المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
290. فِي كَمْ خُلِقَتِ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ وَكَانَ آخِرُ الْخَلْقِ فِي آخِرِ السَّاعَاتِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ
آسمانوں اور زمین کی تخلیق کے دنوں کا بیان اور یہ کہ آخری مخلوق جمعہ کے آخری وقت میں پیدا ہوئی
حدیث نمبر: 3724
أخبرنا أبو بكر محمد بن القاسم بن سليمان الذُّهْلي، حَدَّثَنَا الحسن بن إسماعيل بن صَبِيح اليَشكُري (2) ، حدثني أَبي، حَدَّثَنَا ابن عُيَينة، عن أبي سَعْد (3) ، عن عِكْرمة، عن ابن عبّاس في قول الله ﷿: ﴿وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا لَاعِبِينَ﴾ [الدخان: 38] ، قال ابن عَبَّاس: سُئِلَ رسولُ الله ﷺ في كم خُلِقَت السماوات والأرض؟ قال:"خَلَقَ الله أولَ الأيام يومَ الأحد، وخُلِقَت الأرض في يوم الأحد ويوم الاثنين، وخُلِقَت الجبال وشُقِّقَت الأنهار، وغُرِسَ في الأرض الثِّمار، وقُدِّر في كل أرض قُوتُها يومَ الثلاثاء ويومَ الأربعاء، ﴿ثُمَّ اسْتَوَى إِلَى السَّمَاءِ وَهِيَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَلِلْأَرْضِ ائْتِيَا طَوْعًا أَوْ كَرْهًا قَالَتَا أَتَيْنَا طَائِعِينَ (11) فَقَضَاهُنَّ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ فِي يَوْمَيْنِ وَأَوْحَى فِي كُلِّ سَمَاءٍ أَمْرَهَا﴾ [فصلت: 11، 12] في يوم الخميس ويوم الجُمَعة، وكان آخرُ الخلق في آخرِ الساعات يومَ الجمعة، فلما كان يومُ السَّبت لم يكن فيه خلقٌ، فقالت اليهودُ فيه ما قالت، فأنزل الله ﷿ تكذيبَها: ﴿وَلَقَدْ خَلَقْنَا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ وَمَا مَسَّنَا مِنْ لُغُوبٍ (38) ﴾ [ق: 38] (4) .
هذا حديث قد أرسله عبدُ الرزاق عن ابن عُيينة عن أبي سَعْد، ولم يذكر فيه ابنَ عبّاس، وكتبناه متَّصلًا من هذه الرواية، والله أعلم.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3683 - رواه عبد الرزاق عن ابن عيينة عن أبي سعيد مرسلا لم يذكر ابن عباس
هذا حديث قد أرسله عبدُ الرزاق عن ابن عُيينة عن أبي سَعْد، ولم يذكر فيه ابنَ عبّاس، وكتبناه متَّصلًا من هذه الرواية، والله أعلم.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3683 - رواه عبد الرزاق عن ابن عيينة عن أبي سعيد مرسلا لم يذكر ابن عباس
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا لَاعِبِينَ﴾ ”اور ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے کھیل تماشے کے طور پر پیدا نہیں کیا“ [سورة الدخان: 38] کے متعلق روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ آسمانوں اور زمین کی تخلیق کتنے عرصے میں ہوئی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے تخلیق کے ایام میں سے سب سے پہلا دن اتوار کا بنایا، زمین کی تخلیق اتوار اور پیر کے دن عمل میں آئی، پہاڑوں کی پیدائش، نہروں کا جاری ہونا، زمین میں پھلدار پودوں کا لگانا اور ہر زمین میں اس کی ضرورت کی غذا کی تقدیر کا فیصلہ منگل اور بدھ کے دن کیا گیا، ﴿ثُمَّ اسْتَوَى إِلَى السَّمَاءِ وَهِيَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَلِلْأَرْضِ ائْتِيَا طَوْعًا أَوْ كَرْهًا قَالَتَا أَتَيْنَا طَائِعِينَ (11) فَقَضَاهُنَّ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ فِي يَوْمَيْنِ وَأَوْحَى فِي كُلِّ سَمَاءٍ أَمْرَهَا﴾ ”پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا جبکہ وہ دھواں تھا، پس اس نے آسمان اور زمین سے فرمایا کہ تم دونوں آ جاؤ خوشی سے یا ناخوشی سے، ان دونوں نے عرض کیا کہ ہم خوشی سے حاضر ہیں، پھر اس نے دو دنوں میں سات آسمان مکمل کیے اور ہر آسمان میں اس کے متعلقہ احکام کی وحی فرما دی“ [سورة فصلت: 11 - 12] ، یہ تکمیل جمعرات اور جمعہ کے دن ہوئی، اور تخلیق کا آخری کام جمعہ کے دن کے آخری لمحات میں مکمل ہوا، پھر جب ہفتے کا دن آیا تو اس میں کوئی نئی تخلیق نہیں ہوئی، اس دن کے متعلق یہودیوں نے جو (غلط) باتیں کہی تھیں، اللہ تعالیٰ نے ان کی تردید میں یہ آیت نازل فرمائی: ﴿وَلَقَدْ خَلَقْنَا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ وَمَا مَسَّنَا مِنْ لُغُوبٍ﴾ ”اور یقیناً ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے چھ دنوں میں پیدا کیا اور ہمیں ذرا برابر تھکن نہیں پہنچی۔“ [سورة ق: 38] “
یہ حدیث امام عبدالرزاق نے ابن عیینہ سے مرسل روایت کی ہے جس میں انہوں نے سیدنا ابن عباس کا ذکر نہیں کیا، جبکہ ہم نے اسے اس دوسری روایت کے ذریعے متصل سند کے ساتھ تحریر کیا ہے، واللہ اعلم۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3724]
یہ حدیث امام عبدالرزاق نے ابن عیینہ سے مرسل روایت کی ہے جس میں انہوں نے سیدنا ابن عباس کا ذکر نہیں کیا، جبکہ ہم نے اسے اس دوسری روایت کے ذریعے متصل سند کے ساتھ تحریر کیا ہے، واللہ اعلم۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3724]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف أبي سعد: وهو سعيد بن المرزُبان البقَّال، والحسن بن إسماعيل بن صبيح لم نقف له على ترجمة. وقد روى هذا الخبر عبدُ الرزاق في تفسيره 2/ 210 - كما أشار المصنّف - عن معمر عن سفيان بن عيينة فأرسله، ولم يذكر فيه ابن عبَّاس.» [ترقيم الرساله 3724] [ترقيم الشركة 3704] [ترقيم العلميه 3683]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لضعف أبي سعد: وهو سعيد بن المرزُبان البقَّال
حدیث نمبر: 3725
حَدَّثَنَا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حَدَّثَنَا محمد بن عبد الوهاب، حَدَّثَنَا يَعلَى بن عُبيد، حَدَّثَنَا الأعمش، عن إبراهيم، عن همَّام بن الحارث، عن أبي الدَّرداء قال: قرأ رجلٌ عنده: (إِنَّ شجرةَ الزَّقُوم طعامُ اليَتِيم) ، فقال أبو الدرداء: قل: ﴿طَعَامُ الْأَثِيمِ﴾ [الدخان: 44] ، فقال الرجل: (طعامُ اليَتِيمِ) ، فقال أبو الدرداء: قل: (طعامُ الفاجر) (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3684 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3684 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ان کے پاس (آیت کی تلاوت کرتے ہوئے) پڑھا: «ان شجرة الزقوم طعام اليتيم» (بے شک زقوم کا درخت یتیم کی خوراک ہے)، تو سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے اسے ٹوکتے ہوئے فرمایا: (یوں) کہو: ﴿طَعَامُ الْأَثِيمِ﴾ ”گناہ گار کی خوراک ہے“ [سورة الدخان: 44] ، لیکن وہ شخص (اپنی زبان کی لکنت یا غلطی کی وجہ سے) پھر بھی «طعام اليتيم» ہی پڑھتا رہا، تب سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے (اس کی آسانی کے لیے) فرمایا: کہو «طعام الفاجر» (بدکار کی خوراک)۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3725]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3725]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،محمد بن عبد الوهاب: هو الفرّاء النيسابوري، وإبراهيم: هو ابن يزيد النَّخعي.» [ترقيم الرساله 3725] [ترقيم الشركة 3705] [ترقيم العلميه 3684]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
291. إِنَّ لِلَّهِ ثَلَاثَةَ أَثْوَابٍ
اللہ کے تین لباس ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 3726
حَدَّثَنَا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا بكَّار بن قُتيبة القاضي، حَدَّثَنَا صفوان بن عيسى، حَدَّثَنَا ابن عَجْلان، عن سعيد المَقبُري، عن أبي هريرة رَفَعَه قال:"إنَّ الله ثلاثةَ أثواب: اتَّزَرَ العزّةَ، وتَسَربَلَ الرَّحمةَ، وارتَدى الكبرياءَ، فمن تَعزَّزَ بغير ما أعزَّه الله، فذلك الذي يقال له: ﴿ذُقْ إِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْكَرِيمُ﴾ [الدخان: 49] ، ومن رَحِمَ الناسَ ﵀، فذلك الذي تَسَربَل بسِرْباله الذي يَنبَغي له، ومن نازَعَ الله رداءَه الذي يَنبَغي له فإنَّ الله يقول: لا يَنبَغِي لمن نازَعَني أَن أُدخِلَه الجنةَ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3685 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3685 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ کی (صفاتی لحاظ سے) تین پوشاکیں ہیں: اس نے عزت کو اپنا تہبند بنایا، رحمت کو اپنا پیراہن بنایا اور کبریائی (بڑائی) کو اپنی ردا (چادر) بنایا، پس جس کسی نے اس چیز کے علاوہ کسی اور سے عزت چاہی جس کے ذریعے اللہ نے اسے معزز بنایا ہے، تو یہ وہی شخص ہے جسے (قیامت کے دن) کہا جائے گا: ﴿ذُقْ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْكَرِيمُ﴾ ”چکھو! بے شک تم ہی وہ (بڑے) عزت دار اور معزز (بنتے) تھے۔“ [سورة الدخان: 49] اور جس نے لوگوں پر رحم کیا، اللہ تعالیٰ اس پر رحم فرمائے گا، یہ وہ شخص ہے جس نے اس پیراہن کو اوڑھا جو اس کے لائق ہے، لیکن جس نے اللہ کی اس ردا (کبریائی) کے بارے میں اس سے جھگڑا کیا جو صرف اسی کے لائق ہے، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: جس نے (اس صفت میں) مجھ سے جھگڑا کیا اس کے لیے یہ قطعاً لائق نہیں کہ میں اسے جنت میں داخل کروں۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3726]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3726]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 3726] [ترقيم الشركة 3706] [ترقيم العلميه 3685]
حدیث نمبر: 3727
حَدَّثَنَا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا إبراهيم بن مرزوق، حَدَّثَنَا وَهْب بن جَرير وأبو داود قالا: حَدَّثَنَا شُعْبة، عن الأعمش، عن مجاهد، عن ابن عبَّاس: أنَّ رسول الله ﷺ قرأَ هذه الآية: ﴿اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ﴾ [آل عمران: 102] ،"والذي نفسُ محمدٍ بيدِه، لو أنَّ قَطْرةً من الزَّقُوم قَطَرَت في الأرض، لأَفسَدَت على أهل الدنيا مَعايشَهم، فكيف بمن تكون طعامَه؟" (2) .
هذا حديث أخرجه الإمام أبو يعقوب الحَنظَلي (3) في تفسير قوله: ﴿خُذُوهُ فَاعْتِلُوهُ إِلَى سَوَاءِ الْجَحِيمِ (47) ثُمَّ صُبُّوا فَوْقَ رَأْسِهِ مِنْ عَذَابِ الْحَمِيمِ﴾ [الدخان: 47 - 48] . وهو صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. ﷽ [45 - ومن تفسير (حم) الجاثية] وعند أهل الحرمين أنه (حم) الشَّريعة (1)
هذا حديث أخرجه الإمام أبو يعقوب الحَنظَلي (3) في تفسير قوله: ﴿خُذُوهُ فَاعْتِلُوهُ إِلَى سَوَاءِ الْجَحِيمِ (47) ثُمَّ صُبُّوا فَوْقَ رَأْسِهِ مِنْ عَذَابِ الْحَمِيمِ﴾ [الدخان: 47 - 48] . وهو صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. ﷽ [45 - ومن تفسير (حم) الجاثية] وعند أهل الحرمين أنه (حم) الشَّريعة (1)
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ﴾ ”اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور تمہیں موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلمان ہو۔“ [سورة آل عمران: 102] پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے! اگر زقوم کا ایک قطرہ بھی زمین پر ٹپک پڑے، تو وہ تمام اہل دنیا کے گزر بسر کے ذرائع کو فاسد و برباد کر دے، تو اس کا کیا حال ہوگا جس کا کھانا ہی یہی (زقوم) ہوگا؟“ امام ابو یعقوب حنظلی نے اسے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: ﴿خُذُوهُ فَاعْتِلُوهُ إِلَى سَوَاءِ الْجَحِيمِ (47) ثُمَّ صُبُّوا فَوْقَ رَأْسِهِ مِنْ عَذَابِ الْحَمِيمِ﴾ [سورة الدخان: 47 - 48] کی تفسیر میں روایت کیا ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3727]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3727]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 3727] [ترقيم الشركة 3707]
292. تَفْسِيرُ سُورَةِ حم الْجَاثِيَةِ وَعِنْدَ أَهْلِ الْحَرَمَيْنِ حم الشَّرِيعَةِ
سورۃ حم جاثیہ کی تفسیر اہل حرمین اسے حم الشریعہ کہتے ہیں۔
حدیث نمبر: 3728
أخبرنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حَدَّثَنَا محمد بن عبد السلام، حَدَّثَنَا إسحاق، أخبرنا عبد الرزاق، عن عمر بن حَبيب المكِّي، عن حُميد بن قيس الأعرج، عن طاووس، قال: جاء رجلٌ إلى عبد الله بن عمرو بن العاص يسألُه: ممَّ خُلِقَ الخلقُ؟ قال: من الماء والنُّور والظُّلمة والرِّيح والتُّراب، قال الرجل: فمِمَّ خُلِقَ هؤلاء؟ قال: لا أدري. قال: ثم أَتى الرجلُ عبدَ الله بنَ الزُّبير فسأله، فقال مثلَ قول عبد الله بن عمرو، قال: فأتى الرجلُ عبدَ الله بن عبّاس فسأله فقال: ممَّ خُلِقَ الخلق؟ قال: من الماء والنُّور والظُّلمة والرِّيح والتُّراب، قال الرجل: فمِمَّ خُلِقَ هؤلاء؟ فتلا عبدُ الله ابن عبَّاس: ﴿وَسَخَّرَ لَكُمْ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مِنْهُ﴾ [الجاثية: 13] ، فقال الرجل: ما كان لنا بهذا إلَّا رجلٌ من أهل بيت النَّبِيّ ﷺ (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3687 - الخبر منكر
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3687 - الخبر منكر
طاؤس سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ایک شخص سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور ان سے سوال کیا: مخلوق کس چیز سے پیدا کی گئی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: پانی، نور، تاریکی، ہوا اور مٹی سے۔ اس شخص نے پوچھا: پھر یہ چیزیں کس سے پیدا کی گئی ہیں؟ انہوں نے کہا: میں نہیں جانتا۔ پھر وہ شخص سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے پاس گیا اور ان سے بھی وہی سوال کیا، انہوں نے بھی ویسا ہی جواب دیا۔ پھر وہ شخص سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور سوال کیا کہ مخلوق کس چیز سے پیدا ہوئی؟ انہوں نے فرمایا: پانی، نور، تاریکی، ہوا اور مٹی سے۔ اس شخص نے پوچھا: پھر یہ چیزیں کس سے پیدا ہوئیں؟ تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿وَسَخَّرَ لَكُمْ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مِنْهُ﴾ ”اور اس نے تمہارے لیے ان سب چیزوں کو مسخر کر دیا جو آسمانوں اور زمین میں ہیں، یہ سب کچھ اسی کی طرف سے ہے۔“ [سورة الجاثية: 13] اس پر اس شخص نے کہا: اس (علمی نکتے) کی خبر ہمیں سوائے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت میں سے کسی مرد کے اور کوئی نہیں دے سکتا تھا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3728]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3728]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،إسحاق: هو ابن راهويه. وأما قول الذهبي في "تلخيصه": عمر هذا (يعني ابن حبيب) فتَّشت عنه فلم أعرفه، والخبر منكر! كذا قال ﵀، وعمر هذا معروف من الثقات الحفَّاظ، انظر ترجمته في "تهذيب الكمال" 21/ 288 - 289.» [ترقيم الرساله 3728] [ترقيم الشركة 3708] [ترقيم العلميه 3687]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
293. يُبْعَثُ كُلُّ عَبْدٍ عَلَىٰ مَا مَاتَ عَلَيْهِ
ہر بندہ (قیامت کے دن) اسی حال میں اٹھایا جائے گا جس حال میں اسے موت آئی تھی
حدیث نمبر: 3729
حَدَّثَنَا أبو حاتم محمد بن حِبَّان (1) القاضي إملاءً، حَدَّثَنَا أبو خَليفة القاضي، حَدَّثَنَا محمد بن سَلَّام الجُمَحي، قال: سمعت أبا عامر العَقَدي يقول: سمعت سفيانَ الثَّوري، وتلا قولَ الله ﷿: ﴿أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ اجْتَرَحُوا السَّيِّئَاتِ أَنْ نَجْعَلَهُمْ كَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سَوَاءً مَحْيَاهُمْ وَمَمَاتُهُمْ سَاءَ مَا يَحْكُمُونَ﴾ [الجاثية: 21] ، ثم قال: سمعت الأعمشَ يحدِّث عن أبي سفيان، عن جابر بن عبد الله، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"يُبعَثُ كلُّ عبدٍ على ما ماتَ عليه" (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3688 - على شرط مسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3688 - على شرط مسلم
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر بندے کو (قیامت کے دن) اسی حالت پر اٹھایا جائے گا جس پر اسے موت آئی ہوگی۔“ امام سفیان ثوری نے اس حدیث کو اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: ﴿أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ اجْتَرَحُوا السَّيِّئَاتِ أَنْ نَجْعَلَهُمْ كَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سَوَاءً مَحْيَاهُمْ وَمَمَاتُهُمْ سَاءَ مَا يَحْكُمُونَ﴾ ”کیا وہ لوگ جنہوں نے برائیاں کمائی ہیں یہ گمان کرتے ہیں کہ ہم انہیں ان لوگوں جیسا کر دیں گے جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک اعمال کیے کہ ان کا جینا اور مرنا برابر ہو جائے؟ کتنا برا ہے وہ فیصلہ جو وہ کرتے ہیں!“ [سورة الجاثية: 21] کی تفسیر میں ذکر کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3729]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل أبي سفيان وهو طلحة بن نافع. أبو خليفة: هو الفضل بن الحُباب الجُمحي، وأبو عامر العقدي: هو عبد الملك بن عمرو.» [ترقيم الرساله 3729] [ترقيم الشركة 3709] [ترقيم العلميه 3688]
الحكم على الحديث: حديث صحيح
حدیث نمبر: 3730
أخبرَناه أبو عبد الله الصفار، حَدَّثَنَا أحمد بن مِهران، حَدَّثَنَا أبو نُعيم، حَدَّثَنَا سفيان، عن الأعمش، فذكره (3) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر بندے کو اسی حالت پر اٹھایا جائے گا جس پر وہ فوت ہوا ہوگا۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3730]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3730]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل أحمد بن مهران: وهو ابن خالد الأصبهاني.» [ترقيم الرساله 3730] [ترقيم الشركة 3709/1]
الحكم على الحديث: حديث صحيح
حدیث نمبر: 3731
حَدَّثَنَا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أحمد بن بِشْر المَرثَدي، حَدَّثَنَا أحمد بن مَنِيع، حَدَّثَنَا أبو يوسف القاضي يعقوب بن إبراهيم، حَدَّثَنَا مُطرِّف، عن جعفر بن إياس، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس قال: كان الرجلُ من العرب يَعبُد الحجرَ، فإذا وَجَدَ أحسنَ منه أخَذَه وألقى الآخَر، فأنزل الله ﷿: ﴿أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَهَهُ هَوَاهُ﴾ [الجاثية: 23] (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3689 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3689 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ عرب کا کوئی آدمی کسی پتھر کی عبادت کرتا تھا، پھر جب اسے اس سے بہتر پتھر مل جاتا تو وہ پہلے والے کو پھینک دیتا اور دوسرے کو (معبود بنا کر) پکڑ لیتا، پس اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَهَهُ هَوَاهُ﴾ ”بھلا کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہشِ نفس کو اپنا معبود بنا لیا ہے۔“ [الجاثية: 23]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3731]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3731]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح على وهمٍ وقع هنا في نسبة جعفر، والصواب أنه جعفر بن أبي المغيرة لا جعفر بن إياس، فإنَّ مطرِّفًا - وهو ابن طريف الحارثي - لا يعرف إلّا بروايته عن جعفر بن أبي المغيرة، وجعفر هذا من الثقات، وكذا جعفر بن إياس - وهو ابن أبي وحشية - ...» [ترقيم الرساله 3731] [ترقيم الشركة 3710] [ترقيم العلميه 3689]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح على وهمٍ وقع هنا في نسبة جعفر
294. أَحَادِيثُ النَّهْيِ عَنْ سَبِّ الدَّهْرِ
زمانے کو گالی دینے کی ممانعت سے متعلق احادیث
حدیث نمبر: 3732
أخبرنا أبو زكريا العَنبَري، حَدَّثَنَا محمد بن عبد السلام، حَدَّثَنَا إسحاق، أخبرنا ابن عُيينة، قال: كان أهلُ الجاهلية يقولون: إنَّ الدَّهر هو الذي يُهلِكُنا، هو الذي يُميتُنا ويُحيينا، فردَّ اللهُ عليهم قولَهم؛ قال الزُّهري عن سعيد بن المسيّب، عن أبي هريرة، عن رسول الله ﷺ قال:"يقول الله ﷿: يُؤْذيني ابن آدمَ، يَسُبُّ (2) الدهرَ، وأنا الدهرُ، أُقلِّبُ ليلَه ونهارَه، فإذا شئتُ قبضتُهما". وتلا سفيانُ هذه الآية: ﴿مَا هِيَ إِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا نَمُوتُ وَنَحْيَا وَمَا يُهْلِكُنَا إِلَّا الدَّهْرُ﴾ [الجاثية: 24] (3) . قد اتَّفق الشيخان على إخراج حديث الزُّهري هذا بغير هذه السِّياقة، وهو صحيحٌ على شرطهما.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3690 - على شرط البخاري ومسلم وأخرجاه بهذه السياقة
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3690 - على شرط البخاري ومسلم وأخرجاه بهذه السياقة
امام سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اہل جاہلیت کہا کرتے تھے کہ زمانہ ہی ہمیں ہلاک کرتا ہے، وہی ہمیں مارتا اور زندگی دیتا ہے، تو اللہ تعالیٰ نے ان کے اس قول کی تردید فرمائی؛ چنانچہ امام زہری نے سعید بن مسیب کے واسطے سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ عزوجل فرماتا ہے: ابن آدم مجھے تکلیف دیتا ہے، وہ زمانے کو گالی دیتا ہے حالانکہ میں ہی زمانہ (کا خالق و مالک) ہوں، میں ہی اس کی رات اور دن کو الٹتا پلٹتا ہوں، اور جب میں چاہتا ہوں تو ان دونوں کو سمیٹ لیتا ہوں۔“ اور سفیان نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿مَا هِيَ إِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا نَمُوتُ وَنَحْيَا وَمَا يُهْلِكُنَا إِلَّا الدَّهْرُ﴾ ”یہ تو صرف ہماری دنیاوی زندگی ہے، ہم مرتے ہیں اور جیتے ہیں اور ہمیں صرف زمانہ ہی ہلاک کرتا ہے۔“ [الجاثية: 24]
شیخین نے امام زہری کی اس حدیث کو اس سیاق کے علاوہ روایت کرنے پر اتفاق کیا ہے، اور یہ ان دونوں کی شرط پر صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3732]
شیخین نے امام زہری کی اس حدیث کو اس سیاق کے علاوہ روایت کرنے پر اتفاق کیا ہے، اور یہ ان دونوں کی شرط پر صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3732]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،إسحاق: هو ابن إبراهيم المعروف بابن راهَويه.» [ترقيم الرساله 3732] [ترقيم الشركة 3711] [ترقيم العلميه 3690]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3733
أخبرنا أبو العبَّاس محمد بن أحمد المحبُوبي، حَدَّثَنَا سعيد بن مسعود، أخبرنا يزيد بن هارون، أخبرنا محمد بن إسحاق، عن أبي الزِّناد، عن الأعرج، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"قال الله ﷿: استَقرضتُ من عبدي فأَبَى أن يُقرِضَني، وسَبَّني عبدي ولا يَدري، يقول: وادَهْراهْ، وادَهْراهْ، وأنا الدَّهرُ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3691 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3691 - على شرط مسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ عزوجل نے فرمایا: میں نے اپنے بندے سے قرض مانگا لیکن اس نے مجھے قرض دینے سے انکار کر دیا، اور میرے بندے نے مجھے گالی دی حالانکہ وہ (اس کی حقیقت) نہیں جانتا، وہ کہتا ہے: ہائے زمانہ! ہائے زمانہ! حالانکہ میں ہی زمانہ (کا پیدا کرنے والا) ہوں۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3733]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3733]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، لكن المحفوظ أنه بهذا اللفظ من رواية يزيد بن هارون عن ابن إسحاق العلاء بن عبد الرحمن بن يعقوب عن أبيه عن أبي هريرة كما سلف برقم (1540) وكما سيأتي برقم (3858)، وقد انفرد سعيد بن مسعود المروزي - على ثقته - من بين أصحاب يزيد بن هارون برواية هذا اللفظ بهذا الإسناد.» [ترقيم الرساله 3733] [ترقيم الشركة 3712] [ترقيم العلميه 3691]
الحكم على الحديث: حديث صحيح