🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
32. الدُّعَاءُ عِنْدَ رُؤْيَةِ الْهِلَالِ .
نیا چاند دیکھنے کی دعا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7961
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني (2) ، حدثنا حَبَّان بن هِلال، حدثنا جعفر بن سليمان، حدثنا ثابت، عن أنس بن مالك: أنَّ رسول الله ﷺ كان إذا أَمطَرتِ السماءُ حَسَرَ ثوبه عن ظهرِه حتى يُصيبَه المطرُ، فقيل له: لِمَ تصنعُ هذا؟ قال:"إنَّه حديثُ عهدٍ بربِّه ﷿" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7768 - ذا في مسلم
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب آسمان سے بارش ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا کپڑا اپنی پشت سے ہٹا دیتے یہاں تک کہ بارش آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھونے لگتی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: آپ ایسا کیوں کرتے ہیں؟ تو فرمایا: اس لیے کہ یہ (بارش) ابھی ابھی اپنے رب عزوجل کی طرف سے (نازل ہو کر) آئی ہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7961]
تخریج الحدیث: «إسناده جيد من أجل جعفر بن سليمان» [ترقيم الرساله 7961] [ترقيم الشركة 7867] [ترقيم العلميه 7768]

الحكم على الحديث: إسناده جيد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
33. الرِّيحُ مِنْ رُوحِ اللَّهِ فَلَا تَسُبُّوهَا .
ہوا اللہ کی رحمت ہے، اسے برا بھلا نہ کہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7962
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بحر بن نصر، حدثنا بِشر (1) ابن بكر، حدثنا الأوزاعي، حدثني ابن شِهاب، حدثني ثابت الزُّرَقي، أنَّ أبا هريرة قال: أَخَذَتِ الناسَ رِيحٌ بطريق مكة وعمر بن الخطاب حاج، فاشتدَّتْ عليهم، فقال عمر بن الخطاب لمن حولَه ما الريحُ؟ فلم يَرجِعوا إليه شيئًا، فبلغني الذي سأل عنه عمرُ، فاستَحثَثتُ راحلتي حتى أدركتُه، فقلت: يا أميرَ المؤمنين، أُخبرتُ أنَّك سألتَ عن الرِّيح، وإني سمعت رسولَ الله ﷺ يقول:"الرِّيحُ من رَوْحِ الله تعالى؛ تأتي بالرَّحمة وتأتي بالعذاب، فلا تَسبُّوها، وسَلُوا الله خيرَها، واستَعيذُوا بالله من شرِّها" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7769 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مکہ کے راستے میں لوگوں کو آندھی نے آ لیا جبکہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ حج کر رہے تھے، جب آندھی تیز ہوئی تو عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے اردگرد کے لوگوں سے پوچھا: ہوا کیا ہے؟ کسی نے جواب نہ دیا، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب مجھے معلوم ہوا تو میں نے اپنی سواری تیز کی اور ان تک پہنچ کر عرض کیا: اے امیر المؤمنین! مجھے بتایا گیا کہ آپ نے ہوا کے بارے میں پوچھا ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ہوا اللہ تعالیٰ کی رحمت (روح) میں سے ہے؛ یہ کبھی رحمت لے کر آتی ہے اور کبھی عذاب، پس تم اسے برا بھلا نہ کہو، بلکہ اللہ سے اس کی خیر مانگو اور اس کے شر سے اللہ کی پناہ طلب کرو۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح الاسناد ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7962]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 7962] [ترقيم الشركة 7868] [ترقيم العلميه 7769]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7963
أخبرنا إسماعيل بن محمد بن الفضل، حدثنا جدِّي، حدثنا إسماعيل بن أبي أُوَيس، حدثنا المغيرة بن عبد الرحمن، عن يزيد بن أبي عُبيد، عن سَلَمة بن الأكوع - رَفَعَه إن شاء الله -: أنه كان إذا اشتدَّت الريحُ يقول:"اللهمَّ لَقْحًا لا عَقِيمًا" (1) . هذا إسناد صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7770 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب تیز ہوا چلتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم - ان شاء اللہ اسے مرفوعاً بیان کرتے ہوئے - یہ دعا مانگتے «اللَّهُمَّ لَقْحًا لَا عَقِيمًا» اے اللہ! اسے نفع بخش (پھل دار بنانے والی) بنانا، بنجر اور تباہ کن نہیں۔
یہ اسناد شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7963]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، من أجل المغيرة بن عبد الرحمن: وهو ابن الحارث المخزومي، وإسماعيل بن أبي أويس حسن في المتابعات والشواهد، وقد توبع» [ترقيم الرساله 7963] [ترقيم الشركة 7869] [ترقيم العلميه 7770]

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7964
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا إسحاق بن الحسن الحَرْبي، حدثنا عفّان، حدثنا حمّاد بن سلمة، عن عبد الملك بن عُمير، عن موسى ابن طلحة، عن عائشة: أنَّ رسول الله ﷺ كان يُكثِرُ ذِكرَ خديجةَ، فقلتُ: لقد أخلَفَك الله - وربما قال حماد: أعقبَك الله - من عجوزٍ من عجائز قريشٍ حمراءِ الشِّدقينِ، هَلَكَت في الدَّهر الأول، قالت: فتَمَعَّر وجهُه تمعُّرًا ما كنتُ أراه إلا عند نزول الوحي، وإذا رأى مَخِيلةَ الرَّعد والبرق حتى يَعلَم أرحمةٌ هي أم عذابٌ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7771 - على شرط مسلم
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا بہت کثرت سے ذکر فرمایا کرتے تھے، میں نے (غیرت میں آ کر) عرض کیا: اللہ نے آپ کو قریش کی بوڑھی عورتوں میں سے ایک ایسی بوڑھی عورت کا نعم البدل عطا فرما دیا ہے (حماد نے کبھی «أخلفك» اور کبھی «أعقبك» کے الفاظ کہے، یعنی اللہ نے ان کے بدلے آپ کو بہتر عطا کر دیا) جو سرخ مسوڑھوں والی تھیں (یعنی بڑھاپے کی وجہ سے دانت گر چکے تھے) اور وہ زمانہ قدیم میں وفات پا چکی ہیں، عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: (یہ سن کر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کا رنگ متغیر ہو گیا، ایسا تغیر جو میں نے صرف وحی کے نزول کے وقت یا بادلوں اور بجلی کی کڑک کو دیکھ کر دیکھا تھا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ معلوم نہ ہو جاتا کہ یہ بادل رحمت کے ہیں یا عذاب کے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7964]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 7964] [ترقيم الشركة 7870] [ترقيم العلميه 7771]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
34. الدُّعَاءُ عِنْدَ اسْتِمَاعِ صَوْتِ الرَّعْدِ .
رعد (بجلی کی کڑک) سنتے وقت کی دعا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7965
حدثني أبو بكر بن بالَوَيهِ، حدثنا إسحاق بن الحسن، حدثنا عفّان، حدثنا عبد الواحد بن زياد، حدثنا أبو مَطَر، عن سالم، عن ابن عمر قال: كان رسولُ الله ﷺ إذا سمع الرعدَ والصواعقَ قال:"اللهم لا تَقتُلْنا بغضبِك، ولا تُهلِكُنا بعذابِك، وعافِنا قبلَ ذلك (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7772 - صحيح
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بادلوں کی گرج اور بجلی کی کڑک سنتے تو یہ دعا مانگتے: «اللَّهُمَّ لَا تَقْتُلْنَا بِغَضَبِكَ، وَلَا تُهْلِكْنَا بِعَذَابِكَ، وَعَافِنَا قَبْلَ ذَٰلِكَ» اے اللہ! ہمیں اپنے غضب سے قتل نہ کرنا، ہمیں اپنے عذاب سے ہلاک نہ کرنا، اور اس سے پہلے ہی ہمیں عافیت عطا فرما دینا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7965]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، أبو مطر تفرد بالرواية عنه حجاج بن أرطاة، وذكره ابن حبان في "ثقاته"، وقال الذهبي في "الميزان": لا يدرى من هو، وقال ابن حجر في "التقريب": مجهول، وقد تفرَّد به» [ترقيم الرساله 7965] [ترقيم الشركة 7871] [ترقيم العلميه 7772]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
35. النَّهْيُ عِنْدَ انْقِضَاضِ النَّجْمِ عَنْ رُؤْيَتِهِ .
ستارہ ٹوٹتے وقت اس کی طرف دیکھنے کی ممانعت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7966
أخبرنا محمد بن علي الصنعاني بمكة، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا معمر، عن أيوب، عن ابن سيرين قال: تعشَّينا مع أبي قتادة فوق ظهر بيتٍ لنا، فانقضَّ نجم فأتبعناه أبصارنا، فنهانا، وقال: لا تُتبعوه أبصاركم، فإنَّا كُنَّا نُنهى عن ذلك (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7773 - على شرط البخاري ومسلم
ابن سیرین بیان کرتے ہیں کہ ہم نے سیدنا ابوقتیادہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ اپنے گھر کی چھت پر رات کا کھانا کھایا، اچانک ایک ستارہ ٹوٹ کر گرا تو ہم اسے دیکھنے لگے، انہوں نے ہمیں اس سے منع فرمایا اور کہا: ستارے کو ٹوٹتا ہوا نہ دیکھا کرو، ہمیں اس سے منع کیا جاتا تھا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7966]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 7966] [ترقيم الشركة 7872] [ترقيم العلميه 7773]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
36. قُولُوا خَيْرًا تَغْنَمُوا، وَاسْكُتُوا عَنْ شَرٍّ تَسْلَمُوا .
بھلی بات کہو تو فائدہ پاؤ گے اور برائی سے خاموش رہو تو سلامت رہو گے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7967
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الربيع بن سليمان، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني أبو هانئ عن عمرو بن مالك الجَنْبي، عن فَضَالة بن عُبيد، عن عُبَادة بن الصامت: أنَّ رسول الله ﷺ خرجَ ذاتَ يوم على راحلته وأصحابُه معه بين يديه، فقال معاذُ بن جَبَل: يا نبيَّ الله، ائذَنْ لي في أن أتقدَّمَ إليك على طِيبةِ نفس، قال:"نعم"، فاقتربَ معاذٌ إليه، فسارا جميعًا، فقال معاذ: بأبي أنت يا رسولَ الله، أسألُ الله أن يجعل يومَنا قبلَ يومِك، أرأيتَ إن كان شيءٌ ولا نَرَى شيئًا إن شاء الله تعالى، فأيُّ الأعمال نعملُها بعدَك؟ فصمتَ رسولُ الله ﷺ فقال:"الجهادُ في سبيل الله"، ثم قال رسول الله ﷺ:"نِعمَ الشيءُ الجهادُ، والذي (2) بالناس أملَكُ من ذلك" [قال] (3) : فالصيامُ والصَّدقةُ؟ قال:"نِعمَ الشيءُ الصيامُ والصَّدقةُ". فذكر معاذٌ كلَّ خير يعمله ابن آدم، كلَّ ذلك رسولُ الله ﷺ [يقول] :"وعادُ بالنَّاسِ خيرٌ من ذلك" قال: فماذا بأبي أنت وأُمِّي عادُ بالناس [خيرٌ] من ذلك؟ قال: فأشار رسولُ الله ﷺ إلى فيه، قال:"الصَّمْتُ إِلَّا من خَيرٍ" قال: وهل نؤاخَذُ بما تكلَّمَتْ به ألسنتُنا؟ قال: فضربَ رسولُ الله ﷺ فَخِذَ معاذ، ثم قال:"يا معاذُ، ثَكِلتْكَ أُمُّك - أو ما شاء الله أن يقول له من ذلك. وهل يَكُبُّ الناس على مَناخِرِهم في جَهَنَّمَ إِلَّا ما نطقَتْ به ألسنتُهم؟! فمن كان يُؤْمِنُ بالله واليوم الآخر فليَقُلْ خيرًا أو لِيسكُتْ عن شرٍّ، قُولُوا خيرًا تَغنَمُوا، واسكتُوا عن شرٍّ تَسلَمُوا" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، والغرضُ في إخراجه في هذا الموضع إباحةُ دعاء المُتعلِّم لعالمه الذي يَقتبِسُ منه أن يجعل الله مَنِيّتَه قبل عالِمِه، فإني قدّمتُ قبل هذا أخبارًا صحيحة في إباحة قول الناس: جعلَني الله فِداك (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7774 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر باہر تشریف لائے اور صحابہ آپ کے آگے چل رہے تھے۔ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! کیا آپ مجھے اجازت دیتے ہیں کہ میں خوش دلی کے ساتھ آپ کے قریب ہو کر آگے چلوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ معاذ قریب آ گئے اور دونوں ساتھ چلنے لگے۔ معاذ نے عرض کیا: میرے باپ آپ پر قربان ہوں اے اللہ کے رسول! میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ہماری موت آپ کی رحلت سے پہلے کر دے، (خدا نہ کرے) اگر آپ کے بعد ہمیں رہنا پڑے تو ہم کون سے اعمال کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، پھر فرمایا: اللہ کی راہ میں جہاد۔ پھر فرمایا: جہاد بہت اچھی چیز ہے، لیکن لوگوں کے لیے اس سے بھی زیادہ قابو پانے والی ایک چیز ہے، معاذ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کیا وہ روزہ اور صدقہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: روزہ اور صدقہ بہت اچھی چیزیں ہیں، معاذ رضی اللہ عنہ نے ہر اس خیر کا ذکر کیا جو انسان کرتا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر بار یہی فرماتے: لوگوں کے لیے اس سے بھی بہتر ایک چیز ہے، معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، وہ کیا چیز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے منہ کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: خاموشی، سوائے بھلائی کے۔ معاذ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کیا ہماری زبانیں جو بولتی ہیں اس پر بھی ہمارا مؤاخذہ ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ رضی اللہ عنہ کی ران پر ہاتھ مارا اور فرمایا: اے معاذ! تمہاری ماں تمہیں کھو دے (یہ ایک عربی محاورہ ہے) - کیا لوگ اپنی زبانوں کی کٹی ہوئی فصلوں (بد کلامی) کی وجہ سے ہی اوندھے منہ جہنم میں نہیں ڈالے جائیں گے؟! پس جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے، اسے چاہیے کہ اچھی بات کہے یا شر سے خاموش رہے۔ اچھی بات کہو تو نفع پاؤ گے، اور شر سے خاموش رہو تو سلامت رہو گے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ امام حاکم فرماتے ہیں کہ اس سے شاگرد کا اپنے استاد کے لیے یہ دعا کرنا کہ میں آپ سے پہلے وفات پاوں کی اباحت ثابت ہوتی ہے۔ کیونکہ میں اس سے پہلے ایسی صحیح روایات پیش کر چکا ہوں جن میں لوگوں کے اس قول اللہ مجھے آپ پر فدا کرے «جَعَلَنِيَ اللَّهُ فِدَاكَ» کہنے کا جواز موجود ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7967]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 7967] [ترقيم الشركة 7873] [ترقيم العلميه 7774]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
37. النَّهْيُ عَنْ مُبَاشَرَةِ الرَّجُلِ الرَّجُلَ وَالْمَرْأَةِ الْمَرْأَةَ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ .
ایک ہی کپڑے میں دو مردوں یا دو عورتوں کے ایک ساتھ لیٹنے کی ممانعت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7968
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا السَّري بن خُزيمة، حدثنا سليمان بن داود الهاشمي، حدثنا عبد الرحمن بن أبي الزِّناد، عن موسى بن عُقبة، عن أبي الزُّبير عن جابر قال: سمعت رسول الله ﷺ يَنهَى أن يُباشِرَ الرجلُ الرجلَ في ثوب واحد، والمرأةُ المرأةَ في ثوب واحد (3) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7775 - على شرط مسلم
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات سے منع فرماتے ہوئے سنا کہ دو مرد ایک ہی کپڑے میں ایک دوسرے کے جسم سے لگ کر (بغیر کسی رکاوٹ کے) لیٹیں، اور اسی طرح دو عورتیں ایک ہی کپڑے میں ایک دوسرے کے جسم سے لگ کر لیٹیں۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7968]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن من أجل عبد الرحمن بن أبي الزناد» [ترقيم الرساله 7968] [ترقيم الشركة 7874] [ترقيم العلميه 7775]

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7969
أخبرناه أحمد بن يعقوب الثقفي، حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي، حدثنا أحمد بن يونس، حدثنا أبو شهاب، عن ابن أبي ليلى، عن أبي الزبير عن جابر قال: نَهَى رسول الله ﷺ أن تُباشِرَ المرأة المرأةَ، والرجلُ الرجلَ (1) . قال ابن أبي ليلى: وأنا أرى فيه التَّعزير. محمد بن عبد الرحمن بن أبي ليلى من أجلِّ بيت الصحابة من الأنصار ومُفتي وقته بالكوفة، إذا رأى فيه التعزير ففيه قدوة.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا کہ کوئی عورت دوسری عورت کے جسم سے (بغیر کپڑے کے) لگے، یا کوئی مرد دوسرے مرد کے جسم سے مس ہو۔ ابن ابی لیلیٰ فرماتے ہیں: میں اس عمل پر تعزیری سزا کا قائل ہوں۔
یہ حدیث محمد بن عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ کی وجہ سے اہم ہے جو کوفہ کے مفتی تھے، ان کا سزا کا قول اس معاملے کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7969]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل ابن أبي ليلى، واسمه محمد بن عبد الرحمن أحمد بن يونس هو ابن عبد الله بن يونس منسوب لجده، وأبو شهاب: هو عبد ربه بن نافع الحناط» [ترقيم الرساله 7969] [ترقيم الشركة 7875]

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7970
وقد حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا أبو معاوية، عن أبي إسحاق الشَّيباني، عن عكرمة، عن ابن عباس قال: قال رسولُ الله ﷺ:"لا يُباشِرِ الرجلُ الرجلَ، ولا المرأةُ المرأةَ" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، فقد أجمعا على صحّة هذا الحديث.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7777 - على شرط البخاري
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی مرد دوسرے مرد کے جسم سے (ستر کے مقام پر) نہ لگے اور نہ ہی کوئی عورت دوسری عورت کے جسم سے لگے۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے اور ائمہ کا اس کی صحت پر اتفاق ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7970]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل أحمد بن عبد الجبار» [ترقيم الرساله 7970] [ترقيم الشركة 7876] [ترقيم العلميه 7777]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں