سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. باب الاِسْتِبْرَاءِ مِنَ الْبَوْلِ
باب: پیشاب سے پاکی کا بیان۔
حدیث نمبر: 21
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمَعْنَاهُ، قَالَ: كَانَ لَا يَسْتَتِرُ مِنْ بَوْلِهِ. وَقَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ: يَسْتَنْزِهُ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے اس میں جریر نے «كان لا يستتر من بوله» کہا ہے، اور ابومعاویہ نے «يستتر» کی جگہ «يستنزه» ”وہ پاکی حاصل نہیں کرتا تھا“ کا لفظ ذکر کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 21]
جناب عثمان بن ابی شیبہ کہتے ہیں کہ ہمیں جریر نے منصور کے واسطے سے مجاہد سے بیان کیا ہے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً اس کے ہم معنی روایت بیان کی ہے۔ جریر نے کہا: ” «كَانَ لَا يَسْتَتِرُ مِنْ بَوْلِهِ» “ اور ابومعاویہ (محمد بن خازم) کے لفظ ہیں: ” «كَانَ لَا يَسْتَنْزِهُ مِنْ بَوْلِهِ» “۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 21]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/ الطہارة 55 (216)، الادب 49 (6055)، سنن النسائی/ الجنائز 116 (2070)، (تحفة الأشراف: 6424) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (216)
حدیث نمبر: 22
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ حَسَنَةَ، قَالَ: انْطَلَقْتُ أَنَا وَعَمْرُو بْنُ الْعَاصِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجَ وَمَعَهُ دَرَقَةٌ ثُمَّ اسْتَتَرَ بِهَا ثُمَّ بَالَ، فَقُلْنَا: انْظُرُوا إِلَيْهِ، يَبُولُ كَمَا تَبُولُ الْمَرْأَةُ، فَسَمِعَ ذَلِكَ، فَقَالَ:" أَلَمْ تَعْلَمُوا مَا لَقِيَ صَاحِبُ بَنِي إِسْرَائِيلَ؟ كَانُوا إِذَا أَصَابَهُمُ الْبَوْلُ قَطَعُوا مَا أَصَابَهُ الْبَوْلُ مِنْهُمْ، فَنَهَاهُمْ، فَعُذِّبَ فِي قَبْرِهِ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ مَنْصُورٌ: عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى، فِي هَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: جِلْدِ أَحَدِهِمْ. وقَالَ عَاصِمٌ: عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: جَسَدِ أَحَدِهِمْ.
عبدالرحمٰن بن حسنہ کہتے ہیں: میں اور عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما دونوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف چلے تو (دیکھا کہ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم (باہر) نکلے اور آپ کے ساتھ ایک ڈھال ہے، اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آڑ کی پھر پیشاب کیا، ہم نے کہا: آپ کو دیکھو عورتوں کی طرح (چھپ کر) پیشاب کر رہے ہیں، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں اس چیز کا علم نہیں جس سے بنی اسرائیل کا ایک شخص دوچار ہوا؟ ان میں سے جب کسی شخص کو (اس کے جسم کے کسی حصہ میں) پیشاب لگ جاتا تو وہ اس جگہ کو کاٹ ڈالتا جہاں پیشاب لگ جاتا، اس شخص نے انہیں اس سے روکا تو اسے اس کی قبر میں عذاب دیا گیا“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: منصور نے ابووائل سے، انہوں نے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے، ابوموسیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حدیث میں پیشاب لگ جانے پر اپنی کھال کاٹ ڈالنے کی روایت کی ہے، اور عاصم نے ابووائل سے، انہوں نے ابوموسیٰ سے، اور ابوموسیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنا جسم کاٹ ڈالنے کا ذکر کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 22]
سیدنا عبدالرحمان بن حسنہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اور سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے، اسی دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس (چمڑے کی) ایک ڈھال تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی سے پردہ کیا پھر پیشاب کیا۔ ہم (میں سے بعض) نے کہا کہ دیکھو ایسے پیشاب کر رہے ہیں جیسے کہ عورت (چھپ چھپا کر) پیشاب کرتی ہے۔ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سن لی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں معلوم نہیں کہ بنو اسرائیل کے ایک شخص کا کیا حال ہوا تھا؟ ان کو اگر پیشاب لگ جاتا تھا تو وہ اس حصے کو کاٹ ڈالتے تھے۔ اس شخص نے اپنی قوم کو اس کام سے روک دیا تو اسے قبر میں عذاب دیا گیا۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ منصور نے ابووائل سے، انہوں نے سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے اس حدیث میں یہ لفظ کہے «جِلْدِ أَحَدِهِمْ» ”اپنے چمڑے کو کاٹ دیتے۔“ جبکہ عاصم نے ابووائل سے، انہوں نے سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ لفظ کہے «جَسَدِ أَحَدِهِمْ» ”اپنے جسم کو کاٹ دیتے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 22]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الطھارة 26 (30)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 26 (346)، (تحفة الأشراف: 9693)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/196) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي (30)،ابن ماجه (346)
الأعمش عنعن (تقدم : 14)
وحديث منصور رواه البخاري (225،226،2471) ومسلم (273/74)
وحديث عاصم: لم أجده
اضافه از حبيب الرحمٰن هزاروي: الاعمش صرح بالسماع عند شرح مشكل الآثار (13/ 203)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 14
إسناده ضعيف
نسائي (30)،ابن ماجه (346)
الأعمش عنعن (تقدم : 14)
وحديث منصور رواه البخاري (225،226،2471) ومسلم (273/74)
وحديث عاصم: لم أجده
اضافه از حبيب الرحمٰن هزاروي: الاعمش صرح بالسماع عند شرح مشكل الآثار (13/ 203)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 14
12. باب الْبَوْلِ قَائِمًا
باب: کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 23
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، وَمُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ. ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، وَهَذَا لَفْظُ حَفْصٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ،عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ:" أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُبَاطَةَ قَوْمٍ، فَبَالَ قَائِمًا ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ مُسَدَّدٌ: قَالَ: فَذَهَبْتُ أَتَبَاعَدُ، فَدَعَانِي حَتَّى كُنْتُ عِنْدَ عَقِبِهِ.
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک قوم کے کوڑے خانہ (گھور) پر آئے اور کھڑے ہو کر پیشاب کیا ۱؎ پھر پانی منگوایا (اور وضو کیا) اور اپنے دونوں موزوں پر مسح کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مسدد کا بیان ہے کہ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں پیچھے ہٹنے چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے (قریب) بلایا (میں آیا) یہاں تک کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایڑیوں کے پاس (کھڑا) تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 23]
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک قوم کے کوڑے کے ایک ڈھیر پر آئے اور کھڑے ہو کر پیشاب کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوایا اور (وضو کیا، اس وضو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے) اپنے موزوں پر مسح فرمایا۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”(ان کے شیخ) مسدد نے کہا کہ راوی حدیث سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ (اس موقع پر) میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دور ہٹنے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا حتیٰ کہ میں (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب آ گیا اور) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ایڑیوں کے پاس کھڑا ہو گیا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 23]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوضوء 60 (224)، 61 (225)، 62 (226)، المظالم 27 (2471)، صحیح مسلم/الطھارة 22 (273)، سنن الترمذی/الطھارة 9 (13)، سنن النسائی/الطھارة 17 (18)، 24 (26، 27، 28)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 13 (305)، (تحفة الأشراف: 3335)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/394)، سنن الدارمی/الطھارة (9/695) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یا تو یہ کام جواز کے بیان کے لئے کیا، یا وہ جگہ ایسی تھی جہاں بیٹھنا مناسب نہیں تھا، کیونکہ بیٹھنے میں وہاں موجود نجاست سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ملوث ہونے کا احتمال تھا، بعض لوگوں کی رائے ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنے میں کوئی بیماری تھی جس کے سبب آپ نے ایسا کیا، واللہ اعلم۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (224) صحيح مسلم (273)
13. باب فِي الرَّجُلِ يَبُولُ بِاللَّيْلِ فِي الإِنَاءِ ثُمَّ يَضَعُهُ عِنْدَهُ
باب: رات کو برتن میں پیشاب کر کے اسے اپنے پاس رکھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 24
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ حُكَيْمَةَ بِنْتِ أُمَيْمَةَ بِنْتِ رُقَيْقَةَ، عَنْ أُمِّهَا، أَنَّهَا قَالَتْ:" كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدَحٌ مِنْ عِيدَانٍ تَحْتَ سَرِيرِهِ يَبُولُ فِيهِ بِاللَّيْلِ".
امیمہ بنت رقیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے آپ کے تخت کے نیچے لکڑی کا ایک پیالہ (رہتا) تھا، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو پیشاب کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 24]
سیدہ امیمہ بنت رقیقہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لکڑی کا ایک پیالہ تھا، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چارپائی کے نیچے رکھا ہوتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو اس میں پیشاب کر لیا کرتے تھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 24]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الطھارة 28 (32)، (تحفة الأشراف: 15782) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (362)
ابن جريج صرح بالسماع عند النسائي (32) وحكيمة وثقھا الجمهور
مشكوة المصابيح (362)
ابن جريج صرح بالسماع عند النسائي (32) وحكيمة وثقھا الجمهور
14. باب الْمَوَاضِعِ الَّتِي نَهَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْبَوْلِ فِيهَا
باب: ان جگہوں کا بیان جن میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب کرنے سے روکا ہے۔
حدیث نمبر: 25
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" اتَّقُوا اللَّاعِنَيْنِ، قَالُوا: وَمَا اللَّاعِنَانِ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: الَّذِي يَتَخَلَّى فِي طَرِيقِ النَّاسِ أَوْ ظِلِّهِمْ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لعنت کے دو کاموں سے بچو“، لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! لعنت کے وہ دو کام کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ یہ ہیں کہ آدمی لوگوں کے راستے یا ان کے سائے کی جگہ میں پاخانہ کرے ۱؎“۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 25]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لعنت کے دو کاموں سے بچو۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! لعنت کے وہ کون سے دو کام ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو لوگوں کے راستے میں یا ان کے سائے میں پاخانہ کرتا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 25]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الطھارة 20 (269)، (تحفة الأشراف: 13978)، وقد أخرجہ:حم (2/372) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس سے مراد وہ سایہ ہے جہاں لوگ آرام کرتے ہوں یا لوگوں کے عام راستہ میں ہو، نہ کہ ہر سایہ مراد ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (269)
حدیث نمبر: 26
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُوَيْدٍ الرَّمْلِيُّ، وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَبُو حَفْصٍ، وَحَديِثُهُ أَتَمُّ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْحَكَمِ حَدَّثَهُمْ، أَخْبَرَنَا نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنِي حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْحِمْيَرِيَّ حَدَّثَهُ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اتَّقُوا الْمَلَاعِنَ الثَّلَاثَةَ: الْبَرَازَ فِي الْمَوَارِدِ، وَقَارِعَةِ الطَّرِيقِ، وَالظِّلِّ".
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لعنت کی تین چیزوں سے بچو: مسافروں کے اترنے کی جگہ میں، عام راستے میں، اور سائے میں پاخانہ پیشاب کرنے سے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 26]
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لعنت کے تین کاموں سے بچو، (یعنی) پانی کے گھاٹ پر پاخانہ کرنے سے، عین راستے میں یا (لوگوں کے) سائے میں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 26]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الطھارة 21 (328)، (تحفة الأشراف: 11370) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (328)
أبو سعيد الحميري لم يدرك معاذ بن جبل رضي اللّٰه عنه
وللحديث شاھد ضعيف عند أحمد (299/1)
وحديث مسلم (269) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 14
إسناده ضعيف
ابن ماجه (328)
أبو سعيد الحميري لم يدرك معاذ بن جبل رضي اللّٰه عنه
وللحديث شاھد ضعيف عند أحمد (299/1)
وحديث مسلم (269) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 14
15. باب فِي الْبَوْلِ فِي الْمُسْتَحَمِّ
باب: غسل خانہ (حمام) میں پیشاب کرنے کی ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 27
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ أَحْمَدُ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، أَخْبَرَنِي أَشْعَثُ، وَقَالَ الْحَسَنُ،عَنْ أَشْعَثَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي مُسْتَحَمِّهِ ثُمَّ يَغْتَسِلُ فِيهِ"، قَالَ أَحْمَدُ: ثُمَّ يَتَوَضَّأُ فِيهِ، فَإِنَّ عَامَّةَ الْوَسْوَاسِ مِنْهُ.
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص ہرگز ایسا نہ کرے کہ اپنے غسل خانے (حمام) میں پیشاب کرے پھر اسی میں نہائے“۔ احمد کی روایت میں ہے: پھر اسی میں وضو کرے، کیونکہ اکثر وسوسے اسی سے پیدا ہوتے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 27]
سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص غسل خانے میں ہرگز پیشاب نہ کرے کہ بعد میں وہ وہیں نہائے گا۔“ احمد رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں: ”پھر وہ وہیں وضو کرے گا، کیونکہ اکثر وسوسے اسی سے پیدا ہوتے ہیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 27]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الطھارة 17 (21)، سنن النسائی/الطھارة 32 (36)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 12 (304)، (تحفة الأشراف: 9648)، وقد أخرجہ:حم (5/56) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (21)،نسائي (36)،ابن ماجه (304)
الحسن البصري عنعن (تقدم: 17)
والحديث الآتي (الأصل: 28 وسنده صحيح) يغني عنه
ولبعض الحديث شاهد صحيح موقوف عند البيهقي (1/ 98)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 14
إسناده ضعيف
ترمذي (21)،نسائي (36)،ابن ماجه (304)
الحسن البصري عنعن (تقدم: 17)
والحديث الآتي (الأصل: 28 وسنده صحيح) يغني عنه
ولبعض الحديث شاهد صحيح موقوف عند البيهقي (1/ 98)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 14
حدیث نمبر: 28
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ حُمَيْدٍ الْحِمْيَرِيِّ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: لَقِيتُ رَجُلًا صَحِبَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا صَحِبَهُ أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَمْتَشِطَ أَحَدُنَا كُلَّ يَوْمٍ أَوْ يَبُولَ فِي مُغْتَسَلِهِ".
حمید بن عبدالرحمٰن حمیری کہتے ہیں کہ میری ملاقات ایک ایسے شخص سے ہوئی جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں اسی طرح رہا جیسے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہے، اس نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا ہے کہ ہم میں سے کوئی ہر روز کنگھی کرے یا غسل خانہ میں پیشاب کرے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 28]
حمید حمیری، عبدالرحمن کے صاحبزادے کہتے ہیں کہ میں ایک صاحب سے ملا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے فیض یافتہ تھے جیسے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہے تھے، انہوں نے بیان کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ ”ہمارا کوئی شخص ہر روز کنگھی کرے یا اپنے غسل خانے میں پیشاب کرے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 28]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الطھارة 147 (239)، (تحفة الأشراف: 15554)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/110، 111، 5/369) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (472)
وانظر الحديث الآتي (81)
مشكوة المصابيح (472)
وانظر الحديث الآتي (81)
16. باب النَّهْىِ عَنِ الْبَوْلِ، فِي الْجُحْرِ
باب: سوراخ میں پیشاب کرنا منع ہے۔
حدیث نمبر: 29
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يُبَالَ فِي الْجُحْرِ"، قَالَ: قَالُوا لِقَتَادَةَ: مَا يُكْرَهُ مِنَ الْبَوْلِ فِي الْجُحْرِ؟ قَالَ: كَانَ يُقَالُ: إِنَّهَا مَسَاكِنُ الْجِنِّ.
عبدللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سوراخ میں پیشاب کرنے سے منع فرمایا ہے۔ ہشام دستوائی کا بیان ہے کہ لوگوں نے قتادہ سے پوچھا: کس وجہ سے سوراخ میں پیشاب کرنا ناپسندیدہ ہے؟ انہوں نے کہا: کہا جاتا تھا کہ وہ جنوں کی جائے سکونت (گھر) ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 29]
سیدنا عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”بل میں پیشاب کرنے سے منع فرمایا ہے۔“ لوگوں نے قتادہ رحمہ اللہ سے کہا کہ ”بل میں پیشاب کیوں مکروہ و ممنوع ہے؟“ تو انہوں نے کہا: ”کہا جاتا ہے کہ ان میں جن رہتے ہیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 29]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الطھارة 30 (34)، (تحفة الأشراف: 5322)، مسند احمد (5/82) (ضعیف)» (قتادة مدلس ہیں، اور انہوں نے ابن سرجس سے سنا نہیں ہے) «(ضعيف أبي داود: 8، والإرواء: 55، وتراجع الألباني: 131)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف،نسائي (34)
قتادة مدلس (طبقات المدلسين بتحقيقي: 3/92) وعنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 14
إسناده ضعيف،نسائي (34)
قتادة مدلس (طبقات المدلسين بتحقيقي: 3/92) وعنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 14
17. باب مَا يَقُولُ الرَّجُلُ إِذَا خَرَجَ مِنَ الْخَلاَءِ
باب: پاخانہ سے نکل کر آدمی کون سی دعا پڑھے؟
حدیث نمبر: 30
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا خَرَجَ مِنَ الْغَائِطِ، قَالَ: غُفْرَانَكَ".
ابوبردہ کہتے ہیں کہ مجھ سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت الخلاء (پاخانہ) سے نکلتے تو فرماتے تھے: «غفرانك» ”اے اللہ! میں تیری بخشش چاہتا ہوں“۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 30]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت الخلاء سے فارغ ہو کر نکلتے تو کہتے: «غُفْرَانَكَ» ”اے اللہ! میں تیری بخشش چاہتا ہوں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 30]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الطھارة 5 (7)، سنن النسائی/الکبری (9907)، الیوم واللیلة (79)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 10 (300)، (تحفة الأشراف: 17694)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الطھارة (17/707) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (359)
مشكوة المصابيح (359)