المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
15. إِرْسَالُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانِ لِتَفْتِيشِ حَالِ الْعَدُوِّ
نبی کریم ﷺ کا حضرت حذیفہؓ کو دشمن کی خبر لینے کے لیے بھیجنا
حدیث نمبر: 4371
أخبرنا أبو بكر أحمد بن كامل القاضي، حدثنا عيسى بن عبد الله الطَّيالسي، حدثنا أبو نُعيم الفضل بن دكين، حدثنا يوسف بن عبد الله بن أبي بردة، عن موسى بن [أبي] (1) المختار، عن بلالٍ العبسي، عن حذيفة بن اليمان: أنَّ الناس تَفَرَّقُوا عن رسول الله ﷺ ليلة الأحزاب، فلم يبق معه إلَّا اثنا عشر رجلًا فأتاني رسول الله ﷺ وأنا جاثي من البَرْدِ، وقال:"يا ابن اليمان، قم فانطَلِقْ إلى عَسْكَر الأحزاب، فانظُرْ إلى حالهم" قلتُ: يا رسول الله، والذي بعثك بالحقِّ، ما قُمْتُ إليك إلَّا حَياءً منكَ مِنَ البَرْدِ، قال:"فابرُزِ الحَرّةَ وبَرْدَ الصُّبْح (2) ، انطلق يا ابنَ اليمان، فلا بأسَ عليكَ من حَرٍّ ولا بَرْدٍ حتى تَرجِعَ إِليَّ". قال: فانطلقتُ إلى عَسْكَرهم فوجدتُ أبا سفيان يُوقِد النارَ في عُصبةٍ حوله، قد تفرّق الأحزاب عنه، قال: حتى إذا جلستُ فيهم، قال: فحسَّ (3) أبو سفيان أنه دَخَل فيهم مِن غَيْرِهم، قال: يأخذُ كُلُّ رجل منكُم بيدِ جليسه، قال: فضربتُ بيدي على الذي عن يميني وأخذْتُ بيده، ثم ضربت بيدِي على الذي عن يساري فأخذتُ بيده، فلبثْتُ فيهم هنيَّةً ثم قمتُ، فأتيت رسول الله ﷺ وهو قائمٌ يُصلّي، فأومأ إلي بيده: أن ادْنُ، فدنَوتُ، ثم أومأ إليّ أيضًا: أنِ ادْنُ، فدنَوتُ، حتى أسبَلَ عليَّ من الثوب الذي كان عليه وهو يُصلِّي، فلما فرغ من صلاته، قال:"ابن اليمان، اقعد ما الخبرُ؟" قلت: يا رسول الله، تفرّق الناسُ عن أبي سفيان، فلم يَبْقَ إِلَّا عُصبةٌ تُوقِدُ النار، قد صبَّ الله عليه من البَرْدِ مثل الذي صب علينا، ولكنّا نَرجُو من الله ما لا يَرجُو (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4325 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4325 - صحيح
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ غزوہ احزاب کی رات لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے (شدید سردی اور خوف کی وجہ سے) چھٹ گئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صرف بارہ افراد باقی رہ گئے تھے، تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے جبکہ میں سردی کی شدت کی وجہ سے گھٹنوں میں سر دیے بیٹھا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابنِ یمان! اٹھو اور احزاب (کفار کے لشکر) کے پڑاؤ کی طرف جاؤ اور ان کے حالات دیکھ کر آؤ“، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، میں صرف آپ سے حیا کی وجہ سے (تعمیلِ ارشاد کے لیے) کھڑا ہوا ہوں ورنہ سردی بہت زیادہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”باہر نکل جاؤ، تمہیں صبح کی اس سردی سے کوئی نقصان نہیں پہنچے گا، اے ابن یمان! جاؤ، جب تک تم میرے پاس واپس نہیں آجاتے تب تک تمہیں نہ گرمی محسوس ہوگی اور نہ سردی اثر کرے گی۔“ سیدنا حذیفہ کہتے ہیں: پس میں ان کے لشکر گاہ میں پہنچا تو دیکھا کہ ابوسفیان اپنے گرد ایک گروہ کے ساتھ آگ جلا رہے ہیں اور باقی لشکری وہاں سے منتشر ہو چکے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ میں جا کر ان میں بیٹھ گیا، تو ابوسفیان کو یہ احساس ہوا کہ ان میں کوئی اجنبی داخل ہو گیا ہے، انہوں نے کہا: تم میں سے ہر شخص اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے ساتھی کا ہاتھ پکڑ کر (شناخت) کرے، سیدنا حذیفہ کہتے ہیں: میں نے (ذہانت سے کام لیتے ہوئے) فوراً اپنا ہاتھ اپنے دائیں جانب والے شخص کے ہاتھ پر مارا اور اس کا ہاتھ پکڑ لیا، پھر میں نے اپنا ہاتھ اپنے بائیں جانب والے شخص پر مارا اور اس کا ہاتھ تھام لیا (تاکہ وہ مجھ سے نہ پوچھ سکیں)۔ میں تھوڑی دیر ان میں ٹھہرا پھر وہاں سے اٹھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے نماز پڑھ رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ سے مجھے قریب آنے کا اشارہ کیا، میں قریب ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اشارہ کیا کہ اور قریب آ جاؤ، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وہ چادر مجھ پر ڈال دی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے دوران اوڑھ رکھی تھی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ”اے ابن یمان! بیٹھ جاؤ، کیا خبر لائے ہو؟“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! لوگ ابوسفیان کے پاس سے چھٹ چکے ہیں اور صرف ایک مختصر گروہ رہ گیا ہے جو آگ تاپ رہا ہے، اللہ تعالیٰ نے ان پر ویسی ہی سردی مسلط کر دی ہے جیسی ہم پر تھی، لیکن فرق یہ ہے کہ ہمیں اللہ سے وہ امیدیں (نصرت و ثواب) وابستہ ہیں جو انہیں نہیں ہیں۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4371]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4371]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد وهم فيه عيسى بن عبد الله الطيالسي أو من دونه في تسمية شيخ أبي نعيم، فسمّاه يوسف بن عبد الله بن أبي بردة، وإنما هو يوسف بن صهيب كما في رواية أبي بكر بن أبي شيبة عن أبي نعيم، وكذلك رواه عُبيد الله بن موسى العبسي ...» [ترقيم الرساله 4371] [ترقيم الشركة 4348] [ترقيم العلميه 4325]
الحكم على الحديث: حديث صحيح
16. ذِكْرُ مُبَارَزَةِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَمْرَو بْنَ عَبْدِ وُدٍّ
حضرت علیؓ کا عمرو بن عبد ود سے مقابلہ
حدیث نمبر: 4372
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بكير، عن محمد بن عبد الرحمن، عن الحَكَم، عن مِقْسَم، عن ابن عبّاس قال: قُتِلَ رجلٌ من المشركين يوم الخندق، فطَلَبُوا أن يُوارُوه، فأبى رسول الله ﷺ حتى أعطوه الدية. وقُتِل من بني عامر بن لؤيٍّ عمرُو بنُ عبدِ وَدٍّ، قتله علي بن أبي طالب مُبارَزَةً (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه. وله شاهد عجيبٌ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4326 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه. وله شاهد عجيبٌ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4326 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: خندق کے دن مشرکین کا ایک شخص ہلاک ہوا، انہوں نے اس کی لاش کو دفنانے کے لیے لینے کی خواہش ظاہر کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت تک لاش دینے سے انکار فرمایا جب تک انہوں نے اس کا فدیہ ادا نہیں کر دیا۔ اور بنی عامر بن لوی کے عمرو بن عبد ود کو سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے دو بدو مقابلے میں قتل کیا تھا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اس کا ایک نہایت ہی نادر شاہد بھی موجود ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4372]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اس کا ایک نہایت ہی نادر شاہد بھی موجود ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4372]
تخریج الحدیث: «هذا الخبر شطره الأول صحيح مشهور عند أهل المغازي، وثبت أيضًا عن عكرمة مولى ابن عباس مرسلًا بسند صحيح إليه. لكن حصل في سياقه هنا تقديم وتأخير كما تدل عليه سائر رواياته، والمراد: فطلبوا أن يُوارُوه حتى أعطوا فيه الدية، فأبى رسول الله ﷺ. وقد ترجم البخاري في "صحيحه" بين ...» [ترقيم الرساله 4372] [ترقيم الشركة 4349] [ترقيم العلميه 4326]
الحكم على الحديث: هذا الخبر شطره الأول صحيح مشهور عند أهل المغازي
حدیث نمبر: 4373
حدثنا لُؤلؤ بن عبد الله المُقتَدِري، في قصر الخليفة ببغداد، حدثنا أبو الطيب أحمد بن إبراهيم بن عبد الوهاب المصري بدمشق، حدثنا أحمد بن عيسى الخَشّاب بتِنِّيس، حدثنا عمرو بن أبي سلمة، حدثنا سفيان الثَّوْري، عن بهز بن حكيم، عن أبيه، عن جده، قال: قال رسول الله ﷺ:"لَمُبارزةُ عليِّ بن أبي طالب لعمرو بن عبد وَدٍّ يوم الخندق أفضل من أعمال أمتي إلى يوم القيامة" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4327 - قبح الله رافضيا افتراه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4327 - قبح الله رافضيا افتراه
سیدنا بہز بن حکیم اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خندق کے دن علی بن ابی طالب کا (کافر پہلوان) عمرو بن عبد ود کے مدمقابل نکل کر اس سے مقابلہ کرنا میری امت کے قیامت تک کے تمام (نفلی) اعمال سے زیادہ فضیلت رکھتا ہے۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4373]
تخریج الحدیث: «إسناده تالفٌ، وذلك من أجل أحمد بن عيسى الخشاب - وهو ابن زيد - فهو متروك وكذبه مسلمة وابن طاهر، وقد حكم الذهبي في "تلخيصه" على هذا الخبر بأنه مُفترى، فقال: قبَّح الله رافضيًا افتراه، وقال الحافظ ابن حجر في "إتحاف المهرة" 13/ 331: هذا خبر موضوع.» [ترقيم الرساله 4373] [ترقيم الشركة 4350] [ترقيم العلميه 4327]
الحكم على الحديث: إسناده تالفٌ
حدیث نمبر: 4374
فحدثنا إسماعيل بن محمد بن الفضل الشَّعْرانِي، حدثنا جَدِّي، حدثنا إبراهيم بن المنذر الحزامي، حدثنا محمد بن فليح، عن موسى بن عقبة، عن ابن شِهَاب، قال: قُتِلَ من المشركين يوم الخندق عمرو بن عبد وَدٍّ، قتله عليُّ بن أبي طالب ﵁ (2) . إسناد هذا المغازي صحيح على شرط الشيخين.
ابن شہاب زہری سے روایت ہے کہ غزوہ خندق کے دن مشرکین میں سے عمرو بن عبد ود قتل ہوا جسے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے واصلِ جہنم کیا تھا۔
مغازی (تاریخِ غزوات) کے حوالے سے اس روایت کی سند شیخین کی شرط پر صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4374]
مغازی (تاریخِ غزوات) کے حوالے سے اس روایت کی سند شیخین کی شرط پر صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4374]
تخریج الحدیث: «رجاله له بأس بهم، لكنه مرسل. ابن شهاب: هو محمد بن مسلم الزُّهْري.» [ترقيم الرساله 4374] [ترقيم الشركة 4351]
الحكم على الحديث: رجاله له بأس بهم
17. قَتْلُ عَلِيٍّ عَمْرَو بْنَ عَبْدِ وُدٍّ رَأْسَ الْكُفَّارِ
حضرت علیؓ کا عمرو بن عبد ود سردارِ کفار کو قتل کرنا
حدیث نمبر: 4375
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بكير، عن ابن إسحاق، قال: كان عمرو بن عبد وَد ثالث قريش (3) ، وكان قد قاتَلَ يومَ بدرٍ حتى أثبتته الجراحةُ، ولم يشهد أحدًا، فلما كان يوم الخندق خرجَ مُعْلِمًا ليُرى مَشهَدُه، فلما وقَفَ هو وخيله قال له عليٌّ: يا عمرو، قد كنتَ تُعاهِدُ الله لقريشٍ أن لا يدعُو رجلٌ إلى خَلَّتين إلَّا قَبلْتَ منه أحداهما، فقال عمرو: أجل، فقال له عليٌّ: فإني أدعُوك إلى الله ﷿ وإلى رسوله ﷺ والإسلام، فقال: لا حاجة لي في ذلك، قال: فإني أدعُوك إلى البِرازِ، قال: يا ابن أخي، لِمَ؟ فوالله ما أُحِبُّ أن أقتُلَكَ، فقال عليٌّ: لكني واللهِ أُحبُّ أن أقتُلَكَ، فَحَمِيَ عَمرو فاقتحم عن فرسه فعَقَرَه، ثم أقبل فجاء إلى عليّ، وقال: من يُبارزُ، فقام عليٌّ وهو مُقنَّع في الحديد، فقال: أنا له يا نبي الله، فقال: إنه عَمرو بن عبد ودٍّ، اجلس، فنادى عمرو: ألَا رَجُلٌ، فأذِنَ له رسول الله ﷺ، فمشى إليه علي وهو يقول: لا تَعجَلَنَّ فقد أتا … كَ مُجيب صوتك غير عاجِزْ ذو نِيّة وبَصيرة … والصدقُ مَنْجا كل فائزْ إني لأرجو أن أُقِيـ … م عليك نائحة الجنائزْ مِن ضَرْبةٍ نجلاء يب … قى ذِكْرُها عند الهَزاهِزْ فقال له: عمرو: مَن أنت؟ قال: أنا عليٌّ، قال: ابن من؟ قال: ابن عبد مناف، أنا علي بن أبي طالب، فقال: عندك يا ابن أخي من أعمامك من هو أسن منك، فانصرف فإني أكره أن أُهريق دمك، فقال علي: لكني والله ما أكره أن أُهريق دمك، فغضب، فنزل فسَلَّ سيفه كأنه شُعله نارٍ، ثم أقبل نحو عليٍّ مُغضَبًا واستقبله عليٌّ بدَرَقَتِه، فضربه عمرو في الدَّرَقة فقَدَّها وأثبت فيها السيف، وأصاب رأسَه فشَجَّه، وضربه علي على حبل العاتق، فسقط وثارَ العَجَاجُ، فسمع رسول الله ﷺ التكبير، فعرف أنَّ عليًّا قتله، فثَمّ يقول عليٌّ: أعليَّ يَقتحم الفَوارِسُ هكذا … عني وعنهم أخَّرُوا أصحابي اليومَ يَمنعُني الفِرارَ حَفِيظَتي … ومُصَمِّمٌ في الرأس ليس بِنَابِي آلى ابن عَبدٍ حينَ شَدَّ أَلِيَّةً … وحلفتُ فاستمعوا من الكذاب أنْ لا أُصدِّقَ مَن يُهلِّلُ فالْتَقَى (1) … رجُلانِ يضطربان كل ضراب فصدَرْتُ حين تركتُه مُتجدِّلًا … كالجذع بين دكادِكِ وروابي وعَفَفْتُ عن أثوابه وَلَوَ انَّني … كنتُ المُقطَّرَ بَزَّني (2) أَثوابي عَبَدَ الحجارة من سَفَاهِةِ عَقْلِهِ … وعَبَدْتُ ربَّ محمدٍ بصَوابِ ثم أقبل على نحو رسول الله ﷺ ووجهه يتهلل، فقال عمر بن الخطاب: هلا استَلَبْتَه دِرْعَه، فليس للعرب دِرْعٌ خيرٌ (1) منها، فقال: ضربته فاتقاني بسَواتِه، فَاسْتَحْييتُ ابنَ عَمِّي أَن أَستَلِبَه، وخَرجَتْ خَيلُه مُنهزمةً حتى أقحَمَتْ من الخَندق (2) .
سیدنا ابن اسحاق بیان کرتے ہیں کہ عمرو بن عبد ود قریش کے تین نامور شہسواروں میں شمار ہوتا تھا، وہ غزوہ بدر میں لڑا یہاں تک کہ زخموں نے اسے چور کر دیا جس کی وجہ سے وہ غزوہ احد میں شریک نہ ہو سکا، پھر جب خندق کا معرکہ پیش آیا تو وہ ایک خاص نشانی لگا کر نکلا تاکہ لوگ اس کی بہادری کا مشاہدہ کریں، جب وہ اپنے گھڑ سواروں کے ساتھ آ کر رکا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا: ”اے عمرو! تم نے قریش کی خاطر اللہ سے یہ عہد کیا تھا کہ جب بھی کوئی شخص تمہیں دو باتوں کی دعوت دے گا تو تم ان میں سے ایک کو ضرور قبول کر لو گے“، عمرو نے کہا: ہاں (یہ درست ہے)، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں تمہیں اللہ عزوجل، اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام کی دعوت دیتا ہوں“، اس نے کہا: مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں، آپ نے فرمایا: ”پھر میں تمہیں دو بدو مقابلے (مبارزت) کی دعوت دیتا ہوں“، اس نے کہا: اے میرے بھتیجے! ایسا کیوں؟ اللہ کی قسم! میں تمہیں قتل کرنا پسند نہیں کرتا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”لیکن اللہ کی قسم! میں تمہیں قتل کرنا پسند کرتا ہوں“، یہ سن کر عمرو غصے میں آ گیا، وہ اپنے گھوڑے سے اترا، اس کی کونچیں کاٹ دیں (تاکہ واپسی کا خیال ختم ہو جائے)، پھر آگے بڑھ کر للکارا: کون مقابلہ کرے گا؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ لوہے کے لباس (خود و زرہ) میں مکمل ڈھکے ہوئے کھڑے ہوئے اور عرض کیا: اے اللہ کے نبی! میں اس کے مقابلے کے لیے تیار ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ عمرو بن عبد ود ہے، تم بیٹھ جاؤ“، عمرو نے دوبارہ بلند آواز میں پکارا: کیا کوئی مرد نہیں ہے؟ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اجازت دے دی، آپ اس کی طرف یہ اشعار پڑھتے ہوئے بڑھے: «لَا تَعْجَلَنَّ فَقَدْ أَتَا ... كَ مُجِيبُ صَوْتِكَ غَيْرُ عَاجِزْ، ذُو نِيَّةٍ وَبَصِيرَةٍ ... وَالصِّدْقُ مَنْجَا كُلِّ فَائِزْ، إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أُقِيـ ... مَ عَلَيْكَ نَائِحَةَ الْجَنَائِزْ، مِنْ ضَرْبَةٍ نَجْلَاءَ يَبْ ... قَى ذِكْرُهَا عِنْدَ الْهَزَاهِزْ» ”جلدی نہ کرو، تمہاری آواز کا جواب دینے والا آ گیا ہے جو عاجز نہیں ہے، وہ نیک نیت اور بصیرت والا ہے اور سچائی ہر کامیاب ہونے والے کی نجات کا ذریعہ ہے، مجھے امید ہے کہ میں تم پر جنازے کی آہ و بکا برپا کر دوں گا، ایسی کاری ضرب سے جس کا تذکرہ ہولناک جنگوں میں ہمیشہ باقی رہے گا“، عمرو نے پوچھا: تم کون ہو؟ آپ نے فرمایا: ”میں علی ہوں“، اس نے پوچھا: کس کے بیٹے؟ فرمایا: ”عبد مناف کا بیٹا، میں علی بن ابی طالب ہوں“، اس نے کہا: اے میرے بھتیجے! تمہارے خاندان میں تم سے بڑی عمر کے لوگ بھی موجود ہیں، تم واپس چلے جاؤ کیونکہ میں تمہارا خون بہانا ناپسند کرتا ہوں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”لیکن اللہ کی قسم! میں تمہارا خون بہانا ہرگز ناپسند نہیں کرتا“، یہ سن کر وہ غضبناک ہو گیا، اپنی سواری سے نیچے اترا اور اپنی تلوار میان سے نکالی جو آگ کے شعلے کی طرح چمک رہی تھی، پھر وہ غصے کے عالم میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی طرف لپکا، آپ نے اپنی ڈھال سے اس کا وار روکا، عمرو نے ڈھال پر ایسی زوردار ضرب لگائی کہ اسے چیر ڈالا اور تلوار اس میں پیوست ہو کر آپ کے سر پر لگی جس سے زخم آیا، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس کی گردن پر وار کیا جس سے وہ ڈھیر ہو گیا اور مٹی کا غبار اٹھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کی آواز سنی تو جان لیا کہ علی رضی اللہ عنہ نے اسے قتل کر دیا ہے، اس وقت سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے یہ اشعار کہے: ”کیا مجھ پر شہسوار اس طرح حملہ آور ہوتے ہیں؟ میرے ساتھیوں کو مجھ سے اور ان سے دور کر دیا گیا، آج میری غیرت اور سر میں پیوست ہو جانے والی تیز تلوار مجھے فرار ہونے سے روک رہی ہے، ابن عبد نے اس وقت جھوٹی قسم کھائی تھی اور میں نے بھی قسم کھائی تھی، تو اس جھوٹے سے سن لو کہ میں اسے سچا نہیں مانوں گا جو بزدلی دکھائے، پھر دو ایسے مرد ملے جو ایک دوسرے پر بھرپور وار کر رہے تھے، میں اس وقت واپس ہوا جب اسے مٹی میں لت پت چھوڑ دیا، جیسے کوئی درخت کا تنا ٹیلوں اور ہموار زمین کے درمیان پڑا ہو، میں نے اس کے لباس چھیننے سے پرہیز کیا حالانکہ اگر میں گرایا جاتا تو وہ میرے کپڑے اتار لیتا، اس نے اپنی عقل کی حماقت کی وجہ سے پتھروں کی عبادت کی اور میں نے بصیرت کے ساتھ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رب کی عبادت کی“، پھر آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آئے جبکہ آپ کا چہرہ خوشی سے دمک رہا تھا، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: آپ نے اس کی زرہ کیوں نہیں اتار لی؟ عربوں کے پاس اس سے بہتر کوئی زرہ نہیں تھی، آپ نے فرمایا: ”میں نے اسے ضرب لگائی تو وہ برہنہ ہو گیا، اس لیے مجھے اپنے چچا زاد سے شرم آئی کہ میں اس کا لباس اتاروں“، اس کے بعد اس کے ساتھی گھڑ سوار شکست کھا کر بھاگے یہاں تک کہ (جان بچاتے ہوئے) خندق میں جا گرے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4375]
تخریج الحدیث: «رجاله لا بأس بهم، وقد سمعه ابن إسحاق - وهو محمد - من يزيد بن رومان عن عروة بن الزبير مرسلًا، وإسناده حسن إليه، وسمعه أيضًا من يزيد بن زياد المدني، عن محمد بن كعب القُرَظي وعثمان بن يهوذا، عن رجالٍ من قومه. ويغلب على الظن أنَّ هذا متصل، ويكون ...» [ترقيم الرساله 4375] [ترقيم الشركة 4352]
الحكم على الحديث: رجاله لا بأس بهم
حدیث نمبر: 4376
حدثنا أبو بكر بن أبي دارم الحافظ، حدثنا المنذر بن محمد اللخمي، حدثنا أبي، حدثنا يحيى بن محمد بن عباد بن هانئ، عن محمد بن إسحاق بن يَسار قال: حدثني عاصم بن عُمر بن قتادة، قال: لما قتل علي بن أبي طالب عمرو بن عبد وَدٍّ أنشأت أختُه عَمْرةُ بنت عبد وَدٍّ ترثيه، فقالت: لو كان قاتل عمرو غير قاتلِهِ … بَكَيْتُه ما أقام الروحُ فِي جَسَدي لكنَّ قاتِلَه مَن لا يُعاب به … وكانَ يُدعَى قديمًا بَيضةَ البَلَدِ (1)
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4330 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4330 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عاصم بن عمر بن قتادہ بیان کرتے ہیں کہ جب سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے عمرو بن عبد ود کو قتل کر دیا تو اس کی بہن عمرہ بنت عبد ود نے اس کا مرثیہ پڑھتے ہوئے یہ اشعار کہے: ”اگر عمرو کا قاتل ان کے علاوہ کوئی اور ہوتا تو میں تب تک روتی رہتی جب تک میری روح میرے جسم میں باقی ہے، لیکن اس کا قاتل وہ ہے جس پر کوئی عیب نہیں لگایا جا سکتا اور جسے قدیم زمانے سے ہی شہر کی عزت اور سردار پکارا جاتا رہا ہے۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4376]
تخریج الحدیث: «إسناده واهٍ بمرة، فمن دون محمد بن إسحاق ما بين متروك ومجهول. والمنذر بن محمد: هو ابن سعيد بن أبي الجهم القابوسي الكوفي. على أنَّ هذه الأبيات مشهورة عند علماء السير والمغازي.» [ترقيم الرساله 4376] [ترقيم الشركة 4353] [ترقيم العلميه 4330]
الحكم على الحديث: إسناده واهٍ بمرة
حدیث نمبر: 4377
سمعت أبا العباس محمد بن يعقوب، سمعت أحمد بن عبد الجبار العُطَارِدي، سمعت يحيى بن آدمَ يقول: ما شبهتُ قتل على عَمْرًا إلَّا بقول الله ﷿: ﴿وَقَتَلَ دَاوُودُ جَالُوتَ﴾ [البقرة: 251] فَهَزَمُوهم بإذن الله.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4330 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4330 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
یحییٰ بن آدم بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں عمرو بن عبد ود کے قتل ہونے کو اللہ عزوجل کے اس فرمان ﴿وَقَتَلَ دَاوُودُ جَالُوتَ﴾ [البقرة: 251] ”اور داؤد نے جالوت کو قتل کر دیا“ کے مشابہ ہی پایا ہے، پس مسلمانوں نے اللہ کے حکم سے انہیں شکست دے دی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4377]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 4377] [ترقيم الشركة 4354] [ترقيم العلميه 4330]
حدیث نمبر: 4378
أخبرنا أبو جعفر محمد بن محمد بن عبد الله البغدادي، حدَّثنا أبو عُلَاثَة محمد بن خالد، حدَّثنا أبي، حدَّثنا ابن لَهِيعة، قال: قال [أبو الأسود: قال] (1) عُرْوة بن الزبير: وقُتِلَ من كفار قُريش يومَ الخندقِ من بني عامر بن لُؤي، ثُمَّ من بني مالك بن حِسْل: عَمرو بن عَبد وَدِّ بن نَصْر بن مالك بن حِسْلٍ، قتلَه عليُّ بن أبي طالب ﵁ (2) . قد ذكرتُ في مقتل عَمرو بن عَبد وَدِّ من الأحاديث المُسنَدَة ومَغازي (3) عُروة بن الزبير وموسى بن عُقبة ومحمد بن إسحاق بن يَسار ما بَلَغَني، ليتَقرّر عند المُنصِفِ من أهل العلم أنَّ عمرو بن عبد وَدٍّ لم يَقتلْه ولم يَشترك في قتله غيرُ أمير المؤمنين عليّ بن أبي طالب ﵁، وإنما حَمَلَني على هذا الاستقصاءِ فيه قولُ مَن قال من الخَوارِج: إنَّ محمد بن مسلمة أيضًا ضربه ضربةً، وأخذ بعض السَّلَبِ (4) ، ووالله ما بلَغَنا هذا عن أحدٍ من الصحابة والتابعين ﵃، وكيف يجوزُ هذا وعليٌّ ﵇ يقول ما بلغنا: إني ترفَّعتُ عن سَلَبِ ابن عمِّي فتركته، وهذا جوابُه لأمير المؤمنين عمر بن الخطاب ﵁ بحضرةِ رسول الله ﷺ.
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ غزوہ خندق کے دن کفارِ قریش میں سے بنی عامر بن لوی پھر بنی مالک بن حسل کے عمرو بن عبد ود بن نصر بن مالک بن حسل کو سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے قتل کیا تھا۔
امام حاکم فرماتے ہیں: میں نے عمرو بن عبد ود کے قتل کے بارے میں مسند احادیث اور عروہ بن زبیر، موسیٰ بن عقبہ اور محمد بن اسحاق بن یسار کے مغازی سے جو کچھ مجھ تک پہنچا وہ ذکر کر دیا ہے، تاکہ اہلِ علم کے انصاف پسند طبقے کے نزدیک یہ بات ثابت ہو جائے کہ عمرو بن عبد ود کو صرف امیر المؤمنین علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے ہی قتل کیا اور اس کے قتل میں کوئی دوسرا شریک نہ تھا، مجھے اس معاملے میں اتنی تحقیق پر اس خارجی کا قول پیش کرنے نے ابھارا جس نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ محمد بن مسلمہ نے بھی اسے ایک ضرب لگائی تھی اور اس کا کچھ سامان لیا تھا، اللہ کی قسم! ہمیں یہ بات کسی بھی صحابی یا تابعی سے نہیں پہنچی، اور یہ کیسے جائز ہو سکتا ہے جبکہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا وہ قول ہمیں پہنچا ہے جس میں انہوں نے فرمایا: ”میں نے اپنے چچا زاد کے سامان کو لینے سے خود کو بالا تر رکھا اس لیے اسے چھوڑ دیا“، اور یہ ان کا وہ جواب تھا جو انہوں نے امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں دیا تھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4378]
امام حاکم فرماتے ہیں: میں نے عمرو بن عبد ود کے قتل کے بارے میں مسند احادیث اور عروہ بن زبیر، موسیٰ بن عقبہ اور محمد بن اسحاق بن یسار کے مغازی سے جو کچھ مجھ تک پہنچا وہ ذکر کر دیا ہے، تاکہ اہلِ علم کے انصاف پسند طبقے کے نزدیک یہ بات ثابت ہو جائے کہ عمرو بن عبد ود کو صرف امیر المؤمنین علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے ہی قتل کیا اور اس کے قتل میں کوئی دوسرا شریک نہ تھا، مجھے اس معاملے میں اتنی تحقیق پر اس خارجی کا قول پیش کرنے نے ابھارا جس نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ محمد بن مسلمہ نے بھی اسے ایک ضرب لگائی تھی اور اس کا کچھ سامان لیا تھا، اللہ کی قسم! ہمیں یہ بات کسی بھی صحابی یا تابعی سے نہیں پہنچی، اور یہ کیسے جائز ہو سکتا ہے جبکہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا وہ قول ہمیں پہنچا ہے جس میں انہوں نے فرمایا: ”میں نے اپنے چچا زاد کے سامان کو لینے سے خود کو بالا تر رکھا اس لیے اسے چھوڑ دیا“، اور یہ ان کا وہ جواب تھا جو انہوں نے امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں دیا تھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4378]
تخریج الحدیث: «رجاله لا بأس بهم غير ابن لهيعة - واسمه عبد الله، ففيه مقال معروف من جهة حفظه، وكان عنده المغازي عن عروة بن الزبير من رواية أبي الأسود محمد بن عبد الرحمن المعروف بيتيم عروة عنه، فالظاهر أنها كانت صحيفةً عنده ضبطها عن أبي الأسود، على أنه قد رُوي مثلُ ...» [ترقيم الرساله 4378] [ترقيم الشركة 4355]
الحكم على الحديث: رجاله لا بأس بهم غير ابن لهيعة - واسمه عبد الله
18. نُزُولُ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فِي صُورَةِ دِحْيَةَ الْكَلْبِيِّ لِيُزَلْزِلَ بَنِي قُرَيْظَةَ
حضرت جبرئیلؑ کا دِحیہ کلبی کی صورت میں آ کر بنی قریظہ پر رعب ڈالنا
حدیث نمبر: 4379
أخبرنا أبو بكر أحمد بن كامل القاضي، حدَّثنا محمد بن موسى بن حمّاد البَرْبَري، حدَّثنا محمد بن إسحاق أبو عبد الله المُسيَّبي، حدَّثنا عبد الله بن نافع، حدَّثنا عبد الله بن عُمر، عن أخيه عُبيد الله بن عمر، عن القاسم بن محمد، عن عائشة زوجِ النبي ﷺ: أن رسول الله ﷺ كان عندَها فسَلّم علينا رجُلٌ ونحن في البيت، فقام رسولُ الله ﷺ فَزعًا، فقمْتُ في أثَرِه، فإذا دِحْيةُ الكَلْبي، فقال:"هذا جبريلُ يأمُرني أن أذهبَ إلى بني قُرَيظةَ، فقال: قد وضعتُمُ السلاحَ، لكِنّا لم نَضَعْ، قد طَلَبْنا المشركين حتى بَلَغْنا حَمْراءَ الأَسَدِ" وذلك حين رجعَ رسولُ الله ﷺ مِن الخندقِ، فقام النبيُّ ﷺ فَزِعًا، فقال لأصحابه:"عَزَمْتُ عليكم أن لا تُصلُّوا صلاةَ العصرِ حتى تأتُوا بني قُريظةَ"، فغربتِ الشمسُ قبلَ أن يأتُوهم، فقالت طائفةٌ من المسلمين: إنَّ النبيَّ ﷺ لم يُرِدْ أن تَدَعُوا الصلاةَ، فصَلَّوا، وقالت طائفةٌ: إنا لَفِي عزيمةِ النبيِّ ﷺ، وما علَينا من إثمٍ، فصلَّتْ طائفةٌ إيمانًا واحتِسابًا، وتركتْ طائفةٌ إيمانًا واحتِسابًا، ولم يَعِبِ النبيُّ ﷺ واحدًا من الفريقين، وخرج النبيُّ ﷺ فمرَّ بمجالسَ بينَه وبين قُريظةَ، فقال: هل مَرَّ بكم من أحدٍ؟ قالوا: مَرَّ علينا دِحيةُ الكَلْبي على بغلةٍ شَهْباءَ تحتَه قَطيفةُ دِيباج، فقال النبيُّ ﷺ:"ليس ذلك بدِحْيةَ، ولكنه جبريل ﵇ أُرسِلَ إلى بنى قُريظةَ ليُزلزلَهم ويَقذفَ في قُلوبِهمُ الرُّعبَ" فحاصرَهم النبيُّ ﷺ وأمرَ أصحابه أن يَستَتِروا بالحَجَفِ حتى يُسمِعَهم كلامَه، فناداهم:"يا إخوةَ القِرَدة والخَنازِيرِ" قالوا: يا أبا القاسِم، لم تَكُ فَحّاشًا، فحاصَرَهُم حتى نزلُوا على حُكم سعد ابن مُعاذ، وكانوا حُلَفَاءَه، فحَكَم فيهم أن يُقتَلَ مُقاتِلتُهم، وتُسبَى ذَرَاريُّهم ونساؤهم (1)
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، فإنهما قد احتجا بعبد الله بن عُمر العُمري في الشَّواهد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4332 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، فإنهما قد احتجا بعبد الله بن عُمر العُمري في الشَّواهد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4332 - على شرط البخاري ومسلم
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف فرما تھے کہ ایک شخص نے ہم پر سلام کیا جبکہ ہم گھر میں تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوراً گھبرا کر کھڑے ہو گئے، میں بھی آپ کے پیچھے نکلی تو دیکھا کہ وہ دحیہ کلبی (کی شکل میں جبرائیل علیہ السلام) تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ جبرائیل ہیں، وہ مجھے حکم دے رہے ہیں کہ میں بنو قریظہ کی طرف جاؤں، انہوں نے کہا: تم نے تو اسلحہ اتار دیا ہے لیکن ہم نے ابھی تک نہیں اتارا، ہم نے مشرکین کا پیچھا کیا یہاں تک کہ ہم حمراء الاسد تک پہنچ گئے“، یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خندق سے واپس آئے تھے، پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تیزی سے اٹھے اور اپنے صحابہ سے فرمایا: ”میں تم پر یہ لازم کرتا ہوں کہ تم میں سے کوئی بھی عصر کی نماز نہ پڑھے جب تک کہ بنو قریظہ نہ پہنچ جائے“، پس ان کے وہاں پہنچنے سے پہلے سورج غروب ہو گیا، مسلمانوں کے ایک گروہ نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ مقصد نہیں تھا کہ تم نماز چھوڑ دو، چنانچہ انہوں نے نماز پڑھ لی، جبکہ دوسرے گروہ نے کہا: ہم تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی تعمیل میں ہیں اور (تاخیر پر) ہم پر کوئی گناہ نہیں ہے، پس ایک گروہ نے ایمان اور ثواب کی نیت سے نماز پڑھ لی اور دوسرے گروہ نے ایمان اور ثواب کی نیت سے (راستے میں) نماز موخر کر دی، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں میں سے کسی گروہ پر عیب نہیں لگایا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور ان مجلسوں کے پاس سے گزرے جو آپ کے اور قریظہ کے درمیان تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تمہارے پاس سے کوئی گزرا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: ہمارے پاس سے دحیہ کلبی ایک سفید خچر پر گزرے ہیں جس کے نیچے ریشمی کپڑا تھا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ دحیہ نہیں تھے بلکہ وہ جبرائیل علیہ السلام تھے جنہیں بنو قریظہ کی طرف بھیجا گیا ہے تاکہ وہ انہیں لرزہ براندام کر دیں اور ان کے دلوں میں رعب ڈال دیں“، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا محاصرہ کر لیا اور اپنے صحابہ کو حکم دیا کہ وہ ڈھالوں کے پیچھے چھپ جائیں یہاں تک کہ وہ انہیں اپنی بات سنا سکیں، آپ نے انہیں پکار کر فرمایا: ”اے بندروں اور خنزیروں کے بھائیو!“ انہوں نے عرض کیا: اے ابوالقاسم! «لم تَكُ فَحّاشًا»، پھر آپ نے ان کا محاصرہ جاری رکھا یہاں تک کہ وہ سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے فیصلے پر اتر آئے جو کہ ان کے حلیف تھے، انہوں نے ان کے بارے میں یہ فیصلہ کیا کہ ان کے لڑنے والے مردوں کو قتل کر دیا جائے اور ان کی اولاد اور عورتوں کو قیدی بنا لیا جائے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے کیونکہ ان دونوں نے شواہد میں عبداللہ بن عمر العمری سے احتجاج کیا ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4379]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے کیونکہ ان دونوں نے شواہد میں عبداللہ بن عمر العمری سے احتجاج کیا ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4379]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن إن شاء الله من أجل عَبد الله بن عمر - وهو ابن حفص العُمري - فإنه وإن كان في حفظه مقال، يُحسَّنُ حديثُه في المتابعات والشواهد، وهذا منها، ولهذا قال ابن كثير في "البداية والنهاية" 6/ 75: لهذا الحديث طرق جيدة عن عائشة وغيرها.» [ترقيم الرساله 4379] [ترقيم الشركة 4356] [ترقيم العلميه 4332]
الحكم على الحديث: حديث صحيح
حدیث نمبر: 4380
حدَّثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو مسلم، حدَّثنا حجَّاج بن مِنْهال، حدَّثنا حمّاد بن سَلَمة، عن عبد الملك بن عُمير قال: حدّثني عَطيّة القُرَظي، قال: عُرِضْنا على رسولِ الله ﷺ زَمَنَ قُريظةَ، فمن كان منا مُحتلِمًا أو نَبَتَت عانَتُه قُتِلَ، فنَظَروا إليَّ فلم تكُن نبتتْ عانتي، فتُرِكْتُ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، وله طُرق عن عبد الملك بن عُمَير، منهم الثَّوْري وشُعْبة وزُهَير (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4333 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، وله طُرق عن عبد الملك بن عُمَير، منهم الثَّوْري وشُعْبة وزُهَير (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4333 - صحيح
عطیہ قرظی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: بنو قریظہ (کے فیصلے) کے وقت ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا، تو ہم میں سے جو بالغ ہو چکا تھا یا جس کے زیرِ ناف بال نکل آئے تھے اسے قتل کر دیا گیا، انہوں نے میری جانب دیکھا تو ابھی میرے زیرِ ناف بال نہیں نکلے تھے، چنانچہ مجھے چھوڑ دیا گیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کی عبد الملک بن عمیر سے کئی اسناد مروی ہیں جن میں ثوری، شعبہ اور زہیر شامل ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4380]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کی عبد الملک بن عمیر سے کئی اسناد مروی ہیں جن میں ثوری، شعبہ اور زہیر شامل ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4380]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح.» [ترقيم الرساله 4380] [ترقيم الشركة 4357] [ترقيم العلميه 4333]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح