المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
61. رُؤْيَا عُثْمَانَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ لَهُ " أَفْطِرْ عِنْدَنَا " .
سیدنا عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا خواب کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہمارے پاس افطار کرنا
حدیث نمبر: 4609
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا الخَضِر بن أبان الهاشمي، حَدَّثَنَا علي بن قادِم، حَدَّثَنَا أبو إسرائيل، عن الحَكَم، قال: شَهِدَ مع عليٍّ صِفِّينَ ثمانون بدريًا، وخمسون ومئتان ممَّن بايَعَ تحت الشجرة (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4559 - حذفه الذهبي من التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4559 - حذفه الذهبي من التلخيص
حکم بیان کرتے ہیں: جنگ صفین میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ہمراہ 80 بدری صحابہ کرام اور 250 ان صحابہ کرام نے شرکت کی جنہوں نے درخت کے نیچے بیعت کی تھی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4609]
حدیث نمبر: 4609N
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْخَضِرُ بْنُ أَبَانَ الْهَاشِمِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ قَادِمٍ، ثنا أَبُو إِسْرَائِيلَ، عَنِ الْحَكَمِ قَالَ: «شَهِدَ مَعَ عَلِيٍّ صِفِّينَ» إِلَخْ
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4560 - حذفه الذهبي من التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4560 - حذفه الذهبي من التلخيص
حکم بیان کرتے ہیں کہ: ”(صحابہ اور تابعین کی ایک بڑی تعداد نے) سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ جنگِ صفین میں شرکت کی“، (راوی نے) آخر تک حدیث ذکر کی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4609N]
حدیث نمبر: 4610
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حَدَّثَنَا حامد بن أبي حامد المقرئ، حَدَّثَنَا إسحاق بن سليمان الرازي، سمعت كثيرًا أبا النضر يقول: سمعتُ رِبعيَّ بنَ حِراشٍ يقول: انطلقتُ إلى حذيفةَ بالمدائن لياليَ سارَ الناسُ إلى عثمان، فقال: يا بُنيّ، ما فعل قومُك؟ قال: عن أي حالِهم تسألُ؟ قال: مَن خرج منهم إلى هذا الرجل؟ فسمَّيتُ له رجلًا ممن خرج فقال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"من فارقَ الجماعةَ واستذلَّ الإمارةَ، لقيَ الله ولا حُجّة لَه عندَه" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4561 - حذفه الذهبي من التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4561 - حذفه الذهبي من التلخيص
سیدنا ربعی بن حراش فرماتے ہیں: جن راتوں میں لوگ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی دیوار پھاند کر اندر گئے تھے، میں اس موقع پر مدائن میں سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، انہوں نے مجھ سے کہا: اے بیٹے! تمہاری قوم نے یہ کیا کیا؟ انہوں نے پوچھا: آپ ان کے کس حال کے بارے میں دریافت فرما رہے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: ان میں سے کس شخص نے بغاوت کی ہے؟ میں نے خروج کرنے والوں کا نام بتایا تو آپ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص جماعت سے جدا ہوا اور امارت کو بدلنا چاہے، وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ اس کے پاس اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کرنے کے لئے کوئی حجت نہ ہو گی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4610]
حدیث نمبر: 4611
حَدَّثَنَا أبو علي الحافظ، أخبرنا عبد الله بن قَحْطبة الصِّلْحي، حَدَّثَنَا محمد بن الصَّباح، حَدَّثَنَا الوليد بن مسلم، عن الأوزاعي، سمعتُ ميمون بن مِهْران يَذكُر أنَّ علي بن أبي طالب قال: ما يَسُرُّني أن أخذتُ سيفي في قتلِ عثمانَ، وأنَّ ليَ الدنيا وما فيها (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4562 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4562 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے قتل کیلئے تلوار اٹھانے کے صلہ میں اگر مجھے دنیا و مافیھا بھی ملیں، تب بھی میں یہ کام نہ کروں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4611]
حدیث نمبر: 4612
حَدَّثَنَا أبو محمد المُزَني، حَدَّثَنَا أحمد بن نَجْدة القرشي، حَدَّثَنَا يحيى (3) بن عبد الحميد، حَدَّثَنَا يعقوب بن عبد الله القُمِّي، عن هارون بن عَنْترة، عن أبيه، قال: رأيت عليًّا بالخَوَرْنَق وهو على سرير، وعنده أبانُ بن عثمان، فقال: إني لأرجو أن أكونَ أنا وأبوكَ من الذين قال الله ﷿: ﴿وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ إِخْوَانًا عَلَى سُرُرٍ مُتَقَابِلِينَ﴾ [الحجر: 47] (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4563 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4563 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
ہارون بن عنترہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو خورنق میں دیکھا، وہ اپنے تخت پر بیٹھے ہوئے تھے، اور ان کے پاس سیدنا ابان بن عثمان رضی اللہ عنہ موجود تھے، آپ نے فرمایا: میں امید رکھتا ہوں کہ میں اور تمہارے والد ان لوگوں میں سے ہیں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے وَنَزَعْنَا مَا فِی صُدُوْرِھِمْ مِّنْ غِلٍّ اِخْوَانًا عَلیٰ سُرُرٍ مُّتَقَابِلِیْنَ (الحجر: 47) ” اور ہم نے ان کے سینوں میں جو کچھ کینے تھے سب کھینچ لئے آپس میں بھائی ہیں تختوں پر روبرو بیٹھے “ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4612]
62. مَرَاثِي عُثْمَانَ - رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ - .
سیدنا عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مرثیے
حدیث نمبر: 4613
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن أحمد بن أُمية بن مسلم القرشي بالسّاوَة، حدثني أبي، عن أبيه، عن عبد الرحمن بن مَغْراء، سمعتُ محمد بن إسحاق بن يسار يَذكُر عن شيوخه: أنَّ أم حَبيبة بنت أبي سُفيان زوجةَ رسول الله ﷺ وَجَّهَتْ رسولًا إلى عبد الله بن أبي ربيعة - أخو عيّاش بن أبي ربيعة - رسولًا يخبره بقتل عثمان ووجّهَت إليه بقميصِه الذي قُتل فيه، وأثوابِه مُضرَّجاتٍ بدمِه، فلما وَرَدَ عليه الرسولُ، خرجَ إلى الناس وصَعِدَ المنبرَ وأخبرهم بقَتْله، ونَشَر قميصَه على المِنبَر، وبكى وبكي الناسُ معه، وأنشأ يقول: أتانيَ أمرٌ فيه للناسِ غُمَّةٌ … وفيه بُكاءٌ للعُيونِ طويلٌ وفيه مَتاعٌ للحياةِ بذِلَّةٍ … وفيه اجتِداعٌ للأنُوفِ أصيلُ مُصابُ أميرِ المؤمنينَ وهَدّةٌ … تكادُ لها (1) شُمُّ الجِبال تَزُولُ تَداعَتْ عليه بالمدينةِ عُصْبةٌ … فريقانِ: منهم قاتِلٌ وخَذُولُ سأَنْعَى أبا عمرٍو بكلِّ مُهنَّدٍ … وبِيضٍ لها في الدّارِعِينَ صَليلُ (1) ولا نَومَ حتَّى يُشجَرَ (2) القومُ بالقَنَا … ويُشفى من القومِ الغُواةِ غَليلُ ولستُ مُقِيمًا ما حَيِيتُ ببلدةٍ … أجُرُّ بها ذَيلًا وأنت قَتيلُ قال: فخرج لنُصرته بمن كان مَعَه، فلما قَرُبَ من مكةَ سَقَطَ عن راحلتِه فماتَ (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4564 - حذفه الذهبي من التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4564 - حذفه الذهبي من التلخيص
محمد بن اسحاق بن بشار اپنے شیوخ کے حوالے سے بیان کرتے ہیں: سیدہ ام حبیبہ بنت ابی سفیان، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ نے عیاش بن ابی ربیعہ کے بھائی عبداللہ ابن ابی ربیعہ کو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر پہنچانے کے لئے، ان کی جانب ایک قاصد بھیجا اور ان کو وہ قمیص بھی بھیجی، جس میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا تھا اور آپ کے کپڑے خون سے لت پت تھے۔ جب قاصد ان کے پاس پہنچا تو وہ لوگوں کی طرف نکل آئے اور منبر پر چڑھ کر لوگوں کو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر سنائی اور ان کی قمیص منبر پر پھیلا دی اور رونے لگ گئے اور آپ کے ساتھ تمام لوگوں میں آہ و بکا شروع ہو گئی اور آپ نے درج ذیل اشعار کہے: * میرے پاس ایسی خبر آئی ہے جو لوگوں کے لئے غم و حزن کا باعث ہے اور جس میں طویل رونا دھونا شامل ہے۔ * اس میں زندگی کا سامان ہے ذلت کے ساتھ اور ناک کا کٹنا ہے اور غالب رائے والے شریف النسل لوگ ہیں۔ * امیرالمومنین کا قتل، یہ ایک ایسا حادثہ ہے جس پر پہاڑوں کی بلندیاں بھی لرزہ براندام ہیں۔ * مدینہ میں ان پر ایک جماعت نے قاتلانہ حملہ کیا ہے، اس جماعت میں دو طرح کے لوگ ہیں، کچھ قاتل اور کچھ ذلیل۔ * میں ابوعمرو پر روؤں گا ہرچمکدار، اور ایسی تیز تلوار کے ساتھ جس سے بہت کم زرہ پوش بچ سکتے ہیں۔ * اور اس وقت تک آرام نہیں کروں گا جب تک باغیوں کو گرفتار نہ کر لیا جائے اور سرکش قوم سے، ان کے قصاص کے طلبگاروں کی آرزو پوری ہو۔ * میں زندگی بھر اس شہر میں نہیں رہوں گا، یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ میں وہاں پر رہوں جہاں تمہیں شہید کیا گیا۔ یہ کہہ کر آپ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ روانہ ہو گئے جب آپ مکہ کے قریب پہنچے تو اپنی سواری سے گر گئے اور فوت ہو گئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4613]
حدیث نمبر: 4614
حَدَّثَنَا أبو بكر بن أبي دارِم، حَدَّثَنَا الحسين بن أبي الأحوص الثَّقَفي، حَدَّثَنَا محمد بن إسحاق البَلْخي، حَدَّثَنَا عبد الرحمن بن مَغْراء، عن مُجالِد، عن الشَّعْبِي، قال: ما سمعتُ من مَراثي عثمان شيئًا أحسنَ من قول كعب بن مالك: فكَفَّ يدَيه ثم أغلَقَ بابَهُ … وأيقَنَ أنَّ الله ليس بغَافلِ وقال لأهل الدار: لا تَقتُلوهُمُ … عفا اللهُ عن كلِّ امرئ لم يُقاتِلِ فكيف رأيتَ الله صَبَّ عليهمُ ال … عَداوةَ والبغضاءَ بعد التَّواصُلِ وكيفَ رأيتَ الخيرَ أدبرَ بعدَه … عن الناسِ إدْبارَ الرِّياحِ الحوافِلِ (4)
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4565 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4565 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
شعبی کہتے ہیں: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے مرثیہ میں، میں نے سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کے اشعار سے زیادہ بہتر کچھ نہیں سنا۔ * انہوں نے اپنے ہاتھوں کو روکا پھر اپنے دروازے کو بند کیا اور ان کو یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ غافل نہیں ہے۔ * اور اہل دار سے فرمایا: تم ان کو قتل مت کرو، اللہ تعالیٰ ہر اس شخص کو معاف فرما دیتا ہے جو قتال نہ کرے۔ * پس کیسا ہے تو نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے دوستی کے بعد ان میں عداوت اور بغض ڈال دیا۔ * اور کیسا ہے تو نے دیکھا کہ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے لوگوں سے خیر کو اس طرح دور کر دیا جیسے تیز آندھیاں دور کر دیتی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4614]
63. كَانَ عَلَى نَقْشِ خَاتَمِ عُثْمَانَ اللَّهُمَّ أَحْيِنِي سَعِيدًا، وَأَمِتْنِي شَهِيدًا .
سیدنا عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی انگوٹھی کے نقش پر یہ لکھا تھا: اے اللہ! مجھے سعادت مند زندگی دے اور شہادت کی موت عطا فرما
حدیث نمبر: 4615
حَدَّثَنَا أبو عبد الله محمد بن أحمد بن بُطّة، حَدَّثَنَا محمد بن عبد الله بن رُسْتَهْ الأصبهاني، حَدَّثَنَا سليمان بن داود الشاذَكُوني، حَدَّثَنَا عيسى بن يونس، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن ابن عبّاس: أنه سُئل عن عثمانَ: ما كان على فَصِّ خاتِمِه؟ قال: كان على فَصِّ خاتِمِه من صِدق نِيَّته: اللهم أحْيِني سعيدًا، وأمِتْني شهيدًا، فوالله لقد عاشَ سعيدًا، ومات شهيدًا (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4566 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4566 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
سیدنا عبیداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی انگوٹھی کے نگینے پر کیا تحریر تھا؟ آپ نے فرمایا: ان کی انگوٹھی کے نگینے پر ان کی نیت کی سچائی تھی، وہ یہ تھی ” اے اللہ! مجھے سعادت مند زندہ رکھ اور مجھے شہادت کی موت عطا فرما “ خدا کی قسم! انہوں نے سعادت مندی کی زندگی گزاری اور شہادت کی موت پائی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4615]
حدیث نمبر: 4616
حدثني أبو الحسن أحمد بن محمد بن إسماعيل بن مِهْران، حدثني أبي، حَدَّثَنَا هارون بن إسحاق الهَمْداني، حَدَّثَنَا عَبْدة بن سليمان، عن إسماعيل بن أبي خالد، عن حُصَين الحارثي، قال: جاء عليُّ بن أبي طالب إلى زيد بن أرقَمَ يعودُه وعندَه قومٌ، فقال عليٌّ: اسكُنوا واسكُتُوا فوالله لا تسألوني عن شيء إلَّا أخبرتُكم، فقال زيدٌ: أنشُدُكَ الله، أنت قتلتَ عثمانَ؟ فأطرَقَ عليٌّ ساعةً، ثم قال: والذي فَلَقَ الحبّةَ وبَرَأ النَّسمة، ما قَتلْتُه، ولا أمرتُ بقتلِه (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4567 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4567 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا حصین حارثی فرماتے ہیں: سیدنا علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ، سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لئے ان کے پاس آئے، اس وقت ان کے پاس اور لوگ بھی موجود تھے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: خاموش ہو جاؤ، خدا کی قسم! تم مجھ سے جو سوال بھی کرو گے، میں تمہیں اس کے جواب دوں گا۔ سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تجھے اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں، کیا تم نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کیا تھا؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک لمحے کے لئے سر جھکایا پھر بولے: اس ذات کی قسم! جس نے دانہ پھاڑا اور روح کو پیدا کیا، میں نے ان کو شہید نہیں کیا اور نہ ہی ان کے شہید کرنے کا حکم دیا تھا۔ ٭٭ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4616]
حدیث نمبر: 4616M
قال هارون: وحدثنا أبو أسامة، عن زهير، عن كِنانة (1) ، قال: رأيت الحسنَ بن علي أُخرج من دار عثمان جَرِيحًا (2) .
سیدنا قتادہ کا بیان ہے کہ میں نے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ انہیں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے گھر سے زخمی حالت میں لایا گیا تھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4616M]