🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
330. تَوْضِيحُ مَعْنَى آيَةِ كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ
آیت ”کل یوم ہو فی شأن“ کے معنی کی وضاحت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3814
أخبرني عبد الله بن محمد بن موسى العَدْل، حدثنا إسماعيل بن قُتيبة، حدثنا أبو بكر بن أبي شَيْبة حدثنا عبد الصمد بن عبد الوارث، عن حماد بن حماد بن سَلَمة، عن أبي عِمران الجَوْني عن أبي بكر بن أبي موسى، عن أبيه: ﴿وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ﴾ [الرحمن: 46] ، قال: جنَّتَانِ من ذهب للسابِقين، وجنَّتان من فضّةٍ للتابعِين (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3772 - على شرط مسلم
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ﴾ اور جو اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرا اس کے لیے دو جنتیں ہیں [سورة الرحمن: 46] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: سابقین (نیکیوں میں سبقت لے جانے والوں) کے لیے سونے کی دو جنتیں ہوں گی اور تابعین (ان کے پیچھے آنے والوں) کے لیے چاندی کی دو جنتیں ہوں گی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3814]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،وهو في "مصنف ابن أبي شيبة" 13/ 383.» [ترقيم الرساله 3814] [ترقيم الشركة 3793] [ترقيم العلميه 3772]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3815
أخبرنا أبو العبَّاس المحبُوبي، حدثنا أحمد بن سيّار، حدثنا محمد بن كَثير، حدثنا سفيان، عن أبي إسحاق، عن هُبيرة بن يَرِيم (2) ، عن عبد الله بن مسعود في قوله ﷿: ﴿بَطَائِنُهَا مِنْ إِسْتَبْرَقٍ﴾ [الرحمن: 54] قال: أُخبِرتُم بالبطائن، فكيف بالظَّهائر (3) . صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3773 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اللہ عزوجل کے اس فرمان ﴿بَطَائِنُهَا مِنْ إِسْتَبْرَقٍ﴾ جن کے استر دبیز ریشم کے ہیں [سورة الرحمن: 54] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: تمہیں ان کے استر (اندرونی تہوں) کے بارے میں بتایا گیا ہے، تو ذرا سوچو ان کے اوپر والے حصے (ظاہری ریشم) کا عالم کیا ہوگا!۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3815]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل هبيرة بن يريم. سفيان: هو الثوري وأبو إسحاق: هو عمرو بن عبد الله السَّبيعي.» [ترقيم الرساله 3815] [ترقيم الشركة 3794] [ترقيم العلميه 3773]

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
331. وَصْفُ الْحُورِ وَنُورُ لُؤْلُؤِهَا
حوروں کی صفات اور ان کے موتیوں جیسے نور کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3816
حدثني أبو علي الحسن (4) بن محمد المصري الحافظ بمكة، حدثنا علَّان بن أحمد بن سليمان، حدثنا عمرو بن سوَّاد السَّرْحي، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني عمرو بن الحارث، عن أبي السَّمْح، عن أبي الهيثم، عن أبي سعيد الخُدْري، عن النبي ﷺ في قوله ﷿: ﴿كَأَنَّهُنَّ الْيَاقُوتُ وَالْمَرْجَانُ﴾ [الرحمن: 58] ، قال:"يَنظُرُ إلى وجهه في خدِّها أصفى من المِرآة، وإن أدنى لُؤلؤةٍ عليها لَتُضيءُ ما بين المشرق والمغربِ، وإنها يكون عليها سبعون ثوبًا يَنفُذُها بصرُه حتى يَرى مخَّ ساقِها من وراءِ ذلك" (1) . صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3774 - دراج صاحب عجائب
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان مروی ہے جو اللہ تعالیٰ کے اس قول ﴿كَأَنَّهُنَّ الْيَاقُوتُ وَالْمَرْجَانُ﴾ گویا کہ وہ یاقوت اور مرجان ہیں [سورة الرحمن: 58] کے متعلق ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (جنتی شخص) اپنے چہرے کو حور کے رخسار میں آئینے سے بھی زیادہ صاف دیکھے گا، اور اس حور پر موجود ادنیٰ سا موتی بھی مشرق و مغرب کے درمیان کے حصے کو روشن کر دے گا، اور اس حور پر ستر لباس ہوں گے جن کے پار سے وہ (جنتی شخص) اس کی پنڈلی کا گودا بھی دیکھ سکے گا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3816]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف رواية أبي السَّمح درّاج عن أبي الهيثم سليمان بن عمرو العُتْواري، وبه أعلّه الذهبي في "تلخيصه" وقال: درّاج صاحب عجائب. علّان: لقب واسمه عليٌّ.» [ترقيم الرساله 3816] [ترقيم الشركة 3795] [ترقيم العلميه 3774]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لضعف رواية أبي السَّمح درّاج عن أبي الهيثم سليمان بن عمرو العُتْواري
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3817
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ إملاءً، حدثنا حامد بن أبي حامدٍ المقرئ، حدثنا إسحاق بن سليمان الرازي، حدثنا عَنبَسة بن سعيد وعمرو بن أبي قيس، عن المِنهال بن عمرو، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس في قول الله ﷿: ﴿وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ﴾ [هود: 7] ، قال: كان عرشُ الله على الماء ثم اتَّخذ لنفسه جنَّةً ثم اتَّخذ دونَها أخرى، ثم أطبقهما بلؤلؤةٍ واحدة، فقال عزَّ مِن قائل: ﴿وَمِنْ دُونِهِمَا جَنَّتَانِ﴾ [الرحمن: 62] ، قال: وهي التي لا تَعلمُ الخلائقُ ما فيها، قال: وهي التي قال الله ﷿: ﴿فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ﴾ [السجدة: 17] يأتيهم منها كلَّ يوم تُحفةُ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3775 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ عزوجل کے اس فرمان ﴿وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ﴾ اور اس کا عرش پانی پر تھا [سورة هود: 7] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: اللہ کا عرش پانی پر تھا، پھر اس نے اپنے لیے ایک جنت بنائی اور اس سے نیچے ایک اور جنت بنائی، پھر ان دونوں کو ایک ہی موتی سے ڈھانپ دیا، چنانچہ اللہ عزوجل نے فرمایا: ﴿وَمِنْ دُونِهِمَا جَنَّتَانِ﴾ اور ان دو کے علاوہ دو جنتیں اور بھی ہیں [سورة الرحمن: 62] ، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ یہ وہ جنت ہے جس میں موجود نعمتوں کا مخلوق کو علم نہیں ہے، اور یہی وہ جنت ہے جس کے متعلق اللہ عزوجل نے فرمایا: ﴿فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ﴾ پس کوئی نفس نہیں جانتا کہ ان کے لیے ان کے اعمال کے بدلے میں آنکھوں کی کیا ٹھنڈک چھپا کر رکھی گئی ہے [سورة السجدة: 17] اور ہر روز ان کے پاس وہاں سے کوئی نیا تحفہ آتا رہے گا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3817]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لانقطاعه بين عنبسة وعمرو وبين المنهال، وقد تبينّت الواسطة بينهم في رواية غير حامد المقرئ، والواسطة هو محمد بن عبد الرحمن بن أبي ليلى، وهو سيئ الحفظ.» [ترقيم الرساله 3817] [ترقيم الشركة 3796] [ترقيم العلميه 3775]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لانقطاعه بين عنبسة وعمرو وبين المنهال
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
332. أَوْصَافُ نَخِيلِ الْجَنَّةِ
جنت کے کھجور کے درختوں کی صفات
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3818
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الأصبهاني الزاهد، حدثنا أَسِيد بن عاصم الأصبهاني، حدثنا الحسين بن حفص، حدثنا سفيان، عن حمَّاد، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس، قوله ﷿ ﴿فِيهِمَا فَاكِهَةٌ وَنَخْلٌ وَرُمَّانٌ (68)[الرحمن: 68] ، قال: نخلُ الجنة جذوعُها من زُمُّردٍ أخضر، وكَرانيفُها ذهبٌ أحمر، وسَعَفُها كِسوةٌ لأهل الجنة، منها مُقطَّعاتهم وحُلَلهم، وثمرُها أمثالُ القِلَال أو الدِّلاء، أشدُّ بياضًا من اللَّبن وأَحلى من العسل، وأَلْيَن من الزُّبْد، وليس لها عَجَمٌ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. [56 - ومن تفسير سورة الواقعة]
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3776 - على شرط مسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿فِيهِمَا فَاكِهَةٌ وَنَخْلٌ وَرُمَّانٌ﴾ ان دونوں میں میوے اور کھجوریں اور انار ہیں [سورة الرحمن: 68] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جنت کی کھجوروں کے تنے سبز زمرّد کے ہیں، ان کی ٹہنیاں سرخ سونے کی ہیں، ان کے پتے اہل جنت کا لباس ہیں جن سے ان کے سلے ہوئے کپڑے اور جوڑے تیار ہوں گے، ان کا پھل بڑے مٹکوں یا ڈول جتنا بڑا ہے، وہ دودھ سے زیادہ سفید، شہد سے زیادہ میٹھا اور مکھن سے زیادہ نرم ہے، اور اس میں کوئی گٹھلی نہیں ہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3818]
تخریج الحدیث: «إسناده قوي. سفيان: هو الثوري، وحماد: هو ابن أبي سليمان.» [ترقيم الرساله 3818] [ترقيم الشركة 3797] [ترقيم العلميه 3776]

الحكم على الحديث: إسناده قوي. سفيان: هو الثوري
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
333. تَفْسِيرُ سُورَةِ الْوَاقِعَةِ
سورۂ الواقعہ کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3819
أخبرني أبو بكر محمد بن جعفر المزكِّي، حدثنا محمد بن إبراهيم العَبْدي، حدثنا مسدَّد بن مُسرهَد، حدثنا أبو الأحوص، عن أبي إسحاق الهَمْداني، عن عِكْرمة، عن ابن عبَّاس قال: قال أبو بكر الصِّدِّيق: سألت النبيَّ ﷺ: ما شيْبَك؟ قال:"سورة هودٍ والواقعةِ والمرسَلاتِ وعمَّ يتساءَلون وإذا الشمس كُوِّرت" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3777 - على شرط البخاري
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: (اے اللہ کے رسول!) کس چیز نے آپ کو بوڑھا کر دیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سورہ ہود، الواقعہ، المرسلات، عمّ یتساءلون اور إذا الشمس کُوّرت نے مجھے بوڑھا کر دیا۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3819]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، ورجاله ثقات، وقد سلف الكلام عليه برقم (3353). أبو الأحوص: هو سلّام بن سليم.» [ترقيم الرساله 3819] [ترقيم الشركة 3798] [ترقيم العلميه 3777]

الحكم على الحديث: حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
334. سِدْرُ الْجَنَّةِ مَخْضُودٌ يُجْعَلُ مَكَانَ كُلِّ شَوْكَةٍ ثَمَرَةٌ
جنت کا بیری کا درخت (سدر) بغیر کانٹوں کے ہوگا، ہر کانٹے کی جگہ پھل ہوگا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3820
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا الرَّبيع بن سليمان، حدثنا بِشْر بن بَكْر، حدثنا صفوان بن عمرو، عن سُلَيم بن عامر، عن أبي أُمامة قال: كان أصحاب رسول الله ﷺ يقولون: إنَّ الله ينفعُنا بالأعراب ومسائِلهم، أقبَلَ أعرابيٌّ يومًا فقال: يا رسول الله، ذَكَرَ اللهُ (2) في القرآن شجرةً مؤذيةً، وما كنت أُرى أنَّ في الجنة شجرةً تُؤْذي صاحبَها، فقال رسول الله ﷺ:"وما هي؟" قال: السِّدْر، فإنَّ لها شوكًا، فقال رسول الله ﷺ: ﴿فِي سِدْرٍ مَخْضُودٍ﴾ [الواقعة: 28] ، يَخضِدُ اللهُ شوكَه، فيجعل مكانَ شوكِه ثمرةً، فإنها تُنبِتُ ثمرًا يُفتَق الثمرُ معها عن اثنين وسبعين لونًا [من] طعامٍ، ما منها لونٌ يُشبِه الآخر" (1) . صحيح الإسناد ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3778 - صحيح
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ فرمایا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اعرابیوں اور ان کے سوالات کے ذریعے نفع پہنچاتا ہے، ایک دن ایک اعرابی آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! اللہ نے قرآن میں ایک تکلیف دہ درخت کا ذکر کیا ہے، میرا تو خیال نہیں تھا کہ جنت میں کوئی ایسا درخت ہوگا جو اپنے صاحب کو اذیت دے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ کون سا درخت ہے؟ اس نے کہا: بیری کا درخت، کیونکہ اس میں کانٹے ہوتے ہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اللہ نے فرمایا ہے) ﴿فِي سِدْرٍ مَخْضُودٍ﴾ وہ بغیر کانٹوں والی بیریوں میں ہوں گے [سورة الواقعة: 28] اللہ تعالیٰ اس کے کانٹے ختم کر دے گا اور کانٹوں کی جگہ پھل لگا دے گا، وہ ایسی بیری ہوگی کہ اس کا ایک پھل بہتر (72) قسم کے کھانوں میں تقسیم ہوگا جن میں سے کوئی رنگ دوسرے کے مشابہ نہیں ہوگا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3820]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد رجاله ثقات، إلا أنه معلٌّ بالإرسال، فقد رواه عبد الله بن المبارك - وهو إمام ثقة حجة - في كتابه "الزهد" برواية نعيم بن حماد (263) عن صفوان بن عمرو عن سليم بن عامر قال: كان أصحاب النبي ﷺ … وذكره بإسقاط أبي أمامة صُدي بن عجلان الباهلي.» [ترقيم الرساله 3820] [ترقيم الشركة 3799] [ترقيم العلميه 3778]

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3821
أخبرنا أبو بكر محمد بن عبد الله الشافعي، حدثنا إسحاق بن الحسن، حدثنا أبو حُذَيفة، حدثنا سفيان، عن سليمان الشَّيباني، عن يزيد بن الأصمِّ، عن ابن عبَّاس: ﴿وَظِلٍّ مِنْ يَحْمُومٍ﴾ [الواقعة: 43] ، قال: من دُخانٍ أسودَ (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3779 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ عزوجل کے اس فرمان ﴿وَظِلٍّ مِنْ يَحْمُومٍ﴾ اور سیاہ دھوئیں کے سائے میں [سورة الواقعة: 43] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: (اس سے مراد) کالے رنگ کا دھواں ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3821]
تخریج الحدیث: «خبر صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل أبي حذيفة» [ترقيم الرساله 3821] [ترقيم الشركة 3800] [ترقيم العلميه 3779]

الحكم على الحديث: خبر صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
335. جَوَابٌ عَلَى تِلَاوَةِ آيَةِ أَأَنْتُمْ تَخْلُقُونَهُ وَأَمْثَالِهَا
آیت ”کیا تم اسے پیدا کرتے ہو“ اور اس جیسی آیات کی تلاوت پر دیا جانے والا جواب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3822
حدثنا الأستاذ الإمام أبو الوليد ﵁، حدثنا أبو عبد الله البُوشَنْجي، حدثنا أحمد بن حنبل، حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن بِشْر بن جابانَ (1) الصَّنعاني، عن حُجْر بن قيس المَدَري قال: بِتُّ. عند أمير المؤمنين علي بن أبي طالب، فسمعتُه وهو يصلِّي من الليل يقرأُ فمرَّ بهذه الآية: ﴿أَفَرَأَيْتُمْ مَا تُمْنُونَ (58) أَأَنْتُمْ تَخْلُقُونَهُ أَمْ نَحْنُ الْخَالِقُونَ (59) ﴾، قال: بل أنت يا ربِّ، ثلاثًا، ثم قرأ: ﴿أَفَرَأَيْتُمْ مَا تَحْرُثُونَ (63) أَأَنْتُمْ تَزْرَعُونَهُ أَمْ نَحْنُ الزَّارِعُونَ (64) ﴾، قال: بل أنت يا ربِّ، بل أنت يا ربِّ، ثم قرأ: ﴿أَفَرَأَيْتُمُ الْمَاءَ الَّذِي تَشْرَبُونَ (68) أَأَنْتُمْ أَنْزَلْتُمُوهُ مِنَ الْمُزْنِ أَمْ نَحْنُ الْمُنْزِلُونَ (69) ﴾ قال: بل أنت يا ربِّ ثلاثًا، ثم قرأ: ﴿أَفَرَأَيْتُمُ النَّارَ الَّتِي تُورُونَ (71) أَأَنْتُمْ أَنْشَأْتُمْ شَجَرَتَهَا أَمْ نَحْنُ الْمُنْشِئُونَ (72) ﴾ قال: بل أنت يا ربِّ، ثلاثًا (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3780 - صحيح
حجر بن قیس مدری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ایک رات امیر المؤمنین سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ہاں گزاری، تو میں نے انہیں سنا کہ وہ رات کی نماز (تہجد) پڑھتے ہوئے جب اس آیت ﴿أَفَرَأَيْتُمْ مَا تُمْنُونَ (58) أَأَنْتُمْ تَخْلُقُونَهُ أَمْ نَحْنُ الْخَالِقُونَ﴾ بھلا تم نے دیکھا وہ مادہ جو تم ٹپکاتے ہو؟ کیا تم اسے پیدا کرتے ہو یا ہم پیدا کرنے والے ہیں؟ سے گزرے تو انہوں نے تین مرتبہ کہا: بلکہ اے میرے رب! تو ہی (پیدا کرنے والا ہے)، پھر انہوں نے ﴿أَفَرَأَيْتُمْ مَا تَحْرُثُونَ (63) أَأَنْتُمْ تَزْرَعُونَهُ أَمْ نَحْنُ الزَّارِعُونَ﴾ بھلا تم نے دیکھا جو تم بوتے ہو؟ کیا تم اسے اگاتے ہو یا ہم اگانے والے ہیں؟ تلاوت کی تو دو مرتبہ کہا: بلکہ اے میرے رب! تو ہی (اگانے والا ہے)، پھر جب انہوں نے تلاوت کی ﴿أَفَرَأَيْتُمُ الْمَاءَ الَّذِي تَشْرَبُونَ (68) أَأَنْتُمْ أَنْزَلْتُمُوهُ مِنَ الْمُزْنِ أَمْ نَحْنُ الْمُنْزِلُونَ﴾ بھلا تم نے دیکھا وہ پانی جو تم پیتے ہو؟ کیا تم نے اسے بادلوں سے نازل کیا ہے یا ہم نازل کرنے والے ہیں؟ تو تین مرتبہ کہا: بلکہ اے میرے رب! تو ہی (نازل کرنے والا ہے)، پھر جب ﴿أَفَرَأَيْتُمُ النَّارَ الَّتِي تُورُونَ (71) أَأَنْتُمْ أَنْشَأْتُمْ شَجَرَتَهَا أَمْ نَحْنُ الْمُنْشِئُونَ﴾ بھلا تم نے دیکھی وہ آگ جو تم سلگاتے ہو؟ کیا تم نے اس کے درخت کو پیدا کیا ہے یا ہم پیدا کرنے والے ہیں؟ پڑھی تو تین مرتبہ کہا: بلکہ اے میرے رب! تو ہی (پیدا کرنے والا ہے)۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3822]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لجهالة ابن جابان.» [ترقيم الرساله 3822] [ترقيم الشركة 3801] [ترقيم العلميه 3780]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3823
أخبرني أبو بكر محمد بن المؤمَّل، حدثنا الفضل بن محمد الشَّعْراني، حدثنا عمرو بن عَوْن الواسطي، حدثنا هُشَيم، أخبرنا حُصَين، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس قال: أُنزِلَ القرآنُ في ليلة القَدْر من السماء العُلْيا إلى السماء الدُّنيا جُملةً واحدةً، ثم فُرِّق في السِّنين، قال: وتَلَا هذه الآية: ﴿فَلَا أُقْسِمُ بِمَوَاقِعِ النُّجُومِ (75)[الواقعة: 75] ، قال: نزل متفرِّقًا (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3781 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ قرآن مجید شبِ قدر میں آسمانِ بالا سے آسمانِ دنیا پر ایک ہی بار نازل کیا گیا، پھر اسے برسوں میں (حسبِ ضرورت) تقسیم کر کے اتارا گیا، انہوں نے (بطورِ استشہاد) یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿فَلَا أُقْسِمُ بِمَوَاقِعِ النُّجُومِ﴾ پس میں ستاروں کے گرنے کے مقامات کی قسم کھاتا ہوں [سورة الواقعة: 75] ، اور فرمایا کہ یہ متفرق طور پر نازل ہوا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3823]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،حصين: هو ابن عبد الرحمن السُّلمي.» [ترقيم الرساله 3823] [ترقيم الشركة 3802] [ترقيم العلميه 3781]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں