المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
338. تَفْسِيرُ سُورَةِ الْمُجَادَلَةِ -نُزُولُ كَفَّارَةِ الظِّهَارِ فِي أَوْسِ بْنِ الصَّامِتِ
تفسیرِ سورۃ المجادلہ — اوس بن صامت کے واقعے میں کفارۂ ظہار کا نزول
حدیث نمبر: 3834
حدَّثَناه أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا علي بن الحسن الهِلالي، حدثنا أبو النَّعمان محمد بن الفَضْل، حدثنا حمّاد بن سَلَمة، عن هشام بن عُروة، عن أبيه، عن عائشة: أنَّ جميلةَ كانت امرأةَ أَوْس بن الصامت، وكان أوسُ امرَأً به لَمَمٌ، فإذا اشتدَّ به لممُه ظاهَرَ من امرأته فأَنزل الله فيه كفَّارةَ الظِّهار (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3792 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3792 - على شرط مسلم
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جمیلہ، اوس بن صامت کی زوجہ تھیں، اور اوس ایک ایسے شخص تھے جنہیں کچھ دماغی خلل (دورے) کی شکایت تھی، پس جب ان کی یہ کیفیت شدت اختیار کرتی تو وہ اپنی بیوی سے ظہار کر بیٹھتے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں ظہار کا کفارہ نازل فرمایا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3834]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3834]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح.» [ترقيم الرساله 3834] [ترقيم الشركة 3813] [ترقيم العلميه 3792]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
339. فَضِيلَةُ أَهْلِ الْعِلْمِ
اہلِ علم کی فضیلت
حدیث نمبر: 3835
حدثنا الحسن بن يعقوب وإبراهيم بن عِصْمة قالا: حدثنا السَّرِيّ بن خُزيمة، حدثنا عبد الله بن يزيد المقرئ، حدثنا حَيْوة بن شُريح، أخبرني ابن أبي كَريمة قال: سمعت عِكرمةَ يقول: سمعت ابنَ عباس يقول: ﴿يَرْفَعِ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ﴾ [المجادلة: 11] ، قال: يرفعُ الله الذين أُوتُوا العلمَ من المؤمنين على الذين لم يُؤتَوُا العلم درجاتٍ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3793 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3793 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿يَرْفَعِ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ﴾ [المجادلة: 11] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے کہا: ”اللہ تعالیٰ اہل ایمان میں سے صاحبِ علم حضرات کے درجات ان لوگوں کے مقابلے میں کئی گنا بلند فرماتا ہے جنہیں علم عطا نہیں کیا گیا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3835]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3835]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل ابن أبي كريمة: واسمه السَّكن، من أهل مصر، روى عنه حيوة بن شريح وغير واحد، وذكره ابن حبان في "الثقات".» [ترقيم الرساله 3835] [ترقيم الشركة 3814] [ترقيم العلميه 3793]
الحكم على الحديث: إسناده حسن من أجل ابن أبي كريمة: واسمه السَّكن
340. خُصُوصِيَّةُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِتَقْدِيمِ صَدَقَةِ النَّجْوَى
حضرت علیؓ کی خصوصیت کہ انہوں نے نجویٰ کی صدقہ پیش کیا
حدیث نمبر: 3836
أخبرني عبد الله بن محمد الصَّيدلاني، حدثنا محمد بن أيوب، أخبرنا يحيى بن المغيرة السَّعْدي، حدثنا جَرِير عن منصور، عن مجاهد، عن عبد الرحمن ابن أبي ليلى قال: قال عليُّ بن أبي طالب: إنَّ في كتاب الله لَآيةً ما عَمِلَ بها أحدٌ ولا يعملُ بها أحدٌ بعدي آية النَّجْوى: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَاجَيْتُمُ الرَّسُولَ فَقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيْ نَجْوَاكُمْ صَدَقَةً﴾ الآية [المجادلة: 12] ، قال: كان عندي دينارٌ فبِعتُه بعشرة دراهمَ فناجيتُ النبيَّ ﷺ، فكنت كلَّما ناجيتُ النبيَّ ﷺ قدَّمتُ بين يَدَيْ نَجْواي درهمًا، ثم نُسِخَت فلم يَعملْ بها أحدٌ، فنَزَلت: ﴿أَأَشْفَقْتُمْ أَنْ تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيْ نَجْوَاكُمْ صَدَقَاتٍ﴾ الآية [المجادلة: 13] (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3794 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3794 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کی کتاب میں ایک ایسی آیت ہے جس پر میرے علاوہ نہ کسی نے (پوری طرح) عمل کیا اور نہ میرے بعد کوئی عمل کرے گا، اور وہ آیتِ نجویٰ ہے: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَاجَيْتُمُ الرَّسُولَ فَقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيْ نَجْوَاكُمْ صَدَقَةً﴾ [المجادلة: 12] ، انہوں نے فرمایا: میرے پاس ایک دینار تھا جسے میں نے دس درہموں کے عوض بیچ دیا، پھر جب بھی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے علیحدگی میں گفتگو (سرگوشی) کرنا چاہتا تو اس سے پہلے ایک درہم صدقہ کر دیتا، پھر یہ حکم منسوخ کر دیا گیا اور کسی نے اس پر عمل نہ کیا، تب یہ آیت نازل ہوئی: ﴿أَأَشْفَقْتُمْ أَنْ تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيْ نَجْوَاكُمْ صَدَقَاتٍ﴾ [المجادلة: 13]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3836]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3836]
تخریج الحدیث: «خبر حسن إن شاء الله، رجال إسناده ثقات غير يحيى بن المغيرة السعدي فهو حسن الحديث، روى عنه جمع وقال أبو حاتم صدوق، وذكره ابن حبان في "الثقات"، وقد خولف في وصل هذا الخبر خالفه الإمام إسحاق بن راهويه في "مسنده" كما في "المطالب العالية" (3747) فرواه عن جرير - ...» [ترقيم الرساله 3836] [ترقيم الشركة 3815] [ترقيم العلميه 3794]
الحكم على الحديث: خبر حسن إن شاء الله
حدیث نمبر: 3837
حدثني أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، أخبرنا الحسن بن علي بن عفَّان، حدثنا عمرو بن محمد العَنقَزي، حدثنا إسرائيل، حدثنا سِماك بن حَرْب، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس قال: كان رسول الله ﷺ في ظلِّ حُجْرة وقد كاد الظلُّ أن يَتقلَّص، فقال رسول الله ﷺ:"إنه سيأتيكم إنسانٌ فيَنظُرُ إليكم بعَيْن شيطانٍ، فإذا جاءَكم فلا تُكلِّموه"، فلم يَلبَثوا أنْ طَلَعَ عليهم رجلٌ أزرقُ أعورُ، فقال: حينَ رآه دَعَاه رسولُ الله ﷺ، فقال:"عَلَامَ تَشتِمُني أنت وأصحابُك؟" فقال: ذَرْني آتِكَ بهم، فانطَلَق فدعاهم، فحَلَفوا ما قالوا وما فعلوا، حتى تَجوَّز (1) ، فأنزل الله ﷿: ﴿يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ جَمِيعًا فَيَحْلِفُونَ لَهُ كَمَا يَحْلِفُونَ لَكُمْ وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ عَلَى شَيْءٍ أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ الْكَاذِبُونَ﴾ [المجادلة: 18] (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3795 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3795 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک حجرے کے سائے میں تشریف فرما تھے اور سایہ سکڑنے کے قریب تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے پاس ابھی ایک ایسا انسان آئے گا جو تمہیں شیطان کی آنکھ سے دیکھے گا، جب وہ آئے تو تم اس سے کلام نہ کرنا،“ تھوڑی ہی دیر میں ایک نیلی آنکھوں والا بھینگا شخص نمودار ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا تو بلایا اور فرمایا: ”تم اور تمہارے ساتھی مجھے کیوں گالیاں دیتے ہو؟“ اس نے کہا: آپ مجھے چھوڑیں میں ابھی انہیں لے کر آتا ہوں، وہ گیا اور انہیں بلا لایا، انہوں نے آ کر قسمیں کھائیں کہ انہوں نے نہ ایسا کچھ کہا ہے اور نہ کیا ہے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے درگز فرمایا، تب اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿يَوْمَ يبعَثُهُمُ اللَّهُ جَمِيعًا فَيَحْلِفُونَ لَهُ كَمَا يَحْلِفُونَ لَكُمْ وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ عَلَى شَيْءٍ أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ الْكَاذِبُونَ﴾ [المجادلة: 18]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3837]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3837]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل سماك بن حرب.» [ترقيم الرساله 3837] [ترقيم الشركة 3816] [ترقيم العلميه 3795]
الحكم على الحديث: إسناده حسن
341. إِذَا تَرَكَ الصَّلَاةَ أَهْلُ قَرْيَةٍ اسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمُ الشَّيْطَانُ
جب کسی بستی کے لوگ نماز چھوڑ دیں تو شیطان ان پر غالب آ جاتا ہے
حدیث نمبر: 3838
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا محمد بن أحمد بن النَّضْر، حدثنا معاوية بن عمرو، حدثنا زائدة، أخبرنا السائب بن حُبَيش الكَلَاعي، عن مَعْدان بن أبي طلحة اليَعمَري، قال: قال لي أبو الدرداء: أين مسكنُك؟ فقلت: في قريةٍ دونَ حِمصَ، فقال أبو الدرداء: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"ما من ثلاثةٍ في قريةٍ ولا بَدْوٍ لا تقامُ فيهم الصلاةُ، إلَّا قد استَحوَذَ عليهم الشيطانُ"، فعليكَ بالجماعة، فإنما يأكل الذئبُ القاصيةَ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه حدثنا الحاكم الفاضل أبو عبد الله محمد بن عبد الله الحافظ إملاءً في ذي الحِجَّة سنة أربع مئة: [59 - ومن تفسير سورة الحشر] ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3796 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه حدثنا الحاكم الفاضل أبو عبد الله محمد بن عبد الله الحافظ إملاءً في ذي الحِجَّة سنة أربع مئة: [59 - ومن تفسير سورة الحشر] ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3796 - صحيح
معدان بن ابی طلحہ یعمری سے روایت ہے کہ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے مجھ سے پوچھا: تمہاری رہائش کہاں ہے؟ میں نے کہا: حمص کے قریب ایک بستی میں، تو سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”کسی بھی بستی یا صحرا میں رہنے والے ایسے تین افراد جن میں نماز (جماعت سے) قائم نہ کی جاتی ہو، ان پر شیطان غالب آ جاتا ہے،“ پس تم جماعت کو لازم پکڑو، کیونکہ بھیڑیا اسی بکری کو کھاتا ہے جو ریوڑ سے دور نکل جائے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3838]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3838]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن إن شاء الله من أجل السائب بن حبيش. وهو مكرر (859).» [ترقيم الرساله 3838] [ترقيم الشركة 3817] [ترقيم العلميه 3796]
الحكم على الحديث: إسناده حسن
342. تَفْسِيرُ سُورَةِ الْحَشْرِ - ذِكْرُ جَلَاءِ بَنِي النَّضِيرِ
تفسیرِ سورۃ الحشر — بنی نضیر کے جلاوطن ہونے کا ذکر
حدیث نمبر: 3839
أخبرني أبو عبد الله محمد بن علي الصَّنعاني بمكة، حدثنا علي بن المبارَك الصَّنعاني، حدثنا زيد بن المبارَك الصَّنعاني، حدثنا محمد بن ثَوْر، عن مَعمَر، عن الزُّهْري، عن عُرْوة، عن عائشة قالت: كانت غزوةُ بني النَّضِير - وهم طائفةٌ من اليهود - على رأس ستة أشهرٍ من وَقْعة بَدْر، وكان منزلُهم ونخلُهم بناحية المدينة، فحاصَرَهم رسولُ الله ﷺ حتى نَزَلوا على الجَلَاء، وعلى أنَّ لهم ما أقلَّتِ الإبل من الأمتعة والأموال إلَّا الحَلْقةَ - يعني السلاح - فأنزل الله فيهم: ﴿سَبَّحَ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ﴾ إِلى قوله: ﴿لِأَوَّلِ الْحَشْرِ مَا ظَنَنْتُمْ أَنْ يَخْرُجُوا﴾ [الحشر: 1، 2] ، فقاتلهم النبيُّ ﷺ حتى صالحهم على الجَلَاء، فأَجْلاهم إلى الشام، وكانوا من سِبْطٍ لم يُصِبْهم جلاءٌ فيما خَلَا، وكان الله قد كَتَبَ عليهم ذلك، ولولا ذلك لَعذَّبهم في الدنيا بالقتل والسَّبْي، وأما قوله: ﴿لِأَوَّلِ الْحَشْرِ﴾، فكان جلاؤُهم ذلك أولَ حشرٍ في الدنيا إلى الشام (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3797 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3797 - على شرط البخاري ومسلم
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ غزوہ بنی نضیر (جو کہ یہودیوں کا ایک گروہ تھا) واقعۂ بدر کے چھ ماہ بعد پیش آیا، ان کے مکانات اور کھجور کے باغات مدینہ کے ایک نواحی علاقے میں تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا محاصرہ کر لیا یہاں تک کہ وہ جلاوطنی پر راضی ہو گئے، اس شرط پر کہ وہ اتنا سامان اور مال لے جا سکیں گے جتنا اونٹ اٹھا سکیں، سوائے «الحَلْقة» یعنی اسلحہ کے، تو اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں یہ آیات نازل فرمائیں: ﴿سَبَّحَ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ﴾ سے لے کر ﴿لِأَوَّلِ الْحَشْرِ مَا ظَنَنْتُمْ أَنْ يَخْرُجُوا﴾ [الحشر: 1، 2] تک، پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان سے لڑے یہاں تک کہ ان سے جلاوطنی پر صلح ہو گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں شام کی طرف جلاوطن کر دیا، یہ اس قبیلے سے تعلق رکھتے تھے جنہیں پہلے کبھی جلاوطنی کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا، اور اللہ نے ان کے لیے یہی مقدر کر رکھا تھا، اگر ایسا نہ ہوتا تو اللہ انہیں دنیا میں قتل اور قید کے ذریعے عذاب دیتا، رہا اللہ کا فرمان ﴿لِأَوَّلِ الْحَشْرِ﴾ تو ان کی یہ جلاوطنی دنیا میں شام کی طرف پہلا حشر (جمع کرنا) تھا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3839]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3839]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل زيد بن المبارك ومن دونه، إلّا أنَّ ذِكرَ عائشة فيه غير محفوظ كما قال البيهقي في "دلائل النبوة" 3/ 178 بعد أن أخرجه عن أبي عبد الله الحاكم بهذا الإسناد. قلنا: وكذا عروة بن الزبير غير محفوظ فيه:» [ترقيم الرساله 3839] [ترقيم الشركة 3818] [ترقيم العلميه 3797]
الحكم على الحديث: إسناده حسن من أجل زيد بن المبارك ومن دونه
حدیث نمبر: 3840
أخبرنا أبو العبَّاس محمد بن أحمد المحبُوبي، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا منصور بن حيَّان، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عمر وابن عبَّاس: أنهما شَهدًا على رسول الله ﷺ أنه نَهَى عن الدُّبَّاءِ والنَّقِير والحَنتَم والمزفَّت؛ ثم تلا رسولُ الله ﷺ: ﴿وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا﴾ [الحشر: 7] (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه الزِّيادة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3798 - صحيح منصور خرج له مسلم
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه الزِّيادة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3798 - صحيح منصور خرج له مسلم
سیدنا عبداللہ بن عمر اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ ان دونوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق گواہی دی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کدو کے برتن (دباء)، کھجور کی لکڑی کے برتن (نقیر)، سبز مٹکے (حنتم) اور روغن قیر لگے برتن (مزفت) کے استعمال سے منع فرمایا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا﴾ [الحشر: 7]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے ان اضافی الفاظ کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3840]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے ان اضافی الفاظ کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3840]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح.» [ترقيم الرساله 3840] [ترقيم الشركة 3819] [ترقيم العلميه 3798]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
343. قِصَّةُ إِيثَارِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ
صحابۂ کرامؓ کے ایثار کا واقعہ
حدیث نمبر: 3841
حدثنا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا محمد بن المغيرة السُّكَّري بهَمَذان، حدثنا القاسم بن الحَكَم العُرَني، حدثنا عبيد الله بن الوليد، عن مُحارِب بن دِثَار، عن ابن عمر قال: أُهديَ لرجلٍ من أصحاب رسول الله ﷺ رأسُ شاةٍ فقال: إِنَّ أخي فلانًا وعيالَه أحوَجُ إلى هذا منّا، قال: فبَعَثَ إليه، فلم يَزَلْ يَبْعَثُ إليه واحدٌ إلى آخرَ حتى تداوَلَها سبعةُ أبياتٍ، حتى رَجَعَت إلى الأول، فنزلت: ﴿وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ﴾ إلى آخر الآية [الحشر: 9] (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3799 - عبيد الله بن الوليد ضعفوه
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3799 - عبيد الله بن الوليد ضعفوه
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک شخص کو ایک بکری کی سری ہدیہ میں دی گئی، تو انہوں نے کہا: بے شک میرا فلاں بھائی اور اس کے اہل خانہ ہم سے زیادہ اس کے ضرورت مند ہیں، چنانچہ انہوں نے وہ سری اس کی طرف بھیج دی، اسی طرح وہ سری ایک سے دوسرے کے پاس منتقل ہوتی رہی یہاں تک کہ سات گھروں کے چکر لگا کر وہ دوبارہ پہلے گھر ہی میں واپس آ گئی، تب یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ﴾ [الحشر: 9]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3841]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3841]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف بمَرَّة من أجل عبيد الله بن الوليد الوصّافي، فإنه متفق على ضعفه خاصة في محارب بن دثار، وبه أعلّه الذهبي في "تلخيصه".» [ترقيم الرساله 3841] [ترقيم الشركة 3820] [ترقيم العلميه 3799]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف بمَرَّة من أجل عبيد الله بن الوليد الوصّافي
344. النَّاسُ عَلَى ثَلَاثِ مَنَازِلَ
لوگ تین درجوں پر ہیں
حدیث نمبر: 3842
حدثنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا أحمد بن يونس الضَّبّي، حدثنا أبو بدر شُجاع بن الوليد، حدثنا عبد الله بن زُبَيد، عن طلحة بن مُصرِّف، عن مصعب بن سعد بن أبي وقَّاص قال (1) : الناسُ على ثلاثِ منازلَ، فمَضَت منهم اثنتان وبقيَت واحدةٌ، فأحسنُ ما أنتم كائنون عليه أن تكونوا بهذه المنزلة التي بقيَت، ثم قرأ: ﴿لِلْفُقَرَاءِ الْمُهَاجِرِينَ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ﴾ الآية، ثم قال: هؤلاء المهاجرون، وهذه منزلةٌ قد مضت، ثم قرأ: ﴿وَالَّذِينَ تَبَوَّءُوا الدَّارَ وَالْإِيمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ﴾ الآية، ثم قال: هؤلاء الأنصارُ، وهذه منزلةٌ وقد مضت، ثم قرأ: ﴿وَالَّذِينَ جَاءُوا مِنْ بَعْدِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ﴾ الآية [الحشر: 8 - 10] ، قال: فقد مضت هاتانِ المنزلتانِ وبقيَت هذه المنزلةُ، فأحسنُ ما أنتم كائنون عليه أن تكونوا بهذه المنزلة التي بقيَت (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3800 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3800 - صحيح
مصعب بن سعد بن ابی وقاص سے روایت ہے، انہوں نے کہا: لوگ تین درجات (مرتبوں) پر ہیں، جن میں سے دو گزر چکے ہیں اور اب صرف ایک باقی ہے، پس تمہارے لیے سب سے بہتر حالت یہ ہے کہ تم اسی درجے پر رہو جو باقی رہ گیا ہے، پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی: ﴿لِلْفُقَرَاءِ الْمُهَاجِرِينَ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ﴾ [الحشر: 8] اور فرمایا: یہ مہاجرین ہیں اور یہ درجہ گزر چکا، پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی: ﴿وَالَّذِينَ تَبَوَّءُوا الدَّارَ وَالْإِيمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ﴾ [الحشر: 9] اور فرمایا: یہ انصار ہیں اور یہ درجہ بھی گزر چکا، پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی: ﴿وَالَّذِينَ جَاءُوا مِنْ بَعْدِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ﴾ [الحشر: 10] اور فرمایا: پس یہ دونوں درجے گزر چکے ہیں اور اب صرف یہی درجہ باقی ہے، لہٰذا تمہارے لیے سب سے بہتر یہی ہے کہ تم اس درجے پر رہو جو باقی ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3842]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3842]
تخریج الحدیث: «إسناده محتمل للتحسين إن شاء الله من أجل عبد الله بن زبيد» [ترقيم الرساله 3842] [ترقيم الشركة 3821] [ترقيم العلميه 3800]
الحكم على الحديث: إسناده محتم
345. حِكَايَةُ إِغْوَاءِ الشَّيْطَانِ رَاهِبًا
شیطان کے ایک راہب کو گمراہ کرنے کا واقعہ
حدیث نمبر: 3843
أخبرنا أبو زكريا العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا الثَّوْري، عن أبي إسحاق، عن حُميد بن عبد الله السَّلُولي، عن علي بن أبي طالب قال: كان راهبٌ يتعبَّد في صَومعةٍ، وإِنَّ امرأةً زيَّنَت له نفسَها، فَوقَعَ عليها فحَمَلَت، فجاءه الشيطان فقال: اقتُلْها، فإنهم إن ظَهَروا عليك افتُضِحتَ، فقتلها فدَفَنها، فجاؤوه فأخذوه فذَهَبوا به، فبينما هم يَمشُون إذ جاءه الشيطانُ فقال: أنا الذي زيَّنتُ لك، فاسجُدْ لي سجدةً أُنجِّيك، فَسَجَدَ له، فأنزل الله ﷿: ﴿كَمَثَلِ الشَّيْطَانِ إِذْ قَالَ لِلْإِنْسَانِ اكْفُرْ فَلَمَّا كَفَرَ قَالَ إِنِّي بَرِيءٌ مِنْكَ﴾ الآية [الحشر: 16] (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ﷽ [60 - ومن تفسير سورة الامتحان]
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3801 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ﷽ [60 - ومن تفسير سورة الامتحان]
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3801 - صحيح
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک راہب اپنی عبادت گاہ میں عبادت کیا کرتا تھا، ایک عورت نے اسے اپنی طرف مائل کیا جس کی وجہ سے وہ اس سے بدکاری کر بیٹھا اور وہ حاملہ ہو گئی، پھر اس کے پاس شیطان آیا اور کہنے لگا: اسے قتل کر دے، کیونکہ اگر لوگوں کو اس کا علم ہو گیا تو تو رسوا ہو جائے گا، چنانچہ اس نے اسے قتل کر کے دفن کر دیا، پھر لوگ آئے اور اسے پکڑ کر لے جانے لگے، ابھی وہ جا ہی رہے تھے کہ شیطان اس کے پاس آیا اور کہنے لگا: میں ہی تھا جس نے تجھے اس گناہ پر اکسایا تھا، اب تو مجھے ایک سجدہ کر دے میں تجھے اس مصیبت سے بچا لوں گا، پس اس نے اسے سجدہ کر دیا، تب اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿كَمَثَلِ الشَّيْطَانِ إِذْ قَالَ لِلْإِنْسَانِ اكْفُرْ فَلَمَّا كَفَرَ قَالَ إِنِّي بَرِيءٌ مِنْكَ﴾ [الحشر: 16]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3843]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3843]
تخریج الحدیث: «إسناده محتمل للتحسين من أجل الراوي عن علي بن أبي طالب، وتسميته في رواية إسحاق عن عبد الرزاق بحميد بن عبد الله وهمٌ فليس له بهذا الاسم ترجمة، والمحفوظ نَهيك بن عبد الله أو عبد الله بن نهيك، وانظر "طبقات ابن سعد" 8/ 362، و "تاريخ البخاري" 5/ 213 و"الجرح ...» [ترقيم الرساله 3843] [ترقيم الشركة 3822] [ترقيم العلميه 3801]
الحكم على الحديث: إسناده محتمل للتحسين من أجل الراوي عن علي بن أبي طالب