🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
53. اسْتُشْهِدَ عُثْمَانُ وَهُوَ ابْنُ تِسْعِينَ أَوْ ثَمَانٍ وَثَمَانِينَ سَنَةً .
سیدنا عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نوّے یا اٹھاسی برس کی عمر میں شہید ہوئے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4580
أخبرني محمد بن المؤمَّل، حَدَّثَنَا الفضل بن محمد، حَدَّثَنَا أحمد بن حنبل، حَدَّثَنَا حسن بن موسى الأشْيَب، حَدَّثَنَا أبو هِلال، عن قَتَادة: أنَّ عثمان بن عفّان قُتل وهو ابن تسعين أو ثمان وثَمانين (2) .
قتادہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ 88 یا 90 سال کی عمر میں شہید ہوئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4580]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4581
أخبرنا أبو عبد الله الصَّفّار، حَدَّثَنَا أحمد بن مِهْران، حَدَّثَنَا أبو نُعيم، قال: قُتل عثمان بن عفّان يومَ الجمعة لاثنتي عشرةَ بقيتْ من ذي الحِجّة سنة خمس وثلاثين، وكانت خلافته ثنتي عشرة سنة (1) .
ابونعیم کہتے ہیں: سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ 18 ذی الحجہ 35 ہجری جمعہ کے دن شہید کئے گئے، آپ کی مدت خلافت 12 سال تھی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4581]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4582
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا بَحْر بن نَصْر، حَدَّثَنَا ابن وهب، أخبرني ابن لَهِيعة، عن أبي الأسود، عن أبي عبد الله مولى شدّاد بن الهاد، قال: رأيتُ عثمان بن عفّان على المِنبَر يومَ الجمعة وعليه إزارٌ عَدَنيّ غَليظ، قيمتُه أربعةُ دراهمَ أو خمسةٌ، وريطَةٌ كوفيةٌ مُمشَّقةٌ، ضَرْبَ اللحمِ، طويل اللحيةِ، حَسَنَ الوجهِ (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4532 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
شداد بن ہاد کے غلام سیدنا ابوعبداللہ فرماتے ہیں: میں نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو جمعہ کے دن منبر پر دیکھا آپ پر عدنی چادر تھی جس کی قیمت (زیادہ سے زیادہ) چار یا پانچ درہم ہو گی، اور ایک کوفی چادر تھی وہ بھی پھٹی ہوئی تھی۔ ان کا جسم گٹھا ہوا تھا، داڑھی مبارک لمبی تھی اور چہرہ خوبصورت تھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4582]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4583
حَدَّثَنَا أبو علي الحافظ، حَدَّثَنَا أبو بكر محمد بن محمد بن سليمان، حَدَّثَنَا أبو عُبيد الله أحمد بن عبد الرحمن بن وهب حدثني عَمِّي، حَدَّثَنَا يحيى بن أيوب، حَدَّثَنَا هشام بن عُروة، عن أبيه، عن عائشة قالت: أولُ حجرٍ حَمَلَه النَّبِيُّ ﷺ لبناء المسجد، ثم حمَلَ أبو بكر، ثم حمل عمرُ حجرًا آخر، ثم حمَلَ عثمانُ حجرًا آخر، فقلتُ: يا رسول الله، ألا تَرى إلى هؤلاء كيف يُسعِدونك؟ فقال:"يا عائشةُ، هؤلاءِ الخُلَفاءُ من بَعْدي" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه، وإنما اشتَهَرَ بإسناد واهٍ روايةَ محمد بن الفضل بن عطيّة، فلذلك هُجِرَ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4533 -: أحمد بن عبد الرحمن بن وهب منكر الحديث
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: مسجد کی تعمیر کیلئے سب سے پہلی اینٹ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اٹھائی، دوسری اینٹ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اٹھائی، پھر سیدنا عثمان نے اینٹ اٹھائی، میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا آپ نہیں دیکھ رہے یہ لوگ کس طرح آپ کا ہاتھ بٹا رہے ہیں۔ تو آپ علیہ السلام نے فرمایا: اے عائشہ! یہ لوگ میرے بعد خلفاء ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ یہ حدیث محمد بن فضیل بن عطیہ کے واسطے سے کمزور سند کے ہمراہ مشہور ہو گئی ہے اسی لئے اس کو چھوڑ دیا گیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4583]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
54. كَانَتْ بَيْعَةُ عُثْمَانَ سَنَةَ أَرْبَعٍ وَعِشْرِينَ فِي عَشَرَةِ الْمُحَرَّمِ .
سیدنا عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیعت سن چوبیس ہجری میں دس محرم کو ہوئی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4584
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حَدَّثَنَا إبراهيم بن إسحاق الحَرْبي، حَدَّثَنَا مُصعب بن عبد الله، قال: وكانت بيعة عثمان ﵁ يوم الاثنين غرّةُ المحرَّم سنة أربعٍ وعشرين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4534 - حذفه الذهبي في التلخيص
سیدنا مصعب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی بیعت 24 ہجری 10 محرم الحرام بروز سوموار کی گئی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4584]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4585
حَدَّثَنَا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا بِشر بن موسى، حَدَّثَنَا أبو نُعيم الفضل بن دُكَين، حَدَّثَنَا الأعمش، عن عبد الله بن سِنان (1) قال: لمَّا جاءت بَيعةُ عثمان، قال عبدُ الله: ما أَلَونا عن أعلاها، ذا فُوقٍ (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4535 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عبداللہ بن یسار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی بیعت کا موقع آ گیا، عبداللہ کہتے ہیں: لوگوں نے (اس شخص کی بیعت کرنے میں) سستی نہیں کی جو ہم سب سے زیادہ دینی فضل کمال کا مالک ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4585]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4586
حَدَّثَنَا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن أيوب، أخبرنا شَيْبان بن فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا طلحة بن زيد، عن عَبِيدة (1) بن حسان، عن عطاء الكَيْخاراني، عن جابر بن عبد الله، قال: بينما نحن في بيت ابن حشفة في نفر من المهاجرين فيهم أبو بكر وعمر وعثمان وعلي وطلحة والزبير وعبد الرحمن بن عوف وسعد بن أبي وقّاص، فقال رسول الله ﷺ:"لِينهَضْ كلُّ رجلٍ منكم إلى كُفْوِهِ"، فنهض النَّبِيُّ ﷺ إلى عثمانَ فاعتنقَه، وقال:"أنت وليِّي في الدنيا والآخرة" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4536 - بل ضعيف
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے (وہ فرماتے ہیں:) ہم مہاجرین کی ایک جماعت کے ہمراہ ابن حشفہ کے گھر موجود تھے۔ ان میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ، سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ، سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ، سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ، سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے ہر ایک اپنے کفو (ہمسر) کے ساتھ کھڑا ہو جائے، چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ کھڑے ہو گئے، اور ان سے بغلگیر ہو گئے، اور فرمایا: تم دنیا اور آخرت میں میرے دوست ہو۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4586]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4587
حَدَّثَنَا أبو النضر الفقيه بالطابَرَان، حَدَّثَنَا علي بن عبد العزيز، حَدَّثَنَا عُبيد الله بن عُمر بن مَيسرة، حَدَّثَنَا القاسم بن الحَكَم بن أوس الأنصاري، حدثني أبو عُبادة الزُّرَقي، حدثني زيد بن أسلم، عن أبيه، قال: شهدتُ عثمان يوم حُصِرَ في موضع الجنائز، فقال: أنشُدُك الله يا طلحةُ، أتذكر يومَ كنتُ أنا وأنت مع رسول الله ﷺ في مكانِ كذا وكذا، وليس معه من أصحابه غيري وغيرُك، فقال لك:"يا طلحةُ، إنه ليس من نبيٍّ إلَّا وله رَفيقٌ من أمّتِه معه في الجنة، وإنَّ عثمانَ رفيقي ومعي في الجنة"؟ فقال طلحة: اللهمَّ نعم، قال: ثم انصرف طلحةُ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4537 - قاسم هذا قال البخاري لا يصح حديثه
سیدنا زید بن اسلم اپنے والد کا بیان نقل کرتے ہیں کہ جس دن سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا جنائز کے مقام پر محاصرہ کیا گیا، اس دن میں ان کے پاس گیا تو انہوں نے مجھے اللہ کی قسم دے کر فرمایا: اے طلحہ! کیا تمہیں وہ دن یاد ہے؟ جب فلاں فلاں مقام پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ صرف تو تھا اور میں تھا۔ اور اپنے سوا دوسرا کوئی صحابی اس وقت وہاں موجود نہ تھا۔ اور آپ علیہ السلام نے تمہیں فرمایا تھا: اے طلحہ! ہر نبی کا اس کی امت میں سے ایک دوست ہوتا ہے جو کہ جنت میں بھی اس کے ساتھ ہی ہو گا، اور بے شک میرا دوست عثمان ہے اور یہ جنت میں بھی میرے ساتھ ہو گا۔ سیدنا طلحہ نے جواب دیا: جی ہاں۔ پھر سیدنا طلحہ واپس چلے گئے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4587]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
55. ذِكْرُ بَعْضِ خُصُوصِيَّاتِ عُثْمَانَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - .
سیدنا عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بعض خصوصیات کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4588
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا يحيى بن محمد بن يحيى، حَدَّثَنَا مُسدَّد، حَدَّثَنَا المُعتمِر بن سليمان، قال: سمعت كُليب بن وائل، قال: حدثني حَبيب بن أبي مُلَيكة قال: جاء رجلٌ إلى ابن عمر، فقال: أَشَهِدَ عثمانُ بيعة الرِّضْوان؟ قال: لا، قال: فشَهِدَ بدرًا، قال: لا، قال فكان ممَّن استزلَّه الشيطانُ؟ قال: نعم، فقام الرجل: فقال له بعضُ القوم: إِنَّ هذا يَزعُم الآن أنك وقعتَ في عثمان، قال: كذلك يقول؟ قال: رُدُّوا عليَّ الرجلَ، فقال: عَقَلتَ ما قلتُ لك؟ قال: نعم، سألتُك هل شهدَ عثمانُ بيعةَ الرِّضوان؟ فقلت: لا، وسألتُك هل شهِد بدرًا؟ فقلت: لا، وسألتك هل كان ممَّن استزلَّه الشيطانُ؟ فقلت: نعم، فقال: أما بيعةُ الرِّضْوان، فإِنَّ رسولَ الله ﷺ قام فقال:"إنَّ عثمانَ انطلقَ في حاجةِ اللهِ وحاجةِ رسوله، وإني أُبايعُ له" فضرب إحدى يدَيه على الأخرى، وأما يوم بدرٍ، فإنَّ نبيَّ الله ﷺ قام فقال:"إنَّ عثمان انطَلَق في حاجةِ اللهِ وحاجةِ رسولِه" فضربَ له بسهمٍ، ولم يضربْ لأحدٍ غابَ غيرَه، وأما الذين تَولَّوا يوم التقى الجَمْعَانِ ﴿إِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّيْطَانُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُوا وَلَقَدْ عَفَا اللَّهُ عَنْهُمْ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ حَلِيمٌ﴾ [آل عمران: 155] (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4538 - صحيح
سیدنا حبیب ابن ابی ملیکہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک آدمی سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور بولا: کیا عثمان بیعت رضوان میں شریک تھے؟ انہوں نے کہا: جی نہیں۔ اس نے کہا: وہ جنگ بدر میں شریک ہوئے تھے؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ اس نے کہا: کیا وہ ان لوگوں میں سے ہیں جن کو شیطان نے اپنے بہکاوے میں لے لیا تھا؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ پھر وہ شخص اٹھ کر چلا گیا، ایک آدمی نے کہا: اس نے یہ سمجھا ہے کہ آپ بھی سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے مخالف ہیں۔ آپ نے فرمایا: وہ ایسے ہی کہہ رہا ہو گا۔ فرمایا: اس آدمی کو میرے پاس واپس بلاؤ (جب وہ واپس آیا تو) آپ نے فرمایا: میں نے تجھے جو کچھ کہا تھا تم وہ سمجھ گئے تھے؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ میں نے آپ سے پوچھا تھا کہ کیا سیدنا عثمان بیعت رضوان میں شریک تھے؟ آپ نے کہا: جی نہیں۔ میں نے آپ سے پوچھا کہ کیا وہ جنگ بدر میں شریک ہوئے تھے؟ آپ نے کہا: نہیں۔ میں نے آپ سے پوچھا کہ کیا وہ ان لوگوں میں سے تھے جن کو شیطان نے اپنے بہکاوے میں لے لیا تھا؟ آپ نے کہا: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: جہاں تک بیعت رضوان کا تعلق ہے تو (اصل بات یہ ہے کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا عثمان اللہ اور اس کے رسول کے کام سے گئے ہوئے ہیں۔ تو آپ نے ان کے لئے حصہ بھی رکھا۔ حالانکہ آپ کے علاوہ دوسرے ایسے کسی بھی آدمی کے لئے آپ نے حصہ نہیں رکھا جو وہاں غیر حاضر تھا۔ اور باقی رہی بات جنگ بدر کے موقع پر غیر حاضری کی (تو ان کو معاف کر دیا گیا تھا جیسا کہ قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے) اِنَّمَا اسْتَزَ لَّھُمُ الشَّیْطَانُ بِبَعْضِ مَا کَسَبُوا (اٰل عمران: 155) انہیں شیطان ہی نے لغزش دی ان کے بعض اعمال کے باعث اور بے شک اللہ نے انہیں معاف فرما دیا: بے شک اللہ بخشنے والا، حلم والا ہے ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4588]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4589
حَدَّثَنَا أبو بكر أحمد بن سلْمان الفقيه، حَدَّثَنَا أبو داود سليمان بن الأشعث، حَدَّثَنَا موسى بن إسماعيل، حَدَّثَنَا حمّاد بن سَلَمة، حَدَّثَنَا الجَريري، عن عبد الله بن شَقِيق، عن عبد الله بن حَوَالة، قال: قال رسول الله ﷺ ذاتَ يومٍ:"تَهجُمون على رجلٍ مُعتَجِرٍ ببُردةٍ يُبايِعُ الناسَ مِن أهلِ الجنةِ"، فَهَجَمْتُ على عثمانَ وهو مُعتَجِرٌ ببردةِ حِبَرَة يُبايع الناسَ (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4539 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن حوالہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ایک دن تم ایسے آدمی کے پاس اچانک جاؤ گے جو چادر کو بطور عمامہ باندھے ہوئے ہو گا اور لوگوں سے بیعت لے رہا ہو گا، وہ جنتی شخص ہو گا۔ میں اچانک سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس گیا تو وہ ایک منقش چادر کا عمامہ باندھے ہوئے، لوگوں سے بیعت لے رہے تھے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4589]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں