🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
70. ذِكْرُ الدَّجَّالِ بِيَدِ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ
سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھوں دجال کے قتل کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8696
حدثنا الشيخ أبو بكر أحمد بن إسحاق الفقيه، أخبرنا الحسن بن علي بن زياد، حدثنا إسماعيل بن أبي أُويس، حدثني أخي، عن سليمان بن بلال، عن سُهيل بن أبي صالح، عن أبيه، عن أبي هريرة، أن النبي ﷺ قال:"لا تقومُ الساعةُ حتى يَنزِلَ الرُّومُ بالأعماق، فيخرج إليهم جلبٌ من المدينة من خيار أهل الأرض يومئذٍ، فإذا تصافُّوا قالت الرُّوم: خلُّوا بيننا وبين الذين سَبَوْا منا نُقاتِلُهم، فيقول المسلمون: لا والله لا نُخلِّي بينكم وبين إخواننا، فيقاتلونهم فينهزم ثُلثٌ لا يتوبُ الله عليهم أبدًا، ويُقتل ثلثٌ هم أفضلُ الشهداء عند الله ﷿، ويصبحُ ثلثٌ لا يُفتنون أبدًا، فيبلُغون القُسطنطينيَّة فيَفتَتِحون، فبينما هم يَقسِمون غنائمهم وقد علَّقوا سلاحهم بالزَّيتون، إذ صاحَ الشيطان إنَّ المسيح قد خَلَفَكم في أهلِيكُم، وذلك باطلٌ، فإذا جاؤوا الشامَ خَرَجَ، فبينما هم يعتدُّون للقتال ويُسَوُّون الصفوف، إذ أُقِيمت الصلاةُ صلاةُ الصبح، فينزلُ عيسى ابن مريم صلوات الله عليه، فأَمَّهم، فإذا رآه عدوُّ الله ذابَ كما يذوبُ المِلحُ، فلو تَرَكَه لانذابَ حتى يَهْلِكَ، ولكن يقتلُه الله بيده، فيُريهم دمه في حربتِه" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8486 - على شرط مسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک رومی (شام کے مقام) اعماق میں نہ اتر آئیں، پس ان کے مقابلے کے لیے مدینہ سے ایک لشکر نکلے گا جو اس وقت کے بہترین اہل زمین میں سے ہوگا، جب وہ صف آراء ہوں گے تو رومی کہیں گے: ہمارے اور ان لوگوں کے درمیان سے ہٹ جاؤ جنہوں نے ہمارے لوگ قید کیے ہیں تاکہ ہم ان سے قتال کریں، تو مسلمان کہیں گے: اللہ کی قسم! ہم تمہارے اور اپنے بھائیوں کے درمیان سے ہرگز نہیں ہٹیں گے، چنانچہ وہ ان سے قتال کریں گے، (مسلمانوں کا) ایک تہائی لشکر بھاگ کھڑا ہوگا جن کی توبہ اللہ کبھی قبول نہیں فرمائے گا، ایک تہائی قتل کر دیا جائے گا جو اللہ کے نزدیک بہترین شہداء ہوں گے، اور ایک تہائی کو فتح نصیب ہوگی جو کبھی کسی فتنے میں نہیں پڑیں گے، پھر وہ قسطنطنیہ پہنچ کر اسے فتح کریں گے، ابھی وہ اپنی غنیمتیں تقسیم کر رہے ہوں گے اور انہوں نے اپنے ہتھیار زیتون کے درختوں سے لٹکا رکھے ہوں گے کہ اچانک شیطان چیخ کر کہے گا کہ مسیح (دجال) تمہارے پیچھے تمہارے اہل و عیال میں پہنچ چکا ہے، حالانکہ یہ خبر جھوٹی ہوگی، جب وہ شام پہنچیں گے تو (دجال) ظاہر ہو جائے گا، پھر جب وہ قتال کی تیاری اور صفیں درست کر رہے ہوں گے تو نمازِ صبح کے لیے اقامت کہی جائے گی، تب عیسیٰ ابن مریم صلوات اللہ علیہ نازل ہوں گے اور ان کی امامت فرمائیں گے، جب اللہ کا دشمن (دجال) آپ کو دیکھے گا تو اس طرح پگھلنے لگے گا جیسے نمک (پانی میں) پگھلتا ہے، اگر آپ اسے (اس کے حال پر) چھوڑ بھی دیں تو وہ پگھل کر ہلاک ہو جائے، لیکن اللہ تعالیٰ اسے آپ کے ہاتھوں قتل کروائے گا اور آپ کو اپنے نیزے پر اس کا خون دکھائیں گے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا! [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8696]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل الحسن بن علي بن زياد وإسماعيل بن أبي أُويس» [ترقيم الرساله 8696] [ترقيم الشركة 8588] [ترقيم العلميه 8486]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8697
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الزاهد الأصبهاني، حدثنا أبو عبد الله محمد بن إبراهيم بن أُوزمة الأصبهاني، حدثنا الحسين بن حفص، حدثنا سفيان الثَّوْري، عن أبي قيس الأَوْدي، عن هُزَيل بن شُرَحبِيل، عن عبد الله بن مسعود أنه قال: إنكم في زمان كثيرٌ علماؤُه، قليل خطباؤُه، كثيرٌ مُعطُوه، الصلاةُ فيها قصيرة، والخُطبةُ فيها طويلة، فاقصُرُوا الخطبة وأَطيلوا الصلاة، وإنَّ من البَيان لسحرًا، ومن أراد الآخرة أضرَّ بالدنيا، ومن أراد الدنيا أضرَّ بالآخرة، يا قومِ فَأَضِرُّوا بالفانية للباقية (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8487 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: بیشک تم ایک ایسے زمانے میں ہو جس میں علماء کثرت سے ہیں اور خطباء کم ہیں، (اللہ کی راہ میں) دینے والے زیادہ ہیں، اس دور میں نماز مختصر اور خطبہ طویل ہے، پس تم (سنت کے مطابق) خطبہ مختصر کیا کرو اور نماز طویل رکھا کرو، اور یقیناً بعض بیان جادو (کی طرح پر اثر) ہوتے ہیں، اور جو شخص آخرت کا ارادہ کرتا ہے وہ (لازماً) دنیا کو نقصان پہنچاتا ہے، اور جو دنیا کا ارادہ کرتا ہے وہ اپنی آخرت کو نقصان پہنچاتا ہے، اے میری قوم! اس فنا ہونے والی زندگی کو اس باقی رہنے والی زندگی کے لیے قربان کر دو۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8697]
تخریج الحدیث: «خبر حسن، محمد بن إبراهيم بن أورمة» [ترقيم الرساله 8697] [ترقيم الشركة 8589] [ترقيم العلميه 8487]

الحكم على الحديث: خبر حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
71. مُقَاتَلَةُ الْمُسْلِمِينَ مِنْ بَنِي الْأَصْفَرِ
مسلمانوں کی "بنو اصفر" (رومیوں) کے ساتھ جنگ کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8698
أخبرني أبو بكر بن أبي نَصْر المزكِّي بمرو، حدثنا أحمد بن محمد بن عيسى القاضي، حدثنا عبد الله بن مَسلَمة، حدثنا كَثير بن عبد الله بن عمرو بن عَوف المُزَنِي (1) . وحدثنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق - وله اللفظ - أخبرنا الحَسَن (1) بن علي بن زياد، حدثنا إسماعيل بن أبي أُوَيس، حدثنا كَثير بن عبد الله، عن أبيه، عن جدِّه أنه قال: سمعت رسول الله ﷺ وهو يقول:"لا تذهبُ الدُّنيا. يا عليَّ بن أبي طالب" قال علي: لبَّيكَ يا رسول الله، قال:"اعلم أنكم ستقاتلون بني الأصفر ويقاتلُهم من بعدَكم من المؤمنين، وتخرجُ إليهم رُوقَةُ المؤمنين أهلُ الحِجاز، الذين يجاهدون في سبيل الله، لا تأخذُهم في الله لومةُ لائمٍ حتى يفتحَ اللهُ ﷿ عليهم قُسطَنطينيّة ورُومِيَّةَ بالتسبيح والتكبير، فينهدِمُ حِصنُها، فيصيبون نَيْلًا عظيمًا لم يُصيبوا مثله قطُّ، حتى إنهم يقتسمون بالتُّرْس، ثم يَصرُخُ صارخٌ: يا أهل الإسلام، قد خرج المسيحُ الدَّجَالُ في بلادكم وذَرارِيِّكم، فيَنفَضُّ الناسُ عن المال، فمنهم الآخِذُ ومنهم التاركُ، فالآخذُ نادمٌ والتاركُ نادمٌ، يقولون: مَن هذا الصائحُ؟ فلا يعلمون من هو، فيقولون: ابعَثُوا طَليعةً إلى لُدٍّ، فإن يكن المسيحُ قد خرج فيأتونكم بعِلمِه، فيأتون فينظرون فلا يَرَونَ شيئًا، ويَرَونَ الناسَ ساكتين فيقولون: ما صَرَخَ الصارخُ إِلَّا لنبأٍ، فاعْتَزِموا ثم ارشُدُوا، فيعتزمون أن نخرج بأجمعنا إلى لُدٍّ، فإن يكن بها المسيحُ الدَّجّالُ نُقاتِله حتى يَحكُمَ الله بيننا وبينه، وهو خيرُ الحاكمين، وإن تكن الأخرى فإنَّها بلادُكم وعشائرُكم وعساكرُكم رَجَعَتُم إليها" (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8488 - كثير واه
سیدنا کثیر بن عبداللہ اپنے والد اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: دنیا ختم نہیں ہوگی۔ اے علی بن ابی طالب! علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میں حاضر ہوں اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جان لو کہ تم عنقریب بنو اصفر (رومیوں) سے قتال کرو گے اور تمہارے بعد بھی مومنین ان سے قتال کریں گے، ان کے مقابلے کے لیے حجاز کے بہترین مومنین «رُوقَةُ المؤمنين» نکلیں گے جو اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے اور انہیں اللہ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہیں ہوگی، یہاں تک کہ اللہ عزوجل ان کے ہاتھوں تسبیح اور تکبیر کے ذریعے قسطنطنیہ اور رومیہ کو فتح فرما دے گا، پس اس کے قلعے منہدم ہو جائیں گے، انہیں وہاں سے ایسا عظیم مال ملے گا کہ اس سے پہلے کبھی نہ ملا ہوگا، یہاں تک کہ وہ ڈھالوں کے ذریعے (بھر بھر کر) مال تقسیم کریں گے، پھر ایک پکارنے والا چیخ کر کہے گا: اے اہل اسلام! مسیح دجال تمہارے شہروں اور تمہاری اولاد میں نکل آیا ہے، تو لوگ مال و متاع کو چھوڑ کر بھاگیں گے، ان میں سے کچھ لینے والے ہوں گے اور کچھ چھوڑنے والے، لینے والا بھی نادم ہوگا اور چھوڑنے والا بھی نادم ہوگا۔ وہ کہیں گے: یہ پکارنے والا کون ہے؟ مگر انہیں پتہ نہیں چلے گا، وہ کہیں گے: «لُدّ» (نامی بستی) کی طرف ایک ہراول دستہ بھیجو، اگر مسیح نکل چکا ہوا تو وہ اس کی خبر لے آئیں گے، وہ وہاں جا کر دیکھیں گے تو انہیں کچھ نظر نہیں آئے گا اور لوگ پرسکون ہوں گے، تو وہ کہیں گے: پکارنے والے نے کسی بڑی خبر کی وجہ سے ہی پکارا ہے، پس تم پختہ ارادہ کرو اور سیدھے راستے پر چلو، چنانچہ وہ عزم کریں گے کہ ہم سب مل کر «لُدّ» کی طرف چلتے ہیں، اگر وہاں مسیح دجال ہوا تو ہم اس سے قتال کریں گے یہاں تک کہ اللہ ہمارے اور اس کے درمیان فیصلہ فرما دے اور وہ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے، اور اگر دوسری صورت ہوئی تو وہ تمہارے شہر، تمہارے قبیلے اور تمہارے لشکر ہوں گے جن کی طرف تم واپس لوٹ جاؤ گے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8698]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًّا من أجل كثير بن عبد الله المزني فإنَّ الجمهور على تضعيفه، وغالى بعضهم فاتهمه بالكذب، وقال الذهبي في "تلخيصه" كثير واهٍ» [ترقيم الرساله 8698] [ترقيم الشركة 8590] [ترقيم العلميه 8488]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف جدًّا من أجل كثير بن عبد الله المزني فإنَّ الجمهور على تضعيفه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8699
أخبرني محمد بن علي بن عبد الحميد الصَّنعاني بمكة حَرَسها الله تعالى، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن إسماعيل بن أُميَّة، عن سعيد، عن أبي هريرة، يَروِيه قال:"ويلٌ للعرب من شرٍّ قد اقتَرَب، على رأس السِّتين تصيرُ الأمانةُ غَنيمةً، والصدقةُ غَرامةً، والشهادةُ بالمعرِفة، والحُكْمُ بالهَوَى" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه الزِّيادات.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8489 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عربوں کے لیے اس شر کی وجہ سے ہلاکت ہے جو قریب آ چکا ہے، ساٹھ (ہجری) کے آغاز پر امانت کو غنیمت (لوٹ کا مال) سمجھا جائے گا، صدقہ کو تاوان (جرمانہ) سمجھا جائے گا، گواہی جان پہچان کی بنیاد پر ہوگی اور فیصلہ نفسانی خواہشات کے مطابق کیا جائے گا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے ان اضافوں کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8699]
تخریج الحدیث: «روي مرفوعًا وموقوفًا، والموقوف أشبه» [ترقيم الرساله 8699] [ترقيم الشركة 8591] [ترقيم العلميه 8489]

الحكم على الحديث: روي مرفوعًا وموقوفًا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
72. يَكُونُ لِلدَّابَّةِ ثَلَاثُ خَرْجَاتٍ
دابۃ الارض (زمین سے نکلنے والے جانور) کے تین بار ظاہر ہونے کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8700
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الحسن بن علي بن عفّان العامري، حدثنا عمرو بن محمد العَنقَزي، حدثنا طلحة بن عمرو الحَضْرمي، عن عبد الله بن عُبيد بن عُمير اللَّيثي، عن أبي الطُّفيل، عن أبي سَرِيحة الأنصاري، عن النبي ﷺ قال:"يكون للدابَّةِ ثلاثُ خَرَجاتٍ من الدَّهر، تخرج أوّلَ خَرْجةٍ بأقصى اليمن، فيَفشُو ذِكرُها بالبادية، ولا يدخلُ ذِكرُها القرية - يعني مكة - ثم بَيْنا الناسُ في أعظمِ المساجد حُرْمةً وأحبِّها إلى الله وأكرمِها على الله تعالى؛ المسجدِ الحرامِ، لم يَرُعْهم إلَّا وهي في ناحية المسجد تَدنُو - أو تَربُو - بينَ الرُّكنِ الأسود وبين باب بني مخزومٍ عن يمين الخارج في وَسَطٍ من ذلك، فيَرفَضُّ الناسُ عنها شتَّى ومعًا، ويَثبُت لها عِصابةٌ من المسلمين عَرَفوا أنهم لم يُعجِزوا الله، فَخَرَجَت عليهم تَنفُضُ عن رأسها الترابَ، فبدت بهم فجَلَت عن وجوههم حتى تَرَكَتها كأنها الكواكبُ الدُّرِّيّة، ثم وَلَّت في الأرض لا يُدرِكُها طالبٌ ولا يُعجِزُها هارب، حتى إِنَّ الرجل ليتعوَّذُ منها بالصلاة، فتأتيهِ من خلفِه فتقول: أي فلانُ، الآنَ تصلِّي؟! فيَلتفِتُ إليها فتَسِمُه في وجهه ثم تذهب، فيتجاوَرُ الناسُ في ديارهم، ويَصطَحِبون في أسفارهم، ويَشتَركون في الأموال، يعرفُ المؤمنُ الكافرَ، حتى إنَّ الكافر يقول: يا مؤمنُ، اقضِني حقِّي، ويقول المؤمن: يا كافرُ، اقضني حقِّي" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، وهو أبيَنُ حديثٍ في ذكر دابّة الأرض، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8490 - طلحة بن عمرو الحضرمي ضعفوه وتركه أحمد
سیدنا ابو سریحہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زمین کے جانور (دابۃ الارض) کا ظہور تین بار ہوگا، وہ پہلی بار یمن کے دور دراز علاقے سے نکلے گا جس کا تذکرہ دیہاتوں میں پھیل جائے گا مگر شہر (مکہ) میں اس کی خبر نہیں پہنچے گی، پھر اس دوران کہ لوگ اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ محترم اور پسندیدہ جگہ یعنی مسجد حرام میں ہوں گے، تو اچانک وہ مسجد کے ایک گوشے میں نمودار ہوگا — وہ حجرِ اسود اور بابِ بنی مخزوم کے درمیانی حصے سے نکلے گا — لوگ ادھر ادھر منتشر ہو جائیں گے لیکن مسلمانوں کی ایک جماعت ثابت قدم رہے گی جو یہ جانتی ہوگی کہ وہ اللہ کو عاجز نہیں کر سکتے، پس وہ جانور ان کے سامنے آئے گا اور اپنے سر سے مٹی جھاڑ رہا ہوگا، وہ ان سے (کلام کا) آغاز کرے گا اور ان کے چہروں کو جلا بخش کر ایسا روشن کر دے گا جیسے چمکدار ستارے ہوتے ہیں، پھر وہ زمین میں چل پڑے گا، نہ اسے کوئی تلاش کرنے والا پا سکے گا اور نہ کوئی بھاگنے والا اسے عاجز کر سکے گا، یہاں تک کہ آدمی اس (کے ڈر) سے نماز کی پناہ لے گا تو وہ اس کے پیچھے سے آ کر کہے گا: اے فلاں! کیا اب تو نماز پڑھ رہا ہے؟! پھر وہ اس کی طرف مڑے گا تو وہ (جانور) اس کے چہرے پر نشان لگا دے گا اور چلا جائے گا، پس لوگ اپنے گھروں میں ایک دوسرے کے پڑوسی ہوں گے، سفر میں ساتھی ہوں گے اور مال و دولت میں شریک ہوں گے، (مگر) مومن کافر کو (نشانی سے) پہچانتا ہوگا، یہاں تک کہ کافر کہے گا: اے مومن! میرا حق ادا کر، اور مومن کہے گا: اے کافر! میرا حق ادا کر۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور زمین کے جانور (دابۃ الارض) کے ذکر میں یہ سب سے واضح حدیث ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8700]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًّا، طلحة بن عمرو الحضرمي متروك الحديث، وبه أعلّه الذهبي في "تلخيصه"، وقد تفرَّد طلحة هذا برفعه وبألفاظ فيه» [ترقيم الرساله 8700] [ترقيم الشركة 8592] [ترقيم العلميه 8490]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف جدًّا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8701
حدثنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا عبد الأعلى بن عبد الأعلى، عن هشام بن حسَّان، عن قيس بن سعد، عن أبي الطُّفيل، قال: كنا جلوسًا عند حُذيفة، فذُكِرَت الدابةُ، فقال حذيفة: إنها تخرجُ خَرَجاتٍ في بعض البوادي ثم تتكمَّن (1) ، ثم تخرجُ في بعض القُرى حتى يُذعَروا (2) حتى تُهريقَ فيها الأمراءُ الدماءَ، ثم تتكمَّن، قال: فبَيْنا الناسُ عند أعظمِ المساجدِ وأفضلِها وأشرفِها - حتى قلنا المسجد الحرام، وما سمَّاه - إذ ارتفَعَت الأرضُ، فترتفع الأرضُ ويهربُ الناس ويبقى عَامّةٌ من المسلمين تقول: إنه ليس يُنجينا من أمر الله شيءٌ، فَتَخرُجُ فتَجلُو وجوهَهم حتى تجعلَها كالكواكب الدُّرِّيّة، وتتَّبِع الناسَ (3) ، جيرانٌ في الرِّباع، شركاءُ في الأموال، وأصحابٌ في الأسفار (4) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8491 - على شرط البخاري ومسلم
ابوالطفیل سے روایت ہے کہ ہم سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے تو زمین کے جانور (دابۃ الارض) کا تذکرہ ہوا، حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وہ پہلے کچھ دیہاتی علاقوں میں نمودار ہوگا اور پھر چھپ جائے گا، پھر وہ کچھ بستیوں میں ظاہر ہوگا یہاں تک کہ لوگ دہشت زدہ ہو جائیں گے اور اس کے معاملے میں حکمران (فتنہ و فساد کی وجہ سے) خون بہائیں گے، پھر وہ روپوش ہو جائے گا، پھر اس دوران کہ لوگ سب سے عظیم، افضل اور اشرف مسجد میں ہوں گے — (راوی کہتے ہیں) یہاں تک کہ ہم نے گمان کیا کہ وہ مسجد حرام ہے اگرچہ انہوں نے اس کا نام نہیں لیا — تو اچانک زمین پھٹ کر بلند ہو جائے گی، پس زمین اوپر اٹھے گی اور لوگ بھاگ کھڑے ہوں گے لیکن مسلمانوں کی ایک بڑی جماعت وہیں رہ جائے گی جو کہے گی کہ ہمیں اللہ کے فیصلے سے کوئی چیز نجات نہیں دے سکتی، پس وہ جانور نکلے گا اور ان کے چہروں کو ایسا چمکدار بنا دے گا جیسے روشن ستارے ہوتے ہیں، پھر وہ لوگوں میں (اس طرح) رہے گا کہ وہ گھروں میں پڑوسی، مال میں شریک اور سفر میں ایک دوسرے کے ساتھی ہوں گے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8701]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 8701] [ترقيم الشركة 8593] [ترقيم العلميه 8491]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8702
حدثنا أبو زكريا العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا محمد بن فُضَيل، حدثنا الوليد بن جُمَيع، عن عبد الملك بن المغيرة، عن عبد الرحمن بن البَيلَماني، عن ابن عُمر قال: يَبِيتُ الناس يَسْرُون إلى جَمْع، وتَبِيتُ دابَّةُ الأرض تَسْري إليهم، فيُصبِحون وقد جعلتهم بين رأسِها وذنبِها، فما من مؤمنٍ إلَّا تَمسَحُه، ولا منافقٍ ولا كافرٍ إِلَّا تَخطِمُه، وإنَّ التوبةَ لمفتوحةٌ، ثم يخرج الدُّخَانُ فيأخذُ المؤمنَ منه كهيئة الزَّكْمة، ويدخلُ في مَسامع الكافر والمنافق حتى يكونَ كالشيءِ الحَنِيذ، وإن التوبةَ لمفتوحة، ثم تَطلُعُ الشمسُ من مغربها (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8492 - ابن البيلماني ضعيف وكذا الوليد
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: لوگ رات کے وقت جمع (مقامِ مزدلفہ) کی طرف کوچ کر رہے ہوں گے اور دابۃ الارض (زمین سے نکلنے والا جانور) ان کی جانب بڑھ رہا ہوگا، پس صبح کے وقت وہ ان سب کو اپنے سر اور دم کے درمیان گھیرے میں لے چکا ہوگا، چنانچہ کوئی ایسا مومن نہ ہوگا جسے وہ مسح کر کے (نشان زد) نہ کرے اور کوئی ایسا منافق یا کافر نہ ہوگا جس کی ناک پر وہ نشان نہ لگا دے، اور اس وقت تک توبہ کا دروازہ کھلا ہوگا، پھر دھواں ظاہر ہوگا جو مومن کو زکام کی سی کیفیت میں مبتلا کر دے گا جبکہ وہ کافر اور منافق کے کانوں کے سوراخوں میں داخل ہو جائے گا یہاں تک کہ وہ بھنے ہوئے گوشت کی طرح (متورم) جائیں گے، اور اس وقت بھی توبہ قبول ہوگی، یہاں تک کہ سورج مغرب سے طلوع ہو جائے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8702]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف ابن البيلماني، وبه أعلّه الذهبي في "تلخيصه" وبالوليد بن جميع» [ترقيم الرساله 8702] [ترقيم الشركة 8594] [ترقيم العلميه 8492]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لضعف ابن البيلماني
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8703
حدثنا أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن يحيى، حدثنا عبد الرحمن بن أبي حاتم، حدثنا أبو سعيد الأشجُّ، حدثنا أبو أسامة، عن إدريس بن يزيد الأَوْدي، عن عطيَّة، عن ابن عُمر، في قوله ﷿: ﴿وَإِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَيْهِمْ أَخْرَجْنَا لَهُمْ دَابَّةً مِنَ الْأَرْضِ﴾ [النمل: 82] ، قال: إذا لم يَأمُروا بالمعروف، ولم يَنهَوْا عن المنكَر (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8493 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَإِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَيْهِمْ أَخْرَجْنَا لَهُمْ دَابَّةً مِنَ الْأَرْضِ﴾ [سورة النمل: 82] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے کہا: یہ اس وقت ہوگا جب لوگ نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا چھوڑ دیں گے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8703]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف عطية: وهو ابن سعد العَوْفي» [ترقيم الرساله 8703] [ترقيم الشركة 8595] [ترقيم العلميه 8493]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
73. تَخْرُجُ الدَّابَّةُ وَمَعَهَا عَصَى مُوسَى، وَخَاتَمُ سُلَيْمَانَ
دابۃ الارض کا خروج ہوگا جس کے پاس سیدنا موسیٰ علیہ السلام کا عصا اور سیدنا سلیمان علیہ السلام کی انگوٹھی ہوگی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8704
أخبرنا أبو بكر الشافعي، حدثنا محمد بن مَسلَمة الواسطي، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا حمَّاد، عن (2) عليِّ بن زيد، عن أَوس بن خالد، عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ قال:"تخرجُ الدابةُ ومعها عصا موسى وخاتَمُ سليمان، فتَجلُو وجهَ المؤمن بالعصا، وتَخطِمُ أنفَ الكافر بالخاتَم، حتى إنَّ أهل الخِوَانِ يجتمعون، فيقول هذا: يا مؤمنُ، وهذا: يا كافرُ" (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8494 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دابۃ الارض (زمین سے نکلنے والا جانور) ظاہر ہوگا جس کے پاس موسیٰ علیہ السلام کا عصا اور سلیمان علیہ السلام کی انگوٹھی ہوگی، پس وہ عصا کے ذریعے مومن کے چہرے کو روشن و منور کر دے گا اور انگوٹھی کے ذریعے کافر کی ناک پر نشان (مہر) لگا دے گا، یہاں تک کہ دسترخوان پر بیٹھنے والے جب جمع ہوں گے تو وہ ایک دوسرے کو ان الفاظ سے پکاریں گے: اے مومن! اور اے کافر! [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8704]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف علي بن زيد» [ترقيم الرساله 8704] [ترقيم الشركة 8596] [ترقيم العلميه 8494]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8705
أخبرنا أبو عبد الله الصَّفّار، حدثنا محمد بن إبراهيم بن أُورْمَة، حدثنا الحسين بن حفص (1) ، حدثنا سفيان [عن سَلَمة بن كُهيل] (2) عن أبي الزَّعْراء، عن ابن مسعود قال: يأتي على الناس زمانٌ يُغبَطُ فيه الرجلُ بخِفَّة حالِه كما يُغبَطُ [اليومَ] (3) الرجلُ بالمال والولد، قال: فقال له رجل: أيُّ المال يومئذٍ خيرٌ؟ قال: سلاحٌ صالح، وفرسٌ صالح، يزول عنه أينَما زال (4) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8495 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا جس میں انسان کے حال کی قلت (اہل و عیال اور مال کی کمی) پر ویسے ہی رشک کیا جائے گا جیسے آج کثرتِ مال اور اولاد والے پر رشک کیا جاتا ہے۔ ایک شخص نے ان سے دریافت کیا: اس دور میں کون سا مال سب سے بہتر ہوگا؟ انہوں نے فرمایا: عمدہ اسلحہ اور بہترین گھوڑا، فتنہ جہاں بھی رخ کرے گا وہ (ان کے ذریعے) وہاں سے ہٹ جائے گا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8705]
تخریج الحدیث: «خبر جيد، وهذا إسناد محتمل للتحسين في المتابعات والشواهد إن شاء الله من أجل أبي الزعراء» [ترقيم الرساله 8705] [ترقيم الشركة 8597] [ترقيم العلميه 8495]

الحكم على الحديث: خبر جيد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں