المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
378. مَدْحُ كَلَامِ اللَّهِ مِنْ لِسَانِ الْكَافِرِ
کافر کی زبان سے بھی اللہ کے کلام کی تعریف
حدیث نمبر: 3914
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن علي الصَّنعاني بمكة، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عبد الرزاق، عن مَعمَر، عن أيوب السَّخْتِياني، عن عِكْرمة، عن ابن عبَّاس: أنَّ الوليد بن المُغيرة جاء إلى النبي ﷺ فقرأ عليه القرآن، فكأنه رَقَّ له، فبَلَغَ ذلك أبا جهل، فأتاه فقال: يا عمِّ، إِنَّ قومَك يَرَونَ أَن يَجمَعوا لك مالًا، قال: لِمَ؟ قال: ليُعطوكَه، فإنك أتيتَ محمدًا لتَعرَّضَ لِمَا قِبَلَه، قال: قد عَلِمَت قريشٌ أني من أكثرها مالًا، قال: فقُلْ فيه قولًا يبَلُغ قومَك أنك منكِرٌ له، أو أنك كارهٌ له، قال: وماذا أقول؟ فواللهِ ما فيكم رجلٌ أعلمَ بالأشعار مني، ولا أعلمَ برَجَزِه ولا بقَصيدِه (2) مني، ولا بأشعار الجنِّ، واللهِ ما يُشبِهُ الذي يقول شيئًا من هذا، ووالله إنَّ لقولِه الذي يقول حلاوةً، وإنَّ عليه لطَلاوةً، وإنه لمثمِرٌ أعلاه، مُغدِقٌ أسفلُه (3) ، وإنه لَيَعلُو وما يُعلَى، وإنه ليَحطِمُ ما تحتَه (4) ، قال: لا يرضى عنك قومُك حتى تقولَ فيه، قال: فدَعْني حتى أفكِّر، فلما فَكَّرَ قال: هذا سِحْرٌ يُؤثَر، يَأْثُره عن غيره، فنزلت: ﴿ذَرْنِي وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيدًا﴾ [المدثر: 11] (1) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3872 - على شرط البخاري
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3872 - على شرط البخاري
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ولید بن مغیرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سامنے قرآن کریم کی تلاوت فرمائی، (جسے سن کر) اس کا دل کچھ نرم پڑ گیا، جب یہ خبر ابوجہل کو پہنچی تو وہ اس کے پاس آیا اور کہنے لگا: اے چچا! آپ کی قوم آپ کے لیے مال جمع کرنے کا ارادہ کر رہی ہے، اس نے پوچھا: کیوں؟ ابوجہل نے کہا: تاکہ وہ آپ کو دیں، کیونکہ آپ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس ان سے کچھ حاصل کرنے کی غرض سے گئے تھے، ولید نے کہا: قریش جانتے ہیں کہ میں ان سب سے زیادہ مالدار ہوں، ابوجہل نے کہا: پھر آپ ان ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے بارے میں ایسی بات کہیں جس سے آپ کی قوم کو معلوم ہو جائے کہ آپ ان کا انکار کرتے ہیں یا انہیں ناپسند کرتے ہیں، اس نے کہا: میں کیا کہوں؟ اللہ کی قسم! تم میں کوئی بھی مجھ سے بڑھ کر اشعار کو جاننے والا نہیں ہے، اور نہ ہی مجھ سے زیادہ کوئی ان کے رجز، قصیدے یا جنوں کے اشعار کا علم رکھتا ہے، اللہ کی قسم! جو وہ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کہتے ہیں وہ ان میں سے کسی چیز کے مشابہ نہیں ہے، اور اللہ کی قسم! ان کے اس کلام میں ایک مٹھاس ہے، اس پر ایک رونق اور خوبصورتی ہے، اس کا اوپر والا حصہ پھل دار اور نچلا حصہ فیض رساں ہے، یہ کلام سب پر غالب رہتا ہے اور اس پر کوئی چیز غالب نہیں آ سکتی، اور یہ اپنے سے نیچے کی تمام چیزوں کو روند ڈالتا ہے، ابوجہل نے کہا: آپ کی قوم آپ سے تب تک راضی نہیں ہوگی جب تک آپ ان کے بارے میں (کوئی منفی) بات نہ کہیں، ولید نے کہا: مجھے مہلت دو تاکہ میں سوچ لوں، پس جب اس نے غور کیا تو کہنے لگا: یہ تو جادو ہے جو (پچھلوں سے) نقل کیا گیا ہے، تب یہ آیت نازل ہوئی: ﴿ذَرْنِي وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيدًا﴾ [سورة المدثر: 11] ”آپ مجھے اور اسے چھوڑ دیجیے جسے میں نے تنہا پیدا کیا ہے۔“
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3914]
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3914]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 3914] [ترقيم الشركة 3893] [ترقيم العلميه 3872]
379. الْوَيْلُ وَادٍ فِي جَهَنَّمَ
وَیل جہنم کی ایک وادی ہے
حدیث نمبر: 3915
حدثني أبو الحسن أحمد بن محمد بن إسماعيل بن مِهْران، حدثني جدِّي، حدثني أبو عبيد الله الوَهْبي، حدثني عمِّي، عن عمرو بن الحارث، عن أبي السَّمْح، عن أبي الهيثم، عن أبي سعيد الخُدْري، عن النبي ﷺ قال:"الويلُ وادٍ في جهنَّم، يَهْوي فيه الكافرُ أربعين خريفًا قبل أن يَبلُغَ فَعْرَه، والصَّعُود (2) جبلٌ في النار يتصعَّدُ (3) فيه سبعين خريفًا، ثم يَهْوي وهو كذلك" (4) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3873 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3873 - صحيح
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «ويل» جہنم میں ایک وادی ہے، جس کی گہرائی میں کافر (گرنا شروع کرے تو) تہہ تک پہنچنے سے پہلے چالیس سال تک گرتا رہے گا، اور «الصَّعُود» آگ کا ایک پہاڑ ہے جس پر وہ ستر سال تک چڑھتا رہے گا، پھر وہاں سے (نیچے) گرے گا اور ہمیشہ اسی طرح ہوتا رہے گا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3915]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3915]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف رواية أبي السَّمح عن أبي الهيثم. أبو عبيد الله الوهبي: هو أحمد بن عبد الرحمن بن وهب المصري، وعمه: هو عبد الله بن وهب، وأبو السمح: هو درّاج بن سمعان، وأبو الهيثم: هو سليمان بن عمرو العُتْواري. وأخرج الشطر الأول منه ابن حبان (7467) من طريق حرملة ...» [ترقيم الرساله 3915] [ترقيم الشركة 3894] [ترقيم العلميه 3873]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 3916
أخبرنا أبو عمرو عثمان بن أحمد بن السَّمّاك ببغداد، حدثنا عبد الله بن محمد الحارثي، حدثنا علي بن قادِم، حدثنا سفيان الثَّوري، عن الأعمش، عن عثمان أبي اليَقْظان (1) ، عن زاذانَ، عن علي في قول الله ﷿: ﴿كُلُّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ رَهِينَةٌ (38) إِلَّا أَصْحَابَ الْيَمِينِ (39) ﴾، قال: أطفال المسلمين (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3874 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3874 - صحيح
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿كُلُّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ رَهِينَةٌ ٭ إِلَّا أَصْحَابَ الْيَمِينِ﴾ [سورة المدثر: 38-39] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: (اصحاب الیمین سے مراد) مسلمانوں کے بچے ہیں۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3916]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3916]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًّا، عثمان أبو اليقظان متفق على تضعيفه منكر الحديث.» [ترقيم الرساله 3916] [ترقيم الشركة 3895] [ترقيم العلميه 3874]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف جدًّا
380. افْتِرَاقُ النَّاسِ بِخُرُوجِ الدَّجَّالِ عَلَى ثَلَاثِ فِرَقٍ
دجال کے خروج پر لوگوں کا تین گروہوں میں بٹ جانا
حدیث نمبر: 3917
أخبرنا أبو بكر محمد بن جعفر بن موسى المزكِّي، حدثنا أبو عبد الله محمد بن إبراهيم العَبْدي، حدثنا محبوب بن موسى الأنطاكي، حدثنا ابن المبارَك، حدثنا سفيان بن سعيد، عن سَلَمة بن كُهَيل، عن أبي الزَّعْراء قال: ذُكِرَ الدَّجّالُ عند عبد الله بن مسعود، فقال: تفترقون أيها الناسُ بخروجه ثلاثَ فِرَق. ثم قال ابن مسعود: يا أيها الكفار ﴿مَا سَلَكَكُمْ فِي سَقَرَ (42) قَالُوا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّينَ (43) وَلَمْ نَكُ نُطْعِمُ الْمِسْكِينَ (44) وَكُنَّا نَخُوضُ مَعَ الْخَائِضِينَ (45) وَكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوْمِ الدِّينِ (46) حَتَّى أَتَانَا الْيَقِينُ (47) فَمَا تَنْفَعُهُمْ شَفَاعَةُ الشَّافِعِينَ (48) ﴾، ثم قال ابن مسعود: ألا تَرَونَ في هؤلاء من خيرٍ ألَّا يُترَك فيها، فإذا أراد الله أن لا يَخرُجَ منها أحدٌ غيَّر وجوهَهم وألوانَهم، فيَخِرُّ الرجلُ من المؤمنين فيقول: يا ربِّ، فيقول: من عَرَفَ رجلًا فليُخرِجْه، فيَنظُر فلا يعرفُ أحدًا، فيناديه الرجلُ: يا فلانُ، أنا فلانٌ، فيقول: ما أعرفُ، فعندَ ذلك يقولون: و ﴿رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْهَا فَإِنْ عُدْنَا فَإِنَّا ظَالِمُونَ (107) ﴾ فيقول عندَ ذلك: ﴿اخْسَئُوا فِيهَا وَلَا تُكَلِّمُونِ (108) ﴾ [المؤمنون: 107 - 108] ، فإذا قال ذلك، أطبَقَت عليهم جهَنَّمُ فلا يُخرِجُ بعد ذلك أحدًا (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
ابوزعراء رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس دجال کا ذکر کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: اے لوگو! اس کے خروج کے وقت تم تین گروہوں میں تقسیم ہو جاؤ گے۔ پھر ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے (اہلِ جہنم کا حال بیان کرتے ہوئے) فرمایا: اے کافرو! ﴿مَا سَلَكَكُمْ فِي سَقَرَ (42) قَالُوا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّينَ (43) وَلَمْ نَكُ نُطْعِمُ الْمِسْكِينَ (44) وَكُنَّا نَخُوضُ مَعَ الْخَائِضِينَ (45) وَكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوْمِ الدِّينِ (46) حَتَّى أَتَانَا الْيَقِينُ (47) فَمَا تَنْفَعُهُمْ شَفَاعَةُ الشَّافِعِينَ (48)﴾ [سورة المدثر: 42-48] ”تمہیں دوزخ میں کس چیز نے ڈالا؟ وہ کہیں گے کہ ہم نماز پڑھنے والوں میں سے نہ تھے، اور نہ ہی مسکین کو کھانا کھلاتے تھے، اور ہم حق کے خلاف باتیں بنانے والوں کے ساتھ مل کر باتیں بناتے تھے، اور ہم روزِ جزا کو جھٹلاتے رہے یہاں تک کہ ہمیں موت آ گئی، پس اب ان کو سفارش کرنے والوں کی سفارش نفع نہیں دے گی۔“ پھر ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا تم ان (جہنمیوں) میں کوئی ایسی خیر دیکھتے ہو کہ انہیں وہاں نہ چھوڑا جائے؟ پس جب اللہ تعالیٰ یہ ارادہ فرمائے گا کہ اب ان میں سے کوئی (کافر) باہر نہ نکلے تو ان کے چہرے اور رنگ تبدیل کر دے گا، تب مومنین میں سے کوئی شخص (کسی کو نکالنے کے لیے) جھکے گا اور کہے گا: اے میرے رب! تو اللہ فرمائے گا: ”جو کسی (جاننے والے) کو پہچانتا ہے وہ اسے نکال لے“، پس وہ غور سے دیکھے گا مگر کسی کو نہیں پہچان سکے گا، تب کوئی (جہنمی) اسے پکارے گا: اے فلاں! میں فلاں ہوں، تو وہ کہے گا: ”میں (تمہیں) نہیں پہچانتا“، اس وقت وہ کہیں گے: ﴿رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْهَا فَإِنْ عُدْنَا فَإِنَّا ظَالِمُونَ (107)﴾ [سورة المؤمنون: 107] ”اے ہمارے رب! ہمیں اس سے نکال دے، پھر اگر ہم نے دوبارہ (کفر) کیا تو یقیناً ہم ظالم ہوں گے“، تب اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ﴿اخْسَئُوا فِيهَا وَلَا تُكَلِّمُونِ﴾ [سورة المؤمنون: 108] ”تم اسی میں ذلیل ہو کر پڑے رہو اور مجھ سے بات نہ کرو“، پس جب اللہ یہ فرما دے گا تو ان پر جہنم بند کر دی جائے گی اور پھر اس کے بعد کوئی بھی وہاں سے نہیں نکل سکے گا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3917]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3917]
تخریج الحدیث: «إسناده ليِّن، أبو الزعراء - وهو عبد الله بن هانئ الكوفي - لم يرو عنه غير ابن أخته سلمة بن كهيل، وقد وثقه ابن سعد والعجلي وابن حبان، لكن قال البخاري في "تاريخه" 5/ 221: لا يتابع في حديثه. يعني هذا الحديث.» [ترقيم الرساله 3917] [ترقيم الشركة 3896]
الحكم على الحديث: إسناده ليِّن
حدیث نمبر: 3918
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا محمد بن عبد الوهاب، أخبرنا يَعلى بن عُبيد، حدثنا الأعمش، عن أبي ظَبْيان، عن أبي موسى في قوله ﷿: ﴿فَرَّتْ مِنْ قَسْوَرَةٍ (51) ﴾ [المدثر: 51] ، قال: القَسْورةُ: الرُّماة رجالُ القَنْص (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3875 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3875 - صحيح
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿فَرَّتْ مِنْ قَسْوَرَةٍ﴾ [سورة المدثر: 51] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: «قسوره» سے مراد وہ تیر انداز ہیں جو شکار کرتے ہیں۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3918]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3918]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،أبو ظبيان: هو حُصين بن جندب الكوفي.» [ترقيم الرساله 3918] [ترقيم الشركة 3897] [ترقيم العلميه 3875]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3919
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا الحسين بن الفضل البَجَلي، حدثنا سُريج بن النُّعمان، حدثنا سُهيل بن أبي حَزْم، حدثنا ثابت البُناني، عن أنس بن مالك قال: سمعتُ رسولَ الله ﷺ قرأَ: ﴿وَمَا يَذْكُرُونَ (1) إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللَّهُ هُوَ أَهْلُ التَّقْوَى وَأَهْلُ الْمَغْفِرَةِ﴾ [المدثر: 56] ، قال:"يقول ربُّكم ﷿: أنا أَهلٌ أن أُتَّقَى أن يُجعَلَ معي إلهٌ آخرُ، وأنا أهلٌ لمن اتَّقى أن يَجعَل معى إلهًا آخرَ أن أَغفِرَ له" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ﷽ [75 - تفسير سورة القيامة]
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3876 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ﷽ [75 - تفسير سورة القيامة]
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3876 - صحيح
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ آیت ﴿وَمَا يَذْكُرُونَ (1) إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللَّهُ هُوَ أَهْلُ التَّقْوَى وَأَهْلُ الْمَغْفِرَةِ﴾ [سورة المدثر: 56] پڑھتے ہوئے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا رب عزوجل فرماتا ہے: میں اس لائق ہوں کہ مجھ سے ڈرا جائے اور میرے ساتھ کسی دوسرے کو معبود نہ بنایا جائے، اور جو شخص اس بات سے ڈر گیا کہ میرے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائے، تو میں اس لائق ہوں کہ اسے بخش دوں۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3919]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3919]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف سهيل بن أبي حزم.» [ترقيم الرساله 3919] [ترقيم الشركة 3898] [ترقيم العلميه 3876]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
381. تَفْسِيرُ سُورَةِ الْقِيَامَةِ
تفسیر سورۂ القیامہ
حدیث نمبر: 3920
أخبرنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا جَرِير، عن مُغِيرة، عن تَميم الضَّبِّي، عن سعيد بن جُبير قال: اختلفتُ إلى ابن عبَّاس سنةً لا أكلِّمُه ولا يَعرِفُني، فسمعتُ سعيدَ بن جُبير يقول: قال لي ابن عبَّاس: مَن الرجل؟ قلت من أهل العراق، قال: من أيِّهم؟ قلت: من بني أَسَد، قال: من حَرُوريَّتهم، أو ممَّن أَنْعَمَ اللهُ عليه؟ قلت: ممَّن أنعمَ الله عليه، قال: سَلْ، قلت: ﴿لَا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيَامَةِ (1) ﴾، قال: يُقِسم ربُّك بما شاء من خَلْقه، قلت: وَلَا ﴿وَلَا أُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِ (2) ﴾، قال: مِن النفس المَلُوم، قلت: ﴿أَيَحْسَبُ الْإِنْسَانُ أَلَّنْ نَجْمَعَ عِظَامَهُ (3) بَلَى قَادِرِينَ عَلَى أَنْ نُسَوِّيَ بَنَانَهُ﴾، قال: لو شاءَ لجعَلَه خُفًّا أو حافرًا، قلت: ﴿فَمُسْتَقَرٌّ وَمُسْتَوْدَعٌ﴾ [الأنعام: 98] ، قال: المستقَرُّ في الرَّحِم، والمستَودَع في الصُّلب (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3877 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3877 - صحيح
سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں ایک سال تک سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوتا رہا مگر (ان کی ہیبت کی وجہ سے) ان سے بات نہ کر سکا اور وہ مجھے پہچانتے نہ تھے، پھر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھ سے پوچھا: تم کون ہو؟ میں نے عرض کی: اہل عراق میں سے ہوں، انہوں نے پوچھا: کن میں سے؟ میں نے کہا: بنو اسد سے، انہوں نے پوچھا: کیا ان کے حروری (خارجی) فرقے سے ہو یا ان میں سے جن پر اللہ نے انعام کیا؟ میں نے عرض کی: ان میں سے جن پر اللہ نے انعام کیا، انہوں نے فرمایا: اب سوال کرو، میں نے پوچھا: ﴿لَا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيَامَةِ﴾ [سورة القيامة: 1] کا کیا مطلب ہے؟ انہوں نے فرمایا: تمہارا رب اپنی مخلوق میں سے جس چیز کی چاہے قسم کھاتا ہے، میں نے پوچھا: اور ﴿وَلَا أُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِ﴾ [سورة القيامة: 2] ؟ انہوں نے فرمایا: اس سے مراد وہ ملامت زدہ نفس ہے جو گناہوں پر نادم ہو، میں نے پوچھا: ﴿أَيَحْسَبُ الْإِنْسَانُ أَلَّنْ نَجْمَعَ عِظَامَهُ ٭ بَلَى قَادِرِينَ عَلَى أَنْ نُسَوِّيَ بَنَانَهُ﴾ [سورة القيامة: 3-4] ؟ انہوں نے فرمایا: اگر اللہ چاہتا تو انسان کی انگلیوں کے پوروں کو اونٹ کے کھر یا گدھے کے سم جیسا بنا دیتا، میں نے پوچھا: ﴿فَمُسْتَقَرٌّ وَمُسْتَوْدَعٌ﴾ [سورة الأنعام: 98] کا کیا مطلب ہے؟ انہوں نے فرمایا: «مستقر» سے مراد رحمِ مادر ہے اور «مستودع» سے مراد باپ کی پشت ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3920]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3920]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 3920] [ترقيم الشركة 3899] [ترقيم العلميه 3877]
حدیث نمبر: 3921
حدَّثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدَّثنا الحسين بن الفضل، حدَّثنا محمد بن سابِق، حدَّثنا إسرائيل، عن أبي إسحاق، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس: ﴿بَلْ يُرِيدُ الْإِنْسَانُ لِيَفْجُرَ أَمَامَهُ﴾ يقول: سوف أتوبُ ﴿يَسْأَلُ أَيَّانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ﴾ [القيامة: 6] ، فيَبينُ له إذا بَرقَ البصرُ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3878 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3878 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿بَلْ يُرِيدُ الْإِنْسَانُ لِيَفْجُرَ أَمَامَهُ﴾ [سورة القيامة: 5] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: (اس کا مطلب یہ ہے کہ گناہ گار انسان کہتا ہے کہ) میں عنقریب توبہ کر لوں گا (اور اسی دھوکے میں گناہ کرتا چلا جاتا ہے)، اور وہ ﴿يَسْأَلُ أَيَّانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ﴾ [سورة القيامة: 6] ”پوچھتا ہے کہ قیامت کا دن کب ہوگا؟“ پس جب آنکھیں پتھرا جائیں گی تو حقیقت اس پر واضح ہو جائے گی۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3921]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3921]
تخریج الحدیث: «إسناده قوي، من أجل محمد بن سابق. أبو إسحاق: هو عمرو بن عبد الله السبيعي جدُّ إسرائيل.» [ترقيم الرساله 3921] [ترقيم الشركة 3900] [ترقيم العلميه 3878]
الحكم على الحديث: إسناده قوي
حدیث نمبر: 3922
أخبرنا أبو زكريا العَنبري، حدَّثنا محمد بن عبد السلام، حدَّثنا إسحاق، أخبرنا جرير، عن الأعمش، عن أبي الضُّحى، عن مسروقٍ، عن عبد الله في قوله ﷿: ﴿يَوْمَ يَأْتِي بَعْضُ آيَاتِ رَبِّكَ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ﴾ [الأنعام:158] ، قال: طلوعُ الشمس من مَغرِبها، ثم قرأ هذه الآية: ﴿وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ (9) يَقُولُ الْإِنْسَانُ يَوْمَئِذٍ أَيْنَ الْمَفَرُّ﴾ [القيامة: 9 - 10] (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3879 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3879 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿يَوْمَ يَأْتِي بَعْضُ آيَاتِ رَبِّكَ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ﴾ [سورة الأنعام: 158] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: اس سے مراد سورج کا مغرب سے طلوع ہونا ہے، پھر انہوں نے یہ آیات تلاوت فرمائیں: ﴿وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ ٭ يَقُولُ الْإِنْسَانُ يَوْمَئِذٍ أَيْنَ الْمَفَرُّ﴾ [سورة القيامة: 9-10] ”اور سورج اور چاند جمع کر دیے جائیں گے، اس دن انسان کہے گا کہ اب بھاگنے کی جگہ کہاں ہے؟“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3922]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3922]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح.» [ترقيم الرساله 3922] [ترقيم الشركة 3901] [ترقيم العلميه 3879]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
382. ذِكْرُ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ وَأَفْضَلِهَا مَنْزِلَةً
جنت کے سب سے ادنیٰ اور سب سے اعلیٰ درجے والے کا بیان
حدیث نمبر: 3923
حدَّثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدَّثنا أحمد بن عبد الجبار، حدَّثنا أبو معاوية، حدَّثنا عبد الملك بن أَبجَرَ، عن ثُوَير بن أبي فاختة، عن ابن عمر قال: قال رسول الله ﷺ:"إنَّ أدنى أهل الجنة منزلةً، لَرجلٌ يَنظُر في مُلكِ الفَي سنةٍ، يَرى أقصاه كما يَرى أدناه، يَنظُر في أزواجِه وخَدَمِهِ وسُرُرِه، وإِنَّ أفضل أهل الجنة منزلةً، لمَن يَنظُر في وجه الله تعالى كلَّ يومٍ مرَّتين" (2) . تابعه إسرائيلُ بن يونس عن ثُوَير:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3880 - بل هو واهي الحديث يعني ثوير بن أبي فاختة
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3880 - بل هو واهي الحديث يعني ثوير بن أبي فاختة
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اہلِ جنت میں سے ادنیٰ درجے کا وہ شخص ہوگا جو اپنی سلطنت میں دو ہزار سال کی مسافت تک نظر دوڑائے گا، وہ اس کے آخری سرے کو ویسے ہی دیکھے گا جیسے قریب کے حصے کو دیکھتا ہے، وہ اپنی بیویوں، خادموں اور تخت و شاہی کو دیکھ رہا ہوگا، اور اہل جنت میں سب سے افضل درجے کا وہ شخص ہوگا جو ہر روز دو مرتبہ اللہ تعالیٰ کے چہرے کا دیدار کرے گا۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3923]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف ثوير بن أبي فاختة، ووهاه الذهبي في "تلخيصه".» [ترقيم الرساله 3923] [ترقيم الشركة 3902] [ترقيم العلميه 3880]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لضعف ثوير بن أبي فاختة