🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. باب : التجافي في الركوع
باب: رکوع میں ہاتھ کو بغل سے جدا رکھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1039
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَالِمٍ الْبَرَّادِ، قال: قال أَبُو مَسْعُودٍ:" أَلَا أُرِيكُمْ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي قُلْنَا: بَلَى" فَقَامَ فَكَبَّرَ فَلَمَّا رَكَعَ جَافَى بَيْنَ إِبْطَيْهِ حَتَّى لَمَّا اسْتَقَرَّ كُلُّ شَيْءٍ مِنْهُ رَفَعَ رَأْسَهُ فَصَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ هَكَذَا وَقَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي".
ابوعبداللہ سالم براد کہتے ہیں کہ ابومسعود (عقبہ بن عمرو) رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ کیا میں تمہیں نہ دکھاؤں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے نماز پڑھتے تھے؟ تو ہم نے کہا: کیوں نہیں، ضرور دکھایئے، چنانچہ وہ کھڑے ہوئے، اور اللہ اکبر کہا، اور جب رکوع کیا تو اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے دونوں بغلوں سے جدا رکھا، یہاں تک کہ جب ان کی ہر چیز اپنی جگہ پر آ گئی تو انہوں نے اپنا سر اٹھایا، اسی طرح انہوں نے چار رکعتیں پڑھیں، اور کہا: میں نے اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے دیکھا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1039]
حضرت سالم براد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا میں تمہیں نہ دکھاؤں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے نماز پڑھتے تھے؟ ہم نے کہا: ہاں، ضرور۔ پس آپ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور «اللَّهُ أَكْبَرُ» کہا، پھر جب رکوع کیا تو اپنی بغلوں کو خوب کھولا حتیٰ کہ جب آپ رضی اللہ عنہ کا ہر عضو (اپنی جگہ پر) جم گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے اپنا سر اٹھایا، پھر چاروں رکعات اسی طرح پڑھیں اور فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح نماز پڑھتے دیکھا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1039]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1037 (صحیح لغیرہ)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 583
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُفَيْلٍ، قال: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عِيسَى، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، قال: حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، أَنَّ أَبَا الْخَيْرِ حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَا تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيَّ قَامَ لِيَرْكَعَ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ، فَقُلْتُ لِعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ: انْظُرْ إِلَى هَذَا، أَيَّ صَلَاةٍ يُصَلِّي؟ فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ فَرَآهُ، فَقَالَ:" هَذِهِ صَلَاةٌ كُنَّا نُصَلِّيهَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ابوالخیر کہتے ہیں کہ ابوتمیم جیشانی مغرب سے پہلے دو رکعت پڑھنے کے لیے کھڑے ہوئے، تو میں نے عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے کہا: انہیں دیکھئیے! یہ کون سی نماز پڑھ رہے ہیں؟ تو وہ ان کی طرف متوجہ ہوئے اور دیکھ کر بولے: یہ وہی نماز ہے جسے ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں پڑھا کرتے تھے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 583]
ابوالخیر سے روایت ہے کہ ابوتمیم جیشانی مغرب (کی نماز) سے پہلے دو رکعتیں پڑھنے کے لیے اٹھے۔ میں نے عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے کہا: انہیں دیکھیے یہ کون سی نماز پڑھ رہے ہیں؟ انہوں (عقبہ) نے ان کی طرف توجہ فرمائی تو انہیں (نماز پڑھتے) دیکھا تو انہوں نے فرمایا: ہم یہ نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک میں پڑھا کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 583]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/التھجد 35 (1184) نحوہ، (تحفة الأشراف: 9961)، مسند احمد 4/ 155 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مغرب سے پہلے دو رکعت پڑھنا جائز ہی نہیں بلکہ مستحب ہے، صحیح بخاری (کے مذکورہ باب) میں عبداللہ مزنی رضی اللہ عنہ کی روایت میں تو «صلوا قبل المغرب» حکم کے صیغے کے ساتھ وارد ہے، یعنی مغرب سے پہلے (نفل) پڑھو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 878
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قال: أَخْبَرَنِي سَالِمٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قال:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى تَكُونَا حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، ثُمَّ يُكَبِّرُ قَالَ وَكَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ حِينَ يُكَبِّرُ لِلرُّكُوعِ وَيَفْعَلُ ذَلِكَ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ وَيَقُولُ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ وَلَا يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي السُّجُودِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اپنے دونوں ہاتھ یہاں تک اٹھاتے کہ وہ آپ کے دونوں مونڈھوں کے بالمقابل ہو جاتے، پھر اللہ اکبر کہتے، اور جب رکوع کے لیے اللہ اکبر کہتے تو بھی ایسا ہی کرتے، اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو بھی ایسا ہی کرتے، اور «سمع اللہ لمن حمده‏» کہتے، اور سجدہ کرتے وقت ایسا نہیں کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 878]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، جب آپ نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے حتیٰ کہ وہ آپ کے کندھوں کے برابر ہو جاتے، پھر «اَللّٰهُ أَكْبَرُ» کہتے۔ انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فعل اس وقت بھی کرتے جب رکوع کی تکبیر کہتے، اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو پھر یہی کرتے اور فرماتے: «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهٗ» اور سجدے میں ایسا نہیں کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 878]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 84 (736)، صحیح مسلم/الصلاة 9 (390)، (تحفة الأشراف: 6979) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 880
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، قال: صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَلَمَّا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى حَاذَتَا أُذُنَيْهِ، ثُمَّ يَقْرَأُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْهَا قَالَ: آمِينَ يَرْفَعُ بِهَا صَوْتَهُ".
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی، جب آپ نے نماز شروع کی تو اللہ اکبر کہا، اپنے دونوں ہاتھ یہاں تک اٹھائے کہ انہیں اپنے کانوں کے بالمقابل کیا، پھر سورۃ فاتحہ پڑھنے لگے، جب اس سے فارغ ہوئے تو بآواز بلند آمین کہی اے اللہ اسے قبول فرما ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 880]
حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز شروع فرمائی تو «اللّٰهُ أَكْبَرُ» اللہ اکبر کہا اور اپنے ہاتھ اٹھائے حتیٰ کہ وہ کانوں کے برابر ہو گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۂ فاتحہ پڑھی۔ جب سورت سے فارغ ہوئے تو بلند آواز سے «آمِيْن» آمین کہی۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 880]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 11763)، مسند احمد 4/318، سنن الدارمی/الصلاة 35 (1277)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 116 (724) (بدون ذکر آمین)، سنن ابن ماجہ/إقامة 14 (855)، (بدون ذکر رفع الیدین)، مسند احمد 4/315 (بدون ذکر رفع الیدین)، 316 (بدون ذکر آمین) 318 (بتمامہ)، وانظر حدیث وائل من غیر طریق عبدالجبار عن أبیہ عند: صحیح مسلم/الصلاة 15 (401)، سنن ابی داود/الصلاة 116 (723)، سنن ابن ماجہ/إقامة 15 (867)، مسند احمد 4/316، 317، 318، 319 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: بعض روایتوں میں «یرفع بہا صوتہ» کے بجائے «یخفض بہا صوتہ» ہے، لیکن محدثین اسے وہم قرار دیتے ہیں، گو بعض فقہاء نے اسی کو ترجیح دی ہے لیکن محدثین کے مقابلہ میں فقہاء کی ترجیح کی کوئی حیثیت نہیں، اور جو یہ کہا جا رہا ہے کہ عبدالجبار بن وائل کا سماع ان کے والد وائل رضی اللہ عنہ سے ثابت نہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ روایت عبدالجبار کے علاوہ دوسرے طریق سے بھی مروی ہے، اور صحیح ہے، (دیکھئیے تخریج)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 881
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قال: سَمِعْتُ نَصْرَ بْنَ عَاصِمٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ إِذَا صَلَّى رَفَعَ يَدَيْهِ حِينَ يُكَبِّرُ حِيَالَ أُذُنَيْهِ وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ".
مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے (اور یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے تھے) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز پڑھتے تو جس وقت آپ اللہ اکبر کہتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے کانوں کے بالمقابل اٹھاتے، اور جب رکوع کرنے اور رکوع سے اپنا سر اٹھانے کا ارادہ کرتے (تب بھی اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں کانوں کے بالمقابل اٹھاتے)۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 881]
حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ہیں، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز پڑھتے تو تکبیرِ تحریمہ کے وقت اپنے دونوں ہاتھ کانوں تک اٹھاتے اور جب رکوع میں جانے کا ارادہ فرماتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے (تو بھی رفع الیدین کرتے)۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 881]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الصلاة 9 (391)، سنن ابی داود/الصلاة 118 (745)، سنن ابن ماجہ/إقامة 15 (859)، (تحفة الأشراف: 11184)، مسند احمد 3/436، 437، 5/53، سنن الدارمی/الصلاة 41 (1286)، ویأتی عند المؤلف بأرقام: 1025، 1057، 1086، 1087، 1088، 1144 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 882
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، قال:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ رَفَعَ يَدَيْهِ وَحِينَ رَكَعَ وَحِينَ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ حَتَّى حَاذَتَا فُرُوعَ أُذُنَيْهِ".
مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جس وقت آپ نماز میں داخل ہوئے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے، اور جس وقت آپ نے رکوع کیا اور جس وقت رکوع سے اپنا سر اٹھایا (تو بھی انہیں آپ نے اٹھایا) یہاں تک کہ وہ دونوں آپ کی کانوں کی لو کے بالمقابل ہو گئے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 882]
حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ جب نماز میں داخل ہوتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے، اور جب رکوع کرتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے، اس وقت بھی (ہاتھ اٹھاتے) حتیٰ کہ وہ کانوں کے کناروں کے برابر ہو جاتے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 882]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مالک بن حویرث اور وائل بن حجر رضی اللہ عنہم دونوں ان صحابہ میں سے ہیں جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری عمر میں آپ کے ساتھ نماز پڑھی ہے، اس لیے ان دونوں کا اسے روایت کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ رفع یدین کے منسوخ ہونے کا دعویٰ باطل ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 883
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، قال: حَدَّثَنَا فِطْرُ بْنُ خَلِيفَةَ، عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى تَكَادَ إِبْهَامَاهُ تُحَاذِي شَحْمَةَ أُذُنَيْهِ".
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو یہاں تک اٹھاتے کہ آپ کے دونوں انگوٹھے آپ کے کانوں کی لو کے بالمقابل ہو جاتے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 883]
حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز شروع فرمائی تو اپنے ہاتھ اٹھائے حتیٰ کہ قریب تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے انگوٹھے کانوں کی لوؤں (نچلے کنارے) کے برابر ہو جاتے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 883]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 117 (737)، (تحفة الأشراف: 11759)، مسند احمد 4/316 (ضعیف الإسناد) (لیکن شواہد اور متابعات سے تقویت پاکر روایت صحیح ہے، دیکھئے رقم: 880 کی تخریج)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (737) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 327

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 884
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، قال: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سَمْعَانَ، قال: جَاءَ أَبُو هُرَيْرَةَ إِلَى مَسْجِدِ بَنِي زُرَيْقٍ فَقَالَ:" ثَلَاثٌ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْمَلُ بِهِنَّ تَرَكَهُنَّ النَّاسُ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي الصَّلَاةِ مَدًّا وَيَسْكُتُ هُنَيْهَةً وَيُكَبِّرُ إِذَا سَجَدَ وَإِذَا رَفَعَ".
سعید بن سمعان کہتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ قبیلہ زریق کی مسجد میں آئے، اور کہنے لگے: تین کام ایسے ہیں جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کرتے تھے اور لوگوں نے انہیں چھوڑ دیا ہے ۱؎، آپ نماز میں اپنے دونوں ہاتھ بڑھا کر اٹھاتے تھے، اور تھوڑی دیر چپ رہتے تھے ۲؎ اور جب سجدہ کرتے اور سجدہ سے سر اٹھاتے تو اللہ اکبر کہتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 884]
حضرت سعید بن سمعان سے روایت ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مسجد بنی زریق کی طرف آئے اور کہنے لگے: تین چیزیں ایسی ہیں جن پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عمل کرتے تھے لیکن لوگوں نے انہیں چھوڑ دیا ہے: آپ نماز میں اچھی طرح ہاتھ اٹھا کر رفع الیدین کرتے تھے، آپ کچھ دیر خاموش رہا کرتے تھے اور آپ جب سجدہ کرتے یا سر اٹھاتے تو «اللهُ أَكْبَرُ» اللہ سب سے بڑا ہے کہتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 884]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 119 (753) مختصراً، سنن الترمذی/فیہ 63 (240) مختصراً، (تحفة الأشراف: 13081)، مسند احمد 2/375، 434، 500، سنن الدارمی/الصلاة 32 (1273) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ روایت اس بات کی دلیل ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہی کے وقت میں بعض سنتوں پر لوگوں نے عمل کرنا چھوڑ دیا تھا۔ ۲؎: یعنی تکبیر تحریمہ کے بعد، جیسا کہ حدیث رقم (۸۹۶) میں جو آ رہی ہے صراحت ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 885
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قال: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، قال: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَدَخَلَ رَجُلٌ فَصَلَّى، ثُمَّ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَدَّ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ:" ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ" فَرَجَعَ فَصَلَّى كَمَا صَلَّى، ثُمَّ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَقَالَ لَهُ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَعَلَيْكَ السَّلَامُ ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ" فَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَقَالَ الرَّجُلُ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أُحْسِنُ غَيْرَ هَذَا فَعَلِّمْنِي قَالَ:" إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلَاةِ فَكَبِّرْ ثُمَّ اقْرَأْ مَا تَيَسَّرَ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ ثُمَّ ارْكَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَعْتَدِلَ قَائِمًا ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ جَالِسًا ثُمَّ افْعَلْ ذَلِكَ فِي صَلَاتِكَ كُلِّهَا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے، اور ایک اور شخص داخل ہوا، اس نے آ کر نماز پڑھی، پھر وہ آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سلام کا جواب دیا، اور فرمایا: واپس جاؤ اور پھر سے نماز پڑھو، کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی تو وہ لوٹ گئے اور جا کر پھر سے نماز پڑھی جس طرح پہلی بار پڑھی تھی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کو سلام کئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے (پھر) فرمایا: وعلیک السلام، واپس جاؤ اور پھر سے نماز پڑھو، کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی، ایسا انہوں نے تین مرتبہ کیا، پھر عرض کیا: اس ذات کی قسم جس نے حق کے ساتھ آپ کو مبعوث فرمایا ہے، میں اس سے بہتر نماز نہیں پڑھ سکتا، آپ مجھے (نماز پڑھنا) سکھا دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب آپ نماز کے لیے کھڑے ہوں تو اللہ اکبر کہیں ۱؎ پھر قرآن میں سے جو آسان ہو پڑھو، پھر رکوع کرو یہاں تک کہ رکوع کی حالت میں آپ کو اطمینان ہو جائے، پھر رکوع سے سر اٹھاؤ یہاں تک کہ اطمینان سے سیدھے کھڑے ہو جاؤ، پھر سجدہ کرو یہاں تک کہ اطمینان سے سجدہ کر لو، پھر سجدہ سے سر اٹھاؤ یہاں تک کہ اطمینان سے بیٹھ جاؤ پھر اسی طرح اپنی پوری نماز میں کرو ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 885]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لائے تو ایک اور آدمی بھی آیا اور اس نے نماز پڑھی۔ پھر وہ آیا اور اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جواب دیا اور فرمایا: واپس جا، پھر نماز پڑھ، تو نے نماز نہیں پڑھی۔ وہ واپس گیا۔ دوبارہ نماز پڑھی جیسے پہلے پڑھی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور سلام کیا۔ آپ نے فرمایا: «وَعَلَيْكَ السَّلَامُ» اور تم پر بھی سلامتی ہو۔ واپس جا، پھر نماز پڑھ، تو نے نماز نہیں پڑھی۔ اس آدمی نے تین دفعہ ایسے ہی کیا۔ آخر اس آدمی نے کہا: قسم اس ذات کی جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے! میں اس سے اچھی نہیں پڑھ سکتا، لہٰذا آپ مجھے سکھا دیجیے۔ آپ نے فرمایا: جب تو نماز کے لیے کھڑا ہو تو (سب سے پہلے) «اللّٰهُ أَكْبَرُ» اللہ اکبر کہو۔ پھر جس قدر تو قرآن پڑھ سکے، پڑھ۔ پھر رکوع کر حتیٰ کہ تجھے رکوع میں اطمینان نصیب ہو۔ پھر سر اٹھا حتیٰ کہ سیدھا کھڑا ہو جائے۔ پھر سجدہ کر حتیٰ کہ سجدے میں تجھے اطمینان حاصل ہو۔ پھر سر اٹھا حتیٰ کہ تو اطمینان سے بیٹھ جائے۔ پھر اپنی ساری نماز میں اسی طرح کر۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 885]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 95 (757)، 122 (793)، الإستئذان 18 (6252)، الأیمان والنذور 15 (6667)، صحیح مسلم/الصلاة 11 (397)، سنن ابی داود/الصلاة 148 (856)، سنن الترمذی/الصلاة 111 (303)، وقد أخرجہ: (تحفة الأشراف: 14304)، مسند احمد 2/437 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس سے مؤلف نے تکبیر تحریمہ کی فرضیت پر استدلال کی۔ ۲؎: اس سے تعدیل ارکان کی فرضیت ثابت ہوتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 888
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُمَيْرٍ الْعَنْبَرِيِّ، وَقَيْسِ بْنِ سُلَيْمٍ الْعَنْبَرِيِّ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَلْقَمَةُ بْنُ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، قال: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا كَانَ قَائِمًا فِي الصَّلَاةِ قَبَضَ بِيَمِينِهِ عَلَى شِمَالِهِ".
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ نماز میں کھڑے ہوتے تو اپنے داہنے ہاتھ سے اپنا بایاں ہاتھ پکڑتے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 888]
حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، جب آپ نماز میں کھڑے ہوتے تو اپنے دائیں ہاتھ کو بائیں پر رکھ کر اسے پکڑتے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 888]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «وقد أخرجہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 11778)، مسند احمد 4/316، 318 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 890
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ زَائِدَةَ، قال: حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ قال: حَدَّثَنِي أَبِي، أَنَّ وَائِلَ بْنَ حُجْرٍ أَخْبَرَهُ، قال:" قُلْتُ لَأَنْظُرَنَّ إِلَى صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ يُصَلِّي فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ فَقَامَ فَكَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى حَاذَتَا بِأُذُنَيْهِ، ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى كَفِّهِ الْيُسْرَى وَالرُّسْغِ وَالسَّاعِدِ فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ رَفَعَ يَدَيْهِ مِثْلَهَا قَالَ: وَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ ثُمَّ لَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ رَفَعَ يَدَيْهِ مِثْلَهَا، ثُمَّ سَجَدَ فَجَعَلَ كَفَّيْهِ بِحِذَاءِ أُذُنَيْهِ، ثُمَّ قَعَدَ وَافْتَرَشَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَوَضَعَ كَفَّهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ وَرُكْبَتِهِ الْيُسْرَى وَجَعَلَ حَدَّ مِرْفَقِهِ الْأَيْمَنِ عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى، ثُمَّ قَبَضَ اثْنَتَيْنِ مِنْ أَصَابِعِهِ وَحَلَّقَ حَلْقَةً، ثُمَّ رَفَعَ إِصْبَعَهُ فَرَأَيْتُهُ يُحَرِّكُهَا يَدْعُو بِهَا".
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے (اپنے جی میں) کہا کہ میں یہ ضرور دیکھوں گا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کیسے پڑھتے ہیں ؛ چنانچہ میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ کھڑے ہوئے تو اللہ اکبر کہا، اور اپنے دونوں ہاتھ یہاں تک اٹھائے کہ انہیں اپنے کانوں کے بالمقابل لے گئے، پھر آپ نے اپنا داہنا ہاتھ اپنی بائیں ہتھیلی (کی پشت)، کلائی اور بازو پر رکھا ۱؎، پھر جب رکوع کرنے کا ارادہ کیا تو پھر اسی طرح اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھا، پھر جب آپ نے رکوع سے اپنا سر اٹھایا تو پھر اسی طرح اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھایا، پھر آپ نے سجدہ کیا، اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کو اپنے دونوں کانوں کے بالمقابل رکھا، پھر آپ نے قعدہ کیا، اور اپنے بائیں پیر کو بچھا لیا، اور اپنی بائیں ہتھیلی کو اپنی بائیں ران اور گھٹنے پر رکھا، اور اپنی داہنی کہنی کا سرا اپنی داہنی ران کے اوپر اٹھائے رکھا، پھر آپ نے اپنی انگلیوں میں سے دو کو بند ۲؎ کر لیا، اور (بیچ کی انگلی اور انگوٹھے سے) حلقہ (دائرہ) بنا لیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی شہادت کی انگلی اٹھائی، تو میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ اسے حرکت دے رہے تھے اور اس سے دعا کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 890]
حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (ایک دفعہ) میں نے (اپنے دل میں) کہا: میں ضرور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کو غور سے دیکھوں گا کہ آپ کیسے نماز پڑھتے ہیں؟ چنانچہ میں نے (توجہ سے) آپ کی طرف دیکھا۔ آپ کھڑے ہوئے، «اَللّٰهُ أَكْبَرُ» اللہ سب سے بڑا ہے کہا اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے حتیٰ کہ وہ آپ کے کانوں کے برابر ہو گئے۔ پھر آپ نے اپنا دایاں ہاتھ اپنے بائیں ہاتھ کی ہتھیلی، جوڑ اور کلائی پر رکھا۔ پھر جب آپ نے رکوع کرنے کا ارادہ فرمایا تو آپ نے اسی (پہلے رفع الیدین کی) طرح ہاتھ اٹھائے اور آپ نے اپنے ہاتھ اپنے گھٹنوں پر رکھے۔ پھر جب آپ نے اپنا سر اٹھایا تو اسی طرح رفع الیدین کیا۔ پھر سجدہ کیا تو اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے کانوں کے برابر رکھا۔ پھر بیٹھے اور اپنا بایاں پاؤں بچھایا اور اپنی بائیں ہتھیلی اپنی بائیں ران اور گھٹنے پر رکھی اور اپنی دائیں کہنی کا کنارہ اپنی دائیں ران پر رکھا۔ پھر ہاتھ کی دو انگلیاں بند کیں اور (درمیانی انگلی اور انگوٹھے سے) حلقہ بنایا۔ پھر اپنی (تشہد کی) انگلی کو اٹھایا، چنانچہ میں نے دیکھا، آپ اسے حرکت دیتے تھے، اس کے ساتھ دعا کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 890]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 116 (726)، 180 (957)، سنن ابن ماجہ/إقامة 15 (868)، (تحفة الأشراف: 11781)، مسند احمد 4/316، 317، 318، 319، ویأتی عند المؤلف بأرقام: 1103، 1264، 1266، 1269 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ داہنے ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھنا مسنون ہے، اور حدیث رقم (۸۸۸) میں داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ کے پکڑنے کا ذکر ہے یہ دونوں طریقے مسنون ہیں، بعض لوگوں نے جو یہ صورت ذکر کی ہے کہ دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھے، اور اپنے انگوٹھے اور چھوٹی انگلی سے بائیں ہاتھ کی کلائی پکڑے تو یہ بدعت ہے، اس کا ثبوت نہیں، رہا یہ سوال کہ دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھ کر دونوں ہاتھ کہاں رکھے تو اس کا جواب یہ ہے کہ اسے اپنے سینے پر رکھے، کیونکہ ہاتھوں کا سینے پر ہی رکھنا ثابت ہے، اس کے خلاف جو بھی روایت ہے یا تو وہ ضعیف ہے یا تو پھر اس کی کوئی حقیقت ہی نہیں۔ ۲؎: یعنی خنصر اور بنصر کو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 906
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، عَنْ شُعَيْبٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ نُعَيْمٍ الْمُجْمِرِ قال: صَلَّيْتُ وَرَاءَ أَبِي هُرَيْرَةَ فَقَرَأَ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سورة الفاتحة آية 1، ثُمَّ قَرَأَ بِأُمِّ الْقُرْآنِ حَتَّى إِذَا بَلَغَ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 7 فَقَالَ: آمِينَ فَقَالَ النَّاسُ: آمِينَ وَيَقُولُ" كُلَّمَا سَجَدَ اللَّهُ أَكْبَرُ وَإِذَا قَامَ مِنَ الْجُلُوسِ فِي الِاثْنَتَيْنِ قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ وَإِذَا سَلَّمَ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لَأَشْبَهُكُمْ صَلَاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
نعیم المجمر کہتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی، تو انہوں نے «بسم اللہ الرحمن الرحيم» کہا، پھر سورۃ فاتحہ پڑھی، اور جب «غير المغضوب عليهم ولا الضالين» پر پہنچے آمین کہی، لوگوں نے بھی آمین کہی ۱؎، اور جب جب وہ سجدہ کرتے تو اللہ اکبر کہتے، اور جب دوسری رکعت میں بیٹھنے کے بعد کھڑے ہوئے تو اللہ اکبر کہا، اور جب سلام پھیرا تو کہا: اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں تم میں نماز کے اعتبار سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے زیادہ مشابہ ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 906]
حضرت نعیم مجمر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی تو انہوں نے «بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ» اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان، نہایت رحم والا ہے پڑھی، پھر سورہ فاتحہ پڑھی حتیٰ کہ جب ﴿غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ﴾ [سورة الفاتحة: 7] پر پہنچے تو «آمِيْن» اے اللہ! قبول فرما کہی۔ لوگوں نے بھی «آمِيْن» کہی۔ اور جب وہ سجدہ کو جاتے تو «اللّٰهُ أَكْبَرُ» اللہ سب سے بڑا ہے کہتے اور جب دو رکعتیں پڑھ کر بیٹھ کر اٹھتے تو «اللّٰهُ أَكْبَرُ» اللہ سب سے بڑا ہے کہتے۔ جب انہوں نے سلام پھیرا تو فرمایا: قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں تم سب سے بڑھ کر نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشابہ ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 906]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 14646)، مسند احمد 2/497 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ امام و مقتدی دونوں بلند آواز سے آمین کہیں گے، ایک روایت میں صراحت سے اس کا حکم آیا کہ جب امام آمین کہے تو تم بھی آمین کہو، کیونکہ جس کی آمین فرشتوں کی آمین سے مل جائے گی تو اس کے سارے گزشتہ گناہ معاف کر دیئے جائیں گے، اس سے امام کے آمین نہ کہنے پر امام مالک کا استدلال باطل ہو جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1024
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حِينَ اسْتَخْلَفَهُ مَرْوَانُ عَلَى الْمَدِينَةِ:" كَانَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ كَبَّرَ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْكَعُ فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَهْوِي سَاجِدًا ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ مِنَ الثِّنْتَيْنِ بَعْدَ التَّشَهُّدِ يَفْعَلُ مِثْلَ ذَلِكَ حَتَّى يَقْضِيَ صَلَاتَهُ فَإِذَا قَضَى صَلَاتَهُ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ عَلَى أَهْلِ الْمَسْجِدِ فَقَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لَأَشْبَهُكُمْ صَلَاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ جس وقت مروان نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو مدینہ میں اپنا نائب مقرر کیا تھا، وہ فرض نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اللہ اکبر کہتے، پھر جب وہ رکوع کرتے تو اللہ اکبر کہتے، اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو «سمع اللہ لمن حمده»، «ربنا ولك الحمد» کہتے، پھر جب سجدہ کے لیے جھکتے تو اللہ اکبر کہتے، پھر جب تشہد کے بعد دوسری رکعت سے اٹھتے تو اللہ اکبر کہتے، (ہر رکعت میں) اسی طرح کرتے یہاں تک کہ اپنی نماز پوری کر لیتے، (ایک بار) جب انہوں نے اپنی نماز پوری کر لی اور سلام پھیرا تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے، اور کہنے لگے: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں تم میں سب سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سے مشابہت رکھتا ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1024]
حضرت ابوسلمہ بن عبدالرحمن رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جب مروان (گورنر مدینہ) نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو مدینے پر (عارضی طور پر) اپنا نائب مقرر کیا تو جب وہ (حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ) فرض نماز شروع فرماتے تو «اللهُ أَكْبَرُ» اللہ اکبر کہتے۔ پھر جب رکوع کرتے تو «اللهُ أَكْبَرُ» اللہ اکبر کہتے۔ پھر جب رکوع سے سر اٹھاتے تو «سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» اللہ نے اس کی پکار سن لی جس نے اس کی تعریف کی کہتے۔ پھر جب سجدے کو جاتے تو «اللهُ أَكْبَرُ» اللہ اکبر کہتے۔ پھر جب درمیانی تشہد کے بعد دو رکعتوں سے اٹھتے تو پھر «اللهُ أَكْبَرُ» اللہ اکبر کہتے اور پھر نماز کے اختتام تک ایسے ہی کرتے۔ جب نماز سے فارغ ہوتے تو نمازیوں کی طرف متوجہ ہوتے اور فرماتے: قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں اپنی نماز میں تم سب سے بڑھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشابہ ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1024]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الصلاة 10 (392)، (تحفة الأشراف: 15326)، موطا امام مالک/الصلاة 4 (19)، مسند احمد 2/236، 270، 300، 319، 452، 497، 502، 527، 533، سنن الدارمی/الصلاة 40 (1283) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1025
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ اللَّيْثِيِّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، قال:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا كَبَّرَ وَإِذَا رَكَعَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ حَتَّى بَلَغَتَا فُرُوعَ أُذُنَيْهِ".
مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ اللہ اکبر کہتے، اور جب رکوع کرتے، اور جب رکوع سے سر اٹھاتے، تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے یہاں تک کہ آپ کے دونوں ہاتھ آپ کی کانوں کی لو تک پہنچ جاتے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1025]
حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ جب تکبیرِ تحریمہ کہتے اور جب رکوع کو جاتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے حتیٰ کہ وہ کانوں کے کناروں کے برابر ہو جاتے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1025]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 881 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1026
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قال: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ مَنْكِبَيْهِ وَإِذَا رَكَعَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے، یہاں تک کہ آپ انہیں اپنے مونڈھوں کے بالمقابل لے جاتے ۱؎، اور جب رکوع کرتے، اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو بھی ایسا ہی کرتے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1026]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا جب آپ نماز شروع فرماتے اور جب رکوع کو جاتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے حتیٰ کہ انہیں کندھوں کے برابر کرتے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1026]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصلاة 9 (390)، سنن ابی داود/الصلاة 116 (721)، سنن الترمذی/الصلاة 76 (255)، سنن ابن ماجہ/إقامة 15 (858)، (تحفة الأشراف: 6816)، موطا امام مالک/الصلاة 4 (16)، ویأتي عند المؤلف برقم: 1145 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ان دونوں روایتوں سے پتہ چلتا ہے کہ اس میں توسّع ہے کہ کبھی آپ دونوں ہاتھ کانوں کے اطراف تک اٹھاتے اور کبھی مونڈھوں کے بالمقابل لے جاتے، اور بعض نے دونوں میں تطبیق اس طرح سے دی ہے کہ ہاتھوں کی ہتھیلیاں تو مونڈھوں کے بالمقابل رکھتے، اور انگلیوں کے سرے کانوں کے بالمقابل رکھتے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1037
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ فِي حَدِيثِهِ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَالِمٍ، قال: أَتَيْنَا أَبَا مَسْعُودٍ فَقُلْنَا لَهُ: حَدِّثْنَا عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَقَامَ بَيْنَ أَيْدِينَا وَكَبَّرَ فَلَمَّا رَكَعَ وَضَعَ رَاحَتَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ وَجَعَلَ أَصَابِعَهُ أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ وَجَافَى بِمِرْفَقَيْهِ حَتَّى اسْتَوَى كُلُّ شَيْءٍ مِنْهُ، ثُمَّ قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقَامَ حَتَّى اسْتَوَى كُلُّ شَيْءٍ مِنْهُ".
سالم البراد کہتے ہیں کہ ہم ابومسعود (عقبہ بن عمرو) کے پاس آئے تو ہم نے ان سے کہا: آپ ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں بیان کیجئے تو وہ ہمارے سامنے کھڑے ہوئے، اور اللہ اکبر کہا، اور جب انہوں نے رکوع کیا تو اپنی ہتھیلیوں کو اپنے دونوں گھٹنوں پہ رکھا، اور انگلیوں کو اس سے نیچے، اور اپنی دونوں کہنیوں کو پہلو سے جدا رکھا یہاں تک کہ ان کی ہر چیز سیدھی ہو گئی، پھر انہوں نے «سمع اللہ لمن حمدہ» کہا، اور کھڑے ہو گئے یہاں تک کہ ان کی ہر چیز سیدھی ہو گئی۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1037]
حضرت سالم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور ان سے گزارش کی کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز بیان کیجیے۔ آپ ہمارے آگے کھڑے ہو گئے اور «اللَّهُ أَكْبَرُ» اللہ سب سے بڑا ہے کہا۔ جب آپ نے رکوع کیا تو اپنی ہتھیلیاں اپنے گھٹنوں پر رکھیں اور انگلیاں اس سے نیچے رکھیں اور اپنی کہنیوں کو پہلوؤں سے دور رکھا حتیٰ کہ آپ کا ہر عضو سیدھا اور درست ہو گیا۔ پھر «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی کہا اور کھڑے ہو گئے حتیٰ کہ آپ کا ہر عضو سیدھا اور درست ہو گیا۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1037]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 148 (863) مطولاً، (تحفة الأشراف: 9985)، مسند احمد 4/119، 120 و 5/274، سنن الدارمی/الصلاة 68 (1343) (صحیح) (متابعات اور شواہد سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح ہے، مگر ’’انگلیوں والا‘‘ ٹکڑا صحیح نہیں ہے، کیوں کہ اس کے راوی ’’عطاء بن السائب‘‘ مختلط راوی ہیں، اور ’’ابو الاحوص‘‘ یا زائدہ یا ابن علیہ (جو اگلی روایتوں میں ان کے راوی ہیں) ان سے اختلاط کے بعد روایت کرنے والے ہیں، اور انگلیوں والے ٹکڑے میں ان کا کوئی متابع نہیں پایا جاتا)»
قال الشيخ الألباني: صحيح إلا جملة الأصابع
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1038
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّهَاوِيُّ، قال: حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو، قال: أَلَا أُصَلِّي لَكُمْ كَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي، فَقُلْنَا: بَلَى" فَقَامَ فَلَمَّا رَكَعَ وَضَعَ رَاحَتَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ وَجَعَلَ أَصَابِعَهُ مِنْ وَرَاءِ رُكْبَتَيْهِ وَجَافَى إِبْطَيْهِ حَتَّى اسْتَقَرَّ كُلُّ شَيْءٍ مِنْهُ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَامَ حَتَّى اسْتَوَى كُلُّ شَيْءٍ مِنْهُ، ثُمَّ سَجَدَ فَجَافَى إِبْطَيْهِ حَتَّى اسْتَقَرَّ كُلُّ شَيْءٍ مِنْهُ، ثُمَّ قَعَدَ حَتَّى اسْتَقَرَّ كُلُّ شَيْءٍ مِنْهُ، ثُمَّ سَجَدَ حَتَّى اسْتَقَرَّ كُلُّ شَيْءٍ مِنْهُ، ثُمَّ صَنَعَ كَذَلِكَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَهَكَذَا كَانَ يُصَلِّي بِنَا".
ابوعبداللہ سالم بن البرد سے روایت ہے کہ عقبہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کیا میں تمہارے سامنے ایسی نماز نہ پڑھوں جیسی میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھتے دیکھا ہے؟ تو ہم نے کہا: کیوں نہیں! ضرور پڑھیئے، تو وہ کھڑے ہوئے، جب انہوں نے رکوع کیا تو اپنی ہتھیلیوں کو اپنے دونوں گھٹنوں پہ، اور اپنی انگلیوں کو گھٹنوں کے نیچے رکھا، اور اپنے بغلوں کو جدا رکھا یہاں تک کہ ان کی ہر چیز اپنی جگہ پر آ گئی، پھر انہوں نے اپنا سر اٹھایا اور کھڑے ہو گئے، پھر سجدہ کیا اور اپنے بغلوں کو جدا رکھا یہاں تک ان کی ہر چیز اپنی جگہ جم گئی، پھر وہ بیٹھے یہاں تک کہ جسم کا ہر عضو اپنی جگہ پر آ گیا، پھر انہوں نے سجدہ کیا یہاں تک کہ جسم کا ہر ہر عضو اپنی جگہ پر آ گیا، چاروں رکعتیں اسی طرح ادا کیں، پھر انہوں نے کہا: میں نے اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے دیکھا ہے، اور آپ ہمیں اسی طرح پڑھاتے بھی تھے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1038]
حضرت سالم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت عقبہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا میں تمہارے سامنے اس طرح نماز نہ پڑھوں جس طرح میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھتے دیکھا ہے؟ ہم نے کہا: کیوں نہیں! آپ کھڑے ہوئے۔ جب رکوع کیا تو اپنی ہتھیلیاں اپنے گھٹنوں پر رکھیں اور اپنی انگلیوں کو گھٹنوں سے نیچے رکھا اور اپنی بغلوں کو کھولا (بازوؤں کو پہلو سے دور رکھا) حتیٰ کہ آپ کا ہر عضو سیدھا ہو گیا۔ پھر آپ نے سجدہ کیا اور اپنی بغلوں کو کھولا (بازوؤں کو پہلو سے دور رکھا) حتیٰ کہ آپ کا ہر عضو (اپنی جگہ پر) ٹھہر گیا۔ پھر بیٹھے حتیٰ کہ آپ کا ہر عضو (اپنی جگہ پر) ٹھہر گیا۔ پھر سجدہ کیا حتیٰ کہ ہر عضو (اپنی جگہ پر) ٹھہر گیا۔ پھر آپ نے چاروں رکعات میں اسی طرح کیا۔ پھر فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح نماز پڑھتے دیکھا ہے اور آپ ہمیں اسی طرح نماز پڑھاتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1038]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح) (مگر انگلیوں والا ٹکڑا صحیح نہیں ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح إلا جملة الأصابع
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1040
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، قال: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، قال:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَكَعَ اعْتَدَلَ فَلَمْ يَنْصِبْ رَأْسَهُ وَلَمْ يُقْنِعْهُ وَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ".
ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع کرتے تو پیٹھ اور سر کو برابر رکھتے، نہ تو سر کو بہت اونچا رکھتے اور نہ اسے جھکا کر رکھتے، اور اپنے ہاتھوں کو اپنے دونوں گھٹنوں پہ رکھتے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1040]
حضرت ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع فرماتے تو میانہ روی اختیار فرماتے، یعنی نہ تو اپنا سر بہت نیچے جھکاتے اور نہ اسے اوپر اٹھاتے (بلکہ پشت کے برابر رکھتے)۔ اور آپ اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھتے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1040]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 145 (828) مطولاً، سنن ابی داود/الصلاة 117 (730، 731، 732)، 181 (963، 964، 965)، سنن الترمذی/الصلاة 111 (304، 305) مطولاً، سنن ابن ماجہ/الإقامة 15 (862)، 72 (1061) مطولاً، (تحفة الأشراف: 11897)، مسند احمد 5/424، سنن الدارمی/الصلاة 70 (1346)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 1102، 1182، 1263 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح، صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1054
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى الزُّرَقِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمِّهِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ وَكَانَ بَدْرِيًّا، قال: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ دَخَلَ رَجُلٌ الْمَسْجِدَ فَصَلَّى وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمُقُهُ وَلَا يَشْعُرُ، ثُمَّ انْصَرَفَ فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَرَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ، ثُمَّ قَالَ:" ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ" قَالَ: لَا أَدْرِي فِي الثَّانِيَةِ أَوْ فِي الثَّالِثَةِ قَالَ: وَالَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ لَقَدْ جَهِدْتُ فَعَلِّمْنِي وَأَرِنِي قَالَ:" إِذَا أَرَدْتَ الصَّلَاةَ فَتَوَضَّأْ فَأَحْسِنِ الْوُضُوءَ، ثُمَّ قُمْ فَاسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ، ثُمَّ كَبِّرْ، ثُمَّ اقْرَأْ، ثُمَّ ارْكَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَعْتَدِلَ قَائِمًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ ارْفَعْ رَأْسَكَ حَتَّى تَطْمَئِنَّ قَاعِدًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا فَإِذَا صَنَعْتَ ذَلِكَ فَقَدْ قَضَيْتَ صَلَاتَكَ وَمَا انْتَقَصْتَ مِنْ ذَلِكَ فَإِنَّمَا تَنْقُصُهُ مِنْ صَلَاتِكَ".
رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ ایک شخص مسجد میں داخل ہوا، اور اس نے نماز پڑھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے دیکھ رہے تھے لیکن وہ جان نہیں رہا تھا، وہ نماز سے فارغ ہوا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور آپ کو سلام کیا، تو آپ نے سلام کا جواب دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ تم پھر سے نماز پڑھو کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی، میں نہیں جان سکا کہ اس نے دوسری بار میں یا تیسری بار میں کہا کہ قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ پر قرآن نازل کیا ہے، میں اپنی کوشش کر چکا، آپ مجھے نماز پڑھنا سکھا دیں، اور پڑھ کر دکھا دیں کہ کیسے پڑھوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم نماز کا ارادہ کرو تو وضو کرو اور اچھی طرح وضو کرو، پھر قبلہ رخ کھڑے ہو، پھر اللہ اکبر کہو، پھر قرأت کرو، پھر رکوع کرو یہاں تک کہ تم رکوع کی حالت میں مطمئن ہو جاؤ، پھر اٹھو یہاں تک کہ سیدھے کھڑے ہو جاؤ، پھر سجدہ کرو یہاں تک کہ سجدہ کی حالت میں مطمئن ہو جاؤ، پھر اپنا سر اٹھاؤ یہاں تک کہ اطمینان سے بیٹھ جاؤ، پھر سجدہ کرو یہاں تک کہ سجدہ کی حالت میں مطمئن ہو جاؤ، جب تم ایسا کرو گے تو اپنی نماز پوری کر لو گے، اور اس میں جو کمی کرو گے تو اپنی نماز ہی میں کمی کرو گے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1054]
حضرت رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ، جو بدری صحابی ہیں، سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ ایک آدمی مسجد میں آیا اور اس نے نماز پڑھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے دیکھتے رہے جب کہ اسے علم نہ تھا۔ پھر وہ (نماز سے) فارغ ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کا جواب دیا، پھر فرمایا: واپس جا، پھر نماز پڑھ، تو نے نماز نہیں پڑھی۔ نہ معلوم دوسری یا تیسری دفعہ اس نے کہا: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کتاب اتاری! میں نے تو پوری کوشش سے نماز پڑھی ہے۔ مجھے سکھلا دیجیے اور بتلا دیجیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تو نماز کا ارادہ کرے تو وضو کر اور اچھی طرح وضو کر۔ پھر کھڑا ہو اور قبلے کی طرف منہ کر۔ پھر «اللّٰهُ أَكْبَرُ» اللہ اکبر کہہ۔ پھر قرآن مجید پڑھ۔ پھر رکوع کر حتیٰ کہ اطمینان سے رکوع کر لے۔ پھر سر اٹھا حتیٰ کہ تو سیدھا کھڑا ہو جائے۔ پھر سجدہ کر حتیٰ کہ اطمینان سے سجدہ کر لے۔ پھر سر اٹھا حتیٰ کہ اطمینان سے بیٹھ جائے۔ پھر سجدہ کر حتیٰ کہ اطمینان سے سجدہ کر لے۔ جب تو (ہر رکعت میں) یہ کر لے گا تو اپنی نماز ادا کر لے گا اور جس قدر تو اس میں کمی کرے گا، اپنی نماز میں کمی کرے گا۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1054]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 668، (تحفة الأشراف: 3604)، ویأتي برقم: 1314، 1315 (حسن صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مؤلف نے اس سے استدلال کیا ہے کہ آپ نے رکوع (یا سجدہ) میں تسبیح کا ذکر نہیں کیا ہے، آپ اس کو صلاۃ سکھا رہے تھے، اس سے معلوم ہوا کہ رکوع (یا سجدہ) میں تسبیح ضروری نہیں ہے، لیکن یہ استدلال صحیح نہیں، اس میں بہت سے واجبات کا ذکر نہیں ہے، دراصل اس آدمی میں تعدیل ارکان کی کمی تھی، اسی پر توجہ دلانا مقصود تھا، اس لیے آپ نے اعتدال پر خاص زور دیا، اور بہت سے واجبات کا ذکر نہیں کیا، دیگر روایات میں تسبیحات کا حکم موجود ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1055
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قال: سَمِعْتُ أَنَسًا يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أَتِمُّوا الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ إِذَا رَكَعْتُمْ وَسَجَدْتُمْ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم رکوع اور سجدہ کرو تو انہیں اچھی طرح کرو۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1055]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم رکوع اور سجدہ کرو تو رکوع اور سجود مکمل کیا کرو۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1055]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «وقد أخرجہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 1292) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1056
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سُلَيْمٍ الْعَنْبَرِيِّ، قال: حَدَّثَنِي عَلْقَمَةُ بْنُ وَائِلٍ قال: حَدَّثَنِي أَبِي، قال: صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَرَأَيْتُهُ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ وَإِذَا رَكَعَ وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ هَكَذَا وَأَشَارَ قَيْسٌ إِلَى نَحْوِ الْأُذُنَيْنِ".
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی، تو دیکھا کہ جب آپ نماز شروع کرتے تو رفع یدین کرتے، اور جب رکوع کرتے، اور «سمع اللہ لمن حمده» کہتے تو بھی اسی طرح کرتے۔ قیس بن سلیم (راوی حدیث) نے دونوں کانوں تک اشارہ کر کے دکھایا۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1056]
حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی تو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع فرماتے یا رکوع کو جاتے یا «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهٗ» اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی کہتے تو اس طرح رفع الیدین کرتے۔ (راویٔ حدیث) قیس نے کانوں کی طرف اشارہ کیا، یعنی کانوں تک۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1056]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 11779) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1057
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قال: حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ، قال: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ" أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا رَكَعَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا فُرُوعَ أُذُنَيْهِ".
مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ رکوع کرتے، اور رکوع سے سر اٹھاتے، تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے یہاں تک کہ انہیں اپنے کانوں کی لو کے برابر کر لیتے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1057]
حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ جب رکوع فرماتے یا رکوع سے سر اٹھاتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے حتیٰ کہ انہیں کانوں کے کناروں کے برابر لے جاتے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1057]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 881، (تحفة الأشراف: 11184) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1058
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ قَالَ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ وَكَانَ لَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو اپنے ہاتھ اپنے کندھوں کے بالمقابل اٹھاتے، اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو بھی اسی طرح کرتے، اور جب «سمع اللہ لمن حمده» کہتے تو «ربنا لك الحمد» کہتے، اور دونوں سجدوں کے درمیان اپنے ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1058]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع فرماتے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے کندھوں کے برابر اٹھاتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو پھر اسی طرح کرتے اور جب «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» اللہ تعالیٰ نے اس کی تعریف کرنے والے کی بات سن لی کہتے تو «رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ» اے ہمارے رب! تیرے ہی لیے تمام تعریف ہے کہتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدوں کے درمیان (سجدے سے اٹھتے اور سجدے کو جاتے وقت) رفع الیدین نہیں کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1058]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 879، (تحفة الأشراف: 6915) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1060
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ وَإِذَا كَبَّرَ لِلرُّكُوعِ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ رَفَعَهُمَا كَذَلِكَ أَيْضًا وَقَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ وَكَانَ لَا يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي السُّجُودِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے کندھوں کے بالمقابل اٹھاتے، اور جب رکوع کے لیے اللہ اکبر کہتے، اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تب بھی اسی طرح اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے، اور «سمع اللہ لمن حمده ربنا ولك الحمد» کہتے، اور سجدے میں رفع یدین نہیں کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1060]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع فرماتے تو اپنے کندھوں کے برابر ہاتھ اٹھاتے اور جب رکوع کی تکبیر کہتے اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو پھر انہیں اسی طرح اٹھاتے اور کہتے: «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهٗ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ» اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی، اے ہمارے رب! اور تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں رفع الیدین نہیں کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1060]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 879 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1083
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ مُطَرِّفٍ، قال:" صَلَّيْتُ أَنَا وَعِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ خَلْفَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ فَكَانَ إِذَا سَجَدَ كَبَّرَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ كَبَّرَ وَإِذَا نَهَضَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ كَبَّرَ فَلَمَّا قَضَى أَخَذَ عِمْرَانُ بِيَدِي فَقَالَ: لَقَدْ ذَكَّرَنِي هَذَا قَالَ كَلِمَةً يَعْنِي صَلَاةَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
مطرف کہتے ہیں کہ میں نے اور عمران بن حصین رضی اللہ عنہما دونوں نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی، جب وہ سجدہ کرتے تو اللہ اکبر کہتے، اور جب سجدہ سے اپنا سر اٹھاتے تو اللہ اکبر کہتے، اور جب دو رکعتیں پڑھ کر اٹھتے تو اللہ اکبر کہتے، جب وہ نماز پڑھ چکے تو عمران رضی اللہ عنہ نے میرا ہاتھ پکڑا اور کہا: انہوں نے مجھے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز یاد دلا دی۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1083]
حضرت مطرف رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے اور میں نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی۔ آپ جب سجدہ کرتے تو «اللهُ أَكْبَرُ» اللہ اکبر کہتے اور جب سجدے سے سر اٹھاتے، تب بھی «اللهُ أَكْبَرُ» اللہ اکبر کہتے اور جب دو رکعتوں سے اٹھتے، تب بھی «اللهُ أَكْبَرُ» اللہ اکبر کہتے۔ جب آپ نے نماز پوری کرلی تو حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے میرا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: اللہ کی قسم! ان صاحب نے مجھے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز یاد کرا دی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1083]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 116 (786)، 144 (826)، صحیح مسلم/الصلاة 10 (393)، سنن ابی داود/الصلاة 140 (835)، (تحفة الأشراف: 10848)، مسند احمد 4/400، 428، 429، 432، 440، 444، ویأتی عند المؤلف برقم: 1181 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1084
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا مُعَاذٌ، وَيَحْيَى، قَالَا: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، قال: حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَلْقَمَةَ، وَالْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قال:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَبِّرُ فِي كُلِّ خَفْضٍ وَرَفْعٍ وَيُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَفْعَلَانِهِ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر جھکنے اور اٹھنے میں اللہ اکبر کہتے تھے ۱؎، اور آپ اپنے دائیں اور بائیں دونوں طرف سلام پھیرتے، ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہم بھی ایسا ہی کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1084]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر جھکنے اور اٹھنے کے وقت «اللَّهُ أَكْبَرُ» اللہ سب سے بڑا ہے کہتے تھے اور آخر میں دائیں بائیں دونوں طرف سلام پھیرتے تھے۔ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما بھی ایسے ہی کیا کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1084]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «حدیث أسود عن عبداللہ أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة 74 (253)، (تحفة الأشراف: 9174)، مسند احمد 1/386، 394، 418، 427، 442، 443، سنن الدارمی/الصلاة 40 (1248)، وحدیث علقمة کحدیث أسود، (تحفة الأشراف: 9470)، ویأتی عند المؤلف بأرقام: 1143، 1150، 1320 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مراد یہ ہے کہ اکثر جھکتے اور اٹھتے وقت «اللہ اکبر» کہتے، ورنہ رکوع سے اٹھتے وقت «اللہ اکبر» نہیں کہتے تھے، بلکہ اس کے بجائے «سمع اللہ لمن حمدہ» کہتے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1089
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْكُوفِيُّ الْمُحَارِبِيُّ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قال:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ وَإِذَا رَكَعَ وَإِذَا رَفَعَ وَكَانَ لَا يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي السُّجُودِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز شروع کرتے، اور جب رکوع کرتے، اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے، تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے اور سجدہ کرنے میں ایسا نہیں کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1089]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع فرماتے، جب رکوع کرتے اور جب رکوع سے اٹھتے تو رفع الیدین کرتے، لیکن سجدے میں (جاتے یا سجدے سے اٹھتے وقت) ایسا نہیں کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1089]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 6962)، مسند احمد 2/47، 147 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1103
أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ نَاصِحٍ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، قال: سَمِعْتُ عَاصِمَ بْنَ كُلَيْبٍ يَذْكُرُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، قال:" قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَقُلْتُ لَأَنْظُرَنَّ إِلَى صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى رَأَيْتُ إِبْهَامَيْهِ قَرِيبًا مِنْ أُذُنَيْهِ فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ فَكَانَتْ يَدَاهُ مِنْ أُذُنَيْهِ عَلَى الْمَوْضِعِ الَّذِي اسْتَقْبَلَ بِهِمَا الصَّلَاةَ".
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں مدینہ آیا تو میں نے (اپنے جی میں) کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ضرور دیکھوں گا (کہ آپ کیسے نماز پڑھتے ہیں تو میں نے دیکھا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ اکبر کہا، اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے یہاں تک کہ میں نے آپ کے دونوں انگوٹھوں کو آپ کی دونوں کانوں کے قریب دیکھا، اور جب آپ نے رکوع کرنے کا ارادہ کیا تو اللہ اکبر کہا، اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے، پھر آپ نے رکوع سے اپنا سر اٹھایا، اور «سمع اللہ لمن حمده» کہا، پھر آپ نے اللہ اکبر کہا، اور سجدہ کیا، آپ کے دونوں ہاتھ آپ کی دونوں کانوں کی اس جگہ تک اٹھے جہاں تک آپ نے شروع نماز میں انہیں اٹھایا تھا (یعنی انہیں دونوں کانوں کے بالمقابل اٹھایا)۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1103]
حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں مدینہ منورہ آیا تو میں نے (اپنے دل میں) کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کو بغور دیکھوں گا۔ (میں نے دیکھا کہ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «اللّٰهُ أَكْبَرُ» اللہ اکبر کہا اور اپنے ہاتھ اٹھائے حتیٰ کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے انگوٹھے آپ کے کانوں کے قریب دیکھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کرنے کا ارادہ کیا تو «اللّٰهُ أَكْبَرُ» اللہ اکبر کہا اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے، پھر اپنا سر (رکوع سے) اٹھایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» اللہ نے اس کی تعریف سن لی جس نے اس کی حمد کی، پھر «اللّٰهُ أَكْبَرُ» اللہ اکبر کہا اور سجدہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں ہاتھ کانوں سے اسی جگہ تھے جہاں نماز شروع کرتے وقت تھے (یعنی کانوں کے برابر تھے)۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1103]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 890، (تحفة الأشراف: 11781) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1137
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ أَبُو يَحْيَى بِمَكَّةَ وَهُوَ بَصْرِيٌّ، قال: حَدَّثَنَا أَبِي، قال: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، قال: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ يَحْيَى بْنِ خَلَّادِ بْنِ مَالِكِ بْنِ رَافِعِ بْنِ مَالِكٍ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمِّهِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ، قال: بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ وَنَحْنُ حَوْلَهُ إِذْ دَخَلَ رَجُلٌ فَأَتَى الْقِبْلَةَ فَصَلَّى فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى الْقَوْمِ فَقَالَ لَهُ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَعَلَيْكَ اذْهَبْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ" فَذَهَبَ فَصَلَّى فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمُقُ صَلَاتَهُ وَلَا يَدْرِي مَا يَعِيبُ مِنْهَا فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى الْقَوْمِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَعَلَيْكَ اذْهَبْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ" فَأَعَادَهَا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا فَقَالَ الرَّجُلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا عِبْتَ مِنْ صَلَاتِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِنَّهَا لَمْ تَتِمَّ صَلَاةُ أَحَدِكُمْ حَتَّى يُسْبِغَ الْوُضُوءَ كَمَا أَمَرَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَيَغْسِلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ وَيَمْسَحَ بِرَأْسِهِ وَرِجْلَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ ثُمَّ يُكَبِّرَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَيَحْمَدَهُ وَيُمَجِّدَهُ قَالَ هَمَّامٌ وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ وَيَحْمَدَ اللَّهَ وَيُمَجِّدَهُ وَيُكَبِّرَهُ قَالَ فَكِلَاهُمَا قَدْ سَمِعْتُهُ يَقُولُ قَالَ وَيَقْرَأَ مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ مِمَّا عَلَّمَهُ اللَّهُ وَأَذِنَ لَهُ فِيهِ ثُمَّ يُكَبِّرَ وَيَرْكَعَ حَتَّى تَطْمَئِنَّ مَفَاصِلُهُ وَتَسْتَرْخِيَ، ثُمَّ يَقُولَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، ثُمَّ يَسْتَوِيَ قَائِمًا حَتَّى يُقِيمَ صُلْبَهُ، ثُمَّ يُكَبِّرَ وَيَسْجُدَ حَتَّى يُمَكِّنَ وَجْهَهُ وَقَدْ سَمِعْتُهُ يَقُولُ جَبْهَتَهُ حَتَّى تَطْمَئِنَّ مَفَاصِلُهُ وَتَسْتَرْخِيَ وَيُكَبِّرَ فَيَرْفَعَ حَتَّى يَسْتَوِيَ قَاعِدًا عَلَى مَقْعَدَتِهِ وَيُقِيمَ صُلْبَهُ، ثُمَّ يُكَبِّرَ فَيَسْجُدَ حَتَّى يُمَكِّنَ وَجْهَهُ وَيَسْتَرْخِيَ فَإِذَا لَمْ يَفْعَلْ هَكَذَا لَمْ تَتِمَّ صَلَاتُهُ".
رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے تھے، اور ہم لوگ آپ کے اردگرد تھے، اتنے میں ایک شخص آیا اور وہ قبلہ رخ ہو کر نماز پڑھنے لگا، جب وہ اپنی نماز پوری کر چکا تو آیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور لوگوں کو سلام کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: تم پر بھی سلامتی ہو، جاؤ پھر سے نماز پڑھو، کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی، تو وہ گیا، اور اس نے جا کر پھر سے نماز پڑھی، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی نماز کو کنکھیوں سے دیکھ رہے تھے لیکن وہ یہ جان نہیں رہا تھا کہ اس میں وہ کیا غلطی کر رہا ہے؟ تو جب وہ اپنی نماز پوری کر چکا تو آیا، اور اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور لوگوں کو سلام کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اس سے فرمایا: تم پر بھی سلامتی ہو، جاؤ پھر سے نماز پڑھو، کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی، چنانچہ اس نے دو یا تین بار نماز دہرائی، پھر اس شخص نے پوچھا: اللہ کے رسول! میری نماز میں آپ نے کیا خامی پائی ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کسی کی نماز پوری نہیں ہوتی جب تک کہ وہ اچھی طرح وضو نہ کر لے جس طرح اللہ تعالیٰ نے اس کے کرنے کا حکم دیا ہے، وہ اپنا چہرہ دھوئے، اپنے دونوں ہاتھ کہنیوں سمیت دھوئے، اپنے سر کا مسح کرے، اور اپنے دونوں پیر ٹخنوں سمیت دھوئے، پھر اللہ تعالیٰ کی بڑائی کرے (یعنی تکبیر تحریمہ کہے) اور اس کی حمد و ثناء اور بزرگی بیان کرے (یعنی دعائے ثناء پڑھے)۔ ہمام کہتے ہیں: میں نے اسحاق کو «ويحمد اللہ ويمجده ويكبره» بھی کہتے سنا ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے دونوں طرح سے انہیں کہتے سنا ہے۔ آگے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور قرآن میں سے حسب توفیق اور مرضی الٰہی جو آسان ہو پڑھے، پھر اللہ اکبر کہے، اور رکوع کرے یہاں تک کہ اس کے تمام جوڑ اپنی جگہ آ جائیں، اور ڈھیلے پڑ جائیں، پھر «سمع اللہ لمن حمده» کہے، پھر سیدھا کھڑا ہو جائے یہاں تک اس کی پیٹھ برابر ہو جائے، پھر اللہ اکبر کہے، اور سجدہ کرے یہاں تک کہ وہ اپنا چہرہ زمین پر ٹکا دے، (میں نے اسحاق کو اپنی پیشانی بھی کہتے سنا ہے)، اور تمام جوڑ اپنی جگہ آ جائیں اور ڈھیلے پڑ جائیں، پھر اللہ اکبر کہے، اور اپنا سر اٹھائے یہاں تک کہ اپنی سرین پر سیدھا ہو کر بیٹھ جائے، اور اپنی پیٹھ سیدھی کر لے، پھر اللہ اکبر کہے، اور سجدہ کرے یہاں تک کہ وہ اپنا چہرہ زمین سے اچھی طرح ٹکا دے، اور ڈھیلا پڑ جائے، اگر اس نے اس طرح نہیں کیا تو اس کی نماز پوری نہیں ہوئی ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1137]
حضرت رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: ایک بار ایسا ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (مسجد میں) بیٹھے تھے اور ہم آپ کے اردگرد (حلقہ باندھے ہوئے) تھے۔ اتنے میں ایک آدمی آیا اور وہ مسجد کی قبلے والی دیوار کے پاس جا کر نماز پڑھنے لگا۔ جب اس نے نماز مکمل کر لی تو وہ آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور سب لوگوں کو سلام کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کا جواب دیا اور فرمایا: جا پھر نماز پڑھ کیونکہ تو نے نماز نہیں پڑھی۔ وہ گیا اور پھر نماز پڑھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی نماز کو بغور دیکھتے رہے۔ اسے علم نہیں تھا کہ آپ اس کی کون سی غلطی پکڑ رہے ہیں۔ جب وہ نماز پڑھ چکا تو پھر آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور سب لوگوں کو سلام کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وعلیک، جا نماز پڑھ، تو نے نماز نہیں پڑھی۔ اس نے دو یا تین دفعہ نماز پڑھی۔ آخر اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے میری نماز میں کیا غلطی محسوس فرمائی ہے؟ آپ نے فرمایا: تم میں سے کسی کی نماز مکمل نہیں ہوتی جب تک وہ اچھی طرح وضو نہ کرے جس طرح کہ اللہ تعالیٰ نے اسے حکم دیا ہے، یعنی وہ اپنا چہرہ اور کہنیوں تک ہاتھ دھوئے، اپنے سر کا مسح کرے اور ٹخنوں تک پاؤں دھوئے۔ پھر «اللَّهُ أَكْبَرُ» اللہ سب سے بڑا ہے کہے اور اللہ عزوجل کی حمد اور بزرگی بیان کرے (ثنا پڑھے) اور جو قرآن اسے آسان ہو، جو اسے اللہ تعالیٰ نے سکھلایا ہے اور اسے توفیق دی ہے، پڑھے۔ پھر «اللَّهُ أَكْبَرُ» اللہ سب سے بڑا ہے کہہ کر رکوع کرے حتیٰ کہ اس کے جوڑ مطمئن ہو جائیں اور اپنی موجودہ جگہ پر ٹھہر جائیں۔ پھر وہ «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» اللہ نے اس کی پکار سن لی جس نے اس کی تعریف کی کہہ کر سیدھا کھڑا ہو جائے اور اپنی پشت کو بالکل اپنی اصلی حالت میں کرے۔ پھر «اللَّهُ أَكْبَرُ» اللہ سب سے بڑا ہے کہہ کر سجدہ کرے حتیٰ کہ اپنے چہرے کو اچھی طرح زمین پر جمائے حتیٰ کہ اس کے جوڑ مطمئن اور پرسکون ہو جائیں اور اپنی اپنی جگہ ٹھہر جائیں۔ پھر «اللَّهُ أَكْبَرُ» اللہ سب سے بڑا ہے کہہ کر سر اٹھائے اور مقعد (سرین) پر اچھی طرح بیٹھ جائے اور اپنی کمر کو بالکل سیدھا کر لے۔ پھر «اللَّهُ أَكْبَرُ» اللہ سب سے بڑا ہے کہہ کر سجدہ کرے اور اپنے چہرے یا ماتھے کو زمین پر جمائے اور ٹکائے۔ جب تک (نماز میں) ایسے نہ کرے، اس کی نماز پوری نہیں ہوتی۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1137]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 668، ویأتي برقم: 1314 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مؤلف نے اس سے سجدے میں تسبیحات نہ پڑھنے پر استدلال اس طرح کیا ہے کہ اس میں تسبیحات کا ذکر نہیں ہے، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں دیگر بہت سی واجبات کا بھی ذکر نہیں کیا ہے، یہاں صرف تعدیل ارکان پر توجہ دلانا مقصود ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1143
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، وَيَحْيَى بْنُ آدَمَ، قَالَا: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، وَعَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قال:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَبِّرُ فِي كُلِّ خَفْضٍ وَرَفْعٍ وَقِيَامٍ وَقُعُودٍ وَيُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ خَدِّهِ قَالَ وَرَأَيْتُ أَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَفْعَلَانِ ذَلِكَ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر جھکنے، اٹھنے، کھڑے ہونے اور بیٹھنے میں اللہ اکبر کہتے دیکھا، اور آپ اپنے دائیں اور بائیں السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہتے ہوئے سلام پھیرتے یہاں تک کہ آپ کے گال کی سفیدی دکھائی دیتی، اور میں نے ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہم کو بھی ایسے ہی کرتے دیکھا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1143]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ ہر جھکتے، اٹھتے، بیٹھتے اور کھڑے ہوتے وقت «اَللّٰهُ أَكْبَرُ» اللہ اکبر کہتے تھے اور اپنے دائیں بائیں «اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ» تم پر اللہ تعالیٰ کی سلامتی اور رحمت ہو۔ کہتے حتیٰ کہ آپ کے رخسار کی سفیدی نظر آتی تھی۔ اور میں نے حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کو بھی اسی طرح کرتے دیکھا۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1143]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1084 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1144
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قال: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قال: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ رَفَعَ يَدَيْهِ وَإِذَا رَكَعَ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ كُلَّهُ يَعْنِي رَفْعَ يَدَيْهِ".
مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے، اور جب رکوع کرتے تو بھی ایسا ہی کرتے، اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو بھی ایسا ہی کرتے، اور جب سجدہ سے سر اٹھاتے تو بھی ایسا ہی کرتے یعنی اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1144]
حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع فرماتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے اور جب رکوع کرتے تو ایسے کرتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو ایسے کرتے اور جب سجدے سے اپنا سر اٹھاتے تو ان سب میں ایسے ہی کرتے، یعنی رفع الیدین کرتے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1144]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر الأرقام: 1086، 1088 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: دیکھئیے حاشیہ حدیث رقم: ۱۰۸۶۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، انظر الحديث السابق (1086) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 329

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1150
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنِ الْأَسْوَدِ، وَعَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قال:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَبِّرُ فِي كُلِّ رَفْعٍ وَوَضْعٍ وَقِيَامٍ وَقُعُودٍ وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر اٹھتے، جھکتے، کھڑے ہوتے اور بیٹھتے وقت اللہ اکبر کہتے، اور ابوبکر و عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم بھی۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1150]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر اٹھنے، جھکنے اور قیام و قعود (کھڑے ہونے اور بیٹھنے) کے وقت «اَللّٰهُ أَكْبَرُ» اللہ سب سے بڑا ہے کہتے تھے اور حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہم بھی ایسے ہی کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1150]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1084 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1151
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قال: حَدَّثَنَا حُجَيْنٌ وَهُوَ ابْنُ الْمُثَنَّى، قال: حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قال: أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ يُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْكَعُ، ثُمَّ يَقُولُ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ حِينَ يَرْفَعُ صُلْبَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ، ثُمَّ يَقُولُ وَهُوَ قَائِمٌ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَهْوِي سَاجِدًا، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَسْجُدُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْفَعُ رَأَسَهُ، ثُمَّ يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي الصَّلَاةِ كُلِّهَا حَتَّى يَقْضِيَهَا وَيُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ مِنَ الثِّنْتَيْنِ بَعْدَ الْجُلُوسِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے اٹھتے تو جس وقت کھڑے ہوتے «اللہ اکبر» کہتے، پھر جب رکوع کرتے تو «اللہ اکبر» کہتے، پھر جس وقت اپنی پیٹھ رکوع سے اٹھاتے تو «سمع اللہ لمن حمده» کہتے، پھر کھڑے ہو کر کہتے: «ربنا لك الحمد» پھر جب سجدہ کے لیے جھکتے تو «اللہ اکبر» کہتے، پھر جب سجدہ سے سر اٹھاتے تو «اللہ اکبر» کہتے، پھر جب (دوسرا) سجدہ کرتے تو «اللہ اکبر» کہتے، پھر جب سجدہ سے سر اٹھاتے تو «اللہ اکبر» کہتے، پھر پوری نماز میں ایسا ہی کرتے یہاں تک کہ آپ اسے پوری کر لیتے، اور جس وقت دوسری رکعت سے بیٹھنے کے بعد اٹھتے تو (بھی) «اللہ اکبر» کہتے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1151]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو «اللّٰهُ أَكْبَرُ» اللہ سب سے بڑا ہے کہتے، پھر جب رکوع فرماتے تو «اللّٰهُ أَكْبَرُ» اللہ سب سے بڑا ہے کہتے، پھر جب رکوع سے اپنی پشت اٹھاتے تو «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» اللہ نے اس کی بات سن لی جس نے اس کی تعریف کی کہتے، پھر کھڑے کھڑے کہتے: «رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ» اے ہمارے رب! تیرے ہی لیے تمام تعریف ہے پھر جب سجدے کے لیے جھکتے تو «اللّٰهُ أَكْبَرُ» اللہ سب سے بڑا ہے کہتے، پھر جب سجدے سے سر اٹھاتے تو «اللّٰهُ أَكْبَرُ» اللہ سب سے بڑا ہے کہتے، پھر جب دوسرا سجدہ کرتے تو «اللّٰهُ أَكْبَرُ» اللہ سب سے بڑا ہے کہتے، پھر جب سجدے سے سر اٹھاتے تو «اللّٰهُ أَكْبَرُ» اللہ سب سے بڑا ہے کہتے، پھر ساری نماز میں ایسے ہی کرتے حتیٰ کہ اسے مکمل فرماتے، اور جب دو رکعتوں کے بعد بیٹھ کر اٹھتے تو «اللّٰهُ أَكْبَرُ» اللہ سب سے بڑا ہے کہتے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1151]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 117 (789)، صحیح مسلم/الصلاة 10 (392)، سنن ابی داود/الصلاة 117 (738)، مسند احمد 2/270، 454، (تحفة الأشراف: 14862) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1157
أَخْبَرَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، وَسَوَّارُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَوَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ: وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُمَا صَلَّيَا خَلْفَ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ" فَلَمَّا رَكَعَ كَبَّرَ فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، ثُمَّ سَجَدَ وَكَبَّرَ وَرَفَعَ رَأْسَهُ وَكَبَّرَ، ثُمَّ كَبَّرَ حِينَ قَامَ مِنَ الرَّكْعَةِ، ثُمَّ قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لَأَقْرَبُكُمْ شَبَهًا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا زَالَتْ هَذِهِ صَلَاتُهُ حَتَّى فَارَقَ الدُّنْيَا" وَاللَّفْظُ لِسَوَّارٍ.
ابوبکر بن عبدالرحمٰن اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ ان دونوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی، جب انہوں نے رکوع کیا تو اللہ اکبر کہا، پھر رکوع سے اپنا سر اٹھایا تو «سمع اللہ لمن حمده ربنا ولك الحمد» کہا، پھر سجدہ کیا تو «اللہ اکبر» کہا، اور سجدہ سے اپنا سر اٹھایا تو «اللہ اکبر» کہا، پھر جس وقت رکعت پوری کر کے کھڑے ہوئے تو «اللہ اکبر» کہا، پھر کہا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں نماز میں ازروئے مشابہت تم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے زیادہ قریب ہوں، برابر آپ کی نماز ایسے رہی یہاں تک کہ آپ دنیا سے رخصت ہو گئے، یہ الفاظ «سّوار» کے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1157]
حضرت ابوبکر بن عبدالرحمن اور ابوسلمہ بن عبدالرحمن سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی۔ انہوں نے جب رکوع کیا تو اللہ اکبر کہا۔ جب رکوع سے سر اٹھایا تو «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهٗ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ» اللہ نے اس کی پکار سن لی جس نے اس کی تعریف کی، اے ہمارے رب! تیرے ہی لیے تمام تعریف ہے کہا۔ پھر سجدے میں گئے تو اللہ اکبر کہا۔ سجدے سے سر اٹھایا تو اللہ اکبر کہا۔ پھر جب رکعت سے اٹھے تو اللہ اکبر کہا۔ پھر فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں نماز میں تم سب سے بڑھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشابہ ہوں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز یہی رہی حتی کہ آپ دنیا سے جدا ہو گئے (فوت ہو گئے)۔ یہ لفظ حضرت سوار کے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1157]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 128 (803)، سنن ابی داود/الصلاة 140 (836)، (تحفة الأشراف: 14864)، مسند احمد 2/270، سنن الدارمی/الصلاة 40 (1283) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1160
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قال: حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، قال:" أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَيْتُهُ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ حَتَّى يُحَاذِيَ مَنْكِبَيْهِ وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ وَإِذَا جَلَسَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ أَضْجَعَ الْيُسْرَى وَنَصَبَ الْيُمْنَى وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى وَنَصَبَ أُصْبُعَهُ لِلدُّعَاءِ وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى" قَالَ، ثُمَّ أَتَيْتُهُمْ مِنْ قَابِلٍ فَرَأَيْتُهُمْ يَرْفَعُونَ أَيْدِيَهُمْ فِي الْبَرَانِسِ.
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو میں نے آپ کو دیکھا کہ جب آپ نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے یہاں تک کہ اپنے دونوں کندھوں کے بالمقابل کر لیتے، اور جب رکوع کرنے کا ارادہ کرتے تو بھی ایسے ہی اٹھاتے، اور جب دو رکعت پڑھ کر بیٹھتے تو بائیں پیر کو بچھا دیتے، اور دائیں کو کھڑا رکھتے، اور اپنے دائیں ہاتھ کو دائیں ران پر رکھتے، اور (شہادت کی) انگلی دعا کے لیے کھڑی رکھتے، اور اپنے بائیں ہاتھ کو اپنی بائیں ران پر رکھتے۔ وائل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پھر میں آئندہ سال ان لوگوں کے پاس آیا، تو میں نے لوگوں کو جبوں کے اندر اپنے ہاتھ اٹھاتے ہوئے دیکھا۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1160]
حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو میں نے دیکھا کہ آپ جب نماز شروع فرماتے اور جب رکوع کا ارادہ فرماتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے حتیٰ کہ انہیں کندھوں کے برابر فرماتے اور جب دو رکعتوں کے بعد بیٹھتے تو بائیں پاؤں کو بچھاتے اور دائیں کو کھڑا کرتے اور اپنا دایاں ہاتھ اپنی دائیں ران پر رکھتے اور اپنی (تشہد کی) انگلی دعائے تشہد کے لیے اٹھاتے اور بایاں ہاتھ بائیں ران پر رکھتے۔ پھر میں اگلے سال آیا تو میں نے دیکھا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اپنے اپنے جبوں میں رفع الیدین کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1160]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 116 (728)، (تحفة الأشراف: 11783)، ویأتي عند المؤلف برقم: 1264 (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1180
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصَمِّ، قَالَ: سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، عَنِ التَّكْبِيرِ فِي الصَّلَاةِ، فَقَالَ:" يُكَبِّرُ إِذَا رَكَعَ وَإِذَا سَجَدَ , وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ , وَإِذَا قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ" , فَقَالَ حُطَيْمٌ عَمَّنْ تَحْفَظُ هَذَا , فَقَالَ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ثُمَّ سَكَتَ , فَقَالَ لَهُ حُطَيْمٌ: وَعُثْمَانُ , قَالَ: وَعُثْمَانُ.
عبدالرحمٰن بن اصم کہتے ہیں کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے نماز میں اللہ اکبر کہنے کے سلسلہ میں پوچھا گیا، تو انہوں نے کہا: اللہ اکبر کہے جب رکوع میں جائے، اور جب سجدہ میں جائے، اور جب سجدہ سے سر اٹھائے، اور جب دوسری رکعت سے اٹھے۔ حطیم نے پوچھا: آپ نے اسے کس سے سن کر یاد کیا ہے، تو انہوں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہم سے، پھر وہ خاموش ہو گئے، تو حطیم نے ان سے کہا، اور عثمان رضی اللہ عنہ سے بھی؟ انہوں نے کہا: اور عثمان رضی اللہ عنہ سے بھی۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1180]
حضرت عبدالرحمن بن اصم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے نماز میں تکبیروں کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: تکبیر ( «اَللّٰهُ أَكْبَرُ» اللہ اکبر) کہے جب رکوع کرے، جب سجدہ کرے، جب سجدے سے سر اٹھائے اور جب دو رکعتوں سے کھڑا ہو۔ حطیم نے ان سے پوچھا کہ یہ بات آپ نے کس سے یاد رکھی ہے؟ انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے، پھر خاموش ہو گئے۔ حطیم نے کہا: حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے بھی؟ فرمایا: ہاں، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے بھی۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1180]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 987)، مسند احمد 3/125، 132، 179، 251، 257، 262 (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1181
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا غَيْلَانُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ:" صَلَّى عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ , فَكَانَ يُكَبِّرُ فِي كُلِّ خَفْضٍ وَرَفْعٍ يُتِمُّ التَّكْبِيرَ" , فَقَالَ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ: لَقَدْ ذَكَّرَنِي هَذَا صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
مطرف بن عبداللہ کہتے ہیں کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھی، تو وہ ہر جھکنے اور اٹھنے میں اللہ اکبر کہتے تھے، اور تکبیر پوری کرتے تھے (اس میں کوئی کمی نہیں کرتے تھے) تو عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے کہا: اس شخص نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز یاد دلا دی۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1181]
حضرت مطرف بن عبداللہ سے مروی ہے کہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھی تو وہ ہر جھکنے اور اٹھنے کے وقت پوری تکبیر کہتے تھے۔ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یقینا انھوں نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز یاد کرا دی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1181]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1083 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1182
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ , وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , وَاللَّفْظُ لَهُ , قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ , عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ , قَالَ: سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ , قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا قَامَ مِنَ السَّجْدَتَيْنِ , كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ كَمَا صَنَعَ حِينَ افْتَتَحَ الصَّلَاةَ".
ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب دونوں رکعتوں سے کھڑے ہوتے تو اللہ اکبر کہتے، اور رفع یدین کرتے یہاں تک کہ دونوں ہاتھوں کو اپنے مونڈھوں کے برابر لے جاتے، جیسے وہ نماز شروع کرتے وقت کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1182]
حضرت ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب دو رکعتوں کے بعد کھڑے ہوتے تو «اللهُ أَكْبَرُ» اللہ اکبر کہتے اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے حتیٰ کہ انھیں اپنے کندھوں کے برابر کرتے تھے جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز شروع کرتے وقت کیا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1182]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم 1040 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1183
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ وَهُوَ ابْنُ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّهُ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ , وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ , وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ , وَإِذَا قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ يَرْفَعُ يَدَيْهِ كَذَلِكَ حَذْوَ الْمَنْكِبَيْنِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھاتے تھے جب نماز میں داخل ہوتے، اور جب رکوع کا ارادہ کرتے، اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے، اور دو رکعتوں کے بعد جب کھڑے ہوتے تو بھی اپنے ہاتھوں کو مونڈھوں کے بالمقابل اٹھاتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1183]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو «رَفْعُ الْيَدَيْنِ» ہاتھ اٹھانا فرماتے اور جب رکوع کا ارادہ فرماتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے اور جب دو رکعتوں کے بعد کھڑے ہوتے تو اسی طرح کندھوں تک اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے۔ (یعنی «رَفْعُ الْيَدَيْنِ» ہاتھ اٹھانا فرماتے)۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1183]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 6876) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1264
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ , وَإِذَا رَكَعَ , وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ , وَإِذَا جَلَسَ أَضْجَعَ الْيُسْرَى وَنَصَبَ الْيُمْنَى , وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى وَيَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى , وَعَقَدَ ثِنْتَيْنِ الْوُسْطَى وَالْإِبْهَامَ وَأَشَارَ".
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، جب آپ نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے، اور جب رکوع میں جاتے اور رکوع سے اپنا سر اٹھاتے (تو بھی اسی طرح اٹھاتے) اور جب آپ (قعدہ میں) بیٹھتے تو بایاں (پاؤں) لٹاتے، اور دایاں (پاؤں) کھڑا رکھتے، اور اپنا بایاں ہاتھ اپنی بائیں ران پر اور دایاں ہاتھ دائیں ران پر رکھتے، اور درمیان والی انگلی اور انگوٹھے دونوں کو ملا کر گرہ بناتے، اور اشارہ کرتے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1264]
حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ جب نماز شروع فرماتے، جب رکوع فرماتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو رفع الیدین کرتے، اور آپ جب بیٹھتے تو بائیں پاؤں کو بچھاتے اور دایاں کھڑا کرتے اور اپنا بایاں ہاتھ اپنی بائیں ران پر رکھتے اور دایاں ہاتھ دائیں ران پر رکھتے اور انگوٹھے اور درمیانی انگلی سے حلقہ بناتے اور (انگشت شہادت سے) اشارہ فرماتے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1264]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 890 و 1160 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث میں یہ صراحت نہیں ہے کہ یہ بیان آخری قعدہ کے بارے میں ہے، اس لیے باب سے مناسبت واضح نہیں، یا یہ مراد ہے کہ یہ بیان دونوں قعدوں کے بارے میں ہے، تو یہ بھی درست نہیں، کیونکہ ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ کی حدیث صحیحین کی ہے نیز تورک کے بارے میں واضح ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1266
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، قَالَ:" قُلْتُ لَأَنْظُرَنَّ إِلَى صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ يُصَلِّي , فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى حَاذَتَا أُذُنَيْهِ، ثُمَّ أَخَذَ شِمَالَهُ بِيَمِينِهِ , فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ رَفَعَهُمَا مِثْلَ ذَلِكَ وَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ , فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ رَفَعَهُمَا مِثْلَ ذَلِكَ , فَلَمَّا سَجَدَ وَضَعَ رَأْسَهُ بِذَلِكَ الْمَنْزِلِ مِنْ يَدَيْهِ، ثُمَّ جَلَسَ فَافْتَرَشَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى , وَحَدَّ مِرْفَقَهُ الْأَيْمَنَ عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى وَقَبَضَ ثِنْتَيْنِ وَحَلَّقَ وَرَأَيْتُهُ يَقُولُ: هَكَذَا , وَأَشَارَ بِشْرٌ بِالسَّبَّابَةِ مِنَ الْيُمْنَى وَحَلَّقَ الْإِبْهَامَ وَالْوُسْطَى".
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے (اپنے جی میں) کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر رہوں گا کہ آپ نماز کیسے پڑھتے ہیں، تو (میں نے دیکھا کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، اور قبلہ رو ہوئے اور اپنے دونوں ہاتھوں کو اتنا اٹھایا کہ وہ آپ کے کانوں کے بالمقابل ہو گئے، پھر اپنے دائیں (ہاتھ) سے اپنے بائیں (ہاتھ) کو پکڑا، پھر جب رکوع میں جانے کا ارادہ کیا تو ان دونوں کو پھر اسی طرح اٹھایا، اور اپنے ہاتھوں کو اپنے گھٹنوں پر رکھا، پھر جب رکوع سے اپنا سر اٹھایا تو پھر ان دونوں کو اسی طرح اٹھایا، پھر جب سجدہ کیا تو اپنے سر کو اپنے دونوں ہاتھوں کے درمیان اسی جگہ پر رکھا ۱؎، پھر آپ بیٹھے تو اپنا بایاں پاؤں بچھایا، اور اپنا بایاں ہاتھ اپنی بائیں ران پر رکھا، اور اپنی دائیں کہنی کو اپنی دائیں ران سے دور رکھا، پھر اپنی دو انگلیاں بند کیں، اور حلقہ بنایا، اور میں نے انہیں اس طرح کرتے دیکھا۔ بشر نے داہنے ہاتھ کی شہادت کی انگلی سے اشارہ کیا، اور انگوٹھے اور درمیانی انگلی کا حلقہ بنایا۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1266]
حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ (ایک دفعہ) میں نے (اپنے دل میں) کہا کہ «وَاللّٰهِ» اللہ کی قسم! میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کو بغور دیکھوں گا کہ آپ کیسے نماز پڑھتے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، قبلے کی طرف منہ فرمایا اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے حتیٰ کہ وہ کانوں کے برابر ہو گئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بائیں ہاتھ کو دائیں سے پکڑ لیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کا ارادہ فرمایا تو انہیں پھر اسی طرح اٹھایا اور اپنے ہاتھ اپنے گھٹنوں پر رکھے، چنانچہ جب رکوع سے سر اٹھایا تو دونوں ہاتھ پھر اسی طرح اٹھائے، پھر جب سجدہ کیا تو اپنا سر اپنے ہاتھوں کے ساتھ رفع الیدین والی کیفیت میں رکھا (جہاں تک ہاتھ اٹھائے تھے، وہیں تک ہاتھ سجدے میں سر کے قریب رہے) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے اور اپنا بایاں پاؤں بچھایا اور اپنا بایاں ہاتھ بائیں ران پر رکھا اور دائیں کہنی کا کنارہ اپنی دائیں ران پر رکھا، دو (چھنگلی اور اس کے ساتھ والی) انگلیاں بند کیں اور انگوٹھے اور درمیانی انگلی سے حلقہ بنایا اور انگشتِ شہادت سے اشارہ کیا۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1266]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 890 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی اپنا سر اس طرح رکھا کہ دونوں ہاتھ دونوں کانوں کے بالمقابل ہو گئے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1314
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عَلِيٍّ وَهُوَ ابْنُ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَمٍّ لَهُ بَدْرِيّ , أَنَّهُ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَجُلًا دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَصَلَّى وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمُقُهُ , وَنَحْنُ لَا نَشْعُرُ فَلَمَّا فَرَغَ أَقْبَلَ فَسَلَّمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ" فَرَجَعَ فَصَلَّى، ثُمَّ أَقْبَلَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا" , فَقَالَ لَهُ: الرَّجُلُ وَالَّذِي أَكْرَمَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ جَهِدْتُ فَعَلِّمْنِي , فَقَالَ:" إِذَا قُمْتَ تُرِيدُ الصَّلَاةَ فَتَوَضَّأْ فَأَحْسِنْ وُضُوءَكَ، ثُمَّ اسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ فَكَبِّرْ، ثُمَّ اقْرَأْ، ثُمَّ ارْكَعْ فَاطْمَئِنَّ رَاكِعًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَعْتَدِلَ قَائِمًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ قَاعِدًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ ارْفَعْ، ثُمَّ افْعَلْ كَذَلِكَ حَتَّى تَفْرُغَ مِنْ صَلَاتِكَ".
یحییٰ اپنے چچا بدری صحابی سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ان سے بیان کیا کہ ایک آدمی مسجد میں آیا اور نماز پڑھنے لگا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے دیکھ رہے تھے، اور ہم نہیں سمجھ رہے تھے، جب وہ نماز پڑھ کر فارغ ہوا، تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور آ کر اس نے آپ کو سلام کیا، آپ نے (جواب دینے کے بعد) فرمایا: واپس جاؤ دوبارہ نماز پڑھو کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی ہے، چنانچہ وہ واپس گیا، اور اس نے پھر سے نماز پڑھی، پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: واپس جاؤ اور پھر سے نماز پڑھو کیونکہ تم نے (ابھی بھی) نماز نہیں پڑھی ہے، دو یا تین بار ایسا ہوا تو اس آدمی نے آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو عزت دی ہے، میں اپنی بھر کوشش کر چکا ہوں لہٰذا آپ مجھے سکھا دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم نماز پڑھنے کا ارادہ کرو تو وضو کرو اور اچھی طرح سے وضو کرو، پھر قبلہ رو ہو کر تکبیر تحریمہ کہو، پھر قرآن پڑھو، پھر رکوع کرو اور اطمینان سے رکوع کرو، پھر رکوع سے سر اٹھاؤ یہاں تک کہ سیدھے کھڑے ہو جاؤ پھر سجدہ کرو یہاں تک کہ اطمینان سے سجدہ کر لو، پھر سجدہ سے سر اٹھاؤ یہاں تک کہ اطمینان سے بیٹھ جاؤ، پھر سجدہ کرو یہاں تک کہ اطمینان سے سجدہ کر لو، پھر سر اٹھاؤ، پھر اس کے بعد دوسری رکعت میں اسی طرح کرو یہاں تک کہ تم نماز سے فارغ ہو جاؤ۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1314]
ایک بدری صحابی (حضرت رفاعہ بن رافع) رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک آدمی مسجد میں داخل ہوا اور نماز پڑھنے لگا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے بغور دیکھنے لگے۔ ہمیں اس بات کا پتہ نہیں تھا۔ جب وہ نماز سے فارغ ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آیا اور سلام کہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: واپس جا، دوبارہ نماز پڑھ، تو نے نماز نہیں پڑھی۔ وہ واپس گیا اور دوبارہ نماز پڑھی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: واپس جا، پھر نماز پڑھ، تو نے نماز نہیں پڑھی۔ دو تین دفعہ ایسا ہی ہوا۔ آخر وہ آدمی کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! قسم اس ذات کی جس نے آپ کو عزت بخشی! میں تو (بار بار نماز پڑھ کر) تھک گیا ہوں، لہٰذا مجھے سکھا دیجیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تو نماز کے ارادے سے کھڑا ہو تو وضو کر اور اچھی طرح وضو کر، پھر قبلے کی طرف منہ کر اور «اللهُ أَكْبَرُ» اللہ اکبر کہہ، پھر قراءت کر، پھر رکوع کر اور اطمینان سے رکوع کر، پھر سر اٹھا حتیٰ کہ سیدھا کھڑا ہو جائے، پھر سجدہ کر حتیٰ کہ اطمینان سے سجدہ کرے، پھر سر اٹھا حتیٰ کہ تو اطمینان سے بیٹھ جائے، پھر سجدہ کر حتیٰ کہ اطمینان سے سجدہ کرے، پھر سر اٹھا، پھر (ہر رکعت میں) ایسے ہی کر حتیٰ کہ تو اپنی نماز سے فارغ ہو جائے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1314]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 668، 1137 (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1315
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ يَحْيَى بْنِ خَلَّادِ بْنِ رَافِعِ بْنِ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَمٍّ لَهُ بَدْرِيٍّ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا فِي الْمَسْجِدِ , فَدَخَلَ رَجُلٌ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمُقُهُ فِي صَلَاتِهِ فَرَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ، ثُمَّ قَالَ لَهُ:" ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ" فَرَجَعَ فَصَلَّى، ثُمَّ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ، ثُمَّ قَالَ:" ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ" حَتَّى كَانَ عِنْدَ الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعَةِ فَقَالَ: وَالَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ , لَقَدْ جَهِدْتُ وَحَرَصْتُ فَأَرِنِي وَعَلِّمْنِي قَالَ:" إِذَا أَرَدْتَ أَنْ تُصَلِّيَ فَتَوَضَّأْ فَأَحْسِنْ وُضُوءَكَ، ثُمَّ اسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ فَكَبِّرْ، ثُمَّ اقْرَأْ، ثُمَّ ارْكَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَعْتَدِلَ قَائِمًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ قَاعِدًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ ارْفَعْ فَإِذَا أَتْمَمْتَ صَلَاتَكَ عَلَى هَذَا فَقَدْ تَمَّتْ وَمَا انْتَقَصْتَ مِنْ هَذَا , فَإِنَّمَا تَنْتَقِصُهُ مِنْ صَلَاتِكَ".
یحییٰ بن خلاد بن رافع بن مالک انصاری کہتے ہیں کہ مجھ سے میرے چچا بدری صحابی روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسجد میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک آدمی مسجد میں داخل ہوا، اور اس نے دو رکعت نماز پڑھی، پھر وہ آیا، اور اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے نماز پڑھتے ہوئے دیکھ رہے تھے، آپ نے سلام کا جواب دیا، پھر اس سے فرمایا: واپس جاؤ اور نماز پڑھو کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی ہے، چنانچہ وہ واپس آیا، اور پھر سے اس نے نماز پڑھی، پھر وہ دوبارہ آیا اور اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا، آپ نے اسے جواب دیا، پھر فرمایا: واپس جاؤ اور نماز پڑھو کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی ہے، یہاں تک کہ تیسری یا چوتھی بار میں اس نے عرض کیا: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ پر کتاب نازل کی ہے، میں اپنی کوشش کر چکا ہوں، اور میری خواہش ہے آپ مجھے (صحیح نماز پڑھنے کا طریقہ) دکھا، اور سکھا دیجئیے، آپ نے فرمایا: جب تم نماز کا ارادہ کرو تو پہلے اچھی طرح وضو کرو پھر قبلہ رو ہو کر تکبیر تحریمہ کہو پھر قرآت کرو پھر رکوع میں جاؤ اور رکوع میں رہو یہاں تک کہ تمہیں اطمینان ہو جائے، پھر سر اٹھاؤ یہاں تک کہ تم سیدھے کھڑے ہو جاؤ، پھر سجدہ میں جاؤ اور اطمینان سے سجدہ کرو، پھر سر اٹھاؤ یہاں تک کہ تم آرام سے بیٹھ جاؤ، پھر سجدہ کر اور سجدہ میں رہو یہاں تک کہ تمہیں اطمینان ہو جائے، پھر سر اٹھاؤ تو جب تم اپنی نماز کو اس نہج پر پورا کرو گے تو وہ مکمل ہو گی، اور اگر تم نے اس میں سے کچھ کمی کی تو تم اپنی نماز میں کمی کرو گے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1315]
ایک بدری صحابی (حضرت رفاعہ بن رافع) رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسجد میں بیٹھا تھا کہ ایک آدمی داخل ہوا اور اس نے دو رکعتیں پڑھیں، پھر وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو سلام کہا، جب کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے نماز میں دیکھتے رہے تھے۔ آپ نے اسے سلام کا جواب دیا اور فرمایا: واپس جا، دوبارہ نماز پڑھ، تو نے نماز نہیں پڑھی۔ وہ واپس گیا، پھر نماز پڑھی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو سلام کہا۔ آپ نے اسے سلام کا جواب دیا اور فرمایا: واپس جا، پھر نماز پڑھ، تو نے نماز نہیں پڑھی۔ حتیٰ کہ تیسری یا چوتھی دفعہ ہوئی تو اس نے کہا: قسم اس ذات کی جس نے آپ پر کتاب اتاری! میں تو (بار بار نماز پڑھ کر) تھک گیا ہوں، میری خواہش ہے کہ آپ مجھے (نماز پڑھ کر) دکھائیں اور مجھے سکھلا دیں۔ آپ نے فرمایا: جب تو نماز کا ارادہ کرے تو وضو کر اور بہترین وضو کر، پھر قبلے کی طرف منہ کر اور «اَللّٰهُ أَكْبَرُ» اللہ سب سے بڑا ہے کہہ، پھر قرآن (کم از کم فاتحہ) پڑھ، پھر رکوع کر حتیٰ کہ تجھے رکوع میں اطمینان حاصل ہو، پھر سر اٹھا حتیٰ کہ سیدھا کھڑا ہو جائے، پھر سجدہ کر حتیٰ کہ تجھے سجدے میں اطمینان حاصل ہو، پھر سر اٹھا حتیٰ کہ تو اطمینان سے بیٹھ جائے، پھر دوسرا سجدہ کر حتیٰ کہ تجھے سجدے میں اطمینان حاصل ہو، پھر سر اٹھا، پھر جب تو اس طریقے سے نماز مکمل کر لے تو تیری نماز مکمل اور صحیح ہو جائے گی۔ اور جو تو ان کاموں میں کمی کرے گا تو یقیناً اپنی نماز ہی میں نقص ڈالے گا۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1315]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «أنظر حدیث رقم: 668 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1320
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنِ الْأَسْوَدِ , وَعَلْقَمَةَ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَبِّرُ فِي كُلِّ خَفْضٍ وَرَفْعٍ وَقِيَامٍ وَقُعُودٍ وَيُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ , السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ خَدِّهِ" وَرَأَيْتُ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَفْعَلَانِ ذَلِكَ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ ہر جھکنے اٹھنے اور کھڑے ہونے اور بیٹھنے میں اللہ اکبر کہتے، پھر اپنی دائیں طرف اور بائیں طرف «السلام عليكم ورحمة اللہ السلام عليكم ورحمة اللہ» کہتے ہوئے سلام پھیرتے، یہاں تک کہ آپ کے رخسار کی سفیدی دیکھی جاتی، اور میں نے ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہم کو بھی اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1320]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ ہر جھکتے، اٹھتے اور کھڑے ہوتے اور بیٹھتے وقت «اللّٰهُ أَكْبَرُ» کہتے اور اپنے دائیں اور بائیں سلام کہتے: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ، السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ» تم پر اللہ تعالیٰ کا سلام اور رحمت ہو۔ (اور منہ بھی موڑتے تھے) حتیٰ کہ آپ کے رخسار کی سفیدی نظر آتی تھی اور میں نے حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کو بھی ایسے کرتے دیکھا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1320]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «أنظر حدیث رقم: 1084، (تحفة الأشراف: 9174) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں