المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
126. لَا يَدْخُلُ الْمَدِينَةَ رُعْبُ الدَّجَّالِ وَلَا الطَّاعُونُ
مدینہ منورہ میں دجال کا رعب اور طاعون داخل نہیں ہو سکے گا
حدیث نمبر: 8844
حدَّثناه محمدُ بن صالح بن هانئ، حدثنا السَّرِي بن خُزيمة، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا حماد سَلَمة، حدثنا خالد، عن عبد الله بن شقيق، عن عبد الله بن سُرَاقة، عن أبي عُبيدة بن الجرّاح قال: قال رسول الله ﷺ:"إنه لم يكن نبيٌّ بعد نوحِ إلَّا وقد أنذَرَ أمّتَه الدجالَ، وإني أُنذِرُكُموه"، فَوَصَفَه لنا رسولُ الله ﷺ قال:"إنكم ستُدركونه أو سيدركُه بعضُ من رآني وسَمِع منِّي" قلنا: يا رسول الله، قلوبُنا يومئذٍ كما هي اليومَ؟ قال:"أو خيرٌ" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8630 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8630 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نوح علیہ السلام کے بعد کوئی ایسا نبی نہیں گزرا جس نے اپنی امت کو دجال سے نہ ڈرایا ہو، اور میں بھی تمہیں اس سے خبردار کرتا ہوں“، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے اس کا حلیہ بیان فرمایا اور فرمایا: ”تم اسے پاؤ گے یا وہ شخص اسے پائے گا جس نے مجھے دیکھا اور مجھ سے سنا ہے“، ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا اس دن ہمارے دل (ایمان و ثبات میں) ویسے ہی ہوں گے جیسے آج ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلکہ اس سے بھی بہتر ہوں گے۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8844]
تخریج الحدیث: «أوله صحيح لغيره، وإسناده ضعيف كسابقه» [ترقيم الرساله 8844] [ترقيم الشركة 8734] [ترقيم العلميه 8630]
الحكم على الحديث: أوله صحيح لغيره
127. ذِكْرُ يَوْمِ الْخَلَاصِ
یومِ خلاص (خلاصی کے دن) کا تذکرہ
حدیث نمبر: 8845
وحدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا السَّرِي بن خُزيمة، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا حماد بن سَلَمة، حدثنا سعيد الجُريري، عن عبد الله بن شَقيق، عن مِحجَن بن الأدرَع: أنَّ رسول الله ﷺ خَطَبَ الناسَ فقال:"يومُ الخَلَاص، وما يومُ الخَلَاص؟" ثلاثَ مرات، فقيل: يا رسول الله، ما يومُ الخلاص؟ فقال:"يجيء الدجالُ فيَصعَدُ أُحدًا، فيطَّلِعُ فيَنظُرُ إلى المدينةَ، فيقول لأصحابه: ألا ترونَ إلى هذا القصر الأبيض، هذا مسجدُ أحمد، ثم يأتي المدينةَ فيجدُ بكلِّ نَقْبٍ من نِقابِها مَلَكًا مُصلِتًا، فيأتي سَبَخةَ الجُرُفِ فيضربُ رِواقَه، ثم تَرجُفُ المدينةُ ثلاثَ رَجَفات، فلا يبقى منافقٌ ولا منافقةٌ، ولا فاسقٌ ولا فاسقةٌ، إِلَّا خرج إليه، فتَخلُصُ المدينةُ، وذلك يومُ الخَلَاص" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8631 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8631 - على شرط مسلم
سیدنا محجن بن ادرع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خطبہ دیا اور تین بار فرمایا: ”خلاصی کا دن، اور کیا ہے خلاص کا دن؟“ عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول! خلاص کے دن سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دجال آئے گا اور وہ احد پہاڑ پر چڑھے گا، پھر وہ مدینہ کی طرف جھانک کر دیکھے گا اور اپنے ساتھیوں سے کہے گا: کیا تم اس سفید محل کو دیکھ رہے ہو؟ یہ احمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی مسجد ہے، پھر وہ مدینہ کی طرف بڑھے گا تو اس کے ہر راستے پر ننگی تلوار لیے ایک فرشتہ پہرہ دے رہا ہوگا، پس وہ مقام جرف کے شور زدہ میدان میں ڈیرہ ڈالے گا، پھر مدینہ میں تین مرتبہ زلزلے کے جھٹکے آئیں گے، جس کے نتیجے میں ہر منافق مرد و عورت اور ہر فاسق مرد و عورت نکل کر دجال کے پاس چلا جائے گا، یوں مدینہ (شرپسندوں سے) پاک ہو جائے گا، اور وہی خلاص کا دن ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8845]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8845]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، دون قوله: "فيقول لأصحابه: ألا ترون هذا القصر الأبيض هذا مسجد أحمد فلم يجئ إلّا في حديث محجن هذا، ورجال إسناده عن آخرهم ثقات، إلّا أنَّ عبد الله بن شقيق أدخل بينه وبين محجن بن الأدرع في بعض حديثه رجاء بنَ أبي رجاء كما سبق بيانه عند الحديث ...» [ترقيم الرساله 8845] [ترقيم الشركة 8735] [ترقيم العلميه 8631]
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
128. ذِكْرُ نَفْخِ الصُّورِ وَإِنْبَاتِ الْأَجْسَادِ
صور پھونکے جانے اور جسموں کے دوبارہ اگنے کا تذکرہ
حدیث نمبر: 8846
أخبرنا أبو العباس قاسم بن القاسم السَّيّاري بمَرْو، حدثنا أبو الموجِّه محمد بن عمرو الفَزَاري، حدثنا عَبْدانُ بن عثمان، أخبرني أبي، عن شُعبة، عن النُّعمان ابن سالم، عن يعقوب بن عاصم، عن عبد الله بن عمرو قال: والله لولا شيءٌ ما حدَّثتُكم حديثًا، قالوا: إنك قلتَ: لا تقومُ الساعةُ إلى كذا وكذا، قال: إنما قلتُ: لا يكونُ كذا وكذا حتى يكونَ أمرٌ عظيمٌ (1) ، فقد كان ذاكَ، فقد حُرِّق البيتُ، وكان كذا، وقال رسول الله ﷺ:"يخرج الدَّجالُ فيلبَتُ في أمتي ما شاء الله، يَلبَثُ أربعين"، ولا أدري ليلةً أو شهرًا أو سنةً، قال:"ثم يَبْعَثُ الله عيسى ابنَ مريمَ ﵇ كأنه عُرُوةُ بنُ مسعود الثَّقفي، قال: فيطلبُه حتى يُهلِكَه، قال: ثم يبقى الناسُ سبعَ سنين، ليس بين اثنين عَدَاوَةٌ، قال: فيبعثُ الله ريحًا باردةً تجيءُ من قِبَل الشام، فلا تَدَعُ أحدًا في قلبه مثقال ذرّةِ إيمانٍ إِلَّا قَبَضَت روحَه، [حتى] لو أن أحدَكم في كَبِدِ جبلٍ [دَخَلَت عليه"، سمعت هذه من رسول الله ﷺ: كَبِد جبل] (2) قال:"ثم يبقى شِرارُ الناس، من لا يعرفُ معروفًا ولا ينكرُ منكرًا، في خِفّة الطير وأحلام السِّباع، قال: فيجيئُهم الشيطانُ فيقول: ألا تستجيبونَ؟ قال: فيقولون: ماذا تأمرُنا؟ قال: فيأمرُهم بعبادة الأوثان فيَعبُدونها، وهم في ذلك دارٌّ رِزقُهم، حسنٌ عيَشُهم، قال: ثم يُنفَخُ في الصُّور فلا يَسمعُه أحدٌ إِلَّا أَصغَى، فيكونُ أولَ من يَسمعُه رجلٌ يَلُوطُ حوضَ إبلِه، قال: فيَصعَةُ، ثم يَصعَقُ الناسُ، فيُرسِلُ الله مطرًا كأنه الطَّلُّ، قال: فَتَنبُتُ أجسادُهم، قال: ثم يُنفَخُ فيه فإذا هم قيامٌ يَنظُرون، فيقال: هَلُمَّ إلى ربِّكم، قِفُوهم إنهم مسؤُولون، قال: فيقال: أَخرجوا بَعْثَ النارِ، قال: فيقال: كم؟ فيقال: من كلِّ ألفٍ تسعَ مئة وتسعةً وتسعين" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8632 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8632 - على شرط مسلم
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! اگر ایک خاص بات نہ ہوتی تو میں تمہیں کوئی حدیث بیان نہ کرتا۔“ لوگوں نے (یہ گمان کرتے ہوئے) عرض کیا کہ آپ نے تو کہا تھا کہ قیامت فلاں فلاں وقت تک آ جائے گی، تو انہوں نے وضاحت فرمائی: ”میں نے تو یہ کہا تھا کہ فلاں فلاں بڑے امور پیش آنے تک ایسا نہیں ہوگا“، اور وہ امور پیش آ چکے ہیں جیسے بیت اللہ کا نذرِ آتش ہونا وغیرہ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دجال نکلے گا اور میری امت میں جتنا اللہ چاہے گا ٹھہرے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چالیس“، (راوی کہتے ہیں) مجھے نہیں معلوم کہ چالیس راتیں، مہینے یا سال، پھر فرمایا: ”پھر اللہ تعالیٰ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کو بھیجے گا جو (شکل و صورت میں) عروہ بن مسعود ثقفی کے مشابہ ہوں گے، وہ اسے تلاش کر کے ہلاک کر دیں گے، پھر لوگ سات سال تک اس حال میں رہیں گے کہ دو آدمیوں کے درمیان بھی کوئی دشمنی نہیں ہوگی، پھر اللہ تعالیٰ شام کی طرف سے ایک ٹھنڈی ہوا بھیجے گا جو روئے زمین پر کسی ایسے شخص کو نہیں چھوڑے گی جس کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہو مگر اس کی روح قبض کر لے گی، یہاں تک کہ اگر تم میں سے کوئی پہاڑ کے اندرونی حصے میں بھی چھپا ہوا ہوا تو وہ ہوا وہاں بھی داخل ہو جائے گی،“ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ الفاظ یعنی پہاڑ کا اندرونی حصہ سنے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر بدترین لوگ باقی رہ جائیں گے جن کی تیزی پرندوں جیسی اور عقلیں درندوں جیسی ہوں گی، وہ نہ نیکی کو پہچانیں گے اور نہ برائی سے روکیں گے، پھر شیطان ان کے پاس آئے گا اور کہے گا: کیا تم میری بات نہیں مانو گے؟ وہ پوچھیں گے: تو ہمیں کیا حکم دیتا ہے؟ وہ انہیں بتوں کی پوجا کا حکم دے گا اور وہ ان کی عبادت کرنے لگیں گے، اس حال میں بھی ان کا رزق فراواں ہوگا اور ان کی زندگی خوشحال ہوگی، پھر صور پھونکا جائے گا، جو بھی اسے سنے گا (دہشت سے) گردن ایک طرف جھکا دے گا، سب سے پہلے وہ شخص اسے سنے گا جو اپنے اونٹوں کے حوض کی لپائی کر رہا ہوگا، وہ بے ہوش ہو کر گر جائے گا اور پھر تمام لوگ بے ہوش ہو جائیں گے، پھر اللہ تعالیٰ ایسی بارش برسائے گا جو شبنم کی طرح ہوگی جس سے لوگوں کے اجسام (دوبارہ) اگ آئیں گے، پھر دوبارہ صور پھونکا جائے گا تو وہ اچانک کھڑے ہو کر دیکھ رہے ہوں گے، پھر کہا جائے گا: اپنے رب کی طرف آؤ، ﴿وَقِفُوهُمْ إِنَّهُمْ مَسْئُولُونَ﴾ ”انہیں ٹھہراؤ، یقیناً ان سے سوال کیا جانا ہے۔“ [سورة الصافات: 24] پھر کہا جائے گا: جہنم کا لشکر نکالو، پوچھا جائے گا: کتنا؟ جواب ملے گا: ہر ایک ہزار میں سے نو سو ننانوے (999)۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8846]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8846]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8846] [ترقيم الشركة 8736] [ترقيم العلميه 8632]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8847
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبُوبي بمَرُو، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا عبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيل، عن إبراهيم بن مُهاجِر، عن مجاهد، عن مُورِّق، عن أبي ذرٍّ قال: قال رسول الله ﷺ:"إني أَرى ما لا تَرَون، وأسمعُ ما لا تَسمعون، إنَّ السماء أَطَّتْ، وحُقَّ لها أن تَئِطَّ، ما فيها - أو ما منها - موضعُ أربعِ أصابعَ إلَّا ومَلَكٌ واضعٌ جبهتَه ساجدًا (1) لله، والله لو تعلمون ما أعلمُ لَضحِكتُم قليلًا ولبكيتُم كثيرًا، وما تلذَّذتُم بالنساء على الفُرُشات (2) ، ولخرجتُم إلى الصُّعُدات تجأَرُون إلى الله"، والله لوَدِدتُ أن كنت شجرةً تُعضَدُ (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8633 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8633 - صحيح
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں وہ دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے اور وہ سنتا ہوں جو تم نہیں سنتے، آسمان (فرشتوں کے بوجھ سے) چرچرا رہا ہے اور اسے چرچرانا ہی چاہیے، کیونکہ اس میں چار انگلیوں کے برابر بھی ایسی جگہ نہیں ہے جہاں کوئی فرشتہ اللہ کے حضور سجدہ ریز نہ ہو، اللہ کی قسم! اگر تم وہ جانتے ہوتے جو میں جانتا ہوں تو تم ہنستے کم اور روتے زیادہ، اور بستروں پر اپنی عورتوں سے لذت حاصل نہ کرتے بلکہ تم بلندیوں اور میدانوں کی طرف نکل جاتے اور اللہ کے حضور گریہ و زاری کرتے“، (یہ سن کر ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا) اللہ کی قسم! میں تو یہ تمنا کرتا ہوں کہ کاش میں کوئی درخت ہوتا جسے کاٹ دیا جاتا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8847]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8847]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، وقد سلف برقم (3927) من طريق أحمد بن حازم الغفاري عن عبيد الله بن موسى» [ترقيم الرساله 8847] [ترقيم الشركة 8737] [ترقيم العلميه 8633]
الحكم على الحديث: حسن لغيره
حدیث نمبر: 8848
حدثنا أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن يحيى وأبو محمد بن زياد الدَّورَقي قالا: حدثنا الإمام أبو بكر محمد بن إسحاق بن خُزَيمة، حدثنا محمد بن حسَّان الأزرق، حدثنا رَيْحان بن سعيد حدثنا عَبَّاد - هو ابن منصور - عن أيوب، عن أبي قِلابةَ، عن أنس قال: قال رسول الله ﷺ:"سيُدرِكُ رِجالٌ (4) من أمَّتي عيسى ابنَ مريمَ ﵉، ويشهدون (5) قتالَ الدَّجّال" (6) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8634 - منكر
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8634 - منكر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کے کچھ لوگ عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کو ضرور پائیں گے، اور وہ دجال کے خلاف جنگ میں شریک ہوں گے۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8848]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف عباد بن منصور، والراوي عنه ريحان بن سعيد ليس بذاك القوي» [ترقيم الرساله 8848] [ترقيم الشركة 8738] [ترقيم العلميه 8634]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لضعف عباد بن منصور
حدیث نمبر: 8849
حدثنا محمد بن المظفر الحافظ، حدثنا عبد الله بن سليمان، حدثنا محمد (1) بن مُصفَّى الحِمصي، حدثنا إسماعيل، عن أيوب، عن أبي قِلَابة، عن أنس قال: قال رسول الله ﷺ:"من أدرَكَ منكم عيسى ابنَ مريمَ، فليُقرِئْه مني السلامَ" (2) . صلَّى الله عليهما. إسماعيل هذا أظنُّه ابنَ عيَّاش، ولم يحتجّا به.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جو بھی عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کو پائے، وہ انہیں میرا سلام پہنچا دے۔“
میرا گمان ہے کہ یہ راوی اسماعیل بن عیاش ہے، اور شیخین نے اسے بطور حجت قبول نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8849]
میرا گمان ہے کہ یہ راوی اسماعیل بن عیاش ہے، اور شیخین نے اسے بطور حجت قبول نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8849]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، إن سَلِمَ من تدليس محمد بن مصفَّى الحمصي، وهو صدوق عرف بتدليس التسوية، وإسماعيل هذا هو ابن عُليّة، وليس ابن عياش كما ظنه المصنف، فإنَّ ابن عياش لا تعرف له رواية أبدًا عن أيوب» [ترقيم الرساله 8849] [ترقيم الشركة 8739]
الحكم على الحديث: إسناده حسن
129. كَلِمَةُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ تُنْجِي النَّاسَ مِنَ النَّارِ
کلمہ "لا الہ الا اللہ" لوگوں کو آگ سے نجات دلائے گا
حدیث نمبر: 8850
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد (3) بن عبد الجبار، حدثنا أبو معاوية، عن أبي مالك الأشجعيِّ، عن رِبْعيٍّ، عن حُذَيفة قال: قال رسول الله ﷺ:"يَدرُسُ الإسلام كما يَدرُسُ وَشْيُ الثوب، لا يُدرَى ما صيامٌ ولا صدقةٌ ولا نُسُك، ويُسرَى على كتاب الله ﷿ في ليلةٍ فلا يبقى في الأرض منه آيةٌ، ويبقى طوائفُ من الناس، الشيخُ الكبير والعجوزُ الكبيرة، يقولون: أدرَكْنا آباءَنا على هذه الكلمة: لا إله إلَّا الله، فنحن نقولُها". فقال له صِلةُ: فما تُغْني عنهم لا إله إلَّا الله، لا يَدرُون ما صيامٌ ولا صدقةٌ ولا نُسُك؟! فأعرضَ عنه حذيفةُ (1) ، ثم أَقبل عليه في الثالثة فقال: يا صلةُ، تُنجِيهم من النار، تُنجِيهم من النار، تُنجِيهم من النار (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8636 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8636 - على شرط مسلم
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام اسی طرح پرانا ہو کر مٹ جائے گا جیسے کپڑے کے نقش و نگار مٹ جاتے ہیں، یہاں تک کہ یہ بھی معلوم نہیں رہے گا کہ روزہ، صدقہ اور حج و عمرہ کی قربانی کیا چیز ہے، اور ایک ہی رات میں اللہ عزوجل کی کتاب کو اٹھا لیا جائے گا تو روئے زمین پر اس کی ایک آیت بھی باقی نہیں رہے گی، اور لوگوں کے کچھ گروہ باقی بچ جائیں گے جن میں بوڑھے مرد اور بوڑھی عورتیں ہوں گی جو کہیں گی: ہم نے اپنے آباء و اجداد کو اس کلمہ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“ پر پایا تھا، لہٰذا ہم بھی یہی کہتے ہیں۔“ اس پر صِلہ نے ان سے پوچھا: جب وہ روزے، صدقے اور قربانی کے طریقے سے واقف ہی نہ ہوں گے تو یہ کلمہ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ» ان کے کس کام آئے گا؟ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ان سے رخ موڑ لیا، صِلہ نے پھر سوال کیا یہاں تک کہ تیسری مرتبہ پوچھا تو انہوں نے صِلہ کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: اے صِلہ! یہ کلمہ انہیں آگ سے نجات دے گا، یہ انہیں آگ سے بچائے گا، یہ انہیں جہنم کی آگ سے نجات دلائے گا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8850]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8850]
تخریج الحدیث: «صحيح موقوفًا كما سبق بيانه عند الحديث (8526)، حيث رواه هناك من طريق أبي كريب محمد بن العلاء عن أبي معاوية» [ترقيم الرساله 8850] [ترقيم الشركة 8740] [ترقيم العلميه 8636]
الحكم على الحديث: صحيح موقوفًا كما سبق بيانه عند الحديث (8526)
حدیث نمبر: 8851
أخبرني أبو جعفر محمد بن علي الشَّيباني بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم الغِفاري، حدثنا قَبِيصة بن عُقْبة، حدثنا سفيان، عن عوف، عن أنس بن سِيرين، عن أبي عُبيدة، عن عبد الله قال: مضت الآياتُ غيرَ أربعةٍ: الدجالِ، والدابةِ، ويأجوجَ ومأجوجَ، وطلوع الشمس من مَغرِبِها، والآيةُ التي يُختَم بها الشمسُ، ثم قرأ: ﴿هَلْ يَنْظُرُونَ إِلَّا أَنْ تَأْتِيَهُمُ الْمَلَائِكَةُ﴾ [الأنعام: 158] (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8637 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8637 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (قیامت کی بڑی) نشانیاں گزر چکی ہیں سوائے چار کے: دجال، زمین کا جانور (دابۃ الارض)، یاجوج و ماجوج اور سورج کا مغرب سے طلوع ہونا، اور وہ نشانی جس کے ساتھ سورج پر (عمل کا دروازہ) ختم کر دیا جائے گا، پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت فرمائی ﴿هَلْ يَنْظُرُونَ إِلَّا أَنْ تَأْتِيَهُمُ الْمَلَائِكَةُ﴾ ”کیا وہ صرف اس بات کے منتظر ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آئیں؟“ [سورة الأنعام: 158]
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8851]
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8851]
تخریج الحدیث: «خبر صحيح، وهذا إسناد رجاله ثقات عن آخرهم إلّا أنه منقطع بين أبي عبيدة وأبيه عبد الله بن مسعود، فإنه لم يسمع منه، مات أبوه وهو صغير» [ترقيم الرساله 8851] [ترقيم الشركة 8741] [ترقيم العلميه 8637]
الحكم على الحديث: خبر صحيح
130. السَّاعَةُ كَالْحَامِلِ الْمُتِمِّ لَا يَدْرِي أَهْلُهَا مَتَى تَفْجَأُهُمْ
قیامت اس حاملہ عورت کی طرح ہے جس کے دن پورے ہو چکے ہوں، اس کے گھر والوں کو نہیں پتہ کہ وہ کب اچانک ظاہر ہو جائے
حدیث نمبر: 8852
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا محمد بن مَسلَمة الواسطي، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا العوَّام بن حَوشَب، عن جَبَلة بن سُحَيم، عن مُؤْثِر بن عَفَازة، عن عبد الله بن مسعود قال: لما كان ليلةُ أُسرِيَ برسول الله ﷺ لقيَ إبراهيمَ وموسى وعيسى ﵈، فبَدؤوا بإبراهيم فسألوه عنها، فلم يكن عنده منها عِلمٌ، فسألوا موسى فلم يكن عنده منها علمٌ، فردُّوا الحديثَ إلى عيسى فقال: عَهِدَ اللهُ إليَّ فيما دونَ وَجْبتها، فأما وجبتُها فلا يعلمُها إِلَّا اللهُ ﷿ فذكر من خروج الدجال - فأَهبِطُ فأقتلُه، فيَرجعُ الناسُ إلى بلادهم، فيَستقبلُهم (1) يأجوجُ ومأجوجُ وهم من كلِّ حَدَبٍ يَنسِلون، لا يمرُّون بماءٍ إِلَّا شربوه، ولا بشيءٍ إلا أفسَدوه، فيجأَرون إليَّ، فأدعُو الله فيرسلُ السماءَ بالماء فيَحمِلُهم فيَقذفُ أجسامَهم في البحر، ثم تُنسَفُ الجبال، وتُمَدُّ الأرضُ مدَّ الأَديم، وعَهِدَ اللهُ إِليَّ أنه إذا كان ذلك [فإنَّ] الساعةَ من الناس كالحامل المُتِمِّ لا يدري أهلُها متى تَفجَؤُهم بوِلادِها، أليلًا أم نهارًا. قال العوَّام: فوجدتُ تصديق ذلك في كتاب الله ﷿، ثم قرأ: ﴿حَتَّى إِذَا فُتِحَتْ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَهُمْ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ (96) وَاقْتَرَبَ الْوَعْدُ الْحَقُّ﴾ [الأنبياء: 95 - 96] (2) .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جس رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج کرائی گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ علیہم السلام سے ہوئی، پس انہوں نے قیامت کے متعلق گفتگو کا آغاز کیا اور ابراہیم علیہ السلام سے اس کے بارے میں پوچھا تو ان کے پاس اس (کے وقت) کا کوئی علم نہ تھا، پھر انہوں نے موسیٰ علیہ السلام سے پوچھا تو ان کے پاس بھی اس کا کوئی علم نہ تھا، پھر معاملہ عیسیٰ علیہ السلام کی طرف لوٹا تو انہوں نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے قیامت کے قائم ہونے کے وقت کے علاوہ اس سے پہلے پیش آنے والے واقعات کے متعلق مجھے خبر دی ہے، جہاں تک اس کے برپا ہونے کے عین وقت کا تعلق ہے تو اسے اللہ عزوجل کے سوا کوئی نہیں جانتا“، پھر انہوں نے دجال کے خروج کا ذکر کیا اور فرمایا: ”پس میں (آسمان سے) اتروں گا اور اسے قتل کر دوں گا، پھر لوگ اپنے ملکوں کی طرف لوٹ جائیں گے تو ان کا سامنا یاجوج و ماجوج سے ہوگا جو کہ ہر بلندی سے دوڑتے ہوئے نکلیں گے، وہ جس پانی سے گزریں گے اسے پی جائیں گے اور جس چیز کے پاس سے گزریں گے اسے فاسد کر دیں گے، پس لوگ (پریشان ہو کر) میرے پاس فریاد کریں گے، تو میں اللہ سے دعا کروں گا اور وہ آسمان سے پانی برسائے گا جو ان کی لاشوں کو بہا کر سمندر میں پھینک دے گا، پھر پہاڑ ریزہ ریزہ کر دیے جائیں گے اور زمین کو چمڑے کی طرح پھیلا دیا جائے گا، اور اللہ نے مجھ سے یہ عہد فرمایا ہے کہ جب یہ سب ہو جائے گا تو قیامت لوگوں کے لیے اس حاملہ عورت کی طرح ہوگی جس کے وضع حمل کا وقت پورا ہو چکا ہو اور اس کے گھر والے نہیں جانتے کہ وہ اچانک کب بچے کو جنم دے گی، رات کے وقت یا دن کے وقت۔“ راوی عوام کہتے ہیں کہ میں نے اس بات کی تصدیق اللہ عزوجل کی کتاب میں پائی، پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿حَتَّى إِذَا فُتِحَتْ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَهُمْ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ﴾ ”یہاں تک کہ جب یاجوج اور ماجوج کھول دیے جائیں گے اور وہ ہر بلندی سے دوڑتے ہوئے نکلیں گے، اور سچا وعدہ قریب آ جائے گا۔“ [سورة الأنبياء: 96 - 97] [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8852]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف من جهة تفرُّد مؤثر بن عفازة بهذا السياق كما سلف بيانه برقم (3489)» [ترقيم الرساله 8852] [ترقيم الشركة 8742]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 8853
أخبرنا أبو عثمان بن أحمد بن السَّماك الزاهد ببغداد، حدثنا حَنبَل بن إسحاق بن حنبل، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا حمَّاد بن سَلَمة، عن حُمَيد، عن أنس، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"الأَمَارَاتُ خَرَزاتٌ منظوماتٌ بسِلْك، فإذا انقَطَع السِّلكُ تَبعَ بعضَه" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8639 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8639 - على شرط مسلم
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(قیامت کی) نشانیاں ایک دھاگے میں پروئے ہوئے دانوں کی طرح ہیں، پس جب وہ دھاگا ٹوٹ جائے گا تو وہ ایک دوسرے کے پیچھے (تیزی سے) ظاہر ہونے لگیں گی۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8853]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8853]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8853] [ترقيم الشركة 8743] [ترقيم العلميه 8639]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح