المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
36. إِنَّ اللَّهَ جَعَلَ الْحَقَّ عَلَى لِسَانِ عُمَرَ وَقَلْبِهِ .
بے شک اللہ تعالیٰ نے حق کو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی زبان اور دل پر جاری فرمایا
حدیث نمبر: 4551
حَدَّثَنَا أبو علي الحسين بن علي الحافظ، حَدَّثَنَا عَبْدانُ الأهوازِيّ، حَدَّثَنَا هارون بن إسحاق الهَمْداني، حَدَّثَنَا أبو خالد الأحمر، عن هشام بن الغازِ وابن عَجْلان ومحمد بن إسحاق، عن مكحول، عن غُضَيف بن الحارث، عن أبي ذر، قال: مَرَّ فتًى على عُمر، فقال عمر: نِعمَ الفتى، قال فتبعَه أبو ذَرٍّ، فقال: يا فتى، استغفِرْ لي، فقال: يا أبا ذر أستغفرُ لك وأنت صاحبُ رسولِ الله ﷺ؟! قال: استغفِرْ لي، قال: لا أوْ تُخبرَني، فقال: إنكَ مَررتَ على عُمر، فقال: نِعمَ الفتى، وإني سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول:"إنَّ الله جعل الحقَّ على لسانِ عمر وقَلْبِه" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4501 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4501 - على شرط مسلم
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک نوجوان سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ نوجوان کتنا اچھا ہے (راوی) کہتے ہیں: سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ اس نوجوان کے پیچھے چل دیئے، اور اس سے کہا: اے نوجوان! میرے لئے مغفرت کی دعا کر، اس نے کہا: اے ابوذر رضی اللہ عنہ آپ تو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں، میں آپ کے لئے مغفرت کی دعا کروں؟ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: بس تم میرے لئے دعا کرو، نوجوان نے کہا: جب تک آپ اصل وجہ نہیں بتائیں گے، میں دعا نہیں کروں گا۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے قریب سے جب گزرا تھا تو انہوں نے تیرے بارے میں فرمایا تھا ” یہ کتنا اچھا نوجوان ہے “ اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات خود سنی ہے کہ ” اللہ تعالیٰ نے عمر رضی اللہ عنہ کی زبان اور دل پر حق نافذ کر دیا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے اس اسناد کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4551]
37. ذِكْرُ بَعْضِ شَجَاعَةِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - وَتَسْبِيحَاتِ مَلَائِكَةِ السَّمَاءِ الدُّنْيَا وَالسَّمَاءِ الثَّانِيَةِ .
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی بعض شجاعتوں کا بیان اور آسمانِ دنیا اور دوسرے آسمان کے فرشتوں کی تسبیحات
حدیث نمبر: 4552
حَدَّثَنَا أبو الحسين عبد الصمد بن علي بن مُكرَم البزَّاز، ببغداد، حَدَّثَنَا جعفر بن أبي عثمان الطَّيالسي، حَدَّثَنَا إسحاق بن محمد الفَرْوي، حَدَّثَنَا عبد الملك بن قُدامة الجُمَحي، عن عبد الرحمن بن عبد الله بن دينار، عن أبيه، عن عبد الله بن عمر: أنَّ عمر بن الخطّاب جاء والصلاةُ قائمةٌ، ونفرٌ ثلاثةٌ جلوسٌ، أحدُهم أبو جَحْش اللَّيثي، قال: قومُوا فصلُّوا مع رسول الله ﷺ، فقام اثنان وأبى أبو جَحْش أن يقوم، فقال له عمر: صلِّ يا أبا جحش مع النَّبِيّ ﷺ، قال: لا أقومُ حتَّى يأتيَني رجلٌ هو أقوى مني ذراعَين (1) ، وأشدُّ مني بَطْشًا فيصرعَني، ثم يَدُسَّ وجهيَ في التراب، قال عمر: فقمتُ إليه، فكنتُ أشدَّ منه ذراعًا، وأقوى بطشًا، فصرعتُه، ثم دَسَستُ وجهَه في التراب، فأتى عليَّ عثمانُ فحَجَزَني، فخرج عمر بن الخطاب مُغضَبًا حتَّى انتهى إلى النَّبِيّ ﷺ، فلما رآه النَّبِيُّ ﷺ ورأى الغضبَ في وجهه، قال:"ما رابَك يا أبا حفص؟" فقال: يا رسول الله، أتيتُ على نفرٍ جلوسٍ على باب المسجد، وقد أُقيمتِ الصلاةُ وفيهم أبو جَحْش اللَّيثي، فقام الرجلان، فأعاد الحديثَ، ثم قال عمر: والله يا رسول الله، ما كانت معونةُ عثمانَ إياه إلَّا أنه ضافَه ليلةً، فأحبَّ أن يَشكُرَها له، فسمعه عثمان فقال: يا رسول الله، ألا تسمعُ ما يقول لنا عمرُ عندك؛ فقال رسول الله ﷺ:"إن رِضًا عمرَ، رحمةٌ واللهِ لودِدْتُ أنك كنتَ جئتَني برأس الخبيثِ" فقام عمر، فلما بعُدَ ناداه النَّبِيُّ ﷺ فقال:"هلُمَّ يا عمر؛ أين أردتَ أن تذهبَ؟" فقال: أردتُ أن آتيَك برأس الخَبيث، فقال:"اجلس حتَّى أُخبرَك بغِنَى الربِّ عن صلاة أبي جَحْش اللَّيثي: إنَّ الله في سمائه الدُّنيا ملائكةً خشوعًا لا يرفعون رؤوسهم حتَّى تقوم الساعةُ، فإذا قامتِ الساعةُ رفعوا رؤوسهم قالوا: ربَّنا ما عَبدْناك حقَّ عبادتِك، وإنَّ لله في سمائه الثانية ملائكةً سجُودًا، لا يرفعون رؤوسهم حتَّى تقوم الساعةُ، فإذا قامت الساعةُ رفعوا رؤوسهم، ثم قالوا ربَّنا ما عَبدْناك حقَّ عبادتك" [وإنَّ الله في سمائه الثالثة ملائكة رُكُوعًا لا يرفعون رؤوسهم حتَّى تقوم الساعةُ، فإذا قامتِ الساعةُ رفعوا رؤوسهم وقالوا: ما عَبدْناك حقَّ عبادتك"] (2) ، فقال له عمر بن الخطاب: وما يقولون يا رسول الله؟ قال:"أما أهلُ السماء الدُّنيا فيقولون: سبحانَ ذي المُلك والمَلَكُوتِ، وأما أهلُ السماء الثانية فيقولون: سبحانَ ذي العِزِّ والجَبَروت، وأما أهلُ السماء الثالثة فيقولون: سبحانَ الحيّ الذي لا يموت، فقُلها يا عمرُ في صلاتك" قال: يا رسول الله، فكيف بالذي علَّمتَني وأمرتَني أن أقولَه في صلاتي؛ قال:"قل هذه مرةً وهذه مرةً"؛ وكان الذي أمرَهُ به أن قال:"أعوذُ بعَفوِك من عِقابِكَ، وأعوذُ برِضاك من سَخَطِك، وأعوذُ بك منك، جَلَّ وجهُك" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4502 - منكر غريب
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4502 - منكر غريب
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تشریف لائے، اس وقت نماز (کی جماعت) قائم تھی اور تین آدمی (الگ) بیٹھے ہوئے تھے۔ ان میں سے ایک ” ابوجحش الیثی “ تھے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اٹھو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نماز پڑھو، ان میں سے دو آدمی اٹھ کر نماز میں شامل ہو گئے جبکہ تیسرے ابوجحش نے انکار کر دیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے ابوجحش! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نماز پڑھو، اس نے کہا: میں نہیں اٹھوں گا حتی کہ میرے پاس وہ شخص آئے جو مجھ سے زیادہ طاقتور ہے اور جس کی پکڑ مجھ سے زیادہ سخت ہو، پھر وہ مجھے پچھاڑے، پھر میرا چہرہ مٹی میں خاک آلود کر دے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں اس کے قریب آیا، میں اس سے زیادہ طاقتور بھی تھا اور میری پکڑ بھی اس سے زیادہ سخت تھی۔ میں نے اس کو پچھاڑا اور اس کا چہرہ مٹی میں رگڑا۔ اتنے میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے اور مجھے جھڑکا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ وہاں سے سخت غصہ کی حالت میں نکل گئے۔ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں واپس آ پہنچے۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے چہرے پر غصے کے آثار دیکھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابوحفص! تم اتنے غصے میں کیوں ہو؟ عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے مسجد کے دروازے پر تین آدمیوں کو بیٹھے دیکھا، اس وقت جماعت ہو رہی تھی۔ ابوجحش اللیثی میں ان میں تھے۔ ان میں سے دو تو اٹھ گئے۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پورا واقعہ سنایا۔ اس کے بعد آپ کہنے لگے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! عثمان رضی اللہ عنہ نے اس کی حمایت صرف اس لئے کی ہے کہ اس نے ایک رات اس کی مہمان نوازی کی تھی اور عثمان رضی اللہ عنہ اس کے احسان کا بدلہ دینا چاہتا تھا۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بھی یہ بات سن رہے تھے۔ آپ بولے: یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کیا آپ نے وہ باتیں نہیں سنی ہیں جو عمر رضی اللہ عنہ نے ہمارے بارے میں آپ سے کہی ہیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر عمر رضی اللہ عنہ اللہ کی رحمت پر راضی ہو تو میں یہ چاہتا ہوں کہ تو خبیث کو میرے پاس لے آتا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اٹھ کر کھڑے ہوئے، جب یہ کچھ دور چلے گئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو آواز دے کر کہا: عمر رضی اللہ عنہ، ادھر آؤ، کہاں جا رہے ہو؟ عرض کی: خبیث کا سر آپ کی خدمت میں پیش کرنے کیلئے جا رہا ہوں۔ آپ نے فرمایا: بیٹھ جاؤ، میں تمہیں بتاتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کو ابوجحش کی نماز کی ضرورت نہیں ہے۔ بے شک آسمان دنیا پر اللہ تعالیٰ کے فرشتے ہیں جو ہر وقت عاجزی سے سر جھکائے رکھتے ہیں اور یہ قیامت تک سر نہیں اٹھائیں گے۔ جب قیامت قائم ہو جائے گی تو یہ سر اٹھا کر عرض کریں گے: اے ہمارے رب! ہم تیری عبادت کا حق ادا نہیں کر سکے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ کیا پڑھتے ہیں؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا: آسمان دنیا والوں کا وظیفہ یہ ہے۔” سبحان اللہ ذی الملك والملکوت “ اور دوسرے آسمان والوں کا یہ ہے ” سبحان الحی الذی لایموت “ اے عمر رضی اللہ عنہ! اپنی نماز میں ان وظائف کو شامل کر لو، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں ان کو نماز میں کس طریقے سے پڑھوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دونوں ایک ایک مرتبہ پڑھ لیا کرو، اور یہ دعا مانگنے کا بھی حکم دیا ” اے اللہ! میں تیرے عذاب سے تیرے عفو کی پناہ مانگتا ہوں۔ اور تیری ناراضگی سے تیری رضا کی پناہ مانگتا ہوں، اور تجھ سے تیری بزرگی کی پناہ مانگتا ہوں “ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4552]
حدیث نمبر: 4553
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا الربيع بن سليمان، حَدَّثَنَا عبد الله بن وهب، أخبرني عمر بن محمد، أنَّ سالم بن عبد الله بن عمر حدَّثه عن عبد الله بن عمر قال: ما سمعتُ عمر بن الخطاب يقولُ لشيءٍ قطُّ: إني لأظنُّ كذا وكذا، إلَّا كان كما يَظُنُّ، بيْنا عمرُ بن الخطاب جالسٌ إذ مرَّ به رجلٌ جميلٌ، فقال له: أخطأ ظَنِّي أوْ إنك على دِينِك في الجاهلية، ولقد (2) كنت كاهنَهم، قال: ما رأيتُ كاليوم استُقبِلَ به رجلٌ مسلمٌ، قال عمر: فإني أعزِمُ عليكَ ألا أخبرتَني، قال: كنتُ كاهنَهم في الجاهلية، قال: فماذا أعجَبُ ما جاء بكَ؛ فذكر حديثًا طويلًا ليس له سنَد (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4503 - الحديث في صحيح البخاري بهذا الإسناد بطوله
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4503 - الحديث في صحيح البخاري بهذا الإسناد بطوله
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے جب بھی کسی چیز کے متعلق کہا کہ میرا گمان یہ ہے تو واقعی اسی طرح ہوتا، جیسا کہ آپ اپنا گمان بتاتے تھے۔ یونہی ایک مرتبہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے تھے کہ ان کے پاس سے ایک حسین و جمیل شخص گزرا۔ آپ نے اس کو فرمایا: میرے سمجھنے میں غلطی ہے یا تو اپنے جاہلیت والے دن پر ہے؟ تو ان کا نجومی ہوا کرتا تھا۔ اس نے کہا: میں نے آج جیسا دن کبھی نہیں دیکھا کہ ایک مسلمان آدمی سے میری ملاقات ہوئی ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں جو تم پر ارادہ رکھتا ہوں، تم اس کے بارے میں مجھے بتاؤ، اس نے کہا: میں جاہلیت میں ان کا نجومی ہوا کرتا تھا۔ اس نے کہا: کتنا اچھا ہے جو آپ لائے ہیں۔ پھر اس کے بعد لمبی حدیث بیان کی۔ اس کی سند نہیں ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4553]
38. فَضِيلَةُ أَرْضِ الشَّامِ .
سرزمینِ شام کی فضیلت
حدیث نمبر: 4554
أخبرني محمد بن عبد الله الزاهد الأصبهاني أبو عبد الله، حَدَّثَنَا أبو إسماعيل محمد بن إسماعيل السُّلَمي، حَدَّثَنَا إسحاق بن إبراهيم بن العلاء الزُّبَيدي، حدثني عمرو بن الحارث الزُّبَيدي، حدثني عبد الله بن سالم الأشعَري، حدثني محمد بن الوليد بن عامر الزُّبَيدي، حَدَّثَنَا راشد بن سعد، أنَّ أبا راشِد حدثهم، يرُدُّه إلى مَعدِي كَرِبَ بن عبد كُلال، أنَّ عبد الله بن عمرو بن العاص قال: سافَرْنا مع عمر بن الخطاب آخر سَفْرةٍ إلى الشام، فلما شارفَها أُخبِر أنَّ الطاعونَ فيها، فقيل له: يا أمير المؤمنين، لا ينبغي لك أن تَهجُمَ عليه، كما أنه لو وقَعَ وأنت بها ما كان لك أن تَخرُجَ منها، فرجَع مُتوجهًا إلى المدينة، قال: فبَينا نحن نسيرُ بالليل إذ قال لي: اعرِضْ عن الطَّريق، فعَرَض وعَرضْتُ، فنزلَ عن راحِلَته، ثم وَضَع رأسَه على ذِراع جمَلِه، فنام ولم أستطع أنامُ، ثم ذهب يقول لي: ما لي ولهم رَدُّوني عن الشام! ثم ركبَ فلم أسأله عن شيء، حتَّى إذا ظننتُ أنّا مُخالِطو الناسِ قلتُ له: لِمَ قلتَ ما قلتَ حين انتبهتَ من نَومِك؟ قال: إني سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"ليُبعَثَنَّ مِن بين حائطِ حمصَ والزيتونِ في البَرْث (1) الأحمر سبعون (2) ألفًا ليس عليهم حِسابٌ"، ولئِن رَجَعني اللهُ من سفري هذا لأحتمِلنّ عِيالي وأهلي ومالي حتَّى أنزلَ حمصَ، فرجع مِن سفره ذلك، وقُتل، رضوان الله عليه (3)
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4504 - بل منكر
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4504 - بل منكر
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے آخری سفر میں جو کہ شام کی طرف تھا، ان کے ہمراہ تھے جب وہاں پہنچے تو آپ کو اطلاع ملی کہ وہاں طاعون پھیلا ہوا ہے۔ آپ سے عرض کی گئی: اے امیرالمومنین! آپ کو وہاں نہیں جانا چاہئے جیسا کہ اگر آپ وہاں موجود ہوتے اور طاعون آتا تو آپ کو وہاں سے نکلنا جائز نہ ہوتا۔ تو آپ مدینہ منورہ کی طرف واپس ہو لئے، اسی سفر کے دوران ہم رات کے وقت سفر میں تھے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے فرمایا: یہ راستہ چھوڑ دو، یہ کہہ کر آپ راستہ سے ہٹ گئے اور میں بھی ہٹ گیا۔ آپ اپنی سواری سے نیچے اترے اور اپنے اونٹ کی کوہان پر سر رکھ کر سو گئے، لیکن مجھے نیند نہ آئی، پھر آپ مجھ سے فرمانے لگے: میں نے ان کا کیا بگاڑا تھا کہ انہوں نے مجھے شام سے واپس کر دیا۔ پھر آپ سوار ہو گئے، میں آپ سے کچھ بھی پوچھنے کی جسارت نہ کر سکا حتی کہ جب مجھے یقین ہو گیا کہ میں قافلہ میں پہنچ چکا ہوں تو میں نے عرض کی: آپ نے بیدار ہو کر جو کچھ کہا تھا اس کی وجہ کیا تھی؟ آپ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے ” حمص کی دیوار اور زیتون کے درمیان سرخ مٹی میں سے ستر ہزار آدمی قیامت کے دن اٹھائے جائیں گے۔ ان سے حساب نہیں لیا جائے گا۔ اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے اس سفر سے بخیر و عافیت واپس لوٹا دیا تو میں اپنے اہل و عیال اور مال و متاع سمیت آ کر حمص میں رہائش پذیر ہو جاؤں گا۔ لیکن آپ اس سفر سے واپس آتے ہی شہید کر دیئے گئے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4554]
39. ابْتِدَاءُ تَعْمِيرِ الْكُوفَةِ .
کوفہ کی آبادکاری کا آغاز
حدیث نمبر: 4555
حَدَّثَنَا أبو بكر بن أبي دارِم الحافظ بالكوفة، حَدَّثَنَا عُبيد بن حاتم الحافظ، حَدَّثَنَا داود بن رُشَيد، حَدَّثَنَا الهيثم بن عَدِي، حَدَّثَنَا يونس بن أبي إسحاق، عن الشَّعْبي: أنَّ عمر بن الخطاب كتب إلى سعد بن أبي وقّاص: أن اتخِذْ للمسلمين دارَ هجرةٍ ومَنزلَ جِهادٍ، فبعث سعدٌ رجلًا من الأنصار يقال له: الحارث بن سَلمة، فارتادَ لهم موضعَ الكوفةِ اليومَ، فنزلها سعدٌ بالناس، فخطَّ مسجدَها (1) ، وخطَّ فيها الخِطَط، قال الشَّعْبي: وكان ظهرُ الكوفة يُنبِت الخُزامَى والشِّيْح، والأُقحُوان، وشقائق النُّعمان، فكانت العربُ تُسمِّيه في الجاهلية خَدَّ العَذْراء، فارتادُوا فكتبوا إلى عُمر بن الخطّاب، فكتب: أنِ انزلوه، فتحوّل الناسُ إلى الكوفة (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4505 - الهيثم بن عدي ساقط
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4505 - الهيثم بن عدي ساقط
شعبی روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی طرف خط لکھا کہ مسلمانوں کیلئے ایک دارالہجرت اور منزل جہاد بناؤ۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے حارث بن سلمہ نامی آدمی کو بھیجا۔ انہوں نے وہ جگہ منتخب کی جہاں پر آج کوفہ موجود ہے۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ وہاں پر آئے اور مسجد کا نقشہ بنایا، اور اس میں بہت سارے دیگر خطوط کھینچے۔ سیدنا شعبی فرماتے ہیں: کوفہ میں ” خزامی “ (ایک قسم کا پودا ہے جس کے پھول بہت خوشگوار ہوتے ہیں) ” شیح “ (ایک قسم کی گھاس ہے) گل بابونہ اور گل لالہ بہت اگتے تھے۔ اہل عرب زمانہ جاہلیت میں اس کو ” خدالعذراء “ (کنواری لڑکی کے رخسار) کہا کرتے تھے۔ لوگوں نے حارث بن سلمہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں درخواست کی (کہ اس زمین کو چھوڑ دیا جائے) چنانچہ لوگوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں عریضہ ارسال کیا۔ تو آپ نے جوابی مکتوب میں لکھ بھیجا کہ اس زمین کو چھوڑ دو، لوگ کوفہ کی جانب منتقل ہونا شروع ہو گئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4555]
40. الْكُوفَةِ قُبَّةُ الْإِسْلَامِ وَأَرْضُ الْبَلَاءِ .
کوفہ اسلام کا گنبد اور آزمائشوں کی سرزمین ہے
حدیث نمبر: 4556
أخبرنا أبو بكر الشافعي، حَدَّثَنَا محمد بن مَسلَمة، حَدَّثَنَا يزيد بن هارون، أخبرنا شَريك، عن عمار الدُّهْني، عن سالم بن أبي الجَعْد، عن حُذَيفة، قال: الكوفةُ قبَّة الإسلامِ، وأرضُ البَلاء (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4506 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4506 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: کوفہ ” قبۃ الاسلام “ (اسلام کا مرکز) ہے اور آزمائشوں کی زمین ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4556]
حدیث نمبر: 4557
حَدَّثَنَا عبد الباقي بن قانع الحافظ، حَدَّثَنَا محمد بن موسى بن حماد، حَدَّثَنَا الحسن بن يوسف المَرْوَرُّوذِيّ، حَدَّثَنَا بقيَّة، حَدَّثَنَا بَحِير بن سعد، عن خالد بن مَعْدان، حدثني عبد الرحمن بن جُبَير بن نُفير، عن أبيه، عن عمر بن الخطاب: أنه عَرَضَت مولاتُه تَصبغُ لحيتَه، فقال: ما رابَكِ إلى (1) أن تُطْفِئي نُوري كما يُطفئُ فُلانٌ نُورَه (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4507 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4507 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کی لونڈی ان کی داڑھی میں خضاب لگانے کے لئے حاضر ہوئی تو آپ نے فرمایا: میں تو صرف یہ سمجھتا ہوں کہ تو میرے نور کو بجھا رہی ہے جیسا کہ فلاں شخص اپنا نور بجھا دیتا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4557]
41. مَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ عَلَى رَجُلٍ خَيْرِ مِنْ عُمَرَ .
سورج نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے بہتر کسی شخص پر طلوع نہیں کیا
حدیث نمبر: 4558
أخبرني محمد بن عبد الله الجَوهري، حَدَّثَنَا محمد بن إسحاق، حَدَّثَنَا بِشر بن معاذ العَقَدي، حَدَّثَنَا عبد الله بن داود الواسطي، حَدَّثَنَا عبد الرحمن ابن أخي محمد بن المُنكَدِر، عن عمِّه محمد بن المُنكَدِر، عن جابر بن عبد الله قال: قال عمر بن الخطاب ذاتَ يومٍ لأبي بكر الصِّدِّيق: يا خيرَ الناسِ بعدَ رسولِ الله ﷺ، فقال أبو بكر: أما إنَّكَ إنْ قلتَ ذاك، فلقد سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول:"ما طلعتِ الشمسُ على رجلٍ خيرٍ مِن عُمرَ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4508 - الحديث شبه موضوع
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4508 - الحديث شبه موضوع
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک دن سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: اے وہ شخص جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے افضل ہے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بولے: تم تو یہ بات کہہ رہے ہو جبکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ سورج کسی ایسے آدمی پر طلوع نہیں ہوا جوعمر رضی اللہ عنہ سے افضل ہو۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4558]
حدیث نمبر: 4559
أخبرني عبد الله بن الحسين القاضي بمَرْو، حَدَّثَنَا الحارث بن أبي أسامة، حَدَّثَنَا أبو النضر هاشم بن القاسم، حَدَّثَنَا زهير، عن أبي إسحاق، عن أبي عُبيدة، قال: قال عبد الله: إِنَّ أفرسَ الناسِ ثلاثةٌ: العزيزُ حين تَفرَّس في يوسف، فقال لامرأته: أكرِمي مَثواهُ، والمرأةُ التي رأت موسى، فقالت لأبيها: يا أبتِ استأجِرْه، وأبو بكر حين استخلَف عُمرَ (2) . قال الحاكمُ: فرَضِيَ اللهُ عن ابن مسعود، لقد أحسنَ في الجمع بينهم بهذا الإسناد الصحيح. مقتلُ عمرَ ﵁ على الاختِصار
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4509 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4509 - صحيح
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: لوگوں میں سے تین آدمیوں نے انتہائی کمال فراست (دور اندیشی) کا ثبوت دیا۔ (1) عزیز مصر۔ جبکہ اس نے سیدنا یوسف علیہ السلام کے بارے میں دور رس نگاہ سے دیکھتے ہوئے اپنی بیوی سے کہا تھا: اَکْرِمِیْ مَثْوَاہُ (یوسف: 21) ” انہیں عزت سے رکھ “ (2) اس عورت نے، جس نے موسیٰ علیہ السلام کو دیکھ کر اپنے والد سے کہا تھا: یَااَبَتِ اسْتَاْجِرْہُ (القصص: 26) ” اے میرے باپ ان کو نوکر رکھ لو “ (3) سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جس وقت انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ نامزد کیا تھا۔ ٭٭ امام حاکم کہتے ہیں: اللہ تعالیٰ ابن مسعود رضی اللہ عنہ پر راضی ہو جنہوں نے ان تمام کو یکجا کر دیا ہے اس کی سند صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4559]
42. مَقْتَلُ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَلَى الِاخْتِصَارِ
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت کا مختصر بیان
حدیث نمبر: 4560
حَدَّثَنَا الأستاذ أبو الوليد، حَدَّثَنَا الحسن بن سفيان، حَدَّثَنَا عبد الأعلى بن حمّاد النَّرْسي، حَدَّثَنَا يزيد بن زُريع، عن سعيد، عن قَتَادة، عن سالم بن أبي الجَعْد، عن مَعْدان بن أبي طلحة اليَعْمَري، قال: أُصيب عُمر يوم الأربعاء لأربعِ ليالٍ بَقِين من ذي الحِجّة (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4510 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4510 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا معدان بن ابوطلحہ یعمری فرماتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پر بدھ کے دن حملہ ہوا تھا اور ذی الحجہ (مہینہ ختم ہونے) میں ابھی چار راتیں باقی تھیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4560]