المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
59. ذِكْرُ مَنْ نَجَا مِنْ ثَلَاثٍ فَقَدْ نَجَا .
اس شخص کا ذکر جو تین چیزوں سے بچ گیا وہ واقعی بچ گیا
حدیث نمبر: 4599
أخبرني أبو جعفر محمد بن علي بن دُحَيم الشَّيباني بالكوفة، حَدَّثَنَا أحمد بن حازم بن أبي غَرَزَة، حَدَّثَنَا أبو نُعيم، حَدَّثَنَا شَريك، عن منصور، عن رِبْعيّ بن حِراش، عن البراء بن ناجِيةَ، قال: قال عبد الله: قال رسول الله ﷺ:"إِنَّ رَحَى الإسلام ستدُور بعد خمسٍ وثلاثين أو ستٍّ وثلاثين أو سبعٍ وثلاثين سنةً، فإن يَهْلِكُوا فَسَبيلُ مَن هَلَك، وإن بقيَ لهم دينُهم يَقُمْ سبعين" قال عمر: يا نبي الله، بما مضى أو بما بقي؟ قال:"لا، بل بما بَقِي" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، وفيه البيانُ الواضحُ لمقتل عثمانَ كما قدمتُ ذكرَه من تاريخ المقتل سنة خمسٍ وثلاثين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4549 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، وفيه البيانُ الواضحُ لمقتل عثمانَ كما قدمتُ ذكرَه من تاريخ المقتل سنة خمسٍ وثلاثين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4549 - على شرط مسلم
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بے شک اسلام کی چکی 35، 36 یا 37 سال کے بعد گھومے گی۔ (یعنی دین اسلام قائم رہے گا) اس کے بعد اگر یہ ہلاک ہو گئے تو ان کا حشر بھی سابقہ قوموں کی طرح ہو گا اور اگر ان کا دین بچ گیا تو یہ ستر سال تک (بلکہ اس کے بعد بھی) قائم رہے گا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اور اس میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کا واضح بیان موجود ہے۔ جیسا کہ اس سے پہلے بھی سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے سال کا تذکرہ ہوا تھا کہ وہ 35 واں سال ہو گا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4599]
حدیث نمبر: 4600
حَدَّثَنَا أبو بكر بن بالَوَيهِ، حَدَّثَنَا إبراهيم بن إسحاق الحَرْبي، حَدَّثَنَا مصعب بن عبد الله الزُّبيري قال: الوليد بن عُقبة بن أبي مُعَيط بن عمرو بن أُمية بن عبد شَمس، وكان أخا عثمانَ لأمِّه، وأمُّهما أَروى بنت كُريز بن ربيعة بن عبد شمس، وأمُّها أمُّ حَكيم البيضاءُ بنت عبد المطلب بن عبد مَناف عمةُ رسول الله ﷺ، قَتَل النَّبِيّ ﷺ عُقبة بن أبي مُعَيط في رجوعه، وكان الوليد في زمن رسول الله ﷺ رجلًا، وكان يُكنى أبا وَهْبٍ (1) .
سیدنا مصعب بن عبداللہ الزبیری رضی اللہ عنہ ولید کا نسب بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: الولید بن عقبہ بن ابی معیط بن عمرو بن امیہ بن عبدشمس “ یہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے اخیافی بھائی تھے، ان دونوں کی والدہ کا نام اروی بنت کریز بن ربیعہ بن عبدشمس ہے اور اروی کی والدہ ام حکیم البیضاء بنت عبدالمطلب بن عبد مناف، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عقبہ ابن ابی معیط کو (مکہ میں) لوٹتے وقت قتل کروا دیا تھا۔ اور ولید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں (جوان) آدمی تھا اور اس کی کنیت ” ابووہب “ تھی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4600]
حدیث نمبر: 4601
حَدَّثَنَا أبو النَّضر الفقيه وأبو الحسن العَنَزي، قالا: حَدَّثَنَا عثمان بن سعيد الدارمي، حَدَّثَنَا يزيد بن عبد ربّه (2) الجِرْجِسيّ (3) ، حَدَّثَنَا محمد بن حرب، عن الزُّبيدي، عن الزُّهْري، عن عمرو بن أبان بن عثمان، عن جابر بن عبد الله، قال: قال رسول الله ﷺ:"أُريَ الليلةَ رجلٌ صالحٌ أنَّ أبا بكر نِيطَ برسُول الله، ونِيطَ عمرٌ بأبي بكرٍ، ونِيطُ عثمانُ بعمرَ"، فلما قُمْنا من عند رسول الله ﷺ قلنا: أما الرجلُ الصالحُ فرَسولُ الله ﷺ، وأما ما ذَكر من نَوْط بعضِهم ببعض، فهُم وُلاةُ هذا الأمرِ الذي بعثَ اللهُ به نبيَّه ﷺ (4) . قال الدارمي: فسمعتُ يحيى بن مَعِين يقول: محمد بن حَرْب يُسنِد هذا الحديثَ، والناسُ يُحدّثون به عن الزُّهْري مرسلًا (5) ، إنما هو عُمر بن أبانَ، ولم يكن لأبان بن عثمان ابنٌ يقال له: عَمرو (6) .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: گزشتہ رات ایک صالح آدمی کو خواب میں دکھایا گیا ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ملایا گیا ہے اور عمر رضی اللہ عنہ کو ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ ملایا گیا ہے اور عثمان رضی اللہ عنہ کو عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ ملایا گیا ہے۔ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس سے اٹھے تو ہم نے کہا:” رجل صالح “ سے مراد تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (خود ہی) ہیں اور یہ جو ایک دوسرے کے ہمراہ ملانے کا تذکرہ کیا گیا ہے، اس سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کے خلفاء ہیں۔ ٭٭ امام دارمی کہتے ہیں: یحیی بن معین نے اس حدیث کی سند محمد بن حرب سے بیان کی ہے جبکہ دوسرے لوگ اس کو امام زہری سے مرسلاً روایت کرتے ہیں۔ بے شک وہ عمر بن ابان ہے جبکہ ابان بن عثمان کا تو ” عمر “ نامی کوئی بیٹا ہی نہیں تھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4601]
حدیث نمبر: 4602
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حَدَّثَنَا الحسين بن الفضل البَجَلي، حَدَّثَنَا عفان، حَدَّثَنَا وُهَيب، حَدَّثَنَا أيوب، عن أبي قِلابَة، عن أبي الأَشْعَث، عن مُرّة بن كعب قال: سمعت رسول الله ﷺ يذكر فتنةً فقرَّبَها، فمرَّ به رجلٌ مُقنَّع فِي ثَوبٍ، فقال:"هذا يومئذٍ على الهُدى" فقمتُ إليه فإذا هو عثمانُ بن عفّان، فأقبلتُ إليه بوجهِه، فقلت: هو هذا؟ قال:"نعم" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4552 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4552 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا مرہ بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فتنوں کا تذکرہ کرتے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا کہ فتنے بہت قریب ہیں۔ اسی اثناء میں وہاں سے ایک آدمی گزرا جو چادر میں لپٹا ہوا تھا، آپ نے فرمایا: یہ شخص اس ہدایت پر ہو گا۔ تو میں اٹھ کر اس آدمی کے پاس گیا تو وہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ تھے۔ میں نے آپ کی جانب متوجہ ہو کر پوچھا: یہی ہے وہ شخص؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4602]
60. تَجْهِيزُ عُثْمَانَ جَيْشَ الْعُسْرَةِ .
سیدنا عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا جیشِ عُسرہ کو تیار کرنا
حدیث نمبر: 4603
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا الرَّبيع بن سليمان، حَدَّثَنَا أَسد بن موسى، حَدَّثَنَا ضَمْرة بن ربيعة، عن ابن شَوذَب، عن عبد الله بن القاسم، عن كَثيرٍ مولى عبد الرحمن بن سَمُرة، عن عبد الرحمن بن سَمُرة، قال: جاء عثمانُ إلى النَّبِيّ ﷺ بألفِ دينارٍ حين جَهَّزَ جيشَ العُسْرة، ففرَّغها عثمانُ في حِجْر النَّبِيّ ﷺ، قال: فجعلَ النَّبِيّ ﷺ يُقلِّبها ويقول:"ما ضَرَّ عثمانَ ما عَمِلَ بعدَ هذا اليومِ" قالها مِرارًا (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4553 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4553 - صحيح
سیدنا عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جیش العسرہ کی تیاری کے موقع پر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ ایک ہزار دینار لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جھولی میں ڈال دیئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو الٹ پلٹ کرتے ہوئے کئی مرتبہ یہ الفاظ کہے: آج کے بعد عثمان رضی اللہ عنہ کو کوئی عمل نقصان نہیں دے گا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4603]
61. رُؤْيَا عُثْمَانَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ لَهُ " أَفْطِرْ عِنْدَنَا " .
سیدنا عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا خواب کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہمارے پاس افطار کرنا
حدیث نمبر: 4604
أخبرنا عبد الرحمن بن حَمْدان الجلّاب بهَمَذان، حَدَّثَنَا إسحاق بن أحمد بن مِهْران الرازي، حَدَّثَنَا إسحاق بن سليمان، حَدَّثَنَا أبو جعفر الرازي، عن أيوب، عن نافع، عن ابن عمر: أنَّ عثمان أصبحَ فحدَّثَ فقال: إني رأيتُ النَّبِيّ ﷺ في المنام الليلةَ، فقال:"يا عثمانُ، أفطِرْ عندنا". فأصبح عثمانُ صائمًا، فقُتل من يومِه ﵁ (1)
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4554 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4554 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے صبح کے وقت یہ خواب بیان فرمایا: میں نے خواب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی ہے آپ نے فرمایا: اے عثمان رضی اللہ عنہ! افطاری ہمارے پاس کرنا، چنانچہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اس دن روزہ رکھا اور اسی دن آپ کو شہید کر دیا گیا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4604]
حدیث نمبر: 4605
حَدَّثَنَا أحمد بن كامل القاضي، حَدَّثَنَا أحمد بن محمد بن عبد الحميد الجُعْفي، حَدَّثَنَا الفضل بن جُبَير الورّاق، حَدَّثَنَا خالد بن عبد الله الطحّان المُزَني، عن عطاء بن السائب، عن سعيد بن جُبَير، عن ابن عبّاس، قال: كنت قاعدًا عند النَّبِيّ ﷺ إذ أقبلَ عثمانُ بن عفّان، فلما دنا منه قال:"يا عثمانُ، تُقتَلُ وأنتَ تقرأ سورةَ البقرة، فتقَعُ قطرةٌ من دمِك على ﴿فَسَيَكْفِيكَهُمُ اللَّهُ﴾ [البقرة: 137] ، يَغبِطُك أهلُ المَشرقِ وأهل المَغربِ، وتَشفَعُ في عَددِ ربيعةَ ومُضَر، وتُبعَثُ يوم القيامة أميرًا على كل مَخذُول" (1) . قال الحاكم: قد ذكرتُ الأخبارَ المَسانيد في هذا الباب في كتاب"مقتل عثمان" فلم أَستحسِن ذِكْرها عن آخرها في هذا الموضع فإنَّ في هذا القدر كفاية، فأمّا الذي ادّعتْه المُبتدِعةُ من مَعُونة أميرِ المؤمنين عليّ بن أبي طالب على قَتْله، فإنه كَذِبٌ وزُورٌ، فقد تواترت الأخبارُ بخِلافه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4555 - كذب بحت
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4555 - كذب بحت
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں موجود تھا، سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ آ گئے، جب وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہوئے تو آپ نے فرمایا: اے عثمان! تجھے قتل کیا جائے گا، اس وقت تو سورہ بقرہ کی تلاوت کر رہا ہو گا اور تیرا خون اس آیت فَسَیَکْفِیْکَھُمُ اللّٰہُ وَھُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ (البقرہ: 138) ” عنقریب اللہ تعالیٰ ان کی طرف سے تمہیں کفایت کرے گا “ پر گرے گا۔ اور تجھے قیامت کے دن ہر مظلوم کا امیر بنا کر اٹھایا جائے گا۔ اہل مشرق اور اہل مغرب تجھ پر رشک کریں گے۔ اور تو قبیلہ ربیعہ اور مضر کی تعداد کے برابر لوگوں کی شفاعت کرے گا۔ ٭٭ امام حاکم کہتے ہیں: میں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے حوالے سے اس باب میں متعدد مسند اخبار ذکر کر دی ہیں اور اس مقام پر تمام روایات کو بالاستیعاب ذکر کرنا ضروری نہیں سمجھتا بلکہ اسی قدر کافی ہے۔ لیکن اہل بدعت نے جو دعویٰ کر رکھا ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت میں امیرالمومنین سیدنا علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ بھی ملوث تھے، یہ سراسر جھوٹ اور بہتان ہے، اس کے خلاف پر احادیث حد تواتر تک پہنچی ہوئی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4605]
حدیث نمبر: 4606
حَدَّثَنَا أبو القاسم علي بن المؤمَّل بن الحَسن بن عيسى، حَدَّثَنَا محمد بن يونس القُرشي، حَدَّثَنَا هارون بن إسماعيل الخَزّاز، حَدَّثَنَا قُرة بن خالد السَّدُوسي، سمع الحسنَ، عن قيس بن عُبَاد، قال: شهدتُ عليًا يوم الجمَل يقولُ: اللهم إني أبرأُ إليكَ من دمِ عثمانَ، ولقد طاشَ عَقْلي يوم قُتل عثمانُ وأنكرتُ نفسي، وأرادُوني على البَيعة، فقلت: والله إني لأستحْيي من الله أن أبايعَ قومًا قتلوا رجلًا قال له رسول الله ﷺ:"ألا أستحْيي ممَّن تَستحْيي منه الملائكةُ"، وإني لأستحْيي من الله أن أبايع وعثمانُ قتيلُ الأرض لم يُدفَن بعدُ، فانصرفوا فلما دُفن رجعَ الناسُ إليَّ فسألوني البيعة، فكأنما صُدِع عن قلبي، فقلتُ: اللهم خُذْ مني لعثمانَ حتَّى تَرْضى (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4556 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4556 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
سیدنا قیس بن عبادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جنگ جمل کے دن میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یوں کہتے ہوئے سنا ہے ” اے اللہ! میں تیری بارگاہ میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے خون سے براءت کا اظہار کرتا ہوں، جس دن سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا، اس دن میری عقل جواب دے گئی تھی، اور یہ خبر مجھے بہت ناگوار گزری، لوگوں نے میری بیعت کرنا چاہی تھی، لیکن میں نے کہا: خدا کی قسم! مجھے اللہ سے حیاء آتی ہے کہ اس قوم سے بیعت لوں جنہوں نے اس شخص کو شہید کر ڈالا ہے جن کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ میں اس آدمی سے حیاء نہ کروں جس سے ملائکہ بھی حیاء کرتے ہیں، مجھے اللہ سے حیاء آتی ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ شہید ہوئے پڑے ہیں، ابھی ان کی تدفین بھی نہیں ہوئی، اور لوگ میری بیعت کریں، چنانچہ لوگ واپس چلے گئے، جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی تدفین ہو چکی، تو لوگ دوبارہ میرے پاس آئے، پھر بیعت لینے کا مطالبہ شروع کر دیا، میں نے کہا: اے اللہ! میں اس اقدام پر بھی ڈر رہا ہوں، پھر عزیمت آئی تو میں نے بیعت لے لی، جب لوگوں نے مجھے یا امیرالمومنین کہہ کر پکارا تو مجھے یوں لگ رہا تھا جیسے میرا کلیجہ پھٹ جائے گا تو میں نے کہا: اے اللہ! تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں مجھ سے مواخذہ کر لے حتی کہ تو راضی ہو جائے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4606]
حدیث نمبر: 4607
حَدَّثَنَا عبد الله بن إسحاق بن إبراهيم العَدْل، حَدَّثَنَا يحيى بن أبي طالب، حَدَّثَنَا بشار بن موسى الخَفّاف، حَدَّثَنَا الحاطِبي عبد الرحمن بن محمد، عن أبيه، عن جده، قال: لما كان يومُ الجَمَل خرجتُ أنظُرُ في القَتْلى، قال: فقام عليٌّ والحسن بن علي وعمار بن ياسر ومحمد بن أبي بكر وزيد بن صُوحان يَدُورون في القَتْلى، قال: فأبصرَ الحسنُ بن عليٍّ قتيلًا مكبوبًا على وجهِه، فقلَبَه على قَفاهُ ثم صرخَ، ثم قال: إنا لله وإنا إليه راجعون فَرْخُ قريش واللهِ، فقال له أبوه: مَن هو يا بُنيّ؟ قال: محمد بن طلحة بن عُبيد الله، فقال: إنا لله وإنا إليه راجعون، أما والله لقد كان شابًا صالحًا، ثم قعد كئيبًا حزينًا، فقال له الحسن: يا أبتِ، قد كنتُ أنهاكَ عن هذا المَسيرِ، فغَلَبَك على رأيك فلانٌ وفلانٌ، قال: قد كان ذاك يا بُنيّ، ولوَدِدتُ لو أني متُّ قبل هذا بعشرين سنةً. قال محمد بن حاطب: فقمتُ، فقلت: يا أميرَ المؤمنين، إنا قادِمُون المدينةَ والناسُ سائلونا عن عثمان، فماذا نقول فيه؟ قال: فتكلَّم (1) عمارُ بن ياسر ومحمد بن أبي بكر، فقالا وقالا، فقال لهما عليٌّ: يا عمار، ويا محمد، تقولان: إنَّ عثمانَ استأثر وأساءَ الإمرةَ، وعاقبتُم واللهِ فأسأتُم العُقوبةَ، وستَقدَمُون على حَكَمٍ عَدْلٍ يَحكُم بينكم، ثم قال: يا محمدَ بنَ حاطبٍ، إذا قدمتَ المدينة وسُئلتَ عن عثمان، فقل: كان واللهِ من الذين آمنوا، ثم اتقَوْا وآمَنُوا، ثم اتقَوْا وأحسَنُوا، والله يُحبُّ المحسنين، وعلى الله فليتوكَّل المؤمنون (2)
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4557 - بشار بن موسى الخفاف واه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4557 - بشار بن موسى الخفاف واه
سیدنا عبدالرحمن بن محمد اپنے والد سے، وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں: جنگ جمل کے موقع پر میں مقتولین کو دیکھنے کے لئے نکلا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ، سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ، سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ، سیدنا محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا زید بن صوحان رضی اللہ عنہ بھی مقتولین میں گھوم رہے تھے۔ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے ایک مقتول کو دیکھا جو منہ کے بل جھکا ہوا تھا۔ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے اس کو سیدھا کیا تو ان کی چیخ نکل گئی، پھر انہوں نے ” انا للہ وانا الیہ راجعون “ پڑھا اور کہا: قریش خوش ہیں، خدا کی قسم! آپ کے والد نے پوچھا: اے بیٹے! یہ کون ہے؟ سیدنا حسن نے جواباً کہا: یہ محمد بن طلحہ بن عبیداللہ ہیں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بھی ” انا للہ وانا الیہ راجعون “ پڑھا اور کہا: خدا کی قسم! یہ تو بہت نیک نوجوان تھا، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ غمزہ ہو کر جھک کر بیٹھ گئے، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے کہا: ابا جان! میں آپ کو اس سفر سے مسلسل روکتا رہا لیکن آپ پر فلاں فلاں لوگوں کے رائے غالب آ گئی۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اے میرے بیٹے! (اگر مجھے پتا ہوتا کہ) معاملہ یہ ہو گا تو میں آج سے 20 سال پہلے مر جانے کی تمنا کرتا۔ محمد بن حاطب کہتے ہیں: میں کھڑا ہوا اور عرض کی: اے امیرالمومنین! ہم لوگ مدینہ منورہ جا رہے ہیں، لوگ ہم سے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے متعلق پوچھیں گے تو (ہم ان کو کیا جواب دیں؟) آپ اس سلسلہ میں کیا فرماتے ہیں؟ تو سیدنا عمار بن یاسر اور محمد بن ابی بکر نے ان کو بہت کچھ ہدایات دینا شروع کر دیں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: اے عمار! اور اے محمد! تم یہ کہتے ہو کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے امور سلطنت بگاڑ دیئے تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کو وفات دے دی ہے۔ اور اب تم ان کے پیچھے آ رہے ہو، خدا کی قسم! تمہیں بری سزا ملے گی، اور عنقریب تم ایک عادل حاکم کے سامنے پیش کئے جاؤ گے، وہ تمہارے درمیان عدل و انصاف پر مبنی فیصلہ فرمائے گا۔ پھر آپ نے فرمایا: اے محمد بن حاطب! جب تم مدینہ منورہ پہنچو اور لوگ تم سے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں پوچھیں تو تم کہنا: خدا کی قسم! وہ ان لوگوں میں سے تھے جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کئے، پھر تقویٰ اختیار کیا اور ایمان لائے پھر تقویٰ اختیار کیا اور اچھے اعمال کئے اور اللہ اچھے عمل کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے۔ اور مومنوں کو اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4607]
حدیث نمبر: 4608
حَدَّثَنَا أبو عبد الله محمد بن الخليل الأصبهاني، حَدَّثَنَا موسى بن إسحاق الخَطْمي القاضي بالرّي، حَدَّثَنَا المُسيّب بن عبد الملك، حَدَّثَنَا مروان بن معاوية، عن سَوّار، عن عمرو بن سفيان قال: خطبنا عليٌّ يوم الجَمَل، فقال: أين مَرَّ وَحِيُّ القوم؟ قال: قلنا: هم صَرْعى حول الجَمَل، قال: فقال: أما بعدُ، فإنَّ هذه الإمارةَ لم يَعهَدْ إلينا رسولُ الله ﷺ فيها عهدًا يُتّبعُ أثرُه، ولكنا رأيناها تلقاءَ أنفُسِنا، استُخلِفَ أبو بكر فأقامَ واستقام، ثم استُخلِفَ عمرُ فأقام واستقام، ثم ضَرَبَ الدهرُ بجِرانِه (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4558 - حذفه الذهبي من التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4558 - حذفه الذهبي من التلخيص
سیدنا عمرو بن سفیان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جنگ جمل کے دن خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: قوم کے چست و چالاک گھوڑے آج کہاں ہیں؟ ہم نے جواباً کہا: وہ جمل کے اردگرد مرے پڑے ہیں۔ آپ نے فرمایا: امابعد اس امارت کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے عہد نہیں لیا تاکہ ہم اس کی پیروی کرتے رہتے۔ بلکہ اس کو ہم نے خود اپنی رائے سے چلایا ہے۔ ہم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنایا، وہ قائم و دائم رہے، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنایا گیا، وہ بھی قائم و دائم رہے، پھر اختلافات شروع ہو گئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4608]