🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
28. مَهْمَا تَطْلُبُوا الْعِزَّةَ بِغَيْرِ الْإِسْلَامِ يُذِلُّكُمُ اللَّهُ .
جب تم اسلام کے علاوہ کسی اور چیز میں عزت تلاش کرو گے تو اللہ تمہیں ذلیل کر دے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4531
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا بِشر بن موسى، حدثنا الحُميدي، حدثنا سفيان، حدثنا أيوب الطائي، عن قيس بن مسلم، عن طارق بن شِهَابٍ، قال: لما قَدِمَ عمرُ الشامَ عرضَتْ له مَخاضَةٌ، فنزل عمر عن بعيره ونزعَ خُفَّيه - أو قال: مُوقَيهِ - وأخذ بخُطامِ راحِلتِه ثم خاضَ المَخاضةَ، فقال له أبو عُبيدة بن الجرّاح: لقد فعلتَ يا أمير المؤمنين فعلًا عظيمًا عند أهل الأرض؛ نَزَعْتَ خُفَّيك وقُدْتَ راحِلتك وخُضْتَ المَخاضةَ، قال: فصَكَّ عمرُ بيده في صدرِ أبي عُبيدة، فقال: أَوْهِ لو غيرُك يقولُها يا أبا عُبيدة، أنتم كنتُم أقلَّ الناس وأذلَّ الناسِ، فأعزّكُم اللهُ بالإسلام، فمهما تَطلبُوا العزةَ بغيرِه يُذلَّكُم اللهُ تعالى (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4481 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
طارق بن شہاب فرماتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جب شام میں آئے تو ان کو راستے میں ایک جھیل پڑی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اپنے اونٹ سے نیچے اترے اور اپنے جوتے اتار لئے اور اپنی سواری کی لگام پکڑ کر جھیل میں سے گزر گئے۔ سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے آپ سے کہا: آپ نے اہل ارض کے نزدیک بہت عظیم الشان کام کیا ہے۔ آپ نے اپنے جوتے اتارے اور اپنی سواری سے آگے ہو کر جھیل میں گھسے (راوی) کہتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کے سینے پر ہاتھ مارا اور فرمایا: افسوس! یہ بات تیرے علاوہ کوئی اور کہتا۔ تم تعداد میں سب سے کم تھے اللہ تعالیٰ نے اسلام کی بدولت تمہیں عزت عطا فرمائی، اس لئے تم جب بھی اس کے غیر سے عزت طلب کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں ذلیل کر دے گا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4531]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
29. عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى سَجْدَةِ الدِّهْقَانِ وَالنَّهْيُ عَنْ لُبْسِ الدِّيبَاجِ وَالْحَرِيرِ وَالشُّرْبِ فِي آنِيَةِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا دہقان کے سامنے سجدہ کیے جانے کا واقعہ، اور ریشم و دیباج پہننے کی ممانعت، نیز سونے اور چاندی کے برتنوں میں پینے کی ممانعت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4532
وأخبرنا أبو بكر، أخبرنا أبو المثنّى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا أبو الأحوَص، حدثنا مسلمٌ الأعور، عن أبي وائل، قال: غزوتُ مع عمرَ الشامَ، فنزلنا منزلًا، فجاء دِهقانُ يَستدِلُّ على أمير المؤمنين، حتى أتاهُ، فلما رأى الدِّهقانُ عمرَ سَجَدَ، فقال عمر: ما هذا السجود؟! فقال: هكذا نفعل بالمُلوك، فقال عمر: اسجُدْ لربك الذي خلقك، فقال: يا أمير المؤمنين، إني قد صنعتُ لك طعامًا فأْتِني، قال: فقال عمر: هل في بيتك من تَصاوير العَجَم؟ قال: نعم، قال: لا حاجةَ لي في بيتك، ولكن انطلِقْ فابعَثْ لنا بلَونٍ من الطعام ولا تَزِدْنا عليه، قال: فانطلق فبعثَ إليه بطعامٍ، فأكل منه، ثم قال عمر الغلامه: هل في إداوَتِك شيءٌ من ذلك النَّبيذ؟ قال: نعم، فَآتَاهُ فصبَّه في إناء، ثم شَمَّه فوجده مُنكرَ الريحِ، فصَبَّ عليه ماءً، ثم شَمَّه فوجده مُنكرَ الريح، فصَبَّ عليه الماءَ ثلاث مرات، ثم شَرِبه، ثم قال: إذا رابَكُم مِن شرابِكُم شيءٌ فافعَلُوا به هكذا، ثم قال: سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول:"لا تَلْبَسُوا الدِّيباجَ والحَريرَ، ولا تَشربُوا في آنيةِ الفضة والذهب، فإنها لهم في الدُّنيا، ولنا في الآخِرة" (1) صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4482 - مسلم الأعور تركوه
سیدنا ابووائل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں شام میں ایک غزوہ میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ تھا، ہم نے ایک مقام پر پڑاؤ ڈالا، ایک کسان سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو ڈھونڈتا ہوا آیا، جب اس کسان نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا تو سجدہ میں گر گیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ کیسا سجدہ کر رہے ہو؟ اس نے کہا: ہم بادشاہوں کی بارگاہ میں اسی طرح حاضری دیا کرتے ہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اپنے اس رب کو سجدہ کرو جس نے تمہیں پیدا کیا۔ اس نے کہا: اے امیرالمومنین! میں نے آپ کے لئے کھانا تیار کیا ہے، آپ تشریف لے آئیں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا عجمی لوگوں کی طرح تیرے گھر میں بھی تصاویر ہیں؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: ہم تیرے گھر نہیں جائیں گے۔ تاہم تو خود چلا جا اور تھوڑا سا کھانا ہمیں یہیں بھیج دے۔ اور زیادہ نہیں بھیجنا۔ وہ چلا گیا اور آپ کی خدمت میں کھانا بھیج دیا، آپ نے اس میں سے چکھا پھر اپنے غلام سے فرمایا: تمہارے برتن میں نبیذ ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: وہ ہمارے پاس بھیجو، وہ نبیذ لے کر حاضر ہو گیا، آپ نے اس کو برتن میں انڈیل دیا پھر اس کو سونگھا لیکن اس میں سے ابھی بھی بدبو ا ٓرہی تھی، آپ نے اس پر پانی ڈالا پھر اس کو سونگھا، ابھی بھی بدبو ا ٓرہی تھی، آپ نے تین مرتبہ اس پر پانی ڈالا پھر اس کو پی لیا۔ پھر فرمایا: جب تمہیں کسی مشروب میں کوئی شک ہو تو اس کے ساتھ اسی طرح کیا کرو۔ پھر آپ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے دیباج اور حریر (ریشم کی دو قسمیں) مت پہنا کرو، اور سونے اور چاندی کے برتنوں میں مت پیا کرو، کیونکہ یہ ان (کفار) کیلئے دنیا میں ہے اور ہمارے لئے آخرت میں ہوں گے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4532]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4533
حدثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا شَبَابة بن سَوّار، حدثنا المُبارك بن فَضَالة، عن عُبيد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر، عن ابن عبّاس (1) ، أنَّ النبي ﷺ قال:"اللهم أيِّدِ الدِّين بعُمرَ بن الخطّاب" (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4483 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا مانگی اے اللہ! عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ذریعے دین کو تقویت دے [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4533]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4534
حدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن غالب، حدثنا سعيد بن سليمان، حدثنا المُبارك بن فَضَالة، عن عُبيد الله بن عمر عن نافع عن ابن عمر، عن ابن عبّاس، عن النبيِّ ﷺ أنه قال:"اللهم أعِزَّ الإسلامَ بعُمرَ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد صحَّ شاهده عن عائشة بنت الصِّدِّيق ﵄:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4484 - صحيح
سیدنا عبداللہ عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا مانگی اے اللہ! اسلام کو عمر کے سبب عزت عطا فرما ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ ام المومنین سیدہ عائشہ بنت صدیق رضی اللہ عنہا سے مروی درج ذیل حدیث مذکورہ حدیث کی شاہد ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4534]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4535
حدَّثَناه عبد الله بن جعفر الفارسي، حدثنا يعقوب بن سفيان، حدثنا عبد العزيز بن عبد الله الأُوَيسي، حدثنا الماجِشُون بن أبي سلمة، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن عائشة، أنَّ النبي ﷺ اقال:"اللهم أعِزَّ الإسلامَ بعُمرَ بن الخَطَّاب خاصّةً" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. ومَدارُ هذا الحديث على حديث الشَّعْبي عن مسروق عن عبد الله:"اللهم أعِزَّ الإسلامَ بأحبِّ الرجُلَين إليك"، وقد تفرَّد به مجالدُ بن سعيد عن الشَّعبْي، ولم أذكُرْ لمجالدٍ فيما قبلُ روايةً (2) :
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4485 - على شرط البخاري ومسلم
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا مانگی اے اللہ! بالخصوص عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ذریعے اسلام کو عزت عطا فرما ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اور اس حدیث کا مدار شعبی کی مسروق کے واسطے سے سیدنا عبداللہ سے روایت کردہ اس حدیث پر ہے اے اللہ! تو اسلام کو عزت عطا فرما ان دو آدمیوں میں سے کسی ایک کے ساتھ جو تجھے زیادہ پسند ہے اور اس حدیث کو شعبی سے روایت کرنے میں مجالد بن سعید منفرد ہیں، اور اس سے پہلے مجالد کی کوئی روایت نقل نہیں کی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4535]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4536
حدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا عُبيد بن حاتم العجل الحافظ، حدثنا عمر بن محمد الأسَدي، حدثنا أبي، حدثنا يحيى بن زكريا بن أبي زائدة، عن مُجالد، عن الشَّعْبي، عن مسروق، عن ابن مسعود قال: قال رسول الله ﷺ:"اللهم أعِزَّ الإسلام بعُمرَ بن الخطّاب أو بأبي جَهْل بن هِشام"، فجعل الله دعوةَ رسوله ﷺ لِعُمر، فبَنَى عليه مُلَك الإسلامِ، وهَدَمَ به الأوثانَ (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4486 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا مانگی اے اللہ اسلام کو عزت عطا فرما عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ذریعے یا ابوجہل بن ہشام کے ذریعے۔ تو اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے حق میں قبول فرمائی۔ چنانچہ انہی کی بدولت اسلام کی سلطنت وسیع ہوئی بت پاش پاش ہو گئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4536]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4537
حدثني أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثَّقَفي، حدثنا عمر بن حفص السَّدُوسي، حدثنا عاصم بن علي، حدثنا المَسعُودي عن القاسم بن عبد الرحمن، عن أبيه، عن عبد الله، قال: والله ما استطعنا أن نصلِّيَ عند الكعبة ظاهِرينَ حتى أسلمَ عمرُ (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4487 - صحيح
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: خدا کی قسم سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے قبول اسلام سے پہلے ہم حرم شریف میں کھلے عام نماز نہ پڑھ سکتے تھے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4537]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4538
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا أحمد بن محمد بن عيسى القاضي، حدثنا أبو نُعيم وأبو حُذيفة قالا: حدثنا سُفيان، عن منصور، عن رِبعيّ بن حِراش، عن حذيفة قال: كان الإسلامُ في زمان عمر كالرجل المُقبِل لا يزدادُ إلَّا قُربًا، فلما قُتِلَ عمرُ كان كالرجل المُدبِر لا يزدادُ إِلَّا بُعدًا (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4488 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: قیامت کے دن حق سب سے پہلے عمر کے ساتھ معانقہ کرے گا، اور قیامت کے دن حق سب سے پہلے عمر کے ساتھ مصافحہ کرے گا، سب سے پہلے جس شخص کا ہاتھ پکڑ کر اسے جنت کی طرف لے جایا جائے گا وہ عمر بن خطاب ہے۔ ایک اور سند کے ساتھ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا یہ بیان منقول ہے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا: جب عمر نے اسلام قبول کیا تو جبریل میرے پاس آئے اور بولے: عمر کا اسلام قبول کرنا اہل آسمان (یعنی فرشتوں) کے لئے ایک خوشخبری ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4538]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
30. أَوَّلُ مَنْ يُعَانِقُهُ الْحَقُّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عُمَرُ .
قیامت کے دن سب سے پہلے جسے حق تعالیٰ معانقہ فرمائے گا وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہوں گے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4539
أخبرنا عبد الله بن إسحاق بن الخُراساني العَدْل ببغداد، حدثنا أحمد بن محمد بن عبد الحميد الجُعفي، حدثنا الفَضْل بن جُبَير الورَّاق، حدثنا إسماعيل بن زكريا الخُلْقاني، حدثنا يحيى بن سعيد، عن سعيد بن المسيّب، عن أُبيّ بن كعب، قال: سمعتُ النبي ﷺ يقول:"أولُ مَن يُعانِقُه الحقُّ يومَ القيامة عمرُ، وأولُ من يُصافحه الحقُّ يومَ القيامة عمرُ، وأولُ من يُؤخَذُ بيده فيُنطَلَقُ به إلى الجنةِ عمرُ بن الخطاب" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4489 - موضوع
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ سب سے پہلے جس سے ملاقات فرمائے گا وہ عمر رضی اللہ عنہ ہے۔ اور اللہ تعالیٰ سب سے پہلے جس سے مصافحہ فرمائے گا، وہ عمر رضی اللہ عنہ ہے اور سب سے پہلے جس کا ہاتھ پکڑ کر جنت میں لے جائے گا وہ عمر رضی اللہ عنہ ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4539]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4540
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا علي بن الحسن الهِلاليّ، حدثنا عبد الله بن الوليد العَدَني، حدثنا سُفيان، عن إسماعيل بن أبي خالد، عن قيس بن أبي حازم، عن ابن مسعود قال: ما زِلْنا أعِزّةً منذ أسلمَ عمر (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4490 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا ہے ہم اس وقت سے باعزت (زندگی گزار رہے) ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4540]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں