🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
312. كل امرئ مهيأ لما خلق له
ہر انسان اسی کام کے لیے آسان کر دیا گیا ہے جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3764
حَدَّثَنَا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الأصبهاني، حَدَّثَنَا أحمد بن مَهْدي، حَدَّثَنَا بِشْر بن شعيب بن أبي حمزة، حدثني أَبي، عن الزُّهْري قال: أخبرني حمزة بن عبد الله بن عمر: أنه بَيْنا هو جالسٌ مع عبد الله بن عمر جاءَه رجل من أهل العراق فقال: يا أبا عبد الرحمن، إني والله لقد حَرَصتُ أن أتسمَّتَ بسَمْتِك، وأَقتديَ بك في أَمر فُرْقةِ الناس، وأعتزلَ الشرَّ ما استطعتُ، وإني أَقرأُ آيةً من كتاب الله مُحكَمةً قد أخَذَت بقلبي، فأخبِرني عنها: أرأيتَ قولَ الله ﷿: ﴿وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا فَإِنْ بَغَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّى تَفِيءَ إِلَى أَمْرِ اللَّهِ فَإِنْ فَاءَتْ فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَأَقْسِطُوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ﴾ [الحجرات: 9] ، أخبِرْني عن هذه الآية، فقال عبد الله بن عمر: وما لكَ ولذلكَ؟ انصرِفْ عنِّي، فقام الرجلُ فانطَلَق، حتَّى إذا توارى عنّا (1) سَوَادُه أَقبل إلينا عبدُ الله بن عمر، فقال: ما وجدتُ في نفسي في شيء من أمر هذه الآية، ما وجدتُ في نفسي أني لم أُقاتِلْ هذه الفِئةَ الباغيةَ كما أَمَرني الله (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3722 - على شرط البخاري ومسلم
حمزہ بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ اپنے والد سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھے تھے کہ عراق سے ایک شخص آیا اور عرض گزار ہوا: اے ابوعبدالرحمن! اللہ کی قسم، میں نے پوری حرص کی کہ آپ کی روش اختیار کروں، تفرقہ بازی کے معاملے میں آپ کی پیروی کروں اور جہاں تک ممکن ہو سکے شر سے کنارہ کش رہوں، لیکن میں اللہ کی کتاب میں ایک ایسی محکم آیت پڑھتا ہوں جس نے میرے دل کو (فکر میں) جکڑ رکھا ہے، پس آپ مجھے اس کے بارے میں بتائیں: اللہ عزوجل کے اس فرمان ﴿وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا فَإِنْ بَغَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّى تَفِيءَ إِلَى أَمْرِ اللَّهِ فَإِنْ فَاءَتْ فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَأَقْسِطُوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ﴾ اور اگر مومنوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان صلح کرواؤ، پھر اگر ان میں سے ایک دوسرے پر زیادتی کرے تو اس گروہ سے لڑو جو زیادتی کر رہا ہے یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے، پھر اگر وہ لوٹ آئے تو ان کے درمیان عدل کے ساتھ صلح کرا دو اور انصاف کرو، بے شک اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے [سورة الحجرات: 9] کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے؟ اس پر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: تمہارا اس معاملے سے کیا تعلق؟ میرے پاس سے چلے جاؤ، چنانچہ وہ شخص اٹھا اور چلا گیا، یہاں تک کہ جب وہ ہماری نظروں سے اوجھل ہو گیا تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: مجھے اپنے نفس میں اس آیت کے معاملے میں جتنی خلش (اور افسوس) محسوس ہوا، اتنا کسی اور چیز پر نہیں ہوا کہ میں نے اس باغی گروہ کے خلاف قتال کیوں نہ کیا جیسا کہ اللہ نے مجھے حکم دیا تھا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3764]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،وسيأتي مكررًا برقم (4648).» [ترقيم الرساله 3764] [ترقيم الشركة 3743] [ترقيم العلميه 3722]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3765
أخبرني الحسن بن حَليم المروَزي، أخبرنا أبو الموجِّه، أخبرنا عَبْدانُ، أخبرنا عبد الله، أخبرنا أبو مَودُود، عن عِكْرمة، عن ابن عبَّاس في قوله ﷿: ﴿وَلَا تَلْمِزُوا أَنفُسَكُمْ﴾ [الحجرات: 11] ، قال: لا يَطعُنْ بعضُكم على بعضٍ (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3723 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ عزوجل کے اس فرمان ﴿وَلَا تَلْمِزُوا أَنفُسَكُمْ﴾ اور ایک دوسرے کو عیب نہ لگاؤ [سورة الحجرات: 11] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: اس کا مطلب یہ ہے کہ تم میں سے کوئی ایک دوسرے پر طعنہ زنی نہ کرے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3765]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لجهالة أبي مودود، وقد سقط في رواية المصنّف بينه وبين عكرمة زيد مولى قيس، وهو مجهول أيضًا.» [ترقيم الرساله 3765] [ترقيم الشركة 3744] [ترقيم العلميه 3723]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لجهالة أبي مودود
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
313. لَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ
برے القاب سے ایک دوسرے کو پکارنے کی ممانعت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3766
حَدَّثَنَا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حَدَّثَنَا رَوْح بن عُبَادة، حَدَّثَنَا حمّاد بن سَلَمة، أخبرنا داود بن أبي هند، عن الشَّعْبي، عن أبي جَبِيرة بن الضَّحّاك في هذه الآية: ﴿وَلَا تَنَابَزُوا بِالأَلْقَابِ﴾، قال: كانت الألقابُ في الجاهلية، فدَعَا النَّبِيُّ ﷺ رجالًا منهم بلَقَبه، فقيل له: يا رسول الله، إنه يَكرهُه، فأنزل الله ﷿: ﴿وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ﴾ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3724 - على شرط مسلم
سیدنا ابو جبیرہ بن ضحاک رضی اللہ عنہ سے اس آیت ﴿وَلَا تَنَابَزُوا بِالأَلْقَابِ﴾ اور ایک دوسرے کو برے القاب سے نہ پکارو [سورة الحجرات: 11] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے کہا: دورِ جاہلیت میں القاب (کا رواج) تھا، پس جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے کچھ افراد کو ان کے لقب سے پکارا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول! وہ اسے ناپسند کرتے ہیں، تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ﴾ ۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3766]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح إن صحَّت لأبي جبيرة بن الضحاك صحبة، فإنه قد اختُلف في صحبته.» [ترقيم الرساله 3766] [ترقيم الشركة 3745] [ترقيم العلميه 3724]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح إن صحَّت لأبي جبيرة بن الضحاك صحبة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3767
حَدَّثَنَا أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا محمد بن عبد الوهاب الفَرَّاء، حَدَّثَنَا محمد بن الحسن المخزومي بالمدينة، حدثتني أمُّ سَلَمة بنت العلاء بن عبد الرحمن بن يعقوب، عن أبيها، عن جدِّها، عن أبي هريرة، أنَّ النَّبِيّ ﷺ قال:"إنَّ الله ﷿ يقول يومَ القيامة: أَمَرتُكم فضيَّعتُم ما عَهِدتُ إليكم فيه، ورفعتُ أنسابَكم، فاليومَ أرفعُ نَسَبي وأضَعُ أنسابَكم؛ أين المتَّقونَ؟ أين المتَّقونَ؟ إِنَّ أكرمَكُم عند الله أتقاكُم" (1) .
هذا حديثٌ عالٍ غريبُ الإسناد والمتن، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ من حديث طَلْحة بن عمرو عن عطاء بن أبي رَبَاح عن أبي هريرة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3725 - المخزومي ابن زبالة ساقط
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ عزوجل قیامت کے دن فرمائے گا: میں نے تمہیں حکم دیا تھا مگر تم نے میرے اس عہد کو ضائع کر دیا جو میں نے تمہارے بارے میں کیا تھا، اور تم نے اپنے حسب و نب کو بلند کیا، پس آج میں اپنے نسب (یعنی تقویٰ) کو بلند کروں گا اور تمہارے نسبوں کو پست کر دوں گا؛ کہاں ہیں پرہیزگار؟ کہاں ہیں تقویٰ والے؟ بے شک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ معزز وہی ہے جو تم میں سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔
یہ حدیث عالی اور سند و متن کے لحاظ سے غریب ہے، اور شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3767]
تخریج الحدیث: «إسناده تالف، فيه محمد بن الحسن المخزومي» [ترقيم الرساله 3767] [ترقيم الشركة 3746] [ترقيم العلميه 3725]

الحكم على الحديث: إسناده تالف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3768
حدَّثَناه أبو بكر محمد بن عبد الله بن أحمد الحَفيد، حَدَّثَنَا أحمد بن نَصْر، حَدَّثَنَا أبو غسّان النَّهْدي، حَدَّثَنَا طلحة بن عمرو، عن عطاء بن أبي رَبَاح، عن أبي هريرة أنه تلا قولَ الله ﷿: ﴿إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ﴾، فقال: إِنَّ الله يقول يوم القيامة: يا أيها الناسُ، إني جعلتُ نَسَبًا وجعلتُم نَسَبًا، فجعلتُ أكرمَكُم أتقاكُم، وأَبَيْتُم إلَّا أن تقولوا: فلانُ بنُ فلان أكرمُ من فلانِ بن فلان، وإِنِّي اليومَ أَرفَعُ نَسَبي وأضَعُ أنْسابَكم، أين المتَّقونَ؟ قال طلحةُ: فقال لي عطاء: يا طلحةُ، ما أكثرَ الأسماءَ يومَ القيامةِ على اسمي واسمك، فإذا دُعِيَ فلا يقومُ إِلَّا من عُنِيَ (2) . [50 - ومن تفسير سورة (ق) ]
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3726 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اللہ عزوجل کے اس فرمان ﴿إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ﴾ [سورة الحجرات: 13] کی تلاوت کی اور کہا کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرمائے گا: اے لوگو! میں نے ایک نسب (تقویٰ) مقرر کیا تھا اور تم نے بھی ایک نسب (خاندانی فخر) بنا لیا تھا، پس میں نے تم میں سب سے زیادہ معزز اسے قرار دیا تھا جو تم میں سب سے زیادہ پرہیزگار ہو، لیکن تم نے اس کے سوا ہر بات سے انکار کیا کہ تم کہو: فلاں بن فلاں، فلاں بن فلاں سے زیادہ معزز ہے، تو آج میں اپنے نسب (تقویٰ) کو بلند کروں گا اور تمہارے نسبوں کو پست کر دوں گا، کہاں ہیں تقویٰ والے؟ طلحہ بیان کرتے ہیں کہ مجھ سے عطاء نے کہا: اے طلحہ! قیامت کے دن میرے اور تمہارے نام جیسے ناموں والے کتنے ہی لوگ ہوں گے، لیکن جب پکارا جائے گا تو صرف وہی کھڑا ہوگا جس کی طرف اشارہ مقصود ہوگا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3768]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًّا، فيه طلحة بن عمرو المكي وهو متروك الحديث. أبو غسان النهدي: هو مالك بن إسماعيل.» [ترقيم الرساله 3768] [ترقيم الشركة 3747] [ترقيم العلميه 3726]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف جدًّا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
314. تَفْسِيرُ سُورَةِ ق — قُ جَبَلٌ مِن زُمُرُّدٍ مُحِيطٌ بِالدُّنْيَا
سورۂ ق کی تفسیر: ق ایک زمرد کا پہاڑ ہے جو دنیا کو گھیرے ہوئے ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3769
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا الحسن بن علي بن عفَّان العامرِي، حَدَّثَنَا أبو أسامة، عن صالح بن حيَّان، عن عبد الله بن بُرَيدة في قول الله ﷿: ﴿ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ﴾، قال: جبلٌ من زُمرُّدِ محيطٌ بالدنيا، عليه كَنَفا السماء (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3727 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عبداللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہ سے اللہ عزوجل کے اس فرمان ﴿ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ﴾ [سورة ق: 1] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: یہ ﴿ق﴾ زمرّد کا ایک پہاڑ ہے جس نے دنیا کا احاطہ کر رکھا ہے اور اسی پر آسمان کے کنارے ٹکے ہوئے ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3769]
تخریج الحدیث: «إسناده تالف، صالح بن حيان متَّفق على ضعفه ووهّاه الذهبي في "سير أعلام النبلاء" 7/ 373. أبو أسامة: هو حماد بن أسامة.» [ترقيم الرساله 3769] [ترقيم الشركة 3748] [ترقيم العلميه 3727]

الحكم على الحديث: إسناده تالف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3770
حدثني إبراهيم بن مُضارِب، حَدَّثَنَا الحسين بن الفضل، حَدَّثَنَا هاشم بن القاسم، حَدَّثَنَا المسعوديُّ، عن زياد بن عِلَاقة، عن عمِّه قُطْبة بن مالك قال: سمعتُ النَّبِيّ ﷺ يقرأ في صلاة الصُّبح (ق) ، فلما أتى على هذه الآية: ﴿وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ لَهَا طَلْعٌ نَضِيدٌ﴾ [ق: 10] ، قال قُطْبة: فجعلتُ أقول: ما بُسُوقُها؟ فقال:"طُولُها" (2) . قد أخرج مسلم هذا الحديثَ بغير هذه السِّياقة، ولم يَذكُر تفسيرَ البُسوقِ فيه، وهو صحيح على شرطه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3728 - على شرط مسلم
سیدنا قطبہ بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو صبح کی نماز میں سورہ ﴿ق﴾ تلاوت کرتے ہوئے سنا، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس آیت پر پہنچے: ﴿وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ لَهَا طَلْعٌ نَضِيدٌ﴾ اور کھجور کے بلند و بالا درخت جن کے خوشے تہہ در تہہ ہیں [سورة ق: 10] ، تو قطبہ کہتے ہیں کہ میں نے دریافت کیا: ان کے «بُسُوق» ہونے سے کیا مراد ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس سے مراد ان کی لمبائی (اور بلندی) ہے۔
امام مسلم نے یہ حدیث اس سیاق کے علاوہ روایت کی ہے اور اس میں لفظ «بُسُوق» کی تفسیر ذکر نہیں کی، اور یہ امام مسلم کی شرط پر صحیح۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3770]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح دون تفسير البُسوق فيه وجعله مرفوعًا، فهذا من أوهام المسعودي - وهو عبد الرحمن بن عبد الله بن عتبة - فإنه كان قد اختلط، وسماع هاشم بن القاسم منه بعد اختلاطه، وقد جعله البزار في "مسنده" بإثر الحديث (3705) من أوهام المسعودي.» [ترقيم الرساله 3770] [ترقيم الشركة 3749] [ترقيم العلميه 3728]

الحكم على الحديث: حديث صحيح دون تفسير البُسوق فيه وجعله مرفوعًا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3771
حَدَّثَنَا أبو بكر محمد بن عبد الله بن عتَّاب العَبْدي ببغداد، حَدَّثَنَا أحمد بن حيّان بن مُلاعِب، حَدَّثَنَا خالد بن مَخلَد القَطَواني، حَدَّثَنَا موسى بن يعقوب، عن عمِّه الحارث بن عبد الله بن زَمْعة، عن أبيه، عن أم سَلَمة قالت: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"مَعَدُّ بن عدنان بن أُدَد بن زَنْد بن ثرا (1) بن أعراق الثّرى"، قالت: ثم قرأَ رسول الله ﷺ:"أهلَكَ عادًا وثمودَ وأصحابَ الرَّسِّ وقرونًا بينَ ذلك كثيرًا لا يعلمهم إلَّا الله". قالت أم سلمة: وأعراق الثَّرى: إسماعيل بن إبراهيم، وزَنْدٌ: هَمَيسَع، وثرا (1) : نَبْتٌ (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3729 - صحيح
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو (اپنا نسب بیان کرتے ہوئے) یہ فرماتے ہوئے سنا: معد بن عدنان بن ادد بن زند بن ثرا بن اعراق الثری، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿وَعَادًا وَثَمُودَ وَأَصْحَابَ الرَّسِّ وَقُرُونًا بَيْنَ ذَلِكَ كَثِيرًا﴾ [سورة الفرقان: 38] (جس کا مفہوم یہ ہے کہ ان قوموں کی تفصیل اللہ ہی بہتر جانتا ہے)۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے وضاحت کی کہ «اعراق الثري» سے مراد سیدنا اسماعیل بن ابراہیم علیہما السلام ہیں، «زند» سے مراد «هَميْسَع» ہے اور «ثرا» سے مراد «نَبْت» ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3771]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف كما سلف بيانه عند المصنّف برقم (3561)» [ترقيم الرساله 3771] [ترقيم الشركة 3750] [ترقيم العلميه 3729]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3772
أخبرني أبو عبد الرحمن محمد بن عبد الله التاجرُ، حَدَّثَنَا أبو حاتم الرّازي، حَدَّثَنَا محمد بن عبد الله الأنصاري، حَدَّثَنَا هشام بن حسَّان، عن عِكْرمة، عن ابن عبَاس: أنه سُئِلَ عن هذه الآية: ﴿مَا يَلْفِظُ مِن قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ﴾ [ق: 18] ، قال: فقال ابن عَبَّاس: إنما يُكتَب الخيرُ والشرُّ، لا يُكتَب: يا غلام أَسرِجِ الفرس، ويا غلام اسقِني الماء، إنما يُكتب الخيرُ والشرُّ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3730 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان سے اس آیت ﴿مَا يَلْفِظُ مِن قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ﴾ وہ جو بات بھی منہ سے نکالتا ہے تو اس کے پاس ایک نگہبان (لکھنے کے لیے) تیار ہوتا ہے [سورة ق: 18] کے متعلق پوچھا گیا، تو انہوں نے فرمایا: صرف خیر اور شر کی باتیں لکھی جاتی ہیں، یہ (معمولی باتیں) نہیں لکھی جاتیں کہ اے لڑکے گھوڑے پر زین کس دو یا اے لڑکے مجھے پانی پلا دو، بلکہ صرف وہی بات لکھی جاتی ہے جس میں نیکی یا گناہ ہو۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3772]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،أبو حاتم الرازي: هو محمد بن إدريس.» [ترقيم الرساله 3772] [ترقيم الشركة 3751] [ترقيم العلميه 3730]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
315. دُعَاؤُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ سَكَرَاتِ الْمَوْتِ
نبی کریم ﷺ کی نزع کے وقت کی دعا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3773
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حَدَّثَنَا محمد بن نُعيم، حَدَّثَنَا قُتَيبة، حَدَّثَنَا الليث بن سعد عن يزيد بن عبد الله بن الهادِ، عن موسى بن سَرجِسَ قال: سمعت ابنَ محمد يُحدِّث وتَلَا قولَ الله ﷿: ﴿وَجَاءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ذَلِكَ مَا كُنتَ مِنْهُ تَحِيدُ﴾ [ق: 19] ، ثم قال: حدَّثتني أمُّ المؤمنين قالت: لقد رأيتُ رسولَ الله ﷺ وهو بالموت وعنده قَدحٌ فيه ماءٌ وهو يُدخِل يدَه في القَدَح، ثم يَمسَحُ وجهَه بالماء، ثم يقول:"اللهم أعِنِّي على سَكَراتِ الموت" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3731 - صحيح
سیدنا ابن محمد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اللہ عزوجل کے اس فرمان ﴿وَجَاءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ذَلِكَ مَا كُنتَ مِنْهُ تَحِيدُ﴾ اور موت کی بے ہوشی حق کے ساتھ آ پہنچی، یہی وہ چیز ہے جس سے تو بھاگتا تھا [سورة ق: 19] کی تلاوت کی، پھر کہا کہ مجھے ام المؤمنین (سیدہ عائشہ) رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وفات کے وقت دیکھا کہ آپ کے پاس پانی کا ایک پیالہ رکھا تھا، آپ اپنا ہاتھ اس پیالے میں ڈالتے پھر اس سے اپنے چہرہ مبارک کا مسح فرماتے اور یہ دعا کرتے: «اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى سَكَرَاتِ الْمَوْتِ» اے اللہ! موت کی سختیوں (اور تکلیفوں) پر میری مدد فرما۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3773]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة موسى بن سَرْجِس، وقد خالفه في لفظ الحديث عبد الرحمن بن القاسم بن محمد الثقة الفقيه كما سيأتي. محمد بن نعيم: هو ابن عبد الله أبو بكر النيسابوري كما في "تاريخ الإسلام" للذهبي 6/ 826، ولم يأثر فيه جرحًا ولا تعديلًا، وقتيبة: هو ابن ...» [ترقيم الرساله 3773] [ترقيم الشركة 3752] [ترقيم العلميه 3731]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں