجْدًا شديدًا، قال: فقلنا: معاذَ الله أن نسخرَ من مثلِك، أما قولك: الكَذِبُ، فوالله لقد فَشَا في الناس الكذبُ وفينا، وأما التكذيبُ فوالله إنا لَنسمعُ الحديث لم نَسمعْ به من أحد نَثِقُ به، فإذا نكادُ نكذِّب به، وأما قولُك: السُّخريّ، فإنَّ أحدًا لا يسخرُ بمثلِك من المسلمين، فوالله إنك اليومَ لسيدُ المسلمين فيما نعلمُ نحن، إنك من المهاجرين الأوَّلين، ولقد بَلَغَنا أنك قرأتَ القرآن على محمدٍ ﷺ، وأنه لم يكن في الأرض قرشيٌّ أَبرَّ بوالدَيهِ منك، وأنك كنت أحسنَ الناس عينًا فأفسَدَ عينيك البكاءُ، ثم لقد قرأتَ الكتبَ كلَّها بعد رسول الله ﷺ، فما أحدٌ أفضلَ منك علمًا في أنفسِنا، وما نعلمُ بقيَ من العرب رجلٌ كان يرغَبُ عن فقهاءِ أهل مِصْرِه حتى يدخلَ إلى مِصْرٍ آخر يبتغي العلمَ عند رجل من العرب غيرَك، فحدِّثنا غفرَ الله لك، فقال: ما أنا بمحدِّثِكم حتى تُعطُوني مَوثِقًا أَلَّا تُكَذِّبوني ولا تَكذِبون عليَّ ولا تَسخَرون، قال: فقلنا: خذْ علينا ما شئت من مواثيق، فقال: عليكم عهدُ الله ومواثيقُه أن لا تُكذِّبوني ولا تَكذِبون عليَّ ولا تَسخَرون لما أحدِّثُكم، قال: فقلنا له: علينا ذاكَ، قال: فقال: إنَّ الله تعالى به عليكم كَفيلٌ ووَكِيل؟ فقلنا: نعم، فقال: اللهمَّ اشهَدْ عليهم. ثم قال عند ذاكَ: أما وربِّ هذا المسجدِ والبلد الحرام واليوم الحرام والشهرِ الحرام - ولقد استَسمنتُ اليمينَ أليس هكذا؟ قلنا: نعم، قد اجتهدتَ - قال: لَيُوشِكَنَّ بنو قَنطُوراء بن كركرى - قومٌ خُنْس الأنوف صِغارُ الأعيُن، كأنَّ وجوههم المَجَانُّ المُطرَقة - في كتاب الله المُنزَل أن يَسُوقوكم (1) من خُراسانَ وسِجستانَ سِياقًا عنيفًا، قومٌ يُوفُون اللَّمَم (2) ، وينتعلون الشَّعَر، ويَحتجِزون السيوفَ على أوساطهم (3) ، حتى ينزلوا الأُبُلّة، ثم قال: [وكم الأُبلّة] (4) من البصرة؟ قلنا: أربعُ فراسخَ، قال: ثم يَعقِدون بكل نخلة من نخل دِجْلة رأسَ فرسٍ، ثم يُرسِلون إلى أهل البصرة: أن اخرُجوا منها قبلَ أن تَنزِلَ عليكم، فيخرجُ أهلُ البصرة من البصرة، فيَلحَقُ لاحقٌ ببيت المقدِس، ويلحقُ آخرون بالمدينة، ويلحقُ آخرون بمكة، ويلحقُ آخرون بالأعراب (5) ، فلا يبقى أحدٌ من المصلِّين إلَّا قتيلًا وأسيرًا يحكمُون في دمِه ما شاؤوا. قال: فانصرَفْنا عنه وقد ساءَنا الذي حدَّثَنا، فمَشَينا من عنده غيرَ بعيدٍ، ثم انصرف المنتصرُ بنُ الحارث الضَّبِّي فقال: يا عبدَ الله بن عمرو قد حدَّثتنا فَظَعتَنا (1) فإنّا لا ندري من يدركُه منا، فحدِّثنا: هل بين يدَي ذلك علامةٌ؟ فقال عبد الله بن عمرو: لا تَعدَمْ عقلَك، نعم بين يدي ذلك أَمارةٌ، قال المنتصر بن الحارث: وما الأَمارةُ؟ قال: الأمارة: العَلَامة، قال له: وما تلك العلامة؟ قال: هي إِمارة الصِّبيان، فإذا رأيتَ إمارة الصِّبيان قد طَبَّقت الأرضَ، اعلَمْ أنَّ الذي أحدِّثُك قد جاء. قال: فانصرف عنه المنتصرُ فمشى قريبًا من غَلْوةٍ (2) ثم رجع إليه، قال: فقلنا له: عَلامَ تُؤْذِي هذا الشيخَ من أصحاب رسول الله ﷺ؟ فقال: والله لا أَنتهي حتى يبيِّنَ لي، فلما رجع إليه بيَّنه (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8618 - على شرط مسلم
سلیمان بن ربیعہ غبری بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں ایک مرتبہ حج کیا، ان کے ہمراہ منتصر بن حارث ضبی اور اہلِ بصرہ کے قراء کی ایک جماعت تھی۔ انہوں نے کہا: جب لوگ اپنے مناسک ادا کر چکے تو کہنے لگے: اللہ کی قسم! ہم اس وقت تک بصرہ واپس نہیں جائیں گے جب تک کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی ایسے صحابی سے ملاقات نہ کر لیں جو پسندیدہ (اور ثقہ) ہوں، جو ہمیں کوئی ایسی انوکھی حدیث سنائیں جسے ہم واپس جا کر اپنے ساتھیوں کو سنائیں۔ وہ کہتے ہیں: ہم مسلسل پوچھتے رہے یہاں تک کہ ہمیں بتایا گیا کہ عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما مکہ کے نچلے حصے میں فروکش ہیں۔ ہم ان کے پاس گئے، تو وہاں ہم نے ایک بہت بڑا قافلہ (سامان) دیکھا، جس میں تین سو سواریاں کوچ کرنے کے لیے تیار تھیں، ان میں سے ایک سو سواریاں تھیں اور دو سو سامان لادنے والے اونٹ تھے۔ ہم نے پوچھا: یہ سامان کس کا ہے؟ لوگوں نے کہا: عبداللہ بن عمرو کا۔ ہم نے کہا: کیا یہ سب انہی کا ہے، حالانکہ ہمیں تو یہ بتایا گیا تھا کہ وہ لوگوں میں سب سے زیادہ متواضع ہیں؟ لوگوں نے پوچھا: تم کون ہو؟ ہم نے کہا: اہلِ عراق میں سے۔ انہوں نے کہا: اے اہلِ عراق! تم پر عیب لگانا برحق ہے، (بات یہ ہے کہ) یہ ایک سو سواریاں ان کے بھائیوں کے لیے ہیں جن پر وہ انہیں سوار کراتے ہیں، اور دو سو سامان لادنے والے اونٹ ان لوگوں کے لیے ہیں جو ان کے ہاں مہمان ٹھہرتے ہیں۔ ہم نے کہا: ہمیں ان کے پاس لے چلو۔ انہوں نے کہا: وہ مسجد حرام میں ہیں۔ چنانچہ ہم انہیں تلاش کرتے ہوئے چلے یہاں تک کہ ہم نے انہیں کعبہ کے پچھلے حصے میں بیٹھے ہوئے پایا، وہ چھوٹے قد کے تھے، ان کی آنکھوں سے رطوبت بہہ رہی تھی اور سر پر بال نہیں تھے، دو چادروں اور ایک عمامے میں ملبوس تھے اور قمیص نہیں پہنی ہوئی تھی، اپنے جوتے بائیں ہاتھ میں لٹکائے ہوئے تھے۔ ہم نے کہا: اے عبداللہ! آپ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں، پس ہمیں کوئی ایسی حدیث سنائیے جس سے آج کے بعد اللہ تعالیٰ ہمیں نفع دے۔ انہوں نے ہم سے پوچھا: اور تم کون ہو؟ ہم نے کہا: آپ یہ نہ پوچھیں کہ ہم کون ہیں، اللہ آپ کی مغفرت فرمائے، ہمیں حدیث سنائیے۔ انہوں نے کہا: میں تمہیں کوئی چیز نہیں سناؤں گا جب تک تم مجھے یہ نہ بتاؤ کہ تم کون ہو۔ ہم نے کہا: ہمیں تو یہ پسند تھا کہ آپ ہم پر تنقید نہ کرتے اور ہمیں معاف رکھتے، اور جو ہم نے پوچھا ہے اس میں سے کچھ سنا دیتے۔ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں تمہیں ہرگز بیان نہیں کروں گا جب تک تم مجھے یہ نہ بتاؤ کہ تم کن شہروں کے رہنے والے ہو۔ جب ہم نے دیکھا کہ انہوں نے قسم کھا لی ہے اور ضد کر رہے ہیں تو ہم نے کہا: ہم عراق کے لوگ ہیں۔ انہوں نے کہا: اے اہلِ عراق! تم سب کے لیے افسوس ہے، تم جھوٹ بولتے ہو، جھٹلاتے ہو اور تمسخر اڑاتے ہو۔ جب انہوں نے تمسخر کی بات کی تو ہمیں یہ بات بہت ناگوار گزری۔ ہم نے کہا: اللہ کی پناہ کہ ہم آپ جیسے شخص کا تمسخر اڑائیں۔ رہی آپ کی جھوٹ کی بات، تو اللہ کی قسم! لوگوں میں اور ہم میں جھوٹ پھیل چکا ہے، اور رہی جھٹلانے کی بات، تو اللہ کی قسم! ہم کوئی ایسی حدیث سنتے ہیں جو ہم نے کسی ایسے شخص سے نہ سنی ہو جس پر ہم اعتماد کرتے ہوں، تو ہم اسے جھٹلانے کے قریب ہو جاتے ہیں۔ اور رہی آپ کی تمسخر کی بات، تو مسلمانوں میں سے کوئی بھی آپ جیسے شخص کا تمسخر نہیں اڑاتا، کیونکہ اللہ کی قسم! ہمارے علم کے مطابق آج آپ مسلمانوں کے سردار ہیں، آپ اولین مہاجرین میں سے ہیں، اور ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ آپ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن پڑھا ہے (یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پڑھا ہے)، اور یہ کہ روئے زمین پر کوئی قریشی آپ سے بڑھ کر اپنے والدین کا فرمانبردار نہیں، اور یہ کہ آپ لوگوں میں سب سے خوبصورت آنکھوں والے تھے لیکن رونے نے آپ کی آنکھیں خراب کر دیں، پھر آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد تمام (آسمانی) کتابیں پڑھیں، پس ہمارے نزدیک علم میں آپ سے افضل کوئی نہیں۔ اور ہم نہیں جانتے کہ عربوں میں کوئی ایسا شخص باقی ہو جو اپنے شہر کے فقہاء کو چھوڑ کر علم کی تلاش میں کسی دوسرے شہر جائے اور آپ کے سوا عرب کے کسی اور شخص سے علم حاصل کرے۔ لہٰذا اللہ آپ کی مغفرت فرمائے، ہمیں حدیث بیان کیجیے۔ انہوں نے کہا: میں تمہیں اس وقت تک حدیث بیان نہیں کروں گا جب تک تم مجھے پختہ عہد نہ دو کہ تم مجھے جھٹلاؤ گے نہیں، مجھ پر جھوٹ نہیں باندھو گے اور تمسخر نہیں اڑاؤ گے۔ ہم نے کہا: آپ ہم سے جو عہد لینا چاہیں لے لیں۔ انہوں نے کہا: تم پر اللہ کا عہد اور اس کے پیمان ہیں کہ میں تمہیں جو حدیث بیان کروں تم مجھے اس میں جھٹلاؤ گے نہیں، مجھ پر جھوٹ نہیں باندھو گے اور تمسخر نہیں اڑاؤ گے۔ ہم نے کہا: ہم پر یہ لازم ہے۔ انہوں نے پوچھا: کیا اس پر اللہ تعالیٰ تم پر ضامن اور وکیل ہے؟ ہم نے کہا: جی ہاں۔ انہوں نے کہا: اے اللہ! تو ان پر گواہ رہنا۔ پھر انہوں نے اس وقت فرمایا: سنو! اس مسجد کے رب کی، اس حرمت والے شہر کی، اس حرمت والے دن کی اور اس حرمت والے مہینے کی قسم! (اور میں نے قسم کو خوب پختہ کر دیا ہے، کیا ایسا نہیں؟ ہم نے کہا: جی ہاں، آپ نے پوری کوشش کی ہے) انہوں نے فرمایا: عنقریب بنو قنطورا بن کرکری، جو کہ چپٹی ناکوں اور چھوٹی آنکھوں والی ایک قوم ہے، گویا ان کے چہرے تہہ بہ تہہ چڑھائی گئی ڈھالوں کی طرح ہیں، جیسا کہ اللہ کی نازل کردہ کتاب میں ہے، وہ تمہیں خراسان اور سجستان سے بڑی سختی کے ساتھ ہانکتے ہوئے لائیں گے۔ وہ ایسی قوم ہے جو کانوں کی لو تک بال رکھیں گے، بالوں کے جوتے پہنیں گے اور تلواریں اپنی کمروں پر باندھیں گے، یہاں تک کہ وہ اُبلّہ (بصرہ کا ایک مقام) میں آ اتریں گے۔ پھر انہوں نے پوچھا: بصرہ سے اُبلّہ کتنی دور ہے؟ ہم نے کہا: چار فرسخ۔ انہوں نے کہا: پھر وہ دجلہ کے ہر کھجور کے درخت کے ساتھ ایک گھوڑے کا سر باندھیں گے، پھر وہ اہلِ بصرہ کی طرف پیغام بھیجیں گے کہ اس سے نکل جاؤ قبل اس کے کہ وہ تم پر ٹوٹ پڑیں، چنانچہ اہلِ بصرہ، بصرہ سے نکل جائیں گے، پس ان میں سے کوئی بیت المقدس جا ملے گا، کوئی مدینہ جا پہنچے گا، کوئی مکہ چلا جائے گا، اور کچھ لوگ دیہاتیوں (اعراب) سے جا ملیں گے، پھر نمازیوں میں سے کوئی باقی نہیں بچے گا مگر یہ کہ وہ مقتول ہوگا یا قیدی ہوگا جس کے خون کا وہ جیسا چاہیں گے فیصلہ کریں گے۔ راوی کہتے ہیں: ہم ان کے پاس سے لوٹ آئے اور ہمیں اس حدیث نے بہت غمگین کیا، ہم ان کے پاس سے تھوڑی ہی دور چلے تھے کہ منتصر بن حارث ضبی واپس مڑے اور کہنے لگے: اے عبداللہ بن عمرو! آپ نے ہمیں ایسی حدیث سنائی ہے جس نے ہمیں سخت خوفزدہ کر دیا ہے، اور ہمیں معلوم نہیں کہ ہم میں سے کون اسے پاتا ہے، پس ہمیں بتائیے کہ کیا اس واقعے سے پہلے کوئی نشانی ہوگی؟ عبداللہ بن عمرو نے فرمایا: اپنی عقل نہ کھو، ہاں! اس سے پہلے ایک امارت ہوگی۔ منتصر بن حارث نے پوچھا: وہ امارت کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: امارت یعنی علامت۔ اس نے پوچھا: وہ علامت کیا ہے؟ فرمایا: وہ بچوں کی حکومت (قیادت) ہے، پس جب تم دیکھو کہ بچوں کی حکومت نے زمین کو ڈھانپ لیا ہے، تو جان لو کہ جو بات میں نے تمہیں بتائی ہے وہ آ پہنچی ہے۔ وہ کہتے ہیں: منتصر ان کے پاس سے واپس آ گئے اور کوئی ایک تیر کی مسافت کے قریب چلے، پھر دوبارہ ان کے پاس واپس گئے۔ ہم نے ان سے کہا: تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی، اس بوڑھے شخص کو کیوں تکلیف دے رہے ہو؟ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں باز نہیں آؤں گا جب تک کہ وہ مجھے واضح نہ کر دیں۔ پس جب وہ ان کی طرف لوٹے تو انہوں نے اسے واضح کر دیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8832]
تخریج الحدیث: «إسناده محتمل للتحسين، من أجل سليمان بن الربيع فقد انفرد ابن بريدة بالرواية عنه، وذكره ابن حبان في "ثقاته"» [ترقيم الرساله 8832] [ترقيم الشركة 8721] [ترقيم العلميه 8618]

الحكم على الحديث: إسناده محتمل للتحسين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8833
أخبرنا أبو سهل أحمد بن محمد بن عبد الله بن زياد القطَّان ببغداد، حدثنا أحمد بن عبيد الله النَّرْسي، حدثنا أَزهَر بن سعد، حدثنا عبد الله بن عَوْن، عن عِمران بن مسلم الخيَّاط، عن زيد بن وهب قال: كنا عند حُذَيفة في هذا المسجد فقال: أتَتكم أظلَّتكم تَرمي بالنَّشَف (4) ، ثم التي بعدها تَرمي بالرَّضْف، ثم التي بعدها المُظلِمة، ما فيكم رجل حيٌّ (1) يَرى ما ترون، لم يرَ فتنةَ المسيح فيراها أبدًا، قال: وفينا أعرابيٌّ من ربيعةَ ما فينا حيٌّ غيره، قال سبحانَ الله يا أصحاب محمد! كيف بالمَسيح وقد وُصِفَ لنا عريضَ الكَبْهة، مُشرِفَ الكَتَدِ (2) ، بعيد ما بين المَنكِبَين؟! فأنا رأيت حذيفةَ رُدِعَ منها رَدْعةً (3) ، قال: نَشَدتُك بالله، هل تدري كيف قلت؟ قال: قلتَ: ما فيكم رجل حيٌّ يَرى ما ترون، لم يرَ فتنةً الدجال فيراها أبدًا، قال: فأنا رأيتُ حذيفةَ تَسايَرَ عن (4) وجهه، قال: قلتُ: لأنه حَفِظَ الحديثَ على وجهه؟ قال: نعم. قال: ثم قال كلمةً ضعيفةً: أرأيتم يومَ الدارِ أمس، فإنها كانت فتنةً عامةً عمَّت الناس، قال: وفينا أعرابيٌّ من ربيعةَ ما فينا حيٌّ غيرُه، قال: سبحانَ الله يا أصحابَ محمد! فأين الذين يُبعِّقون لِقاحَنا (5) ، ويَنقُبون بيوتَنا؟! قال: أولئك هم الفاسقون، مرتين، قال: ولقد خرجتُ يومَ الجَرَعَة (1) ولقد علمتُ أنه لم يُهرَقُ فيها مِحجَمةٌ من دم، وما نهيتُ عنها إلَّا ابن الحصرامة، وفينا أعرابي من ربيعةَ ما فينا حيٌّ غيرُه، قال: سبحانَ الله يا أصحابَ محمد، ابن الحصرامةِ دونَ الناس! فقال: إنها إذا أقبلَتْ كانت للقائم والقائل، وإنَّ ابنَ الحصرامةِ رجلٌ قوَّالةٌ (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين، فقد احتجَّا بعِمران بن مسلم (3) ، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8619 - على شرط البخاري ومسلم
زید بن وہب سے روایت ہے کہ ہم اس مسجد میں سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھے تو انہوں نے فرمایا: تمہارے پاس ایسے فتنے آ رہے ہیں جو تم پر چھا جائیں گے، وہ چھوٹے سنگریزے برسائیں گے، پھر اس کے بعد والا فتنہ گرم پتھر برسائے گا، پھر اس کے بعد اندھیر نگری والا فتنہ آئے گا، تم میں سے کوئی بھی ایسا زندہ شخص نہیں ہے جو وہ کچھ دیکھ لے جو تم دیکھ رہے ہو اور وہ دجال کا فتنہ نہ دیکھے۔ راوی کہتے ہیں کہ ہمارے درمیان قبیلہ ربیعہ کا ایک دیہاتی تھا، اس نے کہا: سبحان اللہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیو! دجال کا کیا حال ہوگا جبکہ ہمیں اس کا حلیہ چوڑی پیشانی، ابھرے ہوئے کوہان نما کندھے اور چوڑے شانوں والا بتایا گیا ہے؟ میں نے دیکھا کہ حذیفہ رضی اللہ عنہ اس کی بات سے ٹھٹھک گئے اور فرمایا: میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں، کیا تم جانتے ہو کہ تم نے کیا کہا؟ اس نے کہا: آپ نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی ایسا زندہ شخص نہیں ہے جو وہ سب دیکھ لے جو تم دیکھ رہے ہو اور وہ دجال کا فتنہ نہ دیکھے۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ حذیفہ رضی اللہ عنہ کا چہرہ کھل اٹھا، میں نے پوچھا: کیا اس لیے کہ اس نے حدیث کو صحیح طرح یاد رکھا تھا؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ پھر حذیفہ رضی اللہ عنہ نے دبی آواز میں کہا: تمہارا کل کے یومِ الدار (سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے محاصرے) کے بارے میں کیا خیال ہے، وہ ایک عمومی فتنہ تھا جس نے سب لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا، اس دیہاتی نے کہا: سبحان اللہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیو! پھر وہ لوگ کہاں جائیں گے جو ہماری اونٹنیوں کے تھن کاٹ دیتے ہیں اور ہمارے گھروں میں نقب لگاتے ہیں؟ انہوں نے دو بار فرمایا: وہ لوگ فاسق ہیں۔ انہوں نے مزید فرمایا: میں یومِ جرعہ کے دن نکلا تھا اور مجھے علم تھا کہ اس میں ایک پچھنے کے برابر بھی خون نہیں بہایا جائے گا، اور میں نے اس فتنے سے کسی کو نہیں روکا تھا سوائے ابن حصرامہ کے، اس دیہاتی نے پھر کہا: سبحان اللہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیو! کیا ابن حصرامہ باقی لوگوں سے بڑھ کر تھا؟ تو انہوں نے فرمایا: جب فتنہ آتا ہے تو وہ (لڑنے کے لیے) کھڑے ہونے والے اور (بات کرنے کے لیے) زبان چلانے والے کے لیے ہوتا ہے، اور ابن حصرامہ بہت زیادہ باتیں کرنے والا شخص تھا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، کیونکہ انہوں نے عمران بن مسلم سے استدلال کیا ہے، لیکن اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8833]
تخریج الحدیث: «إسناده فيه لِين، عمران الخياط لا يكاد يُعرَف كما قال الذهبي في "ميزان الاعتدال"، وقد ترجمه البخاري في "التاريخ الكبير" 6/ 418 وابن حبان في "الثقات" 7/ 241، ولم يذكرا في الرواة عنه غير عبد الله بن عون، وزاد ابن أبي حاتم في "الجرح والتعديل" 6/ 308 منصورًا ومغيرة، وذكره ...» [ترقيم الرساله 8833] [ترقيم الشركة 8722] [ترقيم العلميه 8619]

الحكم على الحديث: إسناده فيه لِين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
121. إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَمْ يَبْعَثْ نَبِيًّا إِلَّا حَذَّرَ أُمَّتَهُ الدَّجَّالَ
اللہ تعالیٰ نے ایسا کوئی نبی نہیں بھیجا جس نے اپنی امت کو دجال سے نہ ڈرایا ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8834
أخبرنا أبو الحسن أحمد بن محمد بن إسماعيل بن مِهرانَ، حدثنا أبي، أخبرنا أحمد بن عبد الرحمن بن وَهْب القُرشي، حدثنا عمِّي، أخبرني يونُس ابن يزيد، عن عطاءٍ الخُراساني، عن يحيى بن أبي عمرو السَّيباني، عن حديث عمرو الحَضْرمي من أهل حمص، عن أبي أُمامة الباهِلى قال: خَطَبَنا رسولُ الله ﷺ يومًا، فكان أكثرُ خطبته ذِكرَ الدَّجال يحدِّثُنا عنه حتى فَرَغَ من خطبته، فكان فيما قال لنا يومئذٍ:"إنَّ الله تعالى لم يَبعَثْ نبيًّا إلَّا حذَّر أمَّتَه الدجالَ، وإني آخرُ الأنبياء وأنتم آخرُ الأمم، وهو خارجٌ فيكم لا مَحَالةَ، فإنْ يَخرُجْ وأنا بين أظهُرِكم، فأنا حَجِيجُ كلِّ مسلمٍ، وإنْ يَخرجْ فيكم بعدي، فكلُّ امرِئٍ حجيجُ نفسِه، واللهُ خَليفتي على كلِّ مسلمٍ، إنه يخرج من خَلَّةٍ بين العراق والشام، فعاثَ يمينًا وعاثَ شِمالًا، يا عبادَ الله فاثْبُتوا، فإنه يبدأُ فيقول: أنا نبيٌّ، ولا نبيَّ بعدي، ثم يُثنِّي فيقول: أنا ربُّكم ولن تَرَوا ربَّكم (1) حتى تموتوا، وإنه مكتوبٌ بين عينيه: كافرٌ، يقرؤُه كلُّ مؤمنٍ، فمن لَقِيَه منكم فليَتفُلْ (2) في وجهه وليَقرأْ فواتحَ سورة أصحاب الكهف، وإنه يُسلَّط على نفسٍ من بني آدم فيقتلُها ثم يُحيِيها، وإنه لا يَعْدُو ذلك، ولا يُسلَّطُ على نفسٍ غيرها. وإنَّ من فتنتِه أنَّ معه جنةً ونارًا، فنارُه جنَّةٌ وجنَّتُه نارٌ، فمن ابتُلِيَ بنارِه فليُغمِضْ عينيه وليَستغِثْ بالله، تكون عليه بردًا وسلامًا كما كانت النار بردًا وسلامًا على إبراهيم، وإنَّ من فتنتِه أن يَمُرَّ على الحيِّ فيؤمنون به ويصدِّقونه فيدعو لهم، فتُمطِرُ السماءُ عليهم من يومهم، وتُخصِبُ لهم الأرضُ من يومها، وتَرُوحُ عليهم ماشيتُهم من يومها أعظمَ ما كانت وأسمنَه وأمدَّه خواصرَ وأدرَّه ضروعًا، ويمرُّ على الحيِّ فيكفرون به ويكذِّبونه فيدعو عليهم، فلا يُصبحُ لهم سارحٌ يَسرَحُ. وإنَّ أيامه أربعون، فيومٌ كسَنةٍ، ويومٌ كشهرٍ، ويومٌ كجُمعةٍ، ويومٌ كالأيام، وآخرُ أيامه كالسَّراب، تَقدُرون الأيامَ الطُّوالَ ثم تصلُّون، يُصبِحُ الرجلُ عند باب المدينة فيُمسي قبل أن يَبلُغَ بابَها الآخَر" قالوا: كيف نُصلِّي يا رسول الله في تلك الأيام القِصَار؟ قال:"تَقدُرون فيها ثم تصلُّون" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8620 - على شرط مسلم
سیدنا ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک دن خطبہ دیا، جس کا زیادہ تر حصہ دجال کے متعلق تھا، یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ سے فارغ ہوئے تو اس دن جو باتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بیان فرمائیں ان میں یہ بھی تھا: اللہ تعالیٰ نے جس نبی کو بھی مبعوث فرمایا اس نے اپنی امت کو دجال سے ضرور ڈرایا، اور میں آخری نبی ہوں جبکہ تم آخری امت ہو، اور وہ (دجال) یقیناً تم ہی میں نکلے گا، پس اگر وہ میری موجودگی میں نکلا تو میں ہر مسلمان کی طرف سے اس کا مقابلہ کروں گا، اور اگر وہ میرے بعد تم میں نکلا تو ہر شخص خود اپنا دفاع کرے گا، اور اللہ ہر مسلمان پر میرا خلیفہ (نگہبان) ہے، وہ عراق اور شام کے درمیانی راستے سے نکلے گا اور دائیں بائیں خوب فتنہ و فساد مچائے گا، اے اللہ کے بندو! تم ثابت قدم رہنا، وہ (فتنے کی) ابتدا اس بات سے کرے گا کہ وہ کہے گا: میں نبی ہوں، حالانکہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے، پھر وہ دوسری بات یہ کہے گا: میں تمہارا رب ہوں، جبکہ تم اپنے رب کو مرنے سے پہلے ہرگز نہیں دیکھ سکو گے، اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوگا جسے ہر مومن پڑھ لے گا، پس تم میں سے جو اسے پائے وہ اس کے چہرے پر تھوک دے اور سورہ کہف کی ابتدائی آیات پڑھے، اسے بنی آدم کی ایک جان پر مسلط کیا جائے گا جسے وہ قتل کر کے دوبارہ زندہ کر دے گا، اور وہ صرف اسی ایک شخص کے ساتھ ایسا کر سکے گا اس کے علاوہ کسی اور پر اسے یہ قدرت نہیں دی جائے گی۔ اور اس کے فتنوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس کے ساتھ جنت اور آگ ہوگی، پس اس کی آگ (حقیقت میں) جنت ہوگی اور اس کی جنت (حقیقت میں) آگ ہوگی، لہٰذا جو شخص اس کی آگ میں ڈال کر آزمایا جائے وہ اپنی آنکھیں بند کر لے اور اللہ سے فریاد کرے، وہ آگ اس پر اسی طرح ٹھنڈی اور سلامتی والی بن جائے گی جیسے ابراہیم علیہ السلام پر ٹھنڈی اور سلامتی والی بن گئی تھی، اور اس کے فتنوں میں سے یہ بھی ہے کہ وہ کسی قبیلے کے پاس سے گزرے گا تو وہ اس پر ایمان لے آئیں گے اور اس کی تصدیق کریں گے تو وہ ان کے لیے دعا کرے گا، پس اسی دن ان پر آسمان سے بارش برسے گی اور زمین اسی دن غلہ اگا دے گی، اور شام کو ان کے مویشی پہلے سے زیادہ بڑے، خوب فربہ، بھری ہوئی کوکھ اور بھرپور دودھ والے تھنوں کے ساتھ واپس لوٹیں گے، اور وہ ایسے قبیلے کے پاس سے گزرے گا جو اس کا کفر اور تکذیب کریں گے تو وہ ان کے لیے بددعا کرے گا، پس (قحط کی وجہ سے) صبح ان کا کوئی چرنے والا جانور باقی نہ رہے گا۔ وہ زمین میں چالیس دن رہے گا، جن میں سے ایک دن سال کے برابر، ایک دن مہینے کے برابر، ایک دن ہفتے کے برابر اور ایک دن عام دنوں کی طرح ہوگا، اور اس کے آخری ایام سراب (بہت مختصر) کی طرح ہوں گے، تم ان طویل دنوں کا اندازہ کر کے نمازیں پڑھنا، (آخری ایام میں حالت یہ ہوگی کہ) آدمی مدینہ کے ایک دروازے سے صبح نکلے گا تو دوسرے دروازے تک پہنچنے سے پہلے ہی شام ہو جائے گی۔ صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم ان مختصر ایام میں نماز کیسے پڑھیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ان میں (وقت کا) اندازہ کر کے نمازیں پڑھنا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اس سیاق کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8834]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، وعمرو الحضرمي: هو عمرو بن عبد الله السَّيباني الحضرمي، وقد سلف تحرير القول في تحسين حديثه عند الحديث رقم (8522)» [ترقيم الرساله 8834] [ترقيم الشركة 8723] [ترقيم العلميه 8620]

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں