بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. باب التفليس والحجر
مفلس قرار دینے اور تصرف روکنے کا بیان
حدیث نمبر: 728
وعن عمرو بن الشريد عن أبيه رضي الله عنه قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «لي الواجد يحل عرضه وعقوبته» . رواه أبو داود والنسائي وعلقه البخاري وصححه ابن حبان.
سیدنا عمرو بن شرید رحمہ اللہ نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مالدار آدمی کا ادائیگی قرض میں ٹال مٹول کرنا، اس کی بے عزتی اور سزا دینے کو حلال کرنا ہے۔“ اسے ابوداؤد اور نسائی نے روایت کیا ہے اور بخاری نے اسے تعلیق کے طور پر نقل کیا ہے اور ابن حبان نے اس کو صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 728]
«وَعَنْ» اور سے – «عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ» عمرو بن شرید – «عَنْ أَبِيهِ» اپنے والد سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «لَيُّ الْوَاجِدِ» (ادائیگی کی) طاقت رکھنے والے کا ٹال مٹول کرنا – «يُحِلُّ» حلال کر دیتا ہے – «عِرْضَهُ» اس کی عزت (پر بات کرنا) – «وَعُقُوبَتَهُ» اور اس کی سزا کو۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «أَبُو دَاوُدَ» ابو داود – «وَالنَّسَائِيُّ» اور نسائی نے – «وَعَلَّقَهُ» اور اسے معلق ذکر کیا – «الْبُخَارِيُّ» بخاری نے – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح کہا – «ابْنُ حِبَّانَ» ابن حبان نے۔
اور عمرو بن شرید اپنے والد (سیدنا شرید بن سوید رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ادائیگی کی طاقت رکھنے والے کا (قرض کی ادائیگی میں) ٹال مٹول کرنا اس کی بے عزتی اور سزا کو حلال کر دیتا ہے۔“ اسے ابو داود اور نسائی نے روایت کیا ہے، بخاری نے اسے معلقاً ذکر کیا ہے اور ابن حبان نے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 728]
اور عمرو بن شرید اپنے والد (سیدنا شرید بن سوید رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ادائیگی کی طاقت رکھنے والے کا (قرض کی ادائیگی میں) ٹال مٹول کرنا اس کی بے عزتی اور سزا کو حلال کر دیتا ہے۔“ اسے ابو داود اور نسائی نے روایت کیا ہے، بخاری نے اسے معلقاً ذکر کیا ہے اور ابن حبان نے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 728]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، القضاء، باب في الدين هل يحبس به، حديث:3628، والنسائي، البيوع، حديث:4693، 4694، والبخاري، الاستقراض، قبل حديث:2401، وابن حبان (الموارد)، حديث:1164.»
الحكم على الحديث:
حسن
حدیث نمبر: 729
وعن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه قال: أصيب رجل في عهد رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم في ثمار ابتاعها فكثر دينه فقال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «تصدقوا عليه» فتصدق الناس عليه ولم يبلغ ذلك وفاء دينه فقال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم لغرمائه:«خذوا ما وجدتم وليس لكم إلا ذلك» . رواه مسلم.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں ایک آدمی کو پھلوں کی تجارت میں (کافی) نقصان ہوا جس وجہ سے اس پر قرض کا بار بہت زیادہ ہو گیا حتیٰ کہ کنگال ہو گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اس پر صدقہ کرو۔“ لوگوں نے اس پر صدقہ کیا، مگر وہ صدقہ اتنا نہیں تھا کہ قرض پورا ادا ہو جاتا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے قرض خواہوں سے فرمایا (یہی کچھ ہے) جو کچھ ملتا ہے لے لو۔ اس کے علاوہ تمہارے لئے کچھ بھی نہیں ہے۔“ (مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 729]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ» ابو سعید خدری – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «أُصِيبَ رَجُلٌ» ایک آدمی کو نقصان پہنچا – «فِي عَهْدِ» زمانے میں – «رَسُولِ اللَّهِ» اللہ کے رسول کے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «فِي ثِمَارٍ» پھلوں میں – «ابْتَاعَهَا» جو اس نے خریدے تھے – «فَكَثُرَ دَيْنُهُ» تو اس کا قرض بہت ہو گیا – «فَقَالَ» تو فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «تَصَدَّقُوا عَلَيْهِ» اس پر صدقہ کرو – «فَتَصَدَّقَ النَّاسُ عَلَيْهِ» تو لوگوں نے اس پر صدقہ کیا – «وَلَمْ يَبْلُغْ ذَلِكَ» اور وہ نہ پہنچا – «وَفَاءَ دَيْنِهِ» اس کے قرض کی پوری ادائیگی کو – «فَقَالَ» تو فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «لِغُرَمَائِهِ» اس کے قرض خواہوں سے: – «خُذُوا» لے لو – «مَا وَجَدْتُمْ» جو تم نے پایا – «وَلَيْسَ لَكُمْ» اور تمہارے لیے نہیں – «إِلَّا ذَلِكَ» مگر یہی۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے۔
اور سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں ایک آدمی کو ان پھلوں میں نقصان پہنچا جو اس نے خریدے تھے، تو اس کا قرض بہت زیادہ ہو گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اس پر صدقہ کرو۔“ چنانچہ لوگوں نے اس پر صدقہ کیا مگر وہ اس کے قرض کی پوری ادائیگی کو نہ پہنچا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے قرض خواہوں سے فرمایا: ”جو کچھ تمہیں ملا ہے لے لو، تمہارے لیے اس کے سوا کچھ نہیں۔“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 729]
اور سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں ایک آدمی کو ان پھلوں میں نقصان پہنچا جو اس نے خریدے تھے، تو اس کا قرض بہت زیادہ ہو گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اس پر صدقہ کرو۔“ چنانچہ لوگوں نے اس پر صدقہ کیا مگر وہ اس کے قرض کی پوری ادائیگی کو نہ پہنچا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے قرض خواہوں سے فرمایا: ”جو کچھ تمہیں ملا ہے لے لو، تمہارے لیے اس کے سوا کچھ نہیں۔“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 729]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، المساقاة، باب استحباب الوضع من الدين، حديث:1556.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 730
وعن ابن كعب بن مالك عن أبيه رضي الله عنهما: أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم حجر على معاذ ماله وباعه في دين كان عليه. رواه الدارقطني وصححه الحاكم وأخرجه أبو داود مرسلا ورجح إرساله.
سیدنا ابن کعب بن مالک اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو ان کے مال میں تصرف سے روک دیا تھا اور اس کا مال اس قرض کی رقم کے عوض میں فروخت کر دیا جو اس کے ذمہ تھی۔ اسے دارقطنی نے روایت کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے اور ابوداؤد نے اسے مرسل روایت کیا ہے اور اس کے مرسل ہونے کو قابل ترجیح ٹھہرایا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 730]
«وَعَنِ» اور سے – «ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ» ابن کعب بن مالک – «عَنْ أَبِيهِ» اپنے والد سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ» کہ اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «حَجَرَ» پابندی لگا دی – «عَلَى مُعَاذٍ» معاذ پر – «مَالَهُ» ان کے مال میں – «وَبَاعَهُ» اور اسے بیچ دیا – «فِي دَيْنٍ» ایک قرض (کی ادائیگی) میں – «كَانَ عَلَيْهِ» جو ان پر تھا۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «الدَّارَقُطْنِيُّ» دارقطنی نے – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح کہا – «الْحَاكِمُ» حاکم نے – «وَأَخْرَجَهُ» اور اسے روایت کیا – «أَبُو دَاوُدَ» ابو داود نے – «مُرْسَلًا» مرسل – «وَرَجَّحَ» اور ترجیح دی – «إِرْسَالَهُ» اس کے مرسل ہونے کو۔
اور ابن کعب بن مالک اپنے والد (سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ پر ان کے مال میں (تصرف کی) پابندی لگا دی اور ان پر جو قرض تھا اس (کی ادائیگی) میں ان کا مال بیچ دیا۔ اسے دارقطنی نے روایت کیا اور حاکم نے صحیح کہا ہے، اور ابو داود نے اسے مرسل روایت کیا ہے اور اس کے مرسل ہونے کو راجح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 730]
اور ابن کعب بن مالک اپنے والد (سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ پر ان کے مال میں (تصرف کی) پابندی لگا دی اور ان پر جو قرض تھا اس (کی ادائیگی) میں ان کا مال بیچ دیا۔ اسے دارقطنی نے روایت کیا اور حاکم نے صحیح کہا ہے، اور ابو داود نے اسے مرسل روایت کیا ہے اور اس کے مرسل ہونے کو راجح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 730]
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني:4 /231، والحاكم:2 /58.* الزهري عنعن.»
الحكم على الحديث:
ضعيف
حدیث نمبر: 731
وعن ابن عمر رضي الله عنهما قال: عرضت على النبي صلى الله عليه وآله وسلم يوم أحد وأنا ابن أربع عشرة سنة فلم يجزني وعرضت عليه يوم الخندق وأنا ابن خمس عشرة سنة فأجازني. متفق عليه وفي رواية للبيهقي: فلم يجزني ولم يرني بلغت. وصححه ابن خزيمة.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ مجھے احد کے روز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روبرو پیش کیا گیا۔ اس وقت میری عمر چودہ برس تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جنگ میں شرکت کی اجازت نہ دی۔ پھر خندق کے روز مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا اس وقت میری عمر پندرہ برس تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے شرکت کی اجازت دے دی۔ (بخاری و مسلم) اور بیہقی کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اجازت نہ دی اور مجھے بالغ نہیں سمجھا۔ ابن خزیمہ نے اسے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 731]
«وَعَنِ» اور سے – «ابْنِ عُمَرَ» ابن عمر – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «عُرِضْتُ» مجھے پیش کیا گیا – «عَلَى النَّبِيِّ» نبی کے سامنے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «يَوْمَ أُحُدٍ» احد کے دن – «وَأَنَا» درحالیکہ میں – «ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ سَنَةً» چودہ سال کا تھا – «فَلَمْ يُجِزْنِي» تو آپ نے مجھے اجازت نہ دی – «وَعُرِضْتُ عَلَيْهِ» اور مجھے آپ کے سامنے پیش کیا گیا – «يَوْمَ الْخَنْدَقِ» خندق کے دن – «وَأَنَا ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً» درحالیکہ میں پندرہ سال کا تھا – «فَأَجَازَنِي» تو آپ نے مجھے اجازت دے دی۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔ – «وَفِي رِوَايَةٍ» اور ایک روایت میں – «لِلْبَيْهَقِيِّ» بیہقی کی – «فَلَمْ يُجِزْنِي» تو آپ نے مجھے اجازت نہ دی – «وَلَمْ يَرَنِي» اور مجھے نہ سمجھا – «بَلَغْتُ» کہ میں بالغ ہو گیا ہوں۔ – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح کہا – «ابْنُ خُزَيْمَةَ» ابن خزیمہ نے۔
اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: مجھے احد کے دن نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا جبکہ میں چودہ سال کا تھا تو آپ نے مجھے (جنگ میں شرکت کی) اجازت نہ دی، اور خندق کے دن مجھے آپ کے سامنے پیش کیا گیا جبکہ میں پندرہ سال کا تھا تو آپ نے مجھے اجازت دے دی۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ اور بیہقی کی ایک روایت میں ہے: آپ نے مجھے اجازت نہ دی اور مجھے بالغ نہ سمجھا۔ اور ابن خزیمہ نے اسے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 731]
اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: مجھے احد کے دن نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا جبکہ میں چودہ سال کا تھا تو آپ نے مجھے (جنگ میں شرکت کی) اجازت نہ دی، اور خندق کے دن مجھے آپ کے سامنے پیش کیا گیا جبکہ میں پندرہ سال کا تھا تو آپ نے مجھے اجازت دے دی۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ اور بیہقی کی ایک روایت میں ہے: آپ نے مجھے اجازت نہ دی اور مجھے بالغ نہ سمجھا۔ اور ابن خزیمہ نے اسے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 731]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الشهادات، باب بلوغ الصبيان وشهادتهم، حديث:2664، ومسلم، الإمارة، باب بيان سن البلوغ، حديث:1868، والبيهقي:3 /83.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 732
وعن عطية القرظي رضي الله تعالى عنه قال: عرضنا على النبي صلى الله عليه وآله وسلم يوم قريظة فكان من أنبت قتل ومن لم ينبت خلي سبيله فكنت ممن لم ينبت فخلي سبيلي. رواه الخمسة وصححه ابن حبان والحاكم.
سیدنا عطیہ قرظی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بنوقریظہ سے جنگ کے موقع پر ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روبرو پیش کیا گیا، جس کے زیر ناف بال اگے ہوتے تھے، اسے قتل کر دیا گیا اور جس کے نہیں اگے تھے اسے چھوڑ دیا گیا۔ میں بھی ان میں سے تھا جس کے بال نہیں اگے تھے، لہٰذا مجھے بھی چھوڑ دیا گیا۔ اسے پانچوں نے روایت کیا ہے۔ ابن حبان اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 732]
«وَعَنْ» اور سے – «عَطِيَّةَ الْقُرَظِيِّ» عطیہ قرظی – «رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ» اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «عُرِضْنَا» ہمیں پیش کیا گیا – «عَلَى النَّبِيِّ» نبی کے سامنے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «يَوْمَ قُرَيْظَةَ» (بنو) قریظہ کے دن – «فَكَانَ مَنْ أَنْبَتَ» تو جس کے (زیر ناف) بال اُگ آئے تھے – «قُتِلَ» اسے قتل کر دیا گیا – «وَمَنْ لَمْ يُنْبِتْ» اور جس کے بال نہیں اُگے تھے – «خُلِّيَ سَبِيلُهُ» اس کا راستہ چھوڑ دیا گیا – «فَكُنْتُ» تو میں تھا – «مِمَّنْ لَمْ يُنْبِتْ» ان میں سے جن کے بال نہیں اُگے تھے – «فَخُلِّيَ سَبِيلِي» تو میرا راستہ چھوڑ دیا گیا۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «الْخَمْسَةُ» پانچوں نے – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح کہا – «ابْنُ حِبَّانَ» ابن حبان – «وَالْحَاكِمُ» اور حاکم نے۔
اور سیدنا عطیہ قرظی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہمیں (بنو) قریظہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا، تو جس کے زیر ناف بال اُگ آئے تھے اسے قتل کر دیا گیا اور جس کے نہیں اُگے تھے اسے چھوڑ دیا گیا، اور میں ان میں سے تھا جن کے بال نہیں اُگے تھے، چنانچہ مجھے چھوڑ دیا گیا۔ اسے پانچوں (احمد، ابو داود، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ) نے روایت کیا ہے اور ابن حبان اور حاکم نے اسے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 732]
اور سیدنا عطیہ قرظی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہمیں (بنو) قریظہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا، تو جس کے زیر ناف بال اُگ آئے تھے اسے قتل کر دیا گیا اور جس کے نہیں اُگے تھے اسے چھوڑ دیا گیا، اور میں ان میں سے تھا جن کے بال نہیں اُگے تھے، چنانچہ مجھے چھوڑ دیا گیا۔ اسے پانچوں (احمد، ابو داود، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ) نے روایت کیا ہے اور ابن حبان اور حاکم نے اسے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 732]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الحدود، باب في الغلام يصيب الحد، حديث:4404، والترمذي، السير، حديث:1584، وقال: حسن صحيح، وابن ماجه، الحدود، حديث:2541، والنسائي، قطع السارق، حديث:4984، وغيره، وأحمد:4 /310، 5 /312، وابن حبان (الإحسان):7 /137، حديث:4760، والحاكم:3 /35، وابن الجارود، حديث:1045.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 733
وعن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال: «لا يجوز لامرأة عطية إلا بإذن زوجها» . وفي لفظ: «لا يجوز للمرأة أمر في مالها إذا ملك زوجها عصمتها» . رواه أحمد وأصحاب السنن إلا الترمذي وصححه الحاكم.
سیدنا عمرو بن شعیب رحمہ اللہ اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کسی عورت کا اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر عطیہ دینا جائز نہیں“ اور ایک روایت میں ہے کہ ”کسی عورت کو اپنے ذاتی مال میں کوئی معاملہ کرنے کا اختیار نہیں جب اس کا شوہر اس کی عصمت کا مالک ہو۔“ اسے احمد اور اصحاب سنن نے ترمذی کے علاوہ روایت کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 733]
«وَعَنْ» اور سے – «عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ» عمرو بن شعیب – «عَنْ أَبِيهِ» اپنے والد سے – «عَنْ جَدِّهِ» وہ اپنے دادا سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ» کہ اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَالَ» فرمایا: – «لَا يَجُوزُ» جائز نہیں – «لِامْرَأَةٍ» کسی عورت کے لیے – «عَطِيَّةٌ» کوئی عطیہ (دینا) – «إِلَّا بِإِذْنِ زَوْجِهَا» مگر اپنے شوہر کی اجازت سے۔ – «وَفِي لَفْظٍ» اور ایک لفظ میں ہے: – «لَا يَجُوزُ» جائز نہیں – «لِلْمَرْأَةِ» عورت کے لیے – «أَمْرٌ» کوئی معاملہ – «فِي مَالِهَا» اس کے مال میں – «إِذَا مَلَكَ» جب مالک ہو جائے – «زَوْجُهَا» اس کا شوہر – «عِصْمَتَهَا» اس کی عصمت (نکاح) کا۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «أَحْمَدُ» احمد – «وَأَصْحَابُ السُّنَنِ» اور اصحاب سنن نے – «إِلَّا التِّرْمِذِيَّ» سوائے ترمذی کے – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح کہا – «الْحَاكِمُ» حاکم نے۔
اور عمرو بن شعیب اپنے والد سے، وہ ان کے دادا (سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”کسی عورت کے لیے اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر کوئی عطیہ دینا جائز نہیں۔“ اور ایک روایت کے الفاظ ہیں: ”جب شوہر عورت کی عصمت (نکاح) کا مالک ہو جائے تو عورت کے لیے اپنے مال میں (اس کی اجازت کے بغیر) کوئی معاملہ کرنا جائز نہیں۔“ اسے احمد اور ترمذی کے سوا اصحاب سنن نے روایت کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 733]
اور عمرو بن شعیب اپنے والد سے، وہ ان کے دادا (سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”کسی عورت کے لیے اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر کوئی عطیہ دینا جائز نہیں۔“ اور ایک روایت کے الفاظ ہیں: ”جب شوہر عورت کی عصمت (نکاح) کا مالک ہو جائے تو عورت کے لیے اپنے مال میں (اس کی اجازت کے بغیر) کوئی معاملہ کرنا جائز نہیں۔“ اسے احمد اور ترمذی کے سوا اصحاب سنن نے روایت کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 733]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، البيوع، باب في عطية المرأة بغير إذن زوجها، حديث:3547، والنسائي، الزكاة، حديث:2541، وابن ماجه، الصدقات، حديث:2388، وأحمد:2 /179، 184، 207، والحاكم:2 /47.»
الحكم على الحديث:
حسن
حدیث نمبر: 734
وعن قبيصة بن مخارق الهلالي رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «إن المسألة لا تحل إلا لأحد ثلاثة: رجل تحمل حمالة فحلت له المسألة حتى يصيبها ثم يمسك ورجل أصابته جائحة اجتاحت ماله فحلت له المسألة حتى يصيب قواما من عيش ورجل أصابته فاقة حتى يقول ثلاثة من ذوي الحجا من قومه: لقد أصابت فلانا فاقة فحلت له المسألة» . رواه مسلم.
سیدنا قبیصہ بن مخارق ہلالی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بیشک تین آدمیوں میں سے کسی ایک کے سوا کسی دوسرے کے لئے سوال کرنا حلال نہیں۔ ایک وہ آدمی جس نے ضمانت کا بوجھ اٹھایا ہو۔ اس کے لئے تاوان و ضمانت کی مقدار تک سوال کرنا جائز ہے اس کے بعد سوال کرنا چھوڑ دے اور ایک وہ آدمی جسے کوئی آفت پہنچی ہو اور اس نے اس کا مال تباہ و برباد کر دیا ہو اس کے لئے سوال کرنا حلال ہے تاوقتیکہ اس کے لئے گزران کی کوئی سبیل نکل آئے اور ایک وہ آدمی جو فاقہ میں مبتلا ہو، یہاں تک کہ اس کی شہادت اس کی قوم کے تین قابل اعتماد آدمی دیں۔ اس کے لئے سوال کرنا حلال ہے۔“ (مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 734]
«وَعَنْ» اور سے – «قَبِيصَةَ بْنِ مُخَارِقٍ الْهِلَالِيِّ» قبیصہ بن مخارق ہلالی – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «إِنَّ الْمَسْأَلَةَ» بے شک سوال کرنا (مانگنا) – «لَا تَحِلُّ» حلال نہیں – «إِلَّا لِأَحَدِ ثَلَاثَةٍ» مگر تین میں سے کسی ایک کے لیے – «رَجُلٌ» ایک وہ آدمی – «تَحَمَّلَ حَمَالَةً» جس نے کوئی (مالی) ذمہ داری اٹھا لی – «فَحَلَّتْ لَهُ» تو اس کے لیے حلال ہو گیا – «الْمَسْأَلَةُ» سوال کرنا – «حَتَّى يُصِيبَهَا» یہاں تک کہ وہ اسے پا لے – «ثُمَّ يُمْسِكُ» پھر رک جائے – «وَرَجُلٌ» اور وہ آدمی – «أَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ» جسے کوئی آفت پہنچی – «اجْتَاحَتْ مَالَهُ» جس نے اس کا مال تباہ کر دیا – «فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ» تو اس کے لیے سوال حلال ہو گیا – «حَتَّى يُصِيبَ» یہاں تک کہ وہ پا لے – «قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ» گزر بسر کا سہارا – «وَرَجُلٌ» اور وہ آدمی – «أَصَابَتْهُ فَاقَةٌ» جسے فاقہ (سخت محتاجی) پہنچا – «حَتَّى يَقُولَ» یہاں تک کہ کہیں – «ثَلَاثَةٌ» تین (آدمی) – «مِنْ ذَوِي الْحِجَا» عقل مندوں میں سے – «مِنْ قَوْمِهِ» اس کی قوم کے: – «لَقَدْ أَصَابَتْ» یقیناً پہنچا ہے – «فُلَانًا» فلاں کو – «فَاقَةٌ» فاقہ – «فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ» تو اس کے لیے سوال حلال ہو گیا۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے۔
اور سیدنا قبیصہ بن مخارق ہلالی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”سوال کرنا (مانگنا) صرف تین میں سے کسی ایک کے لیے حلال ہے: ایک وہ آدمی جس نے (لوگوں میں صلح کے لیے) کوئی مالی ذمہ داری اٹھا لی، تو اس کے لیے سوال کرنا حلال ہے یہاں تک کہ وہ اسے پا لے، پھر رک جائے۔ دوسرا وہ آدمی جسے کوئی آفت پہنچی جس نے اس کا مال تباہ کر دیا، تو اس کے لیے سوال کرنا حلال ہے یہاں تک کہ وہ گزر بسر کا سہارا پا لے۔ اور تیسرا وہ آدمی جسے فاقہ پہنچا، یہاں تک کہ اس کی قوم کے تین عقل مند آدمی کہیں کہ فلاں کو واقعی فاقہ پہنچا ہے، تو اس کے لیے سوال کرنا حلال ہے۔“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 734]
اور سیدنا قبیصہ بن مخارق ہلالی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”سوال کرنا (مانگنا) صرف تین میں سے کسی ایک کے لیے حلال ہے: ایک وہ آدمی جس نے (لوگوں میں صلح کے لیے) کوئی مالی ذمہ داری اٹھا لی، تو اس کے لیے سوال کرنا حلال ہے یہاں تک کہ وہ اسے پا لے، پھر رک جائے۔ دوسرا وہ آدمی جسے کوئی آفت پہنچی جس نے اس کا مال تباہ کر دیا، تو اس کے لیے سوال کرنا حلال ہے یہاں تک کہ وہ گزر بسر کا سہارا پا لے۔ اور تیسرا وہ آدمی جسے فاقہ پہنچا، یہاں تک کہ اس کی قوم کے تین عقل مند آدمی کہیں کہ فلاں کو واقعی فاقہ پہنچا ہے، تو اس کے لیے سوال کرنا حلال ہے۔“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 734]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، الزكاة، باب من تحل له المسألة، حديث:1044.»
الحكم على الحديث:
صحيح
7. باب الصلح
صلح کا بیان
حدیث نمبر: 735
عن عمرو بن عوف المزني رضي الله تعالى عنه أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال: «الصلح جائز بين المسلمين إلا صلحا حرم حلالا أو أحل حراما والمسلمون على شروطهم إلا شرطا حرم حلالا أو أحل حراما» . رواه الترمذي وصححه وأنكروا عليه لأنه من رواية كثير بن عبد الله بن عمرو بن عوف وهو ضعيف وكأنه اعتبره بكثرة طرقه. وقد صححه ابن حبان من حديث أبي هريرة رضي الله عنه.
سیدنا عمرو بن عوف مزنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مسلمانوں کے درمیان صلح جائز ہے مگر ایسی صلح جائز اور درست نہیں جو حلال کو حرام یا حرام کو حلال کر دے۔ مسلمان اپنی شرائط پر قائم ہیں (ان کی تمام شرائط ٹھیک ہیں) مگر بجز اس شرط کے جس سے کوئی حلال چیز حرام ہو جائے یا حرام چیز حلال ہو جائے۔“ اسے ترمذی نے روایت کیا ہے اور صحیح کہا ہے اور دوسرے محدثین نے ان پر انکار کیا ہے کیونکہ اس کا ایک راوی کثیر بن عبداللہ بن عمرو بن عوف ضعیف ہے۔ ایسا محسوس و معلوم ہوتا ہے کہ ترمذی نے کثرت طرق کی وجہ سے اس کو صحیح قرار دیا ہے اور ابن حبان نے اسے صحیح کہا ہے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 735]
«عَنْ» سے – «عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ الْمُزَنِيِّ» عمرو بن عوف مزنی – «رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ» اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو – «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ» کہ اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَالَ» فرمایا: – «الصُّلْحُ» صلح – «جَائِزٌ» جائز ہے – «بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ» مسلمانوں کے درمیان – «إِلَّا صُلْحًا» سوائے اس صلح کے – «حَرَّمَ حَلَالًا» جو کسی حلال کو حرام کر دے – «أَوْ أَحَلَّ حَرَامًا» یا کسی حرام کو حلال کر دے – «وَالْمُسْلِمُونَ» اور مسلمان – «عَلَى شُرُوطِهِمْ» اپنی شرطوں پر (قائم) ہیں – «إِلَّا شَرْطًا» سوائے اس شرط کے – «حَرَّمَ حَلَالًا» جو حلال کو حرام کر دے – «أَوْ أَحَلَّ حَرَامًا» یا حرام کو حلال کر دے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «التِّرْمِذِيُّ» ترمذی نے – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح کہا – «وَأَنْكَرُوا عَلَيْهِ» اور (علماء نے) ان پر اعتراض کیا – «لِأَنَّهُ» کیونکہ یہ – «مِنْ رِوَايَةِ» روایت سے ہے – «كَثِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ» کثیر بن عبداللہ بن عمرو بن عوف کی – «وَهُوَ ضَعِيفٌ» اور وہ ضعیف ہے – «وَكَأَنَّهُ» اور گویا انہوں نے – «اعْتَبَرَهُ» اس کا اعتبار کیا – «بِكَثْرَةِ طُرُقِهِ» اس کی سندوں کی کثرت کی وجہ سے۔ – «وَقَدْ صَحَّحَهُ» اور یقیناً اسے صحیح کہا ہے – «ابْنُ حِبَّانَ» ابن حبان نے – «مِنْ حَدِيثِ» حدیث سے – «أَبِي هُرَيْرَةَ» ابو ہریرہ کی – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو۔
سیدنا عمرو بن عوف مزنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمانوں کے درمیان صلح جائز ہے، سوائے اس صلح کے جو کسی حلال کو حرام کر دے یا کسی حرام کو حلال کر دے، اور مسلمان اپنی شرطوں کے پابند ہیں، سوائے اس شرط کے جو کسی حلال کو حرام کر دے یا کسی حرام کو حلال کر دے۔“ اسے ترمذی نے روایت کیا ہے اور صحیح کہا ہے، اور (محدثین نے) اس پر ان کا انکار کیا ہے کیونکہ یہ کثیر بن عبداللہ بن عمرو بن عوف کی روایت سے ہے اور وہ ضعیف ہے، اور گویا انہوں نے اس کی کثرتِ طرق کی بنا پر اس کا اعتبار کیا ہے۔ اور ابن حبان نے اسے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 735]
سیدنا عمرو بن عوف مزنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمانوں کے درمیان صلح جائز ہے، سوائے اس صلح کے جو کسی حلال کو حرام کر دے یا کسی حرام کو حلال کر دے، اور مسلمان اپنی شرطوں کے پابند ہیں، سوائے اس شرط کے جو کسی حلال کو حرام کر دے یا کسی حرام کو حلال کر دے۔“ اسے ترمذی نے روایت کیا ہے اور صحیح کہا ہے، اور (محدثین نے) اس پر ان کا انکار کیا ہے کیونکہ یہ کثیر بن عبداللہ بن عمرو بن عوف کی روایت سے ہے اور وہ ضعیف ہے، اور گویا انہوں نے اس کی کثرتِ طرق کی بنا پر اس کا اعتبار کیا ہے۔ اور ابن حبان نے اسے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 735]
تخریج الحدیث: «أخرجه الترمذي، الأحكام، باب ما ذكر عن رسول الله صلي الله عليه وسلم في الصلح بين الناس، حديث:1352، وسنده ضعيف جدًا ولكن له شواهد كثيرة عند أبي داود وابن حبان وغيرهما.* حديث أبي هريرة أخرجه ابن حبان (الموارد)، حديث:1199، وأبوداود، القضاء، حديث:3594، [وسنده حسن] .»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 736
وعن أبي هريرة رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: «لا يمنع جار جاره أن يغرز خشبة في جداره» ثم يقول أبو هريرة: ما لي أراكم عنها معرضين؟ والله لأرمين بها بين أكتافكم. متفق عليه.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کوئی ہمسایہ اپنے ہمسایہ کو اپنی دیوار پر لکڑی گاڑنے سے منع نہ کرے۔“ پھر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے خود کہا کہ کیا وجہ ہے کہ میں تمہیں اس پر عمل پیرا ہونے سے گریز کرتے دیکھ رہا ہوں۔ اللہ کی قسم! میں تو اسے تمہارے کندھوں پر ماروں گا۔ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 736]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي هُرَيْرَةَ» ابو ہریرہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ النَّبِيَّ» کہ نبی نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَالَ» فرمایا: – «لَا يَمْنَعْ» نہ روکے – «جَارٌ» کوئی پڑوسی – «جَارَهُ» اپنے پڑوسی کو – «أَنْ يَغْرِزَ» کہ وہ گاڑے – «خَشَبَةً» لکڑی (شہتیر) – «فِي جِدَارِهِ» اس کی دیوار میں۔ – «ثُمَّ يَقُولُ» پھر کہتے تھے – «أَبُو هُرَيْرَةَ» ابو ہریرہ: – «مَا لِي أَرَاكُمْ» کیا بات ہے میں تمہیں دیکھتا ہوں – «عَنْهَا» اس (سنت) سے – «مُعْرِضِينَ» منہ پھیرنے والے؟ – «وَاللَّهِ» اللہ کی قسم! – «لَأَرْمِيَنَّ بِهَا» میں اسے ضرور پھینکوں گا (بیان کرتا رہوں گا) – «بَيْنَ أَكْتَافِكُمْ» تمہارے کندھوں کے درمیان۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔
اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی پڑوسی اپنے پڑوسی کو اپنی دیوار میں لکڑی (شہتیر) گاڑنے سے نہ روکے۔“ پھر سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے تھے: کیا بات ہے کہ میں تمہیں اس (سنت) سے منہ پھیرتے دیکھتا ہوں؟ اللہ کی قسم! میں اسے تمہارے کندھوں کے درمیان ضرور پھینکوں گا (یعنی تمہیں بار بار سناتا رہوں گا)۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/حدیث: 736]
اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی پڑوسی اپنے پڑوسی کو اپنی دیوار میں لکڑی (شہتیر) گاڑنے سے نہ روکے۔“ پھر سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے تھے: کیا بات ہے کہ میں تمہیں اس (سنت) سے منہ پھیرتے دیکھتا ہوں؟ اللہ کی قسم! میں اسے تمہارے کندھوں کے درمیان ضرور پھینکوں گا (یعنی تمہیں بار بار سناتا رہوں گا)۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/حدیث: 736]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، المظالم، باب لا يمنع جار جاره أن يغرز خشبة في جداره، حديث:2463، ومسلم، المساقاة، باب غرر الخشبة في جدار الجار، حديث:1609.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 737
وعن أبي حميد الساعدي رضي الله تعالى عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «لا يحل لامرىء أن يأخذ عصا أخيه بغير طيبة نفس منه» . رواه ابن حبان والحاكم في صحيحيهما.
سیدنا ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کسی کے لئے حلال نہیں کہ وہ اپنے بھائی کا عصا (لاٹھی) بھی اس کی خوشنودی و رضامندی کے بغیر لے۔“ اسے ابن حبان اور حاکم نے اپنی اپنی صحیح میں روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 737]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ» ابو حمید ساعدی – «رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ» اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «لَا يَحِلُّ» حلال نہیں – «لِامْرِئٍ» کسی آدمی کے لیے – «أَنْ يَأْخُذَ» کہ وہ لے – «عَصَا أَخِيهِ» اپنے بھائی کی لاٹھی – «بِغَيْرِ طِيبَةِ نَفْسٍ» دل کی خوشی کے بغیر – «مِنْهُ» اس کی۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «ابْنُ حِبَّانَ» ابن حبان – «وَالْحَاكِمُ» اور حاکم نے – «فِي صَحِيحَيْهِمَا» اپنی اپنی صحیح میں۔
اور سیدنا ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”کسی آدمی کے لیے حلال نہیں کہ وہ اپنے بھائی کی لاٹھی بھی اس کی دلی رضامندی کے بغیر لے۔“ اسے ابن حبان اور حاکم نے اپنی اپنی صحیح میں روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 737]
اور سیدنا ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”کسی آدمی کے لیے حلال نہیں کہ وہ اپنے بھائی کی لاٹھی بھی اس کی دلی رضامندی کے بغیر لے۔“ اسے ابن حبان اور حاکم نے اپنی اپنی صحیح میں روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 737]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن حبان (الإحسان):7 /587، حديث:5946 (الموارد)، حديث:1166، والحاكم:3 /637، وللحديث شواهد.»
الحكم على الحديث:
حسن