🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. رُؤْيَا عَاتِكَةَ قَبْلَ قُدُومِ ضَمْضَمٍ فِي قَتْلِ كُفَّارِ قُرَيْشٍ
ضمضم کے آنے سے پہلے عاتکہ کا خواب جس میں قریش کے کافروں کی ہلاکت دیکھی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4343
ما حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بُكير، عن ابن إسحاق، قال: حدثني حسين بن عبد الله بن عُبيد الله بن العباس، عن عكرمة، عن ابن عبّاس. قال ابن إسحاق: وحدثني يزيد بن رومان، عن عُروة بن الزبير؛ قالا: رأتْ عاتِكةُ بنت عبد المُطلب فيما يرى النائمُ قبل مَقدَم ضَمْضَم (1) بن عمرو الغفاري على قريش (2) بمكة بثلاث ليالٍ رؤيا، فأصبحت عاتكة فأعظَمَتْها، فبعثت إلى أخيها العباس بن عبد المطلب فقالت له: يا أخي، لقد رأيتُ رؤيا الليلة ليدخُلَنَّ على قومِك منها شرٌّ وبَلاءٌ، فقال: وما هي؟ فقالت: رأيتُ فيما يرى النائم أنَّ رجلًا أقبل على بعيرٍ له فوقف بالأبْطَحِ، فقال: انفِرُوا يا آلَ غُدَرَ لِمَصارِعِكم في ثلاث، فأرى الناس اجتمعوا إليه، ثم أرى بَعِيرَه دخل به المسجد واجتمعَ الناسُ إليه، ثم مَثَلَ به بَعِيرُه، فإذا هو على رأس الكعبة، فقال: انفروا يا آلَ غُدَرَ لِمَصارعكم في ثلاث، ثم أرى بعيرَه مثل به على رأس أبي قُبيس، فقال: انفروا يا آلَ غُدَرَ لِمَصارعِكم في ثلاثٍ، ثم أخذ صخرةً، فأرسلها من رأس الجبل فأقبلتْ تَهوِي، حتى إذا كانت في أسفله ارفضت (1) ، فما بقيت دارٌ من دُور قومِك ولا بيتٌ إلا دخل فيه بعضُها، فقال العباس: والله إنَّ هذه لرؤيا فاكتُمِيها، قالت: وأنت فاكتُمْها، لئن بلغت هذه قريشًا لَيُؤذُونا. فخرج العباس من عندها ولقي الوليدَ بن عُتبة - وكان له صديقًا - فذكرها له، واستكتمه إياها، فذكرها الوليد لأبيه، فتحدَّث بها ففَشَا الحديث، قال العباس: والله إني لَغَادٍ إلى الكعبة لأطُوفَ بها إذ دخلتُ المسجد، فإذا أبو جهل في نفرٍ من قريش يتحدثون عن رؤيا عاتكة، فقال أبو جهل: يا أبا الفضل، متى حدثت هذه النبيَّة فيكم؟! قلت: وما ذاك، قال: رؤيا رأتها عاتكة بنت عبد المطلب، أما رضيتُم يا بني عبد المطلب أن تنبأ رجالكم حتى تنبأ نساؤكم! فسنتربَّص بكم هذه الثلاث التي ذكرت عاتكة، فإن كان حقًّا فسيكون، وإلا كتبنا عليكم كتابًا أنكم أكذَبُ أهل بيتٍ في العرب، فوالله ما كان إليه مني من كبيرٍ إلَّا أني أنكرتُ ما قالت، فقلت: ما رأت شيئًا ولا سمعتُ بهذا، فلما أمسيتُ لم تبق امرأةٌ من بني عبد المطّلب إلَّا أتتني، فقلن: صبرتُم لهذا الفاسق الخَبيث أن يقع في رجالكم، ثم تناول النساء وأنت تسمعُ، فلم يكن عندك في ذلك غَيْرٌ (2) ؟! فقلت: قد والله صدقتن، وما كان عندي في ذلك من مِن غَيْرِ، إلَّا أني قد أنكرتُ ما قال، فإن عاد لأكْسَعَنَّه، فغَدَوتُ في اليوم الثالث أتعرَّضُه ليقول شيئًا فأُشاتِمَه، فوالله إني لَمُقبلٌ نحوه، وكان رجلًا حديد الوجهِ، حديد المنظَر، حديد اللسانِ، إذ ولى نحو باب المسجد يَشتَدُّ، فقلتُ في نفسي: اللهم العنه، أكل هذا فَرَقًا أن أُشاتِمَه، وإذا هو قد سمع ما لم أسمع، صوتَ ضَمْضَم بن عمرو وهو واقفٌ على بعيره بالأبْطَح قد حَوّل رَحْلَه، وشَقّ قَمِيصَه، وجَدَع بَعِيرَه يقول: يا معشر قريش، اللَّطِيمةَ اللَّطِيمةَ، أموالُكم مع أبي سفيان وتجارتُكم قد عَرَضَ لها محمدٌ وأصحابه، فالغوثَ، فَشَغَلَه ذلك عني، فلم يكن إلَّا الجَهازُ حتى خَرَجْنَا، فَأَصابَ قريشًا ما أصابها يوم بدر من قتل أشرافِهم، وأسرِ خِيارهم، فقالت عاتكةُ بنت عبد المطلب: ألم تكن الرؤيا بحقٍّ وعابَكم..... بتصديقها فَلٌّ من القوم هارِبُ فقلتُم - ولم أكذب -: كذبتِ وإنما.... يُكذِّبنا بالصِّدقِ من هو كاذِبُ وذكر قصة طويلة (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4297 - حسين ضعيف
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدہ عاتکہ بنت عبدالمطلب نے ضمضم بن عمرو غفاری کے مکہ پہنچنے سے تین رات پہلے ایک خواب دیکھا جس سے وہ بہت گھبرا گئیں، انہوں نے اپنے بھائی سیدنا عباس بن عبدالمطلب کو بلا کر کہا: اے بھائی! میں نے آج رات ایک خواب دیکھا ہے جس سے مجھے خدشہ ہے کہ تمہاری قوم پر کوئی شر اور مصیبت آنے والی ہے، انہوں نے پوچھا: وہ کیا ہے؟، انہوں نے بتایا: میں نے دیکھا کہ ایک شخص اونٹ پر سوار ہو کر آیا اور وادی ابطح میں کھڑا ہو کر پکارنے لگا: اے دھوکے بازو! اپنی موت کی جگہوں کی طرف تین دن کے اندر نکل کھڑے ہو، میں نے دیکھا کہ لوگ اس کے گرد جمع ہو گئے، پھر اس کا اونٹ اسے لے کر مسجد حرام میں داخل ہوا اور لوگ وہاں بھی جمع ہو گئے، پھر وہ اونٹ کعبہ کی چھت پر نمودار ہوا اور اس نے وہی آواز لگائی، پھر وہ کوہِ ابوقبیس کی چوٹی پر پہنچا اور دوبارہ یہی پکارا، پھر اس نے پہاڑ کی چوٹی سے ایک چٹان لڑھکائی جو نیچے گرتے ہوئے ٹکڑے ٹکڑے ہو گئی اور قریش کا کوئی گھر ایسا نہ بچا جس میں اس کا کوئی ٹکڑا داخل نہ ہوا ہو، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! یہ تو بڑا اہم خواب ہے، اسے چھپائے رکھنا، عاتکہ نے کہا: آپ بھی اسے راز میں رکھیں، کیونکہ اگر قریش کو پتہ چلا تو وہ ہمیں اذیت دیں گے، عباس رضی اللہ عنہ وہاں سے نکلے تو اپنے دوست ولید بن عتبہ سے ملے اور اسے خواب بتا کر راز رکھنے کا کہا، مگر ولید نے اپنے باپ کو بتا دیا اور یوں یہ بات مکہ میں پھیل گئی، عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں طواف کے لیے کعبہ گیا تو دیکھا کہ ابو جہل قریش کے چند لوگوں کے ساتھ عاتکہ کے خواب کا تذکرہ کر رہا ہے، مجھے دیکھ کر ابو جہل نے طنزاً کہا: اے ابوالفضل! تمہارے خاندان میں یہ نئی نبیہ کب پیدا ہو گئی؟، میں نے پوچھا: کیا بات ہے؟، وہ بولا: وہ خواب جو عاتکہ بنت عبدالمطلب نے دیکھا ہے، اے بنو عبدالمطلب! کیا تم اس پر راضی نہیں تھے کہ تمہارے مرد نبوت کا دعویٰ کریں کہ اب تمہاری عورتیں بھی نبی بن بیٹھی ہیں؟ ہم عاتکہ کے بتائے ہوئے ان تین دنوں کا انتظار کریں گے، اگر یہ سچ ہوا تو ٹھیک، ورنہ ہم تمہارے خلاف تحریر لکھیں گے کہ تم عرب کے سب سے جھوٹے گھرانے والے ہو، عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے مصلحتاً اس کا انکار کر دیا اور کہا کہ اس نے کچھ نہیں دیکھا، جب شام ہوئی تو بنو عبدالمطلب کی عورتیں میرے پاس آئیں اور کہنے لگیں: تم نے اس بدقماش خبیث کی یہ جرات برداشت کر لی کہ وہ تمہارے مردوں اور عورتوں کے بارے میں ایسی باتیں کرے اور تم سنتے رہے؟ کیا تمہاری غیرت نے جوش نہیں مارا؟، میں نے کہا: اللہ کی قسم! تم سچ کہتی ہو، مجھ سے غلطی ہوئی، اب اگر اس نے دوبارہ ایسی بات کی تو میں اسے مزہ چکھاؤں گا، تیسرے دن میں اس نیت سے نکلا کہ ابو جہل سے جھگڑا کروں گا، میں اس کی طرف بڑھ ہی رہا تھا کہ اچانک وہ مسجد کے دروازے کی طرف بھاگنے لگا، میں نے دل میں کہا: اللہ تجھ پر لعنت کرے، کیا تو مجھ سے ڈر کر بھاگ رہا ہے؟، لیکن حقیقت یہ تھی کہ اس نے ضمضم بن عمرو کی آواز سن لی تھی جو ابطح میں اپنے اونٹ پر کھڑا پکار رہا تھا، اس نے اونٹ کے کجاوے کو الٹ دیا تھا، اپنا قمیض پھاڑ لیا تھا اور اونٹ کے ناک کان زخمی کر کے چیخ رہا تھا: اے قریش والو! قافلہ لٹ گیا! قافلہ لٹ گیا! تمہارے مال جو ابوسفیان کے ساتھ تھے ان پر محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور ان کے ساتھیوں نے حملہ کر دیا ہے، مدد کو پہنچو!، اس واقعے نے اسے مجھ سے غافل کر دیا، پھر جلد ہی ہم جنگ کے لیے نکلے اور قریش کے سرداروں کے قتل اور اشراف کی گرفتاری کی صورت میں انہیں وہی ذلت دیکھنی پڑی جس کی خبر دی گئی تھی، اس پر عاتکہ بنت عبدالمطلب نے یہ اشعار کہے: کیا میرا خواب سچا ثابت نہیں ہوا؟ جبکہ قوم کا بھاگنے والا شخص اس کی تصدیق کر کے تمہیں عیب دار کر رہا ہے، تم نے کہا تھا - حالانکہ میں جھوٹی نہیں تھی - کہ تم جھوٹ بولتی ہو، جبکہ سچائی کو صرف وہی جھٹلاتا ہے جو خود جھوٹا ہوتا ہے، اور راوی نے طویل قصہ ذکر کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4343]
تخریج الحدیث: «إسناد هذا الخبر من رواية عروة بن الزبير حسن، إلا أنه مرسل، ولكنه وإن كان مرسلًا، قد روي نحوه من مرسل الزُّهْري ومن مرسل موسى بن عقبة أيضًا، فباجتماع هذه المراسيل يتقوى هذا الخبر، ولا يصح من رواية ابن عبّاس، لأنَّ حسين بن عبد الله ضعيف، ولم يسنده عن ابن ...» [ترقيم الرساله 4343] [ترقيم الشركة 4320] [ترقيم العلميه 4297]

الحكم على الحديث: مرسل
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. كَانَ يَوْمَ بَدْرٍ فَرَسَانِ، فَرَسٌ لِلزُّبَيْرِ وَفَرَسٌ لِلْمِقْدَادِ
غزوۂ بدر کے دن دو گھوڑے تھے، ایک حضرت زبیرؓ کا اور ایک حضرت مقدادؓ کا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4344
أخبرنا عبد الله بن إسحاق البَغَوي، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا أبو ثابت، حدثني ابن وهب، أخبرني أبو صخر، عن أبي معاوية البجلي، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عباس: أنَّ علي بن أبي طالب قال له: ما كان مَعَنا إِلَّا فَرَسان: فَرسٌ للزبير، وفَرسٌ للمقداد بن الأسود؛ يعني: يوم بدر (1)
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، فإنَّ أبا ثابت هو: محمد بن عُبيد الله المَدِيني، وأبو صَخْر: حميد بن زياد، وأبو معاوية البجلي: عمارٌ الدُّهني، وكلُّهم متفقٌ عليهم (1) ، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4298 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: غزوہ بدر کے دن ہمارے پاس صرف دو گھوڑے تھے، ایک سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کا اور ایک سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے کیونکہ ابوثابت محمد بن عبید اللہ مدینی ہیں، ابوصخر حمید بن زیاد ہیں اور ابو معاوہ بجلی عمار دہنی ہیں، اور یہ تمام راوی متفق علیہ ہیں، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4344]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لانقطاعه، بين عمار الدهني وسعيد بن جُبير، فإنه لم يسمع منه شيئًا، وقد سلف بأطول ممّا هنا برقم (2538). وأصح من ذلك عن عليّ ما جاء في "مسند أحمد" 2/ (1023) من طريق أخرى عنه، أنه قال: ما كان فينا فارسٌ يوم بدر غير المقداد. وإسناده صحيح.» [ترقيم الرساله 4344] [ترقيم الشركة 4321] [ترقيم العلميه 4298]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لانقطاعه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. كُنَّا يَوْمَ بَدْرٍ كُلَّ ثَلَاثَةٍ عَلِى بَعِيرٍ
غزوۂ بدر کے دن ہم تین آدمی ایک اونٹ پر سوار تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4345
حدثنا أبو بكر بن إسحاق، حدثنا أبو المُثنَّى معاذ بن المثنى، حدثنا أبو الوليد الطَّيالسي، حدثنا حماد بن سَلَمة، عن عاصم، عن زِرٍّ، عن عبد الله، قال: كنا يوم بدر كل ثلاثةٍ على بعيرٍ، قال: وكان عليٌّ وأبو لُبابة زَمِيلي رسول الله ﷺ، قال: وكان إذا كانت عُقْبتُه قلنا: اركَبْ حتى نمشي، فيقول:"ما أنتما بأقوى مِنِّي، وما أنا بأغنى عن الأجر مِنكُم" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يخرجاه.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: غزوہ بدر کے دن ہم میں سے ہر تین آدمی ایک اونٹ پر باری باری سوار ہوتے تھے، سیدنا علی اور سیدنا ابولبابہ رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے باری کے ساتھی تھے، راوی کہتے ہیں کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیدل چلنے کی باری آتی تو وہ دونوں عرض کرتے: آپ سوار رہیں اور ہم پیدل چلتے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے: تم دونوں مجھ سے زیادہ طاقتور نہیں ہو اور نہ ہی میں اجر و ثواب حاصل کرنے میں تم دونوں سے بے نیاز ہوں۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4345]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، من أجل عاصم: وهو ابن أبي النَّجود أبو الوليد الطيالسي: هو هشام بن عبد الملك، وزرٌّ: هو ابن حُبيش، وعبد الله: هو ابن مسعود.» [ترقيم الرساله 4345] [ترقيم الشركة 4322]

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4346
حدثنا أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن يحيى وأبو الحسين بن يعقوب الحافظ، قالا: حدثنا محمد بن إسحاق الثقفي، حدثنا قُتيبة بن سعيد، حدثنا جرير، عن الأعمش، عن إبراهيم، عن الأسود، عن عبد الله، في ليلة القدر، قال: تَحرَّوها لإحدى عشرة يَبقَين، صبيحتُها يوم بدرٍ (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4300 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے لیلۃ القدر کے بارے میں روایت ہے، انہوں نے فرمایا: اسے (رمضان کی) آخری گیارہ راتوں میں تلاش کرو، جس کی صبح غزوہ بدر کا دن تھا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4346]
تخریج الحدیث: «صحيح لكن بلفظ سفيان الثوري ومن وافقه كما سيأتي، وهذا إسناد رجاله ثقات، لكنه اختلف فيه عن الأعمش - وهو سليمان بن مهران - في لفظه، فرواه جرير - وهو ابن عبد الحميد - وأبو معاوية محمد بن خازم الضرير، كلاهما عنه باللفظ الذي ذكره المصنف، وخالفهما سفيان الثوري وداود ...» [ترقيم الرساله 4346] [ترقيم الشركة 4323] [ترقيم العلميه 4300]

الحكم على الحديث: صحيح لكن بلفظ سفيان الثوري ومن وافقه كما سيأتي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4347
حدثنا أبو إسحاق وأبو الحسين، قالا: حدثنا محمد، حدثنا قُتيبة، حدثنا أبو عَوَانة، عن أبي إسحاق، عن الأسود، عن عبد الله، قال: التَمِسُوها - ليلة القدر - لتسعَ عشرةَ؛ صَبيحة يوم بَدْرٍ؛ ﴿يَوْمَ الْفُرْقَانِ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ﴾ [الأنفال: 41] (1) .
هذا حديث على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4301 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: تم لیلۃ القدر کو (رمضان کی) انیسویں تاریخ میں تلاش کرو، جس کی صبح غزوہ بدر کا دن تھا، یعنی ﴿يَوْمَ الْفُرْقَانِ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ﴾ جس دن حق و باطل کے درمیان فیصلے کا دن تھا جس دن دونوں فوجیں آپس میں گتھم گتھا ہوئی تھیں۔ [سورة الأنفال: 41]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4347]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات، لكنه اختُلف فيه على أبي إسحاق» [ترقيم الرساله 4347] [ترقيم الشركة 4324] [ترقيم العلميه 4301]

الحكم على الحديث: رجاله ثقات
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4348
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا علي بن الحسن بن أبي عيسى، حدثنا عبد الملك بن إبراهيم الجُدِّي، حدثنا شُعبة، عن أبي إسحاق الهَمْداني، قال: سمعت البَراء بن عازب قال: كان المُهاجرون يومَ بدرٍ نَيّفًا وثمانين، وكانت الأنصارُ نَيّفًا وأربعين ومئتين (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4302 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: غزوہ بدر کے دن مہاجرین کی تعداد اسی (80) سے کچھ اوپر تھی، جبکہ انصار کی تعداد دو سو چالیس (240) سے کچھ زائد تھی۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4348]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، لكن أخطأ فيه عبد الملك بن إبراهيم الجُدّي في قوله: نيفًا وثمانين، كما قال الحافظ في "الفتح" 12/ 30 قال: هو خطأ لإطباق أصحاب شعبة على ما وقع في البخاري. يعني بلفظ: كان المهاجرون يوم بدر نيفًا على ستين.» [ترقيم الرساله 4348] [ترقيم الشركة 4325] [ترقيم العلميه 4302]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4349
أخبرني أبو الوليد الفقيه، حدثنا الحسن بن سفيان، حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة، حدثنا أبو نعيم، حدثنا ابن الغَسيل، عن حمزة بن أبي أُسيد، عن أبيه، قال: قال رسول الله ﷺ يوم بدرٍ حين صَفَفْنا للقتال لقريشٍ وصَفُّوا لنا:"إذا أكثَبُوكُم فارمُوهُم بالنَّبل" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4303 - صحيح
سیدنا ابو اسید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ بدر کے دن، جب ہم نے قریش کے خلاف لڑائی کے لیے صف بندی کر لی اور انہوں نے بھی ہمارے سامنے صفیں بنا لیں، تو ارشاد فرمایا: جب وہ تمہارے بالکل قریب آ جائیں «أكثَبُوكُم» تو ان پر تیروں سے وار کرو۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4349]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،أبو نُعيم: هو الفضل بن دكين، وابن الغسيل: هو عبد الرحمن بن سليمان بن عبد الله بن حنظلة غسيل الملائكة.» [ترقيم الرساله 4349] [ترقيم الشركة 4326] [ترقيم العلميه 4303]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. مُشَاوَرَتُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَصْحَابَهُ فِي أَسَارَى بَدْرٍ
رسول اللہ ﷺ کا بدر کے قیدیوں کے بارے میں صحابہؓ سے مشورہ کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4350
أخبرنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنْبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا جرير، عن الأعمش، عن عمرو بن مُرة، عن أبي عُبيدة بن عبد الله، عن أبيه قال: لما كان يوم بدر قال لهم رسول الله ﷺ:"ما تقولونَ في هؤلاء الأسارى؟" فقال عبد الله بن رواحة: ايتِ في وادٍ كثير الحطب فأضرم نارًا، ثم ألْقِهِم فيها، فقال العباس: قَطَعَ الله رحمك، فقال عمرُ: قادتهم ورُؤَسَاؤُهم قاتَلُوك وكَذَّبوك، فاضرب أعناقَهُم نَعِزَّ (1) ، فقال أبو بكر: عشيرتُك وقومك، ثم دخل رسول الله ﷺ لبعض حاجتِه، فقالت طائفةٌ: القول ما قال عمر، قال: فخرج رسول الله ﷺ فقال:"ما تَقُولُون في هؤلاء؟ إِنَّ مَثَل هؤلاء كمَثَل إخوةٍ لهم كانوا من قبلهم، قال نوحٌ: ﴿رَبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا﴾ [نوح:26] ، وقال موسى: ﴿رَبَّنَا اطْمِسْ عَلَى أَمْوَالِهِمْ وَاشْدُدْ عَلَى قُلُوبِهِمْ﴾ الآية [يونس:88] ، وقال إبراهيم: ﴿فَمَنْ تَبِعَنِي فَإِنَّهُ مِنِّي وَمَنْ عَصَانِي فَإِنَّكَ غَفُورٌ رَحِيمٌ﴾ [إبراهيم: 36] ، وقال عيسى: ﴿إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (118)[المائدة: 118] ، وأنتم قوم بكم عَيْلةٌ فلا ينفلتنَّ أحدٌ منهم (2) إِلَّا بِفِداءٍ أو بضربة عُنق"، قال عبد الله: فقلتُ: إلَّا سُهيل ابنَ بَيضاءَ، فإنه لا يُقتل، وقد سمعته يتكلّم بالإسلام، فسكت، فما كان يومٌ أخوفَ عندي أن تُلقى عليّ حجارةٌ من السماء من يومي ذلك، حتى قال رسول الله ﷺ:"إلَّا سهيل بن بَيضاءَ" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4304 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب غزوہ بدر کا موقع تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام سے دریافت فرمایا: تم ان قیدیوں کے متعلق کیا کہتے ہو؟ سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ ایک ایسی وادی میں تشریف لے جائیں جہاں لکڑیاں کثرت سے ہوں، پھر وہاں آگ دہکائیں اور ان سب کو اس میں ڈال دیں، اس پر سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ تمہارا رشتہ کاٹ دے (یعنی تم نے اپنے ہی عزیزوں کے بارے میں اتنی سخت بات کہہ دی)، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ کفر کے پیشوا اور ان کے سردار ہیں جنہوں نے آپ سے قتال کیا اور آپ کو جھٹلایا، لہذا ان کی گردنیں مار دیں تاکہ ہمیں غلبہ حاصل ہو، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ آپ کا کنبہ اور آپ ہی کی قوم ہے (لہذا نرمی برتیں)، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کسی ضرورت کے لیے تشریف لے گئے تو صحابہ کے ایک گروہ نے کہا: بات وہی ٹھیک ہے جو عمر نے کہی ہے، راوی کہتے ہیں: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور فرمایا: تم ان کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ دراصل ان کی مثال ان کے ان بھائیوں جیسی ہے جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں؛ نوح علیہ السلام نے (کفار کے حق میں) کہا تھا: ﴿رَبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا﴾ اے میرے رب! زمین پر کافروں میں سے کسی ایک کو بھی بستا ہوا نہ چھوڑ [سورة نوح: 26] ، اور موسیٰ علیہ السلام نے کہا تھا: ﴿رَبَّنَا اطْمِسْ عَلَى أَمْوَالِهِمْ وَاشْدُدْ عَلَى قُلُوبِهِمْ﴾ اے ہمارے رب! ان کے مال مٹا دے اور ان کے دلوں پر سختی کر دے [سورة يونس: 88] ، جبکہ ابراہیم علیہ السلام نے کہا تھا: ﴿فَمَنْ تَبِعَنِي فَإِنَّهُ مِنِّي وَمَنْ عَصَانِي فَإِنَّكَ غَفُورٌ رَحِيمٌ﴾ پس جس نے میری پیروی کی وہ مجھ سے ہے اور جس نے میری نافرمانی کی تو بے شک تو بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے [سورة إبراهيم: 36] ، اور عیسیٰ علیہ السلام نے کہا تھا: ﴿إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ﴾ اگر تو انہیں عذاب دے تو وہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو انہیں بخش دے تو بے شک تو ہی غالب حکمت والا ہے [سورة المائدة: 118] ، (پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حتمی فیصلہ سناتے ہوئے فرمایا:) چونکہ تم لوگ اس وقت تنگدست «عيلة» ہو، لہذا ان میں سے کوئی بھی قیدی فدیہ لیے بغیر یا گردن مارے بغیر نہ چھوڑا جائے، ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! سوائے سہیل بن بیضاء کے، کیونکہ اسے قتل نہ کیا جائے، میں نے اسے اسلام کے حق میں بات کرتے سنا ہے، تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، ابن مسعود کہتے ہیں کہ اس لمحے مجھے جتنا خوف محسوس ہوا اتنا کبھی نہیں ہوا تھا، میں ڈر رہا تھا کہ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کے دوران اپنی رائے دینے کی وجہ سے) کہیں مجھ پر آسمان سے پتھر نہ برس پڑیں، یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سوائے سہیل بن بیضاء کے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4350]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد رجاله ثقات، وأبو عُبيدة بن عبد الله - وهو ابن مسعود - وإن لم يسمع من أبيه على الصحيح، يدخل حديثه عنه في المسند المتصل، كما جرى عليه الأئمة النقاد، لجلالة أبي عبيدة ومعرفته بحديث أبيه، واختلاطه بخاصة أبيه من بعده. قال يعقوب بن شيبة فيما ...» [ترقيم الرساله 4350] [ترقيم الشركة 4327] [ترقيم العلميه 4304]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4351
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بُكير، عن ابن إسحاق، قال: حدثني عبد الله بن أبي بكر، عن يحيى بن عبد الله بن عبد الرحمن بن أسعد بن زُرارة، عن جده، قال: قُدِمَ بالأُسارى حين قُدِمَ بهم المدينةَ وسَوْدةُ بنت زَمْعة زوج النبي ﷺ عند آل عَفْراء في صِيَاحِهم (1) على عوف ومُعوِّذٍ ابنَي عَفْراء، وذلك قبل أن يُضرب عليهنّ الحجاب، قالت سودة: فوالله إني لَعِندَهم إذ أُتينا فقيل: هؤلاء الأُسارى قد أُتي بهم، فرجعت إلى بيتي ورسول الله ﷺ فيه، فإذا أبو يزيد سُهيل بن عمرو في ناحيةِ الحُجْرة مجموعتان يَداهُ إلى عنقه بحَبْل، فوالله ما مَلَكتُ حين رأيتُ أبا يزيد كذلك أن قلتُ: أي أبا يزيد، أعطَيْتُم بأيدِيكُم! ألا مُتُّم كِرامًا، فما انتهيت إلا بقول رسول الله ﷺ من البيت:"يا سودة، على الله وعلى رسوله؟!" فقلتُ: يا رسول الله، والذي بعثك بالحقِّ، ما مَلَكْتُ حين رأيتُ أبا يزيد مجموعةً يَداهُ إلى عنقه بالحبل أن قلتُ ما قلت (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يخرجاه. وقد اتَّفَقَ الشيخان على إخراج حديث محمد بن فُليح عن موسى بن عُقبة عن ابن شهاب قال: حدثنا أنس بن مالك: أنَّ رجالًا من الأنصار استأذَنُوا رسول الله ﷺ، فقالوا: يا رسول الله، ائذن لنا فلْنَتْرُك لا بن أُختِنا العباس فداءه، فقال:"والله لا تَذَرُونَ درهما" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4305 - على شرط مسلم
سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب (بدر کے) قیدیوں کو مدینہ لایا گیا تو میں اس وقت آلِ عفراء کے ہاں ان کے بیٹوں عوف اور معوذ کی وفات پر تعزیت کے لیے موجود تھی، اور یہ پردے کے احکام نازل ہونے سے پہلے کی بات ہے۔ سیدہ سودہ کہتی ہیں: اللہ کی قسم! میں وہیں تھی جب ہمیں خبر ملی کہ قیدی لائے جا چکے ہیں، چنانچہ میں اپنے گھر آئی جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم موجود تھے، میں نے دیکھا کہ ابو یزید سہیل بن عمرو کمرے کے ایک کونے میں ہے اور اس کے ہاتھ رسی سے گردن کے ساتھ بندھے ہوئے ہیں۔ اللہ کی قسم! میں نے جب اسے اس حالت میں دیکھا تو اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکی اور کہا: اے ابو یزید! تم لوگوں نے اتنی آسانی سے قید قبول کر لی؟ تم عزت کی موت کیوں نہ مر گئے! تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر کے اندر سے آواز دی: اے سودہ! کیا تم اللہ اور اس کے رسول کے خلاف اکسا رہی ہو؟ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا، میں نے جب اسے اس حال میں دیکھا تو بے اختیار ہو کر یہ کہہ دیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اور شیخین نے اس روایت پر اتفاق کیا ہے کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا: انصار کے کچھ مردوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت چاہی اور کہا: یا رسول اللہ! ہمیں اجازت دیں کہ ہم اپنے بھانجے عباس کا فدیہ معاف کر دیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! تم ایک درہم بھی نہیں چھوڑو گے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4351]
تخریج الحدیث: «رجاله لا بأس بهم، لكن الصحيح أنه عن يحيى بن عبد الله بن عبد الرحمن مرسلًا دون ذكر جده عبد الرحمن، وقد انفرد المُصنّف هنا في "المستدرك" بذكره في رواية يونس بن بُكير، فإنَّ البيهقي قد رواه في "سننه الكبرى" 9/ 89 عن أبي عبد الله الحاكم بدونه.» [ترقيم الرساله 4351] [ترقيم الشركة 4328] [ترقيم العلميه 4305]

الحكم على الحديث: رجاله لا بأس بهم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. ذِكْرُ فِدَاءِ أَبِي الْعَاصِ أَرْسَلَتْ بِهِ زَيْنَبُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ
حضرت زینبؓ کا اپنے شوہر ابو العاص کے فدیہ میں مال بھیجنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4352
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بُكير، عن ابن إسحاق، قال: حدثني يحيى بن عباد بن عبد الله بن الزبير، عن أبيه، عن عائشة قالت: لما بَعَثَ أهل مكة في فداء أُساراهم، بَعَثَت زينب بنتُ رسول الله ﷺ في فداء أبي العاص بمالٍ، وبعثت فيه بقلادة كانت خديجة أدخلتها بها على أبي العاص حين بنى عليها، فلما رآها رسول الله ﷺ رَقَّ لها رِقّةً شديدة، وقال:"إن رأيتُم أن تُطلِقُوا لها أسيرها، وتَرُدُّوا عليها الذي لها". وكان رسول الله ﷺ قد أَخَذَ عليه ووَعَدَ رسول الله ﷺ أَن يُخْلِيَ زينبَ إليه (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4306 - على شرط مسلم
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب اہل مکہ نے اپنے قیدیوں کے فدیے کے لیے مال بھیجا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے (اپنے شوہر) ابوالعاص کے فدیے کے لیے کچھ مال بھیجا جس میں وہ ہار بھی تھا جو سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے زینب کی شادی کے وقت انہیں دیا تھا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ ہار دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل پر اس کا گہرا اثر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر شدید رقت طاری ہو گئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم بہتر سمجھو تو زینب کے قیدی کو رہا کر دو اور اس کا مال اسے واپس کر دو۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوالعاص سے یہ عہد لیا تھا اور انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ وہ سیدہ زینب کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس (مدینہ) بھیج دیں گے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4352]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل ابن إسحاق» [ترقيم الرساله 4352] [ترقيم الشركة 4329] [ترقيم العلميه 4306]

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں