🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
205. شَأْنُ نُزُولِ (وَلَا تُكْرِهُوا فَتَيَاتِكُمْ عَلَى الْبِغَاءِ) الْآيَةَ
آیت ”اور اپنی لونڈیوں کو بدکاری پر مجبور نہ کرو“ کے نزول کا سبب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3545
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حدثنا حامد بن أبي حامد المقرئ، حدثنا عبد الرحمن بن عبد الله الدَّشتَكي، حدثنا عمرو بن أبي قيس، عن عطاء، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس في قول الله ﷿: ﴿اللَّهُ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ مَثَلُ نُورِهِ﴾ [النور: 35] يقول: مثلُ نورِ مَن آمَنَ بالله ﴿كَمِشْكَاةٍ﴾ قال: وهي القُتْرة؛ يعني الكَوَّة (2) . صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3503 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿اللَّهُ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ مَثَلُ نُورِهِ﴾ [سورة النور: 35] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے کہا: (اس کا مطلب ہے) اس شخص کے نور کی مثال جو اللہ پر ایمان لایا، اور ﴿كَمِشْكَاةٍ﴾ کے متعلق فرمایا کہ اس سے مراد وہ طاق یا روزن ہے جس میں چراغ رکھا جاتا ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3545]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل عمرو بن أبي قيس لولا أنه خولف فيه، فقد رواه سفيان الثوري عند الطبري في "تفسيره" 18/ 136 عن عطاء بن السائب عن سعيد بن جبير من قوله، وسفيان ثقة حجّة وقد سمع من عطاء قبل اختلاطه.» [ترقيم الرساله 3545] [ترقيم الشركة 3524] [ترقيم العلميه 3503]

الحكم على الحديث: إسناده حسن من أجل عمرو بن أبي قيس لولا أنه خولف فيه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
206. كُلُوا الزَّيْتَ وَادَّهِنُوا بِهِ
زیتون کا تیل کھاؤ اور اس کا تیل لگاؤ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3546
أخبرنا أبو عبد الله الصَّفّار، حدثنا أحمد بن مِهران، حدثنا أبو نُعيم، حدثنا سفيان، عن عبد الله بن عيسى بن عبد الرحمن بن أبي ليلى، عن عطاء، عن أبي أَسِيد، عن رسول الله ﷺ قال:"كُلُوا الزيت وادَّهِنوا به، فإنه من شجرةٍ مباركةٍ" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ آخرُ بإسناد صحيح:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3504 - صحيح
سیدنا ابو اسید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زیتون کا تیل کھایا کرو اور اسے (جسم پر) لگایا بھی کرو، کیونکہ یہ ایک مبارک درخت سے حاصل ہوتا ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کی ایک دوسری صحیح سند سے بھی شاہد روایت موجود ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3546]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، وهذا إسناد فيه لِين، عطاء: هو الشامي، لا يُعرف، وتفرَّد بالرواية عنه عبد الله بن عيسى. أبو نعيم: هو الفضل بن دُكين، وسفيان: هو الثوري.» [ترقيم الرساله 3546] [ترقيم الشركة 3525] [ترقيم العلميه 3504]

الحكم على الحديث: حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3547
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا بكَّار بن قُتيبة القاضي بمصر، حدثنا صفوان بن عيسى القاضي، عن عبد الله بن سعيد بن أبي سعيد المَقبُري قال: سمعت جدِّي يُحدِّث عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"كُلُوا الزيتَ وادَّهِنوا به، فإنه طيِّبٌ مبارَكٌ" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3505 - عبد الله بن سعيد واه
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زیتون کا تیل کھاؤ اور اسے لگاؤ، کیونکہ یہ پاکیزہ اور بابرکت ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3547]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًّا، عبد الله بن سعيد المقبري متروك، ووهّاه الذهبي في "التلخيص"، وما قبله يغني عنه.» [ترقيم الرساله 3547] [ترقيم الشركة 3526] [ترقيم العلميه 3505]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف جدًّا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3548
حدثنا أبو العبَّاس أحمد بن زياد الفقيه بالأَهْواز، حدثنا محمد بن أيوب، أخبرنا محمد بن سعيد بن سابق، حدثنا عمرو بن أبي قيس، عن سِمَاك بن حَرْب، عن عِكْرمة، عن ابن عبَّاس: ﴿فِي بُيُوتٍ أَذِنَ اللَّهُ أَنْ تُرْفَعَ وَيُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ يُسَبِّحُ لَهُ فِيهَا بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالِ (36) رِجَالٌ لَا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَلَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ﴾ [النور: 36، 37] قال: ضَرَبَ اللهُ هذا المثلَ، قولَه: ﴿مَثَلُ نُورِهِ كَمِشْكَاةٍ فِيهَا مِصْبَاحٌ الْمِصْبَاحُ فِي زُجَاجَةٍ﴾ [النور: 35] لأولئك القوم الذين لا تُلهِيهم تجارةٌ ولا بيعٌ عن ذِكْر الله، وكانوا أتجرَ الناس وأبيَعَه، ولكن لم تكن تُلهِيهم تجارتُهم (2) ولا بيعُهم عن ذِكْر الله (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3506 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿فِي بُيُوتٍ أَذِنَ اللَّهُ أَنْ تُرْفَعَ وَيُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ يُسَبِّحُ لَهُ فِيهَا بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالِ (36) رِجَالٌ لَا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَلَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ﴾ [سورة النور: 36، 37] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے یہ مثال ﴿مَثَلُ نُورِهِ كَمِشْكَاةٍ فِيهَا مِصْبَاحٌ الْمِصْبَاحُ فِي زُجَاجَةٍ﴾ [سورة النور: 35] ان لوگوں کے لیے بیان فرمائی ہے جنہیں تجارت اور خرید و فروخت اللہ کے ذکر سے غافل نہیں کرتی، وہ لوگ معاشرے میں سب سے زیادہ تجارت اور خرید و فروخت کرنے والے تھے، مگر ان کی یہ دنیاوی مصروفیات انہیں اللہ کی یاد سے کبھی غافل نہیں کرتی تھیں۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3548]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، أحمد بن زياد شيخ المصنف لم نقف له على ترجمة، إلَّا أنه لم ينفرد به، وعمرو بن أبي قيس كان يهمُ في الحديث قليلًا، وفي بعض روايات سماك عن عكرمة اضطراب وقد انفرد عنه بهذا الخبر.» [ترقيم الرساله 3548] [ترقيم الشركة 3527] [ترقيم العلميه 3506]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
207. إِنَّ لِلْمَسَاجِدِ أَوْتَادًا لَهُمْ جُلَسَاءُ مِنَ الْمَلَائِكَةِ
مساجد کے کچھ خاص لوگ ایسے ہیں کہ فرشتے ان کے ہم نشین ہوتے ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3549
أخبرنا أحمد بن سلمان الفقيه، حدثنا الحسن بن مُكرَم البزَّاز، أخبرنا يزيد بن هارون، أخبرنا أبو غسّان محمد بن مُطِّرف اللَّيثي، حدثنا أبو حازم، عن سعيد بن المسيّب، عن عبد الله بن سَلَام قال: إنَّ للمساجد أَوتادًا هم أَوتادُها، لهم جلساءُ من الملائكة، فإن غابوا سأَلوا عنهم، وإن كانوا مَرضَى عادُوهم، وإن كانوا في حاجَةٍ أعانُوهم (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين موقوف، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3507 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مساجد کے کچھ پکے رہنے والے (نمازی) ہوتے ہیں جو وہاں کے ستونوں (میخوں) کی مانند جمے رہتے ہیں، فرشتوں میں سے ان کے کچھ ہم نشین ہوتے ہیں، اگر وہ کبھی مسجد سے غائب ہوں تو فرشتے ان کے بارے میں دریافت کرتے ہیں، اگر وہ بیمار پڑ جائیں تو ان کی عیادت کرتے ہیں اور اگر وہ کسی ضرورت میں ہوں تو ان کی مدد کرتے ہیں۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح اور موقوف ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3549]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، لكن المحفوظ من رواية سعيد بن المسيب عن أبيه المسيّب عن عبد الله بن سلام كما سيأتي، وإن كان سعيد قد أدرك ما يقرب من ثلاثين سنة من حياة عبد الله بن سلام وهو بلديُّه. أبو حازم: هو سلمة بن دينار الأعرج.» [ترقيم الرساله 3549] [ترقيم الشركة 3528] [ترقيم العلميه 3507]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3550
حدثني علي بن عيسى الحِيرِي، حدثنا مُسدَّد بن قَطَن، حدثنا عثمان ابن أبي شَيْبة، حدثنا أبو الأَحوَص (1) ، عن أبي إسحاق، عن عبد الله بن عطاء، عن عُقْبة بن عامر الجُهَني قال: كنَّا مع رسول الله ﷺ في سفر فكنَّا نَتَناوَبُ الرِّعْيةَ، فلما كانت نَوبَتي سرَّحتُ إبلي ثم رحتُ فجئتُ رسولَ الله ﷺ وهو يَخطُب الناسَ، فسمعته يقول:"ما من مسلمٍ يَتوضَّأُ فيُسبِغُ الوضوءَ، ثم يقومُ في صلاته، فيَعلَمُ ما يقولُ، إلَّا انفَتَل وهو كيومَ وَلَدَتهُ أمُّه من الخطايا ليس عليه ذنبٌ". قال: فما مَلَكتُ نفسي عند ذلك أنْ قلتُ: بَخٍ بَخٍ! فقال عمر: وكنتُ إلى جنبه: أتعجَبُ من هذا؟! قد قال قبلَ أن تجيءَ ما هو أجودُ منه، فقلت: ما هو فداكَ أبي وأمي، قال: قال:"ما من رجل يتوضَّأُ فيُسبِغُ الوضوءَ، ثم يقولُ عند فَراغِه من وضوئه: أشهدُ أن لا إله إلَّا الله وأشهدُ أنَّ محمدًا عبدُه ورسولُه، إلَّا فُتِحَت له ثمانيةُ أبوابِ الجنةِ يَدخُلُ من أيِّها شاءَ". ثم قال:"يُجمَعُ الناسُ في صعيدٍ واحدٍ يُنفِذُهم البصرُ ويُسمِعُهم الداعي، فينادي منادٍ: سيعلمُ أهلُ الجَمْع لمن الكَرَمُ اليومَ، ثلاثَ مرات، ثم يقول: أين الذين كانت تَتجافَى جنوبُهم عن المَضاجِع؟ ثم يقول: أين الذين كانوا ﴿لَا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَلَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ﴾ إلى آخر الآية؟ ثم ينادي منادٍ: سيَعلمُ أهلُ الجَمْع لمن الكَرَمُ اليومَ، ثم يقول: أين الحمَّادون الذين كانوا يَحمَدُون ربَّهم؟" (2) .
هذا حديث صحيح وله طرقٌ عن أبي إسحاق، ولم يُخرجاه. وكان من حقِّنا أن نُخرجَه في كتاب الوضوء فلم نَقدِرْ، فلما وجدتُ الإمام إسحاق الحَنظَلي خرَّج طرقه عند قوله: ﴿رِجَالٌ لَا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَلَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ﴾ [النور: 37] ، اتَّبعتُه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3508 - صحيح
سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے اور باری باری اونٹ چرایا کرتے تھے، جب میری باری آئی تو میں نے اپنے اونٹ چراگاہ میں چھوڑے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جو بھی مسلمان وضو کرے اور اچھی طرح (کامل) وضو کرے، پھر اپنی نماز کے لیے کھڑا ہو اور جو کچھ وہ (نماز میں) کہہ رہا ہے اسے جانتا ہو (یعنی توجہ اور سمجھ کے ساتھ پڑھے)، تو وہ (نماز سے) اس حال میں فارغ ہوگا جیسے وہ اس دن تھا جب اس کی ماں نے اسے جنا تھا، اس پر کوئی گناہ باقی نہ رہے گا۔ راوی کہتے ہیں: میں اس پر خود کو قابو نہ رکھ سکا اور پکار اٹھا: واہ واہ! کیا ہی خوب ہے! سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جو میرے پہلو میں تھے، کہنے لگے: کیا تم اس پر تعجب کر رہے ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے آنے سے پہلے اس سے بھی زیادہ فضیلت والی بات فرما چکے ہیں۔ میں نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، وہ کیا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص وضو کرے اور اچھی طرح (کامل) وضو کرے، پھر وضو سے فارغ ہو کر یہ کہے: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اس کے بندے اور رسول ہیں، تو اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیے جاتے ہیں، وہ جس سے چاہے داخل ہو جائے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن لوگوں کو ایک ہی چٹیل میدان میں جمع کیا جائے گا جہاں دیکھنے والے کی نظر سب کو دیکھ سکے گی اور پکارنے والے کی آواز سب کو سنائی دے گی، پھر ایک پکارنے والا تین مرتبہ پکارے گا: اہل محشر کو آج معلوم ہو جائے گا کہ عزت و کرم کا مستحق کون ہے، پھر وہ کہے گا: کہاں ہیں وہ لوگ جن کے پہلو بستروں سے جدا رہا کرتے تھے (یعنی تہجد گزار)؟ پھر کہے گا: کہاں ہیں وہ لوگ جنہیں ﴿لَا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَلَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ﴾ [سورة النور: 37] نہ تجارت اور نہ خرید و فروخت اللہ کے ذکر سے غافل کرتی تھی؟ پھر ایک منادی پکارے گا: اہل محشر کو آج معلوم ہو جائے گا کہ عزت و کرم کا مستحق کون ہے، پھر وہ کہے گا: کہاں ہیں وہ «حَمَّادُون» جو (ہر حال میں) اپنے رب کی بہت زیادہ حمد و ثنا بیان کرنے والے تھے؟
یہ حدیث صحیح ہے اور ابو اسحاق سے اس کے کئی طرق مروی ہیں، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ ہماری ذمہ داری تھی کہ اسے کتاب الوضو میں ذکر کرتے مگر اس وقت ہم قادر نہ ہو سکے، پھر جب میں نے دیکھا کہ امام اسحاق حنظلی نے اللہ کے اس فرمان ﴿رِجَالٌ لَا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَلَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ﴾ کے تحت اس کے طرق روایت کیے ہیں، تو میں نے بھی ان کی پیروی کی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3550]
تخریج الحدیث: «إسناده من هذا الوجه بهذا السياق ضعيف لإعضاله بين عبد الله بن عطاء وعقبة، فإنه لم يدركه، وقد رواه شعبة - فيما ذكر الدارقطني في "العلل" 2/ 114 - ففحص عن إسناده وبيَّن علته وذكر أنه سمعه من أبي إسحاق عن عبد الله بن عطاء عن عقبة بن عامر، وأنه ...» [ترقيم الرساله 3550] [ترقيم الشركة 3529] [ترقيم العلميه 3508]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
208. فَضِيلَةُ الْمُتْهَجِدِينَ وَالذَّاكِرِينَ اللَّهَ
رات کو عبادت کرنے والوں اور اللہ کا ذکر کرنے والوں کی فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3551
أخبرني محمد بن موسى بن عِمْران الفقيه، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثني محمد بن سهل بن عَسكَر، حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا الثَّوْري، عن الأعمش، عن إبراهيم، عن عَلْقَمة، عن عبد الله: أنه دَعَا بشراب، فأُتيَ به، فقال: ناوِل القومَ، فقالوا: نحن صِيامٌ، فقال: لكن أنا لستُ بصائمٍ، ثم أَمَره فشربَه، ثم قال: ﴿يَخَافُونَ يَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِيهِ الْقُلُوبُ وَالْأَبْصَارُ﴾ [النور: 37] (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3509 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے پینے کی کوئی چیز منگوائی، جب وہ لائی گئی تو انہوں نے کہا: لوگوں کو پلاؤ، انہوں نے عرض کیا: ہم روزے سے ہیں، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: لیکن میں روزے سے نہیں ہوں، پھر انہوں نے وہ مشروب پی لیا اور (تلاوت کی): ﴿يَخَافُونَ يَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِيهِ الْقُلُوبُ وَالْأَبْصَارُ﴾ [سورة النور: 37] وہ اس دن سے ڈرتے ہیں جس میں دل اور آنکھیں الٹ پلٹ جائیں گی۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3551]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،إبراهيم: هو ابن يزيد النَّخعي، وعلقمة: هو ابن قيس النخعي، وعبد الله: هو ابن مسعود. وأخرجه النسائي (6816) من طريق زائدة بن قدامة، عن الأعمش، بهذا الإسناد.» [ترقيم الرساله 3551] [ترقيم الشركة 3530] [ترقيم العلميه 3509]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
209. أَحْوَالُ أَنْوَارِ الْمُؤْمِنِينَ وَظُلُمَاتِ الْكَافِرِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
قیامت کے دن مومنوں کے نور اور کافروں کی تاریکیوں کے حالات
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3552
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الزاهد، حدثنا أحمد بن مِهْران، أخبرنا عبيد الله بن موسى، أخبرنا أبو جعفر الرَّازي، عن الرَّبيع بن أنس، عن أبي العاليَةِ، عن أُبيِّ بن كعب في قول الله ﷿: ﴿اللَّهُ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ﴾ [النور: 35] ، فقرأ الآيةَ ثم قال: ﴿وَالَّذِينَ كَفَرُوا أَعْمَالُهُمْ كَسَرَابٍ بِقِيعَةٍ يَحْسَبُهُ الظَّمْآنُ مَاءً حَتَّى إِذَا جَاءَهُ لَمْ يَجِدْهُ شَيْئًا وَوَجَدَ اللَّهَ عِنْدَهُ فَوَفَّاهُ حِسَابَهُ وَاللَّهُ سَرِيعُ الْحِسَابِ﴾ [النور: 39] ، قال: وكذلك الكافرُ يجيءُ يومَ القيامة وهو يَحسَبُ أنَّ له عند الله خيرًا، فلا يَجِدُه ويُدخِلُه الله النارَ، قال: وضَرَبَ مثلًا آخر للكافر فقال: ﴿أَوْ كَظُلُمَاتٍ فِي بَحْرٍ لُجِّيٍّ يَغْشَاهُ مَوْجٌ مِنْ فَوْقِهِ مَوْجٌ مِنْ فَوْقِهِ سَحَابٌ ظُلُمَاتٌ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍ إِذَا أَخْرَجَ يَدَهُ لَمْ يَكَدْ يَرَاهَا وَمَنْ لَمْ يَجْعَلِ اللَّهُ لَهُ نُورًا فَمَا لَهُ مِنْ نُورٍ﴾ [النور: 40] ، قال: فهو يَنقُله في خمسٍ من الظُّلَم: فكلامُه ظُلْمة، وعملُه ظُلْمة، ومَدخَلُه ظُلْمة، ومَخرَجُه ظُلْمة، ومصيرُه إلى الظُّلُمات إلى النار يومَ القيامة (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3510 - صحيح
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿اللَّهُ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ﴾ [سورة النور: 35] کے متعلق روایت ہے کہ انہوں نے یہ آیت تلاوت کی اور پھر فرمایا: ﴿وَالَّذِينَ كَفَرُوا أَعْمَالُهُمْ كَسَرَابٍ بِقِيعَةٍ يَحْسَبُهُ الظَّمْآنُ مَاءً حَتَّى إِذَا جَاءَهُ لَمْ يَجِدْهُ شَيْئًا وَوَجَدَ اللَّهَ عِنْدَهُ فَوَفَّاهُ حِسَابَهُ وَاللَّهُ سَرِيعُ الْحِسَابِ﴾ [سورة النور: 39] اور وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ان کے اعمال چٹیل میدان میں سراب کی طرح ہیں جسے پیاسا پانی سمجھتا ہے، یہاں تک کہ جب وہ اس کے پاس آتا ہے تو اسے کچھ نہیں پاتا اور وہاں اللہ کو پاتا ہے، پس وہ اسے اس کا پورا پورا حساب دے دیتا ہے اور اللہ جلد حساب لینے والا ہے، انہوں نے کہا: اسی طرح کافر قیامت کے دن آئے گا اور وہ یہ گمان کر رہا ہوگا کہ اللہ کے پاس اس کے لیے کچھ بھلائی ہے، مگر وہ اسے نہیں پائے گا اور اللہ اسے آگ میں داخل کر دے گا، پھر انہوں نے کافر کے لیے ایک اور مثال دی اور فرمایا: ﴿أَوْ كَظُلُمَاتٍ فِي بَحْرٍ لُجِّيٍّ يَغْشَاهُ مَوْجٌ مِنْ فَوْقِهِ مَوْجٌ مِنْ فَوْقِهِ سَحَابٌ ظُلُمَاتٌ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍ إِذَا أَخْرَجَ يَدَهُ لَمْ يَكَدْ يَرَاهَا وَمَنْ لَمْ يَجْعَلِ اللَّهُ لَهُ نُورًا فَمَا لَهُ مِنْ نُورٍ﴾ [سورة النور: 40] یا ان کی مثال گہرے سمندر کی تاریکیوں جیسی ہے جس پر لہر در لہر چھائی ہوئی ہو اور اس کے اوپر بادل ہوں، یہ تہ در تہ تاریکیاں ہیں، جب وہ اپنا ہاتھ نکالے تو اسے دیکھ نہ پائے، اور جسے اللہ ہی نور نہ دے اس کے لیے کوئی نور نہیں ہے، انہوں نے کہا: پس وہ پانچ قسم کے اندھیروں میں پھرتا رہتا ہے: اس کا کلام اندھیرا ہے، اس کا عمل اندھیرا ہے، اس کا داخلہ اندھیرا ہے، اس کا خروج اندھیرا ہے اور اس کا انجام قیامت کے دن جہنم کی تاریکیاں ہیں۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3552]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن إن شاء الله من أجل أبي جعفر الرازي: وهو عيسى بن أبي عيسى.» [ترقيم الرساله 3552] [ترقيم الشركة 3531] [ترقيم العلميه 3510]

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3553
أخبرني الحسن بن حَلِيم المروَزي، أخبرنا أبو الموجِّه، أخبرنا عَبْدانُ، أخبرنا عبد الله، أخبرنا صفوان بن عمرو، حدَّثني سُلَيم بن عامر قال: خَرَجْنا على جنازةٍ في باب دمشق معنا أبو أُمامة الباهلي، فلما صلَّى على الجنازة وأَخذوا في دفنها قال أبو أُمامة: يا أيها الناس، إنكم قد أصبحتُم وأمسيتُم في منزلٍ تقتسمون فيه الحسناتِ والسيِّئاتِ، وتُوشِكُون أن تَطعنَوا منه إلى المنزلِ الآخَر، وهو هذا - يشير إلى القَبْر - بيتُ الوَحْدة وبيتُ الظُّلْمة، وبيتُ الدُّود وبيت الضِّيق إلَّا ما وَسَّعَ الله، ثم تنتقلون منه إلى مواطنِ يوم القيامة، فإنكم لَفِي بعضِ تلك المواطنِ حتى يَغشَى الناسَ أمرٌ من أمرِ الله، فتَبيَضُّ وجوهٌ وتسوَدُّ وجوهٌ، ثم تنتقلون منه إلى منزلٍ آخرَ فيغشى الناسَ ظلمةٌ شديدة، ثم يُقسَمُ النُّورُ، فيُعطَى المؤمنُ نورًا ويُترك الكافرُ والمنافقُ فلا يُعطَيانِ شيئًا، وهو المَثَلُ الذي ضرب اللهُ في كتابه: ﴿أَوْ كَظُلُمَاتٍ فِي بَحْرٍ لُجِّيٍّ يَغْشَاهُ مَوْجٌ مِنْ فَوْقِهِ مَوْجٌ مِنْ فَوْقِهِ سَحَابٌ ظُلُمَاتٌ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍ إِذَا أَخْرَجَ يَدَهُ لَمْ يَكَدْ يَرَاهَا وَمَنْ لَمْ يَجْعَلِ اللَّهُ لَهُ نُورًا فَمَا لَهُ مِنْ نُورٍ﴾، ولا يستضيءُ الكافرُ والمنافقُ بنور المؤمن كما لا يستضيءُ الأعمى ببَصَرِ البصير، يقول المنافق للذين آمنوا: ﴿انْظُرُونَا نَقْتَبِسْ مِنْ نُورِكُمْ قِيلَ ارْجِعُوا وَرَاءَكُمْ فَالْتَمِسُوا﴾ [الحديد: 13] ، وهي خَدْعة [الله] (1) التي خَدَع بها المنافقَ، قال الله ﷿: ﴿يُخَادِعُونَ اللَّهَ وَهُوَ خَادِعُهُمْ﴾ [النساء: 142] ، فيَرجِعون إلى المكان الذي قُسِمَ فيه النورُ فلا يَجِدُون شيئًا، فينصَرِفون إليهم وقد ضُرِبَ بينهم ﴿بِسُورٍ لَهُ بَابٌ بَاطِنُهُ فِيهِ الرَّحْمَةُ وَظَاهِرُهُ مِنْ قِبَلِهِ الْعَذَابُ (13) يُنَادُونَهُمْ أَلَمْ نَكُنْ مَعَكُمْ﴾ نصلِّي بصلاتِكم ونَغزُو بمَغازِيكم ﴿قَالُوا بَلَى وَلَكِنَّكُمْ فَتَنْتُمْ أَنْفُسَكُمْ وَتَرَبَّصْتُمْ وَارْتَبْتُمْ وَغَرَّتْكُمُ الْأَمَانِيُّ حَتَّى جَاءَ أَمْرُ اللَّهِ وَغَرَّكُمْ بِاللَّهِ الْغَرُورُ﴾ تلا إلى قوله: ﴿وَبِئْسَ الْمَصِيرُ﴾ [الحديد: 13 - 15] (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3511 - صحيح
سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے دمشق کے ایک دروازے پر ایک جنازے کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے فرمایا: اے لوگو! تم صبح و شام ایک ایسی منزل (دنیا) میں ہو جہاں تم نیکیاں اور برائیاں تقسیم کر رہے ہو، اور قریب ہے کہ تم یہاں سے کوچ کر کے دوسری منزل کی طرف چلے جاؤ، اور وہ یہ ہے —انہوں نے قبر کی طرف اشارہ کیا— جو تنہائی کا گھر، اندھیرے کا گھر، کیڑوں کا گھر اور تنگی کا گھر ہے سوائے اس کے جسے اللہ وسعت دے دے، پھر تم وہاں سے قیامت کے مقامات کی طرف منتقل ہو جاؤ گے، تم ابھی ان میں سے بعض مقامات ہی میں ہو گے کہ لوگوں پر اللہ کے حکم سے ایک معاملہ چھا جائے گا جس سے کچھ چہرے سفید ہو جائیں گے اور کچھ چہرے سیاہ، پھر تم وہاں سے ایک اور منزل کی طرف منتقل ہو گے جہاں لوگوں پر شدید تاریکی چھا جائے گی، پھر نور تقسیم کیا جائے گا، پس مومن کو نور عطا کیا جائے گا جبکہ کافر اور منافق کو چھوڑ دیا جائے گا اور انہیں کچھ نہیں دیا جائے گا، اور یہی وہ مثال ہے جو اللہ نے اپنی کتاب میں بیان فرمائی ہے: ﴿أَوْ كَظُلُمَاتٍ فِي بَحْرٍ لُجِّيٍّ يَغْشَاهُ مَوْجٌ مِنْ فَوْقِهِ مَوْجٌ مِنْ فَوْقِهِ سَحَابٌ ظُلُمَاتٌ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍ إِذَا أَخْرَجَ يَدَهُ لَمْ يَكَدْ يَرَاهَا وَمَنْ لَمْ يَجْعَلِ اللَّهُ لَهُ نُورًا فَمَا لَهُ مِنْ نُورٍ﴾ [سورة النور: 40] یا ان کی مثال گہرے سمندر کی تاریکیوں جیسی ہے جس پر لہر در لہر چھائی ہوئی ہو اور اس کے اوپر بادل ہوں، یہ تہ در تہ تاریکیاں ہیں، جب وہ اپنا ہاتھ نکالے تو اسے دیکھ نہ پائے، اور جسے اللہ ہی نور نہ دے اس کے لیے کوئی نور نہیں ہے، اور کافر و منافق مومن کے نور سے روشنی حاصل نہیں کر سکیں گے جیسے اندھا آنکھ والے کی بصارت سے روشنی نہیں پا سکتا، منافق ایمان والوں سے کہیں گے: ﴿انْظُرُونَا نَقْتَبِسْ مِنْ نُورِكُمْ قِيلَ ارْجِعُوا وَرَاءَكُمْ فَالْتَمِسُوا نُورًا﴾ [سورة الحديد: 13] ہمارا انتظار کرو کہ ہم تمہارے نور سے کچھ روشنی حاصل کر لیں، کہا جائے گا کہ اپنے پیچھے لوٹ جاؤ اور وہاں نور تلاش کرو، اور یہی وہ تدبیر ہے جس کے ذریعے اللہ نے منافق کو دھوکے میں رکھا، اللہ عزوجل نے فرمایا: ﴿يُخَادِعُونَ اللَّهَ وَهُوَ خَادِعُهُمْ﴾ [سورة النساء: 142] وہ اللہ سے چال بازی کرتے ہیں حالانکہ اللہ ہی انہیں (ان کی چالوں کے نتیجے میں) دھوکے میں رکھنے والا ہے، پس وہ اس جگہ کی طرف لوٹیں گے جہاں نور تقسیم کیا گیا تھا مگر وہاں انہیں کچھ نہیں ملے گا، پھر وہ دوبارہ مومنوں کی طرف پلٹیں گے تو ان کے درمیان ایک دیوار حائل کر دی جائے گی: ﴿بِسُورٍ لَهُ بَابٌ بَاطِنُهُ فِيهِ الرَّحْمَةُ وَظَاهِرُهُ مِنْ قِبَلِهِ الْعَذَابُ (13) يُنَادُونَهُمْ أَلَمْ نَكُنْ مَعَكُمْ﴾ جس میں ایک دروازہ ہوگا، اس کے اندرونی حصے میں رحمت ہوگی اور اس کے بیرونی رخ پر عذاب ہوگا، وہ انہیں پکاریں گے کہ کیا ہم تمہارے ساتھ نہیں تھے؟ ہم تمہاری طرح نمازیں پڑھتے تھے اور تمہارے ساتھ غزوات میں شریک ہوتے تھے ﴿قَالُوا بَلَى وَلَكِنَّكُمْ فَتَنْتُمْ أَنْفُسَكُمْ وَتَرَبَّصْتُمْ وَارْتَبْتُمْ وَغَرَّتْكُمُ الْأَمَانِيُّ حَتَّى جَاءَ أَمْرُ اللَّهِ وَغَرَّكُمْ بِاللَّهِ الْغَرُورُ﴾ [سورة الحديد: 13-14] وہ کہیں گے کیوں نہیں! لیکن تم نے خود کو فتنے میں ڈالا، انتظار کیا، شک کیا اور آرزوؤں نے تمہیں دھوکے میں رکھا یہاں تک کہ اللہ کا حکم آ گیا اور تمہیں اللہ کے بارے میں بڑے دھوکے باز (شیطان) نے دھوکہ دیا۔ انہوں نے ﴿وَبِئْسَ الْمَصِيرُ﴾ [سورة الحديد: 15] تک تلاوت فرمائی۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3553]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،أبو الموجِّه: هو محمد بن عمرو الفزاري، وعبدان: هو عبد الله بن عثمان المروزي، وعبد الله: هو ابن المبارك.» [ترقيم الرساله 3553] [ترقيم الشركة 3532] [ترقيم العلميه 3511]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
210. شَأْنُ نُزُولِ آيَةِ (وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ) الْآيَةَ
آیت ”اللہ نے تم میں سے ایمان والوں سے وعدہ فرمایا“ کے نزول کا سبب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3554
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا أبو سعيد محمد بن شاذان، حدثني أحمد بن سعيد الدارِمي، حدثنا علي بن الحسين بن واقدٍ، حدثني أَبي، عن الرَّبيع بن أنس، عن أبي العاليَةِ، عن أُبيِّ بن كعب قال: لما قَدِمَ رسولُ الله ﷺ وأصحابُه المدينةَ وآوَتْهم الأنصارُ، رَمَتْهم العربُ عن قوسٍ واحدة، كانوا لا يَبِيتون إلَّا بالسلاح ولا يُصبِحون إلَّا فيه، فقالوا: تُرَونَ أنّا نعيشُ حتى نبيتَ آمنين مطمئنِّين لا نخافُ إِلَّا الله؟! فنزلت: ﴿وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا﴾ إلى ﴿وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ﴾ يعني بالنِّعمة ﴿فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ﴾ [النور: 55] (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3512 - صحيح
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ مدینہ تشریف لائے اور انصار نے انہیں ٹھکانہ دیا، تو تمام عربوں نے ان کے خلاف ایک ہی کمان سے تیر چلایا (یعنی متحد ہو کر دشمنی پر تل گئے)، ان کی حالت یہ تھی کہ وہ ہتھیاروں کے بغیر رات بسر نہیں کرتے تھے اور نہ ہی ہتھیاروں کے بغیر صبح کرتے تھے، تو صحابہ نے عرض کیا: کیا آپ دیکھتے ہیں کہ ہم کبھی ایسی زندگی جی سکیں گے کہ ہم امن و اطمینان کے ساتھ رات گزاریں اور ہمیں اللہ کے سوا کسی کا خوف نہ رہے؟ تب یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا﴾ [سورة النور: 55] اللہ نے تم میں سے ان لوگوں سے وعدہ فرمایا ہے جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک اعمال کیے کہ وہ انہیں زمین میں ضرور خلافت عطا فرمائے گا جیسا کہ ان سے پہلے لوگوں کو عطا فرمائی تھی، اور ان کے لیے ان کے اس دین کو ضرور مضبوطی کے ساتھ قائم کر دے گا جسے اس نے ان کے لیے پسند فرمایا ہے، اور ان کے خوف کی حالت کے بعد اسے ضرور امن سے بدل دے گا۔ اور فرمایا ﴿وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ﴾ یعنی جس نے اس نعمت کی ناشکری کی ﴿فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ﴾ تو وہی لوگ نافرمان ہیں۔ [سورة النور: 55]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3554]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن. أبو العالية: هو رفيع بن مِهران.» [ترقيم الرساله 3554] [ترقيم الشركة 3533] [ترقيم العلميه 3512]

الحكم على الحديث: إسناده حسن.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں