🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
28. النَّهْيُ عَنِ الْخَذْفِ .
کنکریاں پھینکنے (خَذف) کی ممانعت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7951
ما حدَّثَناه أبو عبد الله الصَّفَّار، حدثنا أحمد بن يونس الضَّبِّي، حدثنا محمد بن عُبيد الطَّنَافسي، حدثنا يونس بن أبي إسحاق، عن هِلال بن خبَّاب، عن عِكْرمة، عن عبد الله بن عمرو قال: كُنَّا نحن حولَ رسول الله ﷺ جلوسًا، إذ ذَكَر الفتنةَ - أو ذُكرَتْ عندَه - فقال رسول الله ﷺ:"إذا رأيتَ الناسَ قد مَرِجَتْ عهودُهم، وخفَّتْ أماناتُهم، وكانوا هكذا" وشبَّك بين أناملِه، فقمتُ إليه، فقلتُ: كيف أفعلُ يا رسولَ الله، جعلني الله فِدَاك؟ قال:"الزَمْ بيتَك، واملِكْ عليك لسانَك، وخُذْ ما تَعرِفُ، ودَعْ ما تُنكِرُ، وعليك بخاصَّة أمر نفسك، ودَعْ عنك أمرَ العامَّة" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7758 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد حلقہ بنا کر بیٹھے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتنہ کا ذکر کیا یا شاید آپ کے پاس کسی نے فتنہ کا ذکر کیا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم دیکھو کہ لوگ وعدہ کی پاسداری نہیں کرتے، اور امانتوں کو ہلکا جانتے ہیں، پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں کو انگلیوں میں ڈال کر اشارہ کر کے فرمایا: اور لوگ یوں ہو جائیں گے۔ میں اٹھ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب آیا اور عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر فدا کرے، ان حالات میں، مجھے کیا کرنا ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے گھر میں بیٹھے رہنا، اپنی زبان کو روک کر رکھنا، جو چیز جانتے ہو، اس پر عمل کر لینا، جس چیز کو برا جانتے ہو، اس کو چھوڑ دینا، تم پر اپنا معاملہ سنبھال لینا اور دیگر لوگوں کا معاملہ چھوڑ دینا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7951]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7952
أخبرنا أبو عمرو بن السَّمَّاك، حدثنا يحيى بن جعفر، حدثنا علي بن عاصم، أخبرنا خالد الحذَّاء، عن الحَكَم بن الأعرج، عن عبد الله بن مُغفَّل قال: نَهَى رسولُ الله ﷺ عن الخَذْف، قال: فخَذَفَ رجلٌ عندَه، فقال: أُحدِّثُك عن رسولِ الله ﷺ وتَخذِفُ؟! والله لا أُكلِّمُك أبدًا (1) . قد اتَّفق الشيخان على إخراج حديث عُقبة بن صُهبان عن عبد الله بن مغَّفل في النهي عن الخَذْف، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة، وهو صحيح الإسناد. وقد روي مثله عن ابن عمر:
سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکریاں پھینکنے سے منع فرمایا۔ راوی کہتے ہیں۔ ایک آدمی ان کے ہاں کنکریاں پھینک رہا تھا، آپ نے فرمایا: میں تجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان سنا رہا ہوں اور تم کنکریاں پھینک رہے ہو، اللہ کی قسم! میں کبھی بھی تجھ سے کلام نہیں کروں گا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے عقبہ بن صہبان کے واسطے سے عبداللہ بن مغفل سے روایت کی ہے جس میں انگلیوں سے کنکریاں مارنے سے منع کیا گیا ہے۔ لیکن شیخین نے اس کو اس اسناد کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور اس کی مثل حدیث سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی مروی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7952]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
29. شَأْنُ نُزُولِ آيَةِ (وَتَأْتُونَ فِي نَادِيكُمُ الْمُنْكَرَ) .
آیت "اور تم اپنی مجلسوں میں برے کام کرتے ہو" کے شانِ نزول کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7953
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الرَّبيع بن سليمان، حدثنا خالد بن عبد الرحمن، حدثنا حَبيب بن سُلَيم، عن عمر بن مُسلِم قال: خَذَفَ رجلٌ عند ابن عمر، فقال: لا تَخذِفْ، فإنِّي سمعتُ رسولَ الله ﷺ يَنهَى عن الخَذْف، ثم رآه ابن عمر بعد ذلك يَخذِفُ، فقال: أنبأتُك أنَّ النبيَّ ﷺ يَنهَى عَن الخَذْف ثم خَذَفَتَ؟! والله لا أُكلِّمُك كلمةً أبدًا (2) .
سیدنا عمرو بن مسلم بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس کسی نے خذف (یعنی اس نے اپنی انگلیوں کے ساتھ کنکری ماری) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسا مت کرو۔ کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خذف (کنکریاں مارنے) سے منع کرتے ہوئے سنا ہے۔ اس کے بعد ایک مرتبہ پھر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس آدمی کو خذف (کنکریاں مارتے) ہوئے دیکھا، آپ نے فرمایا: میں نے تجھے بتایا بھی تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عمل سے منع کیا ہے اس کے باوجود تو نے یہ عمل کیا ہے، اب میں تجھ سے کبھی بھی بات نہیں کروں گا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7953]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7954
حدثنا أبو الحسن محمد بن علي بن بكر.... [عن عبد الله بن بكر] الشَّهمي (1) ، حدثنا أبو يونس حاتم بن أبي صَغِيرة، عن سِمَاك بن حرب، عن أبي صالح مولى أم هانئ، عن أم هانئ: أنها سألت رسولَ الله ﷺ قالت: قلتُ: يا رسولَ الله، أرأيتَ قول الله ﵎: ﴿وَتَأْتُونَ فِي نَادِيكُمُ الْمُنْكَرَ﴾ [العنكبوت: 29] ، ما كان ذلك المنكر الذي كانوا يأتونه؟ قال:"كانوا يَسْخرُون بأهل الطريقِ ويَخْذِفُونهم" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7761 - صحيح
سیدہ ام ہانی کے بارے میں مروی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، وَتَأْتُونَ فِي نَادِيكُمُ الْمُنْكَرَ (العنكبوت: 29) میں کون سے گناہ کی بات کی گئی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ لوگ راہگیروں سے مذاق کرتے تھے اور ان کو کنکریاں مارا کرتے تھے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7954]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7955
أخبرنا أبو بكر محمد بن عبد الله الشافعي، حدثنا محمد بن مَسْلَمة الواسطي، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا محمد بن إسحاق، عن محمد بن إبراهيم، عن عطاء بن يَسَار، عن جابر بن عبد الله قال: قال رسول الله:"إذا سمعتُم نُبَاحَ الكلابِ ونَهِيقَ الحميرِ من الليل، فتعوَّذُوا بالله من الشيطان الرَّجيم، فإِنَّها تَرَى ما لا تَرَون، وأقِلُّوا الخروجَ إذا هَدَأَت (3) [الرَّجلُ] فإنَّ الله تعالى يَبُثُّ في ليلِه (4) من خلقِه ما شاء، وأَجِيفوا الأبوابَ، واذكرُوا اسمَ الله عليها، فإنَّ الشيطانَ لا يفتحُ بابًا أُجِيفَ وذُكِرَ اسمُ الله عليه، وأَوكِئوا الأسقية، وغطُّوا الجِرارَ، وأكفئوا الآنية" (5) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7762 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم رات کے وقت کتے کے بھونکنے کی یا گدھے کے چیخنے کی آواز سنو تو اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم پڑھو، کیونکہ یہ مخلوق وہ کچھ دیکھتی ہے جو تم نہیں دیکھ سکتے، اور رات کے وقت گھر سے کم نکلا کرو، کیونکہ رات کے وقت اللہ تعالیٰ اپنی بہت ساری مخلوق کو پھیلا دیتا ہے، اللہ کا نام لے کر اپنے دروازے بند کر دیا کرو، کیونکہ شیطان، وہ دروازہ نہیں کھول سکتا جس کو اللہ کا نام لے کر بند کیا گیا ہو، مشکیزے کا منہ باندھ دیا کرو، اور مٹکے کو ڈھانپ دیا کرو، اور برتنوں کو الٹا کر دیا کرو۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو اس اسناد کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7955]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
30. إِيَّاكَ وَالسَّمَرَ بَعْدَ هَدْأَةِ اللَّيْلِ .
رات کے وقت سکون چھا جانے کے بعد قصہ گوئی اور باتوں سے بچو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7956
أخبرني أبو عون محمد بن أحمد الجزَّار على الصَّفَا، حدثنا علي بن عبد العزيز، حدثنا حجَّاج، حدثنا حماد، عن حبيب، عن عطاء، عن جابر، أنَّ النبيَّ ﷺ قال:"احبِسُوا صِبيانَكم حتى (1) تذهبَ فَوْعةُ (2) العِشاء، فإنه ساعةٌ تخترقُ فيها الشياطينُ" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7763 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: شام کے بعد اپنے بچوں کو باہر نکلنے سے روکا کرو، کیونکہ اس وقت میں شیاطین نکلتے ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7956]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
31. لَا تَبِيتَنَّ النَّارُ فِي بُيُوتِكُمْ .
اپنے گھروں میں آگ جلتی ہوئی چھوڑ کر نہ سویا کرو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7957
أخبرني أبو الحسين محمد بن أحمد القَنطَري، حدثنا أبو قِلابة، حدثنا [أبو] (1) عاصم، عن محمد بن عَجْلان عن القعقاع بن حكيم، عن جابر بن عبد الله قال: قال رسول الله ﷺ:"إياكَ والسَّمَرَ بعد هَدْأَةِ الليل، فإنكم لا تَدرُونَ ما يأتي اللهُ من خَلْقِه" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7764 - على شرط مسلم
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: رات گئے تک قصے کہانیاں سنانے سے بچو، کیونکہ تم نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ اپنی کون کون سی مخلوق کو لاتا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7957]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7958
أخبرنا عبد الله بن إسحاق الخُزاعي بمكة حرسها الله، حدثنا أبو يحيى بن أبي مسرَّة، أخبرنا نافع بن يزيد، حدثني ابن الهادِ، أنَّ نافعًا حدّثه عن عبد الله بن عمر، أنه سمع رسولَ الله ﷺ يقول:"لا تُبيِّتُنَّ النارَ في بيوتِكم فإنَّها عدوٌّ". فما كان ابن عمر يَرقُدُ حتى لا يدع في البيت نارًا إلَّا أطفأَها، وكان آخرَ أهل البيت رُقَادًا، كان يُصلِّي فإذا فَرَغَ لَم يَنَمْ حتى يُطفئَ السِّراجَ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7765 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: آگ کو اپنے گھر میں رات مت گزارنے دو کیونکہ یہ تمہاری دشمن ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی عادت تھی کہ سونے سے پہلے گھر میں آگ بجھا دیا کرتے تھے۔ آپ اپنے گھر میں سب سے آخر میں سویا کرتے تھے، آپ نماز میں مشغول ہوتے تھے، جب نماز سے فارغ ہوتے تو سونے سے پہلے چراغ گل کر دیا کرتے تھے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7958]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
32. الدُّعَاءُ عِنْدَ رُؤْيَةِ الْهِلَالِ .
نیا چاند دیکھنے کی دعا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7959
أخبرنا أبو [أحمد] (1) محمد بن إسحاق الصَّفَّار العَدْل، حدثنا أحمد بن نصر، أخبرنا عمرو بن طلحة، القَنَّاد، حدثنا أسباط بن نصر، عن سِمَاك بن حَرْب، عن عِكْرمة، عن ابن عباس قال: جاءت فأرةٌ فأخَذَت تَجُرُّ الفَتِيلة، فذهبت الجاريةُ تَزجُرُها، فقال نبيُّ الله ﷺ:"دَعِيها"، فجاءت بها فألقَتْها بينَ يدي رسول الله ﷺ [على الخُمْرة] (2) التي كان قاعدًا عليها، فأحرقَتْ منها موضعَ دِرهَم، فقال رسولُ الله ﷺ:"إذا نمتُم فأطفِئُوا سُرُجَكم، فإنَّ الشيطان يدلُّ مثلَ هذه على هذا فيُحرِقُكم" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7766 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ایک چوہیا آئی اور چراغ کی بتی لے گئی، گھر کی لونڈی نے اس چوہیا کو مارنا شروع کر دیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو چھوڑ دو، لونڈی وہ چٹائی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آئی (یہ وہ چٹائی تھی جس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھا کرتے تھے) اس میں ایک درہم کے برابر جگہ جل چکی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب سونے لگو تو چراغ گل کر دیا کرو، کیونکہ شیطان اس طرح کی حرکت کر کے تمہیں جلا سکتا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7959]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7960
أخبرنا عبد الله بن إسحاق الخُراساني العدل، حدثنا أحمد بن زياد بن مِهْران، حدثنا أبو عامر العَقَدي، حدثنا سليمان بن سفيان المَديني، حدثني بلال بن يحيى بن طلحة بن عبيد الله، عن أبيه، عن جده: أن النبيَّ ﷺ كان إذا رأى الهِلالَ قال:"اللهمَّ أَهِلَّه علينا باليُمْن والإيمان، والسَّلامةِ والإسلام، ربِّي وربُّك اللهُ" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7767 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
بلال بن یحیی بن طلحہ بن عبیداللہ اپنے والد سے، وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب چاند دیکھتے تو یہ دعا مانگتے اللَّهُمَّ أَهْلَّهُ عَلَيْنَا بِالْاَمْنِ وَالإِيمَانِ وَالسَّلاَمَةِ وَالإِسْلاَمِ، رَبِّي وَرَبُّكَ اللَّهُ یا اللہ اس کو ہمارے لئے امن، ایمان، سلامتی اور اسلام والا بنا، میرا اور تیرا رب اللہ ہے [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7960]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں