🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. رُؤْيَا عَاتِكَةَ قَبْلَ قُدُومِ ضَمْضَمٍ فِي قَتْلِ كُفَّارِ قُرَيْشٍ
ضمضم کے آنے سے پہلے عاتکہ کا خواب جس میں قریش کے کافروں کی ہلاکت دیکھی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4343
ما حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بُكير، عن ابن إسحاق، قال: حدثني حسين بن عبد الله بن عُبيد الله بن العباس، عن عكرمة، عن ابن عبّاس. قال ابن إسحاق: وحدثني يزيد بن رومان، عن عُروة بن الزبير؛ قالا: رأتْ عاتِكةُ بنت عبد المُطلب فيما يرى النائمُ قبل مَقدَم ضَمْضَم (1) بن عمرو الغفاري على قريش (2) بمكة بثلاث ليالٍ رؤيا، فأصبحت عاتكة فأعظَمَتْها، فبعثت إلى أخيها العباس بن عبد المطلب فقالت له: يا أخي، لقد رأيتُ رؤيا الليلة ليدخُلَنَّ على قومِك منها شرٌّ وبَلاءٌ، فقال: وما هي؟ فقالت: رأيتُ فيما يرى النائم أنَّ رجلًا أقبل على بعيرٍ له فوقف بالأبْطَحِ، فقال: انفِرُوا يا آلَ غُدَرَ لِمَصارِعِكم في ثلاث، فأرى الناس اجتمعوا إليه، ثم أرى بَعِيرَه دخل به المسجد واجتمعَ الناسُ إليه، ثم مَثَلَ به بَعِيرُه، فإذا هو على رأس الكعبة، فقال: انفروا يا آلَ غُدَرَ لِمَصارعكم في ثلاث، ثم أرى بعيرَه مثل به على رأس أبي قُبيس، فقال: انفروا يا آلَ غُدَرَ لِمَصارعِكم في ثلاثٍ، ثم أخذ صخرةً، فأرسلها من رأس الجبل فأقبلتْ تَهوِي، حتى إذا كانت في أسفله ارفضت (1) ، فما بقيت دارٌ من دُور قومِك ولا بيتٌ إلا دخل فيه بعضُها، فقال العباس: والله إنَّ هذه لرؤيا فاكتُمِيها، قالت: وأنت فاكتُمْها، لئن بلغت هذه قريشًا لَيُؤذُونا. فخرج العباس من عندها ولقي الوليدَ بن عُتبة - وكان له صديقًا - فذكرها له، واستكتمه إياها، فذكرها الوليد لأبيه، فتحدَّث بها ففَشَا الحديث، قال العباس: والله إني لَغَادٍ إلى الكعبة لأطُوفَ بها إذ دخلتُ المسجد، فإذا أبو جهل في نفرٍ من قريش يتحدثون عن رؤيا عاتكة، فقال أبو جهل: يا أبا الفضل، متى حدثت هذه النبيَّة فيكم؟! قلت: وما ذاك، قال: رؤيا رأتها عاتكة بنت عبد المطلب، أما رضيتُم يا بني عبد المطلب أن تنبأ رجالكم حتى تنبأ نساؤكم! فسنتربَّص بكم هذه الثلاث التي ذكرت عاتكة، فإن كان حقًّا فسيكون، وإلا كتبنا عليكم كتابًا أنكم أكذَبُ أهل بيتٍ في العرب، فوالله ما كان إليه مني من كبيرٍ إلَّا أني أنكرتُ ما قالت، فقلت: ما رأت شيئًا ولا سمعتُ بهذا، فلما أمسيتُ لم تبق امرأةٌ من بني عبد المطّلب إلَّا أتتني، فقلن: صبرتُم لهذا الفاسق الخَبيث أن يقع في رجالكم، ثم تناول النساء وأنت تسمعُ، فلم يكن عندك في ذلك غَيْرٌ (2) ؟! فقلت: قد والله صدقتن، وما كان عندي في ذلك من مِن غَيْرِ، إلَّا أني قد أنكرتُ ما قال، فإن عاد لأكْسَعَنَّه، فغَدَوتُ في اليوم الثالث أتعرَّضُه ليقول شيئًا فأُشاتِمَه، فوالله إني لَمُقبلٌ نحوه، وكان رجلًا حديد الوجهِ، حديد المنظَر، حديد اللسانِ، إذ ولى نحو باب المسجد يَشتَدُّ، فقلتُ في نفسي: اللهم العنه، أكل هذا فَرَقًا أن أُشاتِمَه، وإذا هو قد سمع ما لم أسمع، صوتَ ضَمْضَم بن عمرو وهو واقفٌ على بعيره بالأبْطَح قد حَوّل رَحْلَه، وشَقّ قَمِيصَه، وجَدَع بَعِيرَه يقول: يا معشر قريش، اللَّطِيمةَ اللَّطِيمةَ، أموالُكم مع أبي سفيان وتجارتُكم قد عَرَضَ لها محمدٌ وأصحابه، فالغوثَ، فَشَغَلَه ذلك عني، فلم يكن إلَّا الجَهازُ حتى خَرَجْنَا، فَأَصابَ قريشًا ما أصابها يوم بدر من قتل أشرافِهم، وأسرِ خِيارهم، فقالت عاتكةُ بنت عبد المطلب: ألم تكن الرؤيا بحقٍّ وعابَكم..... بتصديقها فَلٌّ من القوم هارِبُ فقلتُم - ولم أكذب -: كذبتِ وإنما.... يُكذِّبنا بالصِّدقِ من هو كاذِبُ وذكر قصة طويلة (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4297 - حسين ضعيف
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ابن اسحاق اور عروہ بن زبیر کا بیان ہے کہ عاتکہ بنت عبدالمطلب رضی اللہ عنہا نے ضمضم بن عمرو الغفاری کے مکہ میں قریش پر چڑھائی کرنے سے تین دن پہلے خواب دیکھا۔ جب صبح ہوئی تو سیدنا عاتکہ رضی اللہ عنہا نے اس خواب کو معمولی سمجھا اور اپنے بھائی سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کو بلوایا اور کہا: اے میرے بھائی! میں نے رات کو ایک خواب دیکھا ہے، اس کی وجہ سے میں بہت پریشان ہوں اور مجھے ڈر ہے کہ کہیں آپ کی قوم پر کوئی آزمائش اور مصیبت نہ آ جائے، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ کیا (خواب) ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے دیکھا ہے کہ ایک آدمی اپنے اونٹ پر سوار ہو کر آیا اور (مقام) ابطح میں کھڑا ہو کر کہنے لگا: اے غدارو! باہر نکلو، تین دن بعد تمہارے ساتھ جنگ ہو گی۔ میں دیکھتی ہوں کہ وہ لوگ اس کے اردگرد جمع ہو جاتے ہیں، پھر میں دیکھتی ہوں کہ اس کا اونٹ مسجد میں داخل ہو جاتا ہے اور لوگ اس کے اردگرد جمع ہو جاتے ہیں، پھر وہ اونٹ سمیت کعبہ کے اوپر ہوتا ہے اور کہتا ہے: اے غدر والو! تین دن میں تمہارا قتل ہو گا، پھر وہ اونٹ سمیت ابوقبیس (پہاڑ) پر ہوتا ہے اور کہتا ہے: اے غدر والو! باہر نکلو، تین دن میں تمہارا قتل ہو گا۔ پھر اس نے پہاڑ کی چوٹی سے ایک بھاری پتھر گرا دیا، وہ نیچے کی جانب لڑھکتا آیا حتی کہ جب وہ پہاڑ کی گہرائی میں پہنچا تو پھٹ گیا تو تمہاری قوم کا کوئی گھر اور کوئی مکان ایسا نہیں ہو گا جس میں اس کے ذرات نہ پہنچے ہوں۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: خدا کی قسم یہ خاص بات ہے، اس کو چھپا کر رکھنا۔ سیدنا عاتکہ رضی اللہ عنہا نے کہا: آپ بھی اس کو پوشیدہ رکھنا، کیونکہ اگر اس بات کی خبر قریش کو ہو گئی تو وہ مجھے تکلیف دیں گے۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ وہاں سے نکلے اور اپنے دوست ولید بن عتبہ کے پاس گئے اور یہ خواب اس کو سنا دیا اور ساتھ ہی اس کو کسی کے سامنے ظاہر نہ کرنے کی تاکید بھی کر دی، لیکن ولید نے یہ خواب اپنے والد کو بتا دیا، اور اس کے والد نے جگہ جگہ بیان کر دیا، اس وجہ سے یہ بات پھیل گئی، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: میں کل کعبۃ اللہ کا طواف کروں گا، لیکن جب میں مسجد میں داخل ہوا تو ابوجہل پوری ایک جماعت میں بیٹھا تھا اور ان میں اسی خواب کا تذکرہ ہو رہا تھا، ابوجہل نے کہا: اے ابوالفضل! تم میں یہ عورت کب سے نبی بن گئی ہے؟ میں نے کہا: کیا مطلب؟ اس نے کہا: وہی عاتکہ بنت عبدالمطلب کی خواب۔ اے بنی عبدالمطلب! کیا تمہیں اپنے مردوں کا دعوائے نبوت کافی نہ تھا کہ اب تمہاری عورتوں نے بھی نبوت کے دعوے شروع کر دئیے ہیں؟۔ ہم ان تین دنوں کا انتظار کر رہے ہیں، جن کا ذکر عاتکہ نے کیا ہے۔ کہ اگر (اس کا یہ خواب) حق ہوا تو ہو جائے گا ورنہ ہم تمہارے بارے میں یہ فیصلہ لکھ دیں گے کہ پورے عرب میں تمہارا گھرانہ سب سے زیادہ جھوٹا ہے (سیدنا عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:) خدا کی قسم! میرے لئے اس سے بڑھ کر تکلیف دہ کوئی بات نہیں ہو سکتی تھی۔ میں عاتکہ کے خواب سے مکر گیا اور میں نے کہہ دیا کہ نہ اس نے کوئی خواب دیکھا ہے اور نہ میں نے اس سے کوئی بات سنی ہے۔ جب شام ہوئی تو بنی عبدالمطلب کی تمام عورتیں میرے پاس آئیں اور کہنے لگیں: تم نے اس فاسق خبیث کی باتیں سن کر بھی صبر کیا، اس نے تمہارے مردوں پر طعنہ زنی کی ہے اور تمہاری عورتوں پر بھی باتیں بنائیں اور تم (خاموش تماشائی بنے) سنتے رہے، تمہارے اندر غیرت نام کی کوئی چیز نہیں ہے؟ میں نے کہا: خدا کی قسم! سچ کہہ رہی ہو، اس معاملے میں واقعی مجھ میں غیرت نہیں تھی (یعنی غیرت تو تھی مگر میں اس پر بگڑ نہیں سکتا تھا) تو سوائے اس کے کہ میں اس بات سے ہی مکر جاتا میرے پاس کوئی چارہ نہ تھا لیکن اب اگر اس نے دوبارہ ایسی کوئی بات کہی تو میں اس کو بھرپور جواب دوں گا۔ چنانچہ میں تیسرے دن ان کا مقابلہ کرنے کی نیت سے بیٹھا ہوا تھا کہ وہ کچھ بولے تو میں اس کو گالیاں دوں۔ خدا کی قسم! میں تو اس کی طرف متوجہ ہو کر بیٹھا ہوا تھا کہ ایک آدمی لوہے کے چہرے والا، دیکھنے میں نیا اور تیز زبان والا، مسجد کے دروازے کی جانب تیزی سے بڑھا، میں نے اپنے دل میں کہا: یا اللہ! اس پر لعنت کر، میں اس سے مقابلہ بازی نہیں کر سکتا اور وہ ضمضم بن عمرو کی آواز سن رہا تھا جو میں نہیں سن رہا تھا۔ وہ اونٹ پر سوار ابطح میں کھڑا تھا، اس نے اپنا کجاوہ اتارا، اپنی قمیص پھاڑی اور اپنے اونٹ کی ناک کاٹ ڈالی اور بولا: اے گروہ قریش! بازار میں آؤ، بازار میں آؤ۔ تمہارا مال ابوسفیان کے پاس ہے اور تمہاری تجارت کو محمد اور اس کے ساتھیوں نے روک رکھا ہے اور آؤ میری مدد کرو۔ تو وہ لوگ اسی سلسلہ میں مشغول ہو گئے، اور ہم تیاری کر کے وہاں سے نکل گئے۔ تو اس دن قریش کو اتنا نقصان پہنچا جتنا جنگ بدر میں پہنچا تھا۔ ان کے بڑے بڑے لوگوں کو قتل کر دیا گیا اور سرداروں کو گرفتار کیا گیا تو سیدنا عاتکہ بنت عبدالمطلب رضی اللہ عنہا نے کہا: کیا میرا خواب سچا نہ تھا؟ اور اس کی تصدیق نے تمہیں نقصان دیا، قوم میں سے بہت کم لوگ بھاگ سکے۔ تو تم نے کہا: اور میں تمہارے جھٹلانے سے جھوٹی نہیں ہو گئی، کیونکہ سچائی کو جھوٹا ہی جھٹلاتا ہے پھر اس کے بعد مفصل قصہ بیان کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4343]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. كَانَ يَوْمَ بَدْرٍ فَرَسَانِ، فَرَسٌ لِلزُّبَيْرِ وَفَرَسٌ لِلْمِقْدَادِ
غزوۂ بدر کے دن دو گھوڑے تھے، ایک حضرت زبیرؓ کا اور ایک حضرت مقدادؓ کا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4344
أخبرنا عبد الله بن إسحاق البَغَوي، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا أبو ثابت، حدثني ابن وهب، أخبرني أبو صخر، عن أبي معاوية البجلي، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عباس: أنَّ علي بن أبي طالب قال له: ما كان مَعَنا إِلَّا فَرَسان: فَرسٌ للزبير، وفَرسٌ للمقداد بن الأسود؛ يعني: يوم بدر (1)
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، فإنَّ أبا ثابت هو: محمد بن عُبيد الله المَدِيني، وأبو صَخْر: حميد بن زياد، وأبو معاوية البجلي: عمارٌ الدُّهني، وكلُّهم متفقٌ عليهم (1) ، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4298 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: سیدنا علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے مجھے بتایا کہ ہمارے پاس (جنگ بدر کے دن) صرف دو گھوڑے تھے، ایک گھوڑا سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کا تھا اور ایک سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اس میں جو ابوثابت ہیں وہ محمد بن عبیداللہ المدینی ہیں۔ اور یہ تمام (محدثین) کے متفق علیہ راوی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4344]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. كُنَّا يَوْمَ بَدْرٍ كُلَّ ثَلَاثَةٍ عَلِى بَعِيرٍ
غزوۂ بدر کے دن ہم تین آدمی ایک اونٹ پر سوار تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4345
حدثنا أبو بكر بن إسحاق، حدثنا أبو المُثنَّى معاذ بن المثنى، حدثنا أبو الوليد الطَّيالسي، حدثنا حماد بن سَلَمة، عن عاصم، عن زِرٍّ، عن عبد الله، قال: كنا يوم بدر كل ثلاثةٍ على بعيرٍ، قال: وكان عليٌّ وأبو لُبابة زَمِيلي رسول الله ﷺ، قال: وكان إذا كانت عُقْبتُه قلنا: اركَبْ حتى نمشي، فيقول:"ما أنتما بأقوى مِنِّي، وما أنا بأغنى عن الأجر مِنكُم" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يخرجاه.
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: بدر کے دن تین تین آدمیوں کے لئے ایک ایک اونٹ تھا (اس موقع پر) سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابولبابہ رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی (پیدل چلنے کی) باری آتی تو ہم عرض کرتے کہ آپ سوار رہیں آپ کی باری ہم دیتے ہیں، تو آپ فرماتے: تم لوگ مجھ سے زیادہ طاقتور نہیں ہو اور تمہاری طرح مجھے بھی اجر کی ضرورت ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4345]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4346
حدثنا أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن يحيى وأبو الحسين بن يعقوب الحافظ، قالا: حدثنا محمد بن إسحاق الثقفي، حدثنا قُتيبة بن سعيد، حدثنا جرير، عن الأعمش، عن إبراهيم، عن الأسود، عن عبد الله، في ليلة القدر، قال: تَحرَّوها لإحدى عشرة يَبقَين، صبيحتُها يوم بدرٍ (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4300 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ شب قدر کے متعلق فرماتے ہیں: اس کو باقی ماندہ گیارہ راتوں میں ڈھونڈو، اور یہ یوم بدر کی صبح تھی۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4346]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4347
حدثنا أبو إسحاق وأبو الحسين، قالا: حدثنا محمد، حدثنا قُتيبة، حدثنا أبو عَوَانة، عن أبي إسحاق، عن الأسود، عن عبد الله، قال: التَمِسُوها - ليلة القدر - لتسعَ عشرةَ؛ صَبيحة يوم بَدْرٍ؛ ﴿يَوْمَ الْفُرْقَانِ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ﴾ [الأنفال: 41] (1) .
هذا حديث على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4301 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: شب قدر کو اس رات میں تلاش کرو (جس سے اگلے دن) انیس (رمضان) کی صبح ہوتی ہے۔ یہ وہی دن ہے جب غزوہ بدر ہوا تھا۔ (جس کے بارے میں قرآن نے یہ کہا ہے:) یَوْمَ الْفُرقَانِ یَوْمَ الْتَقَی الْجَمْعَانِ یہ فرق کرنے والا دن ہے جب دو گروہ ایک دوسرے کے مدمقابل آ گئے تھے ۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4347]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4348
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا علي بن الحسن بن أبي عيسى، حدثنا عبد الملك بن إبراهيم الجُدِّي، حدثنا شُعبة، عن أبي إسحاق الهَمْداني، قال: سمعت البَراء بن عازب قال: كان المُهاجرون يومَ بدرٍ نَيّفًا وثمانين، وكانت الأنصارُ نَيّفًا وأربعين ومئتين (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4302 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جنگ بدر میں مہاجرین کی تعداد 80 سے کچھ زیادہ تھی اور انصار 240 سے زائد تھے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4348]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4349
أخبرني أبو الوليد الفقيه، حدثنا الحسن بن سفيان، حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة، حدثنا أبو نعيم، حدثنا ابن الغَسيل، عن حمزة بن أبي أُسيد، عن أبيه، قال: قال رسول الله ﷺ يوم بدرٍ حين صَفَفْنا للقتال لقريشٍ وصَفُّوا لنا:"إذا أكثَبُوكُم فارمُوهُم بالنَّبل" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4303 - صحيح
سیدنا ابواسید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جنگ بدر کے دن جب ہمارا اور قریش کا لشکر صف آراء ہو چکا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ہدایت کی کہ وہ جب تمہارے قریب آنے لگیں تو ان پر تیروں کی بوچھاڑ کر دو۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4349]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. مُشَاوَرَتُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَصْحَابَهُ فِي أَسَارَى بَدْرٍ
رسول اللہ ﷺ کا بدر کے قیدیوں کے بارے میں صحابہؓ سے مشورہ کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4350
أخبرنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنْبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا جرير، عن الأعمش، عن عمرو بن مُرة، عن أبي عُبيدة بن عبد الله، عن أبيه قال: لما كان يوم بدر قال لهم رسول الله ﷺ:"ما تقولونَ في هؤلاء الأسارى؟" فقال عبد الله بن رواحة: ايتِ في وادٍ كثير الحطب فأضرم نارًا، ثم ألْقِهِم فيها، فقال العباس: قَطَعَ الله رحمك، فقال عمرُ: قادتهم ورُؤَسَاؤُهم قاتَلُوك وكَذَّبوك، فاضرب أعناقَهُم نَعِزَّ (1) ، فقال أبو بكر: عشيرتُك وقومك، ثم دخل رسول الله ﷺ لبعض حاجتِه، فقالت طائفةٌ: القول ما قال عمر، قال: فخرج رسول الله ﷺ فقال:"ما تَقُولُون في هؤلاء؟ إِنَّ مَثَل هؤلاء كمَثَل إخوةٍ لهم كانوا من قبلهم، قال نوحٌ: ﴿رَبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا﴾ [نوح:26] ، وقال موسى: ﴿رَبَّنَا اطْمِسْ عَلَى أَمْوَالِهِمْ وَاشْدُدْ عَلَى قُلُوبِهِمْ﴾ الآية [يونس:88] ، وقال إبراهيم: ﴿فَمَنْ تَبِعَنِي فَإِنَّهُ مِنِّي وَمَنْ عَصَانِي فَإِنَّكَ غَفُورٌ رَحِيمٌ﴾ [إبراهيم: 36] ، وقال عيسى: ﴿إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (118)[المائدة: 118] ، وأنتم قوم بكم عَيْلةٌ فلا ينفلتنَّ أحدٌ منهم (2) إِلَّا بِفِداءٍ أو بضربة عُنق"، قال عبد الله: فقلتُ: إلَّا سُهيل ابنَ بَيضاءَ، فإنه لا يُقتل، وقد سمعته يتكلّم بالإسلام، فسكت، فما كان يومٌ أخوفَ عندي أن تُلقى عليّ حجارةٌ من السماء من يومي ذلك، حتى قال رسول الله ﷺ:"إلَّا سهيل بن بَيضاءَ" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4304 - صحيح
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جنگ بدر کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے مشورہ لیا کہ ان جنگی قیدیوں کے بارے میں تم کیا کہتے ہو؟ سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کسی زیادہ ایندھن والی وادی میں آگ بھڑکا کر ان کو اس میں ڈال دیا جائے۔ لیکن سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے اس مشورہ کو پسند نہ کیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ان کے بڑوں اور سرداروں نے آپ سے لڑائی کی اور آپ کو جھٹلایا ہے، اس لئے ان سب کو قتل کر دیا جائے۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ آپ کی قوم اور آپ کا کنبہ ہے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کسی حاجت کے لئے تشریف لے گئے تو سب لوگوں کی رائے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی رائے کے موافق ہو گئی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا: تم ان لوگوں کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ ان لوگوں کی مثالیں ان سے پہلے بھی ان جیسے لوگوں میں گزر چکی ہیں۔ سیدنا نوح علیہ السلام نے فرمایا: رَبِّ لَا تَذَرْ عَلَی الْاَرْضِ مِنَ الْکَافِرِیْنَ دَیَّارًا (نوح: 26) اے میرے رب! زمین پر کافروں میں سے کوئی بسنے والا نہ چھوڑ اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: رَبَّنَا اطْمِسْ عَلٰی اَمْوَالِھِمْ وَاشْدُدْ عَلٰی قُلُوْبِھِمْ (یونس: 88) اے رب ہمارے! ان کے مال برباد کر دے اور ان کے دل سخت کر دے اور سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے کہا: فَمَنْ تَبِعَنِیْ فَاِنَّہُ مِنِّیْ وَمَنْ عَصَانِی فَاِنَّکَ غَفُوْرٌ رَحِیْمٌ (ابراھیم: 36) تو جس نے میرا ساتھ دیا وہ تو میرا ہے اور جس نے میرا کہا نہ مانا تو بے شک تو بخشنے والا مہربان ہے اور سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے کہا: اِنْ تُعَذِّبْھُمْ فَاِنَّھُم عِبَادُکَ وَاِنْ تَغْفِرْلَھُمْ فَاِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ (المائدۃ: 118) اگر تو انہیں عذاب کرے تو وہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو انہیں بخش دے تو بے شک تو ہی غالب حکمت والا اور تم ایسی قوم میں ہو جس میں دھوکا (کا خدشہ) موجود ہے۔ اس لئے تم میں کوئی شخص فدیہ لئے یا قتل کئے بغیر واپس نہ پلٹے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: سوائے سہیل بن بیضاء کے، کہ اس کو قتل نہ کیا جائے، کیونکہ میں نے اس کو اسلام کے حق میں (اچھی) گفتگو کرتے ہوئے سنا ہے۔ لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ اس دن سے زیادہ مجھے کبھی اس بات کا خوف نہیں ہوا کہ مجھ پر آسمان سے پتھر برسیں گے حتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود فرما دیا: سوائے سہیل بن بیضاء کے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4350]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4351
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بُكير، عن ابن إسحاق، قال: حدثني عبد الله بن أبي بكر، عن يحيى بن عبد الله بن عبد الرحمن بن أسعد بن زُرارة، عن جده، قال: قُدِمَ بالأُسارى حين قُدِمَ بهم المدينةَ وسَوْدةُ بنت زَمْعة زوج النبي ﷺ عند آل عَفْراء في صِيَاحِهم (1) على عوف ومُعوِّذٍ ابنَي عَفْراء، وذلك قبل أن يُضرب عليهنّ الحجاب، قالت سودة: فوالله إني لَعِندَهم إذ أُتينا فقيل: هؤلاء الأُسارى قد أُتي بهم، فرجعت إلى بيتي ورسول الله ﷺ فيه، فإذا أبو يزيد سُهيل بن عمرو في ناحيةِ الحُجْرة مجموعتان يَداهُ إلى عنقه بحَبْل، فوالله ما مَلَكتُ حين رأيتُ أبا يزيد كذلك أن قلتُ: أي أبا يزيد، أعطَيْتُم بأيدِيكُم! ألا مُتُّم كِرامًا، فما انتهيت إلا بقول رسول الله ﷺ من البيت:"يا سودة، على الله وعلى رسوله؟!" فقلتُ: يا رسول الله، والذي بعثك بالحقِّ، ما مَلَكْتُ حين رأيتُ أبا يزيد مجموعةً يَداهُ إلى عنقه بالحبل أن قلتُ ما قلت (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يخرجاه. وقد اتَّفَقَ الشيخان على إخراج حديث محمد بن فُليح عن موسى بن عُقبة عن ابن شهاب قال: حدثنا أنس بن مالك: أنَّ رجالًا من الأنصار استأذَنُوا رسول الله ﷺ، فقالوا: يا رسول الله، ائذن لنا فلْنَتْرُك لا بن أُختِنا العباس فداءه، فقال:"والله لا تَذَرُونَ درهما" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4305 - على شرط مسلم
سیدنا یحیی بن عبداللہ بن عبدالرحمن بن اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں جب قیدیوں کو مدینہ منورہ لایا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا آل عفراء میں، عفراء کے دونوں بیٹوں عوف اور معوذ کی میت پر رو رہی تھی (یہ واقعہ پردہ کے احکام نازل ہونے سے پہلے کا ہے) سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جب قیدیوں کو لایا گیا تو میں اس وقت وہیں پر تھی، ہمیں بتایا گیا کہ یہ قیدی لائے گئے ہیں، میں اپنے گھر کی طرف لوٹ گئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت میرے حجرہ میں تھے۔ (لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی کا مجھے پتہ نہ تھا) میں نے دیکھا کہ ابویزید سہیل بن عمر کے ہاتھ رسی کے ساتھ اس کی گردن پر باندھ کر ایک کونے میں کھڑا کیا ہوا تھا۔ خدا کی قسم! ابویزید کی یہ حالت دیکھ کر مجھ سے رہا نہ گیا اور میں نے کہہ دیا: اے ابویزید! اللہ نے تمہیں ہاتھ دیئے ہیں، اس لئے عزت کی موت مرنا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے سودہ! کیا تم اللہ اور اس کے رسول کے خلاف (ہدایت دے رہی ہو؟) حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اس آواز سے مجھے پتہ چلا کہ گھر میں آپ موجود ہیں۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، ابویزید کے رسی کے ساتھ گردن پر بندھے ہوئے ہاتھ دیکھ کر مجھ سے رہا نہیں گیا اور میں نے جو کچھ بولنا تھا بول دیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ تاہم امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے محمد بن فلیح کے ذریعے موسیٰ بن عقبہ کے واسطے سے ابن شہاب کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کچھ انصاری صحابہ رضی اللہ عنہم نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ ہمیں اجازت عطا فرمائیں کہ ہم اپنے بھانجے عباس کا فدیہ معاف کرنا چاہتے ہیں۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا: خدا کی قسم! ایک درہم بھی نہیں چھوڑا جائے گا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4351]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. ذِكْرُ فِدَاءِ أَبِي الْعَاصِ أَرْسَلَتْ بِهِ زَيْنَبُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ
حضرت زینبؓ کا اپنے شوہر ابو العاص کے فدیہ میں مال بھیجنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4352
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بُكير، عن ابن إسحاق، قال: حدثني يحيى بن عباد بن عبد الله بن الزبير، عن أبيه، عن عائشة قالت: لما بَعَثَ أهل مكة في فداء أُساراهم، بَعَثَت زينب بنتُ رسول الله ﷺ في فداء أبي العاص بمالٍ، وبعثت فيه بقلادة كانت خديجة أدخلتها بها على أبي العاص حين بنى عليها، فلما رآها رسول الله ﷺ رَقَّ لها رِقّةً شديدة، وقال:"إن رأيتُم أن تُطلِقُوا لها أسيرها، وتَرُدُّوا عليها الذي لها". وكان رسول الله ﷺ قد أَخَذَ عليه ووَعَدَ رسول الله ﷺ أَن يُخْلِيَ زينبَ إليه (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4306 - على شرط مسلم
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: جب اہل مکہ نے اپنے قیدیوں کے فدیے بھیجے تو سیدہ زینب بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوالعاص کے فدیہ کے لئے جو مال بھیجا اس میں وہ ہار بھی تھا جو سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے ان ابوالعاص کے ساتھ شادی کے موقع پر دیا تھا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ ہار دیکھا تو آپ پر بہت شدید رقت طاری ہو گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم مناسب سمجھو تو اس کے قیدی کو رہا کر دو اور اس کا فدیہ بھی واپس بھیج دو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے عہد لیا تھا اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وعدہ کیا تھا کہ وہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کو آپ کے پاس آنے دیں گے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4352]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں