🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
335. جَوَابٌ عَلَى تِلَاوَةِ آيَةِ أَأَنْتُمْ تَخْلُقُونَهُ وَأَمْثَالِهَا
آیت ”کیا تم اسے پیدا کرتے ہو“ اور اس جیسی آیات کی تلاوت پر دیا جانے والا جواب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3824
أخبرنا أبو زكريا العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق، أخبرنا جَرير، عن الأعمش، عن إبراهيم، عن عبد الرحمن بن يزيد قال: كنا مع سلمان، فانطَلَق إلى حاجةٍ فتوارَى عنّا، ثم خرج إلينا وليس بيننا وبينه ماءٌ، قال: فقلنا له: يا أبا عبد الله، لو توضَّأتَ فسألناك عن أشياءَ من القرآن، قال: فقال: سَلُوا، فإني لستُ أَمَسُّه، إنما يَمسُّه المطهَّرون، ثم تلا: ﴿إِنَّهُ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ (77) لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ (79)[الواقعة: 77 - 79] (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3782 - على شرط البخاري ومسلم
عبدالرحمن بن یزید رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ہم سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے، وہ اپنی ضرورت کے لیے گئے اور ہماری نظروں سے اوجھل ہو گئے، پھر جب وہ واپس آئے اور ہمارے درمیان پانی (وضو کے لیے) موجود نہ تھا، تو ہم نے ان سے عرض کیا: اے ابوعبداللہ! اگر آپ وضو کر لیتے تو ہم آپ سے قرآن کے بارے میں کچھ چیزیں پوچھتے، تو انہوں نے فرمایا: تم مجھ سے پوچھ لو، میں اسے ہاتھ نہیں لگاؤں گا، بے شک اسے تو پاک لوگ ہی چھوتے ہیں، پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی: ﴿إِنَّهُ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ (77) لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ﴾ بے شک یہ ایک معزز قرآن ہے، جسے پاک لوگوں کے سوا کوئی نہیں چھوتا [سورة الواقعة: 77-79]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3824]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،إسحاق: هو ابن راهويه، وجرير: هو ابن عبد الحميد، وإبراهيم: هو ابن يزيد النَّخَعي. وقد سلف برقم (664 م).» [ترقيم الرساله 3824] [ترقيم الشركة 3803] [ترقيم العلميه 3782]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3825
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا السَّرِي بن خُزيمة، حدثنا عبد الله بن يزيد المقرئ، حدثنا موسى بن أيوب الغافِقي، حدثني إياس بن عامر الغافقي قال: سمعت عُقْبةَ بن عامر الجُهَني يقول: لما نزلت ﴿فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيمِ (74)[الواقعة: 74] ، قال لنا رسول الله ﷺ:"اجعَلوها في رُكوعِكم"، فلما نزلت ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى (1) ﴾، قال:"اجعَلوها في سجودِكم" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. [57 - ومن تفسير سورة الحديد]
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3783 - الحديث صحيح
سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی ﴿فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيمِ﴾ پس آپ اپنے عظیم رب کے نام کی تسبیح کریں [سورة الواقعة: 74] تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فرمایا: اسے اپنے رکوع میں مقرر کر لو، پھر جب آیت ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾ اپنے سب سے بلند رب کے نام کی تسبیح کریں نازل ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے اپنے سجدوں میں مقرر کر لو۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3825]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل إياس بن عامر. وقد سلف برقم (912) و (913).» [ترقيم الرساله 3825] [ترقيم الشركة 3804] [ترقيم العلميه 3783]

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
336. تَفْسِيرُ سُورَةِ الْحَدِيدِ - خُصُوصِيَّاتُ أُمَّتِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
تفسیرِ سورۃ الحدید — قیامت کے دن نبی ﷺ کی امت کی خصوصیات
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3826
حدثنا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا إبراهيم بن الحسين بن دِيزِيل، حدثنا عبد الله بن صالح المِصْري، حدثنا الليث بن سعد، عن يزيد بن أبي حَبيب، عن عبد الرحمن بن جُبير بن نُفير، أنه سمع أبا ذرٍّ وأبا الدرداء قالا: قال رسول الله ﷺ:"أنا أولُ من يُؤذَنُ له في السجود يومَ القيامة، وأولُ من يُؤذَنُ له أن يَرفَعَ رأسَه، فأرفعُ رأسي فأنظرُ بين يَدَيَّ فأعرفُ أمَّتي من بين الأُمم، وأنظرُ عن يميني فأعرفُ أمَّتي من بين الأُمَم، وأنظرُ عن شِمالي فأعرفُ أمَّتي من بين الأُمَم" فقال رجل: يا رسول الله، وكيف تعرفُ أمَّتك من بين الأمم ما بينَ نوحٍ إلى أمَّتك؟ قال:"غُرٌّ محجَّلون من أثَرِ الوضوء، ولا يكونُ لأحدٍ من الأُمَم غيرِهم، وأعرفُهم أنهم يُؤتَون كُتبَهم بأَيمانهم، وأعرفُهم بسِيمَاهم في وجوهِهم من أثَرِ السجود، وأعرفُهم بنُورِهم الذي بينَ أيديهم وعن أيمانِهم وعن شمائلِهم" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3784 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابوذر اور سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن میں پہلا شخص ہوں گا جسے سجدہ کرنے کی اجازت دی جائے گی، اور میں پہلا شخص ہوں گا جسے سر اٹھانے کی اجازت ملے گی، پس میں اپنا سر اٹھا کر اپنے سامنے دیکھوں گا تو تمام امتوں میں سے اپنی امت کو پہچان لوں گا، میں اپنے دائیں اور بائیں جانب دیکھوں گا تو سب امتوں میں اپنی امت کو پہچان لوں گا، تو ایک شخص نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ اپنی امت کو سیدنا نوح علیہ السلام سے لے کر اپنی امت تک کی کثیر امتوں میں کیسے پہچانیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ وضو کے اثرات کی وجہ سے چمکتے چہروں اور روشن اعضاء والے ہوں گے، اور یہ صفت ان کے سوا کسی اور امت کی نہیں ہوگی، اور میں انہیں اس طرح بھی پہچان لوں گا کہ انہیں ان کے اعمال نامے دائیں ہاتھ میں دیے جائیں گے، اور میں ان کے چہروں پر سجدوں کے نشانات کی وجہ سے ان کی علامات سے پہچان لوں گا، اور میں انہیں ان کے اس نور سے بھی پہچان لوں گا جو ان کے سامنے، ان کے دائیں اور ان کے بائیں جانب (دوڑ رہا) ہوگا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3826]
تخریج الحدیث: «حديث غريب بهذا السياق، وقال المنذري في "الترغيب والترهيب": هو حديث حسن في المتابعات. ويزيد بن أبي حبيب كان يدلِّس، وهذا لم يسمعه من عبد الرحمن بن جبير، بينهما فيه سعد بن مسعود التجيبي المصري كما سيأتي، وسعد بن مسعود هذا كان رجلًا صالحًا له فقه في الدِّين، إلّا أنه ...» [ترقيم الرساله 3826] [ترقيم الشركة 3805] [ترقيم العلميه 3784]

الحكم على الحديث: حديث غريب بهذا السياق
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3827
أخبرنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا إسماعيل بن قُتيبة، حدثنا أبو بكر بن أبي شَيْبة، حدثنا عبد الله بن إدريس، عن أبيه، عن المِنهال بن عَمرو، عن قيس بن السَّكَن، عن عبد الله في قوله ﷿: ﴿يَسْعَى نُورُهُمْ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ﴾ [الحديد: 12] ، قال: يُؤتَون نورَهم على قَدْر أعمالهم، منهم مَن نورُه مثلُ الجبل، وأدناهم نورًا من نورُه على إبهامِه، يَطفَأُ مرةً ويَقِدُ أُخرى (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3785 - على شرط البخاري
قیس بن سکن رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اللہ عزوجل کے اس فرمان ﴿يَسْعَى نُورُهُمْ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ﴾ ان کا نور ان کے سامنے دوڑ رہا ہوگا [سورة الحديد: 12] کے متعلق فرمایا: انہیں ان کے اعمال کے بقدر نور دیا جائے گا، ان میں سے کسی کا نور پہاڑ جیسا (عظیم) ہوگا، اور سب سے کم نور اس شخص کا ہوگا جس کا نور اس کے انگوٹھے پر ہوگا، جو کبھی بجھ جائے گا اور کبھی روشن ہوگا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3827]
تخریج الحدیث: «إسناده قوي. إدريس: هو ابن يزيد الأَوْدي، وعبد الله: هو ابن مسعود. وهو في "مصنف ابن أبي شيبة" 13/ 299.» [ترقيم الرساله 3827] [ترقيم الشركة 3806] [ترقيم العلميه 3785]

الحكم على الحديث: إسناده قوي. إدريس: هو ابن يزيد الأَوْدي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3828
حدثنا أبو جعفر محمد بن أحمد بن سعيد الرازي، حدثنا أبو زُرْعة عبيد الله بن عبد الكريم، حدثنا أحمد بن هاشم الرَّمْلي، حدثنا ضَمْرة بن رَبيعة، عن محمد بن ميمون، عن بلال بن عبد الله مؤذِّن بيت المَقدِس قال: رأيتُ عُبادةَ بن الصامت في مسجد بيت المَقدِس مستقبلَ الشَّرقِ - أو السُّور، أنا أشكُّ - وهو يبكي، وهو يَتلُو هذه الآية: ﴿فَضُرِبَ بَيْنَهُمْ بِسُورٍ لَهُ بَابٌ بَاطِنُهُ فِيهِ الرَّحْمَةُ﴾ [الحديد: 13] ، ثم قال: هاهنا أَرانا رسولُ الله ﷺ جهنَّمَ (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3786 - بل منكر وآخره باطل
بلال بن عبداللہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کو مسجدِ بیت المقدس میں مشرق کی جانب (یا دیوار کی جانب) چہرہ کیے ہوئے دیکھا، وہ رو رہے تھے اور یہ آیت تلاوت فرما رہے تھے: ﴿فَضُرِبَ بَيْنَهُمْ بِسُورٍ لَهُ بَابٌ بَاطِنُهُ فِيهِ الرَّحْمَةُ﴾ پس ان کے درمیان ایک دیوار کھڑی کر دی جائے گی جس میں ایک دروازہ ہوگا، جس کے اندرونی حصے میں رحمت ہوگی [سورة الحديد: 13] ، پھر انہوں نے فرمایا: یہی وہ جگہ ہے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں جہنم دکھائی تھی۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3828]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لجهالة محمد بن ميمون وشيخه بلال، وقال الذهبي في "تلخيصه" متعقبًا المصنف في تصحيحه: بل منكر وآخره باطل، لأنه ما اجتمع عبادةُ برسول الله ﷺ هناك، ثم من هو ابن ميمون وشيخه، وفي نسخة أبي مسهر عن سعيد عن زياد بن أبي سَوْدة قال: رُئيَ عبادةُ على سور ...» [ترقيم الرساله 3828] [ترقيم الشركة 3807] [ترقيم العلميه 3786]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لجهالة محمد بن ميمون وشيخه بلال
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3829
حدثنا عبد الله بن محمد الصَّيدلاني، حدثنا عُبيد بن شَريك البزَّار، حدثنا سعيد بن أبي مريم، حدثنا موسى بن يعقوب، عن أبي حازم، أنَّ عامر بن عبد الله بن الزُّبير أخبره عن أبيه، أنَّ عبد الله بن مسعود أخبره قال: لم يكن بين إسلامِهم وبين أن نَزَلت هذه الآيةُ فعاتَبَهم الله إلَّا أربعُ سنين: ﴿وَلَا يَكُونُوا كَالَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلُ فَطَالَ عَلَيْهِمُ الْأَمَدُ﴾ إلى آخر الآية [الحديد: 16] (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3787 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صحابہ کرام کے قبولِ اسلام اور اس آیت کے نازل ہونے کے درمیان جس میں اللہ تعالیٰ نے انہیں تنبیہ فرمائی، صرف چار سال کا عرصہ گزرا تھا: ﴿وَلَا يَكُونُوا كَالَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلُ فَطَالَ عَلَيْهِمُ الْأَمَدُ﴾ اور وہ ان لوگوں کی طرح نہ ہو جائیں جنہیں اس سے پہلے کتاب دی گئی تھی، پھر ان پر مدت طویل ہوگئی [سورة الحديد: 16]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3829]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل موسى بن يعقوب الزَّمْعي.» [ترقيم الرساله 3829] [ترقيم الشركة 3808] [ترقيم العلميه 3787]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3830
أخبرنا الحسن بن يعقوب العَدْل، حدثنا يحيى بن أبي طالب، أخبرنا عبد الوهاب بن عطاء، أخبرنا سعيد بن أبي عَرُوبة عن قَتَادة، عن أبي حسّان الأعرج، أنَّ عائشة قالت: كان رسول الله ﷺ يقول:"كان أهلُ الجاهلية يقولون: إنَّما الطِّيَرةُ في المرأةِ والدَّابَةِ والدَّار"، ثم قرأَت ﴿مَا أَصَابَ مِنْ مُصِيبَةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي أَنْفُسِكُمْ إِلَّا فِي كِتَابٍ مِنْ قَبْلِ أَنْ نَبْرَأَهَا إِنَّ ذَلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ (22)[الحديد: 22] (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3788 - صحيح
سیدنا ابوحسان اعرج رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: دورِ جاہلیت کے لوگ کہا کرتے تھے کہ بدشگونی (صرف) عورت، جانور اور گھر میں ہوتی ہے، پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿مَا أَصَابَ مِنْ مُصِيبَةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي أَنْفُسِكُمْ إِلَّا فِي كِتَابٍ مِنْ قَبْلِ أَنْ نَبْرَأَهَا إِنَّ ذَلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ (22)﴾ زمین میں یا تمہاری اپنی جانوں میں کوئی ایسی مصیبت نہیں پہنچتی جو ہمارے اسے پیدا کرنے سے پہلے ایک کتاب میں لکھی ہوئی نہ ہو، بے شک یہ اللہ پر بہت آسان ہے [سورة الحديد: 22]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3830]
تخریج الحدیث: «إسناده، قوي وسماع عبد الوهاب بن عطاء من سعيد بن أبي عروبة قبل اختلاطه.» [ترقيم الرساله 3830] [ترقيم الشركة 3809] [ترقيم العلميه 3788]

الحكم على الحديث: إسناده
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3831
أخبرني عبد الله بن محمد بن موسى الصَّيدلاني، حدثنا إسماعيل بن قُتيبة، حدثنا أبو بكر بن أبي شَيْبة حدثنا وَكيع عن سفيان، عن سِماك، عن عِكْرمة، عن ابن عبَّاس: ﴿لِكَيْلَا تَأْسَوْا عَلَى مَا فَاتَكُمْ وَلَا تَفْرَحُوا بِمَا آتَاكُمْ﴾ [الحديد: 23] ، قال: ليس أحدٌ إِلَّا هو يَحزَنُ ويفرح، ولكنْ مَن جعل المصيبةَ صبرًا، وجعل الفرحَ (2) شكرًا (3) . صحيح الإسناد ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3789 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿لِكَيْلَا تَأْسَوْا عَلَى مَا فَاتَكُمْ وَلَا تَفْرَحُوا بِمَا آتَاكُمْ﴾ [الحديد: 23] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے کہا: کوئی بھی ایسا شخص نہیں ہے جو (فطری طور پر) غمگین یا خوش نہ ہوتا ہو، لیکن اصل فضیلت اس کی ہے جو مصیبت پر صبر کرے اور خوشی کو اللہ کا شکر ادا کرنے کا ذریعہ بنا لے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3831]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل سماك: وهو ابن حرب سفيان: هو الثوري. وهو في "مصنف ابن أبي شيبة" 13/ 373» [ترقيم الرساله 3831] [ترقيم الشركة 3810] [ترقيم العلميه 3789]

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
337. بَيَانُ الْفِرَقِ النَّاجِيَةِ مِنْ بَيْنِ سَائِرِ الْأُمَمِ
دیگر امتوں کے مقابلے میں نجات پانے والے فرقے کی وضاحت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3832
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى الشَّهيد، حدثنا عبد الرحمن بن المبارَك، حدثنا الصَّعْق بن حَزْن، عن عَقِيل بن يحيى، عن أبي إسحاق الهَمْداني، عن سُوَيد بن غَفَلة، عن ابن مسعود: ﴿وَجَعَلْنَا فِي قُلُوبِ الَّذِينَ اتَّبَعُوهُ رَأْفَةً وَرَحْمَةً وَرَهْبَانِيَّةً ابْتَدَعُوهَا مَا كَتَبْنَاهَا عَلَيْهِمْ إِلَّا ابْتِغَاءَ رِضْوَانِ اللَّهِ فَمَا رَعَوْهَا حَقَّ رِعَايَتِهَا فَآتَيْنَا الَّذِينَ آمَنُوا مِنْهُمْ أَجْرَهُمْ وَكَثِيرٌ مِنْهُمْ فَاسِقُونَ﴾ [الحديد: 27] ، قال ابن مسعود قال لي رسول الله ﷺ:"يا عبدَ الله بنَ مسعود" قلت: لبَّيكَ يا رسول الله - ثلاث مِرارٍ - قال: هل تدري أيُّ عُرَى الإيمانِ أوثقُ؟" قلت: الله ورسوله أعلمُ، قال:"أوثقُ الإيمان الوَلَايةُ في الله بالحبِّ فيه والبُغْضِ فيه، يا عبدَ الله بنَ مسعود" قلت: لبَّيكَ يا رسول الله - ثلاث مِرارٍ - قال:"هل تدري أيُّ الناس أفضلُ؟" قلت: الله ورسوله أعلمُ، قال:"فإنَّ أفضل الناس أفضلُهم عملًا إذا فَقُهوا في دِينهم، يا عبدَ الله بنَ مسعود قلت: لبَّيك وسَعدَيكَ - ثلاث مِرار - قال:"هل تدري أيُّ الناس أعلمُ؟ قلت: الله ورسوله أعلمُ، قال:"فإنَّ أعلمَ الناس أبصرُهم بالحقِّ إذا اختلف الناسُ، وإن كان مقصِّرًا في العمل، وإن كان يَزحَفُ على اسْتِه. واختَلَفَ مَن كان قبلَنا على ثنتين وسبعين فِرقةً، نَجَا منها ثلاثٌ وهَلَكَ سائرُها: فرقةٌ آزَتِ الملوكَ وقاتلَتْهم على دين الله وعيسى ابن مريم حتى قُتِلوا، وفرقةٌ لم يكن لهم طاقةٌ بمُؤَازاةِ الملوك، فأقاموا بين ظَهْرانَيْ قومِهم فَدَعَوهُم إلى دين الله ودين عيسى ابن مريم، فقتَلَتْهم الملوكُ ونَشَرَتهم بالمناشير، وفرقةٌ لم يكن لهم طاقةٌ بمُؤَازاةِ الملوك ولا بالمُقام بين ظَهْرانَيْ قومِهم، فدَعَوهم إلى الله وإلى دين عيسى ابن مريم فساحُوا في الجبال وترهَّبوا فيها، فهُم الذين قال الله: ﴿وَرَهْبَانِيَّةً ابْتَدَعُوهَا مَا كَتَبْنَاهَا عَلَيْهِمْ إِلَّا ابْتِغَاءَ رِضْوَانِ اللَّهِ فَمَا رَعَوْهَا حَقَّ رِعَايَتِهَا﴾ إلى قوله: ﴿فَاسِقُونَ﴾ [الحديد: 27] ، فالمؤمنون الذين آمنوا بي وصدَّقوني، والفاسقون الذين كَفَروا بي وجَحَدوا بي" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ﷽ [58 - ومن تفسير سورة المجادلة]
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3790 - ليس بصحيح
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَجَعَلْنَا فِي قُلُوبِ الَّذِينَ اتَّبَعُوهُ رَأْفَةً وَرَحْمَةً وَرَهْبَانِيَّةً ابتدَعُوهَا مَا كَتَبْنَاهَا عَلَيْهِمْ إِلَّا ابْتِغَاءَ رِضْوَانِ اللَّهِ فَمَا رَعَوْهَا حَقَّ رِعَايَتِهَا فَآتَيْنَا الَّذِينَ آمَنُوا مِنْهُمْ أَجْرَهُمْ وَكَثِيرٌ مِنْهُمْ فَاسِقُونَ﴾ [الحديد: 27] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے عبداللہ بن مسعود! میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں حاضر ہوں - تین مرتبہ - آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ ایمان کا کون سا کڑا سب سے زیادہ مضبوط ہے؟ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایمان کا سب سے مضبوط کڑا اللہ کی خاطر دوستی رکھنا ہے، یعنی اللہ ہی کے لیے محبت کرنا اور اسی کے لیے دشمنی رکھنا۔ اے عبداللہ بن مسعود! میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں حاضر ہوں - تین مرتبہ - آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ کون سے لوگ سب سے افضل ہیں؟ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک سب سے افضل لوگ وہ ہیں جو عمل میں سب سے بہتر ہوں جب وہ اپنے دین کی سمجھ بوجھ (فقہ) حاصل کر لیں، اے عبداللہ بن مسعود! میں نے عرض کیا: میں حاضر ہوں اور آپ کی اطاعت کے لیے ہمہ وقت تیار ہوں - تین مرتبہ - آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ لوگوں میں سب سے زیادہ صاحبِ علم کون ہے؟ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک سب سے زیادہ علم والا وہ ہے جو حق کو سب سے زیادہ پہچاننے والا ہو جب لوگ اختلاف میں پڑ جائیں، اگرچہ وہ عمل میں کچھ پیچھے ہو اور چاہے وہ (جسمانی کمزوری کی وجہ سے) اپنی سرین کے بل گھسٹ کر چلتا ہو۔ اور ہم سے پہلے جو لوگ تھے وہ بہتر (72) فرقوں میں تقسیم ہو گئے تھے، جن میں سے تین نے نجات پائی اور باقی سب ہلاک ہو گئے: ایک وہ گروہ جس نے بادشاہوں کا مقابلہ کیا اور اللہ کے دین اور عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے دین پر ان سے جنگ کی یہاں تک کہ وہ قتل کر دیے گئے، دوسرا وہ گروہ جس میں بادشاہوں کے مقابلے کی طاقت نہ تھی تو وہ اپنی قوم کے درمیان مقیم رہے اور انہیں اللہ کے دین اور عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے دین کی دعوت دی، پس بادشاہوں نے انہیں قتل کر دیا اور انہیں آریوں سے چیر ڈالا، اور تیسرا وہ گروہ جس میں نہ تو بادشاہوں کے مقابلے کی سکت تھی اور نہ اپنی قوم کے درمیان قیام کی ہمت تھی، انہوں نے لوگوں کو اللہ اور عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے دین کی طرف بلایا اور پھر پہاڑوں میں نکل گئے اور وہاں رہبانیت اختیار کر لی، پس یہ وہی لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَرَهْبَانِيَّةً ابْتَدَعُوهَا مَا كَتَبْنَاهَا عَلَيْهِمْ إِلَّا ابْتِغَاءَ رِضْوَانِ اللَّهِ فَمَا رَعَوْهَا حَقَّ رِعَايَتِهَا﴾ اللہ کے اس قول ﴿فَاسِقُونَ﴾ [الحديد: 27] تک، پس مومن وہ ہیں جو مجھ پر ایمان لائے اور میری تصدیق کی، اور فاسق وہ ہیں جنہوں نے میرا کفر کیا اور میرا انکار کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3832]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًّا من أجل عقيل، وهو عقيل الجَعْدي، ولم يقع أبوه مسمًّى إلا في رواية المصنف، وعقيل هذا قال البخاري وغيره: منكر الحديث، وبه أعلّه الذهبي في "تلخيصه"، وقال أبو حاتم فيما نقله عنه ابنه في "علل الحديث" (1977): الحديث منكر لا يشبه حديث أبي إسحاق ويشبه أن يكون ...» [ترقيم الرساله 3832] [ترقيم الشركة 3811] [ترقيم العلميه 3790]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف جدًّا من أجل عقيل
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
338. تَفْسِيرُ سُورَةِ الْمُجَادَلَةِ -نُزُولُ كَفَّارَةِ الظِّهَارِ فِي أَوْسِ بْنِ الصَّامِتِ
تفسیرِ سورۃ المجادلہ — اوس بن صامت کے واقعے میں کفارۂ ظہار کا نزول
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3833
حدثنا الشيخ أبو محمد أحمد بن عبد الله المُزَني، حدثنا محمد بن عبد الله الحَضْرمي، حدثنا محمد بن أبي عُبيدة بن مَعْن المسعودي، حدثني أَبي، عن الأعمش، عن تميم بن سَلَمة، عن عُرْوة قال: قالت عائشة: تَبارَكَ الذي وَسِعَ سمعُه كلَّ شيء، إني لأسمعُ كلامَ خولةَ بنت ثَعْلبة ويخفى عليَّ بعضُه وهي تشتكي زوجَها إلى رسول الله ﷺ، وهي تقول: يا رسول الله، أَكَلَ شبابي، ونَثَرتُ له بطني، حتى إذا كَبِرَت سِنِّي وانقَطَع له ولدي، ظاهَرَ منِّي، اللهمَّ إني أشكُو إليك، قالت عائشة: فما بَرِحَت حتى نَزَلَ جبريل ﵇ بهؤلاء الآيات: ﴿قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا﴾ [المجادلة:1] . قال: وزوجُها أَوسُ بن الصامت (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد رُوِيَ عن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة ﵂ مختصرًا:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3791 - صحيح
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: بڑی بابرکت ہے وہ ذات جس کی سماعت ہر چیز پر محیط ہے، میں خولہ بنت ثعلبہ کی باتیں سن رہی تھی جبکہ وہ اپنے شوہر کی شکایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کر رہی تھیں اور ان کی بعض باتیں مجھ پر مخفی رہ جاتی تھیں، وہ کہہ رہی تھیں: اے اللہ کے رسول! اس (شوہر) نے میری جوانی کھا لی، اور میں نے اس کے لیے اپنا پیٹ بچھا دیا (یعنی کثرت سے اولاد ہوئی)، یہاں تک کہ جب میری عمر زیادہ ہو گئی اور میری اولاد کا سلسلہ منقطع ہو گیا تو اس نے مجھ سے ظہار کر لیا، اے اللہ! میں تیرے ہی حضور اپنی فریاد اور شکایت پیش کرتی ہوں، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ وہ ابھی اپنی جگہ سے ہٹی بھی نہ تھیں کہ جبریل علیہ السلام یہ آیات لے کر نازل ہوئے: ﴿قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا﴾ یقیناً اللہ نے اس عورت کی بات سن لی جو اپنے شوہر کے بارے میں آپ سے تکرار کر رہی تھی۔ [المجادلة: 1] اور ان کے شوہر اوس بن صامت رضی اللہ عنہ تھے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ نیز یہ ہشام بن عروہ کی اپنے والد سے اور ان کی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی روایت میں مختصراً بھی بیان ہوا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3833]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح محمد بن عبد الله الحضرمي: هو الحافظ المعروف بمطيَّن.» [ترقيم الرساله 3833] [ترقيم الشركة 3812] [ترقيم العلميه 3791]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں