🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
33. الرِّيحُ مِنْ رُوحِ اللَّهِ فَلَا تَسُبُّوهَا .
ہوا اللہ کی رحمت ہے، اسے برا بھلا نہ کہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7961
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني (2) ، حدثنا حَبَّان بن هِلال، حدثنا جعفر بن سليمان، حدثنا ثابت، عن أنس بن مالك: أنَّ رسول الله ﷺ كان إذا أَمطَرتِ السماءُ حَسَرَ ثوبه عن ظهرِه حتى يُصيبَه المطرُ، فقيل له: لِمَ تصنعُ هذا؟ قال:"إنَّه حديثُ عهدٍ بربِّه ﷿" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7768 - ذا في مسلم
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب بارش برستی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کمر مبارک سے کپڑا ہٹا دیتے تاکہ پشت مبارک پر بارش کے قطرے پڑیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ ایسا کیوں کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: اس لئے کہ یہ اپنے رب کی بارگاہ سے ابھی ابھی آئی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7961]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7962
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بحر بن نصر، حدثنا بِشر (1) ابن بكر، حدثنا الأوزاعي، حدثني ابن شِهاب، حدثني ثابت الزُّرَقي، أنَّ أبا هريرة قال: أَخَذَتِ الناسَ رِيحٌ بطريق مكة وعمر بن الخطاب حاج، فاشتدَّتْ عليهم، فقال عمر بن الخطاب لمن حولَه ما الريحُ؟ فلم يَرجِعوا إليه شيئًا، فبلغني الذي سأل عنه عمرُ، فاستَحثَثتُ راحلتي حتى أدركتُه، فقلت: يا أميرَ المؤمنين، أُخبرتُ أنَّك سألتَ عن الرِّيح، وإني سمعت رسولَ الله ﷺ يقول:"الرِّيحُ من رَوْحِ الله تعالى؛ تأتي بالرَّحمة وتأتي بالعذاب، فلا تَسبُّوها، وسَلُوا الله خيرَها، واستَعيذُوا بالله من شرِّها" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7769 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مکہ کے راستے میں، لوگوں پر آندھی آ گئی، اس وقت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سفر حج پر تھے، آندھی بہت سخت ہو گئی، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے پوچھا: یہ آندھی کیسی ہے؟ لیکن کسی نے بھی کوئی خاطر خواہ جواب نہ دیا، (سیدنا ابوہریرہ فرماتے ہیں) سیدنا عمر نے آندھی کے بارے میں جو بات پوچھی تھی، اس کی اطلاع مجھ تک بھی پہنچی، میں نے اپنی سواری کو تیز کیا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچ گیا، میں نے ان سے کہا: اے امیرالمومنین! مجھے پتہ چلا ہے کہ آپ نے ریح (ہوا) کے بارے میں پوچھا ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ریح (ہوا) اللہ تعالیٰ کی رحمت بھی لے کر آتی ہے اور یہ عذاب بھی لاتی ہے۔ اس لئے اس کو گالی مت دو، بلکہ اس کی بھلائی مانگو اور اس کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگو۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7962]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7963
أخبرنا إسماعيل بن محمد بن الفضل، حدثنا جدِّي، حدثنا إسماعيل بن أبي أُوَيس، حدثنا المغيرة بن عبد الرحمن، عن يزيد بن أبي عُبيد، عن سَلَمة بن الأكوع - رَفَعَه إن شاء الله -: أنه كان إذا اشتدَّت الريحُ يقول:"اللهمَّ لَقْحًا لا عَقِيمًا" (1) . هذا إسناد صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7770 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ مرفوعاً روایت کرتے ہیں کہ جب ہوا بہت تیز چلتی (یعنی جب آندھی آتی) تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگتے اللھم لقحا لاعقیما اے اللہ! اسے ہمارے لئے فائدہ مند بنا، نقصان دہ نہ بنا۔ ٭٭ یہ اسناد امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7963]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
34. الدُّعَاءُ عِنْدَ اسْتِمَاعِ صَوْتِ الرَّعْدِ .
رعد (بجلی کی کڑک) سنتے وقت کی دعا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7964
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا إسحاق بن الحسن الحَرْبي، حدثنا عفّان، حدثنا حمّاد بن سلمة، عن عبد الملك بن عُمير، عن موسى ابن طلحة، عن عائشة: أنَّ رسول الله ﷺ كان يُكثِرُ ذِكرَ خديجةَ، فقلتُ: لقد أخلَفَك الله - وربما قال حماد: أعقبَك الله - من عجوزٍ من عجائز قريشٍ حمراءِ الشِّدقينِ، هَلَكَت في الدَّهر الأول، قالت: فتَمَعَّر وجهُه تمعُّرًا ما كنتُ أراه إلا عند نزول الوحي، وإذا رأى مَخِيلةَ الرَّعد والبرق حتى يَعلَم أرحمةٌ هي أم عذابٌ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7771 - على شرط مسلم
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کو اکثر یاد کیا کرتے تھے میں نے کہا: قریش کی ایک بوڑھی خاتون کے وفات پانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک خوبصورت دوشیزہ سے نوازا ہے۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر ناراضگی کے آثار نمودار ہوئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ کیفیت نزول وحی کے وقت ہوا کرتی تھی، یا اس وقت ہوتی تھی جب رعد و باراں ہوتی، جب تک حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ علم نہ ہو جاتا کہ یہ رعد اور برسات رحمت کی ہے یا عذاب کی ہے اس وقت تک آپ کی کیفیت بدستور وہی رہتی۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7964]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
35. النَّهْيُ عِنْدَ انْقِضَاضِ النَّجْمِ عَنْ رُؤْيَتِهِ .
ستارہ ٹوٹتے وقت اس کی طرف دیکھنے کی ممانعت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7965
حدثني أبو بكر بن بالَوَيهِ، حدثنا إسحاق بن الحسن، حدثنا عفّان، حدثنا عبد الواحد بن زياد، حدثنا أبو مَطَر، عن سالم، عن ابن عمر قال: كان رسولُ الله ﷺ إذا سمع الرعدَ والصواعقَ قال:"اللهم لا تَقتُلْنا بغضبِك، ولا تُهلِكُنا بعذابِك، وعافِنا قبلَ ذلك (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7772 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بادلوں کی گرج اور کڑک سنتے تو یہ دعا مانگتے اللھم لا تقتلنا بغضبک ولا تھلکنا بعذابک و عافنا قبل ذلک اے اللہ! تو ہمیں اپنے غضب کے ساتھ ہلاک نہ فرما، اور نہ تو ہمیں اپنے عذاب کے ساتھ ہلاک فرما۔ اس سے پہلے ہی ہمیں عافیت عطا فرما۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7965]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
36. قُولُوا خَيْرًا تَغْنَمُوا، وَاسْكُتُوا عَنْ شَرٍّ تَسْلَمُوا .
بھلی بات کہو تو فائدہ پاؤ گے اور برائی سے خاموش رہو تو سلامت رہو گے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7966
أخبرنا محمد بن علي الصنعاني بمكة، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا معمر، عن أيوب، عن ابن سيرين قال: تعشَّينا مع أبي قتادة فوق ظهر بيتٍ لنا، فانقضَّ نجم فأتبعناه أبصارنا، فنهانا، وقال: لا تُتبعوه أبصاركم، فإنَّا كُنَّا نُنهى عن ذلك (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7773 - على شرط البخاري ومسلم
ابن سیرین کہتے ہیں: ہم نے اپنے گھر کی چھت پر سیدنا ابوقتادہ کے ہمراہ رات کا کھانا کھایا، ایک ستارہ ٹوٹا، ہم اس کو دیکھنے لگے، سیدنا ابوقتادہ نے ہمیں اس کی جانب دیکھنے سے منع فرما دیا اور فرمایا: تم اس کو مت دیکھو، کیونکہ ہمیں اس سے منع کیا گیا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7966]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
37. النَّهْيُ عَنْ مُبَاشَرَةِ الرَّجُلِ الرَّجُلَ وَالْمَرْأَةِ الْمَرْأَةَ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ .
ایک ہی کپڑے میں دو مردوں یا دو عورتوں کے ایک ساتھ لیٹنے کی ممانعت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7967
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الربيع بن سليمان، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني أبو هانئ عن عمرو بن مالك الجَنْبي، عن فَضَالة بن عُبيد، عن عُبَادة بن الصامت: أنَّ رسول الله ﷺ خرجَ ذاتَ يوم على راحلته وأصحابُه معه بين يديه، فقال معاذُ بن جَبَل: يا نبيَّ الله، ائذَنْ لي في أن أتقدَّمَ إليك على طِيبةِ نفس، قال:"نعم"، فاقتربَ معاذٌ إليه، فسارا جميعًا، فقال معاذ: بأبي أنت يا رسولَ الله، أسألُ الله أن يجعل يومَنا قبلَ يومِك، أرأيتَ إن كان شيءٌ ولا نَرَى شيئًا إن شاء الله تعالى، فأيُّ الأعمال نعملُها بعدَك؟ فصمتَ رسولُ الله ﷺ فقال:"الجهادُ في سبيل الله"، ثم قال رسول الله ﷺ:"نِعمَ الشيءُ الجهادُ، والذي (2) بالناس أملَكُ من ذلك" [قال] (3) : فالصيامُ والصَّدقةُ؟ قال:"نِعمَ الشيءُ الصيامُ والصَّدقةُ". فذكر معاذٌ كلَّ خير يعمله ابن آدم، كلَّ ذلك رسولُ الله ﷺ [يقول] :"وعادُ بالنَّاسِ خيرٌ من ذلك" قال: فماذا بأبي أنت وأُمِّي عادُ بالناس [خيرٌ] من ذلك؟ قال: فأشار رسولُ الله ﷺ إلى فيه، قال:"الصَّمْتُ إِلَّا من خَيرٍ" قال: وهل نؤاخَذُ بما تكلَّمَتْ به ألسنتُنا؟ قال: فضربَ رسولُ الله ﷺ فَخِذَ معاذ، ثم قال:"يا معاذُ، ثَكِلتْكَ أُمُّك - أو ما شاء الله أن يقول له من ذلك. وهل يَكُبُّ الناس على مَناخِرِهم في جَهَنَّمَ إِلَّا ما نطقَتْ به ألسنتُهم؟! فمن كان يُؤْمِنُ بالله واليوم الآخر فليَقُلْ خيرًا أو لِيسكُتْ عن شرٍّ، قُولُوا خيرًا تَغنَمُوا، واسكتُوا عن شرٍّ تَسلَمُوا" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، والغرضُ في إخراجه في هذا الموضع إباحةُ دعاء المُتعلِّم لعالمه الذي يَقتبِسُ منه أن يجعل الله مَنِيّتَه قبل عالِمِه، فإني قدّمتُ قبل هذا أخبارًا صحيحة في إباحة قول الناس: جعلَني الله فِداك (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7774 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر سوار ہو کر اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ہمراہ باہر نکلے، سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ دل کی خوشی سے مجھے اجازت دیتے ہیں کہ میں آپ کے قریب آ جاؤں؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ سیدنا معاذ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب آ گئے، پورا راستہ سیدنا معاذ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ساتھ چلے، اس دوران سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ماں باپ آپ پر قربان ہو جائیں، کاش اللہ تعالیٰ ہمارا (وفات کا) دن آپ کے (وفات کے) دن سے پہلے کر دے (یعنی کاش ایسا ہو جائے کہ آپ سے پہلے ہمیں وفات ملے)۔ یا رسول اللہ کچھ چیزیں ایسی ہیں جو آپ دیکھ رہے ہیں اور وہ ہماری نگاہوں سے اوجھل ہیں، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم آپ کے بعد کیا عمل کریں؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کچھ دیر خاموش رہے، (سیدنا معاذ نے) عرض کی: جہاد فی سبیل اللہ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہاد بہت اچھی چیز ہے، لیکن لوگوں کو جس چیز کی زیادہ ضرورت ہے وہ اس سے بھی اہم ہے (سیدنا معاذ نے کہا:) روزہ اور صدقہ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: روزہ اور صدقہ بھی بہت اچھی چیز ہے۔ اس کے بعد سیدنا معاذ نے ان تمام نیک اعمال کا ذکر کیا جو انسان کرتا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس سے بھی اچھی چیز کی لوگوں کی عادت بناؤ۔ سیدنا معاذ نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان تمام چیزوں سے بھی اہم چیز کون سی ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے منہ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: خاموشی بہتر ہے، ہاں بولنا ہو تو اچھی بات بولو، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری زبانیں جو کچھ بولتی ہیں، کیا اس پر ہمارا مواخذہ ہو گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ کی ران پر ہاتھ مارا اور فرمایا: اے معاذ تیری ماں تجھے روئے، یا (شاید اس موقع پر ان کے لیے کوئی اور الفاظ بولے پھر فرمایا) لوگوں کو اوندھے منہ دوزخ میں جو ڈالا جائے گا، وہ ان کی زبانوں کی گفتگو کی وجہ سے ہو گا۔ اس لیے جو شخص اللہ تعالیٰ پر اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے اس کو چاہیے کہ اچھی بات کرے اور بری بات سے خاموشی اختیار کرے، اچھی بات کہو، تم فائدے میں رہو گے، اور بری بات سے خاموش رہو، تم شر سے بچے رہو گے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اس حدیث کو اس مقام پر درج کرنے کی وجہ یہ ثابت کرنا ہے کہ اگر طالب علم یہ دعا مانگے کہ اللہ تعالیٰ میرے استاد سے پہلے مجھے وفات عطا کرے تو یہ جائز ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7967]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7968
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا السَّري بن خُزيمة، حدثنا سليمان بن داود الهاشمي، حدثنا عبد الرحمن بن أبي الزِّناد، عن موسى بن عُقبة، عن أبي الزُّبير عن جابر قال: سمعت رسول الله ﷺ يَنهَى أن يُباشِرَ الرجلُ الرجلَ في ثوب واحد، والمرأةُ المرأةَ في ثوب واحد (3) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7775 - على شرط مسلم
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا کہ ایک مرد دوسرے مرد کے ساتھ ایک بستر میں برہنہ لیٹے، اور ایک عورت دوسری عورت کے ساتھ ایک بستر میں برہنہ لیٹے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7968]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7969
أخبرناه أحمد بن يعقوب الثقفي، حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي، حدثنا أحمد بن يونس، حدثنا أبو شهاب، عن ابن أبي ليلى، عن أبي الزبير عن جابر قال: نَهَى رسول الله ﷺ أن تُباشِرَ المرأة المرأةَ، والرجلُ الرجلَ (1) . قال ابن أبي ليلى: وأنا أرى فيه التَّعزير. محمد بن عبد الرحمن بن أبي ليلى من أجلِّ بيت الصحابة من الأنصار ومُفتي وقته بالكوفة، إذا رأى فيه التعزير ففيه قدوة.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کو عورت کے ساتھ اور مرد کو مرد کے ساتھ ایک بستر میں برہنہ لیٹنے سے منع فرمایا۔ ابن لیلی فرماتے ہیں میرا خیال ہے کہ اس میں تعزیر ہے۔ (یعنی اگر کوئی شخص اس عمل میں مبتلا پایا جائے تو اس کو تعزیراً سزا دینی چاہیے) اور محمد بن عبدالرحمن بن ابی لیلی بزرگ انصاری صحابہ میں سے ہیں، کوفہ کے فقیہ اور مفتی ہیں۔ اگر انہوں نے اس میں تعزیر سمجھی ہے تو ان کے اس قول کی پیروی کرنی چاہیے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7969]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
38. النَّهْيُ عَنْ دُخُولِ الْحَمَّامِ بِغَيْرِ تَسَتُّرٍ .
بغیر پردہ کیے حمام میں داخل ہونے کی ممانعت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7970
وقد حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا أبو معاوية، عن أبي إسحاق الشَّيباني، عن عكرمة، عن ابن عباس قال: قال رسولُ الله ﷺ:"لا يُباشِرِ الرجلُ الرجلَ، ولا المرأةُ المرأةَ" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، فقد أجمعا على صحّة هذا الحديث.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7777 - على شرط البخاري
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مرد، مرد کے ساتھ اور عورت، عورت کے ساتھ ایک بستر میں برہنہ نہ لیٹے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔ اور ان دونوں نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7970]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں