المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
51. إِنَّ اللَّهَ لَيَعْجَبُ إِلَى الْعَبْدِ إِذَا قَالَ: لَا إِلَهَ إَلَّا أَنْتَ إِنِّي قَدْ ظَلَمْتُ نَفْسِي
اللہ تعالیٰ اس بندے پر تعجب فرماتا ہے جو کہتا ہے: تیرے سوا کوئی معبود نہیں، میں نے اپنی جان پر ظلم کیا۔
حدیث نمبر: 2514
حدَّثَناه علي بن عيسى (2) الحيري، حدثنا مُسدَّد بن قَطَن، حدثنا عثمان ابن أبي شَيْبة، حدثنا جرير، عن منصور، عن أبي إسحاق، عن علي بن رَبيعة، قال: رأيت عليًّا أتي بدايّةٍ، فذكر الحديث مثلَه سواءً (3) . وشاهدُه حديث أبي هريرة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2482 - على شرط مسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2482 - على شرط مسلم
علی بن ربیعہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ ان کے پاس ایک سواری لائی گئی، پھر انہوں نے پچھلی حدیث کی طرح مکمل واقعہ بیان کیا۔
منصور بن معتمر نے اسے ابو اسحاق کے واسطے سے اسی سیاق کے ساتھ روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الجهاد/حدیث: 2514]
منصور بن معتمر نے اسے ابو اسحاق کے واسطے سے اسی سیاق کے ساتھ روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الجهاد/حدیث: 2514]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد رجاله ثقات، لكن له علة خفية كما قال الحافظ ابن حجر في "نتائج الأفكار" فيما نقله عنه ابن علّان في "الفتوحات الربانية" 5/ 125، قال: وقفت له على علة خفية ذكرها الحاكم في "تاريخ نيسابور"، وذهل عنها في "المستدرك"، ما أسنده إلى عبد الرحمن بن بشر ...» [ترقيم الرساله 2514] [ترقيم الشركة 2497] [ترقيم العلميه 2482]
الحكم على الحديث: حديث صحيح
52. دُعَاءُ رُكُوبِ الدَّابَّةِ
سواری پر سوار ہوتے وقت کی دعا۔
حدیث نمبر: 2515
أخبرَناه أحمد بن يعقوب الثقفي، حدثنا محمد بن عبد الله الحَضْرمي، حدثنا أحمد بن عثمان الأوْدي، حدثنا شُريح بن مَسلَمة، حدثنا إبراهيم بن يوسف ابن إسحاق بن أبي إسحاق، حدثنا عبد الجبّار بن العباس، عن عُمَير بن عبد الله، عن أبي زُرْعة، عن أبي هريرة، قال: إني لآخِذٌ بخُطام الناقة لأزُمَّها، حتى استوى رسولُ الله ﷺ عليها، فقال:"اللهم أنتَ الصاحبُ في السفَر، والخَلِيفةُ في الأهلِ، اللهم اصْحَبْنا بصُحْبةٍ واقلبنا بذِمَّةٍ، اللهم ارزقني قَفْل الأرض، وهَوِّن علينا السفَر، اللهم إني أعوذُ بك مِن عَوْثاء (1) السفر وكآبةِ المُنقَلَب - قال أبو زُرعة: وكان أبو هريرة رجلًا عربيًّا، لو أراد أن يقول: وَعْثاء السفر، لقال - اللهم اقْلِبْنا بذِمَّةٍ، اللهم ازْوِ لنا الأرضَ وسَيِّرنا فيها" (2) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں اونٹنی کی نکیل پکڑ کر اسے کھینچ رہا تھا یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سیدھے ہو کر بیٹھ گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا فرمائی: «اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ، وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ، اللَّهُمَّ اصْحَبْنَا بِصُحْبَةٍ وَاقْلِبْنَا بِذِمَّةٍ، اللَّهُمَّ ارْزُقْنِي قَفْلَ الْأَرْضِ، وَهَوِّنْ عَلَيْنَا السَّفَرَ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ وَكَآبَةِ الْمُنْقَلَبِ» ”اے اللہ! تو ہی سفر میں ہمارا ساتھی ہے اور گھر والوں میں ہمارا نگہبان ہے، اے اللہ! اپنی رفاقت میں ہمارا ساتھ دے اور اپنی ذمہ داری (حفاظت) میں ہمیں واپس لوٹا، اے اللہ! مجھے زمین کی مسافت سمیٹنے کا رزق عطا فرما اور ہم پر سفر آسان کر دے، اے اللہ! میں سفر کی تکالیف اور واپسی کے رنج و غم سے تیری پناہ مانگتا ہوں“، ابوزُراعہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فصیح عرب تھے، اگر وہ «وَعْثاء» کہنا چاہتے تو کہہ سکتے تھے (مگر انہوں نے «عَوْثاء» کہا)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی دعا کی: «اللَّهُمَّ اقْلِبْنَا بِذِمَّةٍ، اللَّهُمَّ ازْوِ لَنَا الْأَرْضَ وَسَيِّرْنَا فِيهَا» ”اے اللہ! ہمیں اپنی پناہ میں واپس لوٹا، اے اللہ! ہمارے لیے زمین کو سمیٹ دے اور ہمیں اس میں چلا۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الجهاد/حدیث: 2515]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، لكنه اختُلف في تعيين الراوي عن أبي زرعة بن عمرو ابن جرير، فسمّاه عبد الجبار بن العباس عمير بن عبد الله - وهو ابن بشر الخَثْعَمي - كما وقع هنا، وسمّاه شعبة في رواية ابن أبي عدي عنه عبدَ الله بن بشر الخثعمي -يعني والدَ ...» [ترقيم الرساله 2515] [ترقيم الشركة 2498]
الحكم على الحديث: حديث صحيح
53. شِكَايَةُ الْجَمَلِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
نبی ﷺ کے پاس اونٹ کی شکایت کا واقعہ۔
حدیث نمبر: 2516
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصفّار، حدثنا أحمد بن مِهْران الأصبهاني، حدثنا عُبيد الله بن موسى، حدثنا مَهْدي بن ميمون، حدثنا محمد بن عبد الله ابن أبي يعقوب، عن الحسن بن سعد مولى الحسين (1) بن علي، عن عبد الله بن جعفر، قال: أردَفَني رسولُ الله ﷺ ذات يوم خلفه، فأسرَّ إليَّ حديثًا لا أحدِّث به أحدًا من الناس. قال: وكان أحبُّ ما استَتَر به رسول الله ﷺ لحاجتِه هدفًا أو حائشَ نخلٍ، فدخل حائطًا لرجل من الأنصار، فإذا جَمَلٌ فلمّا رأى النبيَّ ﷺ حنَّ إليه، وذَرَفَتْ عيناهُ، فأتاه النبيُّ ﷺ فَمَسَحَ ذِفْراته (1) فَسَكَن، فقال: مَن ربُّ هذا الجَمَل؟ لمن هذا الجَمَل؟ قال: فجاء فتًى من الأنصار فقال هو لي يا رسول الله، فقال:"ألا تتَّقي الله في هذه البَهيمةِ التي مَلّكَكَ الله إياها، فإنّه شَكَا إِليَّ أنك تُجِيعُه وتُدْئبُه" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2485 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2485 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے پیچھے سواری پر بٹھایا اور مجھ سے چپکے سے ایک ایسی بات فرمائی جو میں کسی کو نہیں بتاؤں گا، راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رفعِ حاجت کے لیے کسی اونچی جگہ یا کھجوروں کے جھنڈ کے پیچھے چھپنا زیادہ پسند فرماتے تھے، ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انصار کے ایک شخص کے باغ میں داخل ہوئے تو وہاں ایک اونٹ موجود تھا، جب اونٹ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو وہ بلبلانے لگا اور اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس تشریف لائے اور اس کے سر کے پچھلے حصے پر ہاتھ پھیرا تو وہ پرسکون ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”اس اونٹ کا مالک کون ہے؟ یہ کس کا اونٹ ہے؟“ انصار کا ایک نوجوان حاضر ہوا اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! یہ میرا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اس بے زبان جانور کے معاملے میں اللہ سے نہیں ڈرتے جس کا اللہ نے تمہیں مالک بنایا ہے؟ اس نے مجھ سے شکایت کی ہے کہ تم اسے بھوکا رکھتے ہو اور اس سے بہت زیادہ کام لے کر اسے تھکاتے ہو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الجهاد/حدیث: 2516]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الجهاد/حدیث: 2516]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل أحمد بن مهران، وقد توبع. عبد الله بن جعفر: هو ابن أبي طالب.» [ترقيم الرساله 2516] [ترقيم الشركة 2499] [ترقيم العلميه 2485]
الحكم على الحديث: حديث صحيح
54. لَا تَتَّخِذُوا الدَّوَابَّ كَرَاسِيَّ
جانوروں کو کرسیاں نہ بناؤ۔
حدیث نمبر: 2517
حدثنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا الحسن بن علي بن زياد، حدثنا سعيد بن سليمان الواسِطي. وأخبرني عمرو بن محمد بن منصور العَدْل، حدثنا عُمر بن حفص السَّدُوسي، حدثنا عاصم بن علي، قالا حدثنا الليث بن سعد، عن يزيد بن أبي حبيب، عن سَهْل بن معاذ بن أنس الجهني، عن أنس -وكان من أصحاب النبي ﷺ قال:"اركَبُوا هذه الدوابَّ سالمةً، وابْتَدِعُوها سالمةً، ولا تتخِذُوها كَرَاسيَّ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2486 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2486 - صحيح
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان جانوروں پر صحیح سلامت حالت میں سواری کرو اور انہیں صحیح سلامت حالت میں ہی چھوڑو، اور انہیں کرسیاں نہ بناؤ (یعنی ان کی پیٹھ پر بلا ضرورت بیٹھے نہ رہو)۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الجهاد/حدیث: 2517]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الجهاد/حدیث: 2517]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن.» [ترقيم الرساله 2517] [ترقيم الشركة 2500] [ترقيم العلميه 2486]
الحكم على الحديث: إسناده حسن.
55. الدُّعَاءُ إِذَا نَزَلَ فِي السَّفَرِ فِي مَقَامٍ
سفر میں کسی جگہ ٹھہرنے کے وقت کی دعا۔
حدیث نمبر: 2518
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن عوف بن سفيان الطائي بحِمْص، حدثنا أبو المغيرة عبد القُدّوس بن الحجّاج، حدثنا صفوان بن عمرو، عن شُريح بن عُبيد الحَضْرمي، أنه سمع الزُّبَير بن الوليد يحدّث عن عبد الله ابن عمر بن الخطاب، قال: كان رسول الله ﷺ إذا غزا أو سافَر فأدركَه الليلُ، قال:"يا أرضُ، ربِّي وربُّكِ الله، أعوذُ بالله من شَرِّك، وشرِّ ما فيك، وشرِّ ما خُلِقَ فيك، وشرِّ ما دَبَّ عليك، أعوذُ بالله من شرِّ كل أسدٍ وأسوَدَ وحيّةٍ وعقرب، ومن شرِّ ساكنِ البلد، ومن شرِّ والدٍ وما وَلَدَه" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2487 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2487 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی غزوے یا سفر پر ہوتے اور رات ہو جاتی تو فرماتے: «يَا أَرْضُ، رَبِّي وَرَبُّكِ اللهُ، أَعُوذُ بِاللهِ مِنْ شَرِّكِ، وَشَرِّ مَا فِيكِ، وَشَرِّ مَا خُلِقَ فِيكِ، وَشَرِّ مَا دَبَّ عَلَيْكِ، أَعُوذُ بِاللهِ مِنْ شَرِّ كُلِّ أَسَدٍ وَأَسْوَدَ وَحَيَّةٍ وَعَقْرَبٍ، وَمِنْ شَرِّ سَاكِنِ الْبَلَدِ، وَمِنْ شَرِّ وَالِدٍ وَمَا وَلَدَ» ”اے زمین! میرا اور تیرا رب اللہ ہے، میں تیری برائی سے، جو کچھ تجھ میں ہے اس کی برائی سے، جو کچھ تجھ میں پیدا کیا گیا اس کی برائی سے اور جو کچھ تجھ پر رینگتا ہے اس کی برائی سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں، میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں ہر شیر، سیاہ سانپ، بچھو، بستی کے رہنے والے (جنوں) کے شر سے اور باپ اور اس کی اولاد کے شر سے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الجهاد/حدیث: 2518]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الجهاد/حدیث: 2518]
تخریج الحدیث: «إسناده محتمل للتحسين من أجل الزُّبَير بن الوليد، وحسَّن الحافظُ ابن حجر إسنادَه في "نتائج الأفكار" كما في الفتوحات الربانية لابن علّان 5/ 164.» [ترقيم الرساله 2518] [ترقيم الشركة 2501] [ترقيم العلميه 2487]
الحكم على الحديث: إسناده محتمل للتحسين من أجل الزُّبَير بن الوليد
56. الدُّعَاءُ عِنْدَ رُؤْيَةِ قَرْيَةٍ يُرِيدُ دُخُولَهَا
اس بستی کو دیکھنے پر دعا جو اس میں داخل ہونا چاہے۔
حدیث نمبر: 2519
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرني حفص بن مَيسَرة، عن موسى بن عُقْبة، عن عطاء ابن أبي مروان، عن أبيه، أنَّ كعبًا حدثه، أنَّ صهيبًا صاحبَ النبي ﷺ حدّثه: أنَّ النبي ﷺ لم يَرَ قريةً يريد دخولها إلَّا قال حين يراها:"اللهم ربَّ السماوات السبعِ وما أظلَلْنَ، وربَّ الأَرْضِينَ السبعِ وما أقلَلْنَ، وربَّ الشياطين وما أضلَلْنَ، وربَّ الرياح وما ذَرَيْنَ، فإنا نسألك خيرَ هذه القريةِ وخيرَ أهلِها، ونعوذُ بك من شرِّها وشرِّ أهلها، وشرِّ ما فيها" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2488 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2488 - صحيح
سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی کسی بستی کو دیکھتے جس میں داخل ہونے کا ارادہ ہوتا تو اس وقت یہ فرماتے: «اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ وَمَا أَظْلَلْنَ، وَرَبَّ الْأَرَضِينَ السَّبْعِ وَمَا أَقْلَلْنَ، وَرَبَّ الشَّيَاطِينِ وَمَا أَضْلَلْنَ، وَرَبَّ الرِّيَاحِ وَمَا ذَرَيْنَ، فَإِنَّا نَسْأَلُكَ خَيْرَ هَذِهِ الْقَرْيَةِ وَخَيْرَ أَهْلِهَا، وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ أَهْلِهَا، وَشَرِّ مَا فِيهَا» ”اے اللہ! ساتوں آسمانوں اور ان تمام چیزوں کے رب جن پر انہوں نے سایہ کیا ہوا ہے، اور ساتوں زمینوں اور ان چیزوں کے رب جنہیں انہوں نے اٹھایا ہوا ہے، اور شیطانوں کے رب جنہیں انہوں نے گمراہ کیا، اور ہواؤں کے رب جنہوں نے انہیں اڑایا، ہم تجھ سے اس بستی کی خیر، اس کے رہنے والوں کی خیر اور اس میں موجود خیر کا سوال کرتے ہیں، اور ہم اس بستی کے شر، اس کے رہنے والوں کے شر اور جو کچھ اس میں ہے اس کے شر سے تیری پناہ مانگتے ہیں۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الجهاد/حدیث: 2519]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الجهاد/حدیث: 2519]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل أبي مروان والد عطاء، وقد توبع كما تقدم بيانه عند الرواية السالفة برقم (1651) من طريق بحر بن نصر الخولاني عن عبد الله بن وهب.» [ترقيم الرساله 2519] [ترقيم الشركة 2502] [ترقيم العلميه 2488]
الحكم على الحديث: حديث صحيح
57. ذِكْرُ خَيْرِ الصَّحَابَةِ وَخَيْرِ السَّرَايَا وَخَيْرِ الْوُحُوشِ
بہترین صحابہ، بہترین لشکروں اور بہترین جانوروں کا بیان
حدیث نمبر: 2520
حدثنا أبو بكر أحمد بن كامل بن خَلَف القاضي، حدثنا أبو قِلابةَ، حدثنا وهب بن جَرِير، حدثنا أبي، قال: سمعت يونس يحدِّث عن الزُّهْري، عن عُبيد الله بن عبد الله، عن ابن عباس، قال: قال رسول الله ﷺ:"خيرُ الصحابةِ أربعةٌ، وخير السَّرايا أربعُ مئة، وخيرُ الجيوش أربعةُ آلافٍ، ولن يُغلَبَ اثنا عشرَ ألفًا من قِلّةٍ" (2) . هذا إسناد صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه لخلافٍ بين الناقِلين فيه عن الزُّهْري.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2489 - لم يخرجاه لخلاف بين أصحاب الزهري فيه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2489 - لم يخرجاه لخلاف بين أصحاب الزهري فيه
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہترین ساتھی چار ہیں، بہترین سریہ (لشکر کا دستہ) چار سو افراد کا ہے، بہترین لشکر چار ہزار کا ہے، اور بارہ ہزار کا لشکر اپنی قلت کی وجہ سے مغلوب نہیں ہوگا۔“
یہ اسناد امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے زہری سے روایت کرنے والے راویوں کے اختلاف کی وجہ سے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الجهاد/حدیث: 2520]
یہ اسناد امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے زہری سے روایت کرنے والے راویوں کے اختلاف کی وجہ سے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الجهاد/حدیث: 2520]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات، وقد اختلف في وصله وإرساله، وقد سلف برقم (1638) من طريق إبراهيم ابن مرزوق الأموي البصري عن وهب بن جرير.» [ترقيم الرساله 2520] [ترقيم الشركة 2503] [ترقيم العلميه 2489]
الحكم على الحديث: رجاله ثقات
58. خَيْرُ الْجِيرَانِ خَيْرُهُمْ لِجَارِهِ
بہترین پڑوسی وہ ہے جو اپنے پڑوسی کے لیے سب سے بہتر ہو
حدیث نمبر: 2521
أخبرنا الحسن بن حَليم المروَزي، حدثنا أبو المُوجِّه، أخبرنا عَبْدان، أخبرنا عبد الله، أخبرنا حَيوة بن شُريح، حدثني شُرَحْبيل بن شَريك، عن أبي عبد الرحمن الحُبُلي، عن عبد الله بن عمرو، عن النبي ﷺ، قال:"خيرُ الأصحابِ عند الله خيرُهم لصاحبه، وخيرُ الجِيران عند الله خيرُهم لجارِه" (3)
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2490 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2490 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے نزدیک بہترین ساتھی وہ ہے جو اپنے ساتھی کے لیے سب سے بہتر ہو، اور اللہ کے نزدیک بہترین پڑوسی وہ ہے جو اپنے پڑوسی کے لیے سب سے بہتر ہو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الجهاد/حدیث: 2521]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الجهاد/حدیث: 2521]
تخریج الحدیث: «إسناده قوي، من أجل شرحبيل بن شريك، فهو صدوق لا بأس به. أبو الموجِّه: هو محمد بن عمرو الفزاري، وعَبْدان: هو عبد الله بن عثمان بن جَبَلة، وعبدان لقبه، وعبد الله: هو ابن المبارك، وأبو عبد الرحمن الحُبُلي: هو عبد الله بن يزيد المَعافِري.» [ترقيم الرساله 2521] [ترقيم الشركة 2504] [ترقيم العلميه 2490]
الحكم على الحديث: إسناده قوي
حدیث نمبر: 2522
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا إبراهيم بن عبد الله السَّعْدي، أخبرنا رَوح بن عُبادة، أخبرنا ابن جُرَيج، أخبرني جعفر بن محمد، عن أبيه، عن جابر، قال: شكا ناسٌ إلى النبي ﷺ المَشْيَ فدعا بهم، وقال:"عليكم بالنَّسَلانِ"، فنَسَلْنا فوجَدْناه أخَفَّ علينا (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2491 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2491 - على شرط مسلم
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کچھ لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پیدل چلنے کی شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلا کر فرمایا: ”تم پر تیز چلنا ( «نَسَلان») لازم ہے“، چنانچہ ہم تیز قدموں سے چلے تو ہم نے اسے اپنے لیے زیادہ آسان محسوس کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الجهاد/حدیث: 2522]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الجهاد/حدیث: 2522]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،ابن جُرَيج هو عبد الملك بن عبد العزيز المكي، وجعفر بن محمد: هو ابن علي بن الحسين بن علي بن أبي طالب.» [ترقيم الرساله 2522] [ترقيم الشركة 2505] [ترقيم العلميه 2491]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
59. تَوْدِيعُ الْمَنْزِلِ بِرَكْعَتَيْنِ
گھر سے روانگی کے وقت دو رکعت نماز پڑھنا
حدیث نمبر: 2523
أخبرنا أبو عمرو بن إسماعيل، حدثنا محمد بن إسحاق، حدثنا محمد ابن أبي صفوان الثقفي، حدثنا عبد السلام بن هاشم، حدثنا عثمان بن سعد الكاتب، عن أنس بن مالك قال: كان النبي ﷺ ينزل منزلًا إلّا وَدَّعَه بركعتين (2) .
هذا حديث صحيح، ولم يُخرجاه، وعثمان بن سعد ممّن يُجمع حديثُه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2492 - لا فإن عبد السلام كذبه الفلاس وعثمان لين
هذا حديث صحيح، ولم يُخرجاه، وعثمان بن سعد ممّن يُجمع حديثُه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2492 - لا فإن عبد السلام كذبه الفلاس وعثمان لين
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی کسی مقام پر قیام فرماتے تو وہاں سے روانہ ہوتے وقت اسے دو رکعتوں کے ساتھ الوداع کہتے تھے۔
یہ حدیث صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور عثمان بن سعد ان راویوں میں سے ہیں جن کی حدیث کو جمع کیا جاتا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الجهاد/حدیث: 2523]
یہ حدیث صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور عثمان بن سعد ان راویوں میں سے ہیں جن کی حدیث کو جمع کیا جاتا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الجهاد/حدیث: 2523]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف عثمان بن سعد وعبد السلام بن هاشم، بل أتَّهم أبو حفص عمرو بن علي الفلّاس هذا الثاني بالكذب، غير أنه قد توبع، فيبقى الشأن في شيخه عثمان بن سعد.» [ترقيم الرساله 2523] [ترقيم الشركة 2506] [ترقيم العلميه 2492]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لضعف عثمان بن سعد وعبد السلام بن هاشم