المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
43. رُؤْيَا عُمَرَ شَهَادَتَهُ .
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت سے متعلق خواب
حدیث نمبر: 4561
حَدَّثَنَا أبو بكر بن إسحاق وعلي بن حَمْشَاذَ العَدْل، قالا: حَدَّثَنَا بِشر بن موسى، حَدَّثَنَا الحُميدي، حَدَّثَنَا سفيان، حَدَّثَنَا يحيى بن صَبِيح الخُراساني، عن قَتَادة، عن سالم بن أبي الجَعْد، عن مَعْدان بن أبي طلحة اليَعمَري، عن عمر بن الخطاب، أنه قال على المِنبَر: إني رأيتُ في المنام كأنَّ دِيكًا نَقَرَني ثلاثَ نَقَرات، فقلتُ: أعجميٌّ، وإني قد جعلتُ أمري إلى هؤلاء الستة الذين قُبِض رسول الله ﷺ وهو عنهم راضٍ: عثمان وعلي وطلحة والزُّبير وعبد الرحمن بن عوف وسعد بن أبي وقّاص، فمن استُخلِف فهو الخَليفة (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4511 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4511 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا معدان بن ابوطلحہ یعمری فرماتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے منبر پر (خطبہ دیتے ہوئے) ارشاد فرمایا: میں نے خواب میں دیکھا ہے جیسا کہ کسی مرغے نے مجھے تین مرتبہ چونچ ماری ہے۔ میں اس کی تعبیر یہ سمجھا ہوں کہ اب میرا آخری وقت آ چکا ہے۔ اور میں خلافت کا معاملہ ان چھ صحابہ رضی اللہ عنہم کے ذمہ چھوڑتا ہوں جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم راضی حالت میں اس دنیا سے تشریف لے گئے تھے (ان کے نام یہ ہیں) سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ، سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ، سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ، سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ، سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ۔ ان میں سے جس کو بھی خلیفہ بنا لیا جائے وہی خلافت کا اہل ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4561]
44. وَاقِعَةُ شَهَادَةِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - وَسَبَبُهَا .
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت کا واقعہ اور اس کا سبب
حدیث نمبر: 4562
حَدَّثَنَا أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثقفي وأبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، قالا: حَدَّثَنَا الحسن بن علي بن شَبيب المَعْمَري، حَدَّثَنَا محمد بن عُبيد بن حِساب، حَدَّثَنَا جعفر بن سليمان، عن ثابت، عن أبي رافع قال: كان أبو لُؤلؤة للمغيرة بن شُعْبة، وكان يصنعُ الرَّحى، وكان المغيرةُ يستعملُه كلَّ يوم بأربعةِ دراهم، فلقي أبو لؤلؤة عُمرَ، فقال: يا أمير المؤمنين، إنَّ المغيرةَ قد أكثرَ عليَّ، فكلِّمَه أن يُخفَّفَ عني، فقال له عمر: اتقِ الله وأحسِنْ إلى مَوْلاك، قال: ومن نِيّةِ عمر أن يَلقَى المغيرةَ فيُكلِّمَه في التخفيف عنه، قال: فغضبَ أبو لؤلؤة، وكان اسمُه فَيرُوز، وكان نَصرانيًا، فقال: يَسَعُ الناسَ كلَّهم عدلُه غَيري، قال: فغضب وعَزَمَ على أن يقتلَه، قال: فصنع خِنجرًا له رأسان، قال: فشَحَذَه وسمَّه، قال: وكبّر عمرُ، وكان عمر لا يُكبّر إذا أُقيمتِ الصلاةُ حتَّى يتكلَّمَ ويقول: أقيموا صفُوفَكم، فجاء فقام في الصفّ بحِذاهُ مما يلي عمرَ في صلاة الغَدَاة، فلما أُقيمتِ الصلاةُ تكلَّم عمرُ، وقال: أقِيموا صفوفَكم، ثم كبّر، فلما كبّر وَجَأَهُ على كَتِفِه، ووَجَأَهُ على مكانٍ آخرَ، ووَجَأَه في خاصِرَتِه، فَسَقَطَ عمرُ، قال: ووَجَأَ ثلاثةَ عشرَ رجلًا معه، فأفرَقَ منهم سبعةٌ ومات منهم ستةٌ، واحتُمِل عمرُ فذُهِب به ومَاجَ الناسُ، حتَّى كادَتِ الشمسُ تَطلُع، قال: فنادى عبدُ الرحمن بن عَوْف: أيها الناس، الصلاةَ الصلاةَ، ففُزِع إلى الصلاة، قال: فتقدّم عبدُ الرحمن فصلَّى بهم، فقرأَ بأقصَرِ سورتَين في القرآن، قال فلما انصرف توجّه الناسُ إلى عمر بن الخطاب، قال: فدعا بشراب ليَنظُرَ ما مَدَى جُرحِه، فأُتي بنَبيذٍ، فشَرِبَه، قال: فخُرج فلم يُدْرَ أدمٌ هو أم نَبيذٌ، قال: فدعا بلَبَن، فأُتي به فشَربه، فخرج من جُرْحه، فقالوا: لا بأس عليك يا أمير المؤمنين، قال: إنْ كان القتلُ بأسًا، فقد قُتِلتُ (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4512 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4512 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ابولؤلؤۃ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کا غلام تھا۔ یہ چکیاں بنانے کا کاریگر تھا۔ سیدنا مغیرہ اس سے روزانہ چار درہم اجرت پر کام کروایا کرتے تھے۔ ابولولوۃ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ملا اور بولا: اے امیرالمومنین! مغیرہ نے مجھ پر (کام کا) بہت بوجھ ڈال رکھا ہے۔ اس کو فرمائیں کہ وہ مجھ پر کچھ تخفیف کر دے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا: خدا کا خوف کر اور اپنے آقا کی فرمانبرداری کر۔ جبکہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی نیت یہ تھی کہ مغیرہ سے مل کر تخفیف کرنے کو کہہ دیں گے۔ لیکن ابولؤلؤۃ کو اس بات پر غصہ آ گیا اور اس نے (اسی دن) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے کا ارادہ کر لیا تھا۔ اس نے دو نوکوں والا ایک خنجر بنایا۔ اس کو خوب تیز کیا اور اسے زہر میں ڈال کر رکھ دیا۔ (سیدنا ابورافع) کہتے ہیں: (ایک دن نماز کے لئے) تکبیر کہی گئی، اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی یہ عادت تھی کہ جب اقامت ہو جاتی تو نماز شروع کرنے سے پہلے صفیں درست کرنے کو کہا کرتے تھے۔ ابولؤلؤۃ نماز فجر میں آیا اور (صف اول میں) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے بالکل قریب کھڑا ہو گیا۔ جب اقامت ہو گئی تو (حسب عادت) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے صفیں درست کرنے کی ہدایات دیں، پھر تکبیر کہی۔ تو اس نے آپ پر حملہ کر دیا۔ آپ کے کندھے، آپ کے پہلو اور دیگر مقامات پر خنجر کے پے درپے وار کئے۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ گر پڑے، پھر اس نے مزید 13 آدمیوں پر حملہ کیا۔ ان میں سے 7 شدید زخمی ہوئے، جبکہ 6 شہید ہو گئے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اٹھا کر (آپ کے گھر) لایا گیا، لوگوں میں پریشانی کی لہر دوڑ گئی حتی کہ سورج بالکل طلوع ہونے کے قریب تھا کہ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے آواز دی: اے لوگو! نماز پڑھو، نماز پڑھو، تو لوگ جلدی سے نماز کی طرف آ گئے، سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو نماز پڑھائی، آپ نے نماز میں سب سے مختصر سورتیں پڑھیں، جب نماز سے فارغ ہوئے تو سب لوگ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آ گئے۔ (سیدنا ابورافع) فرماتے ہیں: آپ کے زخم کی گہرائی کا اندازہ لگانے کے لئے پانی منگوایا گیا، آپ کو نبیذ پیش کیا گیا، آپ نے وہ نبیذ پیا تو وہ نکل گیا۔ لیکن یہ اندازہ نہ ہو سکا کہ یہ نبیذ ہے یا خون، پھر دودھ منگوایا گیا، آپ کو دودھ پیش کیا گیا۔ آپ نے پیا تو زخم کے راستے سے وہ بھی نکل گیا۔ لوگ (تسلی دیتے ہوئے) کہنے لگے: اے امیرالمومنین! آپ کو کوئی نقصان نہیں ہو گا۔ آپ نے فرمایا: اگر قتل کوئی نقصان کی چیز ہے تو (جان لو کہ) میں قتل کر دیا گیا ہوں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4562]
45. آخِرُ خُطْبَةِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فِي الْحَجِّ .
حج کے موقع پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا آخری خطبہ
حدیث نمبر: 4563
حَدَّثَنَا أبو بكر بن إسحاق وعلي بن حَمْشاذَ، قالا: حَدَّثَنَا بِشْر بن موسى، حَدَّثَنَا الحُميدي، حَدَّثَنَا سفيان، حَدَّثَنَا يحيى بن سعيد، أنه سمع سعيد بن المسيّب يقول: لما صَدَرَ عمرُ بن الخطاب عن مِنًى في آخر حَجّة حجَّها أناخ بالبَطْحاء، ثم كوَّم كَوْمةً ببطحاءَ، ثم طرحَ عليها صَيْفَةَ ردائِه، ثم استَلْقى ومدَّ يدَيه إلى السماء، فقال: اللهم كَبِرَ سِنّي، وضَعُفتْ قُوَّتي، وانتشرتْ رَعِيّتي، فاقبِضْني إليك غير مُضيِّع ولا مُفرِّطٍ، ثم قَدِمَ في ذي الحِجّة فخطبَ الناسَ فقال: أيها الناسُ، إنه قد سُنّت لكم السُّنن، وفُرِضَتْ لكم الفرائضُ، وتَركتُكم على الواضحة - وضَرَبَ بإحدى يديه على الأُخرى - إلَّا أن تَمِيلوا بالناس يمينًا وشمالًا. فما انسَلَختْ ذو الحِجّة حتَّى قُتل عمر (1) .
سیدنا سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اپنے آخری حج کے موقعہ پر منیٰ سے نکلے تو اپنی اونٹنی کو بطحاء میں بٹھایا، مٹی جمع کر کے اس کی ڈھیری بنائی، اس کے اوپر چادر بچھا کر لیٹ گئے اور اپنے ہاتھ آسمان کی طرف بلند کر کے بولے: اے اللہ! میں عمر رسیدہ ہو گیا ہوں، میں کمزور ہو گیا ہوں۔ میری عقل سست ہو چکی ہے۔ تو مجھے اپنے پاس بلا لے تاکہ میں نہ کچھ ضائع کروں اور نہ حد سے بڑھوں۔ پھر آپ ذی الحجہ میں آئے اور خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: اے لوگو! میں نے تمہارے لئے سنتوں کو سنت اور فرائض کو فرائض کے طور پر نافذ کیا۔ اور تمہیں ایک واضح راستہ پر چلا کر چھوڑا ہے۔ پھر آپ نے اپنا ایک ہاتھ دوسرے پر مارتے ہوئے فرمایا: مگر یہ کہ تم (اپنی مرضی سے) دائیں یا بائیں پھر جاؤ، (اس میں میرا کوئی قصور نہیں ہے) جب ذی الحجہ گزر گیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا۔ سیدنا سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ابولؤلؤۃ جس سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو شہید کیا تھا، اس نے آپ کے ساتھ ساتھ مزید 12 آدمیوں پر حملہ کیا تھا جن میں سے 6 شہید ہو گئے تھے اور 6 زخمی تھے (لیکن فوت ہونے سے بچ گئے تھے) اس (ابولؤلؤۃ) کے پاس دو دھاری والی چھری تھی، پھر اس نے اسی کے ساتھ خودکشی کر لی تھی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4563]
حدیث نمبر: 4564
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ الجَلّاب، حَدَّثَنَا محمد بن أحمد بن النضر، حَدَّثَنَا معاوية بن عمرو، حَدَّثَنَا زائدة، عن ليث، عن نافع، عن ابن عمر، قال: عاش عمر ثلاثًا بعد أن طُعِن، ثم مات فغُسِّل وكُفِّن (3) .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: قاتلانہ حملہ ہونے کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تین دن تک زندہ رہے پھر آپ کا انتقال ہو گیا۔ تو آپ کو غسل دیا گیا اور کفن دیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4564]
46. ذِكْرُ فَضَائِلِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - .
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان
حدیث نمبر: 4565
أخبرنا الحسن بن يعقوب العَدْل، حَدَّثَنَا يحيى بن أبي طالب، حَدَّثَنَا عبد الوهاب بن عطاء، حَدَّثَنَا داود بن أبي هند عن عامر، عن ابن عبّاس قال: دخلتُ على عمر حين طُعِن، فقلت: أبشِرْ بالجنة يا أمير المؤمنين، أسلمتَ حين كفر الناسُ، وجاهدتَ مع رسول الله ﷺ حين خَذَلَه الناسُ، وقُبض رسولُ الله ﷺ وهو عنك راضٍ، ولم يَختلِفْ في خلافتك اثنان، وقُتلتَ شهيدًا، فقال: أعِدْ عليَّ، فأعدتُ عليه، فقال: والله الذي لا إله غيرُه، لو أنَّ لي ما على الأرض من صفراءَ وبيضاءَ لا فتدَيتُ به من هَولِ المُطَّلَعِ (1) .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ زخمی تھے تو میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے کہا: اے امیرالمومنین! آپ کو جنت کی خوشخبری ہو، آپ اس وقت اسلام لائے جب لوگ کفر میں مبتلا تھے، آپ نے اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تعاون کیا جب لوگ آپ کو (معاذاللہ) ذلیل کرنے کے درپے تھے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اس دنیا سے پردہ کیا تو آپ پر راضی تھے۔ اور آپ کی خلافت میں دو آدمیوں میں بھی اختلاف نہیں ہوا، اور آپ کا قتل بھی شہادت ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہی باتیں دوبارہ بولو! میں ساری گفتگو دہرائی، پھر آپ بولے: اس ذات کی قسم! جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اگر روئے زمین پر موجود ہر سفید اور زرد میری ملکیت میں ہوتا تو میں اس ہیبت پر فدیہ دے دیتا جس کی اطلاع دی گئی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4565]
47. صُلِّيَ عَلَى جَنَازَةِ عُمَرَ فِي الْمَسْجِدِ .
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی نمازِ جنازہ مسجد میں ادا کی گئی
حدیث نمبر: 4566
حَدَّثَنَا علي بن حَمْشاذَ، حَدَّثَنَا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حَدَّثَنَا سليمان بن حرب، حَدَّثَنَا وُهَيب، حَدَّثَنَا عُبيد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر: مر: أَنَّ عمر صُلِّي صلي عليه في المسجد، صلَّى عليه صهيبٌ (1) .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ مسجد میں ادا کی گئی اور سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ نے آپ کی نمازہ جنازہ پڑھائی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4566]
حدیث نمبر: 4567
حدَّثَناهُ أبو علي الحافظ، أخبرنا الهيثم بن خلف الدُّوري، حَدَّثَنَا حُسين بن عمرو بن محمد العَنْقَزي، حَدَّثَنَا قاسمٌ أخي، حَدَّثَنَا عبيدة، عن سفيان الثَّوْري، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه، قال: لما قُتل عمرُ ابْتَدَرَ عليٌّ وعثمانُ للصلاة عليه، فقال لهما صُهيب: إليكما عنِّي، فقد وَلِيتُ من أمرِكُما أكثرَ من الصلاة على عُمر، وأنا أصلِّي بكم المكتوبةَ، فصلَّى عليه صُهيبٌ (1) .
ہشام بن عروہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں: جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ ان کا جنازہ پڑھانے کے لئے آگے بڑھے تو سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: آپ مجھے موقع دیجئے، میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا جنازہ پڑھانے کا تم سے زیادہ حق رکھتا ہوں کیونکہ میں ہی تمہیں فرض نمازیں بھی پڑھاتا ہوں، چنانچہ سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4567]
48. حِجَّاتُ عُمَرَ وَمُدَّةُ خِلَافَتِهِ .
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے حج اور مدتِ خلافت
حدیث نمبر: 4568
أخبرني مَخلَد بن جعفر الباقَرْحي، حَدَّثَنَا محمد بن جَرير، حَدَّثَنَا الحارث بن محمد، حَدَّثَنَا محمد بن سعد، عن الواقدي: أنَّ عمر حجَّ بالناس عشرَ حِجَجٍ مُتوالِيات، منهن حَجّةً في خلافة أبي بكر، وتسعًا في خلافتِه، وأنه دُفن إلى جَنْب أبي بكر في بيت عائشة، وكانت خِلافة عمرَ عشرَ سنين وخمسةَ أشهرٍ وتسعةً وعشرين يومًا (2) .
واقدی روایت کرتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دس حج مسلسل کئے، ان میں سے ایک حج سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت میں کیا اور باقی 9 حج اپنی خلافت میں کئے، اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پہلو میں دفن ہوئے۔ آپ کی خلافت کی مدت دس سال 5 مہینے اور 29 دن تھی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4568]
49. اسْتِئْذَانُ عُمَرَ مِنْ عَائِشَةَ لِدَفْنِهِ فِي حُجْرَتِهَا .
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اپنے حجرے میں دفن کی اجازت طلب کرنا
حدیث نمبر: 4569
حَدَّثَنَا أبو سعيد الثقفي وأبو بكر بن بالَوَيهِ، قالا: حَدَّثَنَا الحسن بن علي المَعْمَري، حَدَّثَنَا الوليد بن شُجاع، حَدَّثَنَا محمد بن بشر، حَدَّثَنَا محمد بن عمرو، قال: حدَّثَ أبو سلمة ويحيى بن عبد الرحمن بن حاطِب وأشياخُنا: أنَّ عمر بن الخطاب لمَّا طُعن قال لعبد الله: اذهبْ إلى عائشة فاقرَأ عليها مني السلامَ، وقل: إِنَّ عُمر يقول لكِ: إن كان لا يَضُرُّكِ ولا يُضيِّقُ عليكِ، فإني أحِبُّ أن أُدفَن مع صاحبيَّ، وإن كان ذلك يَضُرّكِ أو يُضيِّقُ عليك، فَلَعَمْري لقد دُفن في هذا البَقيع من أصحاب رسول الله ﷺ وأمهات المؤمنين من هو خَيرٌ من عُمر، فجاءها الرسول، فقالت: إِنَّ ذلك لا يَضُرُّني ولا يُضيَّق عليّ، قال: فادفِنُوني معهما (1) .
محمد بن عمرہ کہتے ہیں: ابوسلمہ اور یحیی بن عبدالرحمن بن حاطب اور ہمارے دیگر اساتذہ بیان کرتے ہیں کہ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ زخمی ہوئے تو آپ نے (اپنے صاحبزادے) عبداللہ سے فرمایا: ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس جا کر میرا سلام عرض کرو اور کہو: عمر کی درخواست ہے کہ اگر آپ کو برا نہ لگے اور آپ کو تکلیف نہ ہو تو میں اپنے دونوں ساتھیوں کے ہمراہ دفن ہونا چاہتا ہوں اور اگر آپ کو تکلیف ہو یا آپ کو برا لگے تو خدا کی قسم! اس بقیع پاک میں ایسے ایسے اصحاب رسول و امہات المومنین مدفون ہیں جو عمر سے بدر جہا بہترتھے (تو کوئی بات نہیں میں بھی وہیں مدفون ہو جاؤں گا) سیدنا عبداللہ ام المومنین کے پاس آئے، تو ام المومنین رضی اللہ عنہا نے فرمایا: نہ مجھے کوئی نقصان ہے اور نہ مجھے برا لگے گا۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ٹھیک ہے مجھے ان دونوں (حضرات) کے ساتھ دفن کرنا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4569]
حدیث نمبر: 4570
حَدَّثَنَا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حَدَّثَنَا أبو القاسم بن أبي الزنِّاد، أخبرني هشام بن سعد، عن عمرو بن عثمان بن هانئ، عن القاسم بن محمد، قال: اطَّلعتُ في القبور: قبرِ رسول الله ﷺ وأبي بكر وعمر، من حُجرةِ عائشةَ، فرأيتُ عليها حَصْباءَ حَمْراءَ (2) .
قاسم بن محمد بیان کرتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ کے اندر روضہ اطہر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی قبریں دیکھی ہیں۔ میں نے ان پر سرخ کنکریاں پڑی ہوئی دیکھی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4570]