سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
35. بَابُ: الْقَضَاءِ فِيمَنْ لَمْ تَكُنْ لَهُ بَيِّنَةٌ
باب: جس کا کوئی گواہ نہ ہو اس کے بارے میں کیوں کر فیصلہ ہو۔
حدیث نمبر: 5426
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي مُوسَى:" أَنَّ رَجُلَيْنِ اخْتَصَمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دَابَّةٍ لَيْسَ لِوَاحِدٍ مِنْهُمَا بَيِّنَةٌ فَقَضَى بِهَا بَيْنَهُمَا نِصْفَيْنِ".
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دو لوگ ایک جانور کے بارے میں جھگڑا لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے، ان میں سے کسی کے پاس کوئی گواہ نہ تھا، تو آپ نے اس کے آدھا کیے جانے کا فیصلہ کیا۔ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5426]
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دو آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک جانور کے بارے میں جھگڑتے ہوئے آئے، دلیل کسی کے پاس بھی نہیں تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ ان دونوں کو نصف نصف دے دیا۔ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5426]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الٔرقضیة 22 (3613)، سنن ابن ماجہ/الٔوحکام 11 (2330)، (تحفة الأشراف: 9088)، مسند احمد (4/403) (ضعیف) (اس روایت کی سند اور متن دونوں میں سخت اختلاف ہے، اس کا مرسل ہونا ہی صحیح ہے، دیکھیے الإرواء رقم 2656)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: حسن