المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
56. إِنَّ عُثْمَانَ تَبْرُقُ لَهُ الْجَنَّةُ .
بے شک جنت سیدنا عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لیے چمکتی ہے
حدیث نمبر: 4590
حَدَّثَنَا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن هشام بن أبي الدُّمَيك، حَدَّثَنَا الحسين (1) بن عُبيد الله، حَدَّثَنَا عبد العزيز بن أبي حازم، عن أبيه، عن سهل بن سعد قال: سألَ رجلٌ النَّبِيَّ ﷺ: أفي الجنةِ بَرْقٌ؟ قال:"نعم، والذي نفسي بيدِه، إنَّ عثمانَ ليتحوّلُ من مَنزلٍ إلى منزلٍ، فتَبْرُق له الجنّةُ" (2) . إن كان الحسين (3) بن عبيد الله هذا حَفِظه عن عبد العزيز بن أبي حازم، فإنه صحيحٌ على شرط الشيخين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4540 - ذا موضوع
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4540 - ذا موضوع
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کیا جنت میں بجلی چمکے گی؟ آپ نے فرمایا: جی ہاں۔ اس ذات کی قسم! جس کے قبضہ میں میری جان ہے، بے شک عثمان ایک منزل سے دوسری میں منتقل ہو گا، تو جنت اس کے لئے روشن کی جائے گی۔ ٭٭ اگر یہ حسین بن عبیداللہ، عبدالعزیز بن ابی حازم سے روایات حفظ کرتا ہے تو یہ حدیث شیخین رحمۃ اللہ علیہما کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4590]
حدیث نمبر: 4591
حَدَّثَنَا علي بن حَمْشاذَ العَدْل، حَدَّثَنَا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حَدَّثَنَا مسلم بن إبراهيم، حَدَّثَنَا وُهَيب بن خالد، حَدَّثَنَا موسى ومحمد وإبراهيم بنو عُقْبة، قالوا: حَدَّثَنَا أبو أُمّنا أبو حَبيبة (1) قال: شهدتُ أبا هريرة وعثمانٌ محصورٌ في الدار، واستأذنَه (2) في الكلام، فقال أبو هريرة: سمعت رسول الله ﷺ يقول:"إنها ستكون فِتنةٌ واختلافٌ - أو اختلافٌ وفِتنةٌ -" قال: قلنا: يا رسول الله، فما تأمُرُنا؟ قال:"عليكم بالأمِيرِ وأصحابِه"، وأشارَ إلى عُثمان (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4541 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4541 - صحيح
سیدنا ابوحسنہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، اس وقت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا محاصرہ ہو چکا تھا۔ میں نے ان سے گفتگو کی اجازت مانگی تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بولے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عنقریب فتنے اور اختلاف یا (شاید اختلاف کا لفظ پہلے اور فتنے کا بعد میں بولتے ہوئے یوں فرمایا) اختلافات اور فتنے ہوں گے۔ ہم نے عرض کی: (ان حالات میں) ہمارے لئے کیا حکم ہے؟ آپ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: تم امیرالمومنین اور ان کے ساتھیوں کی حمایت میں رہنا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4591]
57. إِخْبَارُ رَسُولِ اللَّهِ عُثْمَانَ فِي الرُّؤْيَا يَوْمَ شَهَادَتِهِ .
امیرالمومنین ذی النورین حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے فضائل
حدیث نمبر: 4592
حَدَّثَنَا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حَدَّثَنَا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حَدَّثَنَا مسلم بن إبراهيم، حَدَّثَنَا وُهَيب بن خالد، عن موسى بن عُقْبة، قال: حدثني أبو علقمة مولى عبد الرحمن بن عوف، قال: حدثني كثير بن الصَّلْت، قال: أغفَى عثمانُ بن عفّان في اليوم الذي قُتِل فيه فاستيقظ، فقال: لولا أن يقولَ الناس: تمنّى عثمانُ الفتنة، لحدَّثتكم، قال: قلنا: أصلحكَ الله، فحدِّثْنا فلسنا نقول ما يقول الناسُ! فقال: إني رأيتُ رسول الله ﷺ في منامي هذا، فقال:"إنك شاهِدٌ معنا الجُمعةَ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4542 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4542 - صحيح
سیدنا کثیر بن صلت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جس دن سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا، اس دن آپ کو نیند آئی، جب آپ سو کر بیدار ہوئے تو بولے: اگر مجھے یہ خدشہ نہ ہو کہ لوگ کہیں گے کہ عثمان فتنہ کی تمنا کر رہا ہے تو میں تمہیں ایک بات بتاؤں۔ (سیدنا کثیر بن صلت) فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ آپ کے احوال کی اصلاح فرمائے، ہم لوگوں کی طرح باتیں نہیں کریں گے، آپ ہمیں بتائیں کیا بات ہے؟ آپ نے فرمایا: میں نے ابھی خواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے آپ فرما رہے تھے: تم جمعہ تک ہم سے آ ملو گے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4592]
حدیث نمبر: 4593
حَدَّثَنَا أبو عمرو عثمان بن أحمد بن السمّاك ببغداد، حَدَّثَنَا عبد الرحمن بن محمد بن منصور الحارِثي، حَدَّثَنَا يحيى بن سعيد القطَّان، عن إسماعيل بن أبي خالد، عن قيس بن أبي حازم، عن أبي سَهْلة مولى عثمان، عن عائشة، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"ادعُوا لي - أو ليتَ عندي - رجلًا من أصحابي" قالت: قلت: أبو بكر؟ قال:"لا" قلت: عمرُ؟ قال:"لا" قلت: ابن عمِّك عليّ؟ قال:"لا" قلت: فعثمانُ؟ قال:"نعم" قال: فجاء عثمان، فقال:"قُومي"، قال: فجعل النَّبِيّ ﷺ يُسِرُّ إلى عثمان ولَونُ عثمان يتغيّر. قال: فلمَّا كان يومُ الدارِ قلنا: ألا تُقاتل؟ قال: لا، إنَّ رسول الله ﷺ عَهِدَ إِليَّ أمرًا، فأنا صابرٌ نفسي عليه (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4543 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4543 - صحيح
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میرے پاس بلاؤ، (یا شاید یہ فرمایا کہ) کاش میرے پاس میرے اصحاب میں سے ایک آدمی ہوتا۔ ام المومنین رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے کہا: ابوبکر؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ میں نے کہا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ میں نے کہا: آپ کے چچازاد بھائی سیدنا علی رضی اللہ عنہ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ میں نے کہا: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے۔ آپ نے مجھے وہاں سے اٹھ جانے کا حکم دیا۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (کافی دیر تک) سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ہمراہ سرگوشی میں باتیں کرتے رہے اور (ساتھ ہی ساتھ) سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا رنگ متغیر ہوتا جا رہا تھا، جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا محاصرہ کیا گیا تو ہم نے ان سے پوچھا: کیا آپ قتال نہیں کریں گے؟ تو انہوں نے فرمایا: نہیں۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ایک عہد لیا ہوا ہے، اس لئے میں صبر اختیار کرتا ہوں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4593]
حدیث نمبر: 4594
أخبرني عبد الله بن الحسين القاضي بمَرْو، حَدَّثَنَا الحارث بن أبي أسامة، حَدَّثَنَا موسى بن داود الضّبِّي، حَدَّثَنَا الفَرَج بن فَضَالة، عن محمد بن الوليد الزُّبيدي، عن الزُّهْري، عن عُرْوة، عن عائشة، قالت: قال رسول الله ﷺ لعثمان:"إِنَّ الله سيُقمِّصُك قميصًا، فإن أرادك المُنافِقُون على خَلْعِه، فلا تَخْلعْه" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4544 - أنى له الصحة ومداره على فرج بن فضالة
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4544 - أنى له الصحة ومداره على فرج بن فضالة
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ تجھے ایک قمیص پہنائے گا اگر منافقین وہ قمیص اتروانا چاہیں تو تم اسے نہ اتارنا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، عالی الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کا تذکرہ۔ سب سے پہلے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کا وہ سبب ہے جس سے عدم واقفیت کسی عالم کو زیبا نہیں ہے، وہ عبداللہ بن سعد بن ابی سرح کے احوال ہیں۔ جو کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے خالہ زاد بھائی ہیں۔ ولید بن عقبہ ابن ابی معیط کے احوال۔ یہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے اخیافی (ماں شریک) بھائی ہیں۔ عبداللہ بن سعد بن ابی سرح کے بارے میں صحیح احادیث شاہد ہیں کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کاتب ہوا کرتے تھے۔ پھر کتابت میں ان کی خیانت پکڑی گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو معزول کر دیا تو وہ اسلام سے مرتد ہو کر اہل مکہ کے ساتھ جا ملا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے موقع پر اس کو قتل کرنے کی اجازت دے دی تھی، لیکن اس کو ابھی قتل نہیں کیا گیا تھا کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اس کو لے کر (حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں) حاضر ہوئے، اس نے دوبارہ اسلام کی طرف رجوع کر لیا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو امان دے دی تھی اور اس کے قتل سے منع فرما دیا تھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4594]
حدیث نمبر: 4594M
حَدَّثَنَا أبو بكر بن إسحاق وعلي بن حَمْشاذ، قالا: حَدَّثَنَا بِشر بن موسى، حَدَّثَنَا الحُميدي، حَدَّثَنَا سفيان، حَدَّثَنَا يحيى (1) بن صَبِيح، عن قَتَادة، عن سالم بن أبي الجَعد، عن مَعْدان بن أبي طلحة اليَعْمَري، عن عمر بن الخطاب: أنه قال على المنبر: إني رأيتُ في المنام كأنَّ ديكًا نَقَرني ثلاث نَقَرات - أو نَقَدَني ثلاث نَقَدات - فقلت: أعجمي، وإني قد جعلتُ هذا الأمرُ بعدي إلى هؤلاء الستة الذين قُبض رسول الله ﷺ وهو عنهم راضٍ: عثمان وعليّ وطلحة والزبير وعبد الرحمن وسعد (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ذكر مقتل أمير المؤمنين عثمان بن عفّان ﵁ - وأولُ ما لا يَسَعُ العالِمَ جهلُه من ذلك الوقوفُ على السبب الذي حَدَث ذلك منه: وهو شأنُ عبد الله بن سعد بن أبي سَرْح، وهو ابن خالة عثمان بن عفّان، والوليدِ بن عُقبة بن أبي مُعَيط، وهو أخو عثمان لأمِّه، فأما عبدُ الله بن سعد بن أبي سَرْح فإِنَّ الأخبار الصحيحة ناطقةٌ بأنه كان كاتبًا لرسول الله ﷺ، فظَهَرتْ خِياناتُه في الكِتابة، فعزلَه رسولُ الله ﷺ، فارتَدّ عن الإسلام، ولَحِقَ بأهل مكة، فكان رسولُ الله ﷺ أباحَ دمَه يومَ الفتح، فلم يُقتَل حتَّى جاء به عثمانُ، وقد راجعَ الإسلامَ، فآمَنَه رسولُ الله ﷺ وحَقَنَ دَمَه (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ذكر مقتل أمير المؤمنين عثمان بن عفّان ﵁ - وأولُ ما لا يَسَعُ العالِمَ جهلُه من ذلك الوقوفُ على السبب الذي حَدَث ذلك منه: وهو شأنُ عبد الله بن سعد بن أبي سَرْح، وهو ابن خالة عثمان بن عفّان، والوليدِ بن عُقبة بن أبي مُعَيط، وهو أخو عثمان لأمِّه، فأما عبدُ الله بن سعد بن أبي سَرْح فإِنَّ الأخبار الصحيحة ناطقةٌ بأنه كان كاتبًا لرسول الله ﷺ، فظَهَرتْ خِياناتُه في الكِتابة، فعزلَه رسولُ الله ﷺ، فارتَدّ عن الإسلام، ولَحِقَ بأهل مكة، فكان رسولُ الله ﷺ أباحَ دمَه يومَ الفتح، فلم يُقتَل حتَّى جاء به عثمانُ، وقد راجعَ الإسلامَ، فآمَنَه رسولُ الله ﷺ وحَقَنَ دَمَه (2) .
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے منبر پر (خطبہ دیتے ہوئے) فرمایا: ”میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ گویا ایک مرغ نے مجھے تین ٹھونگیں ماری ہیں، تو میں نے (اس کی تعبیر یہ) سمجھی کہ کوئی عجمی (غیر عرب) مجھے قتل کرے گا۔ اور میں نے اپنے بعد یہ معاملہ (خلافت) ان چھ افراد کے سپرد کر دیا ہے جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی وفات کے وقت راضی تھے: عثمان، علی، طلحہ، زبیر، عبدالرحمن (بن عوف) اور سعد (بن ابی وقاص) رضی اللہ عنہم“۔ امام حاکم فرماتے ہیں: اس حدیث کی سند صحیح ہے، مگر شیخین (بخاری و مسلم) نے اسے تخریج نہیں کیا۔ امیر المومنین عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی شہادت کا تذکرہ: اس سلسلے میں سب سے پہلی چیز جس سے عالم کا ناواقف ہونا مناسب نہیں، وہ ان اسباب پر مطلع ہونا ہے جن کی وجہ سے یہ واقعہ پیش آیا، اور وہ (اسباب) عبداللہ بن سعد بن ابی سرح—جو عثمان رضی اللہ عنہ کے خالہ زاد بھائی تھے—اور ولید بن عقبہ بن ابی معیط—جو عثمان رضی اللہ عنہ کے مادری بھائی تھے—کا معاملہ ہے۔ رہا عبداللہ بن سعد بن ابی سرح کا معاملہ، تو صحیح خبریں اس بات پر شاہد ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کاتب تھے، پھر کتابت میں ان کی خیانتیں ظاہر ہوئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں معزول کر دیا، جس پر وہ اسلام سے پھر کر (مرتد ہو کر) مکہ والوں سے جا ملے؛ اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن ان کا خون مباح قرار دے دیا تھا، لیکن وہ قتل نہیں ہوئے یہاں تک کہ عثمان رضی اللہ عنہ انہیں لے کر آئے جبکہ وہ اسلام کی طرف رجوع کر چکے تھے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں امان دے دی اور ان کا خون محفوظ فرما لیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4594M]
58. ذِكْرُ مَقْتَلِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ - تَعَالَى - عَنْهُ .
ذِكْرُ مَقْتَلِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ - تَعَالَى - عَنْهُ .
حدیث نمبر: 4595
فحدَّثنا أبو عبد الله محمد بن أحمد الأصبهاني، حَدَّثَنَا الحسن (3) بن الجَهْم، حَدَّثَنَا الحسين بن الفَرَج، حَدَّثَنَا محمد بن عُمر، أنه قال: اسمُ أبي سَرْح الحُسام بن الحارث بن حُبَيب بن جَذيمة (4) . قال الحاكم: ولمَّا استولى عبدُ الله بن سَعْد على مصر أعقَبَ، ومنهم عمرو بن سَوَّاد السَّرْحيُّ صاحبُ عبد الله بن وهب. وأما الوليد بن عُقبة بن أبي مُعَيط، فإنه وُلد في حياة رسول الله ﷺ وحُمِل إليه، فحُرم بركتَه ﷺ:
محمد بن عمر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ابوسرح کا نام ” الحسام بن الحارث بن حبیب بن خزیمہ “ ہے۔ امام حاکم فرماتے ہیں: جب عبداللہ بن سعد کو مصر کا حاکم بنایا گیا تو وہ واپس آ گئے اور ان میں عمرو بن سواد السرحی، عبداللہ بن وہب کا ساتھ بھی تھا اور ولید بن عقبہ بن ابی معیط، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں پیدا ہو چکے تھے، ان کو آپ کی خدمت میں پیش کیا گیا لیکن یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت سے محروم رہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4595]
حدیث نمبر: 4596
حَدَّثَنَا بصحَّة ما ذكرتُه عليُّ بن حَمْشَاذَ العَدْل، حَدَّثَنَا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حَدَّثَنَا فَيّاض بن زُهير الرَّقِّي، عن جعفر بن بُرْقان، عن ثابت بن الحجَّاج الكِلابي، عن عبد الله الهَمْداني، عن الوليد بن عُقبة، قال: لما فتحَ رسولُ الله ﷺ مكةَ، جعلَ أهل مكة يأتون بصبيانهم فيمسحُ رسولُ الله ﷺ على رؤوسهم، ويدعو لهم، فخرج بي أبي إليه، وإني مُطيَّبٌ بالخَلُوق، فلم يَمسحْ على رأسِي ولم يَمسَّني، ولم يَمنعْه من ذلك إلَّا أنَّ أمي خَلَّقَتْني بالخَلُوق، فلم يَمسَّني من أجل الخَلُوق (1) . قال أحمد بن حنبل: وقد روي أنه سَلَح (2) يومئذ، فتقذّره رسولُ الله ﷺ، فلم يَمَسَّه ولم يَدْعُ له، والخَلُوقُ لا يمنعُ من الدعاء، لا جُرْمَ أيضًا لطفل في فِعْل غيره، لكنه مُنِع بركةَ رسولِ الله ﷺ لسابقِ علمِ الله تعالى فيه، والله أعلم.
سیدنا ولید بن عقبہ فرماتے ہیں: فتح مکہ کے موقع پر اہل مکہ اپنے بچوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کرتے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے سر پر ہاتھ رکھ کر ان کے لئے برکت کی دعا فرماتے، میرا والد بھی مجھے لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا، میں اس وقت خلوق (ایک قسم کی خوشبو، جس کا جزو اعظم زعفران ہوتا ہے) میں بسا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ تو میرے سر پر ہاتھ پھیرا، نہ مجھے چھوا۔ اور اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ میری والدہ نے مجھے خلوق خوشبو لگا دی تھی، اس لئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ہاتھ نہیں لگایا۔ ٭٭ نوٹ: امام احمد بن حنبل بیان کرتے ہیں کہ اسی دن سانپ نے ان کو ڈسا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو ہاتھ لگانے سے گریز کیا اور اس کے لئے دعا بھی نہیں فرمائی، اور خلوق کا لگا ہونا دعا کرنے سے مانع نہیں ہے بالخصوص ایک ایسے بچے کیلئے جس پر خلوق بھی کسی اور نے لگایا ہو، اصل بات یہ ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت سے محروم رہے، اللہ کے اس علم کی بناء پر جو اس کے بارے میں اس سے پہلے سے تھا۔ واللہ اعلم [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4596]
حدیث نمبر: 4597
حَدَّثَنَا أبو زكريا القاسم بن يحيى بن محمد، حَدَّثَنَا أبو بكر محمد بن محمد بن رجاء بن السِّنْدي، حَدَّثَنَا داود بن رُشَيد، حَدَّثَنَا الهيثم بن عَدِيّ، حدثني إسماعيل بن أبي خالد، حدثني طارق بن شِهَاب الأحْمَسي، قال: استعمل عثمانُ بن عفّان الوليدَ بنَ عُقبة بن أبي مُعَيط - وكان أخاه لأمِّه - على الكوفة وأرضها، وبها سعدُ بن أبي وقَّاص، فقَدِمَ على سعدٍ فأجلسه معه، ولا يعلمَ بعِلْمه، ثم قال: أبا وهب: ما أقدَمَكَ؟ قال: قدمتُ عاملًا، قال: على أي شيءٍ؟ قال: على عَمَلك، فقال: والله ما أدري أكِسْتَ بعدي أم حَمُقتُ بعدَك؟ فقال: والله ما كِستُ بعدك، ولا حَمُقتَ بعدي، ولكن القومَ استأثروا عليك بسُلطانِهم، فقال: صدقتَ، ثم قال سعد: خُذِيني فجُرِّيني ضِباعُ وأَبشِري … بلحمِ امرئٍ لم يَشهدِ اليومَ ناصِرُهْ (1) أيا عُمَراه! ضِباعُ الشرِّ (2) . قال الهيثم: ولمَّا عَزل عثمانُ الوليد بنَ عُقبة عن الكوفة وولّاها سعيدَ بنَ العاص، قال الهيثمُ: فحدثني إسماعيل بن أبي خالد، عن الشَّعْبي، قال: لما قدم سعيدُ بن العاص قال: اغسِلوا المنبرَ لأصعَد عليه أو يُطهَّر، فغَسِل المنبر حتَّى صَعِدَ سعيد بن العاص (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4547 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4547 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
طارق بن شہاب الاحمسی کا بیان ہے کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے ولید بن عقبہ بن ابی معیط کو کوفہ کا حاکم مقرر کیا، یہ آپ کے اخیافی بھائی تھے، وہاں پر سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ تھے، وہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، انہوں نے ان کو اپنے پاس بٹھا لیا، اور وہ ان کی موجودہ حیثیت سے واقف نہ تھے بولے: اے ابووہب! تم یہاں کیسے آئے ہو؟ انہوں نے کہا کہ میں حاکم بن کر آیا ہوں۔ انہوں نے کہا: کس چیز پر؟ اس نے کہا: تمہارے اعمال پر۔ آپ نے کہا: خدا کی قسم! میں نہیں جانتا کہ تو مجھ سے زیادہ ذہین ہے یا میں تجھ سے زیادہ احمق ہوں۔ اس نے کہا: خدا کی قسم! (ایسی بات نہیں ہے) بلکہ لوگوں نے اپنی طاقت کی وجہ سے تجھ پر غلبہ پایا ہے۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: تم سچ کہہ رہے ہو، پھر سیدنا سعد نے یہ اشعار پڑھے۔ مجھے ضباع کی حدیث بیان کر اور اس نے ایک آدمی کا گوشت خریدا، کاش کہ آج اس کا مددگار موجود ہوتا اے عمر ضباع کے شر پر مجھے افسوس ہے۔ ہیثم کہتے ہیں: جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ولید بن عقبہ کو کوفہ سے معزول کیا اور ان کی جگہ سیدنا سعید بن العاص کو حاکم بنایا تو ہیثم کہتے ہیں: اسماعیل بن ابی خالد نے شعبی کے حوالے سے بیان کیا ہے کہ جب سعید بن العاص آئے تو انہوں نے کہا: منبر کو دھوؤ تاکہ میں اس پر چڑھوں، تو منبر دھویا گیا تب سیدنا سعید بن العاص رضی اللہ عنہ منبر پر چڑھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4597]
59. ذِكْرُ مَنْ نَجَا مِنْ ثَلَاثٍ فَقَدْ نَجَا .
اس شخص کا ذکر جو تین چیزوں سے بچ گیا وہ واقعی بچ گیا
حدیث نمبر: 4598
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم المصري، حدثني أبي وشعيب بن الليث، قالا: حَدَّثَنَا الليث، عن يزيد بن أبي حَبيب، عن رَبيعة بن لَقِيط التُّجِيبي، عن عبد الله بن حَوَالة الأسَدي، عن رسول الله ﷺ، قال:"مَن نَجا من ثلاثٍ فقد نَجا" قالوا: ماذا يا رسول الله؟ قال:"مَوتي، وقتلِ خليفةٍ مُصطَبِرٍ بالحقِّ يُعطِيه، ومن الدّجّال" (1) . صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4548 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4548 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن حوالہ الاسدی سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو تین چیزوں سے بچ گیا وہی نجات یافتہ ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ تین چیزیں کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری موت۔ حق کے ساتھ صبر کرنے والے خلیفہ کا قتل۔ دجال۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4598]