بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. باب الربا
سود کا بیان
حدیث نمبر: 698
وعن عبادة بن الصامت قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «الذهب بالذهب والفضة بالفضة والبر بالبر والشعير بالشعير والتمر بالتمر والملح بالملح مثلا بمثل سواء بسواء يدا بيد فإذا اختلفت هذه الأصناف فبيعوا كيف شئتم إذا كان يدا بيد» . رواه مسلم.
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سونا، سونے کے عوض اور چاندی، چاندی کے عوض اور گندم، گندم کے عوض اور جو، جو کے عوض اور کھجور، کھجور کے عوض اور نمک، نمک کے عوض ایک دوسرے کی طرح برابر برابر اور نقد بنقد (فروخت کئے جائیں) اگر اجناس میں اختلاف ہو تو پھر جس طرح چاہیں فروخت کریں، مگر قیمت کی ادائیگی نقد ہو۔“ (مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 698]
«وَعَنْ» اور سے – «عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ» عبادہ بن صامت – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ» سونا سونے کے بدلے – «وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ» اور چاندی چاندی کے بدلے – «وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ» اور گندم گندم کے بدلے – «وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ» اور جو جو کے بدلے – «وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ» اور کھجور کھجور کے بدلے – «وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ» اور نمک نمک کے بدلے – «مِثْلًا بِمِثْلٍ» برابر برابر – «سَوَاءً بِسَوَاءٍ» یکساں یکساں – «يَدًا بِيَدٍ» ہاتھوں ہاتھ – «فَإِذَا اخْتَلَفَتْ» پھر جب مختلف ہوں – «هَذِهِ الْأَصْنَافُ» یہ قسمیں – «فَبِيعُوا» تو بیچو – «كَيْفَ شِئْتُمْ» جیسے چاہو – «إِذَا كَانَ» جبکہ ہو – «يَدًا بِيَدٍ» ہاتھوں ہاتھ۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے۔
اور سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”سونا سونے کے بدلے، چاندی چاندی کے بدلے، گندم گندم کے بدلے، جو جو کے بدلے، کھجور کھجور کے بدلے اور نمک نمک کے بدلے برابر برابر، یکساں یکساں اور ہاتھوں ہاتھ (بیچو)، پھر جب یہ قسمیں مختلف ہوں تو جیسے چاہو بیچو بشرطیکہ ہاتھوں ہاتھ ہو۔“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 698]
اور سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”سونا سونے کے بدلے، چاندی چاندی کے بدلے، گندم گندم کے بدلے، جو جو کے بدلے، کھجور کھجور کے بدلے اور نمک نمک کے بدلے برابر برابر، یکساں یکساں اور ہاتھوں ہاتھ (بیچو)، پھر جب یہ قسمیں مختلف ہوں تو جیسے چاہو بیچو بشرطیکہ ہاتھوں ہاتھ ہو۔“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 698]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، المساقاة، باب الصرف وبيع الذهب بالورق نقدًا، حديث:1587.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 699
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «الذهب بالذهب وزنا بوزن مثلا بمثل والفضة بالفضة وزنا بوزن مثلا بمثل فمن زاد أو استزاد فهو ربا» . رواه مسلم.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سونا سونے کے بدلہ میں وزن میں برابر برابر۔ اور قسم میں ایک ہو، چاندی چاندی کے بدلہ میں وزن میں برابر برابر اور قسم میں ایک جیسی ہو پھر اگر کوئی زیادہ لے یا زیادہ دے پس وہ سود ہے۔“ (مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 699]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي هُرَيْرَةَ» ابو ہریرہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ» سونا سونے کے بدلے – «وَزْنًا بِوَزْنٍ» وزن کے برابر وزن – «مِثْلًا بِمِثْلٍ» برابر برابر – «وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ» اور چاندی چاندی کے بدلے – «وَزْنًا بِوَزْنٍ» وزن کے برابر وزن – «مِثْلًا بِمِثْلٍ» برابر برابر – «فَمَنْ زَادَ» پس جس نے زیادہ دیا – «أَوِ اسْتَزَادَ» یا زیادہ طلب کیا – «فَهُوَ رِبًا» تو وہ سود ہے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے۔
اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”سونا سونے کے بدلے وزن کے برابر وزن، برابر برابر (بیچا جائے)، اور چاندی چاندی کے بدلے وزن کے برابر وزن، برابر برابر، پھر جس نے زیادہ دیا یا زیادہ طلب کیا تو وہ سود ہے۔“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 699]
اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”سونا سونے کے بدلے وزن کے برابر وزن، برابر برابر (بیچا جائے)، اور چاندی چاندی کے بدلے وزن کے برابر وزن، برابر برابر، پھر جس نے زیادہ دیا یا زیادہ طلب کیا تو وہ سود ہے۔“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 699]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، المساقاة، أيضًا، حديث:1588.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 700
وعن أبي سعيد، وأبي هريرة رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم استعمل رجلا على خيبر، فجاءه بتمر جنيب، فقال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم أكل تمر خيبر هكذا" فقال: لا، والله يا رسول الله، إنا لنأخذ الصاع من هذا بالصاعين والثلاثة فقال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم" لا تفعل، بع الجمع بالدراهم، ثم ابتع بالدراهم جنيبا وقال في الميزان مثل ذلك. متفق عليه، ولمسلم:" وكذلك الميزان
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو خیبر پر عامل مقرر کیا۔ پس وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بہت عمدہ کھجوریں لے کر حاضر ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت فرمایا کہ ”کیا خیبر میں پیدا ہونے والی سب کھجوریں اسی طرح کی ہوتی ہیں؟“ اس نے عرض کیا، نہیں! اے اللہ کے رسول! خدا کی قسم! ہم دوسری کھجوریں دو صاع اور تین صاع دے کر یہ کھجوریں ایک صاع لیتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ایسا نہ کرو۔ گھٹیا کھجوروں کو دراہم کے عوض فروخت کر کے عمدہ اور اچھی کھجوریں بھی درہموں کے عوض خریدو“ اور فرمایا ”تولنے والی اشیاء بھی اسی کی مانند ہیں۔“ (بخاری و مسلم) مسلم میں ہے کہ ”تول میں بھی اسی طرح۔“ [بلوغ المرام/حدیث: 700]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي سَعِيدٍ» ابو سعید – «وَأَبِي هُرَيْرَةَ» اور ابو ہریرہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ» کہ اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «اسْتَعْمَلَ» عامل (حاکم) مقرر کیا – «رَجُلًا» ایک آدمی کو – «عَلَى خَيْبَرَ» خیبر پر – «فَجَاءَهُ» تو وہ آپ کے پاس لایا – «بِتَمْرٍ جَنِيبٍ» عمدہ (جنیب) کھجور – «فَقَالَ» تو فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «أَكُلُّ تَمْرِ خَيْبَرَ» کیا خیبر کی ساری کھجور – «هَكَذَا» ایسی ہی ہے؟ – «فَقَالَ» تو اس نے کہا: – «لَا» نہیں – «وَاللَّهِ» اللہ کی قسم – «يَا رَسُولَ اللَّهِ» اے اللہ کے رسول! – «إِنَّا لَنَأْخُذُ» ہم تو لیتے ہیں – «الصَّاعَ مِنْ هَذَا» اس کا ایک صاع – «بِالصَّاعَيْنِ» دو صاع کے بدلے – «وَالثَّلَاثَةِ» اور تین (صاع) کے بدلے – «فَقَالَ» تو فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «لَا تَفْعَلْ» ایسا نہ کرو – «بِعِ الْجَمْعَ» ملی جلی (عام) کھجور بیچ دو – «بِالدَّرَاهِمِ» درہموں کے بدلے – «ثُمَّ ابْتَعْ» پھر خریدو – «بِالدَّرَاهِمِ» درہموں سے – «جَنِيبًا» عمدہ کھجور – «وَقَالَ» اور فرمایا – «فِي الْمِيزَانِ» تولی جانے والی چیز کے بارے میں – «مِثْلَ ذَلِكَ» اسی طرح۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔ – «وَلِمُسْلِمٍ» اور مسلم کی روایت میں ہے: – «وَكَذَلِكَ» اور اسی طرح – «الْمِيزَانُ» تول (والی چیزیں) ہیں۔
اور سیدنا ابو سعید اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو خیبر کا عامل مقرر کیا، وہ آپ کے پاس عمدہ (جنیب) کھجور لایا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”کیا خیبر کی ساری کھجور ایسی ہی ہوتی ہے؟“ اس نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم اے اللہ کے رسول! ہم اس کا ایک صاع دو صاع کے بدلے اور (دو صاع) تین صاع کے بدلے لیتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا نہ کرو، ملی جلی کھجور درہموں کے بدلے بیچو، پھر درہموں سے عمدہ کھجور خریدو۔“ اور تولی جانے والی چیزوں کے بارے میں بھی ایسا ہی فرمایا۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ اور مسلم کی روایت میں ہے: ”اور اسی طرح تول (والی چیزوں کا حکم) ہے۔“ [بلوغ المرام/حدیث: 700]
اور سیدنا ابو سعید اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو خیبر کا عامل مقرر کیا، وہ آپ کے پاس عمدہ (جنیب) کھجور لایا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”کیا خیبر کی ساری کھجور ایسی ہی ہوتی ہے؟“ اس نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم اے اللہ کے رسول! ہم اس کا ایک صاع دو صاع کے بدلے اور (دو صاع) تین صاع کے بدلے لیتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا نہ کرو، ملی جلی کھجور درہموں کے بدلے بیچو، پھر درہموں سے عمدہ کھجور خریدو۔“ اور تولی جانے والی چیزوں کے بارے میں بھی ایسا ہی فرمایا۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ اور مسلم کی روایت میں ہے: ”اور اسی طرح تول (والی چیزوں کا حکم) ہے۔“ [بلوغ المرام/حدیث: 700]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، البيوع، باب إذا أراد بيع تمر بتمر خير منه، حديث:2201، 2202، ومسلم، المساقاة، باب بيع الطعام مثلًا بمثل، حديث:1593.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 701
وعن جابر بن عبد الله رضي الله عنهما قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم عن بيع الصبرة من التمر لا يعلم مكيلها بالكيل المسمى من التمر. رواه مسلم.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجوروں کے کسی ایسے ڈھیر کو جس کا ماپ نہ کیا گیا ہو، کھجوروں کے معین ماپ کے بدلہ میں فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے۔ (مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 701]
«وَعَنْ» اور سے – «جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ» جابر بن عبداللہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «نَهَى» منع فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «عَنْ بَيْعِ الصُّبْرَةِ» ڈھیر بیچنے سے – «مِنَ التَّمْرِ» کھجور کے – «لَا يُعْلَمُ» معلوم نہ ہو – «مَكِيلُهَا» جس کا ماپ – «بِالْكَيْلِ الْمُسَمَّى» مقررہ ماپ کے بدلے – «مِنَ التَّمْرِ» کھجور کے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے۔
اور سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھجور کے ایسے ڈھیر کو، جس کا ماپ معلوم نہ ہو، کھجور کے مقررہ ماپ کے بدلے بیچنے سے منع فرمایا۔ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 701]
اور سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھجور کے ایسے ڈھیر کو، جس کا ماپ معلوم نہ ہو، کھجور کے مقررہ ماپ کے بدلے بیچنے سے منع فرمایا۔ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 701]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، البيوع، باب تحريم بيع صبرة التمر المجهولة القدربتمر، حديث:1530.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 702
وعن معمر بن عبد الله رضي الله عنه قال: إني كنت أسمع رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يقول: «الطعام بالطعام مثلا بمثل» وكان طعامنا يومئذ الشعير. رواه مسلم.
سیدنا معمر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا کرتا تھا کہ ” طعام (اناج) طعام کے بدلے ایک ہی قسم کا ہو۔ ان دنوں ہمارا طعام (اناج) جو ہوتے تھے۔ “ (مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 702]
«وَعَنْ» اور سے – «مَعْمَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ» معمر بن عبداللہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «إِنِّي كُنْتُ أَسْمَعُ» بے شک میں سنا کرتا تھا – «رَسُولَ اللَّهِ» اللہ کے رسول کو – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «يَقُولُ» فرماتے ہوئے: – «الطَّعَامُ بِالطَّعَامِ» غلہ غلے کے بدلے – «مِثْلًا بِمِثْلٍ» برابر برابر ہو۔ – «وَكَانَ طَعَامُنَا» اور ہمارا غلہ – «يَوْمَئِذٍ» ان دنوں – «الشَّعِيرَ» جو تھا۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے۔
اور سیدنا معمر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کرتا تھا: ”غلہ غلے کے بدلے برابر برابر (بیچا جائے)۔“ اور ان دنوں ہمارا غلہ جو ہوتا تھا۔ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 702]
اور سیدنا معمر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کرتا تھا: ”غلہ غلے کے بدلے برابر برابر (بیچا جائے)۔“ اور ان دنوں ہمارا غلہ جو ہوتا تھا۔ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 702]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، المساقاة، باب بيع الطعام مثلاً بمثل، حديث:1592.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 703
وعن فضالة بن عبيد رضي الله عنه قال: اشتريت يوم خيبر قلادة باثني عشر دينارا فيها ذهب وخرز ففصلتها فوجدت فيها أكثر من اثني عشر دينارا فذكرت ذلك للنبي صلى الله عليه وآله وسلم فقال: «لا تباع حتى تفصل» .رواه مسلم.
سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ” میں نے خیبر کے روز ایک ہار بارہ دینار میں خریدا۔ اس میں سونا اور پتھر کے نگینے تھے۔ میں نے ان کو الگ کر دیا تو میں نے اس میں بارہ دینار سے زیادہ سونا پایا۔ میں نے اس کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جب تک ان کو الگ الگ نہ کر لیا جائے، فروخت نہ کیا جائے۔ “ (مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 703]
«وَعَنْ» اور سے – «فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ» فضالہ بن عبید – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «اشْتَرَيْتُ» میں نے خریدا – «يَوْمَ خَيْبَرَ» خیبر کے دن – «قِلَادَةً» ایک ہار – «بِاثْنَيْ عَشَرَ دِينَارًا» بارہ دینار میں – «فِيهَا» اس میں – «ذَهَبٌ» سونا – «وَخَرَزٌ» اور نگینے تھے – «فَفَصَّلْتُهَا» تو میں نے اسے الگ الگ کیا – «فَوَجَدْتُ فِيهَا» تو میں نے اس میں پایا – «أَكْثَرَ مِنِ اثْنَيْ عَشَرَ دِينَارًا» بارہ دینار سے زیادہ (سونا) – «فَذَكَرْتُ ذَلِكَ» تو میں نے اس کا ذکر کیا – «لِلنَّبِيِّ» نبی سے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «فَقَالَ» تو آپ نے فرمایا: – «لَا تُبَاعُ» اسے نہ بیچا جائے – «حَتَّى تُفَصَّلَ» یہاں تک کہ (سونا اور نگینے) الگ کر دیے جائیں۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے۔
اور سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے خیبر کے دن بارہ دینار میں ایک ہار خریدا جس میں سونا اور نگینے تھے، میں نے انہیں الگ الگ کیا تو اس میں بارہ دینار سے زیادہ (کا سونا) پایا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: ”اسے (سونے اور نگینوں کو) الگ الگ کیے بغیر نہ بیچا جائے۔“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 703]
اور سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے خیبر کے دن بارہ دینار میں ایک ہار خریدا جس میں سونا اور نگینے تھے، میں نے انہیں الگ الگ کیا تو اس میں بارہ دینار سے زیادہ (کا سونا) پایا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: ”اسے (سونے اور نگینوں کو) الگ الگ کیے بغیر نہ بیچا جائے۔“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 703]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، المساقاة، باب بيع القلادة فيها خرز وذهب، حديث:1591.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 704
وعن سمرة بن جندب رضي الله عنه: أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم نهى عن بيع الحيوان بالحيوان نسيئة. رواه الخمسة وصححه الترمذي وابن الجارود.
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حیوان کو حیوان کے بدلے میں ادھار فروخت کرنا ممنوع قرار دیا ہے۔ اسے پانچوں نے روایت کیا ہے۔ ترمذی اور ابن جارود نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 704]
«وَعَنْ» اور سے – «سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ» سمرہ بن جندب – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ النَّبِيَّ» کہ نبی نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «نَهَى» منع فرمایا – «عَنْ بَيْعِ الْحَيَوَانِ» جانور بیچنے سے – «بِالْحَيَوَانِ» جانور کے بدلے – «نَسِيئَةً» ادھار۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «الْخَمْسَةُ» پانچوں نے – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح کہا – «التِّرْمِذِيُّ» ترمذی – «وَابْنُ الْجَارُودِ» اور ابن الجارود نے۔
اور سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جانور کو جانور کے بدلے ادھار بیچنے سے منع فرمایا۔ اسے پانچوں نے روایت کیا ہے اور ترمذی اور ابن الجارود نے اسے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 704]
اور سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جانور کو جانور کے بدلے ادھار بیچنے سے منع فرمایا۔ اسے پانچوں نے روایت کیا ہے اور ترمذی اور ابن الجارود نے اسے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 704]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، البيوع، باب في الحيوان بالحيوان نسيئة، حديث:3356، والترمذي، البيوع، حديث:1237، والنسائي، البيوع، حديث:4624، وابن ماجه، التجارات، حديث:2270، وأحمد:5 /12، 19، 3 /310.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 705
وعن ابن عمر رضي الله عنهما قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يقول: «إذا تبايعتم بالعينة، وأخذتم أذناب البقر، ورضيتم بالزرع، وتركتم الجهاد، سلط الله عليكم ذلا لا ينزعه شيء حتى ترجعوا إلى دينكم» . رواه أبو داود من رواية نافع عنه، وفي إسناده مقال، ولأحمد نحوه من رواية عطاء، ورجاله ثقات، وصححه ابن القطان.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ جب تم عینہ کی تجارت کرنے لگو گے اور بیلوں کی دمیں پکڑنے لگو گے اور زراعت کو پسند کرو گے اور جہاد کو ترک کر دو گے تو (اس وقت) اللہ تعالیٰ تم پر ذلت و خواری مسلط کر دے گا۔ اس (ذلت) کو تم سے اس وقت تک دور نہیں فرمائے گا جب تک تم اپنے دین کی طرف پلٹ نہیں آؤ گے۔“ اسے ابوداؤد نے نافع کی روایت سے نقل کیا ہے اور اس کی سند میں کلام ہے اور مسند احمد میں مروی عطا رحمہ اللہ کی روایت میں بھی اسی طرح آیا ہے۔ اس کے راوی ثقہ ہیں اور ابن قطان نے اسے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 705]
«وَعَنِ» اور سے – «ابْنِ عُمَرَ» ابن عمر – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «سَمِعْتُ» میں نے سنا – «رَسُولَ اللَّهِ» اللہ کے رسول کو – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «يَقُولُ» فرماتے ہوئے: – «إِذَا تَبَايَعْتُمْ» جب تم خرید و فروخت کرو گے – «بِالْعِينَةِ» بیع عینہ کے ساتھ – «وَأَخَذْتُمْ» اور تم پکڑ لو گے – «أَذْنَابَ الْبَقَرِ» بیلوں کی دمیں – «وَرَضِيتُمْ» اور تم راضی ہو جاؤ گے – «بِالزَّرْعِ» کھیتی باڑی پر – «وَتَرَكْتُمُ» اور تم چھوڑ دو گے – «الْجِهَادَ» جہاد کو – «سَلَّطَ اللَّهُ» اللہ مسلط کر دے گا – «عَلَيْكُمْ» تم پر – «ذُلًّا» ایسی ذلت – «لَا يَنْزِعُهُ» جسے نہیں ہٹائے گی – «شَيْءٌ» کوئی چیز – «حَتَّى تَرْجِعُوا» یہاں تک کہ تم لوٹ آؤ – «إِلَى دِينِكُمْ» اپنے دین کی طرف۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «أَبُو دَاوُدَ» ابو داود نے – «مِنْ رِوَايَةِ نَافِعٍ» نافع کی روایت سے – «عَنْهُ» ان (ابن عمر) سے – «وَفِي إِسْنَادِهِ» اور اس کی سند میں – «مَقَالٌ» کلام ہے – «وَلِأَحْمَدَ» اور احمد کی (روایت) ہے – «نَحْوُهُ» اسی طرح – «مِنْ رِوَايَةِ عَطَاءٍ» عطاء کی روایت سے – «وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ» اور اس کے راوی ثقہ ہیں – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح کہا – «ابْنُ الْقَطَّانِ» ابن القطان نے۔
اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جب تم بیع عینہ کرنے لگو گے، بیلوں کی دمیں پکڑ لو گے، کھیتی باڑی پر راضی ہو جاؤ گے اور جہاد چھوڑ دو گے تو اللہ تم پر ایسی ذلت مسلط کر دے گا جسے کوئی چیز دور نہیں کرے گی یہاں تک کہ تم اپنے دین کی طرف لوٹ آؤ۔“ اسے ابو داود نے نافع کی روایت سے ان (ابن عمر) سے روایت کیا ہے اور اس کی سند میں کلام ہے، اور احمد کے ہاں اسی طرح کی روایت عطاء کے طریق سے ہے جس کے راوی ثقہ ہیں، اور ابن القطان نے اسے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 705]
اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جب تم بیع عینہ کرنے لگو گے، بیلوں کی دمیں پکڑ لو گے، کھیتی باڑی پر راضی ہو جاؤ گے اور جہاد چھوڑ دو گے تو اللہ تم پر ایسی ذلت مسلط کر دے گا جسے کوئی چیز دور نہیں کرے گی یہاں تک کہ تم اپنے دین کی طرف لوٹ آؤ۔“ اسے ابو داود نے نافع کی روایت سے ان (ابن عمر) سے روایت کیا ہے اور اس کی سند میں کلام ہے، اور احمد کے ہاں اسی طرح کی روایت عطاء کے طریق سے ہے جس کے راوی ثقہ ہیں، اور ابن القطان نے اسے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 705]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، البيوع، باب في النهي عن العنية، حديث:3462، وأحمد:2 /28، وللحديث شواهد ضعيفة. إسحاق بن أسيد ضيعف علي الراجح.»
الحكم على الحديث:
ضعيف
حدیث نمبر: 706
وعن أبي أمامة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: «من شفع لأخيه شفاعة فأهدى له هدية فقبلها فقد أتى بابا عظيما من أبواب الربا» . رواه أحمد وأبو داود وفي إسناده مقال.
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ”جس کسی نے اپنے بھائی کے لیے کوئی سفارش کی (اس کے بعد) وہ اسے کوئی تحفہ دے اور وہ اسے قبول کر لے تو وہ سود کے بہت ہی بڑے دروازے پر پہنچ گیا۔“ اسے احمد اور ابوداؤد نے روایت کیا ہے اور اس کی سند میں کلام ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 706]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي أُمَامَةَ» ابو امامہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «عَنِ النَّبِيِّ» نبی سے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَالَ» فرمایا: – «مَنْ شَفَعَ» جس نے سفارش کی – «لِأَخِيهِ» اپنے بھائی کے لیے – «شَفَاعَةً» کوئی سفارش – «فَأَهْدَى لَهُ» پھر اس (بھائی) نے اسے دیا – «هَدِيَّةً» کوئی ہدیہ – «فَقَبِلَهَا» تو اس نے اسے قبول کر لیا – «فَقَدْ أَتَى» تو یقیناً وہ آ پہنچا – «بَابًا عَظِيمًا» ایک بڑے دروازے پر – «مِنْ أَبْوَابِ الرِّبَا» سود کے دروازوں میں سے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «أَحْمَدُ» احمد – «وَأَبُو دَاوُدَ» اور ابو داود نے – «وَفِي إِسْنَادِهِ» اور اس کی سند میں – «مَقَالٌ» کلام ہے۔
اور سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”جس شخص نے اپنے بھائی کے لیے کوئی سفارش کی، پھر اس نے اسے کوئی ہدیہ دیا اور اس نے وہ قبول کر لیا تو وہ سود کے دروازوں میں سے ایک بڑے دروازے میں داخل ہو گیا۔“ اسے احمد اور ابو داود نے روایت کیا ہے اور اس کی سند میں کلام ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 706]
اور سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”جس شخص نے اپنے بھائی کے لیے کوئی سفارش کی، پھر اس نے اسے کوئی ہدیہ دیا اور اس نے وہ قبول کر لیا تو وہ سود کے دروازوں میں سے ایک بڑے دروازے میں داخل ہو گیا۔“ اسے احمد اور ابو داود نے روایت کیا ہے اور اس کی سند میں کلام ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 706]
تخریج الحدیث: « أخرجه أبوداود، البيوع، باب في الهداية لقضاء الحاجة، حديث:3541، وأحمد:5 /261..»
الحكم على الحديث:
حسن
حدیث نمبر: 707
وعن عبد الله بن عمرو بن العاص رضي الله عنهما قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم الراشي والمرتشي. رواه أبو داود والترمذي وصححه.
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے دونوں پر لعنت فرمائی۔ اسے ابوداؤد اور ترمذی نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اسے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 707]
«وَعَنْ» اور سے – «عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ» عبداللہ بن عمرو بن عاص – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «لَعَنَ» لعنت فرمائی – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «الرَّاشِيَ» رشوت دینے والے پر – «وَالْمُرْتَشِيَ» اور رشوت لینے والے پر۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «أَبُو دَاوُدَ» ابو داود – «وَالتِّرْمِذِيُّ» اور ترمذی نے – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح کہا۔
اور سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے (دونوں) پر لعنت فرمائی۔ اسے ابو داود اور ترمذی نے روایت کیا ہے اور (ترمذی نے) اسے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 707]
اور سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے (دونوں) پر لعنت فرمائی۔ اسے ابو داود اور ترمذی نے روایت کیا ہے اور (ترمذی نے) اسے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 707]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الضاء باب في كراهية الرشوة، حديث:3580، والترمذي، الأحكام، حديث:1337.»
الحكم على الحديث:
حسن