المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
49. اسْتِئْذَانُ عُمَرَ مِنْ عَائِشَةَ لِدَفْنِهِ فِي حُجْرَتِهَا .
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اپنے حجرے میں دفن کی اجازت طلب کرنا
حدیث نمبر: 4571
حَدَّثَنَا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا بِشر بن موسى، حَدَّثَنَا بِشر بن الوليد القاضي، حَدَّثَنَا أبو يوسف القاضي، عن يحيى بن سعيد الأنصاري، عن أنس قال: قُبض عمر وهو ابن ثلاثٍ وستين سنة (3) .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا وصال مبارک 63 برس کی عمر میں ہوا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4571]
حدیث نمبر: 4572
أخبرنا أحمد بن محمد بن بالَوَيهِ العَفْصِي، حَدَّثَنَا محمد بن عثمان بن أبي شَيْبة، حَدَّثَنَا أحمد بن عبد الله بن يونس، حَدَّثَنَا زهير، عن يزيد بن أبي زياد، عن أبي جُحَيفة، عن عبد الله بن مسعود، قال: إن كان عمرُ حِصْنًا حَصِينًا يَدخُل الإسلامُ فيه ولا يَخرجُ منه، فلما أُصيبَ عُمر انثلَمَ الحِصنُ، فالإسلامُ يَخرُج منه ولا يَدخُل فيه، إذا ذكر الصالحون فحيَّهَلا بعُمرَ (1) .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ایک مظبوط قلعہ تھے جس میں اسلام داخل تو ہو سکتا تھا لیکن نکل نہیں سکتا تھا۔ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا تو یہ قلعہ ٹوٹ گیا تو اسلام اس سے نکلنے لگ گیا۔ اور اس میں داخل نہ ہوتا تھا۔ جب بھی صالحین کا ذکر ہوتا ہے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ان میں سرفہرست ہوتے ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4572]
حدیث نمبر: 4573
حَدَّثَنَا أبو محمد المُزَني، حَدَّثَنَا محمد بن عبد الله الحَضْرمي، حَدَّثَنَا عبد الله بن عمر بن أبان، حَدَّثَنَا سفيان بن عُيَينة، عن جعفر بن محمد، عن أبيه، عن جابر بن عبد الله: أنَّ عليًا دخل على عُمر وهو مُسجًّى، فقال: صلى الله عليك، ثم قال: ما مِن الناسِ أحدٌ أحبَّ إليَّ أن ألقى الله بما في صَحيفتِه من هذا المُسجَّى (1) . قال الحاكم: أخبار الشُّورى ما يصحُّ منها مَخْرجُه بعد وفاةِ أبي بكر الصِّدِّيق ﵁ موصولةٌ بأخبارِ سَقِيفة بني ساعِدةَ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، اس وقت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کفن میں تھے، آپ نے کہا: اے عمر رضی اللہ عنہ! تم پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہو، پھر فرمایا: اس کفن میں لپٹے ہوئے شخص سے بڑھ کر میں کسی کے بارے میں یہ خواہش نہیں رکھتا ہوں کہ میں اللہ سے اس چیز کے ہمراہ ملاقات کروں جو اس کے نامہ اعمال میں ہے۔ ٭٭ امام حاکم کہتے ہیں: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد مشاورت کے متعلق صحیح احادیث سقیفہ بنی ساعدہ کی اخبار کے ساتھ موصول ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4573]
50. الْأَشْعَارُ فِي رِثَاءِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - .
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی وفات پر کہے گئے مرثیہ اشعار
حدیث نمبر: 4574
حَدَّثَنَا أبو سهل بن زياد القطان إملاءً، حَدَّثَنَا أبو قِلابة، حَدَّثَنَا أبي، حَدَّثَنَا جعفر بن سليمان، عن مالك (1) بن دينار، قال: سُمِع صوتٌ بجبل تَبَالةَ حين قُتل عمر بن الخطاب: لِيَبكِ على الإسلام مَن كان باكيًا … فقد أوشَكُوا هَلْكى وما قَدُمَ العَهدُ وأدبَرتِ الدنيا وأدبَرَ خَيرُها … وقد مَلَّها مَن كان يُوقِنُ بالوَعِدِ (2) فنظروا فلم يروا شيئًا (1) .
مالک بن دینار فرماتے ہیں: جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا تو جبل تبالہ کی جانب سے یہ آواز سنائی دی۔ حاضر ہے اسلام کی خدمت میں جو کوئی رونے والا ہے، بے شک قریب ہے میری ہلاکت اور زمانہ قریب آ گیا ہے۔ اور دنیا پیچھے پلٹ گئی ہے اور اس کی بھلائی بھی لوٹ گئی ہے اور وہ ملال میں ہے جو آخرت پر یقین رکھتا ہے۔ لوگوں نے دیکھا تو کوئی نظر نہ آیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4574]
حدیث نمبر: 4575
حَدَّثَنَا أبو سهل بن زياد، حَدَّثَنَا أبو قِلابة، حَدَّثَنَا أشهَلُ بن حاتم، حَدَّثَنَا ابن عَون، عن الشَّعْبي قال: ورَثَت عاتِكةُ بنت زيد بن عمرو بن نُفَيل عُمرَ فقالت: عينُ (2) جُودِي بعَبرةٍ ونَحيبِ … لا تَمَلِّي على الإمام الصَّليبِ فَجَّعَتْني المَنُونُ بالفارسِ المُعْ … لم يومَ الهِيَاجِ والتأْييبِ عِصْمةُ الدِّين والمُعِينُ على الدَّه … رِ وغيثُ المَلهُوفِ والمَكرُوبِ قل لأهل الضَّرَّاءِ والبُؤسِ: مُوتُوا … إِذ سَقَتْه المَنُونُ كأسَ شَعُوبِ وقالت عاتكة أيضًا: فَجَّعَني (3) فَيرُوزُ لا دَرَّ دَرُّهُ … بأبيضَ تالٍ للكتابٍ مُنيبِ رؤوفٍ على الأدنى غَليظٍ على العِدَى … أخي ثقةٍ في النائبات نَجيبِ متى ما يقُلْ لا يُكذِبِ القولَ فعلُهُ … سريعٍ إلى الخَيرات غيرِ قَطُوبِ (4) حديث الشُّورى مُخرَّج في"الصحيحين"، لكني قد أوردتُ هاهنا أحرفًا صحيحةً الإسنادِ مُفيدةً غريبةً.
سیدنا عاتکہ بنت زید بن عمرو بن نفیل نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا مرثیہ پڑھتے ہوئے کہا ہے: اے آنکھ! عبرت اور سختی کے ساتھ رو اور برگزیدہ امام پر رونے میں دیر نہ کر۔ مجھے اس شہسوار کی موت نے پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے جو لڑائی اور جنگ کے موقعہ پر دوسروں کو تعلیم دیتا ہے۔ وہ دین کی عصمت ہے اور زمانے کا مددگار ہے اور غمزدوں اور پریشان حالوں کا مددگار ہے۔ مصیبت زدوں اور غم کے ماروں سے کہہ دو کہ مر جاؤ، کیونکہ موت نے ہمیں پریشانی کے جام پلائے ہیں۔ اور عاتکہ نے یہ بھی کہا ہے: مجھے فیروز نے پریشان کر دیا ہے۔ یہ غریب پر مہربان ہے اور مالداروں پر سخت ہے، ثقہ بھائی ہے اور مصیبت زدوں کی فریاد کو پہنچنے والا ہے۔ یہ جب کوئی بات کہہ دیتا ہے تو اس کا عمل اس کے قول کی تکذیب نہیں کرتا، یہ ماتھے پر شکن ڈالے بغیر نیکیوں کی طرف جلدی کرنے والا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4575]
حدیث نمبر: 4576
حَدَّثَنَا أحمد بن يعقوب الثقفي ومحمد بن أحمد الجَلّاب، قالا: حَدَّثَنَا الحسن بن علي بن شَبيب المَعْمَري، حَدَّثَنَا محمد بن الصَّبَّاح، حَدَّثَنَا عبد العزيز بن محمد، عن عُمر مولى غُفرة، عن محمد بن كعب، عن ابن عمر، قال: قال عمر لأصحاب الشُّورى: لله دَرُّهم لو وَلَّوها الأُصيلِعَ كيف يَحمِلُهم على الحقِّ وإِن حُمِل على عُنقه بالسَّيف، قال: فقلتُ: تعلمُ ذلك منه ولا تُولِّيه، قال: إن أستخلِفْ فقد استخلَفَ مَن هو خيرٌ مني، وإن أترُكْ [فقد ترك مَن هو خيرٌ مني (1) ] (2) . ومن فضائل أميرِ المؤمنين ذي النُّورَين عثمانَ بن عفّان ﵁ -
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اصحاب شوریٰ سے فرمایا: اللہ ان پر رحمت کرے، اگر یہ (اصیلع) کو امیر بنا لیں، وہ ہمیشہ حق بات کرے گا اگرچہ اس کی گردن پر تلوار کیوں نہ رکھی ہوئی ہو، ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں نے عرض کی: آپ جب اس کے بارے میں اتنا کچھ جانتے ہیں تو ان کو خلیفہ نامزد کیوں نہیں کر دیتے؟ آپ نے فرمایا: اگر میں خلیفہ نامزد کروں تو (اس میں کوئی حرج بھی نہیں ہے کیونکہ) اس نے بھی تو خلیفہ نامزد کر ہی دیا تھا جو مجھ سے بہتر تھا اور اگر میں خلیفہ نامزد نہ کروں (تب بھی کوئی مضائقہ نہیں ہے کیونکہ) اس نے بھی تو خلیفہ نامزد نہیں کیا تھا جو مجھ سے بہتر تھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4576]
51. فَضَائِلُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ ذِي النُّورَيْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ - رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ -
امیر المؤمنین ذوالنورین سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فضائل
حدیث نمبر: 4577
حَدَّثَنَا أبو جعفر عبد الله بن إسماعيل بن إبراهيم بن المنصور أميرِ المؤمنين، حَدَّثَنَا محمد بن أحمد بن يزيد الرِّيَاحي، حَدَّثَنَا هارون بن إسماعيل الخَزّاز، حَدَّثَنَا قُرَّة بن خالد، عن الحسن، عن قيس بن عُبَاد، قال: سمعتُ عليًا يومَ الجَمَل يقول: اللهم إني أبرأُ إليك من دمِ عُثمانَ، ولقد طاشَ عَقْلي يوم قُتل عثمانُ، وأنكرتُ نفسي وجاؤوني للبَيعة، فقلت: والله إني لأستحْيي من الله أن أُبايعَ قومًا قَتَلوا رجلًا قال له رسول الله ﷺ:"ألا أستَحْيي ممن تَستَحْيِي منه الملائكةُ"، وإني لأستحْيي من الله أن أُبايع وعثمانُ قَتيلُ الأرض لم يُدفَن بعدُ، فانصرفُوا، فلما دُفن رجعَ الناسُ فسألوني البيعةَ، فقلت: اللهم إني مُشفِقٌ مما أُقدِمُ عليه، ثم جاءت عَزيمةٌ فبايعتُ، فلقد قالوا: يا أميرَ المؤمنين، فكأنما صُدِعَ قلبي، وقلتُ: اللهم خُذْ مني لعثمانَ حتَّى تَرضَي (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4527 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4527 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا قیس بن عباد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے جنگ جمل کے دن سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے ” اے اللہ! میں تیری بارگاہ میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے قتل سے براءت کا اظہار کرتا ہوں، جس دن سیدنا عثمان کو شہید کیا گیا، اس دن میری عقل کھو گئی تھی اور یہ عمل مجھے انتہائی ناگوار گزرا تھا، لوگ میرے پاس بیعت کے لئے آئے تھے لیکن میں نے یہ کہہ کر بیعت لینے سے انکار کر دیا ” خدا کی قسم! مجھے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ایسی قوم سے بیعت لینے سے حیاء آتی ہے جنہوں نے ایسے آدمی کو شہید کر ڈالا ہے جن کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: کیا میں اس سے حیاء نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیاء کرتے ہیں۔ اور میں ایسے حالات میں بھی بیعت لینے سے اللہ سے حیاء کرتا ہوں کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا ہے اور ابھی ان کی تدفین بھی نہیں ہوئی ہے۔ وہ لوگ واپس چلے گئے، جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی تدفین ہو چکی تو لوگ دوبارہ میرے پاس آئے اور بیعت لینے کا مطالبہ کیا۔ میں نے کہا: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے متعلق جو اقدام کیا گیا ہے، میں اس سلسلہ میں بہت ڈر رہا ہوں لیکن پھر عزیمت آ گئی تو میں نے ان سے بیعت لے لی۔ لوگوں نے مجھے ” یا امیرالمومنین “ کہہ کر مخاطب کیا تو لگتا تھا کہ میرا دل پھٹ جائے گا۔ اور میں نے کہا: اے اللہ! تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے متعلق مجھ سے مؤاخذہ کر لے حتی کہ تو راضی ہو جائے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4577]
52. ذِكْرُ نَسَبِ عُثْمَانَ - رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ - وَكُنَاهُ
سیدنا عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نسب اور کنیتوں کا بیان
حدیث نمبر: 4578
حدثني محمد بن صالح بن هانئ حَدَّثَنَا الفضل بن محمد بن المسيّب، حَدَّثَنَا إسماعيل بن أبي أُويس، حدثني إسماعيل بن إبراهيم بن عُقبة، عن موسى بن عُقبة، عن ابن شِهَاب، قال: عثمان بن عفّان بن أبي العاص بن أُميّة بن عبد شمس بن عبد مَناف بن قُصيّ بن كِلَاب، وأم عثمان أَروى بنت كُرَيز، وأم أَروى أمُّ حَكيم، وهي البَيضاءُ عمّةُ رسول الله ﷺ، و قد اختلفوا في كُنْية عثمان، فقيل: أبو عبد الله، وقيل: أبو عَمرو.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4528 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4528 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
ابن شہاب نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا نسب یوں بیان کیا ہے۔ عثمان بن عفان بن ابی العاص بن امیہ بن عبدشمس بن عبد مناف بن قصی بن کلاب “ اور سیدنا عثمان کی والدہ کا نام ” اروی بنت کریز “ تھا اور ” ام اروی “ ہی ام حکیم بیضاء ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی ہیں۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی کنیت میں اختلاف ہے، بعض کے نزدیک ابوعبداللہ ہے اور بعض کے نزدیک ابوعمرو ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4578]
حدیث نمبر: 4579
أخبرني محمد بن المُؤمَّل، حَدَّثَنَا الفضل بن محمد، حَدَّثَنَا أحمد بن حنبل، حَدَّثَنَا أبو داود، حَدَّثَنَا ابن أبي الزِّناد، عن أبيه، عن أبانَ بن عثمان، قال: سمعت أبا عبد الله عثمان بن عفّان (1) .
سیدنا ابان بن عثمان (ایک حدیث بیان کرتے ہوئے) فرماتے ہیں: سمعت ابا عبداللہ عثمان بن عفان (میں نے ” ابوعبداللہ عثمان بن عفان کو فرماتے سنا ہے) جبکہ ابوبکر بن ابی شیبہ کہتے ہیں کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی کنیت ” ابوعمرو “ تھی اور یہ بھی کہتے ہیں کہ ابوعبداللہ ذی الحجہ میں 35 ہجری کو شہید کئے گئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4579]
حدیث نمبر: 4579M
سمعت أبا إسحاق إبراهيم بن إسماعيل القارئ يقول: سمعت عثمان بن سعيد الدارميَّ يقول: سمعت أبا بكر بن أبي شَيْبة يقول: عثمان بن عفّان يُكنى أبا عمرو، وأبا عبد الله، قُتل في ذي الحجَّة سنة خمس وثلاثين.
عثمان بن سعید دارمی بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابوبکر بن ابی شیبہ کو یہ کہتے ہوئے سنا: ”سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی کنیت ابو عمرو اور ابو عبداللہ ہے، آپ ذوالحجہ سن 35 ہجری میں شہید کیے گئے“۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4579M]