🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
38. مَنِ اسْتَجْمَرَ فَلْيُوتِرْ
جو استنجا کے لیے ڈھیلے استعمال کرے وہ طاق عدد اختیار کرے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 570
أخبرنا أبو العباس عبد الله بن الحسين القاضي بمَرْو، حدثنا الحارث بن أبي أسامة، حدثنا رَوْح بن عُبادة، حدثنا أبو عامر الخزَّاز، عن عطاء، عن أبي هريرة، أنَّ النبي ﷺ قال:"إذا استَجمَر أحدُكم فليُوتِرْ، فإنَّ الله وترٌ يحبُّ الوترَ، أمَا تَرى السماوات سبعًا، والأَرَضِينَ سبعًا والطوافَ" وذكر أشياءَ (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه الألفاظ، إنما اتَّفقا على"من استجمر فليُوتر" فقط (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 561 - منكر والحارث ليس بعمدة
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی استنجا کے لیے پتھر استعمال کرے تو طاق تعداد میں کرے، کیونکہ اللہ وتر (ایک) ہے اور وتر کو پسند کرتا ہے، کیا تم نہیں دیکھتے کہ آسمان سات ہیں، زمینیں سات ہیں اور طواف بھی (سات چکروں کا) ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی چیزیں ذکر فرمائیں۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے ان الفاظ کے ساتھ روایت نہیں کیا، انہوں نے صرف جو پتھر استعمال کرے وہ طاق تعداد میں کرے پر اتفاق کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 570]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
39. مَا يَقُولُ إِذَا خَرَجَ الْغَائِطُ
قضائے حاجت سے نکلنے کے بعد کیا دعا پڑھے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 571
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي بمَرْو، حدثنا سعيد بن مسعود، أخبرنا عبيد الله بن موسى، حدثنا إسرائيل، عن يوسف بن أبي بُرْدة، عن أبيه قال: دخلتُ على عائشة فسمعتُها تقول: كان رسول الله ﷺ إذا خرجَ من الغائط قال:"غُفْرانَك" (2) .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب قضائے حاجت سے فارغ ہو کر نکلتے تو فرماتے: «غُفْرَانَكَ» (اے اللہ!) میں تیری بخشش کا طلب گار ہوں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 571]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 572
حدَّثَناه أبو بكر أحمد بن إسحاق، أخبرنا محمد بن أحمد بن النضر، حدثنا معاوية بن عمرو [حدثنا يحيى بن أبي بُكَير] (3) حدثنا إسرائيل، عن يوسف بن أبي بُرْدة، عن أبيه، عن عائشة قالت: كان رسول الله ﷺ إذا قام من الغائط قال:"غُفرانَك".
هذا حديث صحيح، فإنَّ يوسف بن أبي بُرْدة من ثقاتِ آل أبي موسى، ولم نَجِدْ أحدًا يَطعُن فيه، وقد ذكر سماعَ أبيه من عائشة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 563 - صحيح ويوسف ثقة
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت الخلا سے باہر تشریف لاتے تو فرماتے: «غُفْرَانَكَ» (اے اللہ!) میں تیری بخشش کا طلب گار ہوں۔
یہ حدیث صحیح ہے کیونکہ یوسف بن ابی بردہ آلِ ابو موسیٰ کے ثقہ راویوں میں سے ہیں اور ان کے والد کا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سماع ثابت ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 572]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
40. الْوُضُوءُ أَوِ الْغُسْلُ مِنْ فَضْلِ غُسْلِ الْمَرْأَةِ
عورت کے غسل کے بچے ہوئے پانی سے وضو یا غسل کرنا جائز ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 573
حدثنا أبو عمرو عثمان بن أحمد بن السَّمّاك، حدثنا حنبل بن إسحاق، حدثنا قَبِيصة، حدثنا سفيان. وأخبرنا الحسن بن حَلِيم المروَزي، أخبرنا أبو الموجِّه، أخبرنا عَبْدان، أخبرنا عبد الله، أخبرنا سفيان، عن سِمَاك بن حَرْب، عن عِكْرمة، عن ابن عباس: أنَّ امرأةً من أزواج النبي ﷺ اغتسلت من جَنَابةٍ، فتوضَّأَ النبيُّ ﷺ أو اغتسل من فَضْلِها (1) . تابعه شعبةُ عن سماك:
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک زوجہ مطہرہ نے جنابت کا غسل کیا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے (بچے ہوئے) پانی سے وضو یا غسل فرمایا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 573]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 574
حدَّثَناه أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي. وحدثنا أبو علي الحسين بن علي الحافظ، أخبرنا محمد بن إسحاق، حدثنا محمد بن يحيى القُطَعي (1) . وحدثنا أبو علي، حدثنا علي بن العباس بن الوليد البَجَلي، حدثنا أحمد بن المِقْدام؛ قالوا حدثنا محمد بن بكر، حدثنا شعبة، عن سِمَاك بن حرب، عن عِكرمة، عن ابن عباس قال: أراد النبيُّ ﷺ أن يتوضَّأَ من إناء، فقالت امرأة من نسائه: يا رسول الله، إني قد توضَّأتُ من هذا، فتوضأ النبي ﷺ وقال:"الماءُ لا يُنجِّسُه شيءٌ" (2) . قد احتجَّ البخاريُّ بأحاديث عكرمة، واحتجَّ مسلم بأحاديث سِمَاك بن حرب، و
هذا حديث صحيح في الطهارة، ولم يُخرجاه، ولا يُحفَظُ له عِلَّة.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک برتن سے وضو کرنے کا ارادہ فرمایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک زوجہ مطہرہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں اس (پانی) سے وضو کر چکی ہوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو فرما لیا اور فرمایا: پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔
یہ حدیث طہارت کے باب میں صحیح ہے، امام بخاری نے عکرمہ سے اور امام مسلم نے سماک بن حرب سے احتجاج کیا ہے اور اس میں کوئی علت نہیں ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 574]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
41. مُعْجِزَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نُزُولِ الْمَاءِ مِنَ السَّمَاءِ
رسولُ اللہ ﷺ کے لیے آسمان سے پانی نازل ہونے کا معجزہ۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 575
حدثنا أبو سعيد إسماعيل بن أحمد الجُرْجاني، أخبرنا محمد بن الحسن العَسقَلاني، حدثنا حَرمَلة بن يحيى، أخبرنا ابن وهب، أخبرني عمرو بن الحارث، عن سعيد بن أبي هلال، عن عُتْبة - وهو ابن أبي حَكِيم - عن نافع بن جُبير، عن عبد الله بن عباس: أنه قيل لعمر بن الخطَّاب: حدِّثنا عن شأنِ ساعة العُسْرة، فقال عمر: خرجنا إلى تبوكَ في قَيظٍ شديد، فنزلنا منزلًا أصابَنا فيه عطشٌ حتى ظننَّا أنَّ رقابنا ستنقطعُ، حتى إنَّ الرجل لَيَنحَرُ بعيرَه، فيَعصِرُ فَرْثَه فيشربُه ويجعل ما بقيَ على كَبِده، فقال أبو بكر الصِّدِّيق: يا رسول الله، إِنَّ الله قد عَوَّدَك في الدعاءِ خيرًا، فادعُ له، فقال:"أتحبُّ ذلك؟" قال: نعم، فرفع يديه فلم يَرجِعْهما حتى قالت السماءُ فأظلَّت ثم سَكَبَت فملؤوا ما معهم، ثم ذهبنا ننظرُ فلم نَجِدْها جازت العسكرَ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه، وقد ضمَّنه سُنَّةً غريبةً: وهو أنَّ الماء إذا خالطه فَرْثُ ما يُؤكَل لحمُه لم ينجّسه، فإنه لو كان ينجِّس الماءَ لما أجاز رسول الله ﷺ لمسلمٍ أن يجعلَه على كَبِدِه حتى يُنجِّسَ يديه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 566 - على شرطهما
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے غزوہ تبوک (ساعتِ عسرت) کے حالات کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: ہم سخت گرمی میں تبوک کی طرف نکلے، ایک مقام پر ہمیں ایسی سخت پیاس لگی کہ ہمیں محسوس ہوا کہ ہماری گردنیں کٹ جائیں گی، یہاں تک کہ آدمی اپنا اونٹ ذبح کرتا اور اس کی اوجھڑی نچوڑ کر (رطوبت) پی لیتا اور باقی حصہ اپنے جگر پر رکھ لیتا۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعاؤں میں ہمیشہ خیر رکھی ہے، اس لیے ہمارے لیے دعا فرمائیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تم ایسا چاہتے ہو؟ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ اٹھائے اور ابھی نیچے بھی نہیں لائے تھے کہ بادل چھا گئے اور ایسی بارش ہوئی کہ سب نے اپنے برتن بھر لیے، پھر ہم نے دیکھا کہ وہ بارش لشکر کی حدود سے باہر نہیں تھی۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، اور اس میں یہ فقہی نکتہ ہے کہ حلال جانور کی اوجھڑی کی رطوبت پانی کو ناپاک نہیں کرتی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 575]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
42. أَحْكَامُ سُؤْرِ الْهِرَّةِ
بلی کے جھوٹے کے احکام۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 576
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحْر بن نصر قال: قرئَ على ابن وهب: أخبرك مالكُ بن أنس. وحدثنا أبو العباس، حدثنا الحسن بن علي بن عفَّان، حدثنا زيد بن الحُبَاب، حدثنا مالك بن أنس، عن إسحاق بن عبد الله بن أبي طلحة، عن حُميدة بنت عُبيد بن رِفَاعة، عن كَبْشة بنت كعب بن مالك - وكانت تحت ابن أبي قَتَادة -: أنَّ أبا قتادة دخل عليها فَسَكَبَت له وَضُوءًا، فجاءت هرَّةٌ لتشربَ منه فأَصغَى لها أبو قتادة الإناءَ حتى شربت، قالت كبشةُ: فرآني أنظرُ إليه، فقال: أتعجَبِينَ يا بنتَ أخي؟ فقلت: نعم، فقال: إنَّ رسول الله ﷺ قال:"إنها ليست بنَجَسٍ، إنها من الطوَّافِين عليكم والطوَّافات" (2) .
هذا حديث صحيح، ولم يُخرجاه، على أنهما على ما أصَّلَاه في تركِه، غيرَ أنهما قد شَهِدَا جميعًا لمالك بن أنس أنه الحَكَمُ في حديث المدنيين، وهذا الحديث ممّا صحَّحه مالك واحتجَّ به في"الموطأ" (1) . ومع ذلك فإنَّ له شاهدًا بإسناد صحيح:
کبشہ بنت کعب بن مالک رضی اللہ عنہا (جو ابو قتادہ کے بیٹے کی زوجہ تھیں) بیان کرتی ہیں کہ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ ان کے پاس تشریف لائے، انہوں نے ان کے لیے وضو کا پانی نکالا، اتنے میں ایک بلی آئی اور اس سے پینے لگی، ابو قتادہ نے برتن اس کی طرف جھکا دیا یہاں تک کہ اس نے پانی پی لیا۔ کبشہ کہتی ہیں کہ انہوں نے مجھے حیرت سے دیکھتے ہوئے دیکھا تو فرمایا: اے بھتیجی! کیا تم تعجب کر رہی ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں، تو انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: یہ (بلی) ناپاک نہیں ہے، یہ تمہارے اردگرد گھومنے پھرنے والے (خادموں) کی طرح ہے۔
یہ حدیث صحیح ہے اور امام مالک نے بھی اسے موطا میں بطور حجت ذکر کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 576]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 577
حدَّثَناه أبو عبد الله محمد بن أحمد بن موسى القاضي ببُخارى، حدثنا محمد بن أيوب، حدثنا محمد بن عبد الله بن أبي جعفر الرازي، حدثنا سليمان بن مُسافِع بن شَيْبة الحَجَبي قال: سمعت منصورَ ابنَ صفيَّة بنت شَيْبة يحدِّث عن أمِّه صفيَّة، عن عائشة: [أنَّ رسول الله ﷺ قال في الهرَّة:"إنها ليست بنَجَسٍ، هي كبعض أهلِ البيت (2) ] " (3) . وقد صحَّ على شرط الشيخين ضدُّ هذا، ولم يُخرجاه أيضًا:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 567 - صحيح
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلی کے بارے میں فرمایا: یہ ناپاک نہیں ہے، یہ تو گھر کے افراد کی طرح ہے۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 577]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
43. طَهُورُ الْإِنَاءِ مِنْ وُلُوغِ الْكَلْبِ سَبْعُ مَرَّاتٍ أُولَاهُنَّ بِالتُّرَابِ .
کتے کے برتن میں منہ ڈالنے سے برتن کو سات مرتبہ دھونا، پہلی بار مٹی سے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 578
حدَّثَناه أبو محمد أحمد بن عبد الله المُزَني ببُخارَى، حدثنا أبو بكر محمد بن إسحاق بن خُزَيمة إملاءً من كتابه سنة ست وتسعين ومئتين، حدثنا أبو بَكْرة بكَّار بن قُتيبة قاضي الفُسْطاط، حدثنا أبو عاصم الضحاك بن مَخلَد، عن قُرَّة بن خالد، عن محمد بن سِيرين، عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ قال:"طُهورُ إناءِ أحدِكم إذا وَلَغَ فيه الكلبُ أن يُغسَلَ سبعَ مراتٍ، الأُولى بالتراب، والهِرُّ مثلُ ذلك" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين، فإنَّ أبا بكرة ثقة مأمون، ومن توهَّم أنَّ أبا بكرة ينفرد به عن أبي عاصم فهو وهمٌ، فقد حدَّث به غيرُه عن أبي عاصم، وإنما تفرَّد به أبو عاصم، وهو حُجَّة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 569 - على شرطيهما
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے برتن کی پاکیزگی جب اس میں کتا منہ ڈال دے یہ ہے کہ اسے سات مرتبہ دھویا جائے، جن میں سے پہلی بار مٹی سے ہو، اور بلی کا حکم بھی اسی طرح ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور امام بخاری و امام مسلم کی شرط پر ہے، اور راوی ابوبکرہ ثقہ و مامون ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 578]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 579
حدثني أبو الحسن علي بن عمر الحافظ، حدثنا أبو بكر عبد الله بن محمد بن زياد الفقيه، حدثنا بكَّار بن قُتيبة وحماد بن الحسن بن عَنبَسة قالا: حدثنا أبو عاصم، حدثنا قُرَّة بن خالد، حدثنا محمد بن سِيرِين، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"طُهورُ الإناءِ إذا وَلَغَ الكلبُ فيه أن يُغسَلَ سبعَ مرات، الأُولى بالتراب، والهرةُ مرةً - أو مرتين -"؛ قرةُ يشكُّ (2) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: برتن کی پاکیزگی جب کتا اس میں منہ ڈال دے یہ ہے کہ اسے سات بار دھویا جائے، پہلی بار مٹی سے، اور بلی (کے منہ ڈالنے) پر ایک یا دو بار دھویا جائے۔ راوی قرہ کو (ایک یا دو بار کے لفظ میں) شک ہوا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 579]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں