🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. ذِكْرُ مَا أُصِيبَ ثَنَايَا أَبِي عُبَيْدَةَ عِنْدَ إِخْرَاجِ حَلْقِ الْمِغْفَرِ عَنْ وَجْنَتَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
غزوۂ اُحد میں حضرت سعدؓ کی تیر اندازی اور نبی کریم ﷺ کی دعا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4362
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بُكَير، عن ابن إسحاق، قال: فحدثني يحيى بن عباد بن عبد الله بن الزُّبير، عن أبيه، عن جده، أنَّ الزُّبير بن العوام قال: والله لقد رأيتُني انظر إلى [خَدَم] (1) هند بنتِ عُتبة وصواحِباتِها مُشمِّراتٍ هَواربَ، ما دونَ أَخْذِهِنّ قليلٌ ولا كثيرٌ، إِذْ مالَتِ الرُّماةُ إلى العسكر حين (2) كشفنا القومَ عنه يُريدُون النَّهْب، وخَلَّوا ظَهْرَنا للخَيلِ، فأُتِينا من أدبارنا، وصرح صارخٌ: ألا إنَّ محمدًا قد قُتِلَ، فانكفأنا وانكفأ القومُ بعد أن أصبنا اللواء حتى ما يَدنُو منه أحدٌ من القوم (1)
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4316 - على شرط مسلم
سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: خدا کی قسم! میں نے ہند بنت عتبہ اور اس کی ساتھیوں کو دیکھا کہ وہ تھوڑی یا زیادہ کوئی بھی چیز لئے بغیر تیزی سے دوڑی جا رہی تھیں اور تیر انداز میدان جنگ میں آ گئے حتی کہ ہم نے قوم کو وہاں سے بھگا دیا، یہ لوگ مال غنیمت لوٹنے کا ارادہ رکھتے تھے اور انہوں نے ہماری پشت گھڑ سواروں کے لئے خالی چھوڑ دی تو ہماری پشت کی جانب سے ہم پر حملہ ہو گیا۔ ادھر ایک آدمی نے چیخ کر کہا: خبردار! محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو شہید کر دیا گیا ہے۔ (یہ خبر سن کر) ہم منتشر ہو گئے اور قوم بھی منتشر ہو گئی۔ حالانکہ اس سے پہلے ہم علم تک پہنچ چکے تھے۔ اس کے بعد پوری قوم میں سے کوئی بھی علم کے قریب نہ پہنچ سکا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4362]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
10. شَهَادَةُ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ وَدُخُولُهُ الْجَنَّةَ وَلَمْ يُصَلِّ صَلَاةً
حضرت عمرو بن قیسؓ کی شہادت اور بغیر نماز پڑھے جنت میں داخل ہونا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4363
أخبرني محمد بن محمد بن الحسن القارِزِيّ (2) ، حدثنا علي بن عبد العزيز، حدثنا حجاج بن مِنْهال، حدثنا حماد بن سَلمة، عن محمد بن عمرو، عن أبي سلمة، عن أبي هريرة: أنَّ عمرو بن أُقيش كان له رِبًا في الجاهلية، وكان يمنعُه ذلك الرِّبا من الإسلام، حتى يأخُذَه ثم يُسلِم، فجاء ذات يوم ورسول الله ﷺ وأصحابه بأحدٍ، فقال: أين سعد بن معاذ، فقيل: بأحدٍ، فقال: أين بنُو أخيه؟ فقيل: بأحدٍ، فسأل عن قومه، فقالوا: بأحدٍ، فأخذ سيفه ورُمحَه، ولبس لأمته، ثم ذهب إلى أُحدٍ، فلما رأوه المسلمون، قالوا: إليك عنا يا عَمْرو، قال: إني قد آمنتُ، فَحَمَلَ فقاتل، فحُمِلَ إلى أهلِه جريحًا، فدخل عليه سعدُ بن مُعاذ، فقال له: جئت غضبًا الله ولرسوله، أم حَمِيّةً وغَضَبًا لقومك؟ فقال: بل جئتُ غَضَبًا الله ولرسوله. فقال أبو هريرة: فدخل الجنة وما صلَّى اللهِ صلاةً (3) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4317 - على شرط مسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ زمانہ جاہلیت میں عمرو بن قیس کا ایک آقا تھا جو کہ ان کو قبول اسلام سے منع کیا کرتا تھا۔ ایک دن وہ آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم احد میں تھے۔ اس نے پوچھا: سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کہاں ہیں؟ اس کو جواب دیا گیا کہ وہ احد میں ہے۔ اس نے پوچھا: اس کے بھتیجے کہاں ہیں؟ جواب ملا: احد میں ہیں۔ پھر اس نے اپنی قوم کے بارے میں پوچھا تو جواب ملا کہ وہ سب بھی احد میں گئے ہوئے ہیں۔ اس نے اپنی تلوار اور نیزہ پکڑا، زرہ پہنی اور احد کی جانب چل پڑا۔ جب مسلمانوں نے اس کو دیکھا تو بولے: اے عمرو تو کیسے آ رہا ہے؟ اس نے بتایا کہ میں ایمان لا چکا ہوں، پھر اس نے جنگ میں شرکت کی اور زخمی حالت میں اس کو اس کے گھر پہنچایا گیا۔ سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ اس کے پاس آئے اور بولے: تم اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر غصہ لے کر آئے تھے یا اپنی قوم کی غیرت اور حمیت کی وجہ سے آئے تھے؟ اس نے کہا: اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر غصہ کی وجہ سے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: یہ جنت میں گیا حالانکہ اس نے کوئی نماز بھی نہیں پڑھی تھی۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4363]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4364
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بُكير، عن ابن إسحاق، قال: حدثني عاصم بن عُمر بن قتادة، عن عبد الرحمن بن جابر بن عبد الله، عن أبيه قال: سمعت رسول الله ﷺ إِذا ذَكَرَ أصحابَ أُحدٍ يقول:"أما واللهِ لَوَدِدتُ أني غُودِرتُ مع أصحابي نُحْصَ الجبل"، يقول: قُتِلتُ معهم (1) .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اصحاب احد کا ذکر کرتے تو فرماتے: خدا کی قسم! میں یہ چاہتا ہوں کہ کاش میں بھی اپنے ساتھیوں کے ہمراہ پہاڑ کے دامن میں ہی رہ گیا ہوتا یعنی ان کے ساتھ شہید ہو گیا ہوتا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4364]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4365
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا أبو بكر بن أبي الدنيا القُرشي، حدثني علي بن شُعيب، حدثنا ابن أبي فديك، أخبرني سليمان بن داود، عن أبيه، عن جعفر بن محمد، عن أبيه، أنَّ أباه علي بن الحسين حدثه عن أبيه: أنَّ فاطمة بنت النبي ﷺ كانت تَزُورُ قبرَ عَمِّها حمزة بن عبد المطلب في الأيام، فتُصلِّي وتبكي عنده (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4319 - سليمان بن داود مدني تكلم فيه
امام جعفر صادق اپنے والد (امام باقر) کے حوالے سے، ان کے والد (امام زین العابدین) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں، ان کے والد سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا عموماً نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کی قبر کی زیارت کے لئے جایا کرتی تھیں اور ان کی قبر کے پاس نماز بھی پڑھتی تھیں اور بہت رویا کرتی تھیں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4365]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
11. رَدُّ جَوَابِ السَّلَامِ مِنْ شُهَدَاءِ أُحُدٍ وَكَلَامُهُمْ
اُحد کے شہداء کی طرف سے سلام کا جواب دینا اور ان کا کلام کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4366
حدثنا أبو بكر إسماعيل بن محمد بن إسماعيل الفقيه بالرّي، حدثنا محمد بن المغيرة السُّكّري، حدثنا عبد الرحمن بن علقمة المَروَزي، حدثنا العَطَّاف بن خالد المخزومي، حدثني عبد الأعلى بن عبد الله بن أبي فروة، عن أبيه: أنَّ النبي ﷺ زار قُبورَ الشهداء بأحدٍ، فقال:"اللهمَّ إِنَّ عَبْدَكَ ونَبيَّك يشهدُ أنَّ هؤلاءِ شُهداء، وأنه مَن زَارَهُم وسلَّم عليهم إلى يوم القيامة رَدُّوا عليه" (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4320 - مرسل
سیدنا عبداللہ بن ابی فروہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے احد میں شہداء کی قبور کی زیارت کی اور کہا: اے اللہ! بے شک تیرا بندہ اور تیرا نبی یہ گواہی دیتا ہے کہ یہ لوگ شہید ہیں اور بے شک قیامت تک جو آدمی بھی ان کی زیارت کرے اور ان کو سلام کرے تو یہ اس کا جواب دیں گے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4366]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4366M
قال العَطَّاف: وحدثتني خالتي أنها زارت قبور الشُّهداء، قالت: وليس معى إلَّا غُلامانِ يَحفَظان على الدابةَ، فسلَّمتُ عليهم، فسمعت ردَّ السلام، قالوا: والله إنا نَعرِفُكم كما يعرف بعضنا بعضًا، قالت: فاقشعررتُ، فقلتُ: يا غُلام، أَدْنِ بَغْلَتي، فركبتُ (1) . هذا إسناد مديني صحيح، ولم يخرجاه.
سیدنا عطاف کہتے ہیں: میری خالہ نے مجھے بتایا کہ انہوں نے شہداء کی قبروں کی زیارت کی، وہ کہتی ہیں: اس دن میرے ساتھ دو غلاموں کے سوا اور کوئی نہ تھا، وہ بھی سواری کی حفاظت پر مامور تھے، وہ کہتی ہیں: میں نے شہداء کو سلام کیا تو میں نے سلام کا جواب سنا۔ جواب یہ آیا کہ خدا کی قسم! ہم تمہیں اسی طرح پہچانتے ہیں جیسے ہم ایک دوسرے کو پہچانتے ہیں۔ آپ فرماتی ہیں: (یہ آواز سن کر) میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ میں نے غلام سے کہا: میرا خچر میرے قریب کرو۔ تو میں اس پر سوار ہو گئی۔ ٭٭ یہ اسناد مدنی ہے، صحیح ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4366M]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4367
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا عباس بن محمد الدُّوري، حدثنا أبو النضر، حدثنا أبو سعيد المُؤدِّب، عن هشام بن عروة، عن أبيه، عن عائشة: أنها قالت لعبد الله بن الزبير: يا ابنَ أُختِي، أما واللهِ إِنَّ أباكَ وجَدَّك - تعني أبا بكر والزبير - لَمِنَ الذين قال الله ﷿: ﴿الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِنْ بَعْدِ مَا أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ﴾ [آل عمران: 172] (2) .
هذا حديث صحيح، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4321 - صحيح
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے کہا: اے میرے بھانجے! خدا کی قسم، بے شک تیرا والد اور نانا یعنی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ ان لوگوں میں سے ہیں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: الَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِلّٰہِ وَالرَّسُوْلِ مِنْ بَعْدِ مَا اَصَابَھُمُ الْقَرْحُ (آل عمران: 172) اور جو اللہ و رسول کے بلانے پر حاضر ہوئے بعد اس کے کہ انہیں زخم پہنچ چکا تھا ۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4367]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12. سُقُوطُ السَّيْفِ مِنْ يَدِ كَافِرٍ يُرِيدُ قَتْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ایک کافر کا نبی کریم ﷺ کو قتل کرنے کا ارادہ اور اس کے ہاتھ سے تلوار گر جانا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4368
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المَحْبُوبي، حدثنا محمد بن معاذ، حدثنا أبو النعمان محمد بن الفضل عارِمٌ، حدثنا أبو عَوَانة، عن أبي بشر، عن سليمان بن قيس، عن جابر بن عبد الله، قال: قاتل رسولُ اللهِ ﷺ مُحارِبَ خَصَفَةَ بنَخْل، فرأوا من المسلمين غِرَّةً، فجاء رجلٌ منهم يُقال له: غَوْرَث (1) بن الحارث، حتى قام على رأسِ رسول الله ﷺ بالسيف، فقال: مَن يَمنعُك مني؟ قال:"الله" قال: فسَقَطَ السيفُ من يده، فأخذ رسول الله ﷺ السيف فقال:"مَن يَمنعُك؟" قال: كُنْ خيرَ آخِذٍ، قال:"تَشْهَدُ أن لا إله إلا الله وأني رسول الله؟" قال الأعرابي: أَعاهِدُك أن لا أقاتلك، ولا أكون مع قومٍ يُقاتِلُونك، قال: فخَلَّى رسول الله ﷺ سَبِيله، فجاء إلى قومه، فقال: جئتكم من عند خير الناسِ، فلما حضرتِ الصلاةُ صلَّى رسول الله ﷺ صلاة الخوف، وكان الناسُ طائفتين، طائفةٌ بإزاء العدو، وطائفةٌ تُصلّي مع رسول الله ﷺ، فصلّى بالطائفة الذين معه ركعتين، فانصرفُوا فكانوا مع أولئك الذين بإزاء عَدُوِّهم، وجاء أولئك فصلى بهم رسول الله ﷺ ركعتين، فكانت للناس ركعتين ركعتين وللنبي ﷺ أربع ركعات (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4322 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجوروں کے جھنڈ سے بنے کچھاروں میں جنگ کی، ان لوگوں نے مسلمانوں کو نا تجربہ کار سمجھا، ان میں غوث بن الحارث نامی ایک آدمی آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سرہانے کھڑا ہو گیا اور تلوار سونت کر بولا: تجھے مجھ سے کون بچائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ۔ تو اس کے ہاتھ سے تلوار چھوٹ کر گر گئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ تلوار پکڑ لی اور فرمایا: تجھے مجھ سے کون بچائے گا؟ اس نے کہا: آپ اچھا پکڑنے والے ہو جائیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور بے شک اللہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ اس نے کہا: میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ نہ تو میں خود آپ کے خلاف لڑوں گا اور نہ آپ کے کسی مخالف کی مدد کروں گا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو چھوڑ دیا۔ وہ اپنی قوم کے پاس آیا اور کہنے لگا: میں اس شخص کے پاس سے آ رہا ہوں جو تمام لوگوں سے اچھا ہے۔ جب نماز کا وقت ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صلاۃ الخوف پڑھی، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم دو جماعتوں میں تقسیم ہو گئے تھے۔ ایک جماعت دشمن کے مقابلے میں کھڑی رہی اور ایک جماعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھنے لگی۔ ان لوگوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دو رکعتیں پڑھیں پھر یہ لوگ وہاں سے ہٹ گئے اور اس جماعت کی جگہ جا کر کھڑے ہو گئے جو دشمن کے سامنے تھی، اور ان لوگوں نے آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دو رکعتیں پڑھیں۔ تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی دو دو رکعتیں (جماعت کے ساتھ) ہوئیں تھیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چار رکعتیں پڑھ چکے تھے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4368]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
13. ذِكْرُ صَلَاةِ الْخَوْفِ عِنْدَ مُقَابَلَةِ الْعَدُوِّ
دشمن کے مقابلے کے وقت نمازِ خوف کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4369
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بكير، عن النضر أبي عُمر، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال: خرج رسول الله ﷺ في غَزَاةٍ فلقي المشركين بعُسْفان، فلما صلَّى رسول الله ﷺ الظهر فرأوه يركع ويسجد هو وأصحابه، قال بعضُهم لبعض: كان هذه فُرصةً لكم، لو أغَرْتُم عليهم ما علموا بكم حتى تُواقِعُوهم، فقال قائل منهم: فإن لهم صلاةً أُخرى هي أحبُّ إليهم من أهليهم وأموالهم، فاستَعِدُّوا حتى تُغِيرُوا عليهم فيها، فأنزل الله ﷿ على نَبيه ﷺ: ﴿وَإِذَا كُنْتَ فِيهِمْ فَأَقَمْتَ لَهُمُ الصَّلَاةَ﴾ إلى آخر الآية [النساء:102] وأعلمه ما ائتمر به المشركون، فلما صلى رسول الله ﷺ العَصْرَ، وكانوا قبالته في القِبْلة، جعلَ المسلمين خَلْفَه صَفّين، فكبر رسول الله ﷺ فكبّروا معه، فذكر صلاةَ الخَوفِ، وقال في آخره: فلما نَظَرَ إليه المُشركون يسجد بعضُهم ويقوم بعضُهم ينظر إليهم، قالوا: لقد أُخبروا بما أرَدْناهم (1) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4323 - على شرط البخاري
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک غزوہ کے سلسلہ میں روانہ ہوئے تو (مقام) عسفان پر مشرکوں کا سامنا ہو گیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ظہر ادا فرمائی تو ان لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو رکوع اور سجود کرتے ہوئے دیکھا تو ایک دوسرے سے کہنے لگے: یہ موقع تمہارے لئے بہت اچھا تھا اگر اسی موقع پر ان پر حملہ کر دیا جاتا تو ان کو کچھ پتہ نہ چلتا اور تم ان پر جا چڑھتے۔ ان میں سے ایک آدمی بولا: ابھی ان کی ایک اور نماز باقی ہے اور وہ نماز تو ان کو اپنے اہل و عیال اور مال و متاع سے بھی زیادہ عزیز ہے۔ تو تم تیار رہو، یہ جیسے ہی نماز شروع کریں تم ان پر حملہ کر دو۔ ادھر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل فرما دی: وَاِذَا کُنْتَ فِیْہِمْ فَاَقَمْتَ لَھُمُ الصَّلاۃَ (النساء: 102) یعنی اللہ تعالیٰ نے صلاۃ الخوف کا حکم نازل فرما دیا۔ چنانچہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز شروع کی وہ لوگ قبلہ کی جانب ہی تھے تو مسلمانوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے دو صفیں بنا لیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تکبیر کہی۔ پھر صلاۃ الخوف کا ذکر کرنے کے بعد آخر میں کہا: جب مشرکین نے ان کو دیکھا کہ ان میں سے کچھ لوگ سجدہ کر رہے ہیں اور باقی ان پر نظر رکھے ہوئے ہیں تو بولے: ان کو ہمارے ارادوں کی خبر دے دی گئی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4369]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
14. مُعْجِزَةُ تَكْثِيرِ الطَّعَامِ فِي بَيْتِ جَابِرٍ بِدُعَائِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
حضرت جابرؓ کے گھر کھانے کی کثرت نبی کریم ﷺ کی دعا سے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4370
أخبرنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا العباس بن محمد الدُّوري، حدثنا أبو عاصم. وأخبرنا أبو عمرو بن أبي جعفر المُقرئ - واللفظ له - حدثنا عبد الله بن محمد بن عبد الرحمن، حدثنا عمرو بن علي، حدثنا أبو عاصم، حدثنا حنظلة بن أبي سفيان، حدثنا سعيد بن ميناء، قال: سمعت جابر بن عبد الله يقول: لما حُفِرَ الخندقُ رأيتُ برسول الله ﷺ خَمصًا شديدًا، قال فانكفأتُ إلى امرأتي، فقلتُ: إني رأيتُ برسول الله ﷺ خمصًا شديدًا، فأخرجت إلى جرابًا فيه صاح من شَعِير، ولنا بُهيمةٌ داجِنٌ، قال: فذبَحْتُها وطَحَنت، فجئتُ رسول الله ﷺ فسارَرتُه، فقلت: يا رسول الله، قد ذبحنا بهيمةً لنا وطحنت صاعًا من شعير كان عندنا، فتعال أنت ونفرٌ معك، قال: فصاح رسول الله ﷺ:"يا أهل الخندق، إنَّ جابرًا قد صَنَعَ سُوْرًا، فحيَّ هَلَا بكم" فقال رسول الله ﷺ:"لا تُنزِلُن برمتكم ولا تَخبِرُنَّ عَجِينتكم حتى أجيء" قال: فجئتُ وجاءَ رسول الله ﷺ، فقدم الناسُ حتى جئتُ امرأتي، فأخرجَتْ له عجينًا، فبصَقَ فيه وبارَكَ، ثم قال:"ادعُو لي خابزةً فلتخبز معك، وأفرِغُوا من بُرمَتِكم ولا تُنزِلُوها"، وهم ألف، فأقسم جابرٌ بالله لا كَلُوا حتى تَرَكُوا وانصرَفُوا، وإِنَّ بُرْمتَنا لتغط كما هي، وإن عجيننا ليُخبَرُ كما هو (1) . هذا لفظ حديث أبي عمرو، في حديث أبي العباس اختصار.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4324 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جب خندق کھودی جا رہی تھی تو میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شدید بھوک لگی ہوئی تھی۔ آپ فرماتے ہیں: میں اپنی بیوی کے پاس گیا اور اس کو بتایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شدید بھوک میں دیکھا ہے۔ اس نے چمڑے کا ایک برتن نکالا، اس میں ایک صاع (تقریباً 2176 گرام) جو موجود تھے اور ہماری ایک چھوٹی بکری تھی، میں نے اس کو ذبح کیا اور جو پیس دیئے، پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے اپنی ایک چھوٹی سی بکری ذبح کی ہے اور ایک صاع (یہ پیمانہ ہے جو دو سیر چودہ چھٹانک اور چار تولہ کے برابر ہوتا ہے تقریبا 2176 گرام) جو پیسے ہیں، اور یہی ہمارے ہاں موجود تھا۔ آپ خود تشریف لے آئیں اور اپنے ہمراہ چند لوگوں کو لے آئیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بآواز بلند پکار کر کہا: اے اہل خندق! بے شک جابر نے تمہارے لئے کھانا تیار کیا ہے۔ اس لئے تمام لوگ آ جاؤ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ہدایت کرتے ہوئے فرمایا: میرے آنے سے پہلے نہ ہانڈی اتارنا اور نہ آٹا پکانا، (سیدنا جابر رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں: میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چل دیئے اور بقیہ لوگ بھی آ گئے، میں نے آپ علیہ السلام کی خدمت میں وہ آٹا پیش کر دیا، آپ نے اس میں اپنا لعاب دہن ڈالا اور دعائے برکت فرما دی، پھر فرمایا روٹیاں پکانے والی کو بلاؤ، وہ تمہارے ساتھ روٹیاں پکوائے اور ہنڈیا میں سے سالن نکالتے رہو، اس کو نیچے مت اتارنا۔ اس دن صحابہ کرام پورے ایک ہزار تھے۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ اللہ کی قسم کھا کر کہتے ہیں: تمام لوگ سیر ہو کر چلے گئے لیکن ہماری ہانڈی اسی طرح بھری ہوئی تھی اور آٹا بھی اسی طرح پکایا جا رہا تھا۔ ٭٭ یہ مذکورہ الفاظ سیدنا ابوعمرو رضی اللہ عنہ کی روایت کے ہیں جبکہ ابوالعباس کے الفاظ اس سے مختصر ہیں۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4370]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں