المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
215. تَفْسِيرُ سُورَةِ الشُّعَرَاءِ
سورۂ الشعراء کی تفسیر
حدیث نمبر: 3565
حدثنا أبو الحسن علي بن محمد بن عُقْبة الشَّيْباني بالكوفة، حدثنا إبراهيم بن إسحاق الزُّهْري، حدثنا أبو نُعيم، حدثنا يونس بن أبي إسحاق: أنه تَلَا قولَ الله ﷿: ﴿وَأَوْحَيْنَا إِلَى مُوسَى أَنْ أَسْرِ بِعِبَادِي إِنَّكُمْ مُتَّبَعُونَ﴾ الآياتِ [الشعراء: 52] ، فقال: حدثنا أبو بُرْدة بن أبي موسى الأشعَري، عن أبيه قال: نَزَلَ رسولُ الله ﷺ بأعرابيٍّ فأكرَمَه، فقال له رسول الله ﷺ:"تَعهَّدْنا، ائْتِنا"، فأتاه الأعرابيُّ، فقال له رسول الله ﷺ:"حاجتُك؟" فقال: ناقةٌ برَحْلِها وعَنزٌ يجرُّ (2) لبنَها أهلي، فقال رسول الله ﷺ:"عَجَزَ هذا أن يكونَ كعجوزِ بني إسرائيل" فقال له أصحابه: ما عجوزُ بني إسرائيل يا رسولَ الله؟ فقال:"إنَّ موسى حين أراد أن يسيرَ ببني إسرائيلَ ضَلَّ عنه الطريقُ، فقال لبني إسرائيل: ما هذا؟ قال: فقال له علماءُ بني إسرائيل: إنَّ يوسفَ حين حَضَرَه الموتُ أَخَذَ علينا مَوثِقًا من الله أن لا نَخْرُجَ من مصرَ حتى ننقُلَ عظامَه معنا، فقال لهم موسى: أيُّكم يدري أين قبرُ يوسف؟ فقال علماءُ بني إسرائيل: ما يَعلَمُ أحدٌ مكانَ قبرِه إلَّا عجوزٌ لبني إسرائيل، فأرسل إليها موسى فقال: دُلِّينا على قبرِ يوسف، فقالت: لا والله حتى تُعطِيَني حُكْمي، فقال لها: وما حُكمُك؟ قالت: حُكْمي أن أكون معك في الجنَّة، فكأنه كَرِهَ ذلك، قال: فقيل له: أعطِها حُكْمَها، فأعطاها حكمَها، فانطلقَت بهم إلى بُحَيرةٍ مُستنقِعةٍ ماءً، فقالت لهم: نَضِّبُوا هذا الماءَ، فلما نَضَّبُوا قالت لهم: احفروا، فحَفَروا فاستَخرَجوا عظامَ يوسف، فلما أن أَقَلُّوه من الأرض إذا الطريقُ مثلُ ضَوْءِ النهار" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. ولعلَّ واهمًا يَتوهَّم أن يونس بن أبي إسحاق السَّبيعي لم يسمع من أبي بُرْدة، وليس كذلك، فقد حَكَمَ أحمدُ بن حنبل ويحيى بن مَعِين أنَّ يونس بن أبي إسحاق سمع من أبي بُرْدة حديث:"لا نكاح إلَّا بوليٍّ" (2) كما سمعه أبوه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3523 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. ولعلَّ واهمًا يَتوهَّم أن يونس بن أبي إسحاق السَّبيعي لم يسمع من أبي بُرْدة، وليس كذلك، فقد حَكَمَ أحمدُ بن حنبل ويحيى بن مَعِين أنَّ يونس بن أبي إسحاق سمع من أبي بُرْدة حديث:"لا نكاح إلَّا بوليٍّ" (2) كما سمعه أبوه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3523 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک اعرابی (دیہاتی) کے ہاں ٹھہرے تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوب اکرام و خاطر تواضع کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”ہم سے ملتے رہنا، ہمارے پاس آنا،“ چنانچہ وہ اعرابی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت فرمایا: ”تمہاری کیا ضرورت ہے؟“ اس نے عرض کیا: ”(مجھے) ایک کجاوے والی اونٹنی مل جائے اور ایک ایسی بکری جو میرے گھر والوں کے لیے دودھ دے،“ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا یہ شخص اس بات سے عاجز رہا کہ وہ بنی اسرائیل کی اس بوڑھی عورت جیسا بن جاتا (جس نے دنیاوی چیزوں کے بجائے بلند مطالبہ کیا تھا)؟“ صحابہ نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! بنی اسرائیل کی وہ بوڑھی عورت کون تھی؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے جب بنی اسرائیل کو لے کر (مصر سے) روانہ ہونے کا ارادہ کیا تو وہ راستہ بھٹک گئے، انہوں نے بنی اسرائیل (کے علماء) سے پوچھا: ”یہ کیا معاملہ ہے؟“ علماء نے بتایا کہ سیدنا یوسف علیہ السلام نے اپنی وفات کے وقت ہم سے اللہ کا پختہ عہد لیا تھا کہ ہم جب تک ان کی ہڈیاں (جسم مبارک) اپنے ساتھ نہ لے جائیں، مصر سے نہ نکلیں، موسیٰ علیہ السلام نے پوچھا: ”تم میں سے کون جانتا ہے کہ یوسف علیہ السلام کی قبر کہاں ہے؟“ علماء نے کہا: ”بنی اسرائیل کی ایک بوڑھی عورت کے سوا کوئی اس جگہ سے واقف نہیں،“ موسیٰ علیہ السلام نے اسے بلاوا بھیجا اور کہا: ”ہمیں یوسف علیہ السلام کی قبر کا پتہ بتاؤ،“ اس نے کہا: ”اللہ کی قسم! میں تب تک نہیں بتاؤں گی جب تک آپ میرا حق (مطالبہ) پورا نہ کریں،“ موسیٰ علیہ السلام نے پوچھا: ”تمہارا مطالبہ کیا ہے؟“ اس نے کہا: ”میرا مطالبہ یہ ہے کہ میں جنت میں آپ کے ساتھ رہوں،“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ موسیٰ علیہ السلام کو یہ بات گراں گزری (کہ وہ بہت بڑا مطالبہ کر رہی ہے)، تو انہیں (اللہ کی طرف سے) کہا گیا کہ اس کا مطالبہ پورا کر دیں، چنانچہ انہوں نے اسے اس کا حق دے دیا، تب وہ انہیں لے کر ایک جوہڑ (پانی کے تالاب) کے پاس گئی اور کہا: ”اس پانی کو نکال دو،“ جب پانی نکال دیا گیا تو اس نے کہا: ”اب یہاں کھدائی کرو،“ انہوں نے کھدائی کی تو یوسف علیہ السلام کی ہڈیاں (جسم مبارک) نکال لیں، جیسے ہی انہوں نے انہیں زمین سے اٹھایا، راستہ دن کی روشنی کی طرح واضح ہو گیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ ہو سکتا ہے کہ کوئی یہ وہم کرے کہ یونس بن ابی اسحاق سبیعی نے ابو بردہ سے نہیں سنا، مگر ایسا نہیں ہے، امام احمد بن حنبل اور یحییٰ بن معین نے یہ فیصلہ دیا ہے کہ یونس بن ابی اسحاق نے ابو بردہ سے حدیث «لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ» ”سرپرست کے بغیر نکاح نہیں ہوتا“ سنی ہے، جیسے ان کے والد نے سنی تھی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3565]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ ہو سکتا ہے کہ کوئی یہ وہم کرے کہ یونس بن ابی اسحاق سبیعی نے ابو بردہ سے نہیں سنا، مگر ایسا نہیں ہے، امام احمد بن حنبل اور یحییٰ بن معین نے یہ فیصلہ دیا ہے کہ یونس بن ابی اسحاق نے ابو بردہ سے حدیث «لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ» ”سرپرست کے بغیر نکاح نہیں ہوتا“ سنی ہے، جیسے ان کے والد نے سنی تھی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3565]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل يونس بن أبي إسحاق، فهو صدوق حسن الحديث إلَّا أنه كان فيه غفلة كما قال يحيى القطان، وكان أحمد يتكلَّم في حديثه عن أبيه ويقدِّم ابنَه إسرائيل عليه، وهذا الحديث قد ذكره الحافظ ابن كثير في "تفسيره" 6/ 152 فقال: هذا حديث غريب جدًّا والأقرب أنه موقوف والله أعلم.» [ترقيم الرساله 3565] [ترقيم الشركة 3544] [ترقيم العلميه 3523]
الحكم على الحديث: إسناده حسن من أجل يونس بن أبي إسحاق
216. قِصَّةُ عَجُوزِ بَنِي إِسْرَائِيلَ الَّتِي دَلَّتْ عَلَى عِظَامِ يُوسُفَ
بنی اسرائیل کی اس بوڑھی عورت کا قصہ جس نے حضرت یوسف علیہ السلام کی ہڈیوں کا پتہ بتایا
حدیث نمبر: 3566
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا السَّرِيّ بن خُزَيمة، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا وُهَيب بن خالد، حدثنا أبو واقد، عن أبي سَلَمة، عن عائشة أنها قالت: يا رسول الله، إنَّ عبدَ الله بن جُدْعانَ كان يَقْرِي الضَّيفَ، ويَصِلُ الرَّحِمَ، ويفعلُ ويفعلُ، أينفعُه ذلك؟ قال:"لا، إنه لم يقل يومًا قطُّ: ربِّ اغفِرْ لي خَطِيئتي يومَ الدِّين" (1) . صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه! ﷽ [27 - ومن تفسير سورة النمل]
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3524 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3524 - صحيح
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! عبداللہ بن جدعان (زمانۂ جاہلیت میں) مہمان نوازی کرتا تھا، صلہ رحمی کرتا تھا اور بہت سے نیک کام کرتا تھا، کیا اسے (آخرت میں) ان کاموں کا کوئی فائدہ ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، اس لیے کہ اس نے کبھی ایک دن بھی یہ نہیں کہا تھا: «رَبِّ اغْفِرْ لِي خَطِيئَتِي يَوْمَ الدِّينِ» ”اے میرے رب! بدلے کے دن (قیامت) میری خطا معاف فرما دینا۔““
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3566]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3566]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبي واقد - وهو صالح بن محمد بن زائدة - فالجمهور على تضعيفه وقد حسَّن الرأي فيه أحمد بن حنبل، وقد توبع على حديثه ولم ينفرد به. أبو سلمة: هو ابن عبد الرحمن بن عوف.» [ترقيم الرساله 3566] [ترقيم الشركة 3545] [ترقيم العلميه 3524]
الحكم على الحديث: حديث صحيح
217. تَفْسِيرُ سُورَةِ النَّمْلِ - صُورَةُ جُلُوسِ سُلَيْمَانَ لِلْحُكُومَةِ
سورۂ النمل کی تفسیر: حضرت سلیمان علیہ السلام کا فیصلہ گاہ میں بیٹھنے کا منظر
حدیث نمبر: 3567
حدثني علي بن حَمْشاذَ العَدْل، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا سليمان بن حَرْب، حدثنا حمّاد بن زيد، عن الزُّبير بن الخِرِّيت، عن عِكْرمة، عن ابن عبَّاس قال: كان الهُدهُدُ يدلُّ سليمانَ على الماء، فقلت: وكيف ذاكَ والهُدهُدُ يُنصَبُ له الفخُّ يُلقَى عليه الترابُ؟ فقال: أعضَّكَ اللهُ بهَنِ أبيك (2) - ولم يَكْنِ - إذا جاء القضاءُ ذهب البصرُ (3) .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ہدہد (پانی کی تلاش میں) سیدنا سلیمان علیہ السلام کی رہنمائی کرتا تھا، راوی کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: یہ کیسے ممکن ہے جبکہ ہدہد کے لیے تو جال بچھایا جاتا ہے اور اس پر مٹی ڈال دی جاتی ہے (تب اسے وہ جال کیوں نظر نہیں آتا)؟ تو انہوں نے (سخت لہجے میں) فرمایا: جب قضا (تقدیر) آ جاتی ہے تو بصارت جاتی رہتی ہے (یعنی بندہ اندھا ہو جاتا ہے)۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3567]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح.» [ترقيم الرساله 3567] [ترقيم الشركة 3546]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3568
أخبرَناه أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق، أخبرنا أبو معاوية، حدثنا الأعمش، عن المِنْهال بن عمرو، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس في قوله: ﴿لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذَابًا شَدِيدًا﴾ [النمل: 21] ، قال: نَتْفُ رِيشِه، قال ابن عبَّاس: كان سليمانُ بن داودَ يُوضَعُ له ستُّ مئة ألف كرسيٍّ ثم يجيءُ أشرافُ الإنس حتى يجلسوا مما يَليهِ، ثم يجيءُ أشرافُ الجنِّ حتى يجلسوا ممّا يَلِي الإنسَ، ثم يدعو الطيرَ فتُظِلُّهم، ثم يدعو الريحَ فتَحمِلُهم، فيسيرُ في الغَدَاةِ الواحدةِ مسيرةَ شهر، فبينما هو يسير في فَلَاةٍ إذ احتاجَ إلى الماء، فجاء الهُدهُدُ فجعل يَنقُرُ الأرضَ فأصاب موضعَ الماء، فجاءت الشياطينُ فسَلَخَت ذلك الموضعَ كما يُسلَخ الإهابُ، فأصابوا الماءَ. فقال نافع بن الأزرق: يا وقَّافُ أرأيتَ الهدهدَ: كيف يجيءُ فينقُرُ الأرضَ فيصيبُ موضعَ الماء، وهو يجيءُ إلى الفخِّ وهو يُبصِرُه حتى يقعَ في عنقه؟! فقال ابن عبَّاس: إنَّ القَدَر إذا جاء حالَ دون البَصَر (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3526 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3526 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذَابًا شَدِيدًا﴾ [سورة النمل: 21] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: (اس سے مراد) اس کے پر نوچ لینا ہے، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مزید فرمایا: سیدنا سلیمان بن داود علیہ السلام کے لیے چھ لاکھ کرسیاں بچھائی جاتی تھیں، پھر انسانوں کے شرفاء آ کر ان کے قریب بیٹھتے، پھر جنات کے شرفاء آ کر انسانوں کے پیچھے بیٹھتے، پھر آپ پرندوں کو بلاتے تو وہ ان پر (پروں کا) سایہ کر دیتے، پھر آپ ہوا کو حکم دیتے تو وہ ان سب کو اٹھا لیتی، آپ ایک صبح میں ایک مہینے کی مسافت طے کر لیتے تھے۔ ایک مرتبہ جب آپ ایک چٹیل میدان میں سفر کر رہے تھے تو پانی کی ضرورت پیش آئی، ہدہد آیا اور زمین کریدنے لگا تو اس نے پانی کی جگہ ڈھونڈ لی، پھر شیاطین آئے اور انہوں نے اس جگہ کو ایسے ادھیڑا جیسے کھال ادھیڑی جاتی ہے، تو انہوں نے پانی پا لیا۔ تب نافع بن ازرق نے پوچھا: اے حق پر ٹھہرنے والے! آپ نے ہدہد کو دیکھا کہ وہ کیسے زمین کرید کر پانی کی جگہ تلاش کر لیتا ہے، جبکہ وہ خود شکاری کے جال کی طرف آتا ہے اور اسے دیکھ رہا ہوتا ہے پھر بھی وہ اس کی گردن میں پھنس جاتا ہے؟! ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: بے شک تقدیر جب آ جائے تو بصارت کے سامنے حائل ہو جاتی ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3568]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3568]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،إسحاق: هو ابن راهويه، وأبو معاوية: هو محمد بن خازم الضرير، والأعمش: هو سليمان بن مهران.» [ترقيم الرساله 3568] [ترقيم الشركة 3547] [ترقيم العلميه 3526]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3569
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا الرَّبيع بن سليمان، حدثنا الشافعيُّ وأَسَد بن موسى، قالا: حدثنا سفيان بن عُيَينة، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن عائشة قالت: إنَّما قال رسول الله ﷺ:"إنَّهم لَيَعلمونَ الآن أنَّ الذي كنتُ أقولُ لهم في الدنيا حقٌّ"، وقد قال الله لنبيِّه ﷺ: ﴿إِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتَى وَلَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَاءَ إِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِينَ﴾ [النمل: 80] (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3527 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3527 - على شرط البخاري ومسلم
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (بدر کے مقتولین کے متعلق) یہ فرمایا تھا: ”وہ اب یقیناً جان چکے ہیں کہ جو کچھ میں ان سے دنیا میں کہتا تھا وہ حق ہے،“ جبکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا ہے: ﴿إِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتَى وَلَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَاءَ إِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِينَ﴾ [سورة النمل: 80] ”بے شک آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے اور نہ بہروں کو پکار سنا سکتے ہیں جب وہ پیٹھ پھیر کر مڑ جائیں۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3569]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3569]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح.» [ترقيم الرساله 3569] [ترقيم الشركة 3548] [ترقيم العلميه 3527]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3570
أخبرنا ميمون بن إسحاق الهاشمي ببغداد، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا حفص بن غِيَاث، عن الأعمش والحسن بن عُبيد الله، عن الأسود بن هلال، عن عبد الله: ﴿مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ﴾ [النمل: 89] ، قال: من جاء بلا إله إلَّا الله، ﴿وَمَنْ جَاءَ بِالسَّيِّئَةِ﴾ [النمل: 90] ، قال: بالشِّرك (1) . صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. ﷽ [28 - ومن سورة القصص]
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3528 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3528 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ﴾ [سورة النمل: 89] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: اس سے مراد وہ شخص ہے جو «لا اله الا الله» لے کر آئے، اور ﴿وَمَنْ جَاءَ بِالسَّيِّئَةِ﴾ [سورة النمل: 90] سے مراد شرک ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3570]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3570]
تخریج الحدیث: «خبر صحيح، وهذا الإسناد منقطع، سقط منه جامع بن شداد بين الأعمش والحسن بن عبيد الله وبين الأسود بن هلال، والذي وهمَ فيه هو أحمد بن عبد الجبار العُطاردي، وهو ليس بذاك الضابط، وباقي رجاله ثقات.» [ترقيم الرساله 3570] [ترقيم الشركة 3549] [ترقيم العلميه 3528]
الحكم على الحديث: خبر صحيح
218. تَفْسِيرُ سُورَةِ الْقَصَصِ
سورۂ القصص کی تفسیر
حدیث نمبر: 3571
حدثنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حَنبَل، حدثني أبي، حدثنا عبد الرحمن بن مَهْدي، عن سفيان، عن الأعمش، عن حسّان، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس، قولَه: ﴿وَأَصْبَحَ فُؤَادُ أُمِّ مُوسَى فَارِغًا﴾ قال: فارغًا من كل شيءٍ غيرَ ذِكْر موسى، ﴿إِنْ كَادَتْ لَتُبْدِي﴾ [القصص: 10] قال: أن تقول: يا بُنَيَّاه، ﴿وَقَالَتْ لِأُخْتِهِ قُصِّيهِ﴾ [القصص: 11] : ابتغِي أَثَرَه، ﴿وَحَرَّمْنَا عَلَيْهِ الْمَرَاضِعَ مِنْ قَبْلُ﴾ [القصص: 12] ، قال: لا يُؤتَى بمُرضِعٍ فيَقبَلُها (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وحسان: هو ابن أبي عبّاد، قد احتَجّا جميعًا به (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3529 - حسان بن أبي عباد لا يدري من هو
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وحسان: هو ابن أبي عبّاد، قد احتَجّا جميعًا به (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3529 - حسان بن أبي عباد لا يدري من هو
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَأَصْبَحَ فُؤَادُ أُمِّ مُوسَى فَارِغًا﴾ کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: (اس کا مطلب ہے کہ ان کا دل) موسیٰ علیہ السلام کے ذکر کے سوا ہر چیز سے خالی ہو گیا، ﴿إِنْ كَادَتْ لَتُبْدِي بِهِ﴾ [سورة القصص: 10] کے متعلق فرمایا کہ قریب تھا کہ وہ (ممتا کے جوش میں) پکار اٹھتیں: ”ہائے میرا بیٹا!“ اور ﴿وَقَالَتْ لِأُخْتِهِ قُصِّيهِ﴾ [سورة القصص: 11] کے متعلق فرمایا: (اس کا مطلب ہے) اس کے نشانِ قدم تلاش کرو (یعنی اس کے پیچھے جاؤ)، اور ﴿وَحَرَّمْنَا عَلَيْهِ الْمَرَاضِعَ مِنْ قَبْلُ﴾ [سورة القصص: 12] کے متعلق فرمایا: (اس کا مطلب یہ ہے کہ) ان کے پاس جو بھی دودھ پلانے والی لائی جاتی وہ اسے قبول نہیں کرتے تھے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور حسان بن ابی عباد سے شیخین نے احتجاج کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3571]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور حسان بن ابی عباد سے شیخین نے احتجاج کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3571]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،سفيان: هو الثوري، وحسان: هو ابن أبي الأشرس أبو الأشرس، وليس ابن أبي عباد كما ذهب إليه المصنف.» [ترقيم الرساله 3571] [ترقيم الشركة 3550] [ترقيم العلميه 3529]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
219. قِصَّةُ نِكَاحِ مُوسَى - عَلَيْهِ السَّلَامُ - بِبِنْتِ شُعَيْبٍ عَلَيْهِ السَّلَامُ .
حضرت موسیٰ علیہ السلام کا حضرت شعیب علیہ السلام کی بیٹی سے نکاح کا واقعہ
حدیث نمبر: 3572
حدثنا أبو عبد الله الصَّفّار، حدثنا أحمد بن مِهْران الأصبهاني، حدثنا عبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيل، عن أبي إسحاق، عن عمرو بن ميمون، عن عمر: ﴿فَجَاءَتْهُ إِحْدَاهُمَا تَمْشِي عَلَى اسْتِحْيَاءٍ﴾ [القصص: 25] ، قال: كانت تجيءُ وهي خَرَّاجةٌ ولَّاجةٌ واضعةً يدَها على وجهها، فقام معها موسى وقال لها: امشي خَلْفي وانعَتي ليَ الطريقَ، وأنا أَمشي أمامَك، فإنَّا لا نَنظُر في أدبارِ النساء، ثم قالت: ﴿يَاأَبَتِ اسْتَأْجِرْهُ إِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْتَأْجَرْتَ الْقَوِيُّ الْأَمِينُ﴾، لِمَا رأَت من قوَّته ولقوله لها ما قال، فزادَه ذلك فيه رَغْبةً فقال: ﴿إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُنْكِحَكَ إِحْدَى ابْنَتَيَّ هَاتَيْنِ عَلَى أَنْ تَأْجُرَنِي ثَمَانِيَ حِجَجٍ فَإِنْ أَتْمَمْتَ عَشْرًا فَمِنْ عِنْدِكَ وَمَا أُرِيدُ أَنْ أَشُقَّ عَلَيْكَ سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّالِحِينَ﴾، أي: في حُسْنِ الصُّحبة والوفاءِ بما قلتُ، قال موسى: ﴿ذَلِكَ بَيْنِي وَبَيْنَكَ أَيَّمَا الْأَجَلَيْنِ قَضَيْتُ فَلَا عُدْوَانَ عَلَيَّ﴾ قال: نعم، قال: ﴿وَاللَّهُ عَلَى مَا نَقُولُ وَكِيلٌ﴾، فزوَّجَه وأقام معه يَكْفيهِ ويعملُ له في رِعايةِ غنمِه وما يحتاجُ إليه منه، وزوَّجَه صفورة أو أختَها شرقا، وهما اللَّتانِ كانتا تَذُودانِ (2) . صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3530 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3530 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿فَجَاءَتْهُ إِحْدَاهُمَا تَمْشِي عَلَى اسْتِحْيَاءٍ﴾ [سورة القصص: 25] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے کہا: وہ (سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے پاس) اس حال میں آئیں کہ وہ (اپنی ضرورت کے تحت) باہر آنے جانے والی تھیں اور اپنا ہاتھ اپنے چہرے پر رکھا ہوا تھا، پس موسیٰ علیہ السلام ان کے ساتھ کھڑے ہوئے اور ان سے فرمایا: ”تم میرے پیچھے چلو اور مجھے (پیچھے سے پکار کر) راستہ بتاتی رہنا اور میں تمہارے آگے چلوں گا، کیونکہ ہم عورتوں کے پیچھے نہیں دیکھتے،“ پھر ان صاحبزادی نے (اپنے والد سے) کہا: ﴿يَاأَبَتِ اسْتَأْجِرْهُ إِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْتَأْجَرْتَ الْقَوِيُّ الْأَمِينُ﴾ [سورة القصص: 26] ”اے ابا جان! انہیں کام پر رکھ لیجیے، یقیناً بہترین شخص جسے آپ کام پر رکھیں وہی ہے جو طاقتور اور امانت دار ہو،“ یہ انہوں نے ان کی قوت دیکھ کر اور ان کے اس باحیا قول کی وجہ سے کہا تھا، پس اس بات نے ان کے والد کے دل میں موسیٰ علیہ السلام کے لیے رغبت بڑھا دی تو انہوں نے کہا: ﴿إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُنْكِحَكَ إِحْدَى ابْنَتَيَّ هَاتَيْنِ عَلَى أَنْ تَأْجُرَنِي ثَمَانِيَ حِجَجٍ فَإِنْ أَتْمَمْتَ عَشْرًا فَمِنْ عِنْدِكَ وَمَا أُرِيدُ أَنْ أَشُقَّ عَلَيْكَ سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّالِحِينَ﴾ [سورة القصص: 27] یعنی (میں حسنِ رفاقت اور ایفائے عہد میں) تمہیں مجھے صالح پاؤ گے، موسیٰ علیہ السلام نے کہا: ﴿ذَلِكَ بَيْنِي وَبَيْنَكَ أَيَّمَا الْأَجَلَيْنِ قَضَيْتُ فَلَا عُدْوَانَ عَلَيَّ﴾ [سورة القصص: 28] انہوں نے کہا: جی ہاں، (موسیٰ علیہ السلام نے) کہا: ﴿وَاللَّهُ عَلَى مَا نَقُولُ وَكِيلٌ﴾ [سورة القصص: 28] پھر انہوں نے ان کا نکاح کر دیا اور موسیٰ علیہ السلام ان کے پاس مقیم رہ کر ان کے کام کاج سنبھالتے اور بکریاں چراتے رہے، اور ان کا نکاح صفورہ یا ان کی بہن شرقا سے ہوا، اور یہ وہی دونوں تھیں جو (کنویں پر اپنی بکریاں) روک رہی تھیں۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3572]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3572]
تخریج الحدیث: «خبر صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل أحمد بن مهران، وقد توبع.» [ترقيم الرساله 3572] [ترقيم الشركة 3551] [ترقيم العلميه 3530]
الحكم على الحديث: خبر صحيح
220. قَضَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ أَبْعَدَ الْأَجَلَيْنِ
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دونوں مدتوں میں سے زیادہ مدت پوری کی
حدیث نمبر: 3573
حدثني بكر بن محمد بن حَمْدان الصَّيرَفي بمَرْو، حدثنا عبد الصمد بن الفضل البَلْخي، حدثنا حفص بن عمر العَدَني، حدثنا الحَكَم بن أبَان، عن عِكْرمة، عن ابن عبَّاس قال: سُئِلَ رسولُ الله ﷺ: أيَّ الأَجَلَينِ قَضَى موسى؟ قال:"أبعَدَهما وأطيَبَهما" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3531 - حفص واه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3531 - حفص واه
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا: ”موسیٰ علیہ السلام نے (دونوں مدتوں میں سے) کون سی مدت پوری کی تھی؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو زیادہ طویل اور زیادہ بہتر تھی (یعنی دس سال کی مدت)۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3573]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف حفص بن عمر العدني ووهّاه الذهبي في "تلخيصه"، وهو لم ينفرد به، فقد تابعه إبراهيم بن يحيى العدني كما في الحديث التالي عند المصنف، كما أنَّ له شواهد سيأتي تخريجها عنده.» [ترقيم الرساله 3573] [ترقيم الشركة 3552] [ترقيم العلميه 3531]
الحكم على الحديث: حديث صحيح بطرقه وشواهده
حدیث نمبر: 3574
حدَّثَناه محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا أبو عمرو أحمد بن المبارَك المُستَمْلي، حدثنا محمد بن الوليد الفحَّام، حدثنا سفيان بن عُيَينة، حدثني إبراهيم بن يحيى، رجلٌ من أهل عَدَن، حدثنا الحَكَم بن أبان، عن عِكْرمة، عن ابن عبَّاس: أنَّ النبي ﷺ سأل جبريلَ:"أيَّ الأجلَينِ قَضَى موسى؟ قال: أَتمَّهُما" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3532 - إبراهيم بن يحيى لا يعرف
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3532 - إبراهيم بن يحيى لا يعرف
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام سے دریافت فرمایا: ”موسیٰ علیہ السلام نے (دونوں مدتوں میں سے) کون سی مدت پوری کی تھی؟“ انہوں نے عرض کیا: ”ان میں سے زیادہ کامل (یعنی دس سال کی مدت)۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3574]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3574]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح كسابقه، وهذا إسناد فيه لين إبراهيم بن يحيى العدني - وهو ابن أبي يعقوب - روى عنه اثنان سفيان وإبراهيم بن الحَكَم بن أبان وإبراهيم بن الحكم هذا فيه ضعف، وأما إبراهيم بن يحيى فلم يؤثر توثيقه عن غير ابن حبان، وقال الأزدي: لا يتابع على حديثه، وقال ...» [ترقيم الرساله 3574] [ترقيم الشركة 3553] [ترقيم العلميه 3532]
الحكم على الحديث: حديث صحيح كسابقه