المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
72. أَحْكَامُ التَّيَمُّمِ
تیمم کے احکام۔
حدیث نمبر: 650
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا محمد بن سِنان القَزاز، حَدَّثَنَا عمرو بن محمد بن أبي رَزِين، حَدَّثَنَا هشام بن حسَّان، عن عُبيد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر قال: رأيت النَّبِيّ ﷺ يتيمَّم بموضعٍ يقال له: مِربَدُ النَّعَم، وهو يرى بيوتَ المدينة (3) .
هذا حديثٌ تفرَّد به عمرو بن محمد بن أبي رَزِين، وهو صَدُوق (1) ، ولم يُخرجاه، وقد أوقفه يحيى بن سعيد الأنصاري وغيرُه عن نافع عن ابن عمر:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 639 - تفرد به عمرو وهو صدوق ووقفه يحيى بن سعيد الأنصاري وغيره
هذا حديثٌ تفرَّد به عمرو بن محمد بن أبي رَزِين، وهو صَدُوق (1) ، ولم يُخرجاه، وقد أوقفه يحيى بن سعيد الأنصاري وغيرُه عن نافع عن ابن عمر:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 639 - تفرد به عمرو وهو صدوق ووقفه يحيى بن سعيد الأنصاري وغيره
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ”مربد النعم“ نامی مقام پر تیمم کرتے ہوئے دیکھا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ کے گھر نظر آ رہے تھے۔
اس حدیث کو نقل کرنے میں عمرو بن محمد منفرد ہیں اور وہ صدوق ہیں، جبکہ یحییٰ بن سعید انصاری وغیرہ نے اسے ابن عمر پر موقوف روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 650]
اس حدیث کو نقل کرنے میں عمرو بن محمد منفرد ہیں اور وہ صدوق ہیں، جبکہ یحییٰ بن سعید انصاری وغیرہ نے اسے ابن عمر پر موقوف روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 650]
حدیث نمبر: 651
أخبرَناه أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن حاتم الزاهد، حَدَّثَنَا محمد بن إسحاق الصَّنْعاني (2) ، حَدَّثَنَا محمد بن جعشُم، عن سفيان الثَّوري، عن يحيى بن سعيد، عن نافع قال: تيمَّمَ ابن عمر على رأس مِيلٍ أو مِيلَينِ من المدينة فصلَّى العصر، فقَدِمَ والشمسُ مرتفعةٌ ولم يُعِدِ الصلاة (3) .
نافع سے روایت ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے مدینہ منورہ سے ایک یا دو میل کے فاصلے پر تیمم کیا اور عصر کی نماز پڑھی، پھر وہ مدینہ آئے تو ابھی سورج بلند تھا اور انہوں نے نماز کا اعادہ نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 651]
حدیث نمبر: 652
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا بَحْر بن نَصْر بن سابق الخَوْلاني، حَدَّثَنَا بِشْر بن بكر، حَدَّثَنَا موسى بن عُليّ بن رَبَاحٍ، عن أبيه، عن عُقْبة بن عامر الجُهَني قال: خرجتُ من الشام إلى المدينة يومَ الجمعة، فدخلتُ المدينة يومَ الجمعة، فدخلتُ على عمر بن الخطَّاب، فقال لي: متى أَولجْتَ خُفَّيكَ في رِجلَيك؟ قلت: يومَ الجمعة، قال: فهل نَزَعتهما؟ قلت: لا، فقال: أصبتَ السُّنةَ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ آخر عن عُقْبة بن عامر:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 641 - على شرط مسلم وله شاهد
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ آخر عن عُقْبة بن عامر:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 641 - على شرط مسلم وله شاهد
سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں جمعہ کے دن شام سے مدینہ کے لیے نکلا اور اگلے جمعہ کو مدینہ پہنچا، میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس گیا تو انہوں نے مجھ سے پوچھا: ”تم نے یہ موزے کب پہنے تھے؟“ میں نے کہا: ”جمعہ کے دن،“ انہوں نے پوچھا: ”کیا تم نے انہیں اتارا ہے؟“ میں نے کہا: ”نہیں،“ تو انہوں نے فرمایا: ”تم نے سنت کے مطابق کام کیا ہے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 652]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 652]
حدیث نمبر: 653
حَدَّثَنَا أبو محمد الحسن بن محمد بن إسحاق الإسفراييني، حَدَّثَنَا الحسين بن إسحاق التُّستَري، حَدَّثَنَا يحيى بن عبد الله بن بُكَير، حَدَّثَنَا المفضَّل بن فَضَالة قال: سألتُ يزيد بن أبي حَبيب عن المسح على الخفَّين، فقال (2) : أخبرني عبد الله بن الحَكَم البَلَوي، عن عُلي بن رَبَاح، عن عُقبة بن عامر أنه أخبره: أنه وَفَدَ إلى عمر بن الخطَّاب عامًا، قال عقبة: وعليَّ خُفَّانِ من تلك الخِفَافِ الغِلَاظ، فقال لي عمر: متى عهدُك بلباسِهما؟ فقلت: لَبِستُهما يومَ الجمعة، وهذا يومُ الجمعة، فقال لي عمر: أصبتَ السُّنةَ (3) . وقد صحَّت الرواية عن عبد الله بن عمر أنه أَفتى به، ولم يُسنِده، وإليه ذهب مالك بن أنس الإمام.
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ ایک سال سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس وفد لے کر آئے، عقبہ کہتے ہیں کہ میں نے موٹے چمڑے کے موزے پہن رکھے تھے، تو سیدنا عمر نے مجھ سے پوچھا: ”تمہیں انہیں پہنے ہوئے کتنا عرصہ ہوا ہے؟“ میں نے عرض کیا: ”میں نے انہیں جمعہ کے دن پہنا تھا اور آج (پھر) جمعہ ہے،“ تو سیدنا عمر نے مجھ سے فرمایا: ”تم نے سنت کے مطابق کام کیا ہے۔“
امام حاکم فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی یہی فتویٰ ثابت ہے اور امام مالک بن انس کا یہی مسلک ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 653]
امام حاکم فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی یہی فتویٰ ثابت ہے اور امام مالک بن انس کا یہی مسلک ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 653]
حدیث نمبر: 654
أخبرني عبد الله بن الحسين القاضي بمَرْو، حَدَّثَنَا الحارث بن أبي أُسامة، حَدَّثَنَا رَوْح بن عُبادة، حَدَّثَنَا هشام بن حسّان، عن عُبيد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر: أنه كان لا يُوقِّت في المسح على الخفَّين وقتًا (1) . وقد رُوِيَ هذا الحديث عن أنس بن مالك عن رسول الله ﷺ بإسناد صحيح، رواتُه عن آخرهم ثقات (2) إلا أنه شاد بمَرَّة:
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ موزوں پر مسح کے لیے وقت کی کوئی حد مقرر نہیں کرتے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 654]
حدیث نمبر: 655
حدَّثَناه أبو جعفر محمد بن محمد بن عبد الله البغدادي، حَدَّثَنَا المقدام بن داود بن تَلِيد الرُّعَيني، حَدَّثَنَا عبد الغفار بن داود الحرَّاني، حَدَّثَنَا حمَّاد بن سَلَمة، عن عُبيد الله بن أبي بكر وثابت، عن أنس، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"إذا توضَّأَ أحدُكم ولَبِسَ خُفَّيهِ، فليُصلِّ فيهما وليَمسَحْ عليها، ثم لا يخلَعُهما إن شاء إلّا من جَنَابة" (3) . هذا إسناد صحيح على شرط مسلم وعبد الغفار بن داود ثقةٌ غيرَ أنه ليس عند أهل البصرة عن حمّاد.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 643 - على شرط مسلم تفرد به عبد الغفار وهو ثقة والحديث شاذ
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 643 - على شرط مسلم تفرد به عبد الغفار وهو ثقة والحديث شاذ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی وضو کرے اور موزے پہن لے، تو اسے چاہیے کہ ان میں نماز پڑھے اور ان پر مسح کرے، پھر اگر چاہے تو انہیں نہ اتارے سوائے جنابت کے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ راوی عبد الغفار بن داؤد ثقہ ہیں اگرچہ اہل بصرہ کے پاس حماد سے ان کی روایت نہیں ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 655]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ راوی عبد الغفار بن داؤد ثقہ ہیں اگرچہ اہل بصرہ کے پاس حماد سے ان کی روایت نہیں ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 655]
73. البول قائما وقاعدا
کھڑے ہو کر اور بیٹھ کر پیشاب کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 656
حَدَّثَنَا أبو الحسن محمد بن علي بن بكر العَدْل وأبو منصور محمد بن القاسم العَتَكي قالا: حَدَّثَنَا أحمد بن نصر، حَدَّثَنَا أبو نُعيم، حَدَّثَنَا سفيان. وأخبرنا أبو الحسن أحمد بن محمد بن سَلَمة العَنَزي، حَدَّثَنَا معاذ بن نَجْدة القرشي، حَدَّثَنَا قَبِيصة بن عُقْبة، حَدَّثَنَا سفيان. وأخبرنا أبو النَّضر الفقيه، حَدَّثَنَا عثمان بن سعيد الدارمي، حَدَّثَنَا محمد بن كَثير، حَدَّثَنَا سفيان، عن المِقْدام بن شُريح بن هانئ، عن أبيه، عن عائشة قالت: ما بالَ رسولُ الله قائمًا منذ أُنزِلَ عليه الفُرْقان (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وقد اتَّفقا على إخراج حديث الأعمش عن أبي وائل عن حُذيفة قال: أتَى رسولُ الله ﷺ سُبَاطةَ قوم فبال قائمًا (2) . وقد رُوِيَ عن عُبيد الله بن عمر عن نافع عن ابن عمر قال: قال عمر: عمر: ما بلتُ قائمًا منذ أسلمتُ (3) . وعن إبراهيم، عن عَلْقمة، عن عبد الله قال: من الجفاءِ أن تبولَ وأنت قائم (1) . وقد رُوِيَ عن أبي هريرة العُذْرُ عن رسول الله ﷺ في بوله قائمًا:
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وقد اتَّفقا على إخراج حديث الأعمش عن أبي وائل عن حُذيفة قال: أتَى رسولُ الله ﷺ سُبَاطةَ قوم فبال قائمًا (2) . وقد رُوِيَ عن عُبيد الله بن عمر عن نافع عن ابن عمر قال: قال عمر: عمر: ما بلتُ قائمًا منذ أسلمتُ (3) . وعن إبراهيم، عن عَلْقمة، عن عبد الله قال: من الجفاءِ أن تبولَ وأنت قائم (1) . وقد رُوِيَ عن أبي هريرة العُذْرُ عن رسول الله ﷺ في بوله قائمًا:
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن نازل ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کھڑے ہو کر پیشاب نہیں فرمایا۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ شیخین نے سیدنا حذیفہ کی وہ روایت نقل کی ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کھڑے ہو کر پیشاب کرنا ثابت ہے، جبکہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب سے میں مسلمان ہوا میں نے کبھی کھڑے ہو کر پیشاب نہیں کیا، اور سیدنا ابن مسعود اسے بدتہذیبی قرار دیتے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 656]
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ شیخین نے سیدنا حذیفہ کی وہ روایت نقل کی ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کھڑے ہو کر پیشاب کرنا ثابت ہے، جبکہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب سے میں مسلمان ہوا میں نے کبھی کھڑے ہو کر پیشاب نہیں کیا، اور سیدنا ابن مسعود اسے بدتہذیبی قرار دیتے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 656]
حدیث نمبر: 657
حدَّثَناه أبو عَمران موسى بن سعيد الحنظلي بهَمَذان، حَدَّثَنَا يحيى بن عبد الله بن ماهانَ الكَرَابيسي، حَدَّثَنَا حماد بن غسَّان الجُعْفي، حَدَّثَنَا مَعْن بن عيسى، حَدَّثَنَا مالك بن أنس، عن أبي الزِّناد، عن الأعرج، عن أبي هريرة: أنَّ النَّبِيّ ﷺ بالَ قائمًا من جُرحٍ كان بمَأْبِضِه (2) .
هذا حديث تفرَّد به حماد بن غسَّان، ورواتُه كلهم ثِقات!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 645 - حماد ضعفه الدارقطني
هذا حديث تفرَّد به حماد بن غسَّان، ورواتُه كلهم ثِقات!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 645 - حماد ضعفه الدارقطني
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھٹنے کے پچھلے حصے میں موجود زخم کی وجہ سے کھڑے ہو کر پیشاب فرمایا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 657]
حدیث نمبر: 658
حَدَّثَنَا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا الحسن بن علي بن زياد، حَدَّثَنَا إبراهيم بن موسى، حَدَّثَنَا خالد بن عبد الله، عن عمرو بن يحيى، عن أبيه، عن عبد الله بن زيد قال: رأيت النَّبِيّ ﷺ مَضمَضَ واستَنشقَ من كفّ واحدٍ، فعل ذلك ثلاثًا (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ.
سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ہی چلو سے کلی کرتے اور ناک میں پانی ڈالتے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار ایسا ہی کیا۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے اس لفظ کے ساتھ روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 658]
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے اس لفظ کے ساتھ روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 658]
حدیث نمبر: 659
وقد حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، عن الرَّبيع، عن الشافعي قال: إِنْ جَمَعَهما من كفٍّ واحدٍ فهو جائز، وإن فرَّقَهما فهو أحبُّ إلينا.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 646 - على شرطهما
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 646 - على شرطهما
امام شافعی فرماتے ہیں کہ اگر ایک ہی چلو سے دونوں کام (کلی اور ناک میں پانی ڈالنا) کر لیے جائیں تو جائز ہے، لیکن اگر الگ الگ کیے جائیں تو یہ ہمیں زیادہ پسند ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 659]