المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
15. إِرْسَالُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانِ لِتَفْتِيشِ حَالِ الْعَدُوِّ
نبی کریم ﷺ کا حضرت حذیفہؓ کو دشمن کی خبر لینے کے لیے بھیجنا
حدیث نمبر: 4371
أخبرنا أبو بكر أحمد بن كامل القاضي، حدثنا عيسى بن عبد الله الطَّيالسي، حدثنا أبو نُعيم الفضل بن دكين، حدثنا يوسف بن عبد الله بن أبي بردة، عن موسى بن [أبي] (1) المختار، عن بلالٍ العبسي، عن حذيفة بن اليمان: أنَّ الناس تَفَرَّقُوا عن رسول الله ﷺ ليلة الأحزاب، فلم يبق معه إلَّا اثنا عشر رجلًا فأتاني رسول الله ﷺ وأنا جاثي من البَرْدِ، وقال:"يا ابن اليمان، قم فانطَلِقْ إلى عَسْكَر الأحزاب، فانظُرْ إلى حالهم" قلتُ: يا رسول الله، والذي بعثك بالحقِّ، ما قُمْتُ إليك إلَّا حَياءً منكَ مِنَ البَرْدِ، قال:"فابرُزِ الحَرّةَ وبَرْدَ الصُّبْح (2) ، انطلق يا ابنَ اليمان، فلا بأسَ عليكَ من حَرٍّ ولا بَرْدٍ حتى تَرجِعَ إِليَّ". قال: فانطلقتُ إلى عَسْكَرهم فوجدتُ أبا سفيان يُوقِد النارَ في عُصبةٍ حوله، قد تفرّق الأحزاب عنه، قال: حتى إذا جلستُ فيهم، قال: فحسَّ (3) أبو سفيان أنه دَخَل فيهم مِن غَيْرِهم، قال: يأخذُ كُلُّ رجل منكُم بيدِ جليسه، قال: فضربتُ بيدي على الذي عن يميني وأخذْتُ بيده، ثم ضربت بيدِي على الذي عن يساري فأخذتُ بيده، فلبثْتُ فيهم هنيَّةً ثم قمتُ، فأتيت رسول الله ﷺ وهو قائمٌ يُصلّي، فأومأ إلي بيده: أن ادْنُ، فدنَوتُ، ثم أومأ إليّ أيضًا: أنِ ادْنُ، فدنَوتُ، حتى أسبَلَ عليَّ من الثوب الذي كان عليه وهو يُصلِّي، فلما فرغ من صلاته، قال:"ابن اليمان، اقعد ما الخبرُ؟" قلت: يا رسول الله، تفرّق الناسُ عن أبي سفيان، فلم يَبْقَ إِلَّا عُصبةٌ تُوقِدُ النار، قد صبَّ الله عليه من البَرْدِ مثل الذي صب علينا، ولكنّا نَرجُو من الله ما لا يَرجُو (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4325 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4325 - صحيح
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: احزاب کی رات تمام لوگ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ سے نکل گئے اور آپ کے پاس صرف 12 آدمی رہ گئے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، میں اس وقت سردی کی وجہ سے دو زانو بیٹھا ہوا تھا۔ آپ نے فرمایا: اے ابن یمان، احزاب کے مجمع کی طرف اور ان کی صورت حال معلوم کر کے آؤ۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں آپ کے استقبال کے لئے صرف سردی کی وجہ سے کھڑا نہیں ہو سکا۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا: تم گرمی سے نکل جاؤ اور صبح کو ٹھنڈا کر دو۔ اے ابن الیمان! تم جاؤ، اور تمہارے میرے پاس واپس آنے تک نہ تمہیں گرمی کچھ کہے گی اور نہ سردی سے تمہیں کوئی نقصان ہو گا (سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں: میں ان کے مجمع میں جا گھسا۔ اس وقت ابوسفیان کے اردگرد کچھ نوجوان بیٹھے ہوئے تھے اور وہ آگ جلا رہا تھا، باقی فوجیں وہاں سے متفرق ہو چکی تھیں۔ میں ان کے اندر جا کر بیٹھ گیا۔ ابوسفیان کو کھٹکا ہوا کہ ان میں کوئی غیر آدمی آیا ہے، اس نے کہا: ہر آدمی اپنے ساتھ والے کا ہاتھ پکڑ لے (سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں: میں نے اپنے دائیں والے کو ٹٹول کر اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور پھر بائیں جانب ٹٹول کر اس کا ہاتھ بھی پکڑ لیا پھر میں کچھ دیر وہاں بیٹھا رہا اور پھر وہاں سے اٹھ کر آ گیا۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارے سے اپنے قریب ہونے کو کہا۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہو گیا۔ آپ نے پھر مزید قریب ہونے کا اشارہ کیا۔ میں مزید قریب ہو گیا حتی کہ آپ علیہ السلام نے دوران نماز ہی وہ کپڑا میرے اوپر بھی ڈال دیا جو آپ خود اوڑھے ہوئے تھے۔ جب آپ علیہ السلام نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: اے ابن یمان! بیٹھ جاؤ، اور سناؤ، کیا خبر لائے ہو؟ میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام لوگ ابوسفیان کو چھوڑ کر جا چکے ہیں اور اس کے پاس چند لوگ موجود ہیں، وہ آگ جلائے بیٹھے ہیں۔ اللہ نے ان پر بھی اتنی سخت سردی ڈالی ہے جتنی ہم پر ڈالی ہے۔ لیکن (فرق یہ ہے کہ) ہمیں اللہ تعالیٰ سے جو امید ہے، اس سے وہ لوگ محروم ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4371]
16. ذِكْرُ مُبَارَزَةِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَمْرَو بْنَ عَبْدِ وُدٍّ
حضرت علیؓ کا عمرو بن عبد ود سے مقابلہ
حدیث نمبر: 4372
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بكير، عن محمد بن عبد الرحمن، عن الحَكَم، عن مِقْسَم، عن ابن عبّاس قال: قُتِلَ رجلٌ من المشركين يوم الخندق، فطَلَبُوا أن يُوارُوه، فأبى رسول الله ﷺ حتى أعطوه الدية. وقُتِل من بني عامر بن لؤيٍّ عمرُو بنُ عبدِ وَدٍّ، قتله علي بن أبي طالب مُبارَزَةً (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه. وله شاهد عجيبٌ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4326 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه. وله شاهد عجيبٌ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4326 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جنگ خندق کے دن ایک مشرک مارا گیا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس کو چھپا دینا چاہا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کر دیا اور اس کی دیت ادا کروائی، اوربنی عامر بن لؤی قبیلہ کا عمرو بن عبد ود مارا گیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس کو جنگ میں طلب کر کے قتل کیا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4372]
حدیث نمبر: 4373
حدثنا لُؤلؤ بن عبد الله المُقتَدِري، في قصر الخليفة ببغداد، حدثنا أبو الطيب أحمد بن إبراهيم بن عبد الوهاب المصري بدمشق، حدثنا أحمد بن عيسى الخَشّاب بتِنِّيس، حدثنا عمرو بن أبي سلمة، حدثنا سفيان الثَّوْري، عن بهز بن حكيم، عن أبيه، عن جده، قال: قال رسول الله ﷺ:"لَمُبارزةُ عليِّ بن أبي طالب لعمرو بن عبد وَدٍّ يوم الخندق أفضل من أعمال أمتي إلى يوم القيامة" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4327 - قبح الله رافضيا افتراه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4327 - قبح الله رافضيا افتراه
سیدنا بہز بن حکیم اپنے والد سے، وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جنگ خندق کے دن سیدنا علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا عمرو بن عبد ود کو جنگ کیلئے پکارنا قیامت تک میری امت کے تمام اعمال سے افضل ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4373]
حدیث نمبر: 4374
فحدثنا إسماعيل بن محمد بن الفضل الشَّعْرانِي، حدثنا جَدِّي، حدثنا إبراهيم بن المنذر الحزامي، حدثنا محمد بن فليح، عن موسى بن عقبة، عن ابن شِهَاب، قال: قُتِلَ من المشركين يوم الخندق عمرو بن عبد وَدٍّ، قتله عليُّ بن أبي طالب ﵁ (2) . إسناد هذا المغازي صحيح على شرط الشيخين.
ابن شہاب کہتے ہیں: خندق کے دن مشرکین میں سے عمرو بن عبد ود قتل کیا گیا اور اس کو سیدنا علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے قتل کیا تھا۔ ٭٭ اس غزوہ کی سند شیخین رحمۃ اللہ علیہما کے معیار کے مطابق ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4374]
17. قَتْلُ عَلِيٍّ عَمْرَو بْنَ عَبْدِ وُدٍّ رَأْسَ الْكُفَّارِ
حضرت علیؓ کا عمرو بن عبد ود سردارِ کفار کو قتل کرنا
حدیث نمبر: 4375
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بكير، عن ابن إسحاق، قال: كان عمرو بن عبد وَد ثالث قريش (3) ، وكان قد قاتَلَ يومَ بدرٍ حتى أثبتته الجراحةُ، ولم يشهد أحدًا، فلما كان يوم الخندق خرجَ مُعْلِمًا ليُرى مَشهَدُه، فلما وقَفَ هو وخيله قال له عليٌّ: يا عمرو، قد كنتَ تُعاهِدُ الله لقريشٍ أن لا يدعُو رجلٌ إلى خَلَّتين إلَّا قَبلْتَ منه أحداهما، فقال عمرو: أجل، فقال له عليٌّ: فإني أدعُوك إلى الله ﷿ وإلى رسوله ﷺ والإسلام، فقال: لا حاجة لي في ذلك، قال: فإني أدعُوك إلى البِرازِ، قال: يا ابن أخي، لِمَ؟ فوالله ما أُحِبُّ أن أقتُلَكَ، فقال عليٌّ: لكني واللهِ أُحبُّ أن أقتُلَكَ، فَحَمِيَ عَمرو فاقتحم عن فرسه فعَقَرَه، ثم أقبل فجاء إلى عليّ، وقال: من يُبارزُ، فقام عليٌّ وهو مُقنَّع في الحديد، فقال: أنا له يا نبي الله، فقال: إنه عَمرو بن عبد ودٍّ، اجلس، فنادى عمرو: ألَا رَجُلٌ، فأذِنَ له رسول الله ﷺ، فمشى إليه علي وهو يقول: لا تَعجَلَنَّ فقد أتا … كَ مُجيب صوتك غير عاجِزْ ذو نِيّة وبَصيرة … والصدقُ مَنْجا كل فائزْ إني لأرجو أن أُقِيـ … م عليك نائحة الجنائزْ مِن ضَرْبةٍ نجلاء يب … قى ذِكْرُها عند الهَزاهِزْ فقال له: عمرو: مَن أنت؟ قال: أنا عليٌّ، قال: ابن من؟ قال: ابن عبد مناف، أنا علي بن أبي طالب، فقال: عندك يا ابن أخي من أعمامك من هو أسن منك، فانصرف فإني أكره أن أُهريق دمك، فقال علي: لكني والله ما أكره أن أُهريق دمك، فغضب، فنزل فسَلَّ سيفه كأنه شُعله نارٍ، ثم أقبل نحو عليٍّ مُغضَبًا واستقبله عليٌّ بدَرَقَتِه، فضربه عمرو في الدَّرَقة فقَدَّها وأثبت فيها السيف، وأصاب رأسَه فشَجَّه، وضربه علي على حبل العاتق، فسقط وثارَ العَجَاجُ، فسمع رسول الله ﷺ التكبير، فعرف أنَّ عليًّا قتله، فثَمّ يقول عليٌّ: أعليَّ يَقتحم الفَوارِسُ هكذا … عني وعنهم أخَّرُوا أصحابي اليومَ يَمنعُني الفِرارَ حَفِيظَتي … ومُصَمِّمٌ في الرأس ليس بِنَابِي آلى ابن عَبدٍ حينَ شَدَّ أَلِيَّةً … وحلفتُ فاستمعوا من الكذاب أنْ لا أُصدِّقَ مَن يُهلِّلُ فالْتَقَى (1) … رجُلانِ يضطربان كل ضراب فصدَرْتُ حين تركتُه مُتجدِّلًا … كالجذع بين دكادِكِ وروابي وعَفَفْتُ عن أثوابه وَلَوَ انَّني … كنتُ المُقطَّرَ بَزَّني (2) أَثوابي عَبَدَ الحجارة من سَفَاهِةِ عَقْلِهِ … وعَبَدْتُ ربَّ محمدٍ بصَوابِ ثم أقبل على نحو رسول الله ﷺ ووجهه يتهلل، فقال عمر بن الخطاب: هلا استَلَبْتَه دِرْعَه، فليس للعرب دِرْعٌ خيرٌ (1) منها، فقال: ضربته فاتقاني بسَواتِه، فَاسْتَحْييتُ ابنَ عَمِّي أَن أَستَلِبَه، وخَرجَتْ خَيلُه مُنهزمةً حتى أقحَمَتْ من الخَندق (2) .
ابن اسحاق کہتے ہیں: عمرو بن عبد ود قریش کا ثالث تھا، اس نے بدر کا معرکہ لڑا تھا اور اس میں زخمی بھی ہوا تھا پھر یہ احد میں نہیں آیا تھا۔ جب خندق کا موقع آیا تو یہ اپنے جنگی جواہر دکھانے کے لئے اعلان کرتا ہوا نکلا، جب وہ اپنے گھوڑے سمیت کھڑا ہوا، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا: اے عمرو! تو نے قریش سے عہد کر رکھا ہے کہ کوئی آدمی بھی اس سے دو چیزیں مانگے گا تو، تو اس کی ایک قبول کر لے گا، عمرو نے کہا: جی ہاں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تجھے اللہ، اس کے رسول اور اسلام کی دعوت دیتا ہوں۔ اس نے کہا: مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تو پھر میں تجھے جنگ کی دعوت دیتا ہوں۔ اس نے کہا: اے میرے چچا کے بیٹے! کیوں؟ خدا کی قسم! میں تجھے قتل نہیں کرنا چاہتا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: لیکن تجھے قتل کرنا مجھے بہت پسند ہے۔ (یہ سن کر) وہ آگ بگولا ہو گیا، وہ گھوڑے کو حقیر جانتے ہوئے اس سے نیچے اترا اور اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی جانب بڑھنے لگا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے ساتھ کون لڑے گا؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ لوہے کا لباس پہنے ہوئے اٹھ کر کھڑے ہوئے اور عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ساتھ میں لڑوں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ عمرو بن عبد ود ہے تم بیٹھ جاؤ۔ عمرو نے پھر آواز دی: کیا کوئی مرد نہیں ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اجازت دی۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ درج ذیل اشعار پڑھتے ہوئے اس کی جانب بڑھے۔ تو جلد بازی نہ کر، بے شک تیرا چیلنج قبول کرنے والا آ گیا ہے اور وہ عاجز نہیں ہے جو کہ دانائی، بصیرت اور سچائی والا ہے۔ بے شک میں امید رکھتا ہوں کہ میں تجھ پر جنازوں پر رونے والیاں کھڑی کر دوں گا۔ ایسی چوڑی ضرب کے ساتھ جس کا ذکر جنگوں میں باقی رہے گا۔ عمرو بولا: تم کون ہو؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں علی ہوں۔ اس نے کہا: کس کا بیٹا؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: عبد مناف کی اولاد میں سے۔ میں ابوطالب کا بیٹا ہوں۔ اس نے کہا: میرے چچا کے بیٹے تمہارے پاس تمہارے چچے موجود ہیں جو تم سے بڑے بھی ہیں۔ اس لئے تو واپس چلا جا، کیونکہ میں تیرا خون بہانا اچھا نہیں سمجھتا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا لیکن خدا کی قسم تیرا خون بہانا مجھے ہرگز ناپسند نہیں ہے، (اس بات پر) اس کو شدید غصہ آ گیا۔ اس نے تلوار لہرائی گویا کہ آگ کا شعلہ ہو پھر وہ بہت غصے کی حالت میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی جانب بڑھا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنی ڈھال اس کے آگے کر دی، عمرو نے ڈھال پر تلوار ماری تو یہ تلوار کو چیرتی ہوئی آپ کے سر تک پہنچی جس سے آپ کے سر میں زخم ہو گیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس کے کندھے کی رگ پر وار کیا (جو کہ کاری ثابت ہوا) اور وہ گر گیا اور گردوغبار پھیل گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کی آواز سنی تو سمجھ گئے کہ علی رضی اللہ عنہ نے اس کو مار ڈالا ہے۔ اس موقع پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے یہ اشعار پڑھے: اے علی! جنگجو ہمیں یوں حقیر جانتے ہیں اور میرے ان ساتھیوں کو جو میرے پیچھے ہیں۔ آج میرے جذبہ حمیت نے مجھے فرار سے روکا اور میرے سر کا زخم میرے لئے کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے۔ مگرابن عبد ود کو جب مارا گیا اور میں نے قسم کھائی تو تم غور سے کتاب سنو۔ دو سخت لڑائی کرنے والوں میں سے میں اس کی تصدیق کرتا ہوں جو متقی ہو۔ جب میں نے اس کو زمین پر ٹپکایا ہوا چھوڑا تو وہ ایسا ہو گیا جیسے انسانی دھڑ سخت زمین اور محتاجی کے درمیان ہو۔ اور میں اس کے کپڑوں سے بچ کر رہا اگر میں ان کو اتار لیتا تو میرے کپڑوں کے برابر ہوتے۔ وہ اپنی بے وقوفی کی وجہ سے پتھروں کی عبادت کرتا ہے اور میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے برحق رب کی درست عبادت کرتا ہوں۔ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آئے، تو ان کا چہرہ چمک رہا تھا۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: تم نے اس کی زرہ کیوں نہ اتار لی؟ کیونکہ اس کی زرہ سے اچھی زرہ پورے عرب میں نہیں ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے اس پر ضرب لگائی، اس نے اپنا لاشہ مجھ سے بچانے کی کوشش کی۔ تو مجھے اس بات سے حیاء آئی کہ میں اپنے چچا کے بیٹے کی زرہ اتاروں اور اس کا گھوڑا واپس بھاگا تو خندق میں جا گرا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4375]
حدیث نمبر: 4376
حدثنا أبو بكر بن أبي دارم الحافظ، حدثنا المنذر بن محمد اللخمي، حدثنا أبي، حدثنا يحيى بن محمد بن عباد بن هانئ، عن محمد بن إسحاق بن يَسار قال: حدثني عاصم بن عُمر بن قتادة، قال: لما قتل علي بن أبي طالب عمرو بن عبد وَدٍّ أنشأت أختُه عَمْرةُ بنت عبد وَدٍّ ترثيه، فقالت: لو كان قاتل عمرو غير قاتلِهِ … بَكَيْتُه ما أقام الروحُ فِي جَسَدي لكنَّ قاتِلَه مَن لا يُعاب به … وكانَ يُدعَى قديمًا بَيضةَ البَلَدِ (1)
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4330 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4330 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عاصم بن عمر بن قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب سیدنا علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے عمرو بن عبد ود کو قتل کر دیا تو اس کی بہن عمرہ بنت عبد ود نے اس پر مرثیہ پڑھتے ہوئے یہ اشعار کہے: اگر عمرو کو علی کے علاوہ کسی اور نے قتل کیا ہوتا تو میں ساری زندگی اس پر روتی، لیکن اس کا قاتل وہ ہے جس پر کوئی عیب نہیں لگایا جا سکتا اور وہ اول دن سے شہر کا باعزت آدمی شمار ہوتا ہے۔ “ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4376]
حدیث نمبر: 4377
سمعت أبا العباس محمد بن يعقوب، سمعت أحمد بن عبد الجبار العُطَارِدي، سمعت يحيى بن آدمَ يقول: ما شبهتُ قتل على عَمْرًا إلَّا بقول الله ﷿: ﴿وَقَتَلَ دَاوُودُ جَالُوتَ﴾ [البقرة: 251] فَهَزَمُوهم بإذن الله.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4330 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4330 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
یحیی بن آدم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے عمرو کو قتل کرنے کو اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے ساتھ بھی تشبیہ دی جا سکتی ہے۔ {فَهَزَمُوهُمْ بِإِذْنِ اللَّهِ وَقَتَلَ دَاوُدُ جَالُوتَ} (البقرہ: 251) ” تو انہوں نے ان کو بھگا دیا اللہ کے حکم سے اور قتل کیا داؤد نے جالوت کو [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4377]
حدیث نمبر: 4378
أخبرنا أبو جعفر محمد بن محمد بن عبد الله البغدادي، حدَّثنا أبو عُلَاثَة محمد بن خالد، حدَّثنا أبي، حدَّثنا ابن لَهِيعة، قال: قال [أبو الأسود: قال] (1) عُرْوة بن الزبير: وقُتِلَ من كفار قُريش يومَ الخندقِ من بني عامر بن لُؤي، ثُمَّ من بني مالك بن حِسْل: عَمرو بن عَبد وَدِّ بن نَصْر بن مالك بن حِسْلٍ، قتلَه عليُّ بن أبي طالب ﵁ (2) . قد ذكرتُ في مقتل عَمرو بن عَبد وَدِّ من الأحاديث المُسنَدَة ومَغازي (3) عُروة بن الزبير وموسى بن عُقبة ومحمد بن إسحاق بن يَسار ما بَلَغَني، ليتَقرّر عند المُنصِفِ من أهل العلم أنَّ عمرو بن عبد وَدٍّ لم يَقتلْه ولم يَشترك في قتله غيرُ أمير المؤمنين عليّ بن أبي طالب ﵁، وإنما حَمَلَني على هذا الاستقصاءِ فيه قولُ مَن قال من الخَوارِج: إنَّ محمد بن مسلمة أيضًا ضربه ضربةً، وأخذ بعض السَّلَبِ (4) ، ووالله ما بلَغَنا هذا عن أحدٍ من الصحابة والتابعين ﵃، وكيف يجوزُ هذا وعليٌّ ﵇ يقول ما بلغنا: إني ترفَّعتُ عن سَلَبِ ابن عمِّي فتركته، وهذا جوابُه لأمير المؤمنين عمر بن الخطاب ﵁ بحضرةِ رسول الله ﷺ.
سیدنا عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جنگ خندق کے دن بنی عامر بن لؤی پھر مالک بن حسل میں سے عمرو بن عبد ود بن نسر بن مالک بن حصل کو قتل کیا گیا۔ اس کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے قتل کیا تھا اور عمرو بن عبد ود کے قتل کے متعلق میں نے مسند احادیث ذکر کر دی ہیں، ان تمام روایات سمیت جو سیدنا عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ، سیدنا موسیٰ بن عقبہ رضی اللہ عنہ، اور محمد بن اسحاق بن یسار رضی اللہ عنہ ایسے اہل علم کے حوالے سے ہم تک پہنچی ہیں، تاکہ مصنف کا نقطہ نظر واضح ہو جائے کہ عمرو بن عبد ود کو صرف سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ہی قتل کیا تھا، اس کے قتل میں ہم کسی کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا شریک نہیں سمجھتے۔ یہ وضاحت کرنے کی ضرورت خوارج کے اس قول کی وجہ سے پیش آئی ” محمد بن مسلمہ نے بھی اس کو ایک ضرب ماری تھی اور اس کی سلب کا کچھ حصہ بھی اس کو ملا تھا “ خدا کی قسم! صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین رضی اللہ عنہم میں سے کسی ایک کے حوالے سے بھی ہم تک یہ بات نہیں پہنچی۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے جبکہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ خود فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے چچا کے بیٹے کی سلب خود چھوڑی تھی اور یہ بات سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی بات کے جواب میں کہی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4378]
18. نُزُولُ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فِي صُورَةِ دِحْيَةَ الْكَلْبِيِّ لِيُزَلْزِلَ بَنِي قُرَيْظَةَ
حضرت جبرئیلؑ کا دِحیہ کلبی کی صورت میں آ کر بنی قریظہ پر رعب ڈالنا
حدیث نمبر: 4379
أخبرنا أبو بكر أحمد بن كامل القاضي، حدَّثنا محمد بن موسى بن حمّاد البَرْبَري، حدَّثنا محمد بن إسحاق أبو عبد الله المُسيَّبي، حدَّثنا عبد الله بن نافع، حدَّثنا عبد الله بن عُمر، عن أخيه عُبيد الله بن عمر، عن القاسم بن محمد، عن عائشة زوجِ النبي ﷺ: أن رسول الله ﷺ كان عندَها فسَلّم علينا رجُلٌ ونحن في البيت، فقام رسولُ الله ﷺ فَزعًا، فقمْتُ في أثَرِه، فإذا دِحْيةُ الكَلْبي، فقال:"هذا جبريلُ يأمُرني أن أذهبَ إلى بني قُرَيظةَ، فقال: قد وضعتُمُ السلاحَ، لكِنّا لم نَضَعْ، قد طَلَبْنا المشركين حتى بَلَغْنا حَمْراءَ الأَسَدِ" وذلك حين رجعَ رسولُ الله ﷺ مِن الخندقِ، فقام النبيُّ ﷺ فَزِعًا، فقال لأصحابه:"عَزَمْتُ عليكم أن لا تُصلُّوا صلاةَ العصرِ حتى تأتُوا بني قُريظةَ"، فغربتِ الشمسُ قبلَ أن يأتُوهم، فقالت طائفةٌ من المسلمين: إنَّ النبيَّ ﷺ لم يُرِدْ أن تَدَعُوا الصلاةَ، فصَلَّوا، وقالت طائفةٌ: إنا لَفِي عزيمةِ النبيِّ ﷺ، وما علَينا من إثمٍ، فصلَّتْ طائفةٌ إيمانًا واحتِسابًا، وتركتْ طائفةٌ إيمانًا واحتِسابًا، ولم يَعِبِ النبيُّ ﷺ واحدًا من الفريقين، وخرج النبيُّ ﷺ فمرَّ بمجالسَ بينَه وبين قُريظةَ، فقال: هل مَرَّ بكم من أحدٍ؟ قالوا: مَرَّ علينا دِحيةُ الكَلْبي على بغلةٍ شَهْباءَ تحتَه قَطيفةُ دِيباج، فقال النبيُّ ﷺ:"ليس ذلك بدِحْيةَ، ولكنه جبريل ﵇ أُرسِلَ إلى بنى قُريظةَ ليُزلزلَهم ويَقذفَ في قُلوبِهمُ الرُّعبَ" فحاصرَهم النبيُّ ﷺ وأمرَ أصحابه أن يَستَتِروا بالحَجَفِ حتى يُسمِعَهم كلامَه، فناداهم:"يا إخوةَ القِرَدة والخَنازِيرِ" قالوا: يا أبا القاسِم، لم تَكُ فَحّاشًا، فحاصَرَهُم حتى نزلُوا على حُكم سعد ابن مُعاذ، وكانوا حُلَفَاءَه، فحَكَم فيهم أن يُقتَلَ مُقاتِلتُهم، وتُسبَى ذَرَاريُّهم ونساؤهم (1)
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، فإنهما قد احتجا بعبد الله بن عُمر العُمري في الشَّواهد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4332 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، فإنهما قد احتجا بعبد الله بن عُمر العُمري في الشَّواهد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4332 - على شرط البخاري ومسلم
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تھے کہ ہمارے گھر والوں میں سے کسی نے سلام کیا۔ ہم بھی اس وقت گھر ہی میں تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھبرا کر اٹھے، میں بھی آپ کے پیچھے آئی، تو وہ سیدنا دحیہ کلبی تھے۔ آپ نے فرمایا: یہ جبرائیل علیہ السلام ہیں اور مجھے بنو قریظہ کی طرف روانگی کا حکم دے رہے ہیں۔ اور کہہ رہے ہیں کہ تم نے تو ہتھیار اتار دئیے ہیں لیکن ہم نے ابھی تک نہیں اتارے۔ ہم مشرکین کا پیچھا کرتے کرتے ” جمراء الاسد “ تک جا پہنچے ہیں۔ یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خندق سے واپس لوٹے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھبرا کر اٹھے اور اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرمایا: میں تم پر یہ لازم کرتا ہوں کہ بنو قریظہ میں پہنچنے سے پہلے نماز مت پڑھنا لیکن ان کے بنو قریظہ میں پہنچنے سے پہلے سورج غروب ہو گیا۔ (سورج غروب ہونے سے پہلے) مسلمانوں کی ایک جماعت نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد یہ نہیں تھا کہ تم نماز ہی چھوڑ دینا۔ اس لئے انہوں نے نماز پڑھ لی۔ دوسری جماعت نے کہا: ہم تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے پابند ہیں۔ ہمیں اس کا کوئی گناہ نہیں ہو گا۔ چنانچہ ایک جماعت نے ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے نماز پڑھ لی اور دوسری جماعت نے ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے نماز چھوڑ دی۔ جبکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے کسی کو بھی برا نہیں کہا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی نکلے۔ آپ کا گزر ان کے اور قریظہ کے بیچ میں کئی مجالس سے ہوا، آپ نے پوچھا: کیا یہاں سے کوئی گزرا ہے؟ تو انہوں نے جواب کہ یہاں سے دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ سیاہی مائل سفید رنگ کے گھوڑے پر سوار ہو کر گزرے ہیں، جن کے نیچے ریشم کی زین تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ دحیہ کلبی نہیں تھا بلکہ وہ سیدنا جبرائیل علیہ السلام تھے، ان کو بنی قریظہ کی جانب بھیجا گیا ہے۔ تاکہ ان پر زلزلہ طاری کریں اور ان کے دلوں میں رعب ڈال دیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا محاصرہ کر لیا اور اپنے اصحاب کو حکم دیا کہ وہ اپنی ڈھالوں میں چھپے رہیں یہاں تک کہ ان کو ان کی آواز سنائی دے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو پکارا: اے خنزیروں اور بندروں کے بھائیو! انہوں نے جواباً کہا: اے ابوالقاسم! آپ تو بے ہودہ بولنے والے نہ تھے۔ تو آپ نے ان کا محاصرہ کر لیا۔ حتی کہ سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے فیصلے کو نافذ فرما دیا۔ کیونکہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ ان کے حلیف تھے۔ تو ان کے بارے میں فیصلہ یہ ہوا کہ ان کے جوانوں کو قتل کر دیا جائے اور ان کے عورتوں اور بچوں کو قیدی بنا لیا جائے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4379]
حدیث نمبر: 4380
حدَّثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو مسلم، حدَّثنا حجَّاج بن مِنْهال، حدَّثنا حمّاد بن سَلَمة، عن عبد الملك بن عُمير قال: حدّثني عَطيّة القُرَظي، قال: عُرِضْنا على رسولِ الله ﷺ زَمَنَ قُريظةَ، فمن كان منا مُحتلِمًا أو نَبَتَت عانَتُه قُتِلَ، فنَظَروا إليَّ فلم تكُن نبتتْ عانتي، فتُرِكْتُ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، وله طُرق عن عبد الملك بن عُمَير، منهم الثَّوْري وشُعْبة وزُهَير (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4333 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، وله طُرق عن عبد الملك بن عُمَير، منهم الثَّوْري وشُعْبة وزُهَير (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4333 - صحيح
سیدنا عطیہ قرظی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: قریظہ (کے محاصرہ) کے ایام میں ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا ہم میں جو بالغ ہوتا یا جس کے موئے زیر ناف اگے ہوتے اس کو قتل کر دیا جاتا۔ انہوں نے مجھے بھی دیکھا تو میرے موئے زیر ناف نہیں اگے تھے اس لئے انہوں نے مجھے چھوڑ دیا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ عبدالملک بن عمیر سے اس کی متعدد سندیں ہیں۔ ان میں ثوری شعبہ اور زہیر بھی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4380]