سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
47. بَابُ: نَصْبِ الْقَدَمَيْنِ فِي السُّجُودِ
باب: سجدے میں دونوں پیر کھڑا رکھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1101
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدَةُ، قال: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت:" فَقَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِ وَهُوَ سَاجِدٌ وَقَدَمَاهُ مَنْصُوبَتَانِ وَهُوَ يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ وَبِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ وَبِكَ مِنْكَ لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک رات مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بستر پہ نہیں ملے تو میں تلاش کرتی ہوئی آپ تک پہنچی، آپ سجدے میں تھے، آپ کے دونوں قدم کھڑے تھے، اور آپ یہ دعا پڑھ رہے تھے: «اللہم إني أعوذ برضاك من سخطك وبمعافاتك من عقوبتك وبك منك لا أحصي ثناء عليك أنت كما أثنيت على نفسك» ”اے اللہ! میں پناہ مانگتا ہوں تیری رضا مندی کی تیری ناراضگی سے، تیرے عفو و درگزر کی تیری سزا اور عقوبت سے، اور تیری پناہ چاہتا ہوں تیرے غضب سے، میں تیری تعریف کی طاقت نہیں رکھتا، تو ویسے ہی ہے جیسے تو نے اپنی تعریف بیان کی ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1101]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بستر پر نہ پایا، (میں نے ٹٹولنا شروع کیا) میرا ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں پاؤں کھڑے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھ رہے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ، وَبِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ، لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ، أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ» ”اے اللہ! میں تیرے غصے سے (بچنے کے لیے) تیری رضا مندی کی پناہ میں آتا ہوں اور تیری سزا سے (بچنے کے لیے) تیری معافی کی پناہ میں آتا ہوں اور تجھ (تیرے عذاب) سے (بچنے کے لیے) تیری (رحمت کی) پناہ میں آتا ہوں۔ میں تیری پوری تعریف نہیں کرسکتا۔ تو اسی طرح ہے جس طرح تو نے خود اپنی تعریف کی ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1101]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 169، (تحفة الأشراف: 17807) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح