🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شرکۃ الحروف سے تلاش کل احادیث (4154)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم دار السلفیہ سے تلاش کل احادیث (2978)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
84. بَابُ مَا جَاءَ فِي ابْنَةِ الْأَخِ مِنَ الرَّضَاعَةِ
رضاعت سے پیدا ہونے والی بھتیجی (بھائی کی بیٹی) سے نکاح کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 997 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 2174
نا نا سُفْيَانُ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حَبِيبٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ كِنَانَةَ , أُرَاهُ , عِتْوَارِيًّا، قَالَ: جَلَسْتُ إِلَى ابْنِ عُمَرَ، فَقَالَ: أَمِنْ بَنِي فُلانٍ أَنْتَ؟ قُلْتُ: لا، وَلَكِنَّهُمْ أَرْضَعُونِي. قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَقُولُ: " إِنَّ اللَّبَنَ يُشْتَبَهُ عَلَيْهِ" .
عمر بن حبیب، ایک آدمی سے (جو غالباً کینانہ قبیلے کا عتواری تھا) روایت کرتے ہیں، وہ کہتا ہے: میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا تھا، انہوں نے پوچھا: ”کیا تم فلاں قبیلے سے ہو؟“ میں نے کہا: ”نہیں، البتہ انہوں نے مجھے دودھ پلایا ہے۔“ تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہم نے فرمایا: ”دودھ کے بارے میں شبہ ہو سکتا ہے۔“ [سنن سعید بن منصور/كتاب النكاح/حدیث: 2174]
تخریج الحدیث: «آسنادہ ضعیف، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 997، 2299، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 15780، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 13953»
مجہول راوی رجل من كنانة أراه عتواريا

الحكم على الحديث:
آسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
85. بَابُ مَا جَاءَ فِيمَنْ أَصْدَقَ سِرًّا مَهْرًا وَأَعْلَنَ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ
مہر کو خفیہ طور پر کم اور اعلانیہ زیادہ ظاہر کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 998 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 2175
نا هُشَيْمٌ، أنا خَالِدٌ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ شُرَيْحٍ ," فِيمَنْ أَصْدَقَ سِرًّا وَأَعْلَنَ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ أَنَّهُ أَجَازَ السِّرَّ، وَأَبْطَلَ الْعَلانِيَةَ" . قَالَ هُشَيْمٌ: وَهُوَ الْقَوْلُ عِنْدَنَا.
حضرت ابنِ سیرین رحمہ اللہ سے شریح رحمہ اللہ کے بارے میں روایت ہے کہ اگر کسی نے نکاح کے مہر کو خفیہ طور پر طے کیا ہو اور علانیہ میں زیادہ کیا ہو تو شریح رحمہ اللہ نے خفیہ (مہر) کو درست اور علانیہ کو باطل قرار دیا، ہشیم نے کہا: ”ہمارے نزدیک بھی یہی قول ہے۔“ [سنن سعید بن منصور/كتاب النكاح/حدیث: 2175]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 998، 1000، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 16361»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 999 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 2176
نا هُشَيْمٌ، أنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ , أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: " يَجُوزُ السِّرُّ وَيَبْطُلُ الْعَلانِيَةُ" .
حضرت حسن بصری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ وہ فرمایا کرتے تھے: ”خفیہ (مہر) درست اور علانیہ باطل ہے۔“ [سنن سعید بن منصور/كتاب النكاح/حدیث: 2176]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 999، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 16357»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 1000 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 2177
نا هُشَيْمٌ، أنا حَجَّاجٌ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيِّ، عَنْ شُرَيْحٍ، مِثْلَ ذَلِكَ.
حضرت شریح رحمہ اللہ سے بھی یہی روایت ہے کہ خفیہ درست اور علانیہ باطل ہے۔ [سنن سعید بن منصور/كتاب النكاح/حدیث: 2177]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 998، 1000، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 16361»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 1001 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 2178
نا هُشَيْمٌ، أنا حُصَيْنٌ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ، وَعَبْدُ السَّلامِ , مولى قريش , أنهم سمعوا الشعبي , يَقُولُ: " يُؤْخَذُ بِالْعَلانِيَةِ" .
حضرت شعبی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ وہ فرمایا کرتے تھے: ”علانیہ کو اختیار کیا جائے۔“ [سنن سعید بن منصور/كتاب النكاح/حدیث: 2178]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 1001، 1002، 1003»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 1002 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 2179
نا خَالِدٌ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ , قَالَ: " يُؤْخَذُ بِالْعَلانِيَةِ" .
حضرت شعبی رحمہ اللہ سے عامر روایت کرتے ہیں کہ وہ فرمایا کرتے تھے: ”علانیہ کو اختیار کیا جائے۔“ [سنن سعید بن منصور/كتاب النكاح/حدیث: 2179]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 1001، 1002، 1003»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 1003 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 2180
نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، نا أَبُو إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيُّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ , قَالَ: " يُؤْخَذُ بِالْعَلانِيَةِ" .
حضرت شعبی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ وہ فرمایا کرتے تھے: ”علانیہ کو اختیار کیا جائے۔“ ہشیم نے کہا: ابن ابی لیلیٰ بھی فرماتے تھے: ”علانیہ کو اختیار کیا جائے۔“ [سنن سعید بن منصور/كتاب النكاح/حدیث: 2180]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 1001، 1002، 1003»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
86. بَابُ الْجَمْعِ بَيْنَ ابْنَةِ الرَّجُلِ وَامْرَأَتِهِ
بیٹی اور سوتیلی ماں کو نکاح میں جمع کرنے کی ممانعت کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 1004 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 2181
قَالَ هُشَيْمٌ: قَالَ ابْنُ أَبِي لَيْلَى: " يَأْخُذُ بِالْعَلانِيَةِ" . نا هُشَيْمٌ، نا مَنْصُورٌ، عَنِ الْحَسَنِ ," أَنَّهُ كَانَ يَكْرَهُ الْجَمْعَ بَيْنَ ابْنَةِ الرَّجُلِ وَامْرَأَتِهِ" .
حضرت حسن بصری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ وہ فرمایا کرتے تھے: ”آدمی کے لیے اپنی بیٹی اور بیوی کو جمع کرنا مکروہ ہے۔“ [سنن سعید بن منصور/كتاب النكاح/حدیث: 2181]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 1004، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 16677»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 1005 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 2182
نا هُشَيْمٌ، أنا ابْنُ عَوْنٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ," أَنَّهُ كَانَ لا يَرَى بِذَلِكَ بَأْسًا" .
حضرت ابن سیرین رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ وہ اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔ [سنن سعید بن منصور/كتاب النكاح/حدیث: 2182]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 1005، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 16673، 16677، 16680»
قال ابن حجر: سند صحيح، فتح الباري شرح صحيح البخاري: (9 / 57)

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 1006 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 2183
نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنا أَيُّوبُ، قَالَ:" سُئِلَ الْحَسَنُ وَمُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ عَنِ الرَّجُلِ يَتَزَوَّجُ امْرَأَةَ الرَّجُلِ وَابْنَتَهُ مِنْ غَيْرِهَا، فَكَرِهَ ذَلِكَ الْحَسَنُ، وَلَمْ يَرَ بِهِ بَأْسًا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ، فَقَالَ: قَدْ فَعَلَ جَبَلَةُ، رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ" .
ایوب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ حسن بصری رحمہ اللہ اور محمد بن سیرین رحمہ اللہ سے ایک آدمی کے بارے میں پوچھا گیا جو کسی مرد کی بیوی اور کسی اور سے اس کی بیٹی کو نکاح میں رکھے، تو حسن بصری رحمہ اللہ نے اسے مکروہ جانا، اور محمد بن سیرین رحمہ اللہ نے کوئی حرج نہیں سمجھا اور کہا: ”مصر کے ایک آدمی جبلہ نے بھی ایسا کیا تھا۔“ [سنن سعید بن منصور/كتاب النكاح/حدیث: 2183]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 1006، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 16681»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں