المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
323. تَوْضِيحُ مَعْنَى إِلَّا اللَّمَمَ
آیت ”إلا اللمم“ کے معنی کی وضاحت
حدیث نمبر: 3794
حَدَّثَنَا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا عُبيد بن شَريك البزّار، حَدَّثَنَا يحيى بن عبد الله بن بُكَير، حَدَّثَنَا الليث بن سعد، عن ابن عَجْلان، عن القعقاع بن حَكيم، عن أبي صالح، عن أبي هريرة، عن رسول الله ﷺ قال:"على كلِّ نفس من ابن آدم كُتِبَ حظٌّ من الزنى أَدرَكَ ذلك لا مَحالةَ، فالعينُ زِناها النظرُ، والرِّجلُ زناها المشيُ، والأُذنُ زناها الاستماعُ، واليدُ زناها البطشُ واللِّسانُ زناه الكلامُ، والقلبُ أن يتمنَّى، ويصدِّق ذلك أو يكذِّبُه الفَرْجُ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3752 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3752 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابنِ آدم کے ہر فرد پر زنا کا ایک حصہ لکھ دیا گیا ہے جسے وہ یقیناً پا کر رہے گا؛ چنانچہ آنکھ کا زنا دیکھنا ہے، پاؤں کا زنا چلنا ہے، کان کا زنا سننا ہے، ہاتھ کا زنا پکڑنا ہے، زبان کا زنا کلام کرنا ہے اور دل کا کام خواہش و تمنا کرنا ہے، اور شرمگاہ اس سب کی تصدیق کرتی ہے یا تکذیب۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3794]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3794]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل عبيد بن شريك» [ترقيم الرساله 3794] [ترقيم الشركة 3773] [ترقيم العلميه 3752]
الحكم على الحديث: حديث صحيح
324. الْإِسْلَامِ ثَلَاثُونَ سَهْمًا لَمْ يُتَمِّمْهَا أَحَدٌ قَبْلَ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ
اسلام کے تیس حصے ہیں جنہیں حضرت ابراہیم علیہ السلام سے پہلے کسی نے مکمل نہیں کیا
حدیث نمبر: 3795
أخبرنا محمد بن الحسن الكارِزِيّ (1) ، حَدَّثَنَا علي بن عبد العزيز، حَدَّثَنَا معلَّى بن أَسَد، حَدَّثَنَا وُهَيب، عن داود، عن عِكْرمة، عن ابن عبَّاس قال: سِهامُ الإسلام ثلاثون سَهمًا، لم يُتمِّمْها أحدٌ قبل إبراهيم، قال الله ﷿: ﴿وَإِبْرَاهِيمَ الَّذِى وَفَّى﴾ [النجم: 37] (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3753 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3753 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اسلام کے احکامات (یا سہام) کی تعداد تیس ہے، جنہیں سیدنا ابراہیم علیہ السلام سے پہلے کسی نے مکمل طور پر ادا نہیں کیا، اسی لیے اللہ عزوجل نے فرمایا: ﴿وَإِبْرَاهِيمَ الَّذِى وَفَّى﴾ ”اور ابراہیم جس نے (احکامات کو) پورا وفا کیا“ [سورة النجم: 37]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3795]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3795]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،وهيب: هو ابن خالد، وداود: هو ابن أبي هند.» [ترقيم الرساله 3795] [ترقيم الشركة 3774] [ترقيم العلميه 3753]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3796
حدثني علي بن عيسى، حَدَّثَنَا محمد بن النَّضْر الجارُودي، حَدَّثَنَا نَصْر بن علي، حَدَّثَنَا المعتمِر بن سليمان، عن أبيه، عن عطاء بن السائب، عن عِكْرمة، عن ابن عبَّاس قال: لما نزلت ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾، قال:"كلُّها في صُحُف إبراهيم"، فلما نزلت ﴿وَالنَّجْمِ إِذَا هَوَى﴾، فَبَلَغَ ﴿وَإِبْرَاهِيمَ الَّذِى وَفَّى﴾ قال:"وَفَّى"، ﴿أَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى﴾ إلى قوله: ﴿هَذَا نَذِيرٌ مِنَ النُّذْرِ الأُولَى﴾ [النجم: 37 - 56] (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3754 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3754 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب سورت ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾ نازل ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تمام مضامین ابراہیم علیہ السلام کے صحیفوں میں بھی موجود ہیں“، پھر جب سورت ﴿وَالنَّجْمِ إِذَا هَوَى﴾ نازل ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس مقام پر پہنچے ﴿وَإِبْرَاهِيمَ الَّذِى وَفَّى﴾ کہ ”ابراہیم نے پورا وفا کیا“، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس نے ان تمام باتوں کو پورا کیا جو اس آیت ﴿أَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى﴾ ”کہ کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا“ سے لے کر اس قول ﴿هَذَا نَذِيرٌ مِنَ النُّذْرِ الأُولَى﴾ ”یہ (رسول) بھی پہلے ڈرانے والوں میں سے ایک ڈرانے والے ہیں“ [سورة النجم: 37 - 56] تک ذکر ہوئی ہیں۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3796]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3796]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،وهو مكرر (2967).» [ترقيم الرساله 3796] [ترقيم الشركة 3775] [ترقيم العلميه 3754]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3797
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا محمد بن عُبيد الله بن أبي داود المُنادِي، حَدَّثَنَا عبد الملك بن عَمرو العَقَدي، حَدَّثَنَا زهير بن محمد، عن أَسِيد بن أبي أَسِيد، عن موسى بن أبي موسى الأشعري، عن أبيه، عن النَّبِيّ ﷺ قال:"إِنَّ الميت لَيُعذَّبُ ببكاءِ الحيِّ، فإذا قالت: واعَضُداه، وامانعِاه، واناصِراه، واكاسِيَاه، جُبِذَ الميتُ فقيل: أناصرُها أنت؟ أكاسيها أنت؟ أعاضدُها أنت؟". قال: فقلت: سبحان الله، قال الله ﷿: ﴿وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى﴾ [الأنعام: 164] ! فقال: وَيْحَكَ، أحدِّثُك عن أبي موسى عن رسول الله ﷺ، وتقول هذا؟ فأَيُّنا كَذَبَ؟! فوالله ما كَذَبتُ على أبي موسى، وما كَذَبَ أبو موسى على رسول الله ﷺ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. [54 - ومن تفسير سورة القمر] ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3755 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. [54 - ومن تفسير سورة القمر] ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3755 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا موسیٰ بن ابی موسیٰ اشعری اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک میت کو زندوں کے (نوحہ کرتے ہوئے) رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے، پس جب رونے والی کہتی ہے: ہائے میرے بازو! ہائے میرا سہارا! ہائے میرا مددگار! ہائے میرا لباس مہیا کرنے والا! تو میت کو جھنجھوڑا جاتا ہے اور اس سے پوچھا جاتا ہے: کیا واقعی تو اس کا مددگار تھا؟ کیا تو ہی اسے لباس مہیا کرنے والا تھا؟ کیا تو ہی اس کا بازو تھا؟“ راوی کہتے ہیں کہ میں نے (حیرت سے) کہا: سبحان اللہ! جبکہ اللہ عزوجل فرماتا ہے ﴿وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى﴾ ”اور کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا“ [سورة الأنعام: 164] تو اس پر (استاد نے) کہا: تجھ پر افسوس! میں تجھے سیدنا ابوموسیٰ کے واسطے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سنا رہا ہوں اور تو یہ (اعتراض) کر رہا ہے؟ ہم میں سے کون جھوٹا ہے؟ اللہ کی قسم نہ میں نے ابوموسیٰ پر جھوٹ باندھا ہے اور نہ ابوموسیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ بولا ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3797]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3797]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن من أجل أَسيد بن أبي أَسيد.» [ترقيم الرساله 3797] [ترقيم الشركة 3776] [ترقيم العلميه 3755]
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
325. تَفْسِيرُ سُورَةِ الْقَمَرِ - انْشِقَاقُ الْقَمَرِ مَرَّتَيْنِ بِمَكَّةَ
سورۂ القمر کی تفسیر: مکہ میں چاند کا دو مرتبہ شق ہونا
حدیث نمبر: 3798
أخبرنا أبو منصور محمد بن عُبيد الله الفارسي، حَدَّثَنَا محمد بن شاذانَ الجَوهَري، حَدَّثَنَا محمد بن سابق (2) ، حَدَّثَنَا إسرائيل، حَدَّثَنَا سِمَاك بن حَرْب، عن إبراهيم النَّخَعي، عن الأسود بن يزيد، عن عبد الله، في قوله ﷿: ﴿وَانشَقَ الْقَمَرُ﴾، قال: رأيت القمرَ وقد انشقَّ، فأَبصرتُ الجبل من بين فَرْجَيِ القمرِ (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3756 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3756 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اللہ عزوجل کے اس فرمان ﴿وَانشَقَ الْقَمَرُ﴾ ”اور چاند پھٹ گیا“ [سورة القمر: 1] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں نے چاند کو دیکھا کہ وہ شق ہو چکا تھا اور میں نے پہاڑ کو چاند کے دو ٹکڑوں کے درمیان (گھنی خلا میں) دیکھا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے ان الفاظ کے ساتھ روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3798]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے ان الفاظ کے ساتھ روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3798]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل سماك بن حرب. عبد الله: هو ابن مسعود. وأخرجه أحمد 7/ (3924) عن مؤمَّل بن إسماعيل، عن إسرائيل، بهذا الإسناد. وقال فيه: من بين فُرجتَي القمر.» [ترقيم الرساله 3798] [ترقيم الشركة 3777] [ترقيم العلميه 3756]
الحكم على الحديث: حديث صحيح
حدیث نمبر: 3799
أخبرنا أبو زكريا العَنبَري، حَدَّثَنَا محمد بن عبد السلام، حَدَّثَنَا إسحاق، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا ابن عُيينة ومحمد بن مُسلِم، عن ابن أبي نَجِيح، عن مجاهد، عن أبي مَعمَر، عن عبد الله بن مسعود قال: رأيت القمرَ منشقًا بشِقَّتين مرتين بمكة قبل مَخرَج النَّبِيِّ ﷺ، شِقّةٌ على أبي قُبَيس، وشِقّةٌ على السُّوَيداء، فقالوا: سَحَرَ القمر، فنزلت ﴿اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانشَقَّ الْقَمَرُ﴾، يقول: كما رأيتم القمرَ مُنشقًّا، فإنَّ الذي أخبرتُكم عن اقتراب الساعة حقٌّ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة، إنما اتَّفقا على حديث أبي مَعمَر عن عبد الله مختصرًا. و
هذا حديث لا نَستَغني فيه عن متابعة الصحابة بعضِهم لبعض لمُغايَظة أهل الإلحاد، فإنه أولُ آياتِ الشريعة، فنظرتُ فإذا في الباب مما لم يُخرجاه عن عبد الله بن عبّاس وعبد الله بن عَمرو وجُبَير بن مُطعِم ولم يُخرجا منها إلا حديثَ أنس (1) . فأما حديث ابن عبَّاس:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3757 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة، إنما اتَّفقا على حديث أبي مَعمَر عن عبد الله مختصرًا. و
هذا حديث لا نَستَغني فيه عن متابعة الصحابة بعضِهم لبعض لمُغايَظة أهل الإلحاد، فإنه أولُ آياتِ الشريعة، فنظرتُ فإذا في الباب مما لم يُخرجاه عن عبد الله بن عبّاس وعبد الله بن عَمرو وجُبَير بن مُطعِم ولم يُخرجا منها إلا حديثَ أنس (1) . فأما حديث ابن عبَّاس:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3757 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے مکہ مکرمہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت سے پہلے چاند کو دو مرتبہ دو ٹکڑے ہوتے دیکھا، ایک ٹکڑا جبلِ ابوقبیس پر تھا اور دوسرا سویداء پر، تو لوگوں نے کہا کہ چاند پر جادو کر دیا گیا ہے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی: ﴿اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانشَقَّ الْقَمَرُ﴾ ”قیامت قریب آگئی اور چاند پھٹ گیا“ [سورة القمر: 1] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: جس طرح تم نے چاند کو پھٹتے ہوئے دیکھا، اسی طرح قیامت کے قریب ہونے کی جو خبر میں نے تمہیں دی ہے وہ بھی برحق ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا، انہوں نے صرف ابومعمر کی عبداللہ سے مختصر روایت پر اتفاق کیا ہے۔ یہ ایسی حدیث ہے جس میں ہمیں ملحدین کی تردید کے لیے صحابہ کرام کے ایک دوسرے کی تائید و متابعت کی ضرورت ہے کیونکہ یہ شریعت کے عظیم معجزات میں سے ہے، پس میں نے تحقیق کی تو اس باب میں سیدنا عبداللہ بن عباس، عبداللہ بن عمرو اور جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہم کی مرویات پائیں جنہیں شیخین نے نقل نہیں کیا، انہوں نے صرف سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی حدیث روایت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3799]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا، انہوں نے صرف ابومعمر کی عبداللہ سے مختصر روایت پر اتفاق کیا ہے۔ یہ ایسی حدیث ہے جس میں ہمیں ملحدین کی تردید کے لیے صحابہ کرام کے ایک دوسرے کی تائید و متابعت کی ضرورت ہے کیونکہ یہ شریعت کے عظیم معجزات میں سے ہے، پس میں نے تحقیق کی تو اس باب میں سیدنا عبداللہ بن عباس، عبداللہ بن عمرو اور جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہم کی مرویات پائیں جنہیں شیخین نے نقل نہیں کیا، انہوں نے صرف سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی حدیث روایت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3799]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح من جهة سفيان بن عيينة، وأما محمد بن مسلم - وهو الطائفي - فإنه ليس بذاك القوي وكان يخطئ ويَهِم، وقد أخطأ هنا بذكر المرتين في الانشقاق، فإنَّ الظاهر أنَّ هذا اللفظ له، بدليل أنَّ كلَّ من روى الحديث عن سفيان بن عيينة لم يذكره فيه وليس هو ...» [ترقيم الرساله 3799] [ترقيم الشركة 3778] [ترقيم العلميه 3757]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح من جهة سفيان بن عيينة
326. شَوَاهِدُ حَدِيثِ انْشِقَاقِ الْقَمَرِ
چاند کے شق ہونے سے متعلق حدیث کے شواہد
حدیث نمبر: 3800
فحدَّثَناه أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، حَدَّثَنَا أبي، حَدَّثَنَا بكر بن مُضَر، حدثني جعفر بن رَبِيعة، عن عِرَاك بن مالك، عن عُبيد الله بن عبد الله، عن ابن عبَّاس قال: انشقّ القمرُ على عهدِ رسول الله ﷺ (2) . وأما حديث عبد الله بن عَمْرو:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3758 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3758 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدِ مبارک میں چاند شق ہوا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3800]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،عبيد الله بن عبد الله: هو ابن عتبة بن مسعود.» [ترقيم الرساله 3800] [ترقيم الشركة 3779] [ترقيم العلميه 3758]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3801
فحدَّثَناه أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا إبراهيم بن مرزوق البَصْري بمِصر، حَدَّثَنَا أبو داود الطَّيَالسي، حَدَّثَنَا شُعْبة، عن الأعمش، عن مجاهد، عن عبد الله بن عَمرو في قوله ﷿: ﴿اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانشَقَّ الْقَمَرُ﴾ قال: قد كان ذلك على عهد النَّبِيِّ ﷺ، انشقَّ فِلقَتَين، فِلقةً من دون الجبل، وفِلقةً خلفَ الجبل، فقال النَّبِيّ ﷺ:"اللهمَّ اشهَدْ" (3) . وأما حديث جُبير:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3759 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3759 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے اللہ عزوجل کے اس فرمان ﴿اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانشَقَّ الْقَمَرُ﴾ ”قیامت قریب آگئی اور چاند پھٹ گیا“ [سورة القمر: 1] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: یہ واقعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدِ مبارک میں پیش آیا کہ چاند دو ٹکڑوں میں بٹ گیا، ایک ٹکڑا پہاڑ کے اس طرف نظر آ رہا تھا اور دوسرا ٹکڑا پہاڑ کے پیچھے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! تو گواہ رہنا۔“
امام حاکم فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث کے یہ تمام شواہد شیخین کی شرط پر صحیح ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3801]
امام حاکم فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث کے یہ تمام شواہد شیخین کی شرط پر صحیح ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3801]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح لكن من حديث مجاهد عن عبد الله بن عُمر بن الخطاب، والذي وهمَ في تسمية صحابيه هو إبراهيم بن مرزوق، فإنه على ثقته كان يخطئ أحيانًا فيقال له فلا يرجع كما ذكر الدارقطني، وقد خالفه غير واحد عن أبي داود الطيالسي فرووه من حديث ابن عمر على الجادَّة، ...» [ترقيم الرساله 3801] [ترقيم الشركة 3780] [ترقيم العلميه 3759]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح لكن من حديث مجاهد عن عبد الله بن عُمر بن الخطاب
حدیث نمبر: 3802
فحدَّثَناه أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثَّقفي، حَدَّثَنَا أحمد بن يحيى الحُلْواني، حَدَّثَنَا سعيد بن سليمان الواسطي، حَدَّثَنَا هُشَيم، أخبرنا حُصَين، عن جُبير بن محمد بن جُبير بن مُطعِم، عن أبيه، عن جدِّه في قوله ﷿: ﴿اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانشَقَّ الْقَمَرُ﴾، قال: انشق القمرُ ونحن بمكَّة على عهدِ النَّبِيّ ﷺ (1) . قال الحاكم: هذه الشواهدُ لحديث عبد الله بن مسعود كلُّها صحيحةٌ على شرط الشيخين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3760 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3760 - صحيح
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ اپنے والد (اور وہ اپنے دادا) سے اللہ عزوجل کے اس فرمان ﴿اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانشَقَّ الْقَمَرُ﴾ [سورة القمر: 1] کے متعلق روایت کرتے ہیں کہ جب ہم مکہ میں تھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدِ مبارک میں چاند شق ہوا۔
امام حاکم فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث کے یہ تمام شواہد شیخین کی شرط پر صحیح ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3802]
امام حاکم فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث کے یہ تمام شواہد شیخین کی شرط پر صحیح ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3802]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد فيه لين لجهالة حال جبير بن محمد بن جبير، وقد اختُلف على حُصين - وهو ابن عبد الرحمن السلمي - في ذكر جبير هذا في الإسناد وإسقاطه، ورجَّح ذكره فيه الدارقطني في "العلل" (3315) والبيهقي في "دلائل النبوة" 2/ 268.» [ترقيم الرساله 3802] [ترقيم الشركة 3781] [ترقيم العلميه 3760]
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 3803
أخبرنا أبو بكر أحمد بن جعفر الزاهد ببغداد، حَدَّثَنَا عبد الله بن أحمد بن حَنبَل، حدثني أبي، حَدَّثَنَا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن قَتَادة، عن أنس قال: سأل أهلُ مكةَ رسولَ الله ﷺ آيةً، فانشَقَّ القمرُ بمكة مرَّتين، قال الله ﷿: ﴿اقتربت السَّاعَةُ وَانشَقَّ الْقَمَرُ﴾ (2) . قد اتَّفق الشيخان على حديث شُعبة عن قَتادة عن أنس: انشقَّ القمرُ على عهد رسول الله ﷺ، ولم يخرجاه بسِيَاقة حديث مَعمَر، وهو صحيح على شرطهما.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3761 - وفي الصحيحين حديث قتادة عن أنس انشق القمر على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3761 - وفي الصحيحين حديث قتادة عن أنس انشق القمر على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اہلِ مکہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نشانی (معجزے) کا مطالبہ کیا، تو مکہ میں چاند دو مرتبہ شق ہوا، اور اللہ عزوجل نے فرمایا: ﴿اقتربت السَّاعَةُ وَانشَقَّ الْقَمَرُ﴾ ”قیامت قریب آگئی اور چاند پھٹ گیا“ [سورة القمر: 1]
شیخین نے شعبہ کی قتادہ سے روایت کردہ حدیث پر اتفاق کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں چاند شق ہوا، لیکن انہوں نے اسے معمر کی حدیث کے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا، حالانکہ یہ ان دونوں کی شرط پر صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3803]
شیخین نے شعبہ کی قتادہ سے روایت کردہ حدیث پر اتفاق کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں چاند شق ہوا، لیکن انہوں نے اسے معمر کی حدیث کے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا، حالانکہ یہ ان دونوں کی شرط پر صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3803]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،وهو في "مسند أحمد" 20/ (12668).» [ترقيم الرساله 3803] [ترقيم الشركة 3782] [ترقيم العلميه 3761]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح