🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. ذِكْرُ مَا أُصِيبَ ثَنَايَا أَبِي عُبَيْدَةَ عِنْدَ إِخْرَاجِ حَلْقِ الْمِغْفَرِ عَنْ وَجْنَتَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
غزوۂ اُحد میں حضرت سعدؓ کی تیر اندازی اور نبی کریم ﷺ کی دعا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4362
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بُكَير، عن ابن إسحاق، قال: فحدثني يحيى بن عباد بن عبد الله بن الزُّبير، عن أبيه، عن جده، أنَّ الزُّبير بن العوام قال: والله لقد رأيتُني انظر إلى [خَدَم] (1) هند بنتِ عُتبة وصواحِباتِها مُشمِّراتٍ هَواربَ، ما دونَ أَخْذِهِنّ قليلٌ ولا كثيرٌ، إِذْ مالَتِ الرُّماةُ إلى العسكر حين (2) كشفنا القومَ عنه يُريدُون النَّهْب، وخَلَّوا ظَهْرَنا للخَيلِ، فأُتِينا من أدبارنا، وصرح صارخٌ: ألا إنَّ محمدًا قد قُتِلَ، فانكفأنا وانكفأ القومُ بعد أن أصبنا اللواء حتى ما يَدنُو منه أحدٌ من القوم (1)
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4316 - على شرط مسلم
سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں ہندہ بنت عتبہ اور اس کی سہیلیوں کو دیکھ رہا تھا کہ وہ (پنڈلیوں سے) کپڑے اٹھائے ہوئے بھاگ رہی تھیں اور ان کو پکڑنے میں ذرا سی بھی دیر نہ تھی، اسی اثنا میں تیر انداز لشکر گاہ کی طرف مائل ہو گئے جب ہم دشمن کو پیچھے دھکیل چکے تھے، وہ مالِ غنیمت جمع کرنا چاہتے تھے، انہوں نے ہماری پشت کو (دشمن کے) سواروں کے لیے خالی چھوڑ دیا، چنانچہ ہم پر پیچھے سے حملہ کر دیا گیا اور ایک پکارنے والے نے بلند آواز سے پکارا: آگاہ رہو! محمد صلی اللہ علیہ وسلم شہید کر دیے گئے ہیں، اس پر ہم بھی پلٹ پڑے اور دشمن بھی پیچھے ہٹ گیا، حالانکہ اس سے قبل ہم ان کے علمبرداروں کو زیر کر چکے تھے یہاں تک کہ دشمن میں سے کوئی بھی جھنڈے کے قریب نہیں آ رہا تھا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4362]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل ابن إسحاق: وهو محمد بن إسحاق بن يسار.» [ترقيم الرساله 4362] [ترقيم الشركة 4339] [ترقيم العلميه 4316]

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
10. شَهَادَةُ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ وَدُخُولُهُ الْجَنَّةَ وَلَمْ يُصَلِّ صَلَاةً
حضرت عمرو بن قیسؓ کی شہادت اور بغیر نماز پڑھے جنت میں داخل ہونا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4363
أخبرني محمد بن محمد بن الحسن القارِزِيّ (2) ، حدثنا علي بن عبد العزيز، حدثنا حجاج بن مِنْهال، حدثنا حماد بن سَلمة، عن محمد بن عمرو، عن أبي سلمة، عن أبي هريرة: أنَّ عمرو بن أُقيش كان له رِبًا في الجاهلية، وكان يمنعُه ذلك الرِّبا من الإسلام، حتى يأخُذَه ثم يُسلِم، فجاء ذات يوم ورسول الله ﷺ وأصحابه بأحدٍ، فقال: أين سعد بن معاذ، فقيل: بأحدٍ، فقال: أين بنُو أخيه؟ فقيل: بأحدٍ، فسأل عن قومه، فقالوا: بأحدٍ، فأخذ سيفه ورُمحَه، ولبس لأمته، ثم ذهب إلى أُحدٍ، فلما رأوه المسلمون، قالوا: إليك عنا يا عَمْرو، قال: إني قد آمنتُ، فَحَمَلَ فقاتل، فحُمِلَ إلى أهلِه جريحًا، فدخل عليه سعدُ بن مُعاذ، فقال له: جئت غضبًا الله ولرسوله، أم حَمِيّةً وغَضَبًا لقومك؟ فقال: بل جئتُ غَضَبًا الله ولرسوله. فقال أبو هريرة: فدخل الجنة وما صلَّى اللهِ صلاةً (3) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4317 - على شرط مسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عمرو بن اقییش کا دورِ جاہلیت کا کچھ سود لوگوں کے ذمہ واجب الادا تھا اور یہی سود انہیں اسلام قبول کرنے سے روک رہا تھا تاکہ وہ اسے پہلے وصول کر لیں اور پھر اسلام لائیں، وہ ایک دن آئے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ مقامِ احد پر موجود تھے، انہوں نے پوچھا کہ سعد بن معاذ کہاں ہیں؟ بتایا گیا کہ احد میں، پھر پوچھا کہ ان کے بھتیجے کہاں ہیں؟ کہا گیا کہ احد میں، پھر اپنی قوم کے بارے میں دریافت کیا تو لوگوں نے کہا کہ وہ بھی احد میں ہیں، پس انہوں نے اپنی تلوار اور نیزہ پکڑا، زرہ پہنی اور احد کی طرف روانہ ہو گئے، جب مسلمانوں نے انہیں دیکھا تو کہا کہ اے عمرو! ہم سے دور رہو، انہوں نے جواب دیا کہ میں ایمان لا چکا ہوں، پھر انہوں نے بھرپور حملہ کیا اور قتال کیا یہاں تک کہ زخمی حالت میں اپنے گھر والوں کی طرف لائے گئے، سیدنا سعد بن معاذ ان کے پاس آئے اور ان سے پوچھا کہ تم اللہ اور اس کے رسول کی خاطر غصے میں آئے تھے یا اپنی قوم کی حمیت اور غیرت میں؟ انہوں نے جواب دیا کہ بلکہ میں اللہ اور اس کے رسول کی خاطر غصے میں آیا تھا، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ جنت میں داخل ہو گئے حالانکہ انہوں نے اللہ کے لیے ایک بار بھی نماز نہیں پڑھی تھی۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4363]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل محمد بن عمرو» [ترقيم الرساله 4363] [ترقيم الشركة 4340] [ترقيم العلميه 4317]

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4364
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بُكير، عن ابن إسحاق، قال: حدثني عاصم بن عُمر بن قتادة، عن عبد الرحمن بن جابر بن عبد الله، عن أبيه قال: سمعت رسول الله ﷺ إِذا ذَكَرَ أصحابَ أُحدٍ يقول:"أما واللهِ لَوَدِدتُ أني غُودِرتُ مع أصحابي نُحْصَ الجبل"، يقول: قُتِلتُ معهم (1) .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی احد کے ساتھیوں کا تذکرہ کرتے سنا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہی فرماتے تھے: اللہ کی قسم! میری تو یہ تمنا تھی کہ میں بھی اپنے صحابہ کے ساتھ پہاڑ کے دامن میں چھوڑ دیا جاتا (یعنی وہیں شہید ہو جاتا)۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4364]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل ابن إسحاق. وهو مكرر الحديث المتقدم برقم (2438).» [ترقيم الرساله 4364] [ترقيم الشركة 4341]

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4365
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا أبو بكر بن أبي الدنيا القُرشي، حدثني علي بن شُعيب، حدثنا ابن أبي فديك، أخبرني سليمان بن داود، عن أبيه، عن جعفر بن محمد، عن أبيه، أنَّ أباه علي بن الحسين حدثه عن أبيه: أنَّ فاطمة بنت النبي ﷺ كانت تَزُورُ قبرَ عَمِّها حمزة بن عبد المطلب في الأيام، فتُصلِّي وتبكي عنده (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4319 - سليمان بن داود مدني تكلم فيه
امام علی بن حسین اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا (مختلف) دنوں میں اپنے چچا سیدنا حمزہ بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ کی قبر کی زیارت کے لیے جایا کرتی تھیں، وہاں نماز ادا کرتیں اور روتی تھیں۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4365]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف كما تقدم بيانه برقم (1412).» [ترقيم الرساله 4365] [ترقيم الشركة 4342] [ترقيم العلميه 4319]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
11. رَدُّ جَوَابِ السَّلَامِ مِنْ شُهَدَاءِ أُحُدٍ وَكَلَامُهُمْ
اُحد کے شہداء کی طرف سے سلام کا جواب دینا اور ان کا کلام کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4366
حدثنا أبو بكر إسماعيل بن محمد بن إسماعيل الفقيه بالرّي، حدثنا محمد بن المغيرة السُّكّري، حدثنا عبد الرحمن بن علقمة المَروَزي، حدثنا العَطَّاف بن خالد المخزومي، حدثني عبد الأعلى بن عبد الله بن أبي فروة، عن أبيه: أنَّ النبي ﷺ زار قُبورَ الشهداء بأحدٍ، فقال:"اللهمَّ إِنَّ عَبْدَكَ ونَبيَّك يشهدُ أنَّ هؤلاءِ شُهداء، وأنه مَن زَارَهُم وسلَّم عليهم إلى يوم القيامة رَدُّوا عليه" (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4320 - مرسل
سیدنا عبد الاعلی بن عبد اللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے احد کے شہداء کی قبروں کی زیارت کی اور فرمایا: «اللَّهُمَّ إِنَّ عَبْدَكَ وَنَبِيَّكَ يَشْهَدُ أَنَّ هَؤُلَاءِ شُهَدَاءُ، وَأَنَّهُ مَنْ زَارَهُمْ وَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ رَدُّوا عَلَيْهِ» اے اللہ! بے شک تیرا بندہ اور تیرا نبی گواہی دیتا ہے کہ یہ سب شہداء ہیں، اور جو کوئی بھی قیامت کے دن تک ان کی زیارت کرے گا اور انہیں سلام پیش کرے گا، وہ اسے سلام کا جواب دیں گے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4366]
تخریج الحدیث: «ضعيف لاضطرابه كما تقدم بيانه برقم (3014). وأخرجه البيهقي في "دلائل النبوة" 3/ 307 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.» [ترقيم الرساله 4366] [ترقيم الشركة 4343] [ترقيم العلميه 4320]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4366M
قال العَطَّاف: وحدثتني خالتي أنها زارت قبور الشُّهداء، قالت: وليس معى إلَّا غُلامانِ يَحفَظان على الدابةَ، فسلَّمتُ عليهم، فسمعت ردَّ السلام، قالوا: والله إنا نَعرِفُكم كما يعرف بعضنا بعضًا، قالت: فاقشعررتُ، فقلتُ: يا غُلام، أَدْنِ بَغْلَتي، فركبتُ (1) . هذا إسناد مديني صحيح، ولم يخرجاه.
عطاف بیان کرتے ہیں کہ مجھے میری خالہ نے بتایا کہ انہوں نے شہداء کی قبروں کی زیارت کی، وہ کہتی ہیں کہ میرے ساتھ سوائے دو لڑکوں کے اور کوئی نہ تھا جو سواری کی حفاظت کر رہے تھے، میں نے شہداء کو سلام کیا تو میں نے ان کے سلام کا جواب سنا، انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم تمہیں ایسے ہی پہچانتے ہیں جیسے ہم ایک دوسرے کو پہچانتے ہیں، وہ کہتی ہیں کہ (یہ سن کر) مجھ پر کپکپی طاری ہو گئی، میں نے کہا: اے لڑکے! میری خچر قریب لاؤ، اور میں سوار ہو کر واپس آ گئی۔
یہ اسناد مدنی راویوں کے اعتبار سے صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4366M]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 4366M] [ترقيم الشركة 4343/1]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4367
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا عباس بن محمد الدُّوري، حدثنا أبو النضر، حدثنا أبو سعيد المُؤدِّب، عن هشام بن عروة، عن أبيه، عن عائشة: أنها قالت لعبد الله بن الزبير: يا ابنَ أُختِي، أما واللهِ إِنَّ أباكَ وجَدَّك - تعني أبا بكر والزبير - لَمِنَ الذين قال الله ﷿: ﴿الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِنْ بَعْدِ مَا أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ﴾ [آل عمران: 172] (2) .
هذا حديث صحيح، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4321 - صحيح
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اے میرے بھانجے! اللہ کی قسم! تمہارے والد (زبیر) اور تمہارے نانا (ابوبکر) یقیناً ان لوگوں میں سے تھے جن کے بارے میں اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا ہے: ﴿الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِنْ بَعْدِ مَا أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ﴾ [آل عمران: 172] وہ لوگ جنہوں نے زخم کھانے کے بعد بھی اللہ اور رسول کے حکم کو مانا۔
یہ حدیث صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4367]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وهو مكرر ما تقدم برقم (3204). وأبو النضر: هو هاشم بن القاسم.» [ترقيم الرساله 4367] [ترقيم الشركة 4344] [ترقيم العلميه 4321]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12. سُقُوطُ السَّيْفِ مِنْ يَدِ كَافِرٍ يُرِيدُ قَتْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ایک کافر کا نبی کریم ﷺ کو قتل کرنے کا ارادہ اور اس کے ہاتھ سے تلوار گر جانا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4368
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المَحْبُوبي، حدثنا محمد بن معاذ، حدثنا أبو النعمان محمد بن الفضل عارِمٌ، حدثنا أبو عَوَانة، عن أبي بشر، عن سليمان بن قيس، عن جابر بن عبد الله، قال: قاتل رسولُ اللهِ ﷺ مُحارِبَ خَصَفَةَ بنَخْل، فرأوا من المسلمين غِرَّةً، فجاء رجلٌ منهم يُقال له: غَوْرَث (1) بن الحارث، حتى قام على رأسِ رسول الله ﷺ بالسيف، فقال: مَن يَمنعُك مني؟ قال:"الله" قال: فسَقَطَ السيفُ من يده، فأخذ رسول الله ﷺ السيف فقال:"مَن يَمنعُك؟" قال: كُنْ خيرَ آخِذٍ، قال:"تَشْهَدُ أن لا إله إلا الله وأني رسول الله؟" قال الأعرابي: أَعاهِدُك أن لا أقاتلك، ولا أكون مع قومٍ يُقاتِلُونك، قال: فخَلَّى رسول الله ﷺ سَبِيله، فجاء إلى قومه، فقال: جئتكم من عند خير الناسِ، فلما حضرتِ الصلاةُ صلَّى رسول الله ﷺ صلاة الخوف، وكان الناسُ طائفتين، طائفةٌ بإزاء العدو، وطائفةٌ تُصلّي مع رسول الله ﷺ، فصلّى بالطائفة الذين معه ركعتين، فانصرفُوا فكانوا مع أولئك الذين بإزاء عَدُوِّهم، وجاء أولئك فصلى بهم رسول الله ﷺ ركعتين، فكانت للناس ركعتين ركعتين وللنبي ﷺ أربع ركعات (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4322 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نخل کے مقام پر (قبیلہ) محارب خصفہ سے قتال فرمایا، ان لوگوں نے مسلمانوں میں غفلت کا ایک موقع پایا تو ان میں سے ایک شخص جس کا نام غورث بن حارث تھا، وہ اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک پر تلوار تانے کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا: اب آپ کو مجھ سے کون بچائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (بغیر کسی خوف کے) فرمایا: اللہ، یہ سنتے ہی تلوار اس کے ہاتھ سے گر گئی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہی تلوار اٹھا لی اور اس سے پوچھا: اب تجھے (مجھ سے) کون بچائے گا؟ اس نے (عاجزی سے) کہا: آپ بہترین بدلہ لینے والے بن جائیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں؟ اس اعرابی نے جواب دیا: میں آپ سے یہ عہد کرتا ہوں کہ میں نہ تو آپ سے قتال کروں گا اور نہ ہی ان لوگوں کا ساتھ دوں گا جو آپ کے خلاف جنگ کریں گے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا راستہ چھوڑ دیا، وہ جب اپنی قوم کے پاس پہنچا تو کہنے لگا: میں تمہارے پاس اس شخصیت کے پاس سے آیا ہوں جو تمام لوگوں میں سب سے بہتر ہے، پھر جب نماز کا وقت ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صلاۃ الخوف (خوف کی نماز) پڑھائی، صحابہ کرام دو گروہوں میں منقسم تھے، ایک گروہ دشمن کے سامنے صف آرا تھا اور دوسرا گروہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز ادا کر رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھ والے گروہ کو دو رکعتیں پڑھائیں، پھر وہ اپنی جگہ سے ہٹ کر دشمن کے سامنے چلے گئے، پھر دوسرا گروہ آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھی دو رکعتیں پڑھائیں، یوں صحابہ کی دو دو رکعتیں ہوئیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کل چار رکعتیں ہوئیں۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4368]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وسليمان بن قيس - وهو اليشكري - جزم أحمد وابن معين بأنه قتل أيام ابن الزبير، أي: قبل وفاة جابر بن عبد الله، لهذا جزم البخاري في "علل الترمذي الكبير" (550) بأنَّ أبا بشر - وهو جعفر بن أبي وَحْشِيَّة - لم يسمع من سليمان، بل قال ابن ...» [ترقيم الرساله 4368] [ترقيم الشركة 4345] [ترقيم العلميه 4322]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
13. ذِكْرُ صَلَاةِ الْخَوْفِ عِنْدَ مُقَابَلَةِ الْعَدُوِّ
دشمن کے مقابلے کے وقت نمازِ خوف کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4369
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بكير، عن النضر أبي عُمر، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال: خرج رسول الله ﷺ في غَزَاةٍ فلقي المشركين بعُسْفان، فلما صلَّى رسول الله ﷺ الظهر فرأوه يركع ويسجد هو وأصحابه، قال بعضُهم لبعض: كان هذه فُرصةً لكم، لو أغَرْتُم عليهم ما علموا بكم حتى تُواقِعُوهم، فقال قائل منهم: فإن لهم صلاةً أُخرى هي أحبُّ إليهم من أهليهم وأموالهم، فاستَعِدُّوا حتى تُغِيرُوا عليهم فيها، فأنزل الله ﷿ على نَبيه ﷺ: ﴿وَإِذَا كُنْتَ فِيهِمْ فَأَقَمْتَ لَهُمُ الصَّلَاةَ﴾ إلى آخر الآية [النساء:102] وأعلمه ما ائتمر به المشركون، فلما صلى رسول الله ﷺ العَصْرَ، وكانوا قبالته في القِبْلة، جعلَ المسلمين خَلْفَه صَفّين، فكبر رسول الله ﷺ فكبّروا معه، فذكر صلاةَ الخَوفِ، وقال في آخره: فلما نَظَرَ إليه المُشركون يسجد بعضُهم ويقوم بعضُهم ينظر إليهم، قالوا: لقد أُخبروا بما أرَدْناهم (1) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4323 - على شرط البخاري
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک غزوے کے لیے نکلے تو مقامِ عسفان پر مشرکین سے سامنا ہوا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اپنے صحابہ کے ساتھ) ظہر کی نماز ادا کی اور مشرکین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور صحابہ کو ایک ساتھ رکوع و سجود کرتے دیکھا تو وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے: یہ تمہارے لیے حملہ کرنے کا بہترین موقع تھا، اگر تم ان پر اچانک ٹوٹ پڑتے تو انہیں تمہارے ارادوں کی خبر تک نہ ہوتی، پھر ان میں سے ایک شخص نے مشورہ دیا: یقیناً ان کی ایک اور نماز (عصر) آنے والی ہے جو انہیں ان کی اولاد اور مال و دولت سے بھی زیادہ محبوب ہے، لہٰذا تم مکمل تیاری کر لو تاکہ اس وقت ان پر یکبارگی حملہ کر سکو، اس موقع پر اللہ عزوجل نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل فرمائی: ﴿وَإِذَا كُنْتَ فِيهِمْ فَأَقَمْتَ لَهُمُ الصَّلَاةَ﴾ [سورة النساء: 102] اور جب آپ ان میں موجود ہوں اور ان کے لیے نماز قائم کریں، اور اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مشرکین کی اس سازش سے باخبر کر دیا، چنانچہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھائی اور مشرکین قبلے کی سمت میں سامنے ہی موجود تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو اپنے پیچھے دو صفوں میں کھڑا کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیرِ تحریمہ کہی تو سب نے آپ کے ساتھ تکبیر کہی، پھر راوی نے صلاۃ الخوف کا مکمل طریقہ ذکر کیا اور اس کے آخر میں بیان کیا: جب مشرکین نے یہ دیکھا کہ مسلمانوں میں سے کچھ سجدہ کر رہے ہیں اور کچھ کھڑے ہو کر ان کی نگرانی کر رہے ہیں، تو وہ (حیران ہو کر) کہنے لگے: یقیناً انہیں ہمارے ارادوں کی اطلاع دے دی گئی ہے۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4369]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًّا من أجل النضر أبي عمر» [ترقيم الرساله 4369] [ترقيم الشركة 4346] [ترقيم العلميه 4323]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
14. مُعْجِزَةُ تَكْثِيرِ الطَّعَامِ فِي بَيْتِ جَابِرٍ بِدُعَائِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
حضرت جابرؓ کے گھر کھانے کی کثرت نبی کریم ﷺ کی دعا سے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4370
أخبرنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا العباس بن محمد الدُّوري، حدثنا أبو عاصم. وأخبرنا أبو عمرو بن أبي جعفر المُقرئ - واللفظ له - حدثنا عبد الله بن محمد بن عبد الرحمن، حدثنا عمرو بن علي، حدثنا أبو عاصم، حدثنا حنظلة بن أبي سفيان، حدثنا سعيد بن ميناء، قال: سمعت جابر بن عبد الله يقول: لما حُفِرَ الخندقُ رأيتُ برسول الله ﷺ خَمصًا شديدًا، قال فانكفأتُ إلى امرأتي، فقلتُ: إني رأيتُ برسول الله ﷺ خمصًا شديدًا، فأخرجت إلى جرابًا فيه صاح من شَعِير، ولنا بُهيمةٌ داجِنٌ، قال: فذبَحْتُها وطَحَنت، فجئتُ رسول الله ﷺ فسارَرتُه، فقلت: يا رسول الله، قد ذبحنا بهيمةً لنا وطحنت صاعًا من شعير كان عندنا، فتعال أنت ونفرٌ معك، قال: فصاح رسول الله ﷺ:"يا أهل الخندق، إنَّ جابرًا قد صَنَعَ سُوْرًا، فحيَّ هَلَا بكم" فقال رسول الله ﷺ:"لا تُنزِلُن برمتكم ولا تَخبِرُنَّ عَجِينتكم حتى أجيء" قال: فجئتُ وجاءَ رسول الله ﷺ، فقدم الناسُ حتى جئتُ امرأتي، فأخرجَتْ له عجينًا، فبصَقَ فيه وبارَكَ، ثم قال:"ادعُو لي خابزةً فلتخبز معك، وأفرِغُوا من بُرمَتِكم ولا تُنزِلُوها"، وهم ألف، فأقسم جابرٌ بالله لا كَلُوا حتى تَرَكُوا وانصرَفُوا، وإِنَّ بُرْمتَنا لتغط كما هي، وإن عجيننا ليُخبَرُ كما هو (1) . هذا لفظ حديث أبي عمرو، في حديث أبي العباس اختصار.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4324 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب خندق کھودی جا رہی تھی تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شکم مبارک پر بھوک کی وجہ سے شدید سکڑاؤ (گڑھے) دیکھے، میں تیزی سے اپنی اہلیہ کے پاس پہنچا اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو انتہائی سخت بھوک کی حالت میں دیکھا ہے، میری اہلیہ نے ایک تھیلی نکالی جس میں ایک صاع جو تھے اور ہمارے پاس گھر میں پلا ہوا ایک چھوٹا بکری کا بچہ تھا، میں نے اسے ذبح کیا اور آٹا پیسا، پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور آپ کے کان میں چپکے سے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہم نے اپنا ایک چھوٹا جانور ذبح کیا ہے اور ہمارے پاس جو ایک صاع جو تھا اسے پیس لیا ہے، لہٰذا آپ اور چند افراد ساتھ تشریف لائیں، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند آواز سے پکارا: اے اہل خندق! جابر نے کھانے کی دعوت تیار کی ہے، لہٰذا تم سب جلدی آ جاؤ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: جب تک میں نہ آ جاؤں، نہ تو اپنی ہانڈی چولہے سے اتارنا اور نہ ہی آٹے کی روٹیاں پکانا، میں گھر پہنچا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لائے، لوگ (گروہ در گروہ) آنے لگے یہاں تک کہ میں اپنی اہلیہ کے پاس گیا، انہوں نے گوندھا ہوا آٹا نکال کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں اپنا لعابِ دہن ڈالا اور برکت کی دعا فرمائی، پھر فرمایا: کسی روٹی پکانے والی کو بلا لو تاکہ وہ تمہارے ساتھ روٹیاں پکائے اور اپنی ہانڈی سے سالن نکالتے رہو مگر اسے چولہے سے نیچے نہ اتارنا، جبکہ صحابہ کی تعداد ایک ہزار تھی، جابر رضی اللہ عنہ اللہ کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ ان سب نے پیٹ بھر کر کھانا کھایا یہاں تک کہ وہ کھانا چھوڑ کر واپس چلے گئے، جبکہ ہماری ہانڈی اسی طرح (سالن سے بھری) جوش مار رہی تھی اور ہمارا آٹا اسی طرح (باقی) تھا کہ اس سے روٹیاں پکائی جا رہی تھیں۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4370]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،أبو عاصم: هو الضحاك بن مخلد.» [ترقيم الرساله 4370] [ترقيم الشركة 4347] [ترقيم العلميه 4324]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں