🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
60. لَا يَحِلُّ لِرَجُلٍ مُؤْمِنٍ أَنْ يُصَلِّيَ وَهُوَ حَقِنٌ
کسی مؤمن مرد کے لیے جائز نہیں کہ وہ پیشاب یا پاخانے کے دباؤ کی حالت میں نماز پڑھے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 610
حدَّثَناه علي بن عيسى الحِيري، حَدَّثَنَا الحسين بن محمد بن زياد، حَدَّثَنَا أبو كُرَيب، حَدَّثَنَا إسحاق بن منصور، عن حماد بن سَلَمة، عن هشام بن عُروة، عن أبيه، عن عائشة قالت: كنت أغتسلُ أنا ورسولُ الله ﷺ فِي تَوْرٍ من شَبَهٍ (1) .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیتل کے ایک برتن سے (ایک ساتھ) غسل کیا کرتے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 610]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
61. الْمَسْحُ عَلَى الْعَصَائِبِ وَالتَّسَاخِينِ وَالْعِمَامَةِ
پٹّیوں، جرابوں اور عمامہ پر مسح کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 611
أخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حَدَّثَنَا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدَّثني أبي، حَدَّثَنَا يحيى بن سعيد، عن ثَوْر، عن راشد بن سعد، عن ثَوْبان قال: بَعَثَض رسول الله ﷺ سَرِيَّةً فأصابهم البردُ، فلما قَدِمُوا على رسول الله ﷺ أمَرهم أن يمسحوا على العصائب والتَّساخين (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ، إنما اتَّفقا على المسح على العِمامة بغير هذا اللفظ (3) . ولهذا شاهد:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 602 - على شرط مسلم
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر روانہ کیا، انہیں سخت سردی کا سامنا کرنا پڑا، جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں عماموں اور موزوں (پاؤں گرم رکھنے والی چیزوں) پر مسح کرنے کا حکم دیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے ان الفاظ کے ساتھ روایت نہیں کیا، انہوں نے عمامے پر مسح کی دیگر روایات پر اتفاق کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 611]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 612
حدَّثَناه أبو النَّضْر الفقيه، حَدَّثَنَا عثمان بن سعيد الدارمي، حَدَّثَنَا أحمد بن صالح، حَدَّثَنَا عبد الله بن وهب، أخبرني معاوية بن صالح، عن عبد العزيز بن مُسلِم، عن أبي مَعقِل، عن أنس بن مالك قال: كان رسول الله ﷺ يتوضأُ وعليه عِمامةٌ قِطْريَّة، فأدخل يدَه من تحت العِمامة، فمَسَحَ مُقدَّمَ رأسِه ولم يَنقُضِ العِمامة (4) . هذا الحديث وإن لم يكن إسنادُه من شرط الكتاب، فإنَّ فيه لفظةً غريبةً: وهي أنه مَسَحَ على بعض الرأس ولم يمسح على عِمامته.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 603 - لو صح لدل على مسح بعض الرأس
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وضو فرما رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر قطری عمامہ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمامے کے نیچے ہاتھ ڈال کر اپنے سر کے اگلے حصے کا مسح کیا اور عمامہ نہیں اتارا۔
اگرچہ اس کی سند شرائط کے مطابق نہیں لیکن اس میں یہ نایاب لفظ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر کے کچھ حصے پر مسح کیا اور عمامے پر نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 612]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
62. الْمَسْحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ
موزوں پر مسح کرنے کا حکم۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 613
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا أبو الحسن محمد بن سِنَان القزَّاز، حَدَّثَنَا عبد الله بن داود. وحدثنا أبو علي الحسين بن علي الحافظ، أخبرنا جعفر بن أحمد بن نصر، حَدَّثَنَا علي بن الحسين الدِّرهمي، حَدَّثَنَا عبد الله بن داود، عن بُكَير بن عامر، عن أبي زُرْعة بن عمرو بن جَرِير: أنَّ جريرًا بالَ ثم توضَّأ ومسح على الخفَّين، وقال: ما يَمنعُني أن أمسحَ وقد رأيتُ رسول الله ﷺ يمسح، قالوا: إنما كان ذلك قبلَ نزول المائدة، قال: ما أسلمتُ إلّا بعدَ نزول المائدة (1) .
هذا حديث صحيح، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ المحتاج إليه، إنما اتفقا على حديث الأعمش عن إبراهيم عن همَّام (2) عن جرير، وفيه: قال إبراهيم: كان يُعجبهم حديثُ جرير لأنَّهُ أسلمَ بعد نزول المائدة. وبُكَير بن عامر البَجَلي كوفي ثقة عزيزُ الحديث، يُجمَع حديثه في ثقات الكوفيين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 604 - صحيح وبكير ثقة
ابوزرہ بن عمرو بن جریر سے روایت ہے کہ سیدنا جریر رضی اللہ عنہ نے پیشاب کیا، پھر وضو کر کے موزوں پر مسح کیا اور فرمایا: مجھے مسح کرنے سے کون سی چیز روک سکتی ہے جبکہ میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ لوگوں نے کہا: شاید یہ سورہ مائدہ کے نزول سے پہلے کی بات ہوگی، انہوں نے فرمایا: میں تو اسلام ہی سورہ مائدہ کے نزول کے بعد لایا ہوں۔
یہ حدیث صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے ان ضروری الفاظ کے ساتھ روایت نہیں کیا، انہوں نے اس کے ہم معنی دیگر روایات پر اتفاق کیا ہے، جبکہ اس کے راوی بکیر بن عامر ثقہ ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 613]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
63. الْمَسْحُ عَلَى عِمَامَتِهِ وَمُوقَيْهِ
عمامہ اور موزوں پر مسح کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 614
أخبرنا عبد الرحمن بن حسن الأَسَدي بهَمَذان حَدَّثَنَا إبراهيم بن الحسين، حَدَّثَنَا آدم بن أبي إياس، حَدَّثَنَا شُعْبة. وأخبرنا محمد بن جعفر العَدْل، حَدَّثَنَا يحيى بن محمد، حَدَّثَنَا عبيد الله بن معاذ العَنبَري، حَدَّثَنَا أبي، حَدَّثَنَا شعبة، عن أبي بكر بن حفص بن عمر بن سعد، سمع أبا عبد الله مولى بني تَيْم بن مُرّة يحدِّث عن أبي عبد الرحمن: أنه شَهِدَ عبدَ الرحمن بن عوف يَسأَل بلالًا عن وضوءِ النَّبِيّ ﷺ، فقال: كان يخرجُ يقضي حاجَتَه، فآتيهِ بالماء فيتوضأ ويمسح على عِمَامته ومُوقَيهِ (1) .
هذا حديث صحيح، فإنَّ أبا عبد الله مولى التيميِّين معروف بالصِّحة والقَبُول! وأما الشيخان فإنهما لم يخرجا ذكرَ المسح على المُوقَين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 605 - صحيح
سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے بتایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پانی لایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو فرمایا اور اپنے عمامے اور اپنے موزوں (اوپری موزوں) پر مسح فرمایا۔
یہ حدیث صحیح ہے کیونکہ بنو تیم کے آزاد کردہ غلام ابو عبداللہ اپنی صحتِ حدیث اور قبولیت میں معروف ہیں، البتہ شیخین نے موزوں (اوپری موزوں) پر مسح کے ذکر کو روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 614]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
64. الْمَسْحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ
موزوں پر مسح کرنے کا حکم۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 615
حَدَّثَنَا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حَدَّثَنَا يحيى بن محمد بن يحيى، حَدَّثَنَا أحمد بن عبد الله بن يونس، حَدَّثَنَا الحسن بن صالح بن حيٍّ، عن بُكَير بن عامر البَجَلي، عن عبد الرحمن بن أبي نُعْم، عن المغيرة بن شُعبة: أنَّ رسول الله ﷺ مسح على الخُفَّين، فقلت: يا رسول الله، نَسِيتَ؟ قال:"لا، بل أنت نَسِيتَ، بهذا أَمَرني ربي ﷿" (2) . قد اتفق الشيخان على إخراج طرق حديث المغيرة بن شعبة في المسح (1) ، ولم يُخرجا قوله ﷺ:"بهذا أمرني ربي" وإسناده صحيح!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 606 - صحيح
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں پر مسح فرمایا، تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ بھول گئے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ تم بھول گئے ہو، میرے رب عزوجل نے مجھے اسی کا حکم دیا ہے۔
شیخین نے مغیرہ بن شعبہ کی مسح کے بارے میں دیگر روایات تو نقل کی ہیں لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ میرے رب نے مجھے اسی کا حکم دیا ہے نقل نہیں کیا، جبکہ اس کی سند صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 615]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 616
أخبرنا أبو جعفر محمد بن محمد بن عبد الله البغدادي، حَدَّثَنَا يحيى بن عثمان بن صالح السَّهْمي، حَدَّثَنَا عمرو بن الرَّبيع بن طارق. وحدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيه، حَدَّثَنَا أبو المثنَّى العَنبَري، حَدَّثَنَا يحيى بن مَعِين، حَدَّثَنَا عمرو بن الرَّبيع بن طارق، أخبرنا يحيى بن أيوب، عن عبد الرحمن بن رَزِين، عن محمد بن يزيد بن أبي زياد - قال يحيى: شيخ من أهل مصر - عن عُبَادة بن نُسَيّ، عن أُبيِّ بن عِمَارة - وقد كان صلَّى مع رسول الله ﷺ القِبلتين - أنه قال: يا رسول الله، أمسَحُ على الخفَّين؟ قال:"نعم" قال: يومًا؟ قال:"ويومَين" قال: وثلاثةً؟ قال:"نَعَم، ما شئتَ" (2) . أُبي بن عِمارة صحابيُّ معروف، وهذا إسناد مصري لم يُنسَب واحدٌ منهم إلى جَرْح، وإلى هذا ذهب مالك بن أنس، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابی بن عمارہ رضی اللہ عنہ (جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھی تھی) سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا میں موزوں پر مسح کر سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ انہوں نے پوچھا: ایک دن؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور دو دن بھی۔ انہوں نے پوچھا: اور تین دن؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، جتنا تم چاہو۔
ابی بن عمارہ معروف صحابی ہیں اور یہ مصری سند ہے جس کے کسی راوی پر جرح نہیں ہے، اور امام مالک بن انس اسی کے قائل تھے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 616]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 617
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حَدَّثَنَا أحمد بن محمد بن عيسى القاضي، حَدَّثَنَا أبو نُعيم. وأخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي، حَدَّثَنَا أحمد بن سَيَّار، حَدَّثَنَا محمد بن كَثير؛ قالا: حَدَّثَنَا سفيان، عن منصور، عن مجاهد، عن سفيان بن الحَكَم - أو الحكم بن سفيان - قال: كان رسول الله ﷺ إِذا بالَ توضَّأَ ويَنتضِحُ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، وإنما تركاه للشكِّ فيه، وليس ذلك مما يُوهِنه. وقد رواه جماعة عن منصور عن مجاهد عن الحكم بن سفيان. وقد تابع ابن أبي نَجِيح منصورَ بن المعتمر على روايته أيضًا بالشك:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 608 - على شرطهما
سفیان بن حکم (یا حکم بن سفیان) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب پیشاب فرماتے تو وضو کرتے اور پانی چھڑکتے تھے۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، انہوں نے اسے صرف اس میں پائے جانے والے شک کی وجہ سے ترک کیا ہے حالانکہ یہ شک اسے کمزور نہیں کرتا، اور اسے ایک جماعت نے اسی طرح روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 617]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 618
حدَّثَناه علي بن عيسى، حَدَّثَنَا إبراهيم بن أبي طالب، حَدَّثَنَا ابن أبي عمر، حَدَّثَنَا سفيان، عن ابن أبي نَجِيح، عن مجاهد، عن رجل من ثَقِيف، عن أبيه قال: رأيت النَّبِيّ ﷺ بالَ ثم نَضَحَ فَرْجَه (2) .
قبیلہ ثقیف کے ایک شخص اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب فرمایا پھر اپنی شرمگاہ (کے مقام) پر پانی چھڑکا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 618]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 619
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا أحمد بن عبد الجبار، حَدَّثَنَا أبو معاوية. وأخبرنا أبو يحيى السَّمَرقَندي، حَدَّثَنَا محمد بن نصر، حَدَّثَنَا هنَّاد بن السَّرِيّ، حَدَّثَنَا عبد الله بن إدريس. وحدثنا أبو بكر بن إسحاق - واللفظ له - أخبرنا موسى بن إسحاق الأنصاري، حَدَّثَنَا أبو بكر بن أبي شَيْبة، حَدَّثَنَا شريك، وجَرِير كلهم عن الأعمش، عن شَقِيق قال: قال عبد الله: كنا لا نتوضأُ من مَوطِئ، ولا نَكُف شعرًا ولا ثوبًا (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجا ذِكرَ المَوطِئ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 610 - لم يخرجا ذكر الموطىء
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم (کسی ناپاکی کو) روندنے کی وجہ سے وضو نہیں کرتے تھے، اور نہ ہی (نماز میں) بالوں یا کپڑوں کو سمیٹتے تھے۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے روندنے (کسی چیز پر پاؤں پڑ جانے) کے ذکر کو روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 619]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں