المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
307. شَأْنُ نُزُولِ سُورَةِ الْفَتْحِ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ
سورۂ الفتح کے نزول کا سبب (مکہ اور مدینہ کے درمیان)
حدیث نمبر: 3754
أخبرنا أبو جعفر محمد بن محمد البغدادي، حَدَّثَنَا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حَدَّثَنَا علي بن المَدِيني، حَدَّثَنَا حَرَمِيّ بن عُمارة بن أبي حَفْصة، حَدَّثَنَا شُعبة، عن قَتَادة عن أنس بن مالك في قوله ﷿: ﴿إنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِينًا﴾، قال: فتحُ خَيْبر ﴿لِيَغْفِرَ لَكَ اللهُ مَا تَقَدَّمَ مِن ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ﴾، قالوا: يا رسول الله، هَنيئًا لك، فأنزل الله ﷿: ﴿لِيُدْخِلَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِى مِن تَحتِهَا الْأَنْهَارُ﴾ [الفتح: 5] (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة، إنما أَخرج مسلم عن أبي موسى عن محمد عن شُعبة بإسناده: ﴿إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا﴾، قال: فتحُ خيبر (1) ، هذا فقط. وقد ساق الحَكَمُ بن عبد الملك هذا الحديثَ على وجهه بذِكْر حُنَين وخَيبر (2) جميعًا:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3712 - على شرط البخاري ومسلم وأخرج مسلم أوله
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة، إنما أَخرج مسلم عن أبي موسى عن محمد عن شُعبة بإسناده: ﴿إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا﴾، قال: فتحُ خيبر (1) ، هذا فقط. وقد ساق الحَكَمُ بن عبد الملك هذا الحديثَ على وجهه بذِكْر حُنَين وخَيبر (2) جميعًا:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3712 - على شرط البخاري ومسلم وأخرج مسلم أوله
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ اللہ عزوجل کے اس فرمان ﴿إنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِينًا﴾ [سورة الفتح: 1] کے متعلق فرماتے ہیں کہ اس سے مراد ”فتحِ خیبر“ ہے۔ اور جب یہ آیت ﴿لِيَغْفِرَ لَكَ اللهُ مَا تَقَدَّمَ مِن ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ﴾ ”تاکہ اللہ آپ کی اگلی اور پچھلی لغزشیں معاف فرما دے“ [سورة الفتح: 2] نازل ہوئی تو صحابہ کرام نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ کو مبارک ہو، (یہ تو آپ کے لیے انعام ہوا) تو ہمارے لیے کیا ہے؟ اس پر اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿لِيُدْخِلَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِى مِن تَحتِهَا الْأَنْهَارُ﴾ ”تاکہ وہ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ایسی جنتوں میں داخل کرے جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں“ [سورة الفتح: 5]
یہ حدیث شیخین (بخاری و مسلم) کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے ان الفاظ کے سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا، البتہ امام مسلم نے صرف اس قدر روایت کیا ہے کہ ﴿إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا﴾ سے مراد فتحِ خیبر ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3754]
یہ حدیث شیخین (بخاری و مسلم) کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے ان الفاظ کے سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا، البتہ امام مسلم نے صرف اس قدر روایت کیا ہے کہ ﴿إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا﴾ سے مراد فتحِ خیبر ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3754]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح بذكر الحديبية، وهذا إسناد قوي من أجل حرمي بن عمارة، إلّا أنه وهمَ فذكر فتح خيبر، وخالفه كل من روى هذا الحديث فذكر أنَّ هذا الخبر كان في الحديبية.» [ترقيم الرساله 3754] [ترقيم الشركة 3733] [ترقيم العلميه 3712]
الحكم على الحديث: حديث صحيح بذكر الحديبية
308. فَتْحُ خَيْبَرَ
فتحِ خیبر
حدیث نمبر: 3755
حدَّثَناه علي بن حَمْشاذ العَدْل، حَدَّثَنَا محمد بن غالب وعلي بن عبد العزيز قالا: حَدَّثَنَا الحسن بن بِشْر بن سَلْم، حَدَّثَنَا الحكم بن عبد الملك، عن قَتَادة، عن أنس بن مالك قال: لما رَجَعْنا من الحُديبيَة وأصحابُ محمد ﷺ قد خالَطُوا الحزنَ والكآبةَ حيث ذَبَحُوا هَدْيَهم في أمكنتهم، فقال رسول الله ﷺ:"أُنزِلَت عليَّ آيةٌ هي أحبُّ إليَّ من الدنيا جميعًا ثلاثًا، قلنا: ما هي يا رسول الله؟ فقرأ: ﴿إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا (1) لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ وَيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكَ وَيَهْدِيَكَ صِرَاطًا مُسْتَقِيمًا﴾ إلى آخر الآيتين، قلنا: هنيئًا لك يا رسول الله، فما لنا؟ فقرأ ﴿لِيُدْخِلَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا وَيُكَفِّرَ عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ وَكَانَ ذَلِكَ عِنْدَ اللَّهِ فَوْزًا عَظِيمًا﴾ [الفتح: 5] . فلما أتينا خيبرَ فأَبصروا خَمِيسَ رسولِ الله ﷺ يعني: جيشَه - أَدبَروا هاربين إلى الحِصْن، فقال رسول الله ﷺ:"خَرِبَت خيبرُ، إنَّا إذا نزلنا بساحة قومٍ فساءَ صباحُ المنذَرِين" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3713 - الحكم بن مالك ضعيف أخرجه استشهادا
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3713 - الحكم بن مالك ضعيف أخرجه استشهادا
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب ہم حدیبیہ سے واپس لوٹے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب غم اور اداسی کی کیفیت میں مبتلا تھے کیونکہ (بظاہر صلح کی شرائط دب کر طے ہوئی تھیں اور) انہوں نے اپنے جانور اسی جگہ ذبح کر دیے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ پر ایک ایسی آیت نازل ہوئی ہے جو مجھے پوری دنیا سے زیادہ محبوب ہے“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات تین مرتبہ دہرائی۔ ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! وہ کیا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلاوت فرمائی: ﴿إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا (1) لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ وَيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكَ وَيَهْدِيَكَ صِرَاطًا مُسْتَقِيمًا﴾ ”بے شک ہم نے آپ کو کھلی فتح عطا کر دی ہے تاکہ اللہ آپ کی اگلی اور پچھلی لغزشیں معاف فرما دے اور آپ پر اپنی نعمت تمام کر دے اور آپ کو سیدھی راہ پر چلائے“ [سورة الفتح: 1-2] آخری دو آیات تک۔ ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ کو مبارک ہو، لیکن ہمارے لیے کیا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿لِيُدْخِلَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا وَيُكَفِّرَ عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ وَكَانَ ذَلِكَ عِنْدَ اللَّهِ فَوْزًا عَظِيمًا﴾ ”تاکہ وہ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ایسی جنتوں میں داخل کرے جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے اور وہ ان سے ان کی برائیاں دور کر دے اور یہ اللہ کے نزدیک بہت بڑی کامیابی ہے“ [سورة الفتح: 5] پھر جب ہم خیبر پہنچے اور وہاں کے لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے «خَمِيسَ» یعنی لشکر کو دیکھا تو وہ پیٹھ پھیر کر اپنے قلعوں کی طرف بھاگنے لگے، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «خَرِبَت خيبرُ، إنَّا إذا نزلنا بساحة قومٍ فساءَ صباحُ المنذَرِين» ”خیبر برباد ہو گیا، یقیناً جب ہم کسی قوم کے صحن میں اترتے ہیں تو ڈرائے گئے لوگوں کی صبح بہت بری ہوتی ہے“۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3755]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف الحكم بن عبد الملك وبه أعلَّه الذهبي في "تلخيصه"، والحكم هذا قد انفرد وجمع في حديثه بين قصّتي الحديبية وخيبر في خبر واحد، وقد توبع عليهما مفرَّقتين.» [ترقيم الرساله 3755] [ترقيم الشركة 3734] [ترقيم العلميه 3713]
الحكم على الحديث: حديث صحيح
حدیث نمبر: 3756
أخبرنا أبو بكر الشافعي، حَدَّثَنَا إسحاق بن الحسن، حَدَّثَنَا أبو حُذَيفة، حَدَّثَنَا سفيان، عن سَلَمة بن كُهَيل، عن أبي الأحوَص، عن علي: ﴿هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ السَّكِينَةَ فِي قُلُوبِ الْمُؤْمِنِينَ﴾ [الفتح: 4] ، قال: السَّكينة لها وجهٌ كوجه الإنسان، ثم هي بعدُ ريحٌ هفَّافةٌ (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3714 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3714 - صحيح
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ السَّكِينَةَ فِي قُلُوبِ الْمُؤْمِنِينَ﴾ ”وہی ہے جس نے مومنوں کے دلوں میں سکینت (اطمینان) نازل فرمائی“ [سورة الفتح: 4] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”سکینہ کا ایک چہرہ ہے جو انسان کے چہرے جیسا ہے، پھر اس کے بعد وہ ایک لطیف و نرم ہوا کی مانند ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3756]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3756]
تخریج الحدیث: «خبر صحيح عن علي، وهذا إسناد حسن من أجل أبي حذيفة - وهو موسى بن مسعود النهدي - وقد انفرد بذكر خبر علي هذا في تفسير السكينة التي في هذه الآية من سورة الفتح، وقد روى غيره الخبر دون ذكر الآية، وجعله غير واحد من المفسرين كعبد الرزاق والطبري وغيرهما ...» [ترقيم الرساله 3756] [ترقيم الشركة 3735] [ترقيم العلميه 3714]
الحكم على الحديث: خبر صحيح عن علي
حدیث نمبر: 3757
أخبرنا أبو زكريا العَنبَري، حَدَّثَنَا محمد بن عبد السلام، حَدَّثَنَا إسحاق، أخبرنا بقيَّة بن الوليد، حدثني مُبشِّر بن عُبيد، عن الحجَّاج بن أَرْطَاةَ، عن عِكْرمة قال: قلت لابن عبَّاس: ما قولُه: ﴿وَتُعَزِّرُوهُ﴾ [الفتح: 19] ؟ قال: الضَّربُ بين يَدَيِ النَّبِيِّ ﷺ بالسَّيف (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3715 - قال أحمد مبشر بن عبيد كان يضع الحديث
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3715 - قال أحمد مبشر بن عبيد كان يضع الحديث
سیدنا عکرمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا کہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَتُعَزِّرُوهُ﴾ [سورة الفتح: 9] کا کیا مفہوم ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ”اس سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے (دشمنوں پر) تلوار چلانا ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3757]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3757]
تخریج الحدیث: «إسناده تالف، مبشر بن عبيد متَّهم بالوضع، وبه أعلَّه الذهبي في "تلخيصه"، لكن الخبر محفوظ عن عكرمة من قوله.» [ترقيم الرساله 3757] [ترقيم الشركة 3736] [ترقيم العلميه 3715]
الحكم على الحديث: إسناده تالف
309. شَأْنُ نُزُولِ آيَةِ وَهُوَ الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ
آیت ”وہی ہے جس نے تم سے ان کے ہاتھ روک دیے“ کے نزول کا سبب
حدیث نمبر: 3758
أخبرنا أبو العبَّاس السَّيَّاري وأبو أحمد الصَّيرَفي بمَرْو قالا: حَدَّثَنَا إبراهيم بن هلال، حَدَّثَنَا علي بن الحسن بن شَقِيق، أخبرنا الحسين بن واقد، حدثني ثابت البُنَاني، عن عبد الله بن مُغفَّل المُزَني قال: كنَّا مع رسول الله ﷺ بالحُدَيبيَة في أصل الشجرة التي قال اللهُ في القرآن وكان غصنٌ من أغصان تلك الشجرة على ظَهْر رسول الله ﷺ، فرفعتُه عن ظهرِه، وعليُّ بن أبي طالب وسهيلُ بن عمرو جالسان بين يَدَيْ رسولِ الله ﷺ، فقال رسول الله ﷺ لعليٍّ:"اكتُبْ"، فذكر من الحديث أسطُرًا مخرَّجةً في الكتابَين من ذِكْر سُهَيل بن عمرو. قال عبد الله بن مُغفَّل: فبَيْنا نحن كذلك إذ خرج علينا ثلاثون شابًّا عليهم السلاحُ فثارُوا في وجوهِنا، فدَعَا عليهم النَّبِيُّ ﷺ، فأَخَذَ اللهُ أبصارَهم، فقُمنا إليهم فأخذْناهم، فقال لهم رسول الله ﷺ:"هل جئتُم في عهدِ أَحدٍ؟" أو"هل جَعَل لكم أَحدٌ أمانًا؟" فقالوا: اللهمَّ لا، فخَلَّى سبيلَهم، وأنزل الله ﷿: ﴿وَهُوَ الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ عَنْهُم بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ بَعْدِ أَنْ أَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ وَكَانَ اللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرًا﴾ [الفتح: 24] (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، إذ لا يَبعُد سماعُ ثابتٍ من عبد الله بن مغفَّل، فقد اتَّفقا على إخراج حديثٍ لمعاوية بن قُرَّة عن عبد الله بن مغفَّل، وعلى حديث حُمَيد بن هلال عنه، وثابتٌ أَسندُ منهما جميعًا.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، إذ لا يَبعُد سماعُ ثابتٍ من عبد الله بن مغفَّل، فقد اتَّفقا على إخراج حديثٍ لمعاوية بن قُرَّة عن عبد الله بن مغفَّل، وعلى حديث حُمَيد بن هلال عنه، وثابتٌ أَسندُ منهما جميعًا.
سیدنا عبداللہ بن مغفل المزنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم صلحِ حدیبیہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس درخت کے نیچے موجود تھے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے، اس درخت کی ایک ٹہنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پشتِ مبارک پر (جھکی ہوئی) تھی، جسے میں نے آپ کی کمر مبارک سے (اوپر) اٹھائے رکھا، جبکہ سیدنا علی بن ابی طالب اور سہیل بن عمرو رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھے ہوئے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”لکھو“، پھر راوی نے سہیل بن عمرو کے ذکر پر مشتمل حدیث کی وہ سطریں بیان کیں جو صحیحین (بخاری و مسلم) میں مروی ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اسی دوران کہ جب ہم اسی حالت میں تھے، اچانک تیس مسلح نوجوان ہمارے سامنے نکل آئے اور انہوں نے ہمارے چہروں پر حملہ کر دیا (یا اچانک ٹوٹ پڑے)، پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے خلاف دعا فرمائی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی بصارت چھین لی، پھر ہم ان کی طرف بڑھے اور انہیں پکڑ لیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت فرمایا: ”کیا تم کسی کے عہد و پیمان میں آئے ہو؟“ یا یہ فرمایا: ”کیا کسی نے تمہیں امان دی ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: (اے اللہ کے رسول!) اللہ کی قسم نہیں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں چھوڑ دیا اور اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿وَهُوَ الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ عَنْهُم بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ بَعْدِ أَنْ أَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ وَكَانَ اللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرًا﴾ ”اور وہی ہے جس نے مکہ کی وادی میں ان کے ہاتھ تم سے اور تمہارے ہاتھ ان سے روک دیے، اس کے بعد کہ اس نے تمہیں ان پر غلبہ دے دیا تھا، اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اسے دیکھنے والا ہے“ [سورة الفتح: 24]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، کیونکہ ثابت بن بنانی کا سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے سماع بعید نہیں ہے، کیونکہ شیخین نے معاویہ بن قرہ اور حمید بن ہلال کی ان سے مرویات پر اتفاق کیا ہے، جبکہ ثابت ان دونوں کے مقابلے میں زیادہ مستند و عالی سند والے راوی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3758]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، کیونکہ ثابت بن بنانی کا سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے سماع بعید نہیں ہے، کیونکہ شیخین نے معاویہ بن قرہ اور حمید بن ہلال کی ان سے مرویات پر اتفاق کیا ہے، جبکہ ثابت ان دونوں کے مقابلے میں زیادہ مستند و عالی سند والے راوی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3758]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لكن من حديث ثابت عن أنس، هكذا رواه حماد بن سلمة عن ثابت كما سيأتي، وحماد في ثابت أثبت الناس، وحسين بن واقد لا بأس به إلّا أنه كان له بعض الأوهام في الرواية، فلعلَّ هذا منها، على أنَّ عبد الله بن أحمد بن حنبل صوّب رواية حسين هذه على رواية حماد.» [ترقيم الرساله 3758] [ترقيم الشركة 3737]
الحكم على الحديث: حديث صحيح لكن من حديث ثابت عن أنس
310. كَلِمَةُ التَّقْوَى: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ
کلمۂ تقویٰ: لا إله إلا الله اور اللہ اکبر
حدیث نمبر: 3759
أخبرنا علي بن محمد بن عُقْبة الشَّيباني بالكوفة، حَدَّثَنَا إبراهيم بن إسحاق القاضي، حَدَّثَنَا يعلى بن عُبيد، حَدَّثَنَا سفيان الثَّوْري، عن سَلَمة بن كُهَيل، عن عَبَاية بن رِبْعي، عن علي في قوله ﷿: ﴿وَأَلْزَمَهُمْ كَلِمَةَ التَّقْوَى﴾ [الفتح: 26] ، قال: لا إله إلَّا الله والله أكبرُ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3717 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3717 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَأَلْزَمَهُمْ كَلِمَةَ التَّقْوَى﴾ ”اور اللہ نے ان کے لیے تقویٰ کی بات کو لازم کر دیا“ [سورة الفتح: 26] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: (اس کلمہ تقویٰ سے مراد) «لا إله إلَّا الله والله أكبرُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اللہ سب سے بڑا ہے“ ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3759]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3759]
تخریج الحدیث: «إسناده محتمل للتحسين من أجل عباية بن ربعي، فقد روى عنه جمع وذكره ابن حبان في "ثقاته" 5/ 281، وقال أبو حاتم الرازي كما في "الجرح والتعديل" 7/ 29: شيخ. وقوله فيه: "والله أكبر" زيادة شاذَّة انفرد بها بعض الرواة عن سفيان الثوري دون بعض، وسفيان انفرد بها عن سلمة بن كهيل.» [ترقيم الرساله 3759] [ترقيم الشركة 3738] [ترقيم العلميه 3717]
الحكم على الحديث: إسناده محتمل للتحسين من أجل عباية بن ربعي
حدیث نمبر: 3760
أخبرنا أبو زكريا العَنبَري، حَدَّثَنَا محمد بن عبد السلام، حَدَّثَنَا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا جَرِير، عن الأعمش عن خَيثَمة، قال: قرأ رجلٌ على عبد الله سورة الفَتْح، فلما بلغ: ﴿كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَهُ فَآزَرَهُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَى عَلَى سُوقِهِ يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ﴾ [الفتح: 29] ، قال: ليَغِيظَ اللهُ بالنبي ﷺ وبأصحابِه الكفارَ، قال: ثم قال عبد الله: أنتم الزَّرعُ، وقد دَنَا حصادُه (1) . حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3718 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3718 - على شرط البخاري ومسلم
خیثمہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے سامنے سورہ فتح کی تلاوت کی، جب وہ اس آیت پر پہنچا: ﴿كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَهُ فَآزَرَهُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَى عَلَى سُوقِهِ يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ﴾ ”جیسے ایک کھیتی جس نے اپنی کونپل نکالی، پھر اسے مضبوط کیا، پھر وہ موٹی ہوئی اور اپنے تنے پر سیدھی کھڑی ہو گئی کہ کسانوں کو خوش کرنے لگی تاکہ ان کے ذریعے کافروں کو جلائے“ [سورة الفتح: 29] تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تاکہ اللہ تعالیٰ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے صحابہ کے ذریعے کفار کو غیظ و غضب میں مبتلا کر دے“، پھر فرمایا: ”تم وہ کھیتی ہو جس کی کٹائی کا وقت قریب آ چکا ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3760]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3760]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات وهو مُرسل، فإنَّ خيثمة - وهو ابن عبد الرحمن الجُعْفي - لم يسمع من عبد الله بن مسعود شيئًا. إسحاق بن إبراهيم: هو ابن راهويه، وجرير: هو ابن عبد الحميد، والأعمش: هو سليمان بن مِهران.» [ترقيم الرساله 3760] [ترقيم الشركة 3739] [ترقيم العلميه 3718]
الحكم على الحديث: رجاله ثقات وهو مُرسل
حدیث نمبر: 3761
حَدَّثَنَا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا موسى بن إسحاق القاضي، حَدَّثَنَا أبو بكر بن أبي شَيْبة، حَدَّثَنَا أبو أسامة ووَكِيع، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن عائشة: ﴿لِيَغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ﴾ [الفتح: 29] ، قالت: أصحابِ رسول الله ﷺ؛ أُمِروا بالاستغفار لهم فسَبُّوهم (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. ﷽ 49 - ومن تفسير سورة الحُجرات
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3719 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. ﷽ 49 - ومن تفسير سورة الحُجرات
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3719 - على شرط البخاري ومسلم
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿لِيَغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ﴾ ”تاکہ ان کے ذریعے کفار کو جلائے“ [سورة الفتح: 29] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: (اس سے مراد) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام ہیں؛ (بعد میں آنے والوں کو) حکم تو یہ دیا گیا تھا کہ وہ ان (صحابہ) کے لیے استغفار (مغفرت کی دعا) کریں، لیکن اس کے برعکس انہوں نے انہیں برا بھلا کہنا شروع کر دیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3761]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3761]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،أبو أسامة هو حماد بن أُسامة.» [ترقيم الرساله 3761] [ترقيم الشركة 3740] [ترقيم العلميه 3719]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
311. تَفْسِيرُ سُورَةِ الْحُجُرَاتِ
سورۂ الحجرات کی تفسیر
حدیث نمبر: 3762
حَدَّثَنَا علي بن عبد الله الحَكِيمي ببغداد، حَدَّثَنَا العبَّاس بن محمد بن حاتم الدُّورِي، حَدَّثَنَا سعيد بن عامر، عن محمد بن عَمرو، عن أبي سَلَمة، عن أبي هريرة قال: لما نَزَلَت: ﴿إِنَّ الَّذِينَ يَغُضُّونَ أَصْوَاتَهُمْ عِندَ رَسُولِ اللهِ﴾ [الحجرات: 3] ، قال أبو بكر الصِّدِّيق: والذي أَنزَلَ عليك الكتابَ يا رسول الله، لا أُكلِّمُكَ إِلَّا كأَخِي السَّرَارِ حتَّى أَلقى الله ﷿ (1) . حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3720 - على شرط مسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3720 - على شرط مسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: ﴿إِنَّ الَّذِينَ يَغُضُّونَ أَصْوَاتَهُمْ عِندَ رَسُولِ اللهِ﴾ ”بے شک جو لوگ رسول اللہ کے پاس اپنی آوازیں نیچی رکھتے ہیں“ [سورة الحجرات: 3] تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اس ذات کی قسم جس نے آپ پر کتاب نازل فرمائی ہے، میں اب آپ سے اسی طرح کلام کروں گا جیسے کوئی انتہائی رازدارانہ سرگوشی کرنے والا بات کرتا ہے، یہاں تک کہ میں اللہ عزوجل سے جا ملوں۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3762]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3762]
تخریج الحدیث: «ضعيف لاضطرابه، فإنَّ محمد بن عمرو» [ترقيم الرساله 3762] [ترقيم الشركة 3741] [ترقيم العلميه 3720]
الحكم على الحديث: ضعيف لاضطرابه
312. كل امرئ مهيأ لما خلق له
ہر انسان اسی کام کے لیے آسان کر دیا گیا ہے جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا
حدیث نمبر: 3763
أخبرني أبو النَّضْر الفقيه، حَدَّثَنَا عثمان بن سعيد الدارِمي، حَدَّثَنَا سليمان بن عبد الرحمن الدِّمشقي، حدثني سليمان بن عُتْبة، قال: سمعتُ يونس بن مَيسَرة بن حَلبَس يحدِّث عن أبي إدريس الخَوْلاني، عن أبي الدَّرداء، عن رسول الله ﷺ أنه سُئِلَ فقيل: يا رسول الله، أرأيتَ ما نعملُ، أشيءٌ قد فُرغَ منه أو شيءٌ نستأنفُه؟ قال:"كلُّ امرِئٍ مهيَّأٌ لما خُلِقَ له". ثم أقبل يونسُ بن ميسرة على سعيد بن عبد العزيز، فقال له: إنَّ تصديق هذا الحديث في كتاب الله ﷿، فقال له سعيد وأين يا ابنَ حَلبَس؟ قال: أمَا تسمعُ الله يقول في كتابه: ﴿وَاعْلَمُوا أَنَّ فِيكُمْ رَسُولَ اللَّهِ لَوْ يُطِيعُكُمْ فِي كَثِيرٍ مِنَ الْأَمْرِ لَعَنِتُّمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ حَبَّبَ إِلَيْكُمُ الْإِيمَانَ وَزَيَّنَهُ فِي قُلُوبِكُمْ وَكَرَّهَ إِلَيْكُمُ الْكُفْرَ وَالْفُسُوقَ وَالْعِصْيَانَ أُولَئِكَ هُمُ الرَّاشِدُونَ (7) فَضْلًا مِنَ اللَّهِ وَنِعْمَةً﴾ [الحجرات: 7 - 8] ، أرأيتَ يا سعيدُ لو أنَّ هؤلاء أُهمِلوا كما يقول الأخابثُ، أين كانوا يذهبون: حيث حُبِّبَ إليهم وزُيَّنَ لهم، أو حيث كُرِّهَ لهم وبُغِّضَ إليهم؟ (1)
هذا حديث صحيح الإسناد (2) ، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3721 - بل قال ابن معين في سليمان بن عتبة لا شيء
هذا حديث صحيح الإسناد (2) ، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3721 - بل قال ابن معين في سليمان بن عتبة لا شيء
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا: اے اللہ کے رسول! آپ کا ان اعمال کے بارے میں کیا خیال ہے جو ہم کرتے ہیں، کیا یہ کوئی ایسا معاملہ ہے جس کا فیصلہ (تقدیر میں) پہلے ہی کیا جا چکا ہے یا کوئی ایسی چیز ہے جسے ہم نئے سرے سے شروع کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر انسان کو اسی کام کی توفیق دی جاتی ہے جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے۔“ پھر یونس بن میسرہ رحمہ اللہ، سعید بن عبدالعزیز کی طرف متوجہ ہوئے اور ان سے کہا: اس حدیث کی تصدیق اللہ عزوجل کی کتاب میں موجود ہے، سعید نے پوچھا: اے ابن حلبس! وہ کہاں ہے؟ انہوں نے کہا: کیا تم اللہ کا یہ فرمان نہیں سنتے: ﴿وَاعْلَمُوا أَنَّ فِيكُمْ رَسُولَ اللَّهِ لَوْ يُطِيعُكُمْ فِي كَثِيرٍ مِنَ الْأَمْرِ لَعَنِتُّمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ حَبَّبَ إِلَيْكُمُ الْإِيمَانَ وَزَيَّنَهُ فِي قُلُوبِكُمْ وَكَرَّهَ إِلَيْكُمُ الْكُفْرَ وَالْفُسُوقَ وَالْعِصْيَانَ أُولَئِكَ هُمُ الرَّاشِدُونَ (7) فَضْلًا مِنَ اللَّهِ وَنِعْمَةً﴾ ”اور جان لو کہ تمہارے درمیان اللہ کے رسول موجود ہیں، اگر وہ بہت سے معاملات میں تمہاری بات مان لیں تو تم مشکل میں پڑ جاؤ گے، لیکن اللہ نے تمہارے لیے ایمان کو محبوب بنا دیا اور اسے تمہارے دلوں میں آراستہ کر دیا اور تمہارے لیے کفر، گناہ اور نافرمانی کو ناپسندیدہ بنا دیا، یہی لوگ راہِ راست پر ہیں، یہ اللہ کے فضل اور اس کی نعمت کے باعث ہے“ [سورة الحجرات: 7-8] ۔ پھر یونس نے کہا: اے سعید! تمہارا کیا خیال ہے، اگر ان لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیا جاتا جیسا کہ یہ بدطینت لوگ (منکرینِ تقدیر) کہتے ہیں، تو وہ کس طرف جاتے؟ کیا اسی طرف جہاں ایمان ان کے لیے محبوب اور مزین کیا گیا ہے، یا اس طرف جہاں کفر و نافرمانی ان کے لیے ناپسندیدہ بنا دی گئی ہے؟
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3763]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3763]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل سليمان بن عتبة، وحسّنه الحافظ ابن حجر في "الفتح" 21/ 39، والمرفوع منه صحيح بشواهده. أبو إدريس الخولاني: هو عائد الله بن عبد الله.» [ترقيم الرساله 3763] [ترقيم الشركة 3742] [ترقيم العلميه 3721]
الحكم على الحديث: إسناده حسن من أجل سليمان بن عتبة