المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
65. لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ وَلَا كَلْبٌ وَلَا جُنُبٌ
فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصویر ہو، یا کتا ہو، یا جنبی موجود ہو۔
حدیث نمبر: 620
أخبرنا أبو عمرو عثمان بن أحمد بن السَّمّاك، حَدَّثَنَا علي بن إبراهيم الواسطي، حَدَّثَنَا وهب بن جَرِير. وأخبرنا عبد الرحمن بن الحسن القاضي بهَمَذان، حَدَّثَنَا إبراهيم بن الحسين، حَدَّثَنَا آدم بن أبي إياس؛ قالا: حَدَّثَنَا شُعْبة، عن علي بن مُدرِك، عن أبي زُرْعة بن عمرو بن جَرِير، عن عبد الله بن نُجَيٍّ، عن أبيه، عن علي، عن النَّبِيّ ﷺ قال:"لا تَدخُلُ الملائكةُ بيتًا فيه صورةٌ ولا كلبٌ ولا جُنُب" (1) .
هذا حديث صحيح، فإنّ عبد الله بن نُجَيٍّ من ثِقات الكوفيين، ولم يُخرجا فيه ذكرَ الجُنُب.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 611 - صحيح وعبد الله ثقة
هذا حديث صحيح، فإنّ عبد الله بن نُجَيٍّ من ثِقات الكوفيين، ولم يُخرجا فيه ذكرَ الجُنُب.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 611 - صحيح وعبد الله ثقة
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصویر، کتا یا جُنبی (جس پر غسل واجب ہو) موجود ہو۔“
یہ حدیث صحیح ہے کیونکہ عبد اللہ بن نجی ثقہ کوفی راویوں میں سے ہیں، البتہ شیخین نے اس میں جُنبی کے ذکر کو روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 620]
یہ حدیث صحیح ہے کیونکہ عبد اللہ بن نجی ثقہ کوفی راویوں میں سے ہیں، البتہ شیخین نے اس میں جُنبی کے ذکر کو روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 620]
66. الَّذِي يَأْتِي امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ يَتَصَدَّقُ بِدِينَارٍ أَوْ بِنِصْفِ دِينَارٍ
جو شخص حیض کی حالت میں اپنی بیوی سے ہم بستری کرے وہ ایک دینار یا آدھا دینار صدقہ کرے۔
حدیث نمبر: 621
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حَدَّثَنَا يحيى بن محمد بن يحيى. وأخبرنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو المثنَّى؛ قالا: حَدَّثَنَا مسدَّد، حَدَّثَنَا يحيى، عن شُعبة، عن الحَكَم، عن عبد الحميد بن عبد الرحمن، عن مقِسَم، عن ابن عباس، عن النَّبِيّ ﷺ في الذي يأتي امرأتَه وهي حائض - قال:"يتصدَّقُ بدينارٍ، أو بنصفِ دينار" (1) .
هذا حديث صحيح، فقد احتجَّا جميعًا بمِقسَم بن نَجْدة (2) ، فأما عبد الحميد بن عبد الرحمن فإنه أبو الحسن عبد الحميد بن عبد الرحمن الجَزَري (3) ، ثقة مأمون. وشاهده ودليله:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 612 - صحيح
هذا حديث صحيح، فقد احتجَّا جميعًا بمِقسَم بن نَجْدة (2) ، فأما عبد الحميد بن عبد الرحمن فإنه أبو الحسن عبد الحميد بن عبد الرحمن الجَزَري (3) ، ثقة مأمون. وشاهده ودليله:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 612 - صحيح
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے بارے میں جو اپنی بیوی سے حیض کی حالت میں قربت کر لے، فرمایا: ”وہ ایک دینار یا آدھا دینار صدقہ کرے۔“
یہ حدیث صحیح ہے اور شیخین نے مقسم بن نجدہ سے احتجاج کیا ہے، جبکہ عبد الحمید بن عبد الرحمن ثقہ اور مامون ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 621]
یہ حدیث صحیح ہے اور شیخین نے مقسم بن نجدہ سے احتجاج کیا ہے، جبکہ عبد الحمید بن عبد الرحمن ثقہ اور مامون ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 621]
حدیث نمبر: 622
ما حدَّثَناه علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حَدَّثَنَا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حَدَّثَنَا أبو ظَفَر عبد السلام بن مُطهَّر، حَدَّثَنَا جعفر بن سليمان، عن علي بن الحَكَم البُنَاني، عن أبي الحسن الجَزَري، عن مِقسَم، عن ابن عباس قال: إذا أصابها في الدم فدينارٌ، وإذا أصابها في انقطاع الدم فنصفُ دينار (4) . قد أُرسِلَ هذا الحديث، وأُوقف أيضًا، ونحن على أصلنا الذي أصَّلْناه أَنَّ القول قولُ الذي يُسنِدُ ويَصِلُ إذا كان ثقةً.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اگر (خون جاری رہنے کے) دورانِ حیض قربت کرے تو ایک دینار، اور اگر خون رک جانے کے بعد (غسل سے پہلے) کرے تو آدھا دینار صدقہ کرے۔
یہ حدیث مرسل اور موقوف بھی مروی ہے، لیکن ہمارا اصول یہی ہے کہ ثقہ راوی کی مسند اور متصل روایت ہی معتبر ہوتی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 622]
یہ حدیث مرسل اور موقوف بھی مروی ہے، لیکن ہمارا اصول یہی ہے کہ ثقہ راوی کی مسند اور متصل روایت ہی معتبر ہوتی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 622]
حدیث نمبر: 623
حدَّثني علي بن عيسى، حَدَّثَنَا مسدد بن قَطَن، عن عثمان بن أبي شَيْبة، حَدَّثَنَا جَرِير، عن الشَّيباني، عن عبد الرحمن بن الأسود، عن أبيه، عن عائشة قالت: كان رسول الله ﷺ يأمرُنا في فَوْر حَيضتِنا أن نَتَّزِرَ ثم يباشرُنا، وأيكم يملِكُ إرْبَه كما كان رسول الله ﷺ يملكُ إرْبَه؟ (1)
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ! إنما خرَّجا في هذا الباب حديثَ منصور، عن إبراهيم، عن الأسود، عن عائشة: كان رسول الله ﷺ يأمر إحدانا إذا كانت حائضًا أن تتَّزرَ ثم يُضاجِعُها (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 614 - على شرطهما
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ! إنما خرَّجا في هذا الباب حديثَ منصور، عن إبراهيم، عن الأسود، عن عائشة: كان رسول الله ﷺ يأمر إحدانا إذا كانت حائضًا أن تتَّزرَ ثم يُضاجِعُها (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 614 - على شرطهما
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں حیض کی شدت کے دنوں میں حکم دیتے کہ ہم تہبند باندھ لیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے مباشرت (بغیر جماع کے بوس و کنار) فرماتے تھے، اور تم میں سے کون اپنی خواہش پر ویسا قابو رکھ سکتا ہے جیسا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رکھتے تھے؟
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے ان الفاظ کے ساتھ روایت نہیں کیا، انہوں نے صرف اس ہم معنی روایت پر اتفاق کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حائضہ کو تہبند باندھنے کا حکم دیتے پھر اس کے ساتھ لیٹ جاتے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 623]
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے ان الفاظ کے ساتھ روایت نہیں کیا، انہوں نے صرف اس ہم معنی روایت پر اتفاق کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حائضہ کو تہبند باندھنے کا حکم دیتے پھر اس کے ساتھ لیٹ جاتے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 623]
67. أَحْكَامُ الِاسْتِحَاضَةِ
استحاضہ کے احکام۔
حدیث نمبر: 624
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا العباس بن محمد الدُّورِي، حَدَّثَنَا أبو عامر عبد الملك بن عمرو العَقَدي، حَدَّثَنَا زهير بن محمد، حَدَّثَنَا عبد الله بن محمد بن عَقِيل. وأخبرنا عبد الله بن الحسين القاضي، حَدَّثَنَا الحارث بن أبي أسامة، حَدَّثَنَا زكريا بن عَدِيّ، حَدَّثَنَا عُبيد الله بن عمرو الرَّقِّي، عن عبد الله بن محمد بن عَقيل، عن إبراهيم بن محمد بن طَلْحة، عن عمِّه عِمران بن طَلْحة، عن أمه حَمْنة بنت جَحْش قالت: كنت أُستحاضُ حيضةً كثيرة شديدة، فأتيتُ رسولَ الله ﷺ أَستفتيهِ وأخبِرهُ، فوجدتُه في بيت أختي زينب بنت جحش، فقلت: يا رسول الله، إني امرأةٌ أُستَحاضُ حيضةً كثيرة شديدة، فما ترى فيها؟ قد مَنَعَتني الصلاةَ والصومَ، قال:"أَنعَتُ لك الكُرسُفَ، فإنه يُذهِب الدمَ" قالت: هو أكثر من ذلك، إنما أَثُجُّ ثَجًّا، قال رسول الله ﷺ:"سآمرُكِ بأمرَين، أيَّهما فعلتِ أجزأ عنكِ من الآخَر، وإن قَوِيتِ عليهما فأنتِ أعلمُ" قال رسول الله ﷺ:"إنما هذه رَكْضَةٌ من رَكَضات الشيطان، فتحيَّضي ستةَ أيام، أو سبعةَ أيام في عِلْم الله ﷿، ثم اغتسلي، حتَّى إذا رأيتِ أنك قد طَهُرتِ واستَنقَأتِ فصلِّي ثلاثًا وعشرين ليلةً أو أربعًا وعشرين ليلةً وأيامَها، وصومي، فإنَّ ذلك يجزِئُك، وكذلك فافعلي كلَّ شهر كما تحيَّضُ النساء وكما يَطهُرْن مِيقات حيضِهن وطُهرِهن، وإن قَوِيتِ على أن تؤخري الظهرَ وتعجِّلي العصرَ، فتغتسلين وتجمَعين بين الصلاتين، الظهرَ والعصرَ، وتؤخرين المغربَ وتعجِّلين العشاءَ، ثم تغتسلين وتجمعين بين الصلاتين، فافعلي وصومي إن قَدِرتِ على ذلك" قال رسول الله ﷺ:"وهذا أعجَبُ الأمرَينِ إليَّ" (1) . قد اتَّفق الشيخان على إخراج حديث المُستحاضة من حديث الزُّهْري وهشام بن عُرْوة عن عروة عن عائشة (2) : أنَّ فاطمة بنت أبي حُبَيش سألت النَّبِيّ ﷺ، وليس فيه هذه الألفاظ التي في حديث حَمْنة بنت جحش ورواية عبد الله بن محمد بن عَقِيل بن أبي طالب، وهو من أشرافِ قريش وأكثرهم روايةً، غيرَ أنهما لم يحتجَّا به. وشواهده حديثُ الشَّعْبي عن قَمِير امرأة مسروق عن عائشة، وحديثُ أبي عَقِيل يحيى بن المتوكَّل عن بُهَيَّة عن عائشة (1) ، وذكرها في هذا الموضع يَطُول.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 615 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 615 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدہ حمنہ بنت جحش رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ مجھے بہت زیادہ اور شدید استحاضہ (بیماری کا خون) آتا تھا، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس کا حکم پوچھنے اور آپ کو بتانے آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی بہن زینب بنت جحش کے گھر پایا۔ میں نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! مجھے بہت زیادہ اور شدید استحاضہ آتا ہے، آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے؟ اس نے مجھے نماز اور روزے سے روک دیا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہیں روئی (استعمال کرنے) کا مشورہ دیتا ہوں کیونکہ وہ خون کو جذب کر لیتی ہے۔“ انہوں نے کہا: ”وہ اس سے کہیں زیادہ ہے، میں تو خون بہاتی ہوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہیں دو کاموں کا حکم دیتا ہوں، ان میں سے تم جو بھی کرو گی وہ کافی ہوگا، اور اگر دونوں کی طاقت رکھو تو تم بہتر جانتی ہو۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ شیطان کی ضربوں میں سے ایک ضرب ہے، لہٰذا تم اللہ کے علم کے مطابق چھ یا سات دن حیض شمار کرو، پھر غسل کر لو، اور جب دیکھو کہ تم پاک صاف ہو گئی ہو تو چوبیس یا تیئیس راتیں اور اتنے ہی دن نماز پڑھو اور روزہ رکھو، یہ تمہارے لیے کافی ہے، اور ہر مہینے اسی طرح کرو جیسے عورتیں اپنے حیض اور پاکیزگی کے ایام میں کرتی ہیں۔ اور اگر تم میں اتنی ہمت ہو کہ ظہر کو مؤخر اور عصر کو جلدی کر کے غسل کرو اور ظہر و عصر کو جمع کر لو، پھر مغرب کو مؤخر اور عشاء کو جلدی کر کے غسل کرو اور دونوں نمازیں جمع کر لو، تو ایسا کر لو اور اگر ہمت ہو تو روزہ بھی رکھ لو۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور یہ (دوسرا طریقہ) مجھے ان دونوں میں سے زیادہ پسند ہے۔“
شیخین نے استحاضہ کے بارے میں سیدہ عائشہ کی روایات تو لی ہیں لیکن حمنہ بنت جحش کی یہ تفصیل اور عبد اللہ بن محمد بن عقیل کی روایت نقل نہیں کی حالانکہ وہ قریش کے اشراف میں سے ہیں، اور اس کے شواہد سیدہ عائشہ سے دیگر اسناد سے بھی مروی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 624]
شیخین نے استحاضہ کے بارے میں سیدہ عائشہ کی روایات تو لی ہیں لیکن حمنہ بنت جحش کی یہ تفصیل اور عبد اللہ بن محمد بن عقیل کی روایت نقل نہیں کی حالانکہ وہ قریش کے اشراف میں سے ہیں، اور اس کے شواہد سیدہ عائشہ سے دیگر اسناد سے بھی مروی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 624]
حدیث نمبر: 625
وقد حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا الرَّبيع بن سليمان، حَدَّثَنَا عبد الله بن وهب، أخبرني عمرو بن الحارث، عن ابن شِهاب، عن عُرْوة بن الزُّبير وعَمْرة، عن عائشة: أنَّ أمّ حَبِيبة بنت جَحْش كانت تحت عبد الرحمن بن عَوْف، وأنها استُحِيضت سبعَ سنين، فقال رسول الله ﷺ:"إِنَّ هذا ليس بالحَيْضة، ولكنها عِرقٌ، فاغتسلي" (2) .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ام حبیبہ بنت جحش رضی اللہ عنہا (جو عبد الرحمن بن عوف کی زوجہ تھیں) کو سات سال تک استحاضہ رہا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ حیض نہیں ہے بلکہ ایک رگ (کا خون) ہے، لہٰذا غسل کر لیا کرو۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 625]
حدیث نمبر: 626
أخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حَدَّثَنَا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدَّثني أبي، حَدَّثَنَا أبو المغيرة، عن الأوزاعيِّ، عن الزُّهْري، عن عُرْوة وعَمْرة، عن عائشة قالت: استُحيضت أمّ حَبِيبة وهي تحت عبد الرحمن بن عوف سبعَ سنين، فأمرها النَّبِيّ ﷺ قال:"إذا أقبَلَت الحيضةُ فدَعِي الصلاةَ، فإذا أدبَرَت فاغتسلي وصلِّي" (3) . حديث عمرو بن الحارث والأوزاعي صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، إنما خرَّج مسلم حديث سفيان بن عُيينة وإبراهيم بن سعد عن الزُّهْري بغير هذا اللفظ (1) . وقد تابع محمدُ بنُ عمرو بن علقمة الأوزاعيَّ على روايته هذه عن الزُّهْري على هذه الألفاظ، وهو صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 617 - على شرطهما
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 617 - على شرطهما
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا جو کہ سیدنا عبد الرحمن بن عوف کے نکاح میں تھیں، انہیں سات سال تک استحاضہ رہا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا اور فرمایا: ”جب حیض شروع ہو جائے تو نماز چھوڑ دو، اور جب وہ ختم ہو جائے تو غسل کر لو اور نماز پڑھو۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ عمرو بن حارث اور اوزاعی کی یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، امام مسلم نے زہری سے سفیان بن عیینہ اور ابراہیم بن سعد کی روایت دوسرے الفاظ کے ساتھ نقل کی ہے۔ محمد بن عمرو نے بھی اوزاعی کی متابعت کی ہے اور یہ امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 626]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ عمرو بن حارث اور اوزاعی کی یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، امام مسلم نے زہری سے سفیان بن عیینہ اور ابراہیم بن سعد کی روایت دوسرے الفاظ کے ساتھ نقل کی ہے۔ محمد بن عمرو نے بھی اوزاعی کی متابعت کی ہے اور یہ امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 626]
حدیث نمبر: 627
أخبرَناه أبو الفضل محمد بن إبراهيم المزكِّي، حَدَّثَنَا الحسين بن محمد بن زياد، حَدَّثَنَا محمد بن المثنَّى، حَدَّثَنَا ابن أبي عَدِي، حَدَّثَنَا محمد بن عمرو، حدَّثني ابن شِهاب، عن عُروة بن الزُّبير، عن فاطمة بنت أبي حُبيش: أنها كانت تُستَحاض، فقال لها النَّبِيّ ﷺ:"إذا كان دَمُ الحَيْضة فإنه دمٌ أسودُ يُعرَف، فإذا كان ذلك فأَمسِكي عن الصلاة، وإذا كان الآخرُ فتوضَّئي وصلِّي، فإنما هو عِرقٌ" (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 618 - على شرط مسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 618 - على شرط مسلم
فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہیں استحاضہ کی بیماری تھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”حیض کا خون سیاہ رنگ کا ہوتا ہے جو پہچانا جاتا ہے، پس جب وہ ہو تو نماز سے رک جاؤ، اور جب دوسرا (استحاضہ کا خون) ہو تو وضو کرو اور نماز پڑھو کیونکہ وہ ایک رگ کا خون ہے۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 627]
حدیث نمبر: 628
وأخبرنا أبو سهل بن زياد القطّان ببغداد، حَدَّثَنَا يحيى بن جعفر، حَدَّثَنَا على (3) بن عاصم، حَدَّثَنَا سُهيل بن أبي صالح. وحدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حَدَّثَنَا محمد بن بِشْر بن مَطَر، حَدَّثَنَا وهب بن بَقيَّة، حَدَّثَنَا خالد بن عبد الله، عن سهيل بن أبي صالح، عن الزُّهْري، عن عُروة بن الزُّبير، عن أسماء بنت عُمَيس قالت: قلت لرسول الله ﷺ: إِنَّ فاطمة بنت أبي حُبَيش استُحِيضت منذُ كذا وكذا فلم تصلِّ، فقال رسول الله ﷺ:"سبحانَ الله، هذا من الشيطان، لتَجلِسْ في مِركَنٍ، فإذا رأت الصُّفَارةَ فوق الماء فلتغتَسِلْ للظُّهر والعصر غُسلًا واحدًا، وتغتسلْ للمغرب والعشاء غُسلًا واحدًا، وتغتسلْ للفجر، وتتوضَّأْ فيما بين ذلك" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذه الألفاظ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 619 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذه الألفاظ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 619 - على شرط مسلم
سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ فاطمہ بنت ابی حبیش کو اتنے اتنے عرصے سے استحاضہ ہے اور وہ نماز نہیں پڑھ رہی ہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سبحان اللہ! یہ تو شیطان کی طرف سے ہے، انہیں چاہیے کہ وہ ایک ٹب (بڑے برتن) میں بیٹھیں، پھر جب وہ پانی کے اوپر زردی دیکھیں تو ظہر اور عصر کے لیے ایک غسل کریں، مغرب اور عشاء کے لیے ایک غسل کریں، اور فجر کے لیے الگ غسل کریں، اور ان کے درمیان وضو کرتی رہیں۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے ان الفاظ کے ساتھ روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 628]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے ان الفاظ کے ساتھ روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 628]
حدیث نمبر: 629
أخبرنا الحسن بن يعقوب العَدْل، حَدَّثَنَا يحيى بن أبي طالب، حَدَّثَنَا عبد الوهاب بن عطاء، حَدَّثَنَا هشام بن حسَّان. وأخبرنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا أبو المثنَّى، حَدَّثَنَا مُسدَّد، حَدَّثَنَا إسماعيل بن عُلَيَّة، عن أيوب؛ جميعًا عن محمد بن سِيرِين، عن أمُّ عطيَّة قالت: كنا لا نَعُدُّ الكُدْرةَ والصُّفْرَة شيئًا (2) .
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہم (حیض کے علاوہ آنے والے) گدلے اور زرد رنگ کے پانی کو کچھ بھی (حیض) شمار نہیں کرتی تھیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 629]