🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
54. إِذَا وَطِئَ أَحَدُكُمْ بِنَعْلَيْهِ فِي الْأَذَى فَإِنَّ التُّرَابَ لَهُمَا طَهُورٌ
اگر تم میں سے کسی کے جوتے کو نجاست لگ جائے تو مٹی ہی اس کے لیے پاک کرنے والی ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 600
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا العباس بن الوليد بن مَزْيَد البيروتي، أخبرنا أبي قال: سمعتُ الأوزاعي قال: أُنْبِئتُ أنَّ سعيد بن أبي سعيد المَقْبُري حدَّث عن أبيه، عن أبي هريرة، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"إذا وطئَ أحدُكم بنَعلِه في الأذى، فإنَّ التراب لها طَهُورٌ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، فإنَّ محمد بن كثير الصَّنعاني هذا صدوق، وقد حَفِظَ في إسناده ذكر ابن عَجْلان، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 591 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنے جوتے کے ساتھ گندگی کو کچل دے تو مٹی اس کے لیے طہارت ہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 600]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
55. ذِكْرُ احْتِرَامِ ذِكْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
اللہ عز وجل کے ذکر کے احترام کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 601
حَدَّثَنَا علي بن حَمْشاذ العَدْل، حَدَّثَنَا محمد بن غالب، حَدَّثَنَا عبد الله بن خَيْران، حَدَّثَنَا شُعبة. قال: وحدثنا محمد بن غالب، حَدَّثَنَا عيَّاش بن الوليد الرَّقَام، حَدَّثَنَا عبد الأعلى بن عبد الأعلى، حَدَّثَنَا شعبة، عن قَتَادة، عن الحسن، عن حُضَين بن المنذر، عن المهاجِر بن قُنفُذ: أنه أَتى النَّبِيَّ ﷺ وهو يبولُ فسلَّمَ عليه، فلم يردَّ عليه حتَّى توضأَ، ثم اعتَذَر إليه وقال:"إني كرهتُ أن أذكُرَ الله إلّا على طُهْر" أو قال:"على طَهارة" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ، إنما خرَّج مسلم (3) حديث الضحاك بن عثمان عن نافع عن ابن عمر: أَنَّ رجلًا مَرَّ على النَّبِيّ ﷺ وهو يبولُ، فسلَّم عليه فلم يردَّ عليه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 592 - على شرطهما
مہاجر بن قنفذ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیشاب فرما رہے تھے، انہوں نے سلام کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب نہیں دیا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کر لیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے معذرت چاہی اور فرمایا: مجھے یہ بات ناپسند تھی کہ میں طہارت کے بغیر اللہ کا ذکر کروں۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے اس لفظ کے ساتھ روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 601]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
56. الْبَوْلُ فِي الْقَدَحِ بِاللَّيْلِ
رات کے وقت برتن میں پیشاب کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 602
حَدَّثَنَا أبو بكر إسماعيل بن محمد بن إسماعيل الفقيه بالرَّي، حَدَّثَنَا محمد بن الفَرَج الأزرق، حَدَّثَنَا حجَّاج بن محمد، عن ابن جُرَيج، عن حُكَيمة بنت أُميمة بنت رُقَيقة، عن أمها أنها قالت: كان للنبي ﷺ قَدَحٌ من عَيْدانٍ تحت سريره يبولُ فيه بالليل (4) .
هذا حديث صحيح الإسناد وسُنَّة غريبة، وأُميمة بنت رُقَيقة صحابية مشهورة، مخرَّجٌ حديثها في الوُحْدان للأئمة، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 593 - صحيح
سیدہ امیمہ بنت رقیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لکڑی کا ایک برتن تھا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بستر کے نیچے رہتا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت اس میں پیشاب فرمایا کرتے تھے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور ایک نایاب سنت ہے، امیمہ بنت رقیقہ ایک مشہور صحابیہ ہیں جن کی حدیث ائمہ کی کتب میں موجود ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 602]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
57. اتَّقُوا الْمَلَاعِنَ الثَّلَاثَ الْبَرَازَ فِي الْمَوَارِدِ وَقَارِعَةِ الطَّرِيقِ وَالظِّلِّ لِلْخَرْأَةِ
تین لعنت والی جگہوں سے بچو: پانی کے گھاٹ، راستے کے بیچ اور سایہ دار جگہ میں قضائے حاجت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 603
حَدَّثَنَا إسماعيل بن محمد بن الفضل الشَّعْراني، حَدَّثَنَا جدِّي، حَدَّثَنَا سعيد بن أبي مريم، أخبرني نافع بن يزيد، حدَّثني حَيْوة بن شُريح، أنَّ أبا سعيد الحِمْيَري حدثه عن معاذ بن جبل قال: قال رسول الله ﷺ:"اتَّقوا المَلاعِنَ الثلاثَ: البَرَازَ في الموارد، وقارعةِ الطريق، والظِّلِّ للخِراءة" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. إنما تفرَد مسلمٌ بحديث العلاء عن أبيه عن أبي هريرة:"اتَّقوا اللاعِنَين" قالوا: وما اللاعنان؟ قال:"الذي يَتخلى في الطريق".
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 594 - صحيح إِنَّمَا تَفَرَّدَ مُسْلِمٌ بِحَدِيثِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ «اتَّقُوا اللَّاعِنَيْنِ» . قَالُوا: وَمَا اللَّاعِنَانِ؟ قَالَ: «الَّذِي يَتَخَلَّى فِي الطَّرِيقِ»
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین لعنت کا باعث بننے والے کاموں سے بچو: پانی کے گھاٹوں پر، شاہراہِ عام پر اور سائے کی جگہوں پر قضائے حاجت کرنے سے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ امام مسلم نے صرف دو لعنت والے کاموں سے بچو (راستے اور سائے میں قضائے حاجت) والی حدیث سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 603]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 604
أخبرنا أبو العباس القاسم بن القاسم السَّيّاري، أخبرنا أبو الموجِّه محمد بن عمرو الفَزَاري، أخبرنا عَبْدانُ، أخبرنا عبد الله بن المبارَك، أخبرنا مَعمَر. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي - واللفظ له - حَدَّثَنَا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدَّثني أبي، حَدَّثَنَا عبد الرزاق، أخبرنا معمر، أخبرني أشعَثُ، عن الحسن، عن ابن مُغفَّل قال: قال رسول الله ﷺ:"لا يبولَنَّ أحدُكم في مُستحَمَّه ثم يغتسلُ فيه، أو يتوضأُ فيه"، فإنَّ عامَّةَ الوِسْواسِ منه (1) . واللفظ لحديث أحمد.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وله شاهد:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 595 - على شرطهما
سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی اپنے غسل خانے میں ہرگز پیشاب نہ کرے کہ پھر وہیں غسل کرے یا وضو کرے، کیونکہ عام طور پر وسوسے اسی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 604]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
58. نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَمْتَشِطَ أَحَدُنَا كُلَّ يَوْمٍ أَوْ يَبُولَ فِي مُغْتَسَلِهِ
رسولُ اللہ ﷺ نے روزانہ کنگھی کرنے اور غسل کی جگہ پیشاب کرنے سے منع فرمایا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 605
حَدَّثَنَا أبو العباس السَّيّاري، حَدَّثَنَا أبو الموجّه، حَدَّثَنَا أحمد بن يونس، حَدَّثَنَا زهير، عن داود بن عبد الله، عن حُميد بن عبد الرحمن الحِميَري، أظنُّه عن أبي هريرة قال: نهى رسول الله ﷺ أن يمتشِطَ أحدُنا كلَّ يوم، أو يبولَ في مُعْتَسلِه (2) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں روزانہ کنگھی کرنے اور غسل کرنے کی جگہ میں پیشاب کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 605]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
59. إِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يَذْهَبَ إِلَى الْخَلَاءِ وَقَامَتِ الصَّلَاةُ فَلْيَبْدَأْ بِالْخَلَاءِ
جب تم میں سے کوئی بیت الخلاء جانا چاہے اور نماز کھڑی ہو جائے تو پہلے بیت الخلاء جائے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 606
حَدَّثَنَا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا علي بن الحسين بن الجُنَيد، حَدَّثَنَا المُعافى بن سليمان، حَدَّثَنَا زهير، حَدَّثَنَا هشام بن عُرْوة، عن عُرْوة، عن عبد الله بن أَرقَمَ: أنه خرج حاجًّا، أو معتمرًا ومعه الناس وهو يؤمُّهم، فلما كان ذاتَ يومٍ أقام الصلاةَ - صلاة الصبح - ثم قال: ليتقدَّم أحدُكم، وذهب إلى الخَلَاء ثم قال: إني سمعت رسول الله ﷺ يقول:"إذا أراد أحدُكم أن يذهبَ إلى الخَلَاء وقامت الصلاةُ، فليبدَأْ بالخلاء" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وله شهودٌ بأسانيد صحيحة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 597 - على شرطهما
سیدنا عبداللہ بن ارقم رضی اللہ عنہ حج یا عمرے کے لیے نکلے اور وہ لوگوں کی امامت کروا رہے تھے، ایک دن جب صبح کی نماز کی اقامت ہوئی تو انہوں نے کہا: تم میں سے کوئی آگے بڑھ کر امامت کرائے، اور خود قضائے حاجت کے لیے چلے گئے، پھر فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جب تم میں سے کسی کو قضائے حاجت کی ضرورت ہو اور نماز کھڑی ہو جائے، تو اسے چاہیے کہ پہلے قضائے حاجت سے فارغ ہو۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 606]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
60. لَا يَحِلُّ لِرَجُلٍ مُؤْمِنٍ أَنْ يُصَلِّيَ وَهُوَ حَقِنٌ
کسی مؤمن مرد کے لیے جائز نہیں کہ وہ پیشاب یا پاخانے کے دباؤ کی حالت میں نماز پڑھے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 607
حَدَّثَنَا أبو الفضل محمد بن إبراهيم المزكِّي، حَدَّثَنَا يوسف بن موسى المَروَالرُّوذيُّ، حَدَّثَنَا محمود بن خالد الدمشقي، حَدَّثَنَا شعيب بن إسحاق، عن ثَوْر بن يزيد، عن يزيد بن شُريح الحضرمي، عن أبي هريرة، عن النَّبِيّ ﷺ قال:"لا يَحِلُّ لرجلٍ يؤمنُ بالله واليوم الآخَر أن يصليَ وهو حَقِنٌ حتَّى يخفِّفَ" (2) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھنے والے کسی شخص کے لیے یہ حلال نہیں کہ وہ (پیشاب یا پاخانہ) روک کر اس حال میں نماز پڑھے کہ اسے سخت حاجت ہو، یہاں تک کہ وہ اس سے فارغ ہو کر ہلکا نہ ہو جائے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 607]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 608
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا يحيى بن محمد بن يحيى، حَدَّثَنَا مُسدَّد. وأخبرنا أحمد بن جعفر، حَدَّثَنَا عبد الله بن أحمد، حدَّثني أبي؛ قالا: حَدَّثَنَا يحيى بن سعيد، عن أبي حَزْرة، حَدَّثَنَا عبد الله بن أبي بكر بن محمد بن عمرو بن حَزْم، عن القاسم بن محمد قال: كنا عند عائشة فجِيءَ بطعامها، فقام القاسم بن محمد يصلي، فقالت: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"لا يُصلَّى بحَضْرة الطعام، ولا وهو يدافعُه الأخبَثانِ" (1) .
سیدنا قاسم بن محمد بیان کرتے ہیں کہ ہم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھے کہ ان کا کھانا لایا گیا، قاسم بن محمد نماز کے لیے کھڑے ہونے لگے تو سیدہ عائشہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: کھانے کی موجودگی میں نماز نہیں ہوتی، اور نہ ہی اس وقت جب انسان کو پیشاب اور پاخانے کی سخت حاجت ہو۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 608]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 609
أخبرنا أزهَرُ بن أحمد بن حَمدُون المُنادِي ببغداد، حَدَّثَنَا عبد الملك بن محمد الرَّقَاشي، حَدَّثَنَا أبو عَتَّاب سهل بن حماد، حَدَّثَنَا عبد العزيز بن عبد الله بن أبي سَلَمة، عن عمرو بن يحيى، عن أبيه، عن عبد الله بن زيد قال: جاءنا رسولُ الله ﷺ، فأخرَجْنا له ماءٌ في تَوْرٍ من صُفْرٍ فتوضأ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه! وله شاهد من حديث عائشة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 600 - على شرطهما
سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پیتل کے ایک برتن میں پانی نکالا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے وضو فرمایا۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 609]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں