صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
14. باب بَيَانِ تَفَاضُلِ الإِسْلاَمِ وَأَيِّ أُمُورِهِ أَفْضَلُ:
باب: خصائل اسلام کا بیان اور اس بات کا بیان کہ اسلام میں کون سا کام افضل ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 39 ترقیم شاملہ: -- 160
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ الإِسْلَامِ خَيْرٌ؟ قَالَ: " تُطْعِمُ الطَّعَامَ، وَتَقْرَأُ السَّلَامَ عَلَى مَنْ عَرَفْتَ وَمَنْ لَمْ تَعْرِفْ ".
لیث نے یزید بن ابی حبیب سے، انہوں نے ابوخیر سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کون سا اسلام بہتر ہے؟ آپ نے جواب دیا: ”تم لوگوں کو کھانا کھلاؤ اور ہر کسی کو، خواہ تم اسے جانتے ہو یا نہیں جانتے، سلام کہو۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 160]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: ”اسلام کی کون سی خوبی اور خصلت بہتر ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: ”لوگوں کو کھانا کھلانا اور ہر مسلمان کو سلام کہنا، خواہ وہ تمہارا شناسا ہو یا ناواقف و اجنبی۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 160]
ترقیم فوادعبدالباقی: 39
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) فى الايمان، باب: اطعام الطعام من الاسلام برقم (ٍ12) وفى باب افشاء السلام من الاسلام برقم (28) وفى كتاب الستئذان باب السلام للمعرفة وغير المعرفة برقم (5882) وابوداؤد فى ((سننه)) فى الادب، باب: فى افشاء السلام برقم (5193) والنسائي فى ((المجتبى)) 107/8 فى الايمان، باب: ای الاسلام خير برقم (5015) وابن ماجه فى ((سننه)) فى الاطعمة، باب: اطعام برقم (3253) انظر ((تحفة الاشراف)) برقم (8927)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 40 ترقیم شاملہ: -- 161
وحَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ الْمِصْرِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، يَقُولُ: إِنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ الْمُسْلِمِينَ خَيْرٌ؟ قَالَ: " مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ، وَيَدِهِ ".
عمرو بن حارث نے یزید بن ابی حبیب سے، انہوں نے ابوخیر سے روایت کی اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ فرما رہے تھے: ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: مسلمانوں میں سے بہتر کون ہے؟ آپ نے فرمایا: ”جس کی زبان اور ہاتھ سے دیگر مسلمان امن میں ہوں۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 161]
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کون سا مسلمان بہتر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان محفوظ ہوں۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 161]
ترقیم فوادعبدالباقی: 40
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (8929)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 41 ترقیم شاملہ: -- 162
حَدَّثَنَا حسن الحلواني وَعَبْدُ بْنُ حميد جميعا، عَنْ أَبِي عَاصِمٍ ، قَالَ: عبد: أَنْبَأَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا الزُّبَيْرِ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ جَابِرًا ، يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ، وَيَدِهِ ".
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا: ”مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 162]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”مسلم وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان محفوظ رہیں۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 162]
ترقیم فوادعبدالباقی: 41
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (2837)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 42 ترقیم شاملہ: -- 163
وحَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأُمَوِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا أَبُو بُرْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الإِسْلامِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: " مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ، وَيَدِهِ ".
یحییٰ بن سعید اموی نے کہا: ہمیں ابوبردہ (برید) بن عبداللہ بن ابی بردہ بن ابی موسیٰ اشعری نے ابوبردہ سے اور انہوں نے حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی: کون سا اسلام افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: ”(اس کا اسلام) جس کی زبان سے اور ہاتھ سے مسلمان محفوظ رہیں۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 163]
ترقیم فوادعبدالباقی: 42
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) فى الايمان، باب: اى الاسلام افضل برقم (4) والترمذي فى ((جامعه)) فى الزهد من باب: 52 وقال: هذا حديث حسن صحيح غريب من هذا الوجه من حديث أبى موسى برقم (2504) والنسائي فى ((المجتبى)) 107/8 ـ فى الايمان، باب: اي الاسلام افضل - انظر ((تحفة الاشراف)) برقم (9041)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 42 ترقیم شاملہ: -- 164
وحَدَّثَنِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي بُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَيُّ المُسْلِمِينَ أَفْضَلُ؟ فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
ابراہیم بن سعید جوہری، ابواسامہ، برید بن عبداللہ اس روایت میں دوسری سند کے ساتھ یہ الفاظ ہیں جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کون سا مسلمان افضل ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح ذکر فرمایا: [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 164]
اور مجھے ابراہیم بن سعید جوہری رحمہ اللہ نے ابو اسامہ رحمہ اللہ سے، برید بن عبداللہ سے اسی سند کے ساتھ یہ حدیث سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: کون سا مسلمان افضل ہے؟ آگے اوپر والی حدیث ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 164]
ترقیم فوادعبدالباقی: 42
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة